شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی )گردونواح میں ڈکیتی،چوری اور رہزنی کی وارداتیں جاری،تھانہ بھکھی کے علاقہ نواں کوٹ میں 3مسلح موٹر سائیکل سوارڈاکوؤں نے تاجر عثمان کے گھر میں گھس کر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر اؤڈیڈھ لاکھ روپے کے کرنسی نوٹ،15تولہ طلائی زیورات لوٹ کرفرار
تھانہ ماڈل سٹی اے ڈویژن کے مقامی صلاح الدین روڈ کی آبادی کھوکھرمحلہ میں 3مسلح ڈاکوؤں نے تاجر حفیظ چوہان کے گھر میں گھس کر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات اورنقدی لوٹ کرفرار،تھانہ بھکھی کے علاقہ مین بازارمیں واقعہ عدیل نامی شخص کی دکان کے ایگزاسٹ فین کے راستہ سے داخل ہوکر نامعلوم چوروں نے 1لاکھ28ہزار روپے کمیٹی کی رقم نکال کرفرارہوگئے۔
شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی ) غازی منارہ میں کرکٹ کھیلنے کے تنازعہ پر لڑائی جھگڑا کے دوران دونوں ٹیموں میں چھریاں چل گئیں چھریاں لگنے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک نوجوان جان بحق2لہولہان،زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپورہ کے ایمرجنسی میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں پران کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ پولیس نے لاش کو تحویل میں لینے کے بعدمردہ خانہ لاش منتقل کرکے تفتیش شروع کردی ہے،بتایا گیا ہے کہ غازی منارہ گراؤنڈ میں دورشتہ داروں کے نوجوان گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے ہوئے معمولی تلخ کلامی پر آپس میں لڑ ائی جھگڑا شروع کردیا اسی جو طول پکڑ گیا اور دوران لڑائی جھگڑا چھریاں چل گئیں جس سے 3نوجوان شدید زخمی ہوگئے جن میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 21سالہ نوجوان عمر دراز جان کی بازی ہارگیاجبکہ انس اور ارسلان کو طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپورہ کے ایمرجنسی میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں پران کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے،
صدر شیخوپورہ پولیس نے لاش کو ضروری کارروائی کے لیے مردہ خانہ منتقل کردیا ہے پولیس کے مطابق مقتول پارٹی کی جانب سے دی جانے والی تحریری درخواست کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
پاکستان کے صف اول کے صحافی اور سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے قصور جنسی اسکینڈل کے سلسلے میں پولیس کی سستی اور خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا ہے-
باغی ٹی وی : سینئیر صحافی مبشر لقمان نے اپنے آفیشل یوٹویب چینل پر جاری ویڈیو میں قصور میں میڈیکل کالج میں سو سے زائد طالبات کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی پر پولیس کی جانب سے خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کی روک تھا م کے لئے کوئی واضح قانون بنائے-
مبشر لقمان نے کہا کہ گزشتہ سال معصوم بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا اور اس وقت بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے واویلا کیا تھا جس کی وجہ سے قاتل پکڑا گیا اور اس کو سزا ہو گئی اور اسکے قاتل اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور ہمارے پاکستان کی بچیاں محفوظ ہوئیں اورحکومت کی کوشش سے باقاعدہ قانون کی پاس ہوا ۔
لیکن اب پھر وہ ٹائم آ گیا ہے کہ میں دوبارہ آپ کے اوپر زور لگاؤں تاکہ اس مسئلے پر پوری طرح قانون سازی ہو سکے اب اسی طرح کا ایک اور واقعہ زینب انسٹی ٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں قصور شہر میں رونما ہوا ہے اور اب پھر جس میں بتایا جارہا ہے کہ سو سے زائد بچیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور ان کو پیپرز میں پاس کرنے کے نام پر زیادتی کی گئی ہے اور معصوم بچیوں کے مستقبل کو اور ان کی زندگیوں کو داﺅ پر لگایا گیا ہے۔
اور اس حوالے سے جس بچی نے بھی آواز بُلند کرنے کی کوشش کی اس کو عبرت کا نشانہ بنایا گیا-پنجاب پولیس نے تاحال صرف دو ایف آئی آر دو معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی درج کی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں 100 سے زائد بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے ان کے ساتھ ظلم کیا گیا جبر کیا گیا اور یہ ظلم ان بچیوں کے ساتھ بار بار کیا گیا-
مبشر لقمان کے مطابق کہ اب پنجاب حکومت پپو نلکا نامی اس جنسی درندے کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی کیونکہ اس بہروپیے نے ایک جعلی صحافی کا بھی روپ دھار رکھا ہے لیکن اب وہ جعلی صحافی ہے یا اصلی صحافی ہے وہ بہروپیہ ہے یا کطھ لیکن اس کا اثرو رسوخ ہے کہ پنجاب پولیس اس کے خلاف پرچہ کاٹنے میں ہچکچا رہی ہے-
انہوں نے پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ س طرح کرنا پنجاب پولیس کی پُرانی روایت ہے سینئیر صحافی نے مزید کہا کہ وہ خود بھی پولیس کے پاس دو مرتبہ پرچہ کروانے کے لئے جا چُکے ہیں لیکن انہوں نے پرچہ نہیں کیا دو سال سے درخواستیں پڑی ہوئی ہیں وہاں-
مبشر لقمان نے بتایا کہ اہل علاقہ بنگلہ کمبوواں و متاثرین زینب انسٹی ٹیوٹ میڈیکل کالج قصور کا کہنا ہے کہ قصور کا میڈیا جس طرح زینب والے معاملے پر شروع سے خاموشی اختیار کئے ہوا تھا تاہم جب قومی میڈیا پر جب بات آئی تو عوام کو حقائق کا علم ہوا۔ایک بار پھر قصو ر کا مقامی میڈیا پپو نلکا جیسے بھیڑیا کو سپورٹ کررہا ہے جس میں پولیس بھی اس کی مدد کرنے میں سرفہرست ہے۔
مبشر لقمان نے خیال ظاہر کیا کہ اس سب کا مطلب ہے کہ پیسوں کا لین دین ہو رہا ہے اور مجرموں سے پیسے لے کر مسب کو چُپ کروایا جا رہا ہے اب اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کون کون کس جگہ پر صحافت کے نام پر کیا کیا کر رہا ہے-
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پپو نلکا نرسنگ کی طالبات کو واٹس ایپ پرمیسیج کرکے اپنے کمرے میں بلاتا تھا اور اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس وہ واٹس ایپ چیٹ بھی موجود ہے جن میں وہ لڑکیوں کو اپنے پاس بلانے کے لئے ڈراتا دھمکاتا اور پیپرز میں پاس کرنے کا لالچ دیتا تھا اور اس کی مبینہ آڈیو بھی ان کے پاس آ چکی ہے لیکن اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ان پر لازم ہے کہ وہ سب کے سامنے پیش نہ کریں لیکن یقین کریں کہ وہ اتنی غلیظ اور غلاظت سے بھر پور ہے کہ اگر آپ اور خاص طور پر والدین سنیں گے تو کانپ جائیں گے کہ ابھی تک اس کے اوپر پرچہ کیوں نہیں ہو رہا –
سینئیر صحافی نے ویڈیو میں میڈیکل کالج کے بارے میں مزید انکشاف کیا کہ اس کالج کا لائسنس جعلی ہے اور اس کالج نے سینکڑوں طالبات کو جعلی ڈگریاں جاری کی ہیں جس پر مقامی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران بھی اس پر کاروائی کرنے پر گریزاں ہیں پتہ نہیں کس کس کو مہینہ جاتا ہفتہ جاتا ہے-
مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ اگر اس درندے کے خلاف اگر جلد از جلد کاروائی نہیں ہوتی تو آپ سوچیں کہ معاشرے کے اندرلوگوں کی عزتیں محفوظ رہ سکیں گی لوگ کیا سکول ، یونیورسٹیز اور کالج میں اپنی بچیوں کو بھیج سکیں گے-
انہوں نے بتایا کہ دو ایف آئی آر درج ہوئیں جبکہ باقی درخواستوں پر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تاہم بعد ازاں باغی ٹی وی کی جانب سے خبر ریلیز ہو نے کے بعد قصور پنجاب پولیس کا موقف بھی سامنے آ یا، پنجاب پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ الزامات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے-جس میں کہا گیا ہے کہ 2 طالبات کو ہراساں کیا گیا جن کی شکایات پر مقدمات درج کر لیے گئے تھے ۔ مزید الزامات کی تحقیقات کے لیے مندرجہ ذیل افسران پر مشتمل ایک مشترکہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جن میں یہ افسران شامل ہیں-
1. ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (چیئرمین)
2. ایڈیشنل ایس پی ، قصور
3۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ڈی ایچ او قصور
مسز بشری انور ، پرنسپل اسکول آف نرسنگ ، ڈی ایچ کیو ، قصور
کمیٹی 3 دن میں مثبت جانچ پڑتال اور سفارشات اور گزارشات پر مبنی رپورٹ کرے گی جس کے حوالے سے تفتیش جاری ہے سینئیر صحافی نے اس کمیٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی اور اس میں افسران کا مطلب یہ ہے کہ چھیچھڑوں کی رکھوالی پربلی کو بٹھا دینے والا حساب ہے –
اینکر پرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور مقامی صحافی اتنے بڑے مجرم کو بچانے کے لئے زور لگا رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کسی طرح بچ جائے جس کے اوپر الزام ہے کہ 100 سے زائد بچیوں کے ساتھ زیادتی کی-
مبشر لقمان نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ نہ صرف اس ویڈیو کو اتنا پھیلائیں کہ ہر آدمی کو پتہ چلے کہ اور یہ لوگ بے نقاب ہوں بلکہ ان کو پناہ دینے والے ان کی پشت پناہی کرنے والے ان کو بچانے والے جو لوگ اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں پولیس والا کہتا ہے سول سوسائٹی والا کہتے ہیں وہ سب کے سب بے نقاب ہوں اور ان سب کے اوپر بھی پرچے ہوں-
سینئیر صحافی نے کہا کہ بچیوں کے اس معاملے پر آرام سے سونا نہیں ہے بچیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں یہ آپ کی بھی ہیں میری بھی ہیں مبشر لقمان نے کہا کہ وہ بچیوں کا نام نہیں لینا چاہتے اور واٹس ایپ چیٹس نہیں دکھا سکتے کیونکہ بہرحا ل ان کی بھی عزت ہے اللہ تعالیٰ ان کی عزتیں قائم رکھیں لیکن اس مسئلے کا سب سے بڑا پوائنٹ یہ ہے کہ حکومت اور پنجاب پولیس اس واقعے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور مجرموں کوچھوڑنے کا یا انہوں نے پورا ایک طریقہ کار بنایا ہوا ہے –
انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس جو بھی میڈیا پر ہے سوشل میڈیا پر ہے اس واقعے کو خود سے اپنی زبانی شئیر کریں تاکہ وہ مجرم اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ے نقاب ہوں-
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علاقہ تھانہ مانگٹانوالہ کے نواحی گاوں ماسو شریف میں رانا شہزاد ولد ذوالفقار کو ملک منا اور دانش نے گھر سے بلا کر کھیتوں میں لیجا کر قتل کر دیا۔ملک منا دانش کا داد ہے۔ دونوں نے غیرت کے نام پر شہزاد کا قتل کیا۔ تھانہ مانگٹانوالہ پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی۔
ڈی پی او ننکانہ اسماعیل کھاڑک کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات میں ملوث ملزمان ناقابل معافی ہیں، انصاف کے تقاضوں کو یقینی بناتے ہوئے میرٹ پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
