ٹھٹھہ، باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں)ضلع ٹھٹھہ میں محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے جنگلات کی زمینوں اور درختوں کی غیرقانونی کٹائی اور فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) محبوب علی بھٹی نے نہ صرف سندھ حکومت کی جانب سے درختوں کی کٹائی پر عائد پابندی کو نظرانداز کیا بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلے کی بھی خلاف ورزی کی، جس میں جنگلات سے قبضے ختم کر کے دوبارہ شجرکاری کا حکم دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویران فاریسٹ کی چوکڑی نمبر 5 میں روزانہ لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی درخت کاٹ کر کراچی منتقل کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام کارروائی ڈی ایف او محبوب علی بھٹی کی سرپرستی اور رینج فاریسٹ آفیسر (آر ایف او) ہاشم ہنگورو کی نگرانی میں جاری ہے۔ ہاشم ہنگورو نہ صرف مختلف بیماریوں کا شکار ہیں بلکہ بینائی کی کمزوری کے باوجود حساس علاقے میں تعینات ہیں اور 160 ایکڑ رقبے پر مشتمل چوکڑی نمبر 5 سے درختوں کی غیرقانونی کٹائی کروا رہے ہیں۔

تحقیقات سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ ویران جنگلات کی چوکڑی نمبر 46، جو کہ 160 ایکڑ پر مشتمل ہے، کو ڈی ایف او محبوب علی بھٹی اور آر ایف او ہاشم ہنگورو نے ملی بھگت سے ایک بلوچ شخص کو 96 لاکھ روپے میں غیرقانونی طور پر فروخت کر دیا۔ یہ فروخت سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس میں جنگلات کی زمینوں سے تجاوزات ختم کر کے شجرکاری کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔

مقامی سیاسی و سماجی حلقوں نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر درختوں کی کٹائی بند کرائی جائے، ملوث افسران اور خریداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور چوکڑی نمبر 46 کی غیرقانونی فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے اسے منسوخ کیا جائے۔
Category: جرائم و حادثات
-

ٹھٹھہ: ڈی ایف او کی نگرانی میں جنگلات کی غیرقانونی کٹائی، 160 ایکڑ زمین 96 لاکھ میں فروخت
-

گوجرخان: 7 سالہ کرسچن بچی کے قاتل کی پولیس حراست میں ہلاکت
گوجرخان (باغی ٹی وی، نامہ نگار شیخ ساجد قیوم) تھانہ مندرہ کے علاقے میں 7 سالہ کرسچن بچی کے قتل اور زیادتی کے ملزم سنیل مسیح کو پولیس حراست سے چھڑانے کی کوشش کے دوران اس کے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک کر دیا گیا۔ ملزم سنیل جو مقتولہ کا سگا ماموں تھا کو گزشتہ رات گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو آلہ جرم کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے دوران سنیل شدید زخمی ہوا اور ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا۔ فائرنگ کرنے والے ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم سنیل آئس کا عادی تھا اور مقتولہ کے گھر کے قریب رہتا تھا۔ اس نے ایسٹر کے روز بچی کو کھانے پینے کی اشیاء کا لالچ دے کر زیر تعمیر عمارت میں لے گیا، جہاں اس نے زیادتی کی کوشش کی۔ بچی کے شور مچانے پر ملزم نے قینچی سے اس کا گلا کاٹا، سر پر اینٹ سے وار کیا، اور گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ سفاک ملزم نے قتل کے بعد بھی بچی سے زیادتی کی۔
واردات کے بعد ملزم گھر واپس آیا اور فیملی کے ساتھ بچی کی تلاش میں ملوث رہا۔ اس کی مشکوک حرکات پر پولیس نے تفتیش کی تو ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا۔
سی پی او سید خالد ہمدانی نے ملزم کی 24 گھنٹوں میں گرفتاری اور فائرنگ کے باوجود بہادری سے فرض کی ادائیگی پر اے ایس پی گوجرخان اور مندرہ پولیس ٹیم کو شاباش دی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچے ریڈ لائن ہیں اور ان کے خلاف جرائم ناقابل برداشت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث ملزمان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
پولیس ترجمان کے مطابق ملزم کے ساتھیوں کی فائرنگ سے زیر حراست ملزم ہلاک ہوا اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
-

