Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • گوجرہ:زمین کا تنازعہ ،35 سالہ شخص قتل، ملزمان فرار

    گوجرہ:زمین کا تنازعہ ،35 سالہ شخص قتل، ملزمان فرار

    گوجرہ (عبد الرحمن جٹ) زمین کے تنازعہ نے ایک اور جان لے لی، چک نمبر 281 ج ب کے رہائشی 35 سالہ راشد سلیم کو ٹوکے اور کسی تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    اطلاعات کے مطابق راشد سلیم اپنے کھیتوں میں مکئی کی فصل کی دیکھ بھال کے لیے گیا تھا جہاں شہباز، بلال اور غفران وغیرہ نے اس پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے راشد سلیم پر ٹوکے اور کسی دوسرے ہتھیار سے پے در پے وار کیے جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ صدر پولیس گوجرہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی نعش کو اپنی تحویل میں لے کر تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال گوجرہ منتقل کیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے اور پولیس نے مفرور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ملزمان مقتول کے قریبی رشتہ دار بتائے جاتے ہیں جن کے درمیان زمین کا تنازعہ چل رہا تھا۔ آخری اطلاعات تک کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

  • سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان

    سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان

    سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان
    تحریر: محمد سعید گندی
    ڈیرہ غازی خان سرکل میں گزشتہ کچھ ماہ سے چوروں اور ڈاکوؤں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کوئی شہری خواہ وہ مارکیٹ میں ہو، شہر، گاؤں یا روڈ پر ہو حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ ڈاکوؤں نے روزانہ کی بنیاد پر چوریوں اور ڈکیتیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ نہ جانے یہ سلسلہ کب اور کہاں جا کر رکے گا۔ خیر، یہ تو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے، کبھی کم اور کبھی زیادہ۔ اسے مکمل طور پر قابو کرنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

    ہر پولیس افسر کا اپنا پولیسنگ کا انداز ہوتا ہے۔ ہمارے بہت سے صحافی دوست اسے "دبنگ” لکھتے ہیں۔ خیر، یہ ممکن ہے کہ کوئی ایسی کارروائیاں ہوں یا محض محبت بھرے الفاظ ہوں۔ میں ایک صحافی ہوں اور ساتھ ہی مزدور بھی۔ بہت کم کسی دفتر جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ الحمدللہ، جب کوئی آپ کو پہچان نہیں پاتا تو وہ آپ کے سامنے سچ بول دیتا ہے، ورنہ اگر آپ صحافی کے طور پر تعارف کروائیں گے تو وہ چائے پلائیں گے اور چلتا کریں گے۔

    کچھ دن قبل ایک اعلیٰ پولیس افسر سے اچانک ملاقات ہوئی۔ کچھ صحافی دوست وہاں پہلے سے موجود تھے۔ سوال اٹھا کہ پچھلے چند ماہ یا ایک سال میں (وقت کی تعیین ضروری نہیں) کیا ڈیرہ غازی خان میں جرائم کم ہوئے ہیں؟ ان کا جواب بالکل درست اور بغیر کسی لگی لپٹی کے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ میں کہتا ہوں کہ بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

    اس کی وجہ جاننے کی معقول کوشش بھی کی گئی۔ ان کے مطابق، جب تک تھانوں میں سیاسی اثر و رسوخ بند نہیں ہوگا، جرائم میں کمی نہیں آئے گی۔ دوسرا اہم نکتہ یہ کہ پولیس افسران اب میرٹ پر تفتیش سے بھی گھبراتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پولیس خود جرائم پیشہ افراد سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہے۔ اس کے بہت سے محرکات ہیں، جو میرے خیال میں ہم سب جانتے ہیں۔

    فیک ریکوریاں بہت زیادہ ہوئی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب چوریاں اور ڈکیتیاں ہوں گی تو صاف ظاہر ہے کہ عوام کو بھی کچھ ریلیف چاہیے۔ پولیس کہیں سے بھی لا کر عوام کو کچھ نہ کچھ دکھاتی ہے، اس لیے اب یہی آپشن رہ جاتا ہے، یعنی فیک ریکوریاں۔ کیونکہ جب پولیس اصلی جرائم پیشہ افراد کو پکڑتی ہے تو مدعی عدالت میں جا کر ان کے حق میں بیان دے دیتا ہے کہ یہ ہمارا چور یا ڈاکو نہیں۔ ایسی صورت میں پولیس کیا کرے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے پولیس کے مسائل ہیں، وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے اور مدعی بھی اپنا بچاؤ کر کے غائب ہو جاتا ہے۔