13 سالہ لڑکی سے 24 گھنٹوں میں 9 افراد کی دو دو بار اجتماعی زیادتی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیشیا میں اجتماعی زیادتی کا خوفناک واقعہ پیش آیا ہے 13 سالہ لڑکی کو 24 گھنٹوں سے کم وقت میں 9 افراد نے دو مرتبہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ، لڑکی بری طرح سے ذہنی تناﺅ کا شکار ہے اور ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہی ہے ۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق لڑکی نے اپنا بیان قلمبند کروا دیا ہے اور پولیس نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 9 میں سے 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر دو کی بھی تلاش جاری ہے
13 سالہ لڑکی 9 جماعت کی طالبعلم ہے جو کہ 11 جنوری کو شام کے وقت کچھ سامان لینے کی غرض سے باہر گئی لیکن اسے دو ٹرک ڈرائیورز نے اغواءکر لیا اور جنگل میں لے گئے جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، ٹرک ڈرائیورز نے اسے باندھ کر اپنی گاڑی میں ڈالا اور یرغمال بنا کر ایک ڈھابے پر پہنچے ، ڈھابے پر لڑکی کو دوبارہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس جرم میں دیگر چار ٹرک ڈرائیورز کے علاوہ ڈھابے کا مالک بھی شامل ہوا ۔
لڑکی کو یرغمال بنا کر رکھا گیا اور پوری رات اس کے ساتھ یہ گھناﺅنا کھیل کھیلا جاتا رہا یہاں تک کہ لڑکی اپنے حواس ہی کھو بیٹھی ، ٹرک ڈرائیورز نے اگلی صبح اسے واپس باندھ کر گاڑی میں ڈالا اور سفر پر نکل پڑے ،ٹرک ڈرائیورز کا لڑکی کے ساتھ مزید گھناﺅنا کھیل کھیلنے کا پلان تھا ، لڑکی نے ہوش آنے پر ان کی منت سماجت کی اور چھوڑنے کیلئے کہا ، لڑکی کی منت سماجت کے باوجود اسے ڈرائیور نے چلتے ٹرک کے اندر ہی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اسے سڑک کے درمیان ہی پھینک کر فرار ہو گئے ۔
13 سالہ لڑکی کے ساتھ گھناﺅنا کھیل یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ جب وہ سڑک پر زخمی حالت میں پڑی لوگوں سے مدد طلب کر رہی تھی تو کسی نے اس کی مدد نہ کی ، اسی وقت ایک اور ٹرک وہاں آن پہنچا جس نے لڑکی کو ٹرک میں بٹھایا اور عمریا کی جانب چل پڑا ، اس ٹرک ڈرائیور نے بھی لڑکی کی مدد کرنے کی بجائے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور شہر میں پھینک کر فرار ہو گیا ۔
لڑکی کے والدین کا کہناہے کہ جب ان کی بیٹی ساری رات گھر نہیں آئی تو انہوں نے پولیس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ، ٹرک ڈرائیور نے عمریا شہر کے قریب لڑکی کو پھینکا جہاں لڑکی نے قریب ہی موجود پولیس اہلکاروں سے مدد طلب کی اور اسے ہسپتال پہنچایا گیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی ذہنی دباﺅ کا شکار ہے اور اس کا علاج جاری ہے ۔لڑکی کو 20 گھنٹے تک ڈاکٹرز کی جانب سے کونسلنگ فراہم کی گئی جس کے بعد وہ بولنے پر تیار ہوئی ،
کونسلنگ کے دوران لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ جن 9 افراد نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے ان میں سے 5 افراد نے چار جنوری کو بھی اس کے ساتھ یہی گھناﺅنا کھیل کھیلا تھا لیکن خوف کے باعث وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکی۔ پولیس نے بتایا کہ انہیں افراد نے ایک ہفتے کے بعد لڑکی کو گھات لگا کر دوبارہ اغواءکیا ،
ڈاکٹرز کا کہناہے کہ لڑکی اندرونی طور پر زیادہ زخمی نہیں ہے لیکن پھر بھی اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا ۔
کراچی سے داعش کو شام میں فنڈنگ بھجوائے جانیکا انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد نے کہا ہے کہ کراچی سے پیسے جمع کرکے داعش کو شام بھیجے جارہے تھے،
عمر شاہد کا کہنا تھا کہ لوگوں سے اس اکاؤنٹ میں پیسے منگوا کر حیدرآباد میں ساتھی کے ذریعے بھیجے جاتے تھے ،حیدرآباد میں ملزم ضیاء پیسوں کو ڈالر اور پھر بٹ کوائن میں منتقل کرکے شام منتقل کرتا تھا
قبل ازیں کراچی میں سی ٹی ڈی نے دہشتگرد تنظیم داعش کیلئے فنڈنگ کرنےوالے مرکزی ملزم عمر بن خالد کو گرفتار کر لیا تھا،عمربن خالد کراچی کی انجینئرنگ یونیورسٹی کا طالبعلم تھا۔ سی ٹی ڈی نے فارنزک رپورٹ کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ملزم کے موبائل فونز سے اہم شواہد ملے تھے۔ ملزم سیریا اور پاکستان میں موجود داعش دہشتگردوں سے رابطے میں تھا۔ ملزم مختلف ذرائع سے داعش کی فنڈنگ کرتا تھا۔
خیرپورمیں سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی و قتل کیس، پولیس کا اہم کامیابی کا دعویٰ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے علاقے خیرپور میں سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کی تفتیش میں پولیس نے اہم کامیابی کا دعویٰ کیا ہے
پولیس کا کہنا ہے کہ سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کیس میں ایک مشکوک ملزم کا ڈی این اے مقتولہ بچی سے میچ کرگیا ہے،پولیس نے 365 سے زائد مشکوک افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے تھے جس ملزم کا ڈی این اے میچ کیا وہ بچی کا رشتے دار ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں
ڈی آئی جی فدا حسین مستوئی کے مطابق کیس کے حوالے سے24 گھنٹے بہت اہم ہیں، جلد ملزم کا سراغ لگا لیں گے اور قاتل جلد قانون کی گرفت میں ہوگا
ے ضلع خیرپور میں نامعلوم ملزمان نے سات سالہ بچی کا ریپ کرنے کے بعد گلا دبا کر قتل کردیا اور لاش کھیتوں میں پھینک دی۔ واقعہ خیرپور کے علاقہ پیرجو گوٹھ میں پیش آیا ہے۔ واقعہ سے متعلق ایک ویڈیو بھی وائرل ہوگئی ہے جس میں بچی کا باپ لاش ملنے پر اس کے ساتھ لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق کمسن بچی دو دن قبل لاپتہ ہوگئی تھی۔ پولیس نے اس کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی امیر سعود مگسی نے بتایا کہ ان کی اہل خانہ سے ملاقات ہوئی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور شواہد اکھٹے کیے جاچکے ہیں جبکہ ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے نمونے لیے جا چکے ہیں۔
بچی کو دو دن سے تلاش نہ کرنے کے سوال پر ایس ایس پی نے بتایا کہ اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ بچی کسی کے گھر کام کرتی تھی۔ والدین کو لگا کہ وہ کام والے گھر میں ہی موجود ہوں گی مگر آج انہوں نے پتہ کیا تو بچی وہاں بھی نہیں تھی۔ اس کے بعد کیس پولیس کے پاس آگیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی نواب وسان نے کہا کہ آئی جی اور مقامی پولیس سے بات ہوئی ہے۔ ملزمان کو جلد کٹھہرے میں لائیں گے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ کی جانب سے خیرپور میں اغواء کے بعد بچی کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کی گئی ہے جبکہ وزیراعلیٰ نے ملزمان کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی ) لاہور روڈ کی آبادی بیگم کوٹ میں دوشیزہ سے دوستی کے تنازعہ پر نوجوان کو اس کے دوست نے قتل کر ڈالا اینٹی آرگنائیزڈ کرائم سیل نے ایک سال قبل بیگم کوٹ میں قتل ہونے والے نوجوان سلیم کے قتل کا معمہ حل کر دیا ڈی پی او شیخوپورہ غلام مبشر میکن نے بتایا ہے کہ سلیم کو اس کے دوست رامیش نے یکم جنوری 2020ء کو ایک دوشیزہ سے دوستی کے تنازعہ پر فائر مار کر قتل کر دیا جس کے بعد خود بھی ملزمان کو تلاش کرنے والوں میں شامل رہنے کے بعد روپوش ہوگیا
گذشتہ روز رامیش کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ شدید دھند کے دوران روپ بدل کر اپنے گھر والوں کو ملنے بیگم کوٹ آیا ہوا ہے جس پر اینٹی آرگنائیزڈ کرائم سیل کے عملے نے انچارج چوہدری محمد لطیف گجر کی نگرانی میں علاقے کا محاصرہ کر کے اسے گرفتار کر لیا دریں اثناء تھانہ فیکٹری ایریا پولیس نے ڈکیتی اور راہزنی کے گیارہ مقدمات میں ملوث ملزم زین عرف زینی کو بھی گرفتار کر لیا ہے جس نے لاہور روڈ فیکٹری ایریا شرقپور شریف اور فیروز والا کے علاقہ میں یہ وارداتیں کی تھیں
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی )گردونوح میں ڈکیتی،چوری اور رہزنی کی وارداتوں کے نتیجہ میں شہریوں سے مال وزرچھین لیا گیا،تھانہ ہاوسنگ کالونی کے علاقہ لاہور روڈ کی آباد ی جوئیانوالہ موڑ کے قریب2مسلح ملزمان نے نوجوان وسیم سے اسکی موٹرسائیکل 6159ایل ای ایکس چھین کرفرار،اسی تھانہ کے علاقہ دودھ والی فیکٹری کے قریب2مسلح سلمان سے 18ہزار روپے نقدی موبائل فون چھین کرفرار،تھانہ بھکھی کے علاقہ باہومان کے قریب3مسلح اسد سے نقدی موبائل فون لے گئے،فیکٹری ایریا کے علاقہ پولکاچوک کے قریب2مسلح محنت کش عمران سے45ہزار روپے نقدی موبائل فون چھین کر فرار
تھانہ صدر شیخوپورہ کے علاقہ کالوکے سیم والی پلی کے قریب2مسلح علی احمد سے25ہزار روپے کے کرنسی نوٹ اورموبائل فون چھین کرفرار،تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ لیڈر شاپ کے قریب 2مسلح رضوان سے نقدی موبائل فون چھین کرفرار،اسی تھانہ کی حدود میاں ریاض کے ڈیرے کے قریب3مسلح ریاض سے اسکی موٹر سائیکل چھین کرفرار،فیروز والہ میں 3مسلح افراد اشفاق سے نقدی موبائل فون لے گئے اسی تھانہ کی حدود کالاخطائی روڈ سے احسان کی موٹر سائیکل چورلے اڑئے،ونڈالہ مین بازار میں 2مسلح شہزاد سے 30ہزار روپے نقدی اوردوقیمتی موبائل فون چھین کرفرارفیکٹری ایریا کے علاقہ منڈیالی سٹاپ کے قریب3مسلح تاجر ریاض سے نقدی موبائل فون اور اسکی موٹر سائیکل چھین کرفرار،حسن گارڈن گول چکر کے قریب2مسلح محنت کش اویس سے نقدی موبائل فون چھین کرفرار،رچناٹاؤن فیروز والہ میں 4مسلح افراد نے خالد وغیرہ راہگیروں سے نقدی موبائل فون چھین کرفرار،فیکٹری ایریا کے علاقہ میرج ہال کے باہر سے 2مسلح باراتیوں الطاف وغیرہ سے نقدی موبائل فون لے اڑئے،اسی تھانہ کی حدود خانپور نہر کے قریب3مسلح شہری علمدار سے نقدی موبائل فون لے اڑئے،اسی تھانہ کی حدود دوساکوچوک میں 4کار سواروں نعیم اور اسکی فیملی سے طلائی زیورات اورنقدی چھین کرفرار،تھانہ بی ڈویژن کے علاقہ جنڈیالہ روڈ میں 2مسلح عثمان سے نقدی موبائل فون چھین کرفرار،سٹی ہائی وے سے نامعلوم چورعثمان کی موٹرسائیکل چراکرفرار،لدھیکے میں نامعلوم چور محنت کش عارف کے گھر کے تالے توڑ کر گھر کا صفایاکرکے فرار،شرقپور شریف میں پانی والی فلٹر کے قریب شیخ علی اور سلمان خلیل کے گوداموں کے تالے توڑ کر نامعلوم چور قیمتی سامان لے اڑئے،بھکھی سٹاپ کے قریب فرینڈز شاپ کے شٹر اور تالے کاٹ کر نامعلوم چور6لاکھ روپے نقدی اوردیگر قیمتی سامان چرا کرفرار یادرہے کہ اسی دکاندار سے پہلے بھی تین مرتبہ ڈکیتی اور چوری کی واردات ہوچکی ہے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجہ سے دوبارہ واردات کاشکار ہوگئے۔
لاہور :اللہ کا شکرہے کہ اس نے بچالیا:ملتان سے لاہور کے لیے سفرکے دروان کیا ہوا:ایک دکھ بھری کہانی ،اطلاعات کے مطابق ملتان سے لاہور کے درمیان ایک دردناک سفر کی کہانی جہاں اس میں بیان کرنے والا اللہ کا شکر اداکررہے ہیں وہاں وہ ارباب حکومت اور پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے معیار اورکردار کے بارے میں بھی نوحہ کناں ہیں
یہ ایک ذمہ دار اور قابل احترام خاتون ہیں جن کا نام فخرہ رضوان ہے اور وہ جس طرح اپنی آب بیتی سناتی ہیں ، ان لوگوں کو ضرور سننی چاہیے جو ان کی طرح اعتماد کو کھو بیٹھتے ہیں،
محترمہ کہتی ہیںکہ !
