Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • گوجرہ :کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ :کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگارعبدالرحمن جٹ)کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ کے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے باہر آوارہ کتوں کی موجودگی نے شہریوں کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ باغی ٹی وی کے نامہ نگار عبد الرحمن جٹ کے مطابق، یہ آوارہ کتے دفتر کے باہر موجود رہتے ہیں اور آنے جانے والے لوگوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ حال ہی میں، ایک وکیل میاں شرجیل اشرف اس وقت آوارہ کتوں کا نشانہ بنے جب وہ اپنی موٹر سائیکل پر دفتر جا رہے تھے۔ کتوں کے حملے کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہو کر اپنی موٹر سائیکل سے گر گئے، جس سے ان کے کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور انہیں دیگر چوٹیں بھی آئیں۔

    شہریوں نے انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی گوجرہ کی آوارہ کتوں کو تلف کرنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تھوڑے دن پہلے، گوجرہ میں ایک شخص کتے کے کاٹنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر گوجرہ کچہری اور شہر کے پارکوں سے آوارہ کتوں کو تلف کریں تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

  • بیوی کے قتل کا الزام،شوہر جیل میں اور بیوی کی نئے عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں

    بیوی کے قتل کا الزام،شوہر جیل میں اور بیوی کی نئے عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں

    کبھی کبھی حقیقت افسانے سے بھی زیادہ حیران کن ہوتی ہے، اور کرناٹک کے ضلع کوڈاگو کے ایک چھوٹے سے گاؤں بسونہلی میں پیش آنے والا واقعہ اس کی زندہ مثال ہے۔

    یہ کہانی ہے سُریش کی، جو اپنی بیوی ملیگے کے ساتھ ایک پُرامن زندگی گزار رہا تھا۔ سال 2019 میں ملیگے اچانک لاپتہ ہو گئی۔ سُریش نے ہر جگہ تلاش کیا، خاندان سے رابطے کیے، اور اُسے ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اُسے کچھ لوگوں سے ملیگے کے مبینہ غیر ازدواجی تعلقات کی باتیں سننے کو ملیں، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔سُریش نے اپنی بیوی سے التجا کی کہ وہ بچوں کی خاطر کم از کم رابطے میں رہے، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ دو سال بعد، 2021 میں، اس نے کشالن نگر پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔

    2022 میں پولیس نے سُریش کو اطلاع دی کہ بیٹّا پورہ (تحصیل پیریا پٹنہ) کے قریب ایک انسانی ڈھانچہ ملا ہے، جو ان کی بیوی ملیگے کا ہو سکتا ہے۔ سُریش اپنی ساس کے ہمراہ موقع پر پہنچا، اور پولیس کے مطابق وہی ملیگے کی باقیات تھیں۔ دل شکستہ سُریش نے اُس ڈھانچے کی آخری رسومات ادا کیں۔مگر جلد ہی حالات نے نیا موڑ لیا۔ پولیس نے سُریش کو ہی بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اس کی تمام تر تردیدوں کے باوجود، اُسے جیل بھیج دیا گیا۔بعد ازاں، فرانزک لیب سے آنے والی ڈی این اے رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ وہ باقیات ملیگے کی نہیں تھیں۔ سُریش کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا۔

    برسوں بعد، زندہ بیوی اور نیا عاشق
    1 اپریل 2025 کو یہ کہانی ایک اور چونکا دینے والے موڑ سے گزری، جب سُریش کے دوستوں نے ملیگے کو مدی کیری کے ایک ہوٹل میں اپنے نئے عاشق کے ساتھ دیکھا۔ وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ انہوں نے تصاویر لے کر فوراً پولیس کو اطلاع دی۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملیگے کو حراست میں لے لیا اور اُسے میسورو کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    اب کئی سوالات جنم لے چکے ہیں،پولیس نے بغیر مکمل فرانزک تصدیق کے سُریش کو کیسے مجرم ٹھہرایا؟ملیگے کہاں غائب تھی، اور کیوں؟اُس نے اپنے شوہر اور بچوں کو کیوں چھوڑا؟اور کیا وہ جان بوجھ کر سُریش کو پھنسانا چاہتی تھی؟یہ معاملہ اب پولیس تفتیش کے تحت ہے، مگر سُریش کی زندگی میں جو اندھیرے کے سال گزرے، اُن کا حساب شاید کوئی عدالت بھی نہ چُکا سکے۔

