Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • حافظ آباد: شہریوں پر تشدد کی ویڈیو وائرل، 5 ملزمان گرفتار

    حافظ آباد: شہریوں پر تشدد کی ویڈیو وائرل، 5 ملزمان گرفتار

    حافظ آباد (باغی ٹی وی،خبرنگارشمائلہ) موضع ڈھلکے میں شہریوں پر بہیمانہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے مرکزی ملزمان کو گرفتار کروا دیا۔ تشدد، بدمعاشی اور شہریوں کو دھمکانے کے اس واقعے پر تھانہ کسیسے میں مقدمہ درج کر کے پانچ مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق احسان اللہ تارڑ ولد جعفر سکنہ سندھواں تارڑ کے ملازمان مرغیوں کی خریداری کے سلسلے میں موضع ڈھلکے کے ایک پولٹری فارم پر گئے۔ لین دین کے تنازع پر فارم کے عملے نے شہریوں کو دفتر میں بند کر کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں اور سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئیں تاکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلے۔

    ڈی پی او عاطف نذیر کی ہدایت پر پولیس تھانہ کسیسے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان شاہد عمران ولد غلام حسین، غلام رضا ولد خادم حسین، ثمر عباس ولد غلام عباس، قیصر عباس ولد محمد اسلم اور ملازم حسین ولد فقیر محمد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ڈی پی او نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، شہریوں پر تشدد یا بدمعاشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوام میں قانون کی عملداری اور تحفظ کا احساس قائم ہو۔

  • حافظ آباد: معمولی غیر حاضری،ساتویں جماعت کے طالبعلم پر استاد کا وحشیانہ تشدد

    حافظ آباد: معمولی غیر حاضری،ساتویں جماعت کے طالبعلم پر استاد کا وحشیانہ تشدد

    حافظ آباد (باغی ٹی وی) – گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول نمبر 5 میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ساتویں جماعت کے طالبعلم محمد طیب کو معمولی غیر حاضری پر استاد محمد فیاض نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچے کے جسم پر نازک مقامات پر واضح تشدد کے نشانات موجود ہیں جو استاد کے غیر انسانی رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق محمد طیب جمعہ کے روز بارش کے باعث یونیفارم استری نہ ہونے کی وجہ سے غیر حاضر رہا۔ سوموار 5 مئی کو جب وہ اسکول آیا تو ٹیچر محمد فیاض نے تمام تدریسی و اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے اس پر تشدد کیا۔

    متاثرہ بچے کے والد محمد محسن نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے حافظ آباد ٹراما سنٹر سے لیگل میڈیکل سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ صرف معافی کافی نہیں، قانون کو اپنا راستہ لینا چاہیے۔

    ذرائع کے مطابق استاد محمد فیاض متاثرہ خاندان سے معافی مانگنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن متاثرہ والد نے ڈپٹی کمشنر، سی ای او ایجوکیشن اور ڈی ای او سے فوری فوجداری اور محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    محمد محسن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے طلبہ پر تشدد کی مکمل ممانعت کے باوجود اس قسم کے واقعات کا پیش آنا نہایت تشویشناک ہے۔ شہری و سماجی حلقوں نے بھی واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے معصوم بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزم استاد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کوئی استاد اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال نہ کر سکے۔

  • سیالکوٹ: نجی ہسپتال کے کمرے سے نوجوان ڈاکٹر کی لاش برآمد، قتل کا مقدمہ درج

    سیالکوٹ: نجی ہسپتال کے کمرے سے نوجوان ڈاکٹر کی لاش برآمد، قتل کا مقدمہ درج

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ کے صدر بازار میں واقع ایک نجی ہسپتال کے کمرہ نمبر 206 سے نوجوان ڈاکٹر خرم امتیاز کی لاش پراسرار حالت میں برآمد ہوئی ہے۔ اطلاع ملنے پر کینٹ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے لیا، جبکہ فرانزک ٹیم نے بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔

    ڈاکٹر خرم امتیاز کی ہلاکت پر ان کے ماموں کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر خرم کو نامعلوم افراد نے نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر قتل کیا ہے۔

    پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے چھان بین کی جا رہی ہے اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