    بڑے بڑے گینگز کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ سب سے پہلے عوام اور پولیس کے درمیان خلیج کو کم کرنا ہوگا۔ عوام کا پولیس پر اور پولیس کا عوام پر اعتماد ہونا لازمی ہے۔ اب ڈیرہ غازی خان میں سیف سٹی کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمروں کے ذریعے ہم اصلی مجرم تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کی بدولت جو بھی چور یا ڈاکو گینگ پکڑے جائیں گے، ان کے سفارشی یا تو آئیں گے ہی نہیں، اور اگر آئیں گے تو بہت کم۔ کیونکہ پولیس ان شواہد کی بنا پر کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ اندازاً 70 فیصد جرائم ان سیف سٹی کیمروں سے کم ہو جائیں گے، باقی پولیس خود بھی قابو کر لے گی۔

    ایک سوال یہ ہے کہ کوٹ مبارک، شاہ صدر دین، کالا، دراہمہ یا دیگر دور دراز کے تھانوں کے علاقوں میں سیف سٹی کیمرے نصب نہیں ہیں۔ ان تھانوں کے علاقوں میں جرائم تو کم نہیں ہوں گے۔ بہرحال، پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کریں۔

  • لنڈیکوتل پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    لنڈیکوتل پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    لنڈیکوتل (باغی ٹی وی) لنڈیکوتل پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد کر لی، جس کے نتیجے میں تین ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر رائے مظہر اقبال کی ہدایات پر جاری کریک ڈاؤن کے تحت، ایس ایچ او لنڈیکوتل عدنان آفریدی کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے زیڑے کے مقام پر ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک موٹر کار کو روکا۔ تلاشی کے دوران گاڑی کے خفیہ خانوں سے 5 کلوگرام آئس اور 3 کلوگرام ہیروئن برآمد ہوئی۔

    پولیس نے موقع پر ہی ملوث ملزمان امداد، فہد اور خدایار کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں حوالات منتقل کر دیا۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور ضلع خیبر کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

  • ملازمت کا جھانسہ،لڑکیوں کو عصمت فروشی پر مجبور کرنے والا گروہ گرفتار

    ملازمت کا جھانسہ،لڑکیوں کو عصمت فروشی پر مجبور کرنے والا گروہ گرفتار

    راولپنڈی – تھانہ دھمیال پولیس نے ایک سنگین کیس میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے گھریلو ملازمت کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو جنسی استحصال اور عصمت فروشی پر مجبور کرنے والے تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار شدگان میں ایک میاں بیوی اور ان کا بیٹا شامل ہے، جنہیں متاثرہ لڑکی کی درخواست پر حراست میں لیا گیا۔

    متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اسے ایک شخص عامر عباس نے گھریلو کام کے بہانے اپنے گھر بلایا، جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی اور ویڈیو بھی بنائی گئی۔ بعد ازاں ویڈیو کے ذریعے اسے بلیک میل کرتے ہوئے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ عامر عباس کے ساتھ اس کی اہلیہ ثمینہ اور فرزانہ نامی خاتون بھی اس مکروہ دھندے میں شریک تھیں۔ مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ نہ صرف اسے، بلکہ اس کی کزن کو بھی کام کے بہانے بلایا گیا، اور اسی طرح کے حالات کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عامر عباس، اس کی بیوی ثمینہ، اور بیٹے زمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل پراسیس بھی شروع کردیا گیا ہے تاکہ شواہد حاصل کیے جا سکیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق گروہ ممکنہ طور پر دیگر لڑکیوں کو بھی نشانہ بنا چکا ہے، جس کی تصدیق تحقیقات کے دوران کی جائے گی۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے کسی مشتبہ واقعے کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں تاکہ اس قسم کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکے۔