  • 2005میں شادی،دو بچے،پھر بھی بیوی پر شک،سر پرہتھوڑا مار کر کیا قتل

    2005میں شادی،دو بچے،پھر بھی بیوی پر شک،سر پرہتھوڑا مار کر کیا قتل

    شوہر نے بیوی پر شک کرتے ہوئے سر پر ہتھوڑا مار کر قتل کر دیا

    واقعہ بھارت کا ہے،نوئیڈا کے سیکٹر 15 میں جمعہ کے روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں 55 سالہ شخص نے بیوی پر ناجائز تعلقات کا شک ہونے پر اسے ہتھوڑے سے مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نوراللہ حیدر نے بحث کے دوران اپنی بیوی اسماء خان کے سر پر ہتھوڑے سے حملہ کیا، جس سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔پولیس حکام نے بتایا کہ مقتولہ 42 سالہ اسماء خان ایک سافٹ ویئر انجینئر تھیں اور نوئیڈا کے سیکٹر 62 میں واقع ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں۔ وہ دہلی میں مقیم تھیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر چکی تھیں۔ نوراللہ حیدر، جو بہار سے تعلق رکھتا ہے، خود بھی انجینئرنگ کا گریجویٹ ہے لیکن اس وقت بیروزگار ہے۔

    دونوں کی شادی 2005 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بچے ہیں ، ایک بیٹا جو انجینئرنگ کا طالب علم ہے اور ایک بیٹی جو آٹھویں جماعت میں پڑھتی ہے۔واقعے کی اطلاع سب سے پہلے جوڑے کے بیٹے نے پولیس کو دی، جب اُس نے 112 ایمرجنسی نمبر پر فون کیا۔ پولیس ٹیم اور فرانزک ماہرین فوراً موقع پر پہنچے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ نوراللہ حیدر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر پولیس رامبدن سنگھ نے میڈیا کو بتایا،”ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ نوراللہ کو اپنی بیوی پر ناجائز تعلقات کا شک تھا۔ ہم نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔”مقتولہ کے برادر نسبتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،”بیٹی نے مجھے صبح فون کر کے واقعے کے بارے میں بتایا۔ دونوں کے درمیان کئی دنوں سے جھگڑے ہو رہے تھے، لیکن کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بات یہاں تک پہنچ جائے گی۔”پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا واقعہ پہلے سے منصوبہ بند تھا یا اچانک جذبات کی رو میں آ کر کیا گیا اقدام،
    مزید تفصیلات آنے تک پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کا موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

  • شادی سے چند روز قبل منگیترکی جان لینے والی دلہن گرفتار

    شادی سے چند روز قبل منگیترکی جان لینے والی دلہن گرفتار

    خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک لڑکی نے مبینہ طور پر شادی سے چند روز قبل اپنے منگیتر کو قتل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ حیات آباد کے فیز 6 کے علاقے بونیر میں پیش آیا جہاں 27 مارچ کو نوجوان ابراراللّٰہ کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ مقتول ابراراللّٰہ کی شادی 6 اپریل کو طے تھی، اور وہ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا۔حیات آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور شواہد کی روشنی میں مقتول کی منگیتر کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق قتل میں لڑکی کا ایک مرد دوست بھی ملوث ہے جسے بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ابراراللّٰہ کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزمہ اور اس کا دوست مقتول کے ساتھ کسی تنازع کا شکار تھے، تاہم مکمل تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور جلد ہی اصل محرکات اور پس منظر سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ اس اندوہناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور مقتول کے اہل خانہ انصاف کے متقاضی ہیں۔

  • سیالکوٹ کے گاؤں کوٹلی مرلاں میں 6 ماہ کے دوران دوسری بہو قتل

    سیالکوٹ کے گاؤں کوٹلی مرلاں میں 6 ماہ کے دوران دوسری بہو قتل

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) سیالکوٹ سرکل ڈسکہ کے تھانہ موترہ کے علاقہ کوٹلی مرلاں میں ایک ہی گاؤں میں 6 ماہ کے دوران دوسری جوان سالہ بہو کو قتل کر دیا گیا۔

    تھانہ موترہ کے علاقہ کوٹلی مرلاں میں شوہر نے 24 سالہ بیوی مریم کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ مقتولہ مریم کے والد کے مطابق ایک سال قبل بیٹی کی شادی واجد علی سے ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد سسرال میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور آئے روز لڑائی جھگڑے ہوتے تھے۔ تاہم وہ بیٹی کو سسرال میں خوش اسلوبی سے زندگی گزارنے کی تلقین کرتے رہے تھے۔

    اسی گاؤں کوٹلی مرلاں میں چند ماہ قبل سسرالیوں نے زارا نامی بہو کو قتل کر کے اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے سیوریج نالہ میں پھینک دیے تھے۔

  • کراچی،ڈاکوؤں کے ہاتھوں حاملہ خاتون قتل

    کراچی،ڈاکوؤں کے ہاتھوں حاملہ خاتون قتل

    کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے حاملہ خاتون جاں بحق ہو گئی.

