Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • سیالکوٹ: کرنٹ لگنے سے خاتون کی موت، پسرور روڈ پر حادثہ 4زخمی

    سیالکوٹ: کرنٹ لگنے سے خاتون کی موت، پسرور روڈ پر حادثہ 4زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ میں آج دو مختلف افسوسناک واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں ایک خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی جبکہ ایک کار اور رکشہ کے تصادم میں چار افراد زخمی ہو گئے۔

    پہلا واقعہ تھانہ قلعہ کالروالہ کے علاقہ نور پور سائیفن کے قریب پیش آیا، جہاں 30 سالہ حنا اپنے گھر کے باہر گلی میں جھاڑو دے رہی تھیں۔ اس دوران گلی میں گری ہوئی بجلی کی ایک ننگی تار پر ان کا پاؤں آ گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے ضروری قانونی کارروائی کے بعد متوفیہ کی نعش ورثاء کے حوالے کر دی۔

    دوسرا حادثہ پسرور سے چونڈہ روڈ پر پنج پیر کے قریب پیش آیا، جہاں ایک کار اور رکشہ آپس میں ٹکرا گئے۔ اطلاعات کے مطابق کار پسرور سے چونڈہ کی جانب جا رہی تھی جبکہ رکشہ مخالف سمت سے آ رہا تھا۔ تیز رفتاری کے باعث کار کا ڈرائیور نامعلوم گاڑی کو اوورٹیک کرتے ہوئے اپنے قابو سے باہر ہو گیا اور رکشہ سے جا ٹکرایا۔

    اس تصادم کے نتیجے میں رکشہ میں سوار 46 سالہ شبانہ اور 50 سالہ امتیاز شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں پسرور کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا۔ جبکہ کار میں سوار 30 سالہ یسین اور ایک 50 سالہ نامعلوم شخص بھی زخمی ہوئے، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد بہتر علاج کے لیے علامہ اقبال ہسپتال سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

  • سیالکوٹ: اغوا کار خاتون سمیت 2 اشتہاری کویت سے گرفتار، 4 سالہ بچی بازیاب

    سیالکوٹ: اغوا کار خاتون سمیت 2 اشتہاری کویت سے گرفتار، 4 سالہ بچی بازیاب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ پولیس نے انٹرپول کی مدد سے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کمسن بچی کے اغوا میں مطلوب خاتون سمیت دو اشتہاری ملزمان کو بیرون ملک کویت سے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مغویہ 4 سالہ بچی کو بھی بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

    ترجمان پولیس کے مطابق تھانہ کینٹ میں درج مقدمہ کے تحت 4 سالہ بچی زونیرہ فاطمہ کو سال 2023 میں سیالکوٹ سے اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کے بعد ملزمان بچی کو لے کر بیرون ملک کویت فرار ہو گئے تھے۔

    پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اور انٹرپول سے رابطہ کر کے اغوا اور جعلسازی کے سنگین مقدمات میں مطلوب خاتون صدف انور سمیت دو ملزمان انوار اقبال کو کویت میں ٹریس کر کے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مغویہ کمسن بچی زونیرہ فاطمہ کو بھی ملزمان کے قبضے سے بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔

    گرفتار ملزمان کو اب پاکستان منتقل کرنے کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔ پولیس حکام نے اس اہم کامیابی پر اپنی ٹیم اور انٹرپول کے تعاون کو سراہا ہے اور یقین دلایا ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ بچی کی بازیابی پر اس کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے پولیس کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

  • دوستی  سےانکارکیوں کیا؟  امیرزادے نے گریجویشن کی طالبہ کواغواء کرلیا

    دوستی سےانکارکیوں کیا؟ امیرزادے نے گریجویشن کی طالبہ کواغواء کرلیا

    لاہور: دوستی سےانکارکیوں کیا؟ امیرزادے نے گریجویشن کی طالبہ کواغواء کرلیا-

    باغی ٹی وی: پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نےطالبہ کو گن پوائنٹ پریرغمال بنایا اورمقبرہ جہانگیر کےاحاطہ میں لےگیا متاثرہ طالبہ کو اسلحے کے زورپر ہراسا ں کرتارہا، لڑکی نے گاڑی سے بھاگ کرجان بچائی ، شورمچنے پرملزم مقبرہ جہانگیرکےاحاطہ سے فرارہوگیا، ملزم کی شناخت کرلی گئی-

    پولیس کا کہنا ہے کہ شاہدرہ ٹاؤن پولیس نےملزم کےخلاف سنگین دفعات کےتحت مقدمہ درج کرلیا، مقبرہ جہانگیرکےاحاطہ میں پرائیو یٹ گاڑی کاداخلہ ممنوع ہوتا ہے،ملزم کی گاڑی مقبرہ جہانگیرکےاحاطہ میں داخل کرنےپرعملے سےتفتیش جاری ہے،واردات میں ملوث ملزم ریکارڈ یافتہ ہے، تعلق سیاسی گھرانے سےہے-

    وفاقی حکومت کا رواں سال گندم کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ

    مالی سال 2025-26 بجٹ: کھانے پینے کی متعدد اشیا مہنگی ہونے کا امکان

    چراٹ میں تیسری پاک – مراکش مشترکہ دو طرفہ فوجی مشق 2025کا انعقاد، سپیشل فورسز کی شرکت

  • گوجر خان: ولیمے کا کھانا زہر  بن گیا، 150 افراد ہسپتال منتقل، ایمرجنسی نافذ

    گوجر خان: ولیمے کا کھانا زہر بن گیا، 150 افراد ہسپتال منتقل، ایمرجنسی نافذ

    گوجر خان،باغی ٹی وی( نامہ نگار شیخ ساجد قیوم) گوجر خان کے تھانہ جاتلی کے علاقے ڈھونگ میں پیر کے روز ایک دعوتِ ولیمہ میں مضر صحت کھانا کھانے سے تقریباً 150 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔ متاثرین کو فوری طور پر ڈھونگ کے بنیادی مرکز صحت اور دولتالہ کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق دولتالہ کے نواحی علاقے ڈھونگ میں ولیمے کے دوران کھانے میں مبینہ طور پر فوڈ پوائزننگ ہوئی، جس کے باعث بڑی تعداد میں افراد متلی، قے اور دست جیسی علامات کے ساتھ اسپتال پہنچے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور اضافی طبی عملہ طلب کر لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق، ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ گوجر خان سے ایمبولینسز اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی فوری طور پر متاثرہ علاقے روانہ کر دی گئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ڈی ایچ او) موقع پر پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیا۔

    متاثرہ افراد اور ان کے لواحقین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ علاقے کے دیگر مکین بھی خوف و اضطراب کا شکار ہیں۔ محکمہ صحت نے کھانے کے نمونے حاصل کر کے تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں تاکہ اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

    ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مضر صحت کھانا فراہم کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • سمگلنگ ناکام ،11ہزارسے زائد شراب کی بوتلیں برآمد، 2ملزمان گرفتار

    سمگلنگ ناکام ،11ہزارسے زائد شراب کی بوتلیں برآمد، 2ملزمان گرفتار

    کراچی پولیس نے خفیہ اطلاع پرکارروائی کرتے ہوئے بیئر سمگلنگ کی کوشش کوناکام بناتے ہوئے 2مبینہ ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے ٹرک سے بھاری مقدار میں بیئربرآمد کرلی جس کی کل مالیت تقریبا ایک کروڑروپے بنتی ہے۔

    ترجمان ایس ایس پی ملیرکے مطابق تھانہ ائیر پورٹ کی حدود میں واقعہ پیش آیا، گرفتار ملزمان میں شاکرعلی ولد طالب حسین اورعبدالشکور ولد عبدالغفورشامل ہیں۔ائیر پورٹ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے ٹرک نمبرJY-2031 سمیت 570سے زائد کارٹن میں 11ہزار400بوتلیں بیئربرآمد کر کے سمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک توڑ دیاہے۔گرفتارملزمان بیئرکوخفیہ طور پر ٹرک میں چھپا کر شہر کے مختلف علاقوں میں سپلائی کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کو گرفتار کرلیا گیا ۔پولیس نے گرفتارملزمان سے تفتیش کا آغاز کردیاہے۔

    کراچی میں حادثات رک نہ سکے،تیزرفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک جاں بحق، 1 زخمی

    پی ایس ایل10 میں اسٹیڈیم کی خالی نشستوں نے سوال اٹھادیے

    سابق برطانوی وزیر اور شیخ حسینہ کی بھانجی ٹیولپ صدیق کے وارنٹ گرفتاری جاری

    پی ایس ایل 10: لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دیدی

    پی ایس ایل 10: لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دیدی

  • ڈیرہ غازی خان: قبائلی عوام کا خوارجی دہشت گردوں کے خلاف اعلانِ جنگ، مقامی لشکر تشکیل

    ڈیرہ غازی خان: قبائلی عوام کا خوارجی دہشت گردوں کے خلاف اعلانِ جنگ، مقامی لشکر تشکیل

    ڈیرہ غازی خان (خصوصی رپورٹ): پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحدی قبائلی علاقوں میں خوارجی دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف مقامی قبائل نے اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ قبائلی عمائدین نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے۔

    اس عزم کا اظہار باجھہ کے قبائلی علاقے میں منعقدہ ایک بڑے جرگے کے دوران کیا گیا، جس میں علاقے کے درجنوں معتبر عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مقامی عوام اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقوں کی حفاظت کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک منظم حکمت عملی کے تحت 50 افراد پر مشتمل ایک مقامی لشکر دن کے وقت گشت کرے گا جبکہ مزید 50 افراد رات کے اوقات میں پہرہ دیں گے تاکہ کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کو فوری طور پر روکا جا سکے۔

    جرگے کے شرکاء نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوارجی دہشت گرد گروہ علاقے میں بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہو چکے ہیں، جس سے عوام میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔ عمائدین نے اعلان کیا کہ یہ لشکر نہ صرف دفاعی کردار ادا کرے گا بلکہ دہشت گردوں کے خلاف منظم مزاحمت بھی کرے گا۔

    علاقہ باجھہ کو اس کی حساس جغرافیائی حیثیت کے باعث خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان ایک اہم سرحدی پٹی پر واقع ہے۔ یہاں دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور سرگرمیاں پورے خطے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

    وہوا اور بستی باجھہ کے عوام نے ایک بڑے اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور دشمنوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنی سرحدی حدود کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ عوام نے حلفاً اعلان کیا کہ وہ اپنے علاقے کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے اور کسی بھی دہشت گرد کو داخلے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    یہ اتحاد اس وقت مزید مضبوط ہوا جب مٹھوان کے نوجوانوں کا ایک بڑا قافلہ اپنے بزرگوں کی قیادت میں مٹھوان سے باجھہ روانہ ہوا۔ اس قافلے نے باجھہ کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے دعائیں کیں اور عملی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    علاقائی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کچھ دہشت گرد مسلح ہو کر بستی باجھہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جن کا مقصد مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم بستی کے بہادر عوام نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ عوام کے حوصلوں کو مزید بلند کرنے کا باعث بنا ہے اور ان کے عزم کو نئی تقویت ملی ہے۔

    قبائلی عمائدین اور عوام نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور مقامی عوام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

    یہ عوامی ردعمل اس بات کی واضح علامت ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے سرحدی قبائل دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد، پرعزم اور مکمل طور پر متحرک ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ اقدام نہ صرف مقامی امن کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس عوامی جذبے کو کس طرح جواب دیتی ہے اور آیا ریاستی ادارے قبائلی عوام کے اس بے مثال عزم کا ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔

  • اسکول پرنسپل کی 9 سالہ طالبہ سے زیادتی کی کوشش، مقدمہ درج

    اسکول پرنسپل کی 9 سالہ طالبہ سے زیادتی کی کوشش، مقدمہ درج

    جنوبی پنجاب کے شہر کوٹ ادو میں ایک نجی اسکول کے پرنسپل کی زیادتی کی مبینہ کوشش کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق اسکول پرنسپل نے چوتھی جماعت کی 9 سالہ طالبہ کو دفتر میں بلا کر اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔میٍڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دین پناہ جینڈر کرائمز سرکل کی انچارج سب انسپکٹر سعیدہ خالق نے بتایا کہ طالبہ کی والدہ کی درخواست پر اسکول پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (iii) کم عمر یا ذہنی، جسمانی معذوری کا شکار فرد کے ساتھ زیادتی اور دفعہ 511 (جرم کی کوشش پر سزا) کے تحت درج کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ ، پنجاب پولیس نے فیصل آباد کے علاقے چک 437 جی بی، سمندری میں 16 سالہ لڑکی کو اغوا کے بعد مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 4 میں سے 3 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔دوسری جانب غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ملک بھر سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کل 1630 واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 862 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، 668 اغوا، 82 بچوں کے لاپتا ہونے اور 18 کم عمری کی شادیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ جنسی زیادتی کے بعد فحش مواد بنانے کے 48 کیسز بھی ریکارڈ کیے گئے۔

    عبادت کے لیے جانے والوں پر روسی میزائل حملہ،32 افراد جاں بحق

    ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی اگلے ہفتے سے شروع

    پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین زندگی کے دشمن ہیں، مصطفی کمال