راولپنڈی :7 سالہ بھانجی کےقتل اور زیادتی کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
راولپنڈی میں پولیس پر مبینہ حملے کے دوران بچی کے قتل اور زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزم سنیل فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا، جب کہ اس کے ساتھی ملزمان فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق راولپنڈی کے علاقے مندرہ میں 7 سال کی بچی کےقتل اور زیادتی کے الزام میں گرفتار ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا ملزم کو حراست سےچھڑانے کےلیے اس کے ساتھیوں نے پولیس ٹیم پرفائرنگ کی جس دوران زیر حراست ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا جو اسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہوگیا،پولیس نے فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے قتل و زیادتی میں ملوث ملزم اس کا ماموں تھا، ملزم کو گزشتہ رات پولیس نے گرفتار کیا تھا جسے برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اسی دوران ملزمان نے فائرنگ کردی ملزم آئس کا نشہ کرتا تھا اور مقتولہ کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا، ملزم بچی کو زیر تعمیر عمارت میں لےگیاجہاں اس نے بچی سے زیادتی کی کوشش کی-
علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
پولیس کے مطابق بچی کے شور کرنے پر ملزم نے قینچی سے بچی کا گلا کاٹا اور سر پر اینٹ سے وار کیا اور ملزم نے قتل کے بعد بچی سے زیادتی کی، ملزم واردات کے بعد گھر آگیا اور فیملی کے ساتھ بچی کو تلاش کرتا رہا، ملزم کی مشکوک حرکات پر شامل تفتیش کیا تو اس نےاعتراف جرم کرلیا۔
ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی
-

میرپورماتھیلو:خانپور مہر میں فائرنگ سے کورائی قبیلے کے 4 افراد جاں بحق، پولیس حدود میں الجھ گئی
میرپور ماتھیلو (نامہ نگارمشتاق لغاری) خانپور مہر کے نواحی علاقے ہیکل پٹ میں ایک افسوسناک واقعے میں مسلح افراد نے کورائی برادری کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت گلشیر کورائی، ان کے بھائی گل میر کورائی، گلشیر کی بیوی شریفاں اور ان کی والدہ اختیاراں کورائی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مسلح افراد نے گھر میں گھس کر ان پر براہ راست فائرنگ کی، جس سے موقع پر ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اطلاع دینے کے باوجود پولیس کافی دیر تک جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکی، جس کے باعث مقتولین کی لاشیں کھلے آسمان تلے پڑی رہیں۔ اس تاخیر پر علاقہ مکینوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ تھانہ مبارک پور اور تھانہ خانپور مہر کی پولیس کے درمیان علاقے کی حدود کے تعین پر تنازعہ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس تھانے کی پولیس جائے وقوعہ کی ذمہ داری لے گی۔ اس مبینہ تنازعے کے باعث مقتولین کی نعشیں کئی گھنٹوں تک جائے وقوعہ پر پڑی رہیں۔
بعد ازاں اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، پولیس حکام نے اس واقعے کو پرانی دشمنی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید تفتیش کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ حقائق کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے۔
اس دلخراش واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا طاری کر دی ہے اور مقتولین کے لواحقین گہرے صدمے سے دوچار ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
-