میں اپنی گاڑی ٹویوٹا فارچیونر 2020 پر 16 جنوری 2021 کو ملتان کے قریب سے تقریبا شام چھ بجے گاڑی چلاتےہوئے گزررہی تھی کہ حادثے کا شکار ہوگئی ۔ ہم سب نے سیٹ بیلٹ پہنے ہوئے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ اچانک روڈ پر گنے والے ٹریکٹر ٹرالی سے گاڑی ٹکرا گئی ، یہ ٹریکٹر ٹرالی گنے کے ساتھ بھری ہوئی تھی گاڑی اسٹاپ پر آنے سے پہلے کئی بار ٹکرائی اور گر گئی
وہ کہتی ہیں کہ اس حادثے میں میں میرے والدین ، اور میری بیٹی سیدہ روباب عالی اور چھوٹی شہنشاہ کو کئی چوٹیں لگیں
* حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سامنے کی طرف ٹریکٹرٹرالی کے ساتھ کئی مرتبہ گاڑی ٹکرائی لیکن اس دوران گاڑی میں موجود کوئی بھی ائیر بیگ میں سے نہیں کھلا
وہ کہتی اسی وجہ سے سامنے کی چھت اور بونٹ کو نقصان پہنچا جس سے میرے والد اور مجھے شدید چوٹیں ، وہ کہتی ہیں کہ اگریہ ایئر بیگ کھل جاتے تو کبھی یہ چوٹیں نہ آتیں
وہ کہتی ہیں کہ سچ یہ ہے کہ ٹویوٹا فارچیونر ایک انتہائی قیمت والی ایس یو وی ہے جس کی قیمت 9 لاکھ ڈالر ہے
چونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹویوٹا جیسی کمپنیوں کی اجارہ داری لوگوں کو اپنی گاڑیاں خریدنے کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑتی ہے ، جو نہ صرف مہنگی ہوتی ہیں بلکہ ان گاڑیوں میں حفاظتی اقدامات بھی بہت کم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جان کو بہت زیادہ خطرات لاحق رہتے ہیں
وہ کہتی ہیں کہ اتنی قیمتی گاڑیاں رکھنے کےباوجود حفاظتی اقدامات کا نہ ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے
فرخندہ رضوان کہتی ہیں کہ کوئی آٹوموبائل مانیٹرنگ سسٹم پاکستان میں فعال ہے؟
وہ کہتی ہیں کہ
ریگولیٹر ، یا وزارت صنعت ، انجینئرنگ بورڈز ، پالیسی سازوں ، مسابقتی کمیشن ، وزیر اعظم،قابل احترام عدالتیں جو ان نام نہاد اعلی کار سازوں کے ذریعہ اطمینان بخش حفاظتی معیارات کو یقینی بناسکتی ہیں جو نہ صرف پیسوں سے صارفین کو محروم کرتی ہیں بلکہ انسانی زندگیوں کو مطلوبہ حفاظت فراہم نہیں کررہے ہیں؟