Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈیرہ غازی خان سے راولپنڈی جانیوالی بس کو حادثہ، آگ سے ڈرائیور جاں بحق، 10 زخمی

    ڈیرہ غازی خان سے راولپنڈی جانیوالی بس کو حادثہ، آگ سے ڈرائیور جاں بحق، 10 زخمی

    گوجرہ (نامہ نگار عبدالرحمن جٹ)موٹروے ایم فور پر گوجرہ کے قریب ایک المناک حادثہ پیش آیا، جہاں گاڑیوں کے تصادم کے بعد آگ لگنے سے ایک ڈرائیور جھلس کر جاں بحق ہو گیا اور دس مسافر شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کے نتیجے میں دونوں گاڑیاں جل کر مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

    اطلاعات کے مطابق بس نمبر 4174 سی اے سی، جس کا ڈرائیور اصغر علی سکنہ خوشاب تھا اور وہ ڈیرہ غازی خان سے 41 مسافروں کو لے کر موٹروے ایم فور کے ذریعے راولپنڈی جا رہی تھی علاقہ نواں لاہور میں موٹروے ایم فور پر انٹرچینج چراغ آباد کے قریب ایک زرعی ادویات سے لدے ہوئے مزدا ڈالے سے ٹکرا گئی۔ تصادم کے نتیجے میں مزدا الٹ گیا اور فوری طور پر دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

    آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے دونوں گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث بس کا ڈرائیور اصغر علی بری طرح جھلس گیا۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ بس میں سوار دس مسافر جن میں ثناء فاطمہ، مغیث الرحمن، محمد اشفاق، تحریم بی بی، راشدہ بی بی، اطہر حسین، ابو بکر اور دیگر خواتین و حضرات شامل ہیں، شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرہ منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بس میں سوار دیگر مسافروں نے اپنی مدد آپ کے تحت گاڑی سے نکل کر اپنی جانیں بچائیں۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی فائر برگیڈ کی گاڑیاں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں، تاہم اس وقت تک دونوں گاڑیاں جل کر خاکستر ہو چکی تھیں۔ مزدا ڈالے کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی گوجرہ اشرف تبسم اور موٹروے پولیس کے دیگر افسران اور نواں لاہور پولیس کی نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ پولیس حکام واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • ڈیرہ غازیخان: خوشحال ایکسپریس کی بحالی اور ریلوے میں کرپشن کا سونامی

    ڈیرہ غازیخان: خوشحال ایکسپریس کی بحالی اور ریلوے میں کرپشن کا سونامی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی ،خصوصی رپورٹ) ڈیرہ غازیخان اور گرد و نواح کے باسیوں کے لیے ایک طویل انتظار بالآخر خوشی میں بدل گیا ہے کیونکہ خوشحال خان خٹک ایکسپریس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم ٹرین چلتن ایکسپریس کی بحالی کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ 2010 سے بند پڑی ہوئی یہ عوام دوست ٹرین تونسہ، شادن لنڈ اور ڈیرہ غازیخان کے عوام کے لیے نہ صرف سفری سہولتوں میں ایک بڑا اضافہ ثابت ہوگی بلکہ خطے کی معاشی و سماجی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اس پیش رفت سے پاکستان ریلوے کو بھی ایک منافع بخش ادارہ بنانے کی جانب ایک مضبوط قدم اٹھانے کا موقع ملے گا۔