  • شکارپور: صحافی جان محمد مہر کا قاتل پولیس مقابلے میں مارا گیا

    شکارپور: صحافی جان محمد مہر کا قاتل پولیس مقابلے میں مارا گیا

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق لغاری)شکارپور میں صحافی جان محمد مہر کا قاتل پولیس مقابلے میں مارا گیا

    تفصیلات کے مطابق شکارپور کے کچے کے علاقے میں پولیس کی کارروائی کے دوران معروف صحافی جان محمد مہر کا مبینہ قاتل شیرو مہر ہلاک ہوگیا۔ شیرو مہر پر الزام تھا کہ وہ 14 اگست 2023ء کو سکھر میں پیش آنے والے صحافی کے بہیمانہ قتل میں مرکزی کردار تھا۔ شکارپور پولیس نے ڈرون کی مدد سے کارروائی کی جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور شیرو مہر مارا گیا۔

    ذرائع کے مطابق مقابلے میں شیرو مہر کا بیٹا، ایک خاتون اور نصر جتوئی کا بھائی سراج عرف سرو جتوئی بھی زخمی ہوئے۔ واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ پولیس نے صحافی کے قاتل کو اس کے انجام تک پہنچا دیا، یہ کارروائی قانون کی بالادستی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

    وزیر توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ پولیس کی بھرپور کوشش تھی کہ ملزم کو زندہ گرفتار کیا جائے تاہم مزاحمت کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب نے تصدیق کی کہ شیرو مہر مارا گیا، جبکہ اس کے بیٹے کی ہلاکت کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس آپریشن کے دوران متعدد ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی بھی خبریں ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ حکومت نے صحافی کے قتل میں مطلوب مرکزی ملزم کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے 7 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنائی گئی تھی جس میں آئی ایس آئی، ایم آئی، رینجرز، ایف آئی اے اور دیگر حساس اداروں کے افسران شامل تھے۔

  • پیرعادل:دربار واپسی پر زائرین کو حادثہ، خاتون جاں بحق، تین زخمی

    پیرعادل:دربار واپسی پر زائرین کو حادثہ، خاتون جاں بحق، تین زخمی

    پیر عادل،باغی ٹی وی(نامہ نگارباسط علی گاڈی) تھانہ شاہ صدر دین کی حدود میں افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں دربار پیر عادل کی زیارت کے بعد واپس جانے والے زائرین کی موٹرسائیکل کو تیز رفتاری سے آنے والی ٹریکٹر ٹرالی نے ٹکر مار دی۔ حادثہ پیر عادل دربار کے قریب اس وقت پیش آیا جب زائرین سڑک کراس کر رہے تھے۔

    حادثے کے نتیجے میں انور مائی زوجہ خادم حسین موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی جبکہ تین افراد حاجی شمیم ولد حاجی خادم، تاجو مائی زوجہ حاجی اصغر اور مانو بی بی زوجہ حاجی شمیم شدید زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو 1122 کو اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں، جہاں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی اور پھر انہیں مزید علاج کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حادثے کے بعد پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ واقعے نے علاقے میں افسوس اور غم کی فضا پیدا کر دی ہے، جبکہ مقامی شہریوں نے حادثے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • سکھر: کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، تین پولیس اہلکار برطرف

    سکھر: کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، تین پولیس اہلکار برطرف

    سکھر(باغی ٹی وی نامہ نگار) کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، تین پولیس اہلکار برطرف

    سکھر میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ ڈی آئی جی سکھر کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے واضح پالیسی احکامات کی روشنی میں ضلع سکھر کے تین اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، سب انسپیکٹر عبدالرحمان کاکیپوٹو، ہیڈ کانسٹیبل ضمیر قاضی اور پولیس کانسٹیبل حضور بخش ملک پر کرپشن، غیر قانونی سرگرمیوں اور اختیارات سے تجاوز سمیت سنگین الزامات عائد تھے۔ ان الزامات پر ڈی آئی جی سکھر نے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سکھر رینج کے ایک سینئر آفیسر کو میرٹ کی بنیاد پر محکمہ جاتی انکوائری کا حکم دیا تھا۔

    انکوائری آفیسر کی رپورٹ کا بغور جائزہ لینے کے بعد ڈی آئی جی سکھر نے اردلی روم کے دوران اہم فیصلے صادر کیے۔ سب انسپیکٹر عبدالرحمان کاکیپوٹو پر تمام الزامات ثابت ہونے پر انہیں میجر پنشمنٹ کے تحت ایک سال کی سروس سے برخاست کر دیا گیا۔ اسی طرح ہیڈ کانسٹیبل ضمیر قاضی پر بھی الزامات ثابت ہونے پر انہیں ایک سال کی سروس سے برخاست کرتے ہوئے تعلقہ پنو عاقل میں دوبارہ تعیناتی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ تاہم، پولیس کانسٹیبل حضور بخش ملک کو تنبیہ کرتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

    علاوہ ازیں، برطرف کیے گئے پولیس کانسٹیبل منصور پتافی کی نوکری پر بحالی کی اپیل منظور کر لی گئی جبکہ ایک اور برطرف کانسٹیبل جاوید احمد کلهوڑو کی بحالی کی اپیل مسترد کر دی گئی۔ ڈی آئی جی سکھر نے ایک انسپیکٹر اور چار اسسٹنٹ سب انسپیکٹرز کی تبادلوں کی درخواستوں پر بھی احکامات جاری کیے۔

    اپنے پیغام میں ڈی آئی جی سکھر نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت، مجرمانہ سرگرمیوں، اختیارات سے تجاوز یا سماجی برائیوں میں ملوث افسران و اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے اور ان کے خلاف سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان سخت اقدامات سے سکھر پولیس میں کرپشن کے خلاف ایک واضح پیغام دیا گیا ہے۔

  • پیرعادل: بس کی رکشے کو ٹکر، ایک خاتون جاں بحق، دوسری شدید زخمی

    پیرعادل: بس کی رکشے کو ٹکر، ایک خاتون جاں بحق، دوسری شدید زخمی

    پیرعادل، باغی ٹی وی (نامہ نگار باسط علی گاڈی) آج صبح 9:28 پر ریسکیو 1122 کنٹرول روم ڈیرہ غازی خان کو ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی جس میں اطلاع دی گئی کہ یاروں مور تونسہ روڈ پر پی ایس او پمپ کے پاس ایک بس نے رکشے کو ٹکر مار دی ہے۔ حادثے میں دو خواتین شدید زخمی ہو گئیں۔

    ریسکیو کنٹرول روم نے فوراً موقع پر امدادی ٹیمیں روانہ کیں، جن میں ایک موٹر بائیک ایمبولینس، دو ایمبولینسز اور ایک ریسکیو وہیکل شامل تھا۔ حادثے کی اطلاع پولیس کو بھی دی گئی۔ موقع پر پہنچنے کے بعد ایک خاتون موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں، جبکہ دوسری خاتون کو ابتدائی طبی امداد کے بعد علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حادثہ کا شکار ہونے والی خواتین میں فاطمہ مائی زوجہ عبدالرحمن، عمر 45 سال زخمی ہونے کے بعد سر پر چوٹ آئی، جسے ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    نصرت مائی زوجہ غلام شبیر، عمر 39 سال حادثے میں شدید زخمی ہوئیں اور سر پر چوٹ آئی جوکہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ لواحقین کے اصرار پر ان کی میت کو ان کےگھر (ٹبی اسرا) منتقل کر دیا گیا۔

  • لاہور میں پولیس اہلکار ہی "ڈاکو”بن گئے،تاجر کو اغوا کر کے بھتہ وصول

    لاہور میں پولیس اہلکار ہی "ڈاکو”بن گئے،تاجر کو اغوا کر کے بھتہ وصول

    لاہور میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں پولیس کے اہلکاروں نے محافظ فورس کے یونیفارم میں سندھ کے ایک تاجر کو اغوا کرکے نہ صرف اس پر تشدد کیا بلکہ اس سے ایک لاکھ روپے کا بھتہ بھی وصول کیا۔ یہ واقعہ 29 اپریل کی رات ایبٹ روڈ پر پیش آیا، جب قلعہ گجر سنگھ پولیس کی محافظ فورس کے پانچ اہلکاروں نے سکھر سے آئے ہوئے تاجر مشتاق احمد کو گن پوائنٹ پر روک کر اغوا کر لیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، تاجر کو اغوا کرنے کے بعد پانچوں اہلکاروں نے اس پر شدید تشدد کیا اور اسے پولیس مقابلے میں مار دینے کی دھمکیاں دیں۔ یہ واقعہ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ریکارڈ ہوا جس میں دیکھا گیا کہ دو اہلکار باوردی تاجر کو اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ فوٹیج کے مطابق، جب وہ نیلا گنبد کے علاقے میں پہنچے، تو تاجر کو بینک کے باہر روکا گیا جہاں اس نے اے ٹی ایم سے رقم نکلوائی۔اس کے بعد، اہلکار تاجر سے رقم لے کر اسے سڑک پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ تاجر نے اس واقعہ کی شکایت تھانہ پرانی انارکلی پولیس سے کی جس پر پولیس نے فوراً مقدمہ درج کر لیا۔

    پولیس حکام کے مطابق، پانچوں ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا تاکہ اس نوعیت کے جرائم کا قلع قمع کیا جا سکے۔

  • گوجرانوالہ: سیشن کورٹ  میں خون بہانے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    گوجرانوالہ: سیشن کورٹ میں خون بہانے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی) سیشن کورٹ میں فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل کرنے والا ملزم اذان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق تھانہ لدھے والا وڑائچ کے علاقے میں سی سی ڈی ٹیم اور ملزم کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا، جبکہ اس کے دونوں ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    اس سے قبل سول لائن پولیس ملزم اذان کو اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے لے جا رہی تھی کہ ملزم کے ساتھیوں نے پولیس کی گاڑی پر حملہ کر دیا اور فائرنگ کر کے اسے چھڑا کر فرار ہو گئے۔ کچھ دیر بعد پولیس اور فرار ہونے والے افراد کا لدھے والا وڑائچ میں آمنا سامنا ہوا جہاں مبینہ مقابلہ ہوا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اذان نے تین روز قبل گوجرانوالہ سیشن کورٹ کے کمرہ عدالت میں فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل اور دو کو زخمی کر دیا تھا۔ پولیس نے ملزم کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا آغاز کر دیا ہے۔

  • گوجرانوالہ: ویزہ فراڈ اور انسانی سمگلنگ میں ملوث 6 ایجنٹ گرفتار

    گوجرانوالہ: ویزہ فراڈ اور انسانی سمگلنگ میں ملوث 6 ایجنٹ گرفتار

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)ایف آئی اے گوجرانوالہ زون نے انسانی سمگلنگ اور ویزہ فراڈ میں ملوث گروہ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 6 ایجنٹس کو گرفتار کر لیا ہے، جو بیرون ملک ملازمت کے جھانسے دے کر شہریوں سے لاکھوں روپے بٹورنے میں ملوث تھے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت شاہد محمود، محمد یوسف، محمد جاوید، حمزہ طارق، عاقف اور نعمان عنصر کے ناموں سے ہوئی ہے، جنہیں منڈی بہاءالدین، گجرات، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزم شاہد محمود نے متعدد شہریوں کو اٹلی بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کیے، جن میں ایک شہری سے 18 لاکھ روپے وصول کرنے کا کیس سامنے آیا۔ ملزم محمد یوسف نے بحرین بھجوانے کے لیے ایک شہری سے 8 لاکھ روپے سے زائد رقم ہتھیائی، جب کہ محمد جاوید نے اٹلی کے ویزے کے بدلے 22 لاکھ 50 ہزار روپے لیے، مگر شہری کو اٹلی کے بجائے دبئی بھیج دیا اور بعد ازاں دبئی سے اٹلی منتقل کروانے میں ناکام رہا۔

    اسی طرح گرفتار ملزم حمزہ طارق نے برطانیہ کے سٹڈی ویزہ کے نام پر ایک شہری سے 18 لاکھ روپے سے زائد رقم ہتھیائی جبکہ عاقف نے تین شہریوں کو سعودی عرب بھجوانے کے جھانسے میں 11 لاکھ 50 ہزار روپے بٹورے۔ ملزم نعمان عنصر نے ایک شہری سے عراق میں ملازمت کے نام پر 3 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کیے۔

    ایف آئی اے کے مطابق تمام ملزمان شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے میں ناکام رہے اور بھاری رقوم وصول کر کے روپوش ہو گئے تھے تاہم ایف آئی اے نے انہیں گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید انکشافات کی توقع ہے اور متاثرہ شہریوں سے مزید بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