    اسرائیلی محاصرہ، غزہ کے 60 ہزار بچے فاقہ کشی کا شکار، یو این کا تشویش کا اظہار

  • اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف اور اس کے گرد و نواح میں آج دو افسوسناک واقعات پیش آئے، جس سے علاقے میں غم و اندوہ کی فضا چھا گئی۔ ایک طرف تیز رفتار کاروں کی ریس نے ایک نوجوان کی قیمتی جان لے لی تو دوسری جانب غفلت کے باعث گندم کا ایک بڑا کھیت آتشزدگی کا شکار ہو گیا۔

    پہلا دلخراش واقعہ اوچ شریف میں پیش آیا جہاں ریش لگاتی دو تیز رفتار کاروں کی زد میں آ کر اوچ موغلہ کا رہائشی نوجوان محمد ذیشان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی جو مرکزی الشمس چوک میں واقع مغل موبائل شاپ پر ملازمت کرتا تھا، شام کے وقت ڈیوٹی سے فارغ ہو کر پیدل اپنے گھر جا رہا تھا کہ اچانک دو بے قابو کاریں اس سے ٹکرا گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں کاریں آپس میں ریس لگا رہی تھیں اور ان کی رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ محمد ذیشان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں لیکن تب تک محمد ذیشان کی زندگی کی ڈور ٹوٹ چکی تھی۔ موقع پر موجود ہر شخص غمزدہ تھا اور پورے علاقے میں سوگ کی فضا تھی۔ مرحوم کی نماز جنازہ اوچ موغلہ کے استانہ کافی والا گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں اہل علاقہ، عزیز و اقارب اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور گاڑیوں کا سراغ لگانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہیں۔

    اسی دوران اوچ شریف کے نواحی علاقے اڈا سلطان واہ، اوچ شریف روڈ پر ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گندم کے کھیت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ تیز ہواؤں کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری کھڑی فصل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو 1122 بہاولپور کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی ایک فائر وہیکل اور ایمبولینس فوری طور پر روانہ کی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مقامی افراد نے گندم کی کٹائی کے بعد کھیت میں بچ جانے والی فصل کی باقیات کو آگ لگا دی تھی۔ تیز ہوا کے باعث شعلے بے قابو ہو کر قریبی کھڑی فصل تک پہنچ گئے، جس سے صورتحال خطرناک ہو گئی۔ تاہم ریسکیو ٹیم نے بروقت پہنچ کر پیشہ ورانہ مہارت سے آگ پر قابو پا لیا اور اسے مزید پھیلنے سے روک دیا۔ ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فصل کی باقیات کو آگ لگانے جیسی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے پرہیز کریں، جو نہ صرف خطرناک بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ ان دو المناک واقعات نے اوچ شریف کے علاقے میں گہرے غم اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

    ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایک ہولناک واقعے نے انسانیت کو شرما سار کر دیا، جہاں ضلع بہاولپور اور احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والے آٹھ غریب محنت کشوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ دلخراش سانحہ ایرانی شہر مہرستان کے نواحی گاؤں "ہیزآباد پایین” میں پیش آیا، جو پاک ایران سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ تمام مزدور ایک چھوٹی سی آٹو ورکشاپ پر اپنی روزی روٹی کے لیے کام کر رہے تھے، جب سفاک حملہ آوروں نے ان پر اچانک دھاوا بول دیا۔ نہتے اور بے گناہ مزدوروں کو پہلے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انتہائی قریب سے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

    اس سفاکانہ حملے میں شہید ہونے والے بدقسمت افراد کی شناخت درج ذیل ہے:

    1. دلشاد ولد جندوڈا قوم سیال، گلی نمبر 8، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    2. دانش ولد دلشاد قوم سیال، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    3. جعفر ولد محمد رمضان قوم سیال، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    4. ناصر ولد محمد قوم کھیڑا، موضع رنگ پور
    5. نعیم ولد غلام فرید قوم ساندھی، محلہ سردار آباد، خانقاہ شریف
    6. عامر ولد محمد لیاقت قوم ساندھی، محلہ سردار آباد، خانقاہ شریف
    7. محمد خالد قوم بھٹی، سکنہ مہراب والا، احمد پور شرقیہ
    8. محمد جمشید ولد محمد صادق قوم آرائیں، چکی موڑ، احمد پور شرقیہ

    اس المناک خبر کے بہاولپور، سمہ سٹہ، خانقاہ شریف اور احمد پور شرقیہ پہنچتے ہی ہر طرف کہرام مچ گیا۔ شہداء کے گھروں میں قیامت کا منظر ہے، جہاں بوڑھے والدین، بے سہارا بیوائیں اور معصوم یتیم بچوں کی دلدوز سسکیاں فضا کو سوگوار بنا رہی ہیں۔ غم سے نڈھال رشتہ داروں نے اپنی فریاد میں کہا، "ہمارے جگر گوشے دو وقت کی روٹی کمانے پردیس گئے تھے، مگر اب ان کی بے جان لاشیں واپس آ رہی ہیں. آخر ان کا کیا قصور تھا؟”

    غم و اندوہ کی اس گھڑی میں مقامی تاجروں نے از خود اپنے کاروبار بند کر دیے ہیں اور مساجد میں شہداء کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعاؤں اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے اس وحشیانہ واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایرانی حکام سے رابطہ کر کے ان سفاک قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    اہل علاقہ اور سوگوار خاندانوں نے حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہداء کے جسد خاکی جلد از جلد وطن واپس لائے جا سکیں اور انہیں انصاف مل سکے۔ اس المناک سانحے نے پورے علاقے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سیستان بلوچستان کے ضلع مہرستان میں آٹھ پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری کا دعویٰ ایک غیر معروف تنظیم کالعدم بی این اے یعنی بلوچ نیشنلسٹ آرمی کی جانب سے کیا گیا ہے۔

    سرکاری سطح پر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم ایران کے کسی علاقے سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے حوالے اس تنظیم کی ذمہ داری قبول کرنے کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔

    تاہم بلوچستان میں ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے بعض واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنظیم کے نام سے آخری مرتبہ تشدد کے کسی بڑے واقعے کے حوالے سے ذمہ داری قبول کرنے کا جو دعویٰ سامنے آیا تھا وہ پاکستان کے شہر لاہور کے گنجان آباد اور مصروف انارکلی بازار میں جنوری 2022 میں دھماکے کا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے تھے۔

  • 19 سالہ لڑکی سے 6 دن تک 23 افراد کی اجتماعی زیادتی

    19 سالہ لڑکی سے 6 دن تک 23 افراد کی اجتماعی زیادتی

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ایک 19 سالہ لڑکی کو 23 افراد نے 6 دن تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق وارانسی کے علاقے لال پور کی رہائشی 19 سالہ لڑکی 29 مارچ کو ایک دوست سے ملنے گئی تھی جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہوگئی تھی،گھر والوں نے 4 اپریل کو پولیس میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی اسی دن لڑکی کو پنڈے پور چوراہے پر بدترین حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا،متاثرہ لڑکی کسی طرح قریبی دوست کے گھر پہنچی جہاں سے اسے گھر پہنچایا گیا، بعد ازاں اس نے اپنی والدہ کو پورے واقعے سے آگاہ کیا جس پر پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔

    لڑکی کے بیان کےمطابق اس کیساتھ حقہ بار، ہوٹل، لاج اور گیسٹ ہاؤس میں 6 دن تک 23 مختلف لوگوں نے نشہ دے کر اجتما عی زیادتی کی۔ پولیس نے اس کیس میں 23 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

    سلمان خان کے بارے ماہرین نجوم کی چونکا دینے والی پیشگوئیوں سے مداح تشویش میں مبتلا

    وارانسی پولیس کے سینئر افسر چندرکانت مینا نے بتایا کہ ابتدائی طور پر نہ تو متاثرہ لڑکی اور نہ ہی اس کے گھر والوں نے جنسی زیادتی کی شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اجتماعی زیادتی کی شکایت 6 اپریل کو درج کی گئی‘‘۔

    اپنے پارلیمانی حلقے وارانسی پہنچنے پر وزیراعظم نریندر مودی نے پولیس کو واقعے کے ملزمان کے خلاف ’’فوری اور سخت کارروائی‘‘ کا حکم دیا ہے، یوپی حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے واقعے کے مجرموں کے خلاف سخت ترین کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

    نوشہرہ میں ایکسائز اہلکاروں پر حملہ، زخمی سب انسپکٹر کے بیان میں اہم انکشافات

    اس کیس میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کے تحت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں اجتماعی زیادتی، عورت کی عصمت دری کی کوشش، زہر دے کر نقصان پہنچانے کی کوشش، غلط طور پر روکے رکھنا اور مجرمانہ دھمکیاں شامل ہیں۔

    وارانسی کے کمشنر آف پولیس موہت اگروال نے بتایا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور اب تک 12 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ باقی 11 نامعلوم مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کےلیے چھاپے جاری ہیں۔

    گرل فرینڈ کو سوٹ کیس میں چھپاکر بوائز ہوسٹل لانے کی کوشش، طالبعلم رنگے ہاتھوں پکڑا گیا