    تاہم اس خوشی کے ماحول میں ایک تشویشناک پہلو بھی سر اٹھا رہا ہے۔ ریلوے اسٹیشن کی بحالی اور تزئین و آرائش کے نام پر ہونے والے مبینہ ناقص کام اور اس کے ساتھ ہی ریلوے کے اندر موجود کرپشن کے ایک وسیع نیٹ ورک کے انکشافات نے اس مثبت خبر کی چمک کو مدھم کر دیا ہے۔ ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جہاں ایک طرف ان اہم ٹرینوں کی بحالی سے مسافروں میں جوش و خروش پایا جاتا ہے وہیں دوسری جانب ریلوے کے بدعنوان عناصر کے سائے اس خوشی کو گہنا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشحال خان خٹک ایکسپریس اور چلتن ایکسپریس کی کامیابی کا براہ راست تعلق ریلوے میں موجود کرپشن کے خاتمے سے ہے۔ ماضی میں مبینہ بدعنوانی کے باعث ہی ان جیسی اہم ٹرینوں کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر انہیں بند کرنا پڑا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ان بحال ہونے والی ٹرینوں میں مسافروں کی ضروریات کے مطابق مناسب تعداد میں بوگیاں شامل کی جائیں۔ اگر ماضی کی طرح صرف چند بوگیوں کے ساتھ ان ٹرینوں کو چلایا گیا تو اخراجات آمدنی سے تجاوز کر سکتے ہیں اور قومی خزانے کو ایک بار پھر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریلوے کے اندر کرپشن کا ایک منظم نظام کام کر رہا ہے، جس میں اسٹیشن عملہ اور ریلوے پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے مسافروں سے غیر قانونی وصولیاں کی جاتی ہیں۔ یہ صورتحال ویجیلینس ایجنسی کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے کہ ماضی میں اس سنگین بدعنوانی کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔

    مزید انکشافات کے مطابق ڈیرہ غازیخان سے ملحقہ بند ریلوے اسٹیشنوں پر گزشتہ کئی سالوں سے کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف ہیڈ آفس میں انکوائریاں جاری ہیں۔ ان میں سے مبینہ طور پر اہم کردار انسپکٹر آف ورکس (IOW) رانا مبشر کا بتایا جاتا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے معاملات طے کر لیے ہیں اور انہیں جلد ہی کلین چٹ ملنے کی توقع ہے۔

    ڈیرہ غازیخان ریلوے جنکشن گزشتہ 6 سال سے اعلیٰ افسران کی عدم موجودگی کے باعث بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے۔ اسٹیشن پر عملے اور افسران کی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرپٹ عناصر بے خوف و خطر اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریلوے کالونی بھی اس مبینہ کرپشن کی لپیٹ میں ہے،IOW،AEN،DEN اور دیگر بااثر ریلوے افسران کی مبینہ سرپرستی میں غیر متعلقہ اور جرائم پیشہ افراد مقامی ملازمین سے ساز باز کرکے ریلوے کی رہائشی کالونیوں پر قابض ہیں اور بیشتر کوارٹر کرائے پر چڑھا دیے گئے ہیں۔ کالونی میں بنیادی سہولیات جیسے صفائی، سیوریج اور پانی کی فراہمی کا نظام بھی تباہ حال ہے۔

    حیران کن طور پر ڈیرہ غازیخان ریلوے اسٹیشن پر اہم انتظامی عہدے خالی پڑے ہیں اور گزشتہ 15 سال سے ایک ہی اسٹیشن ماسٹر محمد عابد اور سیکنڈ اسٹیشن ماسٹر محمد اقبال تعینات ہیں جن پر مبینہ طور پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ گزشتہ 6 سال کی ٹرین کی بندش کے دوران مبینہ طور پر IOW رانا مبشر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ریلوے اراضی پر قبضے کروائے اور سٹی گارڈن دیوار سکینڈل میں بھی مبینہ طور پر سابق MPA احمد علی دریشک اور ان کے مبینہ فرنٹ مین شہزاد جسکانی کے ساتھ ملی بھگت سامنے آئی ہے جو ریلوے زمین ایک کالونی میں شامل کرلی گئی،جس پر کوئی ایکشن نہیں لیاگیا۔ پرانے لوہے کے سکریپ کی غیر قانونی فروخت کا بھی ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں IOW رانا مبشر، سابق پرماننٹ وے انسپکٹر (PWI) آفتاب لغاری اور موجودہ PWI اعجاز مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

    اسٹیشن کے شمالی جانب واقع پرانے سٹور کی قیمتی چھتیں غائب کر دی گئیں اور اس کی کوئی باضابطہ انکوائری نہیں ہوئی۔ پھاٹک کے قریب ریلوے کی سرکاری اراضی پر اسٹیشن ماسٹر محمد اقبال اور ریلوے پولیس چوکی انچارج نے مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیاں کیں۔ PWI آفتاب لغاری پر بھی ریلوے لائن کے ساتھ ناجائز تجاوزات کروا کر بھتہ وصول کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔ موجودہ PWI نے مبینہ طور پر کرپشن کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس میں گھر بیٹھے تنخواہیں لینے والے ملازمین سے ماہانہ بھاری رشوت وصول کی جاتی ہے۔ ریلوے کالونی میں پانی کی فراہمی کا نظام انتہائی ناقص ہے اور مسافروں کے لیے پینے کے صاف پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ کروڑوں روپے کا ریونیو دینے والا مال گودام اسٹیشن گزشتہ کئی سالوں سے بند پڑا ہے اور مبینہ طور پر اسٹیشن ماسٹر محمد عابد نے اسے انتہائی کم کرائے 4000روپے ماہانہ پر اپنے من وینڈر کو دے رکھا ہے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور ان سنگین بے ضابطگیوں اور میگا کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں گے؟ خوشحال خان خٹک ایکسپریس اور چلتن ایکسپریس کی بحالی یقیناً ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہے لیکن اس کی حقیقی کامیابی اور پاکستان ریلوے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ڈیرہ غازیخان ریلوے سمیت پورے ادارے کو کرپشن کے ناسور سے پاک کیا جائے۔ بصورت دیگر ان ٹرینوں کی بحالی کی خوشی جلد ہی مایوسی میں بدل سکتی ہے۔

  • ماں نے 3 ماہ کے بچے کو زیر زمین پانی کے ٹینک میں پھینک دیا

    ماں نے 3 ماہ کے بچے کو زیر زمین پانی کے ٹینک میں پھینک دیا

    گجرات: ماں نے مسلسل رونے پر اپنے 3 ماہ کے بچے کو زیر زمین پانی کے ٹینک میں پھینک دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بھارتی شہر گجرات میں پیش آیا جہاں کرشمہ بگھیل نامی خاتون کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کے بعد خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس کا 3 ماہ کا بچہ کہیں کھو گیا ہے، خاتون کے شوہر نے پولیس میں بچے کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔

    شوہر کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کی اور بچے کی لاش گھر میں قائم زیر زمین پانی کے ٹینک سے ملی، 22 سالہ کرشمہ بگھیل کو پیر کی رات اس وقت گرفتار کیا گیا جب پولیس کو اس کے تین ماہ کے بیٹے کی لاش زیر زمین پانی کے ٹینک سے ملی ابتدائی طور پر اسے حادثاتی موت کے طور پر درج کیا گیا، پوسٹ مارٹم میں ڈوبنے سے موت کی تصدیق کے بعد کیس نے چونکا دینے والا موڑ لیا۔ پولیس کا شک اس وقت بڑھ گیا جب کرشمہ کے واقعات کے ورژن میں کئی تضادات ظاہر ہوئے۔

    پیپلز پارٹی آئین کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی ،حسن اقبال جوئیہ

    پولیس کے مطابق دوران تفتیش معلوم ہوا کہ ماں نے ہی شیر خوار کو پانی کے ٹینک میں پھینکا تھا جسے گرفتار کرلیا گیا ہےخاتون بچے کی پیدائش کے بعد سے ہی ذہنی اور جسمانی تکلیف سے دوچار تھی اور اس نے گھر والوں سے بچے کے مسلسل رونے کی شکایت بھی کی تھی۔

    بھارتی باکسنگ آئیکون میری کوم کی شوہر سے علیحدگی ہو گئی؟

  • ٹک ٹاکر،ڈانسر مہک ملک کا "فحش”رقص،مقدمہ درج

    ٹک ٹاکر،ڈانسر مہک ملک کا "فحش”رقص،مقدمہ درج

    مشہور ٹک ٹاکر ڈانسر مہک ملک کے خلاف ایمپلی فائر ایکٹ کے تحت منڈی یزمان میں مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ مہک ملک سمیت 35 افراد پر درج کیا گیا ہے

    پولیس رپورٹ نمبر BW-CYZ-003781 کے مطابق، ایک سنگین واقعہ رپورٹ کیا گیا ہے جس میں فحش ڈانس اور موسیقی کی آواز کے ذریعے عوامی امن و سکون میں خلل ڈالا گیا۔تھانہ علی یزمان کی پولیس کو 8 اپریل 2025 کو ایک اطلاع موصول ہوئی جس کے مطابق 5 اور 6 اپریل کی درمیانی رات کو چک نمبر 90/DB میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں فحش گانے اور ڈانس کی محفل سجائی گئی۔ اس محفل میں مشہور ڈانسر مہک ملک نے عریاں لباس میں ڈانس کیا جس کے باعث عوامی امن میں خلل پڑا اور لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ ، ریاست علی ولد بشیر احمد نے اپنی بیٹے محمد ذیشان عرف شانی کی مہندی کی تقریب میں مہک ملک کو بک کر کے فحش گانے اور ڈانس کروایا۔ پولیس نے اس سلسلے میں ویڈیوز بھی حاصل کی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مہک ملک نے عریاں لباس میں فحش ڈانس کیا، اور محفل میں شریک افراد نے نوٹ نچھاور کیے۔

    درج مقدمے کے مطابق اس تقریب میں شریک افراد میں ریاست علی، محمد ذیشان عرف شانی، اور دیگر افراد شامل تھے، جنہوں نے اس غیر قانونی اور فحش سرگرمی میں حصہ لیا۔ پولیس نے ابتدائی اطلاع کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس میں ریاست علی اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف پنجاب ساؤنڈ سسٹمز (ریگولیشن) ایکٹ 2015 کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی دفعات 294 اور 65 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس کیس کے تمام گواہان کے بیانات درج کر لیے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ واقعہ صرف اخلاقی طور پر ہی نہیں بلکہ قانونی طور پر بھی سنگین نوعیت کا ہے جس میں عوامی امن و سکون کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کے جذبات مجروح نہ ہوں اور معاشرتی اصولوں کی پامالی نہ ہو۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے اور عوامی محافل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تحقیقات کے دوران مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • کراچی، ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار زخمی، سات ڈمپرز کو لگائی گئی آگ

    کراچی، ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار زخمی، سات ڈمپرز کو لگائی گئی آگ

    کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی کے قریب ڈمپر کی ٹکر سے ایک موٹرسائیکل سوار شخص زخمی ہوگیا۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد نے غصے میں آکر کئی ڈمپرز کو نذر آتش کر دیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق، ایک تیز رفتار ڈمپر ناگن چورنگی فلائی اوور سے آ رہا تھا جب اس نے دو موٹرسائیکلوں کو کچل دیا۔ حادثے میں کسی کی جان نہیں گئی تاہم ایک موٹر سائیکل سوار زخمی ہو گیا۔ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ڈمپر کا ڈرائیور تقریباً 17 سے 18 سال کا لڑکا تھا اور وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔ حادثے کے بعد لوگوں نے ڈمپر کو روک لیا اور ڈرائیور کو مارا پیٹا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد نے 7 ڈمپرز کو آگ لگا دی۔ ان میں سے 4 ڈمپر ناگن چورنگی اور 3 فور کے چورنگی پر جلا دیے گئے۔ بعد میں فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ بجھا دی گئی۔پولیس نے کہا ہے کہ کراچی کے تمام اسپتالوں سے حادثات سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ زخمی افراد کے بارے میں معلوم کیا جا سکے۔

    ڈمپر ایسوسی ایشن کے رہنما لیاقت محسود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی 11 گاڑیوں کو جلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حادثے میں کسی شخص کو نقصان پہنچا ہے تو اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ لیاقت محسود نے مزید کہا کہ ڈمپرز کو جلانے والے افراد کو گرفتار کیا جائے اور حکومت ان کی حفاظت کرے۔: ڈمپر ڈرائیوروں نے پاور ہاؤس چورنگی پر ڈمپروں کو آگ لگانے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ احتجاج کے دوران ڈرائیوروں نے سڑک پر کچرا بھی پھینک دیا جس کے باعث سہراب گوٹھ اور آلاصف اسکوائر کے قریب ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی۔

    کراچی میں گزشتہ روز بھی ایک اور افسوسناک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں ٹریلر کی ٹکر سے ایک موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق یہ حادثہ کورنگی کے ویٹا چورنگی پر پیش آیا۔ولیس کے مطابق کراچی میں 99 روز میں ہیوی گاڑیوں کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 78 تک پہنچ گئی ہے۔ رواں سال اب تک ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 256 ہو چکی ہے۔

  • ملتان:ایل پی جی دھماکہ,ضمانت خارج، 12 ملزمان گرفتار

    ملتان:ایل پی جی دھماکہ,ضمانت خارج، 12 ملزمان گرفتار

    ملتان(باغی ٹی وی رپورٹ)رواں سال جنوری میں انڈسٹریل اسٹیٹ میں ہونے والے المناک ایل پی جی باؤزر دھماکے کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے واقعے میں ملوث 12 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی، جس کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان غیر قانونی گیس فلنگ کے کاروبار میں ملوث تھے، جو اس افسوسناک واقعے کا سبب بنا۔ واضح رہے کہ اس دھماکے کے نتیجے میں 26 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 14 افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قریبی آبادیوں کے 20 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے جبکہ 70 دیگر جزوی طور پر متاثر ہوئے تھے۔ اس دلخراش حادثے میں کئی بے زبان جانور بھی جھلس کر ہلاک ہو گئے تھے۔

    تحقیقات کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایل پی جی گیس باؤزر سے غیر محفوظ طریقے سے گیس نکال کر اس میں خطرناک حد تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ملاوٹ کرنا حادثات کا بڑا سبب بنتا ہے۔ کم قیمت اور زیادہ پریشر کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایل پی جی میں ملایا جاتا ہے، جس سے پریشر غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے اور دھماکے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے مرکزی ملزمان، گیس باؤزر کا ڈرائیور اور گودام کا مالک، پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ اب 12 مزید ملزمان کی گرفتاری سے اس المناک واقعے کی تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ یہ گرفتاری قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  • اوچ شریف: ٹرک کی ٹکر سے پھٹہ رکشہ سوار غلام شبیر جاں بحق

    اوچ شریف: ٹرک کی ٹکر سے پھٹہ رکشہ سوار غلام شبیر جاں بحق

    اوچ شریف، باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے علاقے جلال پور پیر والا روڈ دھور کوٹ موڑ کے قریب ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار ٹرک نے پھٹہ رکشہ کو ٹکر مار دی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب رکشہ روڈ کراس کر رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والے تیز رفتار ٹرک نے رکشہ کو زور دار ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں رکشہ سوار 65 سالہ غلام شبیر ولد الہی بخش موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق غلام شبیر ٹرک کے نیچے آ کر بری طرح زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    حادثے میں رکشہ میں موجود ایک اور شخص کو معمولی چوٹیں آئیں، جسے مقامی افراد نے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم اور پیٹرولنگ پولیس خیرپور ڈاہا موقع پر پہنچ گئیں اور ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد جاں بحق ہونے والے غلام شبیر کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔ ورثاء نے اپنی نجی گاڑی میں میت کو گھر منتقل کر دیا۔

  • میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی پر حملے، 21 افراد گرفتار

    میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی پر حملے، 21 افراد گرفتار

    میرپورخاص/کراچی (رپورٹ: سید شاہزیب شاہ)میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی ریسٹورنٹس پر حملے، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ، 21 افراد گرفتار