    باغی ٹی وی کے مطابق سائٹ سپر ہائی وے کے علاقے فقیرہ گوٹھ میں فائرنگ سے تین بچوں کی ماں کو ڈاکوؤں نے گولی مار کر جان لے لی۔ ڈاکوؤں نے مزاحمت پر گولی ماری۔شوہرنے بتایا کہ صائمہ حاملہ تھی جسے اسپتال لیکر جارہا تھا، ایک موٹرسائیکل پر 2 ملزمان آئے اور لوٹ مار کے دوران مزاحمت ہوئی۔مقتولہ کے شوہر عرفان نے بتایا کہ ملزمان نے میرا موبائل چھین لیا تھا، اہلیہ صائمہ کا پرس چھین رہے تھے، میری اہلیہ صائمہ نے ڈاکو کو دھکا دیا تو وہ گر گیا۔

    ملزمان نے میری اہلیہ پر فائرنگ کی اور فرار ہوگئے، مقتولہ کے شوہر عرفان آبدیدہ ہو گئے کہ میرے چھوٹے چھوٹے تین بچے ہیں اب ان کو کون سنبھالے گا۔شوہر نے مطالبہ کیا کہ اعلی حکام سے اپیل ہے کہ ڈاکوؤں کو پکڑا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔واضح رہے کہ کراچی میں رواں برس ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 26 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

    بی ایل اے،بی وائی سی، اختر مینگل ، دہشت گردی کا نیا گٹھ جوڑ بےنقاب

    چین نے امریکہ پر جوابی ٹیرف عائد کر دیا

    خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

  • میرپورخاص:غیرت کے نام پر وحشت،حاملہ بیوی اور 2 معصوم بچوں کو زندہ جلا دیا

    میرپورخاص:غیرت کے نام پر وحشت،حاملہ بیوی اور 2 معصوم بچوں کو زندہ جلا دیا

    باغی ٹی وی :میرپور خاص سے دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں غیرت کے نام پر سفاکیت کی انتہا کر دی گئی۔ ایک شخص نے اپنی 7 ماہ کی حاملہ بیوی اور دو معصوم بچوں (5 اور 8 سال) کو ہاتھ پیر باندھ کر زندہ جلا دیا۔ اس وحشیانہ عمل نے انسانیت کو شرمسار کر کے رکھ دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزم ویجھو بھیل نے اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا۔ واقعہ میرپور خاص کے ایک علاقے میں پیش آیا اور پولیس نے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شوہر نے تفتیش کے دوران "غیرت” کے نام پر قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسے شک تھا جو اسے اس قدم تک لے گیا۔

    میڈیکو لیگل افسر کی رپورٹ نے واقعے کی ہولناکی کو مزید بے نقاب کیا۔ خاتون اور بچوں کے ہاتھ پیر رسیوں سے بندھے ہوئے تھے جب انہیں آگ کے حوالے کیا گیا۔ جسموں پر تشدد کے گہرے نشانات بھی ملے، جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ موت سے پہلے انہیں شدید اذیت دی گئی۔

    پولیس نے خاتون کے بھائی کی درخواست پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • لاہور :3 ماہ میں 27  خواتین قتل، 151 سےزیادتی اور 1100 اغوا

    لاہور :3 ماہ میں 27 خواتین قتل، 151 سےزیادتی اور 1100 اغوا

    لاہور (باغی ٹی وی)خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی لہر، 3 ماہ میں 27 قتل، 151 زیادتی اور 1100 اغوا

    تفصیلات کے مطابق پنجاب کا دل کہلانے والا شہر لاہور ان دنوں خوفناک جرائم کی لپیٹ میں ہے، جہاں خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین واقعات نے شہریوں کو دہشت زدہ کر دیا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے تازہ اعداد و شمار نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے، رواں سال جنوری سے مارچ تک محض تین ماہ میں 27 خواتین قتل، 151 سے زیادتی اور 1,182 اغوا ہوئیں۔ ان میں سے 988 کو تو بازیاب کرا لیا گیا، لیکن 194 اب بھی لاپتا ہیں.