لاہور، تیزگام ایکسپریس سے ایک شخص کی لاش برآمد
کراچی سے لاہور آنے والی تیزگام ایکسپریس کے واش روم کی چھت سے لٹکی ایک شخص کی لاش برآمدہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاش تیزگام ایکسپریس کے اکانومی کلاس بوگی نمبر 13216 کے واش روم سے برآمد ہوئی،لاہور ریلوے سٹیشن سے واشنگ لائن بوگیوں کی صفائی کے دوران لاش برآمد ہوئی۔اس ھوالے سے ریلوے ملازمین کاکہنا تھا کہ لاش رومال کے ساتھ واش روم کی چھت سے باندھی ہوئی ہے،واش روم کے اندرونی ماحول سے بظاہر خودکشی کا کیس ظاہر ہوتا ہے۔ واشنگ لائن انتظامیہ کی جانب سے ریلوے پولیس کو اطلاع کر دی گئی۔
واضح رہے کہ تیزگام پاکستان کی ایک تیز رفتار ایکسپریس ٹرین ہے جو کراچی اور راولپنڈی کے درمیان روزانہ چلتی ہے۔ اس ٹرین کا شمار پاکستان کی تیز رفتار اور مشہور ٹرینوں میں ہوتا ہے۔ اس ٹرین کا آغاز 1950ء کی دہائی میں ہوا۔تیزگام ایکونومی، ائرکنڈیشن بزنس اور ائرکنڈیشن سلیپر کلاس ڈبوں پر مشتمل ہے۔ یہ کراچی سے راولپنڈی تک کا 1,548 کلومیٹر (962 میل) فاصلہ 25 گھنٹوں اور 30 منٹوں میں تہ کرتی ہے۔
صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
تھرپارکر، سرکاری محکمے بے بس ہو گئے، مزید 12 مور ہلاک
گوجر خان: 7 سالہ بچی کا مبینہ ریپ کے بعد لرزہ خیز قتل
پشاور زلمی کے خلاف کراچی کنگز کی ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ جاری
-

گوجر خان: 7 سالہ بچی کا مبینہ ریپ کے بعد لرزہ خیز قتل
گوجر خان،باغی ٹی وی(نامہ نگار شیخ ساجد قیوم) پیر کے روز تھانہ مندرہ کے علاقے میں 7 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ ریپ کے بعد قتل کا دلخراش واقعہ پیش آیا۔ واقعے کے بعد ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جہاں اے ایس پی گوجر خان، ایس ایچ او مندرہ، اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے جائے وقوعہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے بچی کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تفتیش کی اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن کے مطابق، واقعے میں ملوث ملزم/ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ مشتبہ افراد کو شامل تفتیش کیا جا رہا ہے، جبکہ فرانزک شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم ناقابل برداشت ہیں اور ملزم/ملزمان کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
-

سیالکوٹ: زیر تعمیر مکان میں کرنٹ لگنے سے 27 سالہ نوجوان جاں بحق، سوالات اٹھنے لگے
سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیورو چیف شاہد ریاض)سیالکوٹ کے علاقے محلہ دارالسلام، سمبڑیال میں رات کی تاریکی میں ایک 27 سالہ نامعلوم نوجوان زیر تعمیر مکان میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔
واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا یہ نوجوان چوری کی نیت سے وہاں داخل ہوا اور اسے کرنٹ لگ گیا؟ کیا کسی نے جان بوجھ کر اسے کرنٹ لگا کر قتل کیا؟ یا یہ محض ایک حادثہ تھا؟ تاحال ان سوالات کے جوابات سامنے نہیں آسکے۔
سمبڑیال پولیس اور واپڈا کا عملہ موقع پر پہنچ گیا اور نعش کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے نوجوان کی شناخت اور واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے تفتیش شروع کردی ہے، مگر ابھی تک جاں بحق ہونے والے کی شناخت نہیں ہوسکی۔
عوامی حلقوں میں واقعے پر تشویش پائی جاتی ہے اور پولیس سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔
-

تنگوانی: سینیئر صحافی کے گھر سے 2 موٹر سائیکل چوری، پولیس اطلاع کے باوجود خاموش
تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)سینیئر صحافی کے گھر سے 2 موٹر سائیکل چوری، پولیس اطلاع کے باوجود خاموش
تفصیلات کے مطابق تنگوانی کے سینیئر صحافی اور پریس کلب تنگوانی کے بانی منصور بلوچ اور ان کے بھائی سب انسپکٹر سندھ پولیس کراچی منشور احمد باجکانی کے گھر سے دو موٹر سائیکلیں (سی ڈی 2019 ماڈل) چوری ہوگئیں۔ واقعہ گاؤں معصوم شاہ میں پیش آیا جو تھانہ تنگوانی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رات کے وقت مسلح چوروں نے ہتھیاروں کے زور پر موٹر سائیکلیں چھین لیں۔ الزام ہے کہ تنگوانی پولیس نے نہ تو بروقت کارروائی کی اور نہ ہی موقع پر پہنچی، جس سے صحافی برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
تنگوانی کے صحافیوں نے ایس ایس پی کشمور سے مطالبہ کیا ہے کہ منصور بلوچ کے گھر سے چوری ہونے والی موٹر سائیکلیں فوری طور پر برآمد کی جائیں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائے۔
-

پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی،10 سے زائد خوارجی دہشتگرد ہلاک
پنجاب پولیس میانوالی اور سی ٹی ڈی کا مکڑوال میں خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن ، 10 سے زائد دہشت گرد ہلاک کردیئے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مکڑوال میں خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن ، 10 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہو گئے مزید دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، دہشت گردوں کی فائرنگ سے مقامی شخص ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوگیا جسے علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آر پی او سرگودھا ریجن محمد شہزاد آصف خان اور ڈی پی او میانوالی اختر فاروق کی سپرویژن میں خوارجی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، ڈی پی او میانوالی اختر فاروق سمیت پولیس، سی ٹی ڈی کے تمام افسران و اہلکار مکمل طور پر محفوظ ہیں، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پنجاب پولیس الرٹ ہے، دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا کر دم لیں گے۔
بنگلور، بھارتی فضائیہ کے افسر پر حملہ
گھر کے باہر کھیلنے والی سات سالہ بچی کی لاش زیر تعمیر مکان سے برآمد
-

کرناٹک کے سابق پولیس چیف قتل،بیوی،بیٹی سے تحقیقات
بنگلور: کرناٹک کے سابق پولیس چیف، اوم پرکاش، اتوار کے روز اپنے بنگلور کے گھر میں مردہ پائے گئے۔ ان کی عمر 68 سال تھی۔ پولیس نے بتایا کہ ان کی لاش اس کے گھر کے فرش پر پڑی ہوئی تھی اور ان کے پیٹ اور سینے پر کئی چاقو کے وار کے نشانات تھے، جس سے خون کی زیادہ مقدار بہہ گئی۔
اس وقت ان کی بیوی پلووی، بیٹی اور دیگر ایک رشتہ دار گھر میں موجود تھے، جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پولیس کنٹرول روم کو کسی شخص نے فون کر کے اس واقعے کی اطلاع دی۔سابق پولیس چیف کے بیٹے کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اوم پرکاش اور ان کی بیوی کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے، جو اس واقعہ کے پس منظر کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔
بنگلورو کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس، ویکاس کمار نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایک تیز دھار آلے کا استعمال کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سابق پولیس آفیسر کو شدید زخم آئے اور ان کی موت واقع ہوئی۔”آج دوپہر تقریباً 4 سے 4:30 بجے کے درمیان ہمیں سابق ڈی جی پی اور آئی جی پی اوم پرکاش کی موت کے بارے میں اطلاع ملی۔ ان کے بیٹے سے رابطہ کیا گیا اور وہ اس واقعہ کے بارے میں شکایت دے رہے ہیں، جس کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ اس کے بعد تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔ فی الحال کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی، لیکن ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ داخلی نوعیت کا ہو سکتا ہے،” ویکاس کمار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا۔
پولیس نے بتایا کہ انہیں خاندان کے کسی فرد کے ملوث ہونے کا شبہ ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔اوم پرکاش 1981 کے آئی پی ایس بیچ کے افسر تھے اور مارچ 2015 میں انہیں کرناٹکا پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور ہوم گارڈز کا بھی انچارج کے طور پر کام کیا تھا۔