    بین الاقوامی فوڈ چین کے ایف سی کے ریسٹورنٹس سندھ کے دو شہروں میرپورخاص اور کراچی میں مشتعل افراد کے نشانے پر آگئے۔ مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی کوشش کی، جبکہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 21 افراد کو گرفتار کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے نور CNG چوک پر واقع کے ایف سی ریسٹورنٹ پر مشتعل افراد نے حملہ کر دیا، مرکزی دروازے، شیشوں اور فرنیچر کو نقصان پہنچایا اور ریسٹورنٹ کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ پولیس نے 11 افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا اور علاقے میں اضافی نفری تعینات کردی۔

    دوسری جانب کراچی میں بھی ڈیفنس تھانے کی حدود خیابان اتحاد پر واقع کے ایف سی ریسٹورنٹ پر مشتعل افراد نے حملہ کیا، مرکزی دروازے اور شیشوں کو توڑ دیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کرتے ہوئے 10 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں سے ایک شخص کے قبضے سے ہتھوڑا بھی برآمد ہوا۔ پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں کے ایف سی کی تین برانچز پر حملے کیے جا چکے ہیں۔

    ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کراچی پولیس کا بھی کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

  • کراچی  میں مبینہ پولیس مقابلے،  4 ملزمان گرفتار

    کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے، 4 ملزمان گرفتار

    کراچی میں کورنگی اور ملیر میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران زخمی سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کورنگی کے علاقے باغ کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران زخمی سمیت 3 ملزمان گرفتار کرلئے گئے۔ گرفتار تھانہ عوامی کالونی کی حدود سے گرفتار ملزمان عبد الخالق اور اسد مقابلے کے دوران زخمی ہوئے جنکو طبی امداد کیلئے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ملزمان کا ساتھی رضوان جائے وقوعہ سے فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔ملزمان کے قبضے سے اسلحہ گولیاں اور موٹر سائیکل برآمد کرلی گئی ہے.

    ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزمان اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔اسکے ساتھ ڈسٹرک ملیر میں تھانہ اسٹیل ٹان نے گھگر پھاٹک کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے درمیان ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم نوید کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ملزم کے قبضے سے برآمد اسلحہ اور گولیاں تحصیل میں لے لی گئی ہیں۔ گرفتار ملزم کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    کراچی بار کے صدرمبینہ حملے میں زخمی،وزیر داخلہ کا نوٹس

    کے الیکٹرک کی اربوں روپے وصولی کیلیے درخواست

    کے الیکٹرک کی اربوں روپے وصولی کیلیے درخواست

    سندھ میں رواں برس ملیریا کے 13 ہزار سے زائد کیس رپورٹ

  • چنیوٹ: فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 500 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف، لاکھوں جرمانہ

    چنیوٹ: فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 500 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف، لاکھوں جرمانہ

    چنیوٹ (خبرنگارشمائلہ) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ مافیا کے خلاف جاری کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے چنیوٹ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر انسپیکشن کی۔ کارروائی کے دوران 106 فوڈ بزنسز کی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں صفائی کے ناقص انتظامات اور دیگر خلاف ورزیوں پر 50 فوڈ بزنسز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔

    بھوانہ کے نواحی علاقوں میں ملک کولیکشن سینٹرز پر خصوصی چھاپے مارے گئے، جہاں 500 لیٹر سے زائد ملاوٹی اور مضر صحت دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، ورکرز کے میڈیکل سرٹیفکیٹس کی عدم موجودگی اور صفائی کی ناقص صورتحال پر ملک کولیکشن سینٹرز مالکان پر 43000 روپے جرمانے عائد کیے گئے۔

    گوشت فروشوں کی دکانوں پر بھی کارروائی کی گئی اور گندی کونز کے استعمال اور صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر 17500 روپے جرمانے وصول کیے گئے۔ مختلف فوڈ پوائنٹس اور کریانہ سٹورز پر ایکسپائرڈ اشیاء کی موجودگی پر 18000 روپے جرمانے کیے گئے، جبکہ ایک کلو سے زائد غیر معیاری اشیاء کو موقع پر تلف کر دیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فوڈ اتھارٹی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ناقص اور غیر معیاری خوراک شہریوں میں مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ اتھارٹی شہریوں کو صحت مند اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