Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • دوست ہی دغا باز نکلے، معمولی رنجش پر نوجوان کو گھر سے بلا کر کھیتوں میں گولیاں مار دی

    دوست ہی دغا باز نکلے، معمولی رنجش پر نوجوان کو گھر سے بلا کر کھیتوں میں گولیاں مار دی

    واٹس ایپ پر بھائی کو آخری کال مجھے بچانے پہنچو، دوست جھگڑا کر رہے ہیں موقع پر پہنچتے ہی فائرنگ
    ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے محمد علی دم توڑ گیا، پولیس نے اقدامِ قتل کے مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر دیں
    گوجرخان (قمر شہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے نگائل عمر خان میں دوستی کا بھرم خاک میں مل گیا۔ معمولی رنجش اور پرانے جھگڑے پر مبینہ طور پر دوستوں نے ہی اپنے دیرینہ ساتھی کو دھوکے سے گھر سے بلایا اور کھیتوں میں لے جا کر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقتول نوجوان بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ پولیس نے اقدامِ قتل کے درج مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ تھانہ گوجرخان میں درج ایف آئی آر مقدمہ نمبر 513/26 کے مطابق، مقتول محمد علی کے بھائی فرخ سرفراز نے پولیس کو بیان دیا کہ 26 جون کی رات تقریباً 11 بجے وہ اپنے گھر میں موجود تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر جا کر دیکھا تو فیضان ولد ممتاز اور علی ساکن ڈھوک چوہان موجود تھے، جنہوں نے محمد علی کو باہر بلانے کا کہا۔ محمد علی اپنے ان دوستوں کی نیت سے بے خبر ان کے ساتھ چلا گیا۔ کافی دیر گزرنے کے باوجود جب محمد علی گھر واپس نہ پہنچا تو اہل خانہ تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ اسی دوران مقتول محمد علی نے اپنے بھائی خرم کے واٹس ایپ پر انتہائی مخدوش حالت میں کال کی اور بتایا کہ فیضان اور علی مجھے موہڑہ سیال میں راجہ قیصر کے ڈیرے کے پیچھے کھیتوں میں لے آئے ہیں اور میرے ساتھ جھگڑا کر رہے ہیں، فوری طور پر میری مدد کو پہنچو۔ اطلاع ملتے ہی شکایت کنندہ فرخ اپنے بھائیوں خرم اور عدنان کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا، جہاں محمد علی اور ملزمان کے درمیان تلخ کلامی جاری تھی۔ بھائیوں کے سامنے ہی ملزم فیضان نے اپنے ساتھی کو للکارا کہ اسے گولی مار دو، جس پر ملزم علی نے 30 بور پستول سے سیدھی گولی چلا دی جو محمد علی کی پشت پر دائیں جانب لگی اور وہ خون میں لت پت ہو کر زمین پر گر گیا، جبکہ دونوں ملزمان رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان پہنچایا گیا، جہاں تشویشناک حالت کے پیشِ نظر اسے بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ریفر کر دیا گیا۔

    زخمی محمد علی نے ہسپتال میں دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں بھی عمر اور فیضان کو نامزد کیا تھا۔ تاہم، 27 جون کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے محمد علی زندگی کی بازی ہار گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی گوجرخان پولیس افسران انچارج ایچ آئی یو موقع پر پہنچے اور فرانزک ٹیم نے شواہد حاصل کیے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا پس منظر چند روز قبل ہونے والا معمولی لڑائی جھگڑا اور پرانی رنجش ہے۔ محمد علی کے جاں بحق ہونے کے بعد مقدمے میں دفعہ 302 قتل عمد شامل کر لی گئی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں، جنہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائےگا

  • نوکری کے بہانے بلایا،زیادتی کی، پھر پیزا کھلایا،خاتون نے مقدمہ درج کروا دیا

    نوکری کے بہانے بلایا،زیادتی کی، پھر پیزا کھلایا،خاتون نے مقدمہ درج کروا دیا

    بہاول نگر میں خاتون کے ساتھ زیادتی کا انوکھا واقعہ،نوکری کے بہانے بلا کر زیادتی کی، پھر پیزا کھلایا اور شہر میں چھوڑ دیا،پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی

    بہاولنگر کے تھانہ صدر میں ایک خاتون کی درخواست پر نوکری کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی ملزم سے تقریباً 15 سے 20 روز قبل فون پر بات چیت شروع ہوئی۔ ملزم نے مبینہ طور پر اسے نوکری دلوانے کی پیشکش کی اور 23 جون کو جاز کیش کے ذریعے 5 ہزار روپے بھجوانے کا کہا، جبکہ باقی 20 ہزار روپے بعد میں دینے کی ہدایت کی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس نے 5 ہزار روپے منتقل کر دیے، جس کا اس کے پاس اسکرین شاٹ بھی موجود ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق 24 جون کو ملزم نے خاتون کو موہل چوک، بہاولنگر بلایا، جہاں سے اسے ایک نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ وہاں ملزم نے اس کی مرضی کے خلاف اس کے ساتھ زیادتی کی۔متاثرہ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ بعد ازاں ملزم اسے چشتیاں روڈ پر واقع ایک فوڈ آؤٹ لیٹ لے گیا، جہاں پیزا کھلانے کے بعد شہر میں چھوڑ دیا۔ خاتون نے واقعے سے متعلق اپنے دو گواہوں کو آگاہ کیا اور بعد ازاں پولیس سے رجوع کیا۔

    پولیس نے خاتون کی درخواست پر ملزم غلام محی الدین کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • میرٹھ، 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    میرٹھ، 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں آٹھ سالہ بچی سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں پولیس نے ایک 29 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ 22 جون کو صدر بازار تھانے میں اس وقت درج کیا گیا جب متاثرہ بچی کے والد نے شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی رہائش گاہ کی تیسری منزل پر رہنے والے ملزم سندیپ کشواہا نے ان کی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ مبینہ طور پر قابلِ اعتراض حرکت کی۔شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے بھارتیہ نیایا سنہتا اور بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون (پوکسو ایکٹ) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش شواہد کی بنیاد پر جمعہ کے روز ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت 29 سالہ سندیپ کشواہا کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق ضلع گورکھپور سے ہے، تاہم وہ میرٹھ کے علاقے سومناتھ انکلیو میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کو قانونی تقاضوں کے مطابق طبی معائنے اور دیگر ضروری کارروائی کے لیے بھی بھیجا گیا ہے۔پولیس نے کہا ہے کہ مقدمے کی تفتیش میرٹھ پولیس کی نگرانی میں جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • حق مہر مانگنے پر خاتون کو جوتے سے پانی پلانے کا مبینہ تشدد، مقدمہ درج

    حق مہر مانگنے پر خاتون کو جوتے سے پانی پلانے کا مبینہ تشدد، مقدمہ درج

    ‎کوٹ ادو: پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں حق مہر کا مطالبہ کرنے پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور جوتے سے پانی پلانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
    ‎پولیس کے مطابق یہ واقعہ 20 جون کو تھانہ دائرہ دین پناہ کی حدود میں پیش آیا، جبکہ خاتون کے والد کی مدعیت میں 23 جون کو مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون کی شادی دو سے تین سال قبل حسنین نامی شخص سے ہوئی تھی اور نکاح کے وقت دو تولہ سونا حق مہر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔
    ‎مدعی کے مطابق خاتون کو پہلے بھی گھریلو تشدد کا سامنا رہا۔ واقعے کے روز جب اس نے اپنا حق مہر طلب کیا تو مبینہ طور پر شوہر اور دیگر ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی جوتے سے پانی پینے پر مجبور کیا۔ اس دوران واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
    ‎ایف آئی آر کے مطابق اس مقدمے میں خاتون کے شوہر حسنین، اعجاز اور ایک نامعلوم ملزم کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمان نے انہیں اور ان کے بیٹے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • شادی سے قبل نازیبا تصاویر وائرل ہونے پر دلہن نے والدین سمیت زندگی کا خاتمہ کر لیا

    شادی سے قبل نازیبا تصاویر وائرل ہونے پر دلہن نے والدین سمیت زندگی کا خاتمہ کر لیا

    بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع میسور میں شادی سے چند روز قبل پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی۔

    مبینہ طور پر نجی تصاویر لیک ہونے اور شادی ٹوٹنے کے خدشے کے باعث 21 سالہ دلہن نے اپنے والدین کے ساتھ زہر کھا کر خودکشی کر لی۔پولیس کے مطابق 24 جون کو شادی کے بندھن میں بندھنے والی نوجوان لڑکی اور اس کے اہل خانہ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے، تاہم ایک نوجوان کی جانب سے لڑکی کی برہنہ تصاویر اس کے منگیتر کو بھیجے جانے کے بعد حالات اچانک تبدیل ہو گئے۔ تصاویر سامنے آنے کے بعد دلہن اور اس کے منگیتر کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے جبکہ دونوں خاندانوں کے تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے۔پولیس تحقیقات کے مطابق الاس گوڑا نامی نوجوان لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اور مبینہ طور پر کافی عرصے سے اسے ہراساں کر رہا تھا۔ اہل خانہ نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی، جس پر وہ ناراض تھا۔

    تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ 21 جون کو لڑکی کے والدین نے الاس گوڑا اور اس کے والدین کو اپنے گھر بلا کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران نوجوان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے موبائل فون میں موجود لڑکی کی برہنہ ،نازیبا تصاویر اور پیغامات حذف کر دے، تاہم الزام ہے کہ اس نے چند تصاویر محفوظ رکھیں اور بعد ازاں وہ تصاویر لڑکی کے منگیتر کو بھیج دیں۔پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد شادی ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ بعد ازاں لڑکی، اس کی 44 سالہ والدہ اور 54 سالہ والد نے اپنے گاؤں کیمپینہونڈی میں مبینہ طور پر زہر کھا لیا۔تینوں افراد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹر انہیں بچانے میں ناکام رہے اور تینوں دم توڑ گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ایک مبینہ سوسائڈ نوٹ بھی ملا ہے، جس میں الاس گوڑا کو ان اموات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ نوٹ کی فرانزک جانچ سمیت دیگر شواہد کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔واقعے کے بعد پولیس نے ملزم الاس گوڑا کے خلاف خودکشی پر اکسانے سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم فرار ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • شادی پر  14 کروڑ بھارتی روپے خرچ  کرنے کا منصوبہ”وڑ”گیا،منگیتر نے نوجوان کی جان لے لی

    شادی پر 14 کروڑ بھارتی روپے خرچ کرنے کا منصوبہ”وڑ”گیا،منگیتر نے نوجوان کی جان لے لی

    بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک نوجوان کاروباری شخصیت کی پراسرار موت نے ایسا رخ اختیار کر لیا ہے کہ یہ واقعہ اب ملک کے سب سے زیادہ زیرِ بحث ہائی پروفائل قتل کیسز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں اس واقعے کو ایک افسوسناک حادثہ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم پولیس تحقیقات کے بعد سامنے آنے والے دعوؤں نے اس معاملے کو محبت، دھوکے، مبینہ سازش اور قتل کی سنسنی خیز کہانی میں تبدیل کر دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق 26 سالہ کاروباری شخصیت کیتن اگروال کی موت 18 جون کو لوہا گڑھ قلعے پر گہری کھائی میں گرنے سے ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گئے، تاہم تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن کے بعد پولیس نے اسے مبینہ منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے مقتول کی منگیتر 20 سالہ سیا گوئل اور اس کے مبینہ دوست چیتن چودھری کو گرفتار کر لیا۔کیتن اگروال کی موت کے فوراً بعد سیا گوئل نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ "تم مجھے میری سالگرہ پر چھوڑ گئے، واپس آ جاؤ۔” اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ہمدردی کی لہر دوڑا دی تھی، لیکن چند روز بعد پولیس کی تحقیقات نے اس واقعے کو ایک بالکل نئے زاویے سے پیش کر دیا۔

    لوناؤلہ دیہی پولیس کے تفتیشی افسر دنیش تیاڈے کے مطابق واقعے کے ابتدائی مرحلے میں ہی کئی تضادات سامنے آ گئے تھے۔ پولیس نے موبائل فون ریکارڈ، دونوں ملزمان کی نقل و حرکت اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا، جس کے بعد شبہ مزید مضبوط ہوا کہ کیتن اگروال کی موت حادثاتی نہیں بلکہ مبینہ طور پر قتل کا نتیجہ تھی۔تحقیقات کے مطابق سیا گوئل نے کیتن اگروال کو لوہا گڑھ قلعے پر آنے کے لیے آمادہ کیا، جبکہ چیتن چودھری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں نے مل کر کیتن کو گہری کھائی میں دھکا دیا اور بعد ازاں اس واقعے کو حادثاتی موت ثابت کرنے کی کوشش کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی کئی ہفتے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ تحقیقات کے مطابق 31 مئی کو سیا گوئل اور کیتن پہلی مرتبہ ٹریکنگ کے لیے اسی مقام پر گئے تھے، جہاں مبینہ طور پر منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے بعد 14 جون کو دونوں دوبارہ قلعے پہنچے، جہاں فوٹو شوٹ کے دوران سیا نے مبینہ طور پر سانپ دیکھنے کا شور مچا کر کیتن کو کھائی کے قریب لے جانے کی کوشش کی، لیکن منصوبہ ناکام رہا۔پولیس کے مطابق 18 جون، جو سیا گوئل کی سالگرہ سے ایک دن پہلے تھا، اس نے ایک مرتبہ پھر لوہا گڑھ قلعے جانے پر اصرار کیا۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسی روز چیتن چودھری کی مدد سے کیتن اگروال کو کھائی میں دھکا دیا گیا اور بعد میں پولیس کو بتایا گیا کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گئے تھے۔

    یہ کیس اس لیے بھی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ دونوں خاندان شادی کی بھرپور تیاریوں میں مصروف تھے۔ دونوں کی منگنی رواں سال فروری میں ہوئی تھی جبکہ نومبر میں راجستھان کے شہر اودے پور میں شاندار شادی طے تھی۔ اطلاعات کے مطابق شادی پر تقریباً 14 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جبکہ کیتن اگروال نے سیا گوئل کی سالگرہ کی تقریب کے لیے مہابلیشور کے ایک لگژری ریزورٹ میں 40 سے 50 کمرے بھی بک کروا رکھے تھے۔پولیس کی تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ سیا گوئل اور چیتن چودھری کے درمیان گزشتہ تقریباً ایک سال سے قریبی تعلقات تھے۔ دونوں خاندان کاروباری روابط رکھتے تھے اور اسی دوران ان کی قربت بڑھی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سیا کیتن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور مبینہ طور پر اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

    دوسری جانب مقتول کے والد وشال اگروال نے اپنے بیٹے کی موت پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا 26 سالہ بیٹا ان کے بڑھاپے کا سہارا تھا۔ ان کے مطابق کیتن نے امریکہ سے ایم بی اے مکمل کرنے کے بعد خاندانی کاروبار سنبھال لیا تھا اور مستقبل کے کئی منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیتن نے کئی مرتبہ سیا کے رویے پر خدشات ظاہر کیے تھے، تاہم خاندان نے ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔پولیس نے سیا گوئل اور چیتن چودھری کے خلاف قتل اور مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کو سات روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر لوہا گڑھ قلعے پر واقعے کی دوبارہ منظر کشی بھی کی جا سکتی ہے تاکہ تمام حقائق کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

  • کراچی،ماں اور 8 سالہ بیٹی کی گھر سے پھندا لگی لاشیں برآمد

    کراچی،ماں اور 8 سالہ بیٹی کی گھر سے پھندا لگی لاشیں برآمد

    کراچی: شہر کے علاقے ملیر کھوکھرا پار میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گھر سے ماں اور اس کی 8 سالہ بیٹی کی پھندا لگی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 30 سالہ صبا زوجہ حنیف اور ان کی 8 سالہ بیٹی نبیہ دختر حنیف کے نام سے ہوئی ہے۔ اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور دونوں کی لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعے کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا، تاہم شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے ہر ممکن پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اہل خانہ اور قریبی افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ واقعے سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ پولیس کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے اور فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی واقعے کی حقیقت اور موت کی وجوہات کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

  • اڈیالہ جیل میں قیدی کے ساتھ جیل انتظامیہ کی مبینہ "بدفعلی”مقدمے کی درخواست

    اڈیالہ جیل میں قیدی کے ساتھ جیل انتظامیہ کی مبینہ "بدفعلی”مقدمے کی درخواست

    منشیات کے مقدمے میں اڈیالہ جیل میں قید معاذ ملک کی اہلیہ نےجیل انتظامیہ پر شوہر سے مبینہ بدفعلی کا الزام لگایا ہے، اس ضمن میں قیدی کی اہلیہ نے درخواست دی ہے اور کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

    اسلام آباد میں زیرِ سماعت منشیات کے ایک مقدمے میں گرفتار قیدی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں مبینہ بدفعلی کا سنگین الزام سامنے آیا ہے، جہاں قیدی کی اہلیہ نے علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دے کر واقعے کی تحقیقات، میڈیکل معائنہ اور نامزد اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔درخواست کے مطابق سائلہ کے شوہر معاذ ملک تھانہ اے این ایف اسلام آباد کے مقدمہ نمبر 39/26 میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جبکہ تاحال مقدمے کا چالان عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 10 اور 11 جون 2026 کو اڈیالہ جیل کے احاطہ انچارج منیر بلوچ نے مبینہ طور پر قیدی کو بیرک سے نکال کر ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زبردستی بدفعلی کی۔ درخواست گزار کے مطابق واقعے کے بعد قیدی کو دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اگر اس نے کسی کو اس بارے میں بتایا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 13 جون 2026 کو قیدی نے جیل سے فون پر اپنی اہلیہ کو مبینہ واقعے سے آگاہ کیا، تاہم اگلے روز اتوار کی تعطیل ہونے کے باعث وہ فوری طور پر عدالت سے رجوع نہ کر سکی۔

    سائلہ نے اپنی درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نامزد اہلکار اب بھی اس کے شوہر کو مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے اور دوبارہ مبینہ بدفعلی کرنے پر اصرار کر رہا ہے، جس کے باعث قیدی شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس کے شوہر کو اڈیالہ جیل سے طلب کر کے فوری میڈیکل معائنہ کرایا جائے، الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو نامزد اہلکار منیر بلوچ کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • اسلام آباد،  انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کا انکشاف،5 گرفتار

    اسلام آباد، انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کا انکشاف،5 گرفتار

    وفاقی دارالحکومت میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کا انکشاف سامنے آیا ہے

    ہیومن پلیسینٹا بیرون ملک اسمگل کرنے والا گینگ گرفتار کر لیا گیا،ایف آئی اے اسلام آباد زون کی رات گئے بڑی کارروائی،مصدقہ اطلاع پر سیکٹر ایف سیون اسلام آباد میں واقع ایک گھر میں چھاپہ مارا گیا،چھاپے کے دوران مذکورہ گھر میں انسانی اعضاء بالخصوص ہیومن پلیسینٹا کی غیر قانونی پراسیسنگ کے لیے مکمل پلانٹ قائم پایا گیا,ترجمان ایف آئی اے کے مطابق انکشاف ہوا کہ ملزمان مذکورہ پلانٹ میں ہیومن پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر پراسیس اور ڈرائے کرتے تھے,تیار شدہ مصنوعات "شی پلیسینٹا” کے نام سے بیرون ملک ویتنام برآمد کی جاتی تھیں,کارروائی میں 5 ملزمان گرفتار، جن میں 3 چینی شہری اور 2 پاکستانی شہری شامل ہیں،اسی نیٹ ورک کی نشاندہی پر ایف سیون / ای الیون سیکٹر اسلام آباد میں واقع ایک اور مقام پر بھی چھاپہ مارا گیا,مذکورہ مقام پر بھی اسی نوعیت کا ایک مکمل پروسیسنگ سینٹر فعال پایا گیا,ملزمان کے قبضے سے پراسیسنگ کے آلات اور تیار شدہ مال برآمد کر لیا گیا,استغاثہ پر ملزمان کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ (HOTA) 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا,

  • سرگودھا میں بچی سے زیادتی کی تصدیق، موت شہ رگ کٹنے سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ

    سرگودھا میں بچی سے زیادتی کی تصدیق، موت شہ رگ کٹنے سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ

    سرگودھا میں 7 سالہ منتہا زہرہ کے قتل کیس میں ہولناک انکشافات: پوسٹ مارٹم میں زیادتی کی تصدیق، لواحقین کا تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
    سرگودھا میں اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کی جانے والی 7 سالہ معصوم بچی منتہا زہرہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق کے ساتھ ساتھ یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ اس کی موت شہ رگ کٹنے سے ہوئی، جبکہ اس کے چہرے اور ماتھے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور جسم پر تشدد کے 7 نشانات پائے گئے۔
    یہ معصوم بچی کریانہ کی دکان پر سامان خریدنے گئی تھی جہاں اسے اس درندگی کا نشانہ بنایا گیا، اور اگرچہ واقعے کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے (جس کی لاش لینے سے اس کے اپنے گھر والوں نے انکار کر دیا اور اہل علاقہ نے اسے آبائی قبرستان میں دفن بھی نہیں ہونے دیا)، تاہم مقتولہ کے اہلِ خانہ نے موجودہ پولیس تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
    لواحقین کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کی مدد سے بچی کی لاش تیسری منزل سے ملی اور واقعے کے وقت دکان میں 5 افراد موجود تھے جن تمام سے تفتیش ہونی چاہیے، اسی سلسلے میں انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کا نوٹس لے کر خاندان کو مکمل اور شفاف انصاف فراہم کریں۔