Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • کراچی‘ مزاحمت پر  رائیڈر قتل،4 ماہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں 34 شہری  جاںبحق

    کراچی‘ مزاحمت پر رائیڈر قتل،4 ماہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں 34 شہری جاںبحق

    کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں باغ کورنگی پل کے قریب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 50 سالہ موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق واقعہ باغ کورنگی پل کے قریب شرافی گوٹھ تھانے کی حدود میں پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی فائرنگ سے آن لائن رائیڈر جاں بحق ہوگیا، جس کی شناخت جناح اسپتال میں ندیم احمد کے نام سے ہوئی ہے۔مقتول آن لائن موٹرسائیکل رائیڈر، مسجد میں خادم اور 3 بچوں کا باپ تھا۔ واقعے کے وقت نارتھ کراچی سے کورنگی کی جانب جا رہا تھا۔فائرنگ کے بعد زخمی حالت میں ندیم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    پولیس نے مقتول کی لاش قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی۔مقتول کے بھانجوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتیں عوام کو عدم تحفظ کا شکار کر رہی ہیں۔ مقتول کے بھانجے ارسلان کا مزید کہنا تھا کہ رات 4 بجے گھر جاتے ہوئے ماموں کو کال کی تو پولیس نے فون اٹھایا۔ فون پر موجود شخص نے پوچھا یہ آپ کے کون لگتے ہیں، جس پر میں بتایا کہ ماموں ہیں۔
    پولیس نے بتایا کہ انہیں گولی لگی ہے اور یہ جاں بحق ہو گئے ہیں۔ میں یہ سن کر فوری جناح اسپتال پہنچا۔مقتول ندیم احمد کے سالے ماجد علی نے کہا کہ شہر میں جنگل کا قانون ہے۔ 3 بچوں کا باپ رات کو روڈ پر آرہا تھا جب واردات ہوئی۔ شاہ فیصل پل پر آئے دن لوٹ مار کی وارداتیں ہو رہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مقتول ندیم احمد کافی دن بعد ہمارے گھر نارتھ کراچی آئے تھے اور دیر سے واپس گھر جا رہے تھے جس پر انہیں روکا بھی تھا، لیکن گھریلو ذمے داریوں کی وجہ سے وہ رات گئے اپنے گھر کے لیے نکل گئے تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ندیم احمد انتہائی پر خلوص اور نمازی انسان تھے۔ کورنگی کے مکین تھے اور علاقے میں ہی قائم مسجد کے مؤذن بھی تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے آن لائن موٹر سائیکل چلاتے تھے۔یاد رہے کہ رواں سال کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے آغاز سے اب تک ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی تعداد 34 ہوچکی ہے، جن میں صرف جنوری میں 5، فروری میں 10، مارچ میں 9 اور اپریل میں اب تک 10 شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔شہریوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

    اگر شرارت کی تو بھارت میں ہو گی ہر طرف تباہی ،پاکستان نے ٹارگٹ سیٹ کر لئے

    میرے ہاتھ کبھی نہیں اٹھے، جس دن وسیم اکرم سے سامنا ہو گیا دنیا دیکھے گی،عطاء الرحمان

  • کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان

    کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان

    کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان
    تحریر: منصور بلوچ، پریس کلب تنگوانی
    ضلع کشمور میں اس وقت امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں عام زندگی مفلوج اور عذاب بن گئی ہے اور علاقے کا امن و امان تباہ ہو گیا ہے۔
    ضلع کشمور میں کئی طاقتور ڈاکو گینگز موجود ہیں لیکن یہاں ہم تحصیل تنگوانی کے ڈاکو گینگز کی بات کریں گے۔

    طاقتور ڈاکو گینگز کے ہاتھوں علاقے کی عوام یرغمال بنی ہوئی ہے، جن میں خاص طور پر بھلکانی گینگ، بھیہ گینگ، کوکاری گینگ، جعفری گینگ، بنگلانی گینگ اور بہت سارے چھوٹے بڑے گروہ شامل ہیں۔ ان گروہوں نے خاص طور پر تحصیل تنگوانی کے امن و امان کو تباہ کر دیا ہے۔
    یہ ڈاکو گینگز بغیر کسی خوف کے دن دہاڑے اور رات کو سڑکوں، دیہاتوں اور بستیوں پر چوری، رہزنی اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں اور کئی وارداتوں میں مفرور ہیں۔

    یہ ڈاکو ہائی ویز اور لنک روڈز پر روزانہ سرعام پولیس کے سامنے ڈاکہ ڈال کر فرار ہو جاتے ہیں۔ انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ان گینگز کی دہشت گردی اور ظلم کی وجہ سے مقامی لوگ مسلسل خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔بچے سکول جانے سے خوفزدہ ہیں، اساتذہ عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ کاروباری طبقہ کاروبار کرنے سے ڈر رہا ہے۔ مزدور اور محنت کش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ ان سب کی زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔

    سب سے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خصوصاً پولیس اور رینجرز، کہیں نظر نہیں آتے۔پولیس کا کردار انتہائی مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پولیس ان طاقتور گینگز کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے یا اس کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔نتیجتاً گینگز کے ملزم ڈاکو بہت خوفناک ہو چکے ہیں اور پولیس نے عوام کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔

    کیا کشمور کے عوام پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ان لوگوں کو پرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل نہیں ہے؟

    اس وقت تنگوانی کے کتنے ہی گھر اُجڑ چکے ہیں، کتنے ہی افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ چکے ہیں یا قتل ہو چکے ہیں۔ کتنے ہی افراد اغوا ہو چکے ہیں جن کی بازیابی کے لیے ریاست کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔

    ہم سندھ حکومت، وفاقی حکومت اور اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا کشمور ضلع کی عوام پر رحم کریں اور فوری طور پر بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا جائے۔ ڈاکو گینگز کا خاتمہ کیا جائے۔پولیس فورس کو مزید مضبوط اور بااختیار بنایا جائے، پولیس کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ پولیس اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا کرے۔

    کشمور کی عوام اس عذاب سے نجات چاہتی ہے، امن و امان چاہتی ہے پر سکون زندگی گزارنا چاہتی ہے اور ڈاکو گینگز اور دہشت گردی کے عذاب سے آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے۔کوئی ہے جو عوام کو ڈاکوؤں سے آزادی اور تحفظ دلائے؟؟؟

  • اوکاڑہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میدان جنگ بن گیا، ڈنڈے، سوٹے اور فائرنگ، 5 زخمی، 2 کی حالت نازک

    اوکاڑہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میدان جنگ بن گیا، ڈنڈے، سوٹے اور فائرنگ، 5 زخمی، 2 کی حالت نازک

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں میڈیکل حاصل کرنے کے لیے آنے والے دو گروپوں کے درمیان دوبارہ تصادم ہو گیا، جس میں اینٹوں، ڈنڈوں، سوٹوں اور فائرنگ کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ جھگڑے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں 39 تھری آر کے رہائشی دو گروپوں کے درمیان پہلے جھگڑا ہوا، جو میڈیکل رپورٹ کے حصول کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ پہنچے۔ وہاں ایک بار پھر تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہسپتال کا ماحول میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ فریقین نے ایک دوسرے پر اینٹوں، ڈنڈوں اور سوٹوں سے حملہ کر دیا، جبکہ فائرنگ بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے غلام دستگیر اور علی رضا کو ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت میں ساہیوال ریفر کر دیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان اللہ دتہ، غلام حیدر اور حنیف کو گرفتار کر لیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ جھگڑے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • ڈسکہ: آٹے کے کنستر میں دم گھٹنے سے دو معصوم بہن بھائی جاں بحق

    ڈسکہ: آٹے کے کنستر میں دم گھٹنے سے دو معصوم بہن بھائی جاں بحق

    ڈسکہ،باغی ٹی وی (نامہ نگارملک عمران) ڈسکہ کے قصبہ منڈیکی گورائیہ میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں معمولی غفلت اور لاپرواہی کے باعث دو کمسن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پانچ سالہ عبیداللہ اور چھ سالہ ارحم گھر کی چھت پر رکھی ہوئی آٹے والی ایک ناکارہ پیٹی (کنستر) میں دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔ اس المناک خبر نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا اور گھر میں کہرام مچ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق گھر والوں نے آٹے والی ایک خالی پیٹی کو ناکارہ سمجھ کر چھت پر رکھا ہوا تھا۔ کھیلتے ہوئے دونوں معصوم بھائی اس پیٹی میں داخل ہو گئے اور اتفاقاً پیٹی کا ڈھکن بند ہو گیا۔ اندر بند ہونے کے باعث دونوں کمسن بھائی دم گھٹنے کے سبب موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    بچوں کے لاپتہ ہونے پر گھر والے پریشان ہو گئے اور انہیں ہر جگہ تلاش کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مساجد میں بھی ان کی گمشدگی کے اعلانات کروائے گئے لیکن ان کی تلاش بے سود ثابت ہوئی۔ بالآخر جب بچوں کی نعشیں اس آٹے والی پیٹی سے ملیں تو گھر میں کہرام برپا ہو گیا۔

    اطلاع ملنے پر تھانہ صدر ڈسکہ کی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور دونوں بچوں کی لاشوں کو تحویل میں لے کر سول ہسپتال ڈسکہ منتقل کیا۔ بعد ازاں غم و اندوہ کی فضا میں دونوں کمسن بھائیوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس دلخراش واقعہ نے پورے علاقے کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

  • بھانجوں کے ہاتھوں ماموں قتل ،ایک ملزم گرفتار

    بھانجوں کے ہاتھوں ماموں قتل ،ایک ملزم گرفتار

    لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں بھانجوں کے ہاتھوں ماموں کے قتل کے کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کی ہے۔ نواب ٹاؤن پولیس نے چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایک مفرور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ترجمان کے مطابق، ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے آپریشن کے دوران ملزم احتشام کو گرفتار کر لیا۔ترجمان کے مطابق، ملزمان احتشام اور گلشام گزشتہ روز اس واقعہ کے بعد فرار ہو گئے تھے۔ ان کے خلاف مقدمہ 2484/25 گزشتہ روز ہی درج کر لیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزم گلشام کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایات کے تحت پولیس نے اس کیس میں انتہائی تیزی سے کارروائی کی ہے اور مزید پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ملزم احتشام کی گرفتاری کے بعد پولیس گلشام کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مار رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ بھی جلد قانون کے شکنجے میں ہوگا۔

  • کراچی،ملازمت سے نکالنے پر 4بچوں کے باپ کی خودکشی

    کراچی،ملازمت سے نکالنے پر 4بچوں کے باپ کی خودکشی

    کراچی کے علاقے ملیر میں ملازمت سے نکالنے پر دلبرداشتہ ہوکر چار بچوں کے باپ نے گلے میں رسی کا پھندا لگا کر خود کشی کرلی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملیر سٹی تھانے کے علاقے ملیر نورانی مسجد کے قریب گھر سے ایک شخص کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی، اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور متوفی کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا، متوفی کی شناخت 30 سالہ عبدالمتین ولد عبدالمجید کے نام سے کی گئی۔پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد متوفی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی۔

    ایس ایچ او ملیر سٹی فراصت شاہ نے بتایا کہ متوفی شخص چار بچوں کا باپ تھا اور گھریلو آلات بنانے والی نجی الیکٹرانک کمپنی میں ملازم کرتھا تھا اور نجی کمپنی نے چار روز قبل ڈاون سائزنگ کرتے ہوئے متوفی کو ملازمت سے نکال دیا تھا۔ایس ایچ او نے بتایا کہ چار بچوں کا باپ دلبرداشتہ ہوگیا تھا اور بے روزگاری سے تنگ آکر متوفی نے گلے میں رسی کا پھندا لگا کر خود کشی کرلی۔

    لندن ،پاکستان کے خلاف مظاہرہ کرنا مہنگا ،بھارتیوں کا اپنا ہی تماشا بن گیا

    مودی سرکار کو دھچکا، سکھ فوجیوں کا پاکستان کے خلاف لڑنے سے انکار

    پاکستان نے بھارت کو ایٹم بم کی دھمکی لگا دی

    کراچی میں ہیٹ ویو کا خطرہ، الرٹ جاری

    اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے اہم رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • بہاولپور: سابق شوہر کی سفاکیت، فائرنگ کر کے خاتون کو شدید زخمی کر دیا گیا

    بہاولپور: سابق شوہر کی سفاکیت، فائرنگ کر کے خاتون کو شدید زخمی کر دیا گیا

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) بہاولپور کے علاقے اختر کالونی، بغداد اسٹیشن کے قریب ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک بے رحم سابق شوہر نے اپنی 25 سالہ سابقہ اہلیہ پر فائرنگ کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق رمضان کی دختر کرن کو اس کے سابق شوہر نے سینے پر گولی ماری اور موقع سے فرار ہو گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے کے شہریوں نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر فوری کارروائی عمل میں لائی اور ون یونٹ چوک کے قریب لواحقین کی گاڑی سے زخمی خاتون کو ریسکیو کیا۔ ریسکیو عملہ نے فوری طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے زخمی کرن کو بہاول وکٹوریہ ہسپتال (بی وی ایچ) منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز اسے زندگی بچانے کے لیے انتہائی نگہداشت فراہم کر رہے ہیں۔

    زخمی خاتون کی شناخت 25 سالہ کرن دختر رمضان کے نام سے ہوئی ہے جو اختر کالونی بہاولپور کی رہائشی بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

  • ننکانہ : گندم کے کھیتوں میں آگ کے واقعات، ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی میٹنگ

    ننکانہ : گندم کے کھیتوں میں آگ کے واقعات، ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی میٹنگ

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ضلعی ہیڈ کوارٹرز پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب نے گندم کے کھیتوں میں بڑھتے ہوئے آگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک ایمرجنسی میٹنگ منعقد کی۔ میٹنگ میں تمام ریسکیو افسران نے شرکت کی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں گندم کی فصل کو آگ لگنے کے 41 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آگ سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات یقینی بنائیں:

    کھیتوں سے گزرنے والی HT/LT الیکٹرک لائنوں کی کم اونچائی کی صورت میں ہارویسٹر نہ چلائیں۔
    ٹرانسفارمر کے قریب گندم اور جڑی بوٹیاں مکمل ہٹا کر جگہ صاف رکھیں۔
    گندم کی باقیات، ناڑ، یا بھوسہ جلانے سے گریز کریں، کیونکہ یہ جرم ہے۔
    فصلوں والے علاقوں میں سلگتی سگریٹ یا کھانا گرم کرنے کے لیے آگ نہ لگائیں۔
    بچوں کو پرالی کے قریب ماچس یا لائٹر نہ دیں۔

    ریسکیو 1122 نے کسانوں سے تعاون کی درخواست کی ہے تاکہ ان واقعات کو کم کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف: موٹر وے پر ڈاکوؤں کی پولیس اورعوام پر فائرنگ، ایک گرفتاردیگر فرار

    اوچ شریف: موٹر وے پر ڈاکوؤں کی پولیس اورعوام پر فائرنگ، ایک گرفتاردیگر فرار

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) موٹر وے ایم 5 پر تھانہ چنی گوٹھ کی حدود میں پل 82 ہزار کے قریب ڈاکوؤں نے دہشت پھیلا دی۔ موٹر وے پولیس نے ڈکیتی کی ایک گاڑی کو ٹریس کر کے روکا تو ملزمان نے بغیر کسی خوف کے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

    موٹر وے پولیس نے بہادری سے تعاقب جاری رکھا، جس پر ڈاکو گاڑی چھوڑ کر قریبی بستی میں بھاگ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق مقامی عوام نے بھی ڈاکوؤں کا پیچھا کیا لیکن ملزمان نے عوام پر بھی فائرنگ کر دی۔ تاہم بہادر شہریوں نے ایک ملزم کو دبوچ کر موٹر وے پولیس اور چنی گوٹھ پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور عوام کاحکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ موٹر وے جیسے حساس مقام پر اس قسم کی دہشت گردی ناقابلِ برداشت ہے۔عوامی وسماجی حلقوں نے سوال کیا ہے کہ کیا حکام اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے؟ عوام اپنی حفاظت کے لیے حکام کی طرف دیکھ رہے ہیں

  • اوچ شریف: نشے میں دھت موٹرسوار گرکر زخمی ، چہرہ لہولہان

    اوچ شریف: نشے میں دھت موٹرسوار گرکر زخمی ، چہرہ لہولہان

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف میں ریسٹ ہاؤس کے سامنے علی گیلانی والی گلی کے قریب ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں ایک موٹر سائیکل سوار مبینہ طور پر نشے کی حالت میں اپنی گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور سڑک پر بری طرح گر گیا۔ اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار کے چہرے پر گہری اور شدید چوٹیں آئیں۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے شخص کی شناخت حاجی مشتاق ولد محمد اقبال کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر 38 سال ہے اور وہ محلہ گیلانی اوچ شریف کے رہائشی ہیں۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر موجود باشعور شہریوں نے فوری طور پر ریسکیو ٹیم کو طلب کیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمی حاجی مشتاق کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور پھر انہیں فوری طور پر آر ایچ سی اوچ شریف ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے سنگین نتائج کی ایک بار پھر نشاندہی کی ہے۔