    یہ واقعہ معاشرے میں پھیلے ہوئے چند گھناؤنے عناصر کی نشاندہی کرتا ہے جو کمزور طبقات کو نشانہ بنا کر اپنی ہوس پوری کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  • علی پور: اوباش کی 12 سالہ لڑکے سے زیادتی ، ملزم گرفتار

    علی پور: اوباش کی 12 سالہ لڑکے سے زیادتی ، ملزم گرفتار

    علی پور (نامہ نگار) علی پور میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک اوباش نے 12 سالہ لڑکے کو اپنی حیوانی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ٹیچر کالونی کے رہائشی افضل کورائی کا 12 سالہ بھتیجا جمشید گھر سے فلٹر شدہ پانی لینے کے لیے اپنے محلے دار بشیر چوہان کے پاس گیا۔ جب تین گھنٹے گزرنے کے باوجود جمشید واپس نہ لوٹا تو اس کے اہل خانہ پریشان ہو گئے اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر اس کی تلاش شروع کر دی۔

    تلاش کے دوران جب وہ فتح پور روڈ پر پہنچے تو انہوں نے کھیت کی جانب سے جمشید کے چیخنے کی آواز سنی۔ جب وہ قریب پہنچے تو انہوں نے ایک خوفناک منظر دیکھا۔ اوباش بشیر چوہان فصل کے اندر جمشید کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا۔

    لڑکے کے چچا اور دیگر رشتہ داروں نے جب بشیر چوہان کو للکارا تو وہ جمشید کو برہنہ حالت میں چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔ فوری طور پر 15 پر کال کی گئی جس کے بعد تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

    متاثرہ لڑکے کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کیا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ کرایا گیا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکے کے چچا کی مدعیت میں ملزم بشیر چوہان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اسے گرفتار کر کے علاقہ مجسٹریٹ علی پور سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ پولیس اس گھناؤنے جرم کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

  • جتوئی میں محمد عربی کا المناک قتل

    جتوئی میں محمد عربی کا المناک قتل

    معصوم بچے کی بے رحمانہ ہلاکت نے ایک بار پھر بچوں کی حفاظت کے مسئلے کو سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔قاتل کی گرفتاری پر علاقے کے عوام اور مقتول کے والدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ اور تجزیہ: ریاض جاذب
    محمد عربی کے قتل کے دلخراش واقعہ نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ معصوم بچے کی بے رحمانہ ہلاکت نے ایک بار پھر بچوں کی حفاظت کے مسئلے کو سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس قدر محفوظ ماحول فراہم کر پا رہے ہیں۔

    محمد عربی کا دل دہلا دینے والا قتل ایک ناقابل تصور المیہ ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جس نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

    گزشتہ روز جتوئی میں ایک 6 سالہ معصوم بچے محمد عربی کی لاش سورج مکھی کے کھیتوں سے ملی تھی۔یہ ایک ناقابل تصور حد تک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے کہ جس میں ایک چھ سالہ کلی کو بے دردی سے مسل دیا گیا۔ اس معصوم جان کا سفاکانہ قتل پورے معاشرے کے لیے ایک المناک صدمہ ہے۔

    دل چیر کر رکھ دینے والی اس خبر کی تفصیلات ہیں کہ تھانہ جتوئی ضلع مظفر گڑھ پولیس کو 6 اپریل کو اطلاع موصول ہوئی کہ نزدیکی گاؤں میں ایک سورج مکھی کے کھیت میں ایک بچے کی خون آلود لاش پڑی ہوئی ہے۔

    پولیس نے اس اطلاع پر فوری رسپانس کیا اور متعلقہ تھانہ کی پولیس پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی اور کرائم سین انویسٹی گیشن یونٹ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔

    فوری طور پر نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس ملزمان کو ٹریس کرنے میں مصروف عمل ہو گئی۔ پولیس نے علاقے کے تمام کریمنلز جن کا ریکارڈ تھانے میں درج ہے، ایسے افراد کو چیک کیا۔ مشکوک افراد میں شامل ایک نوجوان کی علاقے میں عدم موجودگی پر پولیس نے جدید ٹیکنالوجی سے اس کی لوکیشن ٹریس کی اور نشان زد لوکیشن سے اس شخص کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کی حراست میں دوران تفتیش اس نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر لیا۔ قتل کے وقوعہ اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کی جس کی تصدیق کی گئی۔ تفتیش اور میڈیکل رپورٹ میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف نہیں ہوا۔ سفاک قاتل سے تفتیش جاری ہے اور آلہ قتل کی برآمدگی کے لیے بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    سفاک قاتل کی گرفتاری پر والدین سمیت علاقے کے عوام نے آر پی او سجاد حسن خان اور ڈی پی او مظفر گڑھ سمیت مقامی پولیس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ امید ظاہر کی ہے کہ ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے جلد از جلد باقی کارروائی کو مکمل کرے گی۔ ملزم کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے جو آئندہ ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے ایک مثال ثابت ہو۔ ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک معاشرے کے طور پر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور مجرموں کے خلاف متحد ہوں۔

    اس گرفتاری پر علاقے کے عوام اور مقتول کے والدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور جلد انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ تفتیش کار ابھی تک آلہ قتل کی تلاش میں ہیں اور طبی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔

    اس المناک واقعے نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے غربت کے خاتمے، تعلیم کے فروغ، نقصان دہ ثقافتی روایات کی اصلاح اور مؤثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ کمیونٹی کی بیداری اور شمولیت بھی اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور افراد مل کر ایک ایسا محفوظ معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر بچے کو تحفظ اور امن کا ماحول میسر ہو۔

  • تیزرفتاربس نے لوڈر رکشہ کو روند ڈالا،ایک ہی خاندان کے 14 افراد جاں بحق

    تیزرفتاربس نے لوڈر رکشہ کو روند ڈالا،ایک ہی خاندان کے 14 افراد جاں بحق

    جڑانوالہ کے قریب تیزرفتاربس نے لوڈر رکشہ کو روند ڈالا، حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت 14افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:جڑانوالہ بے قابو بس لوڈر رکشہ پر چڑھ دوڑی، حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد جان سے گئے،حادثے میں زخمی ہونے والے 12 افراد کو فوری طبی امداد دیتے ہوئے ٹی ایچ کیو ہسپتال جڑانوالہ منتقل کردیا گیا ہے، تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے ،جو عید منانے کے بعد قریبی گاؤں سے واپس آرہے تھے۔

    پولیس کے مطابق رکشہ میں 17 افراد سوار تھے، حادثہ تھانہ لونڈیا نوالہ کے علاقے اڈہ چک پانچ میں پیش آیا بدنصیب خاندان سید والا کے چک سید پور کا رہائشی تھا، تمام افراد عید اپنوں کے ساتھ منانے گئے تھے خواتین بچوں سمیت دیگرکی میتیں گاؤں پہنچنے پرکہرام مچ گیا۔

    بیساکھی میلا:پاکستان نے 6500 سے زائد بھارتی یاتریوں کو ویزے جاری کر دیئے

    رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کانوٹس لے لیتے ہوئے پٹرولنگ ٹیم کومعطل کردیا ہے، پولیس نے حادثے کے بعد فرارہونے والے بس ڈرائیور کوگرفتارکرلیا دوسری جانب جڑانوالہ خوفناک حادثہ میں جاں بحق افراد کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ، نماز جنازہ میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ” تحریر:ملک محمد سلمان

  • قصور:پکی حویلی ڈانس پارٹی کیس، ویڈیو بنانے پر پولیس اہلکار فارغ، مقدمہ درج

    قصور:پکی حویلی ڈانس پارٹی کیس، ویڈیو بنانے پر پولیس اہلکار فارغ، مقدمہ درج

    قصور (ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو) قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں پکی حویلی میں ہونے والی ڈانس پارٹی کے دوران گرفتار کیے گئے مرد و خواتین کی حوالات میں ویڈیو بنانے اور اسے وائرل کرنے کے معاملے پر ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔

    ڈی پی او قصور کے احکامات پر تفتیشی سب انسپکٹر محمد صادق اور مثل رائٹر کانسٹیبل ندیم ناگی کے خلاف پیکا ایکٹ اور پولیس آرڈر 155(C) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ دونوں اہلکاروں کو حوالات میں بند کر دیا گیا ہے جبکہ سب انسپکٹر محمد صادق کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

    اسی کیس میں ایس ایچ او تھانہ مصطفیٰ آباد انسپکٹر ثقلین بخاری کو معطل کر کے کلوز ٹو لائن کر دیا گیا ہے۔ ڈی پی او قصور نے انسپکٹر ثقلین بخاری کے خلاف نوکری سے برخاستگی کی سفارش بھی کر دی ہے۔

    ڈی پی او کے حکم پر ڈانس پارٹی کی اطلاع افسران بالا کو نہ دینے پر سکیورٹی پر مامور ایک کانسٹیبل کو بھی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح تھانے کے محرر محمد شبیر کو حوالات میں ویڈیو بننے سے نہ روکنے پر دو سٹیجز پر تنخواہ کی تنزلی کی سزا دی گئی ہے۔

    ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے، جہاں فرائض میں غفلت، غیر ذمہ داری یا قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کا کام قانون کی پاسداری اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ قانون شکنی کرنا۔

    واضح رہے کہ پکی حویلی میں ہونے والی ڈانس پارٹی پر پولیس نے چھاپہ مار کر متعدد مرد و خواتین کو گرفتار کیا تھا، جن کی ویڈیوز حوالات میں بنائی گئیں اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد ڈی پی او قصور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن لیا، جس کی عوامی سطح پر تعریف کی جا رہی ہے۔

  • اوچ شریف: انصاف کی پکار، بزرگ شخص کی زندگی بااثر افراد نے اجیرن کر دی

    اوچ شریف: انصاف کی پکار، بزرگ شخص کی زندگی بااثر افراد نے اجیرن کر دی

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) پل فاروق آباد کے رہائشی بزرگ شخص ملک رشید سمیجہ نے بااثر افراد کی جانب سے زندگی اجیرن کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اسد سرفراز خان اور ایس ایچ او نوشہرہ جدید صدیق احمد ڈھڈی سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

    ملک رشید سمیجہ کا کہنا تھا کہ پولیس تھانہ نوشہرہ انہیں تحفظ فراہم کرے کیونکہ ان کے اپنے ہی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ عظیم خاتون بی بی کے حصے میں 40 سال قبل ان کے والد اللہ رکھا کی جانب سے ایک کنال رقبہ دیا گیا تھا، جسے اب ان کی اہلیہ کے بھائی خلیل، جلیل، کالا اور دیگر غنڈہ عناصر واپس لینا چاہتے ہیں۔

    ملک رشید سمیجہ نے الزام لگایا کہ ان کے بچوں کے گزرنے کا راستہ اور گھر کی چار دیواری توڑ دی گئی ہے اور انہیں آئے روز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور متعلقہ انتظامیہ سے سخت نوٹس لے کر ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوچ شریف : بھیک مانگنے کی حدود پر گداگر خواتین میں تصادم، شہری خوفزدہ، انتظامیہ غائب

    اوچ شریف : بھیک مانگنے کی حدود پر گداگر خواتین میں تصادم، شہری خوفزدہ، انتظامیہ غائب

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے مصروف ترین الشمس چوک پر اس وقت افراتفری پھیل گئی جب دو گداگر خواتین، شیلا اور نیلم کے درمیان اپنی ‘حدود’ کے تعین پر شدید لڑائی چھڑ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں خواتین نے ایک دوسرے پر نہ صرف گالم گلوچ کی بلکہ جسمانی طور پر بھی حملہ آور ہوئیں، بال نوچے گئے اور دھکے دیے گئے۔

    یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب شیلا نے نیلم پر الزام لگایا کہ وہ اس کے ‘علاقے’ میں داخل ہو کر بھیک مانگ رہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بحث تکرار میں بدلی اور پھر ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ چوک پر موجود دیگر گداگر اس تماشے کو خاموشی سے دیکھتے رہے جبکہ راہگیروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    حیرت انگیز طور پر مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سارے واقعے سے بے خبر رہے یا پھر خاموش تماشائی بنے رہے۔ شہریوں نے اس غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گداگروں کی آپس کی لڑائی نہ صرف امن عامہ کے لیے خطرہ ہے بلکہ شہر کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گداگروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مصروف ترین چوکوں پر اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ گداگری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ شہر کو اس لعنت سے پاک کیا جا سکے۔