Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • بھارتی فنکاروں کا شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئےحاملہ ہتھنی کے مجرموں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ

    بھارتی فنکاروں کا شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئےحاملہ ہتھنی کے مجرموں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ

    بھارتی ریاست کیرالا میں حاملہ ہتھنی کی موت کے افسوسناک واقعے پر بھارتی فنکار انتظامیہ کو بے زبان جانور کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا تے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا –

    باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں بھارت میں ایک حاملہ ہتھنی نے دھوکے سے پٹاخے سے بھرا پھل کھا لیا تھا جس کے پھٹنے سے وہ تڑپ تڑپ کر مر گئی تھی جس پر بھارتی فنکاروں نے سوشل میڈیا پر انتظامیہ کو موت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بالی وڈ نامور اداکارہ شردھا کپور نے افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزارت قانون و انصاف سے بے آواز دوستوں کے لئے انصاف کی درخواست کی-

    اپنے ایک اور ٹویٹ میں غم کا اظہار کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ کیسے؟؟؟؟؟؟ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟؟؟کیا لوگوں کے دل نہیں ہیں ؟؟؟


    انہوں نے لکھا کہ میرا دل بکھر گیا ہے اور ٹوٹ گیا ہے …

    شردھا کپور نے لکھا کہ ایسا کرنے والے مجرموں کو سختی سے سزا دینے کی ضرورت ہے۔


    اکشے کمار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ہوسکتا ہے کہ جانور کم جنگلی ہوں اور انسان کم انسان ہوں۔ اس بے زبان جانور کے ساتھ جو ہوا وہ دل دہلا دینے والا ، غیر انسانی اور ناقابل قبول رویہ ہے!

    اداکار نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔


    بھارتی ڈائریکٹر اتل نے اپنے ٹویٹ میں ہتھنی کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ باہر نہیں آ سکی کیونکہ وہ حاملہ تھی-

    سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اشیش چوہدری نے لکھا کہ وہ حاملہ تھی۔ اسے دھماکہ خیز مواد کھلایا گیا تھا۔ اور اس نے کسی ایک فرد کو تکلیف نہیں دی۔ وہ اب مر چکی