    خوف کی یہ داستان صرف خواتین تک محدود نہیں۔ ان تین ماہ میں 138 بچوں کو اغوا کیا گیا، جن میں سے 14 کے بارے میں اب تک کچھ پتا نہیں۔ زیادتی کے واقعات نے بھی انسانیت کو شرمسار کیا،خواتین کے ساتھ 151 اور بچوں کے ساتھ 47 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    پولیس نے دعویٰ کیا کہ خواتین سے زیادتی کے 110 ملزمان کو دھر لیا گیا، لیکن 41 اب بھی قانون کے ہاتھوں سے باہر ہیں۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے 44 ملزمان گرفتار ہوئے، مگر 3 فرار ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جرائم کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

    پولیس حکام نے "زیرو ٹالرنس” کا راگ الاپتے ہوئے کہا کہ بیشتر مقدمات حل کر لیے گئے ہیں۔ لیکن ماہرین سماجیات اسے شہر کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔ شہریوں میں خوف اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے اور عوام حکام سے فوری انصاف اور بہتر تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا لاہور واقعی "پیرس آف پاکستان” رہ گیا، یا اب یہ صرف جرائم کی کہانیوں کا شہر بن کر رہ جائے گا؟

  • ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے معلومات لیکر ڈکیتی اور اغوا ، 2 جعلی پولیس اہلکار گرفتار

    ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے معلومات لیکر ڈکیتی اور اغوا ، 2 جعلی پولیس اہلکار گرفتار

    ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرکے ڈکیتی اور اغوا کرنے والے 2 جعلی پولیس اہل کار گرفتار کرلیے گئے۔

    ترجمان کراچی ایسٹ پولیس کے مطابق ملزمان ڈیجیٹل سائٹس کا ڈیٹا چوری کرکے صارفین کے گھر پہنچتے تھے اور جعلی پولیس وردی میں اپنا تعارف کرواکر گھروں میں گُھس جاتے تھے۔ملزمان کسٹمرز کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور ڈکیتی کی وارداتیں سرانجام دیتے تھے۔گاڑی میں واردات کرنے والے ملزمان گھروں سے قیمتی اشیا کا صفایا کرتے تھے۔ اسی دوران ملزمان شہری کو اغوا کرکے مختلف اے ٹی ایمز پر لے جاکر رقم بھی نکلواتے تھے۔

    ترجمان کے مطابق جائے وقوع سے موصول سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے شناخت کے بعد ملزمان کو گرفتارکیا گیا ہے۔ملزمان سے 2 غیر قانونی 30 بور پسٹلز بمعہ ایمونیشن، موبائل فونز، ایل ای ڈی اور گھڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔گرفتار ملزمان سے جعلی پولیس یونیفارمز سمیت جعلی نمبر پلیٹ لگی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں بلاول خلجی اور سید وقاص حسین شامل ہیں۔

    کراچی میں کل سے گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان

    غیر ملکیوں کے خلاف ایکشن، جڑواں شہروں سے 60 افغان گرفتار

    مارچ کے مہینے میں تجارتی خسارے میں کمی ریکارڈ کی گئی

    مراد علی شاہ کا شاہراہ بھٹو کا دورہ، بروقت تکمیل پر زور

  • یونان میں تارکین وطن کی ایک اور کشتی ڈوب گئی، 7 افراد ہلاک

    یونان میں تارکین وطن کی ایک اور کشتی ڈوب گئی، 7 افراد ہلاک

    یونان میں تارکین وطن کی ایک اور کشتی ڈوب گئی جس میں 2 خواتین سمیت 7 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یونانی کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ کشتی حادثہ لیسبوس جزیرے کے قریب پیش آیا، جہاں 31 افراد سوار تھے ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سمندر سے 23 افراد کو بحفاظت نکال لیا، تاہم مزید افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، حکام کے مطابق، ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، کشتی کو حادثہ کیسے پیش آیا، اس کی وجوہات معلوم کی جا رہی ہیں۔

    یہ حادثہ ایک بار پھر یورپ میں غیر قانونی مہاجرت کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کرتا ہے، جہاں مہاجرین بہتر زندگی کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر اختیار کرتے ہیں اس سے قبل بھی یونان میں تارکین وطن کی کشتیوں کے درجنوں حادثات سامنے آچکے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں تارکین وطن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں دریافت کر لی

    باغبانپورہ قبرستان سے لڑکی کی لاش ملنے کے معاملے میں اہم انکشافات

    سونا ایک بار پھر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا