Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • سکھر : بھینس چوری کے تنازع پر 3 افراد قتل، ایک بچہ زخمی

    سکھر : بھینس چوری کے تنازع پر 3 افراد قتل، ایک بچہ زخمی

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق لغاری)صوبہ سندھ کے شہر سکھر کے علاقے روہڑی کے قریب جھانگڑو تھانے کی حدود میں بھینس چوری کے تنازع پر جاگیرانی برادری کے دو گروپوں کے درمیان ہونے والے مسلح تصادم میں 3 افراد ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ عید کے روز پیش آیا، جس نے علاقے میں کشیدگی کو ایک بار پھر بڑھا دیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، تنازع کی ابتدا گزشتہ سال اس وقت ہوئی جب جاگیرانی برادری کے ایک گروپ نے دوسرے گروپ پر بھینس چوری کا الزام عائد کیا تھا۔ اس الزام کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی، جو وقتاً فوقتاً پرتشدد جھڑپوں کی شکل اختیار کرتی رہی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے نتیجے میں گزشتہ سال سے اب تک 13 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    چند ماہ قبل دونوں فریقین کے درمیان مقامی جرگے کے ذریعے صلح کرائی گئی تھی، اور امید کی جا رہی تھی کہ یہ تنازع ختم ہو جائے گا۔ تاہم، عید کے روز ایک بار پھر دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے مسلح تصادم میں تبدیل ہوگئی۔ اس جھڑپ میں فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا۔ زخمی بچے کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    جھانگڑو تھانے کے پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا۔ مزید خونریزی روکنے کے لیے علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

    ایس ایچ او جھانگڑو تھانے نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ پرانے تنازع کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں گروپوں کے اہم افراد سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تصادم کو روکا جا سکے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    اس واقعے کے بعد روہڑی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جاگیرانی برادری کے درمیان یہ تنازع نہ صرف خاندانوں بلکہ پورے علاقے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ کچھ رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ اور مقامی عمائدین مل کر اس تنازع کا مستقل حل نکالیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

    بھینس چوری کے تنازعات دیہی سندھ میں اکثر خاندانی دشمنیوں کا باعث بنتے ہیں، کیونکہ مویشی دیہی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح کے تنازعات اکثر جرگوں کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات صلح کے باوجود دشمنی دوبارہ سر اٹھاتی ہے، جیسا کہ اس واقعے میں دیکھا گیا۔

    پولیس اور مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • اوچ شریف: نہر میں ڈوبی بچی جاں بحق، کار حادثے میں دو زخمی

    اوچ شریف: نہر میں ڈوبی بچی جاں بحق، کار حادثے میں دو زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف اور اس کے نواحی علاقے آج دو دل دہلا دینے والے واقعات کی لپیٹ میں رہے جنہوں نے مقامی آبادی کو سوگوار کر دیا۔ ایک جانب تین سالہ معصوم بچی اقرا عباسیہ لنک کینال میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی، تو دوسری طرف موٹروے انٹرچینج کے قریب کار حادثے میں ایک مرد اور بچہ زخمی ہو گئے۔

    پہلا واقعہ اوچ شریف روڈ پر واقع عباسیہ لنک (ابو ظہبی) کینال کے کنارے پیش آیا، جہاں تین سالہ بچی اقرا کھیلتے ہوئے نہر میں جا گری۔ نہر کی گہرائی 16 فٹ جبکہ چوڑائی 200 فٹ بتائی گئی ہےاور حادثہ بچی کے گھر سے محض 50 میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ ریسکیو 1122 کو صبح 5 بج کر 10 منٹ پر اطلاع دی گئی، جس پر واٹر ریسکیو وین، اسکیوبا ڈائیورز اور سات ریسکیورز پر مشتمل ٹیم 16 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئی۔ کئی گھنٹوں کے ریسکیو آپریشن کے بعد بچی کی لاش قاسم والا بنگلہ (لیاقت پور) کے مقام سے نکال کر لواحقین کے حوالے کی گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

    دوسرا واقعہ موٹروے ایم فائیو انٹرچینج کے قریب پیش آیا، جہاں لاہور سے رحیم یار خان جانے والی فیملی کی الٹو کار کو ایک تیز رفتار نامعلوم ٹرالر نے ٹکر مار دی۔ حادثے میں کار سوار ایک مرد کے سر پر شدید چوٹ آئی جبکہ ایک بچہ معمولی زخمی ہوا۔ ٹرالر ٹکر مارنے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر ابتدائی طبی امداد دی اور زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور مفرور ٹرالر ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔

    ریسکیو 1122 کی جانب سے دونوں واقعات میں بروقت کارروائی کی گئی، تاہم معصوم اقرا کی جان نہ بچائی جا سکی، جس پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔

  • گھوٹکی پولیس نے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی کو کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء ہونے سے بچا لیا

    گھوٹکی پولیس نے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی کو کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء ہونے سے بچا لیا

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق لغاری) گھوٹکی پولیس نے کچے کے علاقے میں ممکنہ اغواء کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی شہری کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ پولیس نے نیشنل ہائی وے پر بروقت ناکہ بندی اور موثر گشت کے ذریعے اغواء کاروں کے منصوبے کو ناکام بنایا۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایت پر پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ تھانہ سرحد پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نیشنل ہائی وے کے قریب ٹنڈو ہوٹل کے مقام پر کارروائی کرتے ہوئے غلام حسن خان ولد قالو خان کھوسہ سکنہ راجپوت کالونی ڈیرہ غازی خان کو اغواء ہونے سے بچا لیا۔

    غلام حسن کھوسہ نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بیٹا ایک لڑکی سے فون پر رابطے میں تھا، جو اسے شادی کے لیے بلوا رہی تھی۔ آج وہ اپنے بیٹے کا رشتہ طے کرنے کے لیے کچے کے علاقے جا رہا تھا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے اغواء ہونے سے بچا لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم اغواء کا جال تھا جسے لڑکی کے ذریعے پھنسایا گیا تھا۔

    بازیاب ہونے والے شہری نے ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس بروقت مداخلت نہ کرتی تو وہ ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ چکا ہوتا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور ایسے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    گھوٹکی پولیس کے ترجمان کے مطابق، اغواء کی اس ممکنہ کوشش کے پیچھے سرگرم گروہوں کی تلاش کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • اوچ شریف: بنگلہ مستوئی کے قریب مزدا گاڑی الٹنے سے 7 زخمی، 4 ہسپتال منتقل

    اوچ شریف: بنگلہ مستوئی کے قریب مزدا گاڑی الٹنے سے 7 زخمی، 4 ہسپتال منتقل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف موٹروے روڈ پر بنگلہ مستوئی کے قریب ایک مزدا گاڑی (منی ٹرک نمبر KE-5263) الٹنے کا حادثہ پیش آیا جس میں 7 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب گاڑی جانوروں کو لاہور چھوڑ کر واپس رحیم یار خان جا رہی تھی اور ڈرائیور کو نیند آنے کے باعث گاڑی بے قابو ہو گئی۔ گاڑی میں کل 20 افراد سوار تھے۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ تین زخمیوں کو موقع پر فرسٹ ایڈ دی گئی جبکہ 4 کو مزید علاج کے لیے آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    زخمیوں میں ظہور احمد، صادق حسین، ملازم حسین اور فرمان حسین شامل ہیں جو اسپتال منتقل کیے گئے، جبکہ عبد الستار، اکبر اور محمد آصف کو موقع پر طبی امداد دی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثے کی وجہ ڈرائیور کی نیند اور غفلت تھی۔ حادثے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا لیکن ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی سے حالات قابو میں آ گئے۔

  • احمد پور شرقیہ: ذاتی دشمنی پر فائرنگ، ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت دو افراد جاں بحق

    احمد پور شرقیہ: ذاتی دشمنی پر فائرنگ، ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت دو افراد جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) تحصیل یزمان کے نواحی علاقے اڈا 42 ہزار پر لشاری برادری کے دو گروپوں کے درمیان پرانی دشمنی ایک بار پھر خونریز تصادم کی صورت اختیار کر گئی، جس میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر شیراز ندیم اور محمد وسیم اجمل فائرنگ سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

    جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں چک 43/DNB میں ادا کی گئی، جس میں رکن قومی اسمبلی چوہدری طارق بشیر چیمہ، رکن صوبائی اسمبلی حسن عسکری شیخ، متعدد سیاسی و سماجی شخصیات، معززین علاقہ اور ہزاروں کی تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔ واقعے نے سیاسی، سماجی اور طبی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔

    مقتول ڈاکٹر شیراز کے والد اور مدعی مقدمہ محمد ندیم خان لشاری — جو خود ایک معروف سیاسی شخصیت ہیں — نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے قریبی رشتہ دار کلیم اللہ، انعام اللہ، اختر ثانی، محمد احمد سلامت اور عطا اللہ نے پرانی دشمنی کی بنیاد پر گھات لگا کر مسلح حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ان کے بیٹے ڈاکٹر شیراز ندیم اور وسیم اجمل موقع پر دم توڑ گئے جبکہ اسد اجمل کو سینے میں دو گولیاں لگیں اور شہزاد لشاری بھی زخمی ہوا۔

    پولیس تھانہ ڈیرہ نواب صاحب اطلاع ملنے پر فوری موقع پر پہنچی اور لاشوں و زخمیوں کو سول ہسپتال احمد پور منتقل کیا۔ مدعی کی درخواست پر مقدمہ نمبر 261/25 بجرم 302، 324 درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔

    واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ مقتولین کے اہل خانہ اور قریبی عزیز غم اور انصاف کے حصول کی جدوجہد میں مبتلا ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے اندوہناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف:جائیداد تنازع، 85 سالہ میر خاں کو قتل کی دھمکیاں، وزیر اعلیٰ سے تحفظ کی اپیل

    اوچ شریف:جائیداد تنازع، 85 سالہ میر خاں کو قتل کی دھمکیاں، وزیر اعلیٰ سے تحفظ کی اپیل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے موضع کوٹلہ سلطان احمد کے 85 سالہ بزرگ شہری میر خاں نے میڈیا سے گفتگو میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض بااثر افراد ان پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں اور جائیداد کے تنازع پر انہیں قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

    میر خاں نے اپنی فریاد میں کہا کہ ان کی بہن زینب الہیٰ کی شادی 1952 میں نہال خان سے ہوئی تھی، جنہوں نے اپنی زندگی میں انہیں طلاق نہیں دی۔ تاہم، اب مخالفین اسلم، اکرم، بشیر، اللہ بچایا اور دیگر افراد جعلی طلاق نامہ تیار کر کے میر خاں کی بہن کی ملکیت پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 30 جون 2007 کو انہوں نے یونین کونسل کوٹلہ موسیٰ خان سے باقاعدہ تحریری طور پر استفسار کیا تھا کہ کیا زینب الہیٰ کے متعلق کوئی طلاق نامہ جمع ہے؟ جواب میں یونین کونسل نے تصدیق کی کہ ایسی کوئی دستاویز ریکارڈ میں موجود نہیں۔

    میر خاں نے مزید بتایا کہ ان کے بہنوئی نہال خان 2005 میں اور بہن زینب الہیٰ 2014 میں انتقال کر گئیں۔ نہال خان نے اپنی زندگی میں زینب الہیٰ کو شرعی حصہ یعنی سولہواں (1/16) حصہ دیا تھا۔ بعدازاں، زینب الہیٰ نے چار کنال چھ مرلے کا رقبہ اپنی مرضی سے میر خاں کو فروخت کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب اس جائیداد کو بنیاد بنا کر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس پر وہ شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ میر خاں نے اپیل کی کہ انہیں انصاف دیا جائے، جعلسازی کی تحقیقات کرائی جائیں اور جانی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزار سکیں۔

  • اوچ شریف: عید پر ون ویلنگ کیخلاف زیرو ٹالرنس، پولیس کی سخت وارننگ

    اوچ شریف: عید پر ون ویلنگ کیخلاف زیرو ٹالرنس، پولیس کی سخت وارننگ

    اوچ شریف( باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)عیدالاضحیٰ کے موقع پر تھانہ اوچ شریف کے ایس ایچ اوسجاد حسین سندھو اور تھانہ دھوڑکوٹ کےایس ایچ او سجاد حسین لغاری نے مشترکہ پریس بیان میں شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ خوشیوں کے اس موقع پر نوجوان ون ویلنگ جیسے خطرناک اور غیر قانونی کھیل سے مکمل گریز کریں۔

    پولیس افسران نے خبردار کیا کہ ون ویلنگ نہ صرف خود نوجوانوں کی زندگی کے لیے خطرہ ہے بلکہ سڑکوں پر چلنے والے دیگر راہگیروں کی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں ایسے جان لیوا مشاغل سے روکیں۔

    پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ عید کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کی جانب سے سخت نگرانی کی جائے گی، اور ون ویلنگ میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ افسران نے واضح کیا کہ قانون شکنی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔

    آخر میں پولیس نے عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عید خوشی، امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے، لہٰذا قانون کی پاسداری کرتے ہوئے سب کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

  • اوچ شریف: عید سے قبل 5000 کے جعلی نوٹوں کی بھرمار، مافیا سرگرم، پولیس خاموش

    اوچ شریف: عید سے قبل 5000 کے جعلی نوٹوں کی بھرمار، مافیا سرگرم، پولیس خاموش

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) شہر میں پانچ ہزار روپے کے جعلی نوٹوں کی یلغار، تاجر پریشان، قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش

    اوچ شریف میں عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی جعلی کرنسی مافیا سرگرم ہو گیا ہے۔ بازاروں میں پانچ ہزار روپے مالیت کے جعلی نوٹ کھلے عام گردش کر رہے ہیں، جس سے تاجروں، دکانداروں اور شہریوں میں شدید تشویش پھیل چکی ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق یہ جعلی نوٹ اس قدر مہارت سے تیار کیے گئے ہیں کہ اصلی اور نقلی میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    خریداروں کے رش اور کاروباری مصروفیات کے باعث دکاندار نوٹ چیک کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعل ساز سرگرم عمل ہیں۔ صرف چند روز میں متعدد دکانداروں کو ہزاروں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق، گردش میں موجود جعلی نوٹ نہایت اعلیٰ معیار کے کاغذ اور پرنٹنگ کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔ ان میں واٹر مارک، سیکیورٹی تھریڈ اور دیگر حفاظتی علامات کی اس قدر حقیقی نقالی کی گئی ہے کہ عام آنکھ یا حتیٰ کہ نوٹ چیکنگ مشین کے بغیر پہچاننا دشوار ہو گیا ہے۔

    شہریوں اور تاجروں نے ڈی پی او بہاولپور اور آر پی او بہاولپور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو یہ مافیا مزید پھیل جائے گا، جس کے منفی اثرات مقامی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ تاجر برادری نے حکومت سے بینکوں میں تربیتی کیمپ اور جعلی نوٹوں کی پہچان سے متعلق عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

  • کندھ کوٹ: سیپکو کی بجلی چوروں کے خلاف کارروائی، 15 مقدمات درج

    کندھ کوٹ: سیپکو کی بجلی چوروں کے خلاف کارروائی، 15 مقدمات درج

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی،نامہ نگارمختیاراعوان) وفاقی حکومت کے حکم پر واپڈا سیپکو نے کندھ کوٹ میں بجلی چوری اور بقایا بلوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ کشمور کندھ کوٹ کے ایکسئین عبدالفہیم بلهکانی کے زیر نگرانی، ایس ڈی شوکت علی سومرو، سٹی فور ایل ایس شرف الدین باجکانی، ایل قدر اللہ باجکانی، واپڈا ٹیم اور رینجرز اہلکاروں نے سٹی فور، گلشیر محلہ اور عید گاہ محلہ کے مختلف ٹرانسفارمرز پر چھاپے مارے۔

    کارروائی کے دوران 15 سے زائد افراد کے خلاف بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی پر مقدمات درج کیے گئے، اور 5 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری بھی کی گئی۔ ایکسئین عبدالفہیم بلهکانی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کارروائی سندھ کے دیگر شہروں کی طرح کشمور کندھ کوٹ میں بھی جاری ہے تاکہ بجلی چوری کو روکا جا سکے اور بلوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔

    سیپکو کندھ کوٹ ٹیم کے ملازمین محمد شعبان باجکانی، محمد علی باجکانی، مرتضیٰ باجکانی اور مبارک باجکانی نے بھی اس آپریشن میں حصہ لیا اور بجلی چوروں کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا۔

  • تنگوانی: کاروکاری کے پرانے تنازع پر چولیانی برادری کے دو گروپوں میں تصادم، ایک شخص قتل، دو زخمی

    تنگوانی: کاروکاری کے پرانے تنازع پر چولیانی برادری کے دو گروپوں میں تصادم، ایک شخص قتل، دو زخمی

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگارمنصور بلوچ)تنگوانی کے نواحی علاقے جمال میں واقع گاؤں کریم چولیانی میں پرانی کاروکاری کے جھگڑے پر چولیانی برادری کے دو فریقین کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس کے دوران دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان قربان علی چولیانی موقع پر جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔

    واقعہ کرم پور تھانے کی حدود میں پیش آیا، تاہم اطلاع کے باوجود اب تک پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تصادم روکنے یا فریقین کے درمیان فائرنگ بند کرانے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

    علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور فائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس کے باعث عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مقامی شہریوں اور رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لایا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