Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • گوجرانوالہ: تھانہ لدھیوالہ وڑائچ پولیس کی بڑی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    گوجرانوالہ: تھانہ لدھیوالہ وڑائچ پولیس کی بڑی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) تھانہ لدھیوالہ وڑائچ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروش فیاض احمد کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 1 کلو 260 گرام ہیروئن برآمد کر لی ہے۔ گرفتار ملزم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ وہ دوسرے اضلاع سے منشیات لا کر ضلع بھر میں نوجوانوں کو بیچتا تھا۔

    اس اہم کامیابی پر سماجی و سیاسی تنظیموں اور علاقے کے مکینوں نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔ سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کے محفوظ مستقبل کے لیے منشیات فروشوں اور ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں سخت کی جائیں گی۔

    ایس پی سٹی شاہد رشید کی ہدایت پر ایس ایچ او تھانہ لدھیوالہ وڑائچ سب انسپکٹر حسن ورک اور ان کی ٹیم نے دن رات محنت سے یہ کارکردگی دکھائی، جس پر انہیں سی پی او نے بھی شاباش دی ہے۔

  • سیالکوٹ: پانچ وارداتوں میں شہریوں سے نقدی، موبائل فون اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا

    سیالکوٹ: پانچ وارداتوں میں شہریوں سے نقدی، موبائل فون اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ میں ڈکیتی اور چوری کی پانچ مختلف وارداتوں میں شہری ہزاروں روپے نقدی، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان سے محروم ہو گئے۔ پولیس نے تمام واقعات پر مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سرانوالی میں محمد عمران کے گھر میں چور داخل ہو کر 22 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون لے اڑے جب کہ اسی علاقے میں ایک اور واردات میں نامعلوم چور آصف نواز کے گھر کی دیوار پھلانگ کر 10 ہزار روپے، تین موبائل فون اور دیگر سامان چرا کر فرار ہو گئے۔

    کوٹلی نوشہرہ کے قریب دو نامعلوم ملزمان نے محمد آشان سے اسلحہ کے زور پر 30 ہزار روپے نقدی اور دو موبائل فون چھین لیے۔ اسی طرح ڈسکہ سے قاسم ذوالفقار جب ستو کے پلی کے قریب پہنچا تو تین مسلح ملزمان نے اس سے 3600 روپے اور موبائل فون چھین لیا۔

    بہاری پور کے قریب بھی دو نامعلوم افراد نے گل افشاں کو اسلحے کے زور پر روک کر 50 ہزار روپے اور موبائل فون چھین لیا۔ پولیس نے تمام وارداتوں پر علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کر لیے ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: مردہ جانور کا چھ من گوشت برآمد، ایک گرفتار، دو فرار

    ڈیرہ غازی خان: مردہ جانور کا چھ من گوشت برآمد، ایک گرفتار، دو فرار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان) ڈیرہ غازی خان شہر میں فروخت کے لیے لایا جانے والا مردہ جانور کا چھ من وزنی گوشت ضبط کر لیا گیا۔ کارروائی میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ضبط شدہ گوشت ضلعی انتظامیہ، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ لائیو اسٹاک کی نگرانی میں دریائے سندھ میں تلف کر دیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر نذر حسین کورائی کے مطابق اطلاع ملنے پر یارو روڈ پر کارروائی کی گئی، جہاں سے مضر صحت گوشت برآمد ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس تھانہ صدر نے تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    نذر حسین کورائی نے مزید کہا کہ شہریوں کو صاف، حلال اور معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق عوام کو صحت بخش خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کارروائی کمشنر اشفاق احمد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی۔

  • علی پور:ناقص مونگ بیج سے کروڑوں کا نقصان، کسان روٹر پھیرنے پر مجبور، ڈیلر کی دھمکیاں

    علی پور:ناقص مونگ بیج سے کروڑوں کا نقصان، کسان روٹر پھیرنے پر مجبور، ڈیلر کی دھمکیاں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں محکمہ زراعت پنجاب کی مبینہ غفلت یانااہلی اور مقامی بیج ڈیلر کی ملی بھگت سے درجنوں کسان کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہو گئے۔ غیر معیاری مونگ کے بیج کی فروخت سے فصلیں زرد پڑ گئیں اور کاشتکاروں کو روٹر پھیر کر فصل تباہ کرنا پڑی۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کو ازالے کی بجائے ڈیلر کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ محکمہ زراعت محض درخواستیں جمع کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔

    موضع بیٹ برڑہ کے کاشتکار محمد اعجاز سندھا نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت علی پور رانا اعجاز کو تحریری درخواست میں بتایا کہ اس نے الحافظ ٹریڈر علی پور کے مالک چوہدری بشیر ارائیں سے مونگ کا بیج خریدا تھا جو انتہائی ناقص نکلا۔ بیج سے اُگنے والی فصل کے پتے پیلے پڑ گئے جبکہ آس پاس کے کسانوں کی فصلیں بہتر حالت میں ہیں۔ اعجاز کے مطابق جب اس نے ڈیلر سے بیج کی واپسی یا نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا تو اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

    اعجاز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس کی چار لاکھ روپے کی فصل تباہ ہو گئی ہے جبکہ درجنوں دیگر متاثرہ کسان جن میں پرویز گوپانگ، محمد یامین سندھا، رانا دلشاد نمبردار، دلاور نقلی، فرید نقلی، مختیار ماچھی، مداح شاہ، سلیم شاہ نمبردار اور رجب کبوتری شامل ہیں، سب کو الحافظ ٹریڈر سے خریدے گئے بیج کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد انصاف نہ ملا تو وہ بھرپور احتجاج کریں گے۔ دوسری جانب ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت علی پور رانا اعجاز نے تصدیق کی ہے کہ اعجاز سندھا کی درخواست موصول ہوئی ہے اور دیگر متاثرہ کسانوں کو بھی تحریری درخواست دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ڈیلر اور کسانوں کو بلا کر انکوائری کریں گے، تاہم ان کے اختیارات محدود ہیں اور چھاپہ مار کارروائی فیڈرل سیڈ ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

    کسانوں نے اعلیٰ حکام خاص طورپر ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور کمشنر ڈیرہ غازیخان سے نوٹس لیکر معاملے کی فوری شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور غفلت کے مرتکب افسران و ڈیلر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

  • احمدپورشرقیہ:: بیوی اور بیٹے کے اغوا کا ڈرامہ رچانے والا شخص ساتھیوں سمیت گرفتار

    احمدپورشرقیہ:: بیوی اور بیٹے کے اغوا کا ڈرامہ رچانے والا شخص ساتھیوں سمیت گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور محمد حسن اقبال کی ہدایات پر تھانہ سٹی احمد پور شرقیہ کی ٹیم نے پکار 15 پر جھوٹی اطلاع دینے والے شخص کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ ڈی پی او کی ہدایت پر جھوٹے مقدمات درج کروانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، ایس ڈی پی او احمد پور شرقیہ نے پریس کانفرنس میں بتایا۔

    چند روز قبل محمد ارسلان یعقوب نے پکار 15 پر اطلاع دی کہ وہ اپنی بیوی صباء بی بی اور تین سالہ بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر ڈیرہ مستی جا رہے تھے کہ عباسیہ چوک پر سفید کار سوار نامعلوم افراد نے ان کی بیوی اور بیٹے کو اغوا کر لیا۔

    پولیس نے فوری مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کیا، تاہم ابتدائی تفتیش میں وقوعہ مشکوک پایا گیا۔ مدعی کو شاملِ تفتیش کر کے اس کا کریمنل ریکارڈ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ماضی میں بھی جھوٹے مقدمات درج کروانے کا عادی رہا ہے۔

    مزید تحقیق کے بعد انکشاف ہوا کہ اغوا کا یہ ڈرامہ خود محمد ارسلان نے اپنے دوستوں ریحان ریاض، وقاص اکرم اور اپنی بیوی صباء بی بی کے ساتھ مل کر رچایا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بیوی اور بیٹے کو ان کے سسرال سے بازیاب کرا لیا جبکہ ملزم ریحان ریاض کے قبضے سے وقوعہ میں استعمال ہونے والی آلٹو کار بھی برآمد کر لی گئی۔

    پولیس نے ملزمان کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں جیل منتقل کر دیا۔ ایس ڈی پی او نے کہا کہ پکار 15 پر جھوٹی اطلاع دینا سنگین جرم ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • اوکاڑہ کے دو معصوم بہن بھائی خضدار میں دہشتگردی کا شکار، بچی شہید، بھائی زخمی

    اوکاڑہ کے دو معصوم بہن بھائی خضدار میں دہشتگردی کا شکار، بچی شہید، بھائی زخمی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) بلوچستان کے علاقے خضدار میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسافر بس میں اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 52/2-ایل کے رہائشی دو بہن بھائی بھی سوار تھے۔ افسوسناک واقعے میں ساتویں جماعت کی طالبہ، سات سالہ حفضہ کوثر افتخار موقع پر شہید ہوگئی، جبکہ اس کا چھوٹا بھائی، چھٹی جماعت کا طالبعلم محمد حذیفہ افتخار شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

    دونوں بچے حصولِ تعلیم کے سلسلے میں اپنے والد، پاک آرمی کے حوالدار افتخار کے ساتھ خضدار میں مقیم تھے۔ حملے کے بعد شہید بچی کا جسد خاکی اس کے والد آبائی گاؤں اوکاڑہ لے کر پہنچے، جہاں نمازِ جنازہ میں اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    ورثاء نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، وہ دہشتگردی کے خلاف اپنی افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔

    یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پوری قوم کے لیے دکھ اور صدمے کا باعث بنا ہے۔ عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی معصوم شہید بچی کے لیے دعاؤں اور اظہارِ افسوس کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دہشتگردوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

  • راولپنڈی: گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کا انکشاف

    راولپنڈی کے ایک گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کاانکشاف ہوا ہے۔

    راولپنڈی میں صادق آباد کے علاقے میں گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کا انکشاف ہوا اور اس حوالے سے اسکول انتظامیہ نے منشیات کے استعمال سے متعلق پولیس کو آگاہ کردیا اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ساتویں کلاس کی طالبہ کے بیگ سے بوتل برآمد کی گئی، نشہ آورچیز کلاس میں بچیوں کو پلائی گئی جس سےوہ بے ہوش ہوگئیں جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے متعلقہ بچی کے والدین کو بلاکر سارا واقعہ بتایا 20 مئی کو بچی کے والدین اور کچھ دیگر افراد نے اسکول انتظامیہ پرحملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جب کہ حملے میں ایک ٹیچر بھی زخمی ہوئی، پولیس نے اسکول انتظامیہ کی درخواست پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی کا تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

    نئی بابا وانگا’ کی جاپان میں بڑی تباہی کی پیشگوئی

    26 نومبر احتجاج : گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور

  • پیر عادل: موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ میں تصادم،طالب شدید زخمی

    پیر عادل: موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ میں تصادم،طالب شدید زخمی

    پیر عادل (باغی ٹی وی، نامہ نگار باسط علی گاڈی) تھانہ شاہصدر دین کی حدود میں واقع دربار پیر عادل کے قریب موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں سکول سے چھٹی کے بعد گھر جانے والا ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک موٹرسائیکل، جو تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہو گیا، دربار پیر عادل کے قریب ٹی آراور گاڈر سے لوڈ پھٹہ رکشہ سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹرسائیکل سوارطالب علم بچہ بری طرح زخمی ہو گیا۔

    حادثے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی بچے کو طبی امداد کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی حالت تشویشناک ہے۔

    پولیس نے حادثے کی ابتدائی رپورٹ درج کر لی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔ مقامی افراد نے سڑک پر ٹریفک کی بدانتظامی اور تیز رفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کچہری میں فائرنگ ، ایک شخص زخمی، ملزم موقع پر گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: کچہری میں فائرنگ ، ایک شخص زخمی، ملزم موقع پر گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) ڈسٹرکٹ کورٹ ڈیرہ غازی خان میں پیشی کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ تھانہ سول لائن پولیس کو اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ عامر ولد افضل قوم کشانی، سکنہ موضع مندوس دراہمہ، نے عدالت کے احاطے میں دلاور ولد سلطان قوم کشانی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دلاور زخمی ہو گیا۔ پولیس نے زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کیا۔

    واقعے کے فوراً بعد ڈی ایس پی سٹی رانا اقبال، سب انسپکٹر سیف اللہ ارشد اور تھانہ سول لائن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف جائے وقوعہ کا کنٹرول سنبھالا بلکہ ملزم عامر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔

    ایس پی انویسٹی گیشن بختیار احمد خان بھی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچے اور تفتیشی کارروائی کی براہِ راست نگرانی کی۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد مقدمہ نمبر 299/23 بجرم 302 تھانہ دراہمہ کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے تھے اور ان کے درمیان پرانی دشمنی چلی آ رہی تھی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور ملزم کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالتوں میں سیکیورٹی انتظامات پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ڈی جی خان:خاتون سے تعلق، پنچایت کے حکم پر پانی میں ڈبویا گیا نوجوان بیان سے مکر گیا

    ڈی جی خان:خاتون سے تعلق، پنچایت کے حکم پر پانی میں ڈبویا گیا نوجوان بیان سے مکر گیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے زین جو کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ہے، میں 17 مئی 2025 کو ایک واقعہ پیش آیا جس نے قومی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔ ایک نوجوان جمال خان ولد رحیم بخش پر خاتون سے مبینہ تعلقات کے الزام کے تحت غیر قانونی جرگے کے حکم پر "آف پانی” کی رسم ادا کی گئی۔ اس واقعے نے قبائلی رسومات، غیر قانونی جرگوں کے فیصلوں اور ان کے سماجی و قانونی مضمرات پر بحث کو جنم دیا۔ معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو گیا جب جمال خان نے اپنے ابتدائی بیان سے مکرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے کسی نے پانی میں نہیں ڈبویا بلکہ وہ اپنی مرضی سے نہانے گیا تھا۔ یہ رپورٹ واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس سے جڑے قانونی و سماجی پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

    واقعہ زین میں پیش آیا، جہاں زیادہ تر بلوچ قبائل آباد ہیں۔ جمال خان پر اس کے چچا نے اپنی بیٹی (جمال کی کزن) کے ساتھ مبینہ جنسی تعلقات کا الزام عائد کیا۔ چچا کا دعویٰ تھا کہ جمال اس کی بیٹی پر "بری نظر” رکھتا ہے۔ اس الزام کی بنیاد پر غیر قانونی جرگہ منعقد کیا گیا، جس نے روایتی رسم "آف پانی” کے ذریعے بے گناہی یا قصور واری ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس رسم میں ملزم کو رسی سے باندھ کر 200 فٹ گہرے تالاب میں چھلانگ لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ملزم کو تقریباً چار منٹ تک پانی کے اندر سر ڈبو کر رہنا ہوتا ہے۔ اگر وہ زندہ باہر نکلے، تو بے گناہ سمجھا جاتا ہے اگر ڈوب جائے تو قصوروار قرار دیا جاتا ہے۔ رسی کا مقصد ڈوبنے کی صورت میں لاش نکالنا ہوتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق تالاب کی گہرائی 200 فٹ سے زیادہ تھی جو رسم کی خطرناک نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔

    جمال خان نے جرگے کے حکم پر تالاب میں چھلانگ لگائی اور مقررہ وقت کے بعد زندہ باہر نکل آیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں اس کی کمر پر رسی بندھی دکھائی دی ،18 مئی 2025 کو جمال خان نے بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے تھانہ زین میں ایف آئی آر درج کروائی، جس میں دعویٰ کیا کہ اسے زبردستی تالاب تک لے جایا گیا اور پانی میں ڈبویا گیا۔ ایف آئی آر میں پانچ افراد، جن میں جرگے کا سرپنچ بھی شامل تھا، کو نامزد کیا گیا۔ بی ایم پی نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے، لیکن ملزمان نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور تفتیش میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی۔

    کمانڈنٹ بی ایم پی محمد اسد چانڈیا نے بتایا کہ ایف آئی آر میں جرگے کے انعقاد کی تفصیلات نہیں تھیں۔ تفتیش سے پتا چلا کہ جمال اور الزام لگانے والے چچا کے خاندان سمیت قبیلے کے 10 خاندان ایک ہی جگہ رہتے ہیں۔ جمال کو گواہ پیش کرنے کا کہا گیا لیکن وہ کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا۔

    جیونیوز کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں جرگے کے فیصلے پرگہرے پانی میں ڈالےگئے نوجوان نے پولیٹیکل انتظامیہ کوبیان حلفی جمع کرا تے ہوئے درج مقدمہ خارج کرنے کا کہہ دیا۔بیان حلفی اور ویڈیو بیان میں نوجوان نے کہا کہ اسے کسی نے پانی میں نہیں ڈبویا، اپنے رشتے داروں کے ساتھ تالاب میں نہانےگیا تھا، پانی میں جانےکی ویڈیو کسی نامعلوم شخص نے بنا کر وائرل کی۔

    پولیٹیکل اسسٹنٹ کے مطابق یہ بیان عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جمال کے خلاف غلط بیانی پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا جمال پر دباؤ ڈالا گیا یا اس نے اپنی مرضی سے بیان تبدیل کیا۔

    کوہ سلیمان کے قبائلی علاقوں میں غیر قانونی جرگے مقامی مسائل کے حل کے لیے منعقد ہوتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لیکن قبائلی دباؤ کی وجہ سے عملدرآمد ہوتا ہے۔ ایک مقامی رہائشی شخص کے مطابق جرگے کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے کو باغی قرار دے کر قبیلے سے نکال دیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ "آف پانی” کی رسم میں ملزم کو چار منٹ تک گہرے پانی میں سر ڈبو کر رہنا ہوتا ہے۔ ایک اور رسم میں ملزم کو گرم لوہے کا راڈ پکڑنے اور اس پر تین بار زبان لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اگر ہاتھ یا زبان جل جائے تو قصوروار سمجھا جاتا ہے۔ چھوٹے جرائم کے لیے لوہے کے راڈ کی رسم اور سنگین جرائم کے لیے "آف پانی” کی رسم رائج ہے۔ ایک شخص کا کہنا تھاکہ ہ "ونی” کی رسم بھی عام ہے، جس میں تنازعات کے حل کے لیے لڑکیوں کی شادیاں کی جاتی ہیں۔ اسد چانڈیا کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں یہ رسومات تقریباً ختم ہو چکی ہیں، لیکن بلوچستان کے کچھ علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔

    یہ واقعہ قبائلی رسومات اور قانونی نظام کے درمیان تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے قانون کے تحت غیر قانونی جرگوں کا انعقاد اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد ممنوع ہے، لیکن قبائلی دباؤ کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔ وائرل ویڈیو نے رسم کی خطرناک نوعیت اور قانونی نظام کے نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ واقعے کے بعد جمال کے بھائیوں اور قبیلے کے ارکان نے کلمہ چوک تونسہ پر احتجاج کیا اور جرگے کے ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مقامی صحافیوں اور رہائشیوں نے بھی انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ بی ایم پی تفتیش کر رہی ہے، لیکن ملزمان کی ضمانت اور جمال کے تبدیل شدہ بیان نے معاملے کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ جمال کے حلفیہ بیان کو عدالت میں پیش کرے گی اور اس کے خلاف غلط بیانی کا مقدمہ درج کرے گی۔

    یہ واقعہ غیر قانونی جرگوں اور ان کے خطرناک فیصلوں کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ جمال زندہ بچ گیا، لیکن اس واقعے نے قبائلی رسومات کے خطرناک نتائج اور ان کے خاتمے کی ضرورت کو عیاں کیا۔ قانونی اداروں کو شفاف تفتیش کے ذریعے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ قبائلی علاقوں میں تعلیم، شعور، اور قانونی نظام کے نفاذ سے ایسی غیر انسانی رسومات کا خاتمہ ممکن ہے۔