Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • اوکاڑہ: جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے قائم نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب، ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ: جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے قائم نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب، ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ سٹی دیپالپور پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے استعمال ہونے والا نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب کر دیا ہے۔ ایس ایچ او فخر وٹو نے ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مار کر مرکزی ملزم سمیت دو افراد کو گرفتار کر کے سازو سامان بھی تحویل میں لے لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک شہری اپنے مخالفین کو پھنسانے کی نیت سے جھوٹے میڈیکل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے خودساختہ زخم لگوا رہا ہے۔ ایس ایچ او فخر وٹو نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رتہ کھنہ روڈ پر واقع ایک رہائشی مکان پر قائم جعلی آپریشن تھیٹر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ندیم خان نے اپنے ڈرائیور کو جان بوجھ کر زخمی کروایا تاکہ سرکاری اسپتال سے جعلی میڈیکل حاصل کیا جا سکے۔ ملزم نے اپنے ڈرائیور کو علاج کے بہانے نجی مقام پر لے جا کر بازو پر گہرا زخم لگایا۔ یہ کام سرکاری اسپتال کے درجہ چہارم ملازم آصف کی مدد سے انجام دیا گیا۔

    پولیس نے جعلی آپریشن تھیٹر میں موجود طبی آلات، پٹیاں، سرنجیں اور دیگر مواد قبضے میں لے کر دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت نے اس کامیاب کارروائی پر ایس ایچ او فخر وٹو اور ان کی پوری ٹیم کو سراہتے ہوئے تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ضلع اوکاڑہ میں محکمہ صحت کے کئی درجہ چہارم ملازمین اپنے طور پر غیر قانونی کلینکس چلا رہے ہیں، جہاں نہ صرف علاج کے نام پر جعلسازی کی جاتی ہے بلکہ قانون اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ اس کارروائی نے ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، جسے شہریوں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

  • حافظ آباد: ٹریفک پولیس کا دہرا معیار، عام شہری چالانوں کی زد میں، امراء کو کھلی چھوٹ

    حافظ آباد: ٹریفک پولیس کا دہرا معیار، عام شہری چالانوں کی زد میں، امراء کو کھلی چھوٹ

    حافظ آباد (باغی ٹی وی،خبر نگارشمائلہ) ضلعی ہیڈ کوارٹر حافظ آباد میں ٹریفک پولیس کی کارروائیوں نے عام شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ چالانوں کی بھرمار نے نہ صرف عوام کے اوسان خطا کر دیے ہیں بلکہ امیر طبقے کی من مانیوں نے قانون کی بالادستی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    شہریوں کے مطابق موٹر سائیکل جو عوام کی بنیادی سواری ہے، اسی پر سخت ترین قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب شہر میں بڑی گاڑیاں بلا نمبر پلیٹ، برادریوں کے ناموں کے ساتھ آزادانہ گھومتی ہیں جنہیں ٹریفک پولیس روکنے کی زحمت تک نہیں کرتی۔ ایک شہری نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "شہر میں کئی گاڑیاں دیکھی ہیں جن پر نمبر پلیٹس کی جگہ برادری کے نام درج ہیں اور وہ کھلے عام شاہراہوں پر دندناتی پھرتی ہیں”۔

    شہر کے مختلف حصوں میں پارکنگ کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری زمینیں جو عوامی پارکنگ کے لیے استعمال کی جا سکتی تھیں، انہیں خود سرکاری اداروں نے غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ تحصیل احاطہ اور پٹوارخانہ کے سامنے خالی جگہوں پر بااثر افراد کی پشت پناہی سے غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر فیس بھی وصول کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے اس غیر قانونی فیس پر آواز اٹھائی تو ہر طرف سے خاموشی دیکھنے میں آئی۔

    ڈی ایس پی رائے ملازم حسین نے اعتراف کیا کہ پارکنگ غیر قانونی ہے اور ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی، تاہم جب ٹریفک انچارج نے وضاحت دی کہ "یہ پارکنگ انجمن تاجران کے زیرِ نگرانی ہے” اور وہاں تعینات شخص موٹر سائیکل چوری روکنے کے لیے بٹھایا گیا ہے، تو پولیس حکام نے خاموشی اختیار کر لی۔

    شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پارکنگ کو فیس پارکنگ میں تبدیل کرنا ہے تو حکومت کو ٹھیکے پر دے تاکہ عوام کو سہولت اور حکومت کو آمدن حاصل ہو۔ شہر میں موجود کئی سرکاری جگہیں مثلاً دانہ منڈیاں، اسلامیہ گرلز کالج کے قریب میدان، جلالپور روڈ اور ریلوے کی زمین اس مقصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، مگر ترجیحات کچھ اور نظر آتی ہیں۔

    اسی طرح روزانہ ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی بھاری گاڑیاں، جن میں 80 ٹن وزنی ڈمپر شامل ہیں، سرگودھا، چنیوٹ اور ونیکے تارڑ سے پتھر اور ریت لے کر شہر میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ گاڑیاں اکثر بغیر لائسنس، بغیر کاغذات اور کم عمر بچوں کے زیرِ استعمال ہوتی ہیں۔ جب اس حوالے سے ٹریفک پولیس سے سوال کیا گیا تو یہ کہہ کر جان چھڑائی گئی کہ "ایکسل لوڈ کی ذمہ داری ڈی آر ٹی اے سیکرٹری کی ہے” اور جب کاغذات کے متعلق پوچھا گیا تو حکام نے خاموشی اختیار کر لی۔ وجہ واضح ہے: یہ گاڑیاں بڑے ٹرانسپورٹرز، سرکاری افسران اور سیاسی بااثر افراد کی ملکیت ہیں۔

    شہر کے مرکزی علاقوں جیسے کچہری روڈ، ڈاکخانہ چوک، فوارہ چوک، مدنی بازار، کلمہ چوک وغیرہ میں نو پارکنگ زونز میں کھڑی بڑی گاڑیوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، لیکن موٹر سائیکل سواروں کو موقع پر ہی پکڑ کر دو ہزار روپے کے چالان تھما دیے جاتے ہیں۔

    عوامی سطح پر مطالبہ ہے کہ اگر چالان کیے جائیں تو ساتھ شعور بھی دیا جائے۔ شہری مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے اخراجات کی وجہ سے پہلے ہی پریشان ہیں۔ ایسے میں دو ہزار روپے کے چالان ان کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر عام شہریوں پر سختی ہے تو طاقتور اور امیر افراد کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ قانون پر عمل کریں، لائسنس، رجسٹریشن اور ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائیں، چھوٹے بچوں کو موٹر سائیکل چلانے نہ دیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

    قانون کی بالادستی، عوامی شعور اور محکموں کی غیر جانب داری ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ جب تک قانون کا اطلاق سب پر برابر نہ ہوگا، حافظ آباد جیسے شہروں میں شہری پریشانی کا شکار رہیں گے اور اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان قائم رہیں گے۔

  • بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان/تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) بلوچستان کے ضلع بولان میں قومی شاہراہ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی "سدا بہار” مسافر کوچ دوسا چوکی کے قریب بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ حادثے میں چار مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 28 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی علاقہ سوگ میں ڈوب گیا، خاص طور پر تنگوانی میں اس وقت کہرام مچ گیا جب معلوم ہوا کہ جاں بحق ہونے والوں میں مقامی نوجوان نظام الدین ولد غلام سرور بھی شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کوچ صادق آباد سے کوئٹہ جا رہی تھی، جس کے دوران ڈرائیور کی غفلت، تیز رفتاری اور ممکنہ طور پر نیند کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث دوسا چوکی کے قریب گاڑی بے قابو ہو کر اُلٹ گئی۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی اور ہر طرف انسانی لاشیں، زخمی مسافر اور تباہ شدہ سامان بکھرا ہوا تھا۔

    حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، ایف سی اہلکار، لیویز فورس اور ہائی وے پولیس موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال سبی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ سول ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں کوئٹہ ریفر کیا جا سکتا ہے۔

    اس حادثے میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں امداد علی ولد غوث بخش (ٹھل سے کوئٹہ جانے والا)، نظام الدین ولد غلام سرور (کشمور کے علاقے تنگوانی کا رہائشی) شامل ہیں جبکہ دو دیگر جاں بحق افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ تنگوانی میں جب نظام الدین کی ہلاکت کی خبر پہنچی تو گھر میں کہرام مچ گیا، والدین پر غشی کے دورے پڑے اور اہلِ محلہ سوگ میں ڈوب گئے۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے 28 مسافروں کا تعلق سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔ صادق آباد سے خیر احمد، عبداللہ اور امتیاز زخمی ہوئے. ٹھل سے شیر احمد، گل میر، غلام مصطفی، گلزار، نیاز احمد، غفار، خادم حسین، انور، ابوبکر اور منیر شامل ہیں. کندھ کوٹ سے سلیمان، کشمور سے یاسر، سکھر سے نعمان، گمبٹ سے محمد عامر اور عنایت اللہ، رحیم یار خان سے روحیل، محمد عارف اور ماجد جبکہ علی آباد سے ثناء اللہ، سجاد علی، حبیب خان، گنج بخش، انور اور محمد اکرم زخمی ہوئے۔ ایک مسافر مینگل ولد عمر دین کا علاقہ درج نہیں ہو سکا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ لیویز فورس بالاناڑی اس حادثے کی تمام تفصیلات جمع کر رہی ہے اور قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ مقامی حکام نے ڈرائیور کی غفلت کو ابتدائی وجہ قرار دیا ہے، تاہم کوچ کی فٹنس، کمپنی کی نگرانی اور ممکنہ تکنیکی خرابی کے پہلوؤں پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

    حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے فوری مالی امداد، زخمیوں کے بہتر علاج اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہری حلقوں نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مسافر کوچز کی ناقص نگرانی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں، جن پر حکومت اور متعلقہ ادارے فوری توجہ دیں۔

    یہ حادثہ ایک بار پھر بین الصوبائی شاہراہوں پر جاری ٹریفک نظم و ضبط کی بدترین صورتحال، غیر ذمہ دار ڈرائیونگ اور سڑکوں کی حالتِ زار کو عیاں کرتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے سانحات روز کا معمول بن جائیں گے اور معصوم جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔

  • تنگوانی: کرم پور کے قریب ڈاکوؤں نے پٹرول فروش کو لوٹ لیا، کاروکاری تنازع پر دو افراد زخمی

    تنگوانی: کرم پور کے قریب ڈاکوؤں نے پٹرول فروش کو لوٹ لیا، کاروکاری تنازع پر دو افراد زخمی

    تنگوانی (نامہ نگار منصور بلوچ) کرم پور کے نزدیک ڈاکوؤں نے ایک پٹرول فروش سے لوٹ مار کی، جبکہ تنگوانی کے قریب کاروکاری کے پرانے تنازع پر ہونے والے جھگڑے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔

    تنگوانی کے قریب پولیس تھانے کی حدود میں ہائی وے روڈ، شکارپور کندہ کوٹ روڈ پر واقع بیگاری پل پر ایک لوکل پٹرول بیچنے والے نوجوان رمضان بجارانی سے ڈاکوؤں نے چار بھری ہوئی پٹرول کی بوتلیں اور 1500 روپے نقدی چھین لی اور باآسانی فرار ہو گئے۔ یہ واقعہ علاقے میں بڑھتی ہوئی لوٹ مار کی وارداتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

    دوسری جانب تنگوانی کے قریب نظر واہ گاؤں ساجد خان بنگلانی میں بنگلانی قبیلے کے دو فریقین کے درمیان کاروکاری کے پرانے تنازع پر جھگڑا ہو گیا۔ جھگڑے میں لاٹھیوں اور کلہاڑیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں بنگلانی برادری کے دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ علاقے میں خاندانی تنازعات کے دیرینہ مسائل اور ان کے پرتشدد نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔

  • تنگوانی: بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    تنگوانی: بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    تنگوانی (نامہ نگار منصور بلوچ)بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    : تنگوانی کے قریب گاؤں ملوک ڈاہانی میں ایک بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ گاؤں والوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور بندر کو ہلاک کر دیا۔

