Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • سیالکوٹ: شیرپور میں چار سالہ بچے کی لاش برآمد، درزی کے قاتل کو سزائے موت

    سیالکوٹ: شیرپور میں چار سالہ بچے کی لاش برآمد، درزی کے قاتل کو سزائے موت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ میں افسوسناک واقعات کا سلسلہ جاری ہے، تھانہ کوٹلی لوہاراں کے علاقے شیرپور میں چار سالہ بچے کی لاش کار سے برآمد ہوئی جبکہ تھانہ ہیڈمرالہ کے علاقے گوندل میں درزی کو قتل کرنے والے ملزم کو عدالت نے سزائے موت سنا دی۔

    شیرپور میں چار سالہ بچہ گزشتہ روز کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا، جس کی لاش آج ایک کار سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے نعش قبضے میں لے کر ہسپتال منتقل کر دی ہے۔ کمسن بچے کی موت پر علاقے میں کہرام مچ گیا ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود بچہ بازیاب نہ ہو سکا اور ایک اور معصوم زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔

    دوسری جانب تھانہ ہیڈمرالہ کے علاقے گوندل میں تیرہ جولائی 2024 کو درزی اعجاز کو لڑائی چھڑوانے کی پاداش میں چھریاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ملزم ساجد محمود عرف بلا کو ہومی سائیڈ یونٹ کے انسپکٹر شبیر گل نے گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کیا اور شواہد جمع کیے۔ ایڈیشنل سیشن جج شہزادی نجف نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت اور سات لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

    دونوں واقعات نے ضلع بھر میں خوف، افسوس اور غم کی فضا قائم کر دی ہے، جبکہ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے پولیس کو جدید اقدامات کرنے ہوں گے اور مجرموں کو سخت ترین سزائیں دے کر انصاف کا نظام مضبوط بنانا ہو گا۔

  • اوکاڑہ: تھانہ گوگیرہ کے قریب پولیس مقابلہ، 4 ڈاکو گرفتار، 2 زخمی، 3 فرار

    اوکاڑہ: تھانہ گوگیرہ کے قریب پولیس مقابلہ، 4 ڈاکو گرفتار، 2 زخمی، 3 فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)تھانہ گوگیرہ کی حدود میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں 4 خطرناک ڈاکو گرفتار کر لیے گئے جن میں سے 2 زخمی حالت میں پکڑے گئے جبکہ 3 ڈاکو فرار ہو گئے۔ پولیس نے مقابلے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کیا جس کے دوران مزید 2 ڈاکو گرفتار کر لیے گئے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت کی ہدایت پر ڈاکو ناکہ جات کے خاتمے کے لیے سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں اور گشت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا۔ تھانہ گوگیرہ کے علاقہ 42 جی ڈی میں 7 ڈاکو ناکہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے، جس پر شہری دلشاد نے پکار 15 پر پولیس کو اطلاع دی۔

    ایس ایچ او گوگیرہ نے فوری طور پر اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کی، تاہم ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہو گئے اور گرفتار کر لیے گئے۔

    بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران مزید دو ڈاکو عثمان اور علی حیدر کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ تین ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ گرفتار ڈاکو سنگین نوعیت کے 36 مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری نکلے۔

    ابتدائی تفتیش میں زخمی ڈاکوؤں کی شناخت رحیم اور تنویر کے ناموں سے ہوئی، جو ڈکیتی اور راہزنی کے 9 مقدمات میں ملوث پائے گئے۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے تین ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • سیالکوٹ: ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی مشترکہ سیلابی فرضی مشق، اداروں کی عملی تیاریوں کا مظاہرہ

    سیالکوٹ: ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی مشترکہ سیلابی فرضی مشق، اداروں کی عملی تیاریوں کا مظاہرہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی سٹی رپورٹر مدثر رتو)ریسکیو 1122 نے ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے دریائے چناب پر کمبھرانوالہ کے مقام پر سیلابی صورتحال سے نمٹنے کی فرضی مشق کا انعقاد کیا۔ مشق کا مقصد ممکنہ ہنگامی صورتحال میں ادارہ جاتی تیاری اور باہمی رابطے کو جانچنا تھا۔

    یہ مشق بانی ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کی ہدایت اور ریجنل ایمرجنسی آفیسر گوجرانوالہ کی نگرانی میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی قیادت میں منعقد کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی خصوصی ہدایت پر ضلعی سطح کے تمام ادارے مشق میں شریک ہوئے۔

    تمام محکموں نے اپنے آلات اور تیاریاں عوام کے سامنے پیش کیں۔ ریسکیو 1122 نے پانی میں ڈوبنے والوں کی تلاش، ابتدائی طبی امداد اور سیلابی ریسکیو آپریشن کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ فیلڈ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا جس میں ریسکیو اہلکاروں نے فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی مشق کی۔

    ڈی ڈی ایم سی کے کیوان حسن نے مشق کے کامیاب انعقاد پر تمام محکموں کو سراہا اور تیاریوں کو تسلی بخش قرار دیا۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نوید اقبال کے مطابق ایسی مشقوں سے نہ صرف اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے بلکہ باہمی تعاون کو فروغ دے کر ممکنہ آفات میں بروقت ردعمل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

    مشق میں ریسکیو محافظین کے علاوہ سول ڈیفنس، واسا، میونسپل کارپوریشن، محکمہ صحت، انہار، لائیو اسٹاک، ٹریفک پولیس، سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن، حیی الفلاح اور روز ویلفیئر آرگنائزیشن نے بھی شرکت کی۔

  • ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قاتل گرفتار

    ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قاتل گرفتار

    معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت کاکا کے نام سے ہوئی ہے،ملزم نے خود کو مقتولہ کا دوست بتایا ہے ملزم کا کا فیصل آباد فرار ہو گیاتھا، ملزم کو فیصل آباد سےحراست میں لیاگیا ،پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کرلیا۔

    پولیس ذرائع کاکہنا ہے کہ ملزم کو سی سی ٹی وی ویڈیو اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیاگیا ورثا سےشناخت کے بعد دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ملزم کا اصل نام عمر حیات عرف کاکا ہے، وہ خود بھی ٹک ٹاکر ہے۔

    ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    یاد رہے کہ وقوعہ کی ایف آئی آر ان کی والدہ کی مدعیت میں درج کر لی گئی ہے ایف آئی آر کے مطابق ان کی والدہ نے مؤقف اپنایا کہ پیر کی شام پانچ بجے کے قریب ایک شخص ان کے گھر میں داخل ہوا اور ان کی بیٹی ثنا یوسف کو نشانہ بناتے ہوئے دو فائر کیے۔

    والدہ کے مطابق گولی ثنا یوسف کے سینے میں لگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں محلے دار کی گاڑی میں ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئیں والدہ کے مطابق ملزم نے کالی شرٹ اور پینٹ پہنی ہوئی تھی، درمیانہ قد اور سمارٹ جسامت تھی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی نند بھی اس وقت گھر میں موجود تھیں اور ملزم کی شناخت کر سکتے ہیں۔

    ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد: ملزمان دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  • عید کے کپڑے نہ ملے، 3 جانیں چلی گئیں؛ بھوک سے بزرگ خاتون جاں بحق

    عید کے کپڑے نہ ملے، 3 جانیں چلی گئیں؛ بھوک سے بزرگ خاتون جاں بحق

    رحیم یارخان،بہاولپور(باغی ٹی وی)غربت کے زخم، عید کے کپڑے نہ ملے، بھوک سے جان گئی، دو شہروں کی دو دردناک داستانیں

    رحیم یار خان اور بہاولپور میں غربت اور بھوک نے دو الگ خاندانوں کو نگل لیا، جہاں ایک جانب عید کے کپڑے مانگنے پر مجبور باپ نے تین بچوں سمیت زہریلی گولیاں کھا لیں، وہیں دوسری طرف کئی روز کی فاقہ کشی نے ایک بزرگ خاتون کی جان لے لی۔

    رحیم یار خان کی تحصیل رکن پور کے علاقے سردار گڑھ بستی حاجی پیر میں یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک محنت کش باپ نے دو معذور بیٹوں اور ایک بیٹی کو زہریلی گولیاں کھلائیں اور خود بھی زندگی ختم کرلی۔ ترجمان شیخ زید اسپتال کے مطابق دو بیٹے اور باپ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جب کہ بیٹی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ پولیس کے مطابق باپ ٹریکٹر ٹرالی چلا کر روزی کماتا تھا لیکن کئی دنوں سے بے روزگار اور شدید پریشان تھا۔ اہل علاقہ کے مطابق عید قریب آتے ہی بچوں نے جب کپڑوں کا مطالبہ کیا تو غربت کے ہاتھوں مجبور باپ نے یہ انتہائی قدم اٹھا لیا۔

    ادھر بہاولپور کے علاقے لوہار والی گلی میں بھوک کی شکار دو بزرگ بہنیں بے ہوشی کی حالت میں پائی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچے تو ایک خاتون دم توڑ چکی تھیں جبکہ دوسری کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ بچ جانے والی بہن نے بتایا کہ وہ دونوں کئی دنوں سے فاقہ کشی کا شکار تھیں۔ اہل محلہ کے مطابق دونوں بہنیں غیر شادی شدہ تھیں، گھر میں تنہا رہتی تھیں اور ان کا اکلوتا بھائی بھی کئی سالوں سے لاپتا ہے۔

    دونوں واقعات نے یہ سنگین سوال اٹھا دیا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشرتی بے حسی کے اس دور میں ہمارا فلاحی نظام کہاں کھڑا ہے؟ عید کے کپڑوں کی خواہش یا روٹی کی طلب کیا واقعی موت کی قیمت پر پوری ہونی چاہیے؟

  • جلالپور پولیس کا مبینہ دھاوا، چادر و چار دیواری کی پامالی، متاثرین ہائیکورٹ پہنچ گئے

    جلالپور پولیس کا مبینہ دھاوا، چادر و چار دیواری کی پامالی، متاثرین ہائیکورٹ پہنچ گئے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تھانہ دھوڑکوٹ کی حدود میں جلالپور پولیس کی جانب سے موضع بیٹ لنگاہ میں محنت کش خاندانوں کے گھروں پر مبینہ طور پر دھاوا بولنے، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور گھریلو سامان اٹھا لے جانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ افراد نے لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بنچ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیس کی اس غیر قانونی کارروائی نے ان کی زندگیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

    پٹیشن گزار بلال ڈاہڑ، اعظم ڈاہڑ، راجو ڈاہڑ، امیر بخش ڈاہڑ و دیگر کے مطابق درجنوں اہلکار، جن میں بعض وردی اور بعض سادہ لباس میں تھے، پانچ سے چھ پولیس گاڑیوں پر سوار ہو کر بلا اجازت ان کے گھروں میں داخل ہوئے، بغیر سرچ وارنٹ کارروائی کی، قیمتی سامان الٹ پلٹ کر لے گئے اور دیگر اشیاء کو بھی نقصان پہنچایا۔ خواتین و بچوں کے سامنے توڑ پھوڑ کی گئی، نازیبا زبان استعمال کی گئی، جبکہ چیخ و پکار کے باوجود اہلکار باز نہ آئے۔

    متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ "پولیس نے جس انداز سے گھروں پر دھاوا بولا، ایسا محسوس ہوا جیسے بھارتی فوج نے حملہ کر دیا ہو۔” واقعے کی ویڈیوز میں ٹوٹی چارپائیاں، بکھرا ہوا سامان اور تباہ شدہ اشیاء واضح دیکھی جا سکتی ہیں۔

    متاثرین نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نہ صرف پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے بلکہ سامان کی واپسی، مزید ہراسانی و جھوٹے مقدمات سے تحفظ اور واقعے کی شفاف انکوائری بھی یقینی بنائی جائے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے، جبکہ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پولیس کے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قانون کے محافظ خود قانون شکن بن جائیں تو عوام کے لیے عدل و انصاف کا تصور بھی باقی نہیں رہتا۔

  • اوچ شریف: گھریلو جھگڑے پر نوجوان نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی

    اوچ شریف: گھریلو جھگڑے پر نوجوان نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے محلہ بخاری میں گھریلو تنازع پر ایک نوجوان نے مبینہ طور پر زہریلی گولیاں نگل کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ متوفی کی شناخت محمد ثاقب ولد امداد حسین کے طور پر ہوئی ہے جو محلہ بخاری اوچ شریف کا رہائشی تھا۔

    اہل خانہ کے مطابق، نوجوان گھریلو مسائل کے باعث شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا تھا، جس کے باعث اس نے گندم میں رکھی جانے والی زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔ واقعہ کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی اور متاثرہ شخص کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم حالت تشویشناک ہونے کے باعث اُسے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اوچ شریف منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔

    واقعے کے بعد علاقے میں افسوس کی فضا چھا گئی، جبکہ مقامی پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • گھوٹکی:کچہ میں ڈاکوؤں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری، شر، ماچھی اور میرانی گینگ کے ٹھکانے مسمار

    گھوٹکی:کچہ میں ڈاکوؤں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری، شر، ماچھی اور میرانی گینگ کے ٹھکانے مسمار

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی کے کچہ ایریا میں اغواء کاروں اور ڈاکوؤں کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ ٹارگیٹڈ آپریشن ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی قیادت میں بھرپور انداز میں جاری ہے۔ شر گینگ، ماچھی گینگ اور میرانی گینگ کے خلاف سب ڈویژن رونتی کے تھانہ شہید دین محمد لغاری کی حدود میں جاری آپریشن میں مغویوں کی بازیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    پولیس اور اغواء کاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ پولیس اور رینجرز نے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کا گھیراؤ تنگ کر کے انہیں مسمار کر دیا اور کئی مقامات کو نظر آتش کر دیا گیا ہے۔ کچہ کے دشوار گزار علاقوں میں سخت سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ ڈاکوؤں کے تمام محفوظ مقامات ختم کیے جا سکیں۔

    آج کے آپریشن میں ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی قیادت میں ڈی ایس پی اباوڑو عبدالقادر سومرو، متعدد تھانوں کے ایس ایچ اوز، اے پی سی چین اور بکتر بند گاڑیوں سمیت پولیس و رینجرز کی بھاری نفری شریک ہے۔

    ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے عزم ظاہر کیا ہے کہ انشاء اللہ بہت جلد تمام مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا جائے گا اور اغواء کاروں و ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے تک کچہ کے علاقے میں آپریشن جاری رہے گا۔

  • مسافر خان: 38 سالہ خاتون  تیزدھار آلے کے وار سے قتل

    مسافر خان: 38 سالہ خاتون تیزدھار آلے کے وار سے قتل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) بہاولپور کے نواحی علاقے مسافر خانہ میں ایک اندوہناک قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 38 سالہ خاتون رضیہ بانو زوجہ محمد ہاشم کو مبینہ طور پر سر پر تیز دھار آلے کے وار سے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے جبکہ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے حرکت میں آ چکے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کو ایک شہری کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ ایک خاتون کی ناک سے خون بہہ رہا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔ ریسکیو ٹیم فوری طور پر روانہ ہوئی، مگر اس دوران لواحقین زخمی خاتون کو ایک رکشے پر خود لے کر آ گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر ہی طبی معائنہ کیا، جس میں یہ انکشاف ہوا کہ خاتون جانبر نہ ہو سکی تھیں۔ ان کے تمام وائیٹل سائنز ختم ہو چکے تھے اور سر کے اوپری حصے، پیریٹل ریجن، پر تیز دھار آلے سے لگنے والا گہرا زخم موجود تھا، جس سے واضح ہوا کہ یہ ایک پرتشدد حملہ تھا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق خاتون کی موت ایک سے دو گھنٹے قبل واقع ہو چکی تھی۔ جب ریسکیو عملے نے لواحقین سے وقوعے کی تفصیل جاننے کی کوشش کی تو اُنہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ سب سوئے ہوئے تھے، اور کسی نامعلوم شخص نے خاتون کو قتل کر کے فرار ہو گیا۔ اُن کا مؤقف تھا کہ وہ صرف یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ خاتون زندہ ہیں یا نہیں۔

    ریسکیو کنٹرول روم نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کو فوری طور پر مطلع کیا تاکہ قانونی کارروائی شروع کی جا سکے، مگر اس کے باوجود لواحقین لاش کو کسی کارروائی کے بغیر ہی واپس گھر لے گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پولیس مقتولہ کے شوہر، اہل خانہ اور قریبی افراد سے تفتیش کر رہی ہے اور فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا مطالبہ ہے کہ قاتل کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

  • صادق آباد:صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    صادق آباد:صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    صادق آباد(باغی ٹی وی رپورٹ)صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں ایک نجی اسپتال کے ڈاکٹروں نے انسانیت کی تمام حدود پار کرتے ہوئے سادہ لوح دیہاتیوں کو ہوس زر کا نشانہ بنا ڈالا۔ سی ای او ہیلتھ کے مطابق، اس درندہ صفت عمل کا انکشاف چک 212 پی کے دیہاتیوں کے ساتھ کیا جانے والا غیر ضروری آپریشنز ہے۔ محض پندرہ دنوں کے قلیل عرصے میں اسپتال کے بدنام زمانہ ڈاکٹروں نے 24 افراد کے اپینڈکس کے آپریشن کیے، جن میں سے کئی مریض صرف ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھے۔

    یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب 29 مئی کو فیس بک پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک مقامی رپورٹر نے صادق آباد ٹلو بنگلہ چک 212 پی میں اپینڈکس کی "پراسرار” بیماری کے پھیلنے کی اطلاع دی۔ رپورٹر کے مطابق ایک ہی خاندان کے 40 سے زائد بچے اس مرض میں مبتلا ہوئے، جن میں سے 25 کے آپریشن ہو چکے تھے جبکہ 15 ابھی تک ہسپتال میں داخل تھے۔ یہ رپورٹر کی کال اور اس کے بعد سی ای او ہیلتھ کی تحقیقات نے ہسپتال کے بھیانک جرم کا پردہ چاک کیا۔

    سی ای او ہیلتھ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس نجی ہسپتال کو سیل کر دیا ہے اور اس گھناؤنے جرم کی مکمل رپورٹ ہیلتھ کیئر کمیشن کو ارسال کر دی گئی ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیم نے چک 212 پہنچ کر متاثرہ افراد کے الٹراساؤنڈ کیے ہیں تاکہ اس فراڈ کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

    محکمہ صحت پنجاب کے سیکرٹری صحت نے اس انسانیت سوز واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کو سیل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ یہ محض ایک اسپتال کو سیل کرنا نہیں بلکہ اس مافیا کو بے نقاب کرنا ہے جو صحت کی آڑ میں غریب اور مجبور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو انسانیت کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے اور اس کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔

    وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، ڈی سی رحیم یار خان اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور اس انسانیت دشمن فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس خاندان کو فوری طبی امداد اور قانونی چارہ جوئی میں مدد فراہم کی جائے۔ عوام الناس سے بھی گزارش ہے کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس مافیا کو بے نقاب کرنے میں مدد کریں۔