    خبر کے مطابق گاؤں ملوک ڈاہانی میں ایک بندر نے اچانک بستی کے رہائشی عبدالجبار ڈاہانی پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ گاؤں کے افراد نے فوری طور پر جمع ہو کر زخمی شخص کو بچانے کی کوشش کی اور مشترکہ طور پر حملہ آور بندر کو ہلاک کر دیا۔

    یہ واقعہ علاقے میں جنگلی جانوروں کے انسانی آبادی میں داخل ہونے اور حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔

  • تنگوانی: ہائی وے پر دن دہاڑے ڈکیتی، پولیس ‘تماشہ دیکھتی رہی،عوام کا شدید احتجاج

    تنگوانی: ہائی وے پر دن دہاڑے ڈکیتی، پولیس ‘تماشہ دیکھتی رہی،عوام کا شدید احتجاج

    تنگوانی، (نامہ نگار منصور بلوچ): کراچی سے تنگوانی آنے والی ایک مسافر کوچ کو تنگوانی نہر کے قریب ہائی وے روڈ پر ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت قریبی گشتی پولیس موبائل موجود تھی لیکن انہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے۔ اس واقعے پر مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی، جبکہ لوٹا ہوا سامان واپس دلوانے کا مطالبہ کیا۔

    تنگوانی نہر کے پاس ہائی وے روڈ پر ڈاکوؤں نے مسافر کوچ کو روکا اور لوٹ مار شروع کر دی۔ ڈاکوؤں نے مسافروں، جن میں مرد، عورتیں، بزرگ اور بچے شامل تھے، سے زیورات، نقدی، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا۔ لوٹا ہوا سامان انہوں نے اپنی ریڑھی پر رکھا اور بلا کسی مزاحمت کے فرار ہو گئے۔

    اس واقعے کے بعد پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی گشتی موبائل جائے وقوعہ کے قریب ہی موجود تھی لیکن ڈاکوؤں کو روکنے یا ان کا پیچھا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پولیس کی جانب سے مکمل خاموشی دیکھنے میں آئی، جس پر مسافروں اور مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    ڈکیتی کا شکار ہونے والے مسافروں نے روڈ بلاک کر کے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے پولیس کی غیر ذمہ داری کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ان کا لوٹا ہوا سامان فوری طور پر واپس دلوایا جائے اور ڈاکوؤں کو گرفتار کیا جائے۔ یہ واقعہ تنگوانی میں بڑھتے ہوئے جرائم اور پولیس کی مبینہ لاپرواہی کو نمایاں کرتا ہے۔

  • حافظ آباد: اوور اسپیڈنگ کے خلاف ٹریفک پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے کارروائیاں جاری

    حافظ آباد: اوور اسپیڈنگ کے خلاف ٹریفک پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے کارروائیاں جاری

    حافظ آباد(باغی ٹی وی،خبرنگارشمائلہ) اوور اسپیڈنگ کے خلاف ٹریفک پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے کارروائیاں جاری

    حافظ آباد میں وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن پر عمل درآمد کرتے ہوئے، حافظ آباد ٹریفک پولیس نے اوور اسپیڈنگ کے خلاف جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیمروں کے ذریعے بھرپور اور مؤثر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ اقدامات شہریوں کی قیمتی جانوں کے تحفظ، حادثات کی روک تھام اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حافظ آباد، عاطف نذیر کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ہائی ویز سمیت تمام اہم شاہراہوں پر اوور اسپیڈنگ کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ ٹریفک پولیس جدید کیمروں کے ذریعے گاڑیوں کی رفتار کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور مقررہ حد سے تجاوز کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف فوری چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف قانون شکنی کی روک تھام ہے بلکہ شہریوں میں ٹریفک قوانین کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور سڑکوں کو محفوظ بنانا بھی ہے۔

    ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر نے اپنے بیان میں کہا کہ "اوور اسپیڈنگ ایک سنگین جرم ہے جو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے رفتار کی حد کا احترام کریں، ٹریفک قوانین پر عمل کریں، اور اپنے ساتھ دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔

  • تنگوانی: پولیس موبائل پر ڈاکوؤں کا حملہ، ایک اہلکار اور ایک ڈاکو زخمی

    تنگوانی: پولیس موبائل پر ڈاکوؤں کا حملہ، ایک اہلکار اور ایک ڈاکو زخمی

    تنگوانی،(باغی ٹی وی،نامہ نگار منصور بلوچ) تنگوانی کے قریب پولیس موبائل پر ڈاکوؤں کے حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار نورخان جکرانی زخمی ہو گیا جبکہ جوابی کارروائی میں ایک بدنام زمانہ ڈاکو منظور بھلکانی عرف منو بھلکانی زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق تنگوانی کے قریب پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی کہ جمال تھانے کی حدود میں ڈکیتی کی نیت سے کھڑے ڈاکوؤں نے پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار نورخان جکرانی شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دو ڈاکو زخمی ہوئے جن میں سے بدنام زمانہ ڈاکو منظور بھلکانی عرف منو بھلکانی کو پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ اس کا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    زخمی پولیس اہلکار اور زخمی ڈاکو کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور ڈاکوؤں کے ٹھکانوں اور رہائش گاہوں کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

  • گوجرانوالہ: قومی کرکٹر حسن علی کی والدہ سے ڈکیتی، ڈاکو دو لاکھ تیس ہزار لے کر فرار

    گوجرانوالہ: قومی کرکٹر حسن علی کی والدہ سے ڈکیتی، ڈاکو دو لاکھ تیس ہزار لے کر فرار

    گوجرانوالہ(باغی ٹی وی،نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی) قومی کرکٹر حسن علی کی والدہ سے ڈکیتی، ڈاکو دو لاکھ تیس ہزار لے کر فرار

    گوجرانوالہ میں جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے معروف فاسٹ بولر حسن علی کی والدہ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ واردات اُس وقت پیش آئی جب حسن علی کی والدہ روزمرہ خریداری کے لیے بازار جا رہی تھیں۔

    قومی کرکٹر کے بھائی خرم علی کے مطابق اُن کی والدہ جیسے ہی اپنے گھر سے بازار کی طرف روانہ ہوئیں تو موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم ملزمان نے اُن کا تعاقب کیا۔ راستے میں موقع پاکر ملزمان نے زبردستی ان کا پرس چھین لیا جس میں نقدی کی صورت میں تقریباً دو لاکھ تیس ہزار روپے موجود تھے۔ واردات کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس فوری طور پر متحرک ہوئی اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر ابتدائی شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس حکام کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دوسری جانب واقعے نے سیکیورٹی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر جب معروف شخصیات کے اہلِ خانہ بھی جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر آ رہے ہیں۔

    حسن علی اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے واقعے پر تاحال کسی قسم کا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم قریبی ذرائع کے مطابق اہل خانہ واقعے پر شدید پریشان ہیں اور فوری انصاف کی امید رکھتے ہیں۔

  • میرپورماتھیلو: دشمنی پر قتل، ملزمان کے گھر مسمار و نذر آتش

    میرپورماتھیلو: دشمنی پر قتل، ملزمان کے گھر مسمار و نذر آتش

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری) دشمنی پر نوجوان کے قتل میں ملوث ملزمان کے گھروں پر پولیس کا بڑا ایکشن، گھر مسمار و نذر آتش

    گھوٹکی پولیس نے ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ گزشتہ روز سب ڈویژن میرپور ماتھیلو پولیس نے ڈی ایس پی محمد یونس کی قیادت میں تھانہ خانپور مھر کی حدود سوہانجھڑو میں قتل کیس میں ملوث ملزمان کے خلاف بڑا ایکشن لیا۔

    کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری نے اے پی سی چین کے ساتھ ملزمان شاہی بوزدار، ہولی بوزدار اور دیگر کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے گھروں کو سخت کارروائی کے بعد مسمار کر کے نذر آتش کر دیا گیا۔ تاہم، ملزمان پولیس کے پہنچنے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    یاد رہے کہ ایک روز قبل شاہی بوزدار، ہولی بوزدار و دیگر نے پرانی دشمنی کی بناء پر نوجوان وقار بوزدار ولد اٹکل، عمر تقریباً 22/23 سال کو قتل کر دیا تھا۔

    گھوٹکی پولیس کے ترجمان کے مطابق قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے اور جلد تمام عناصر کو قانون کے شکنجے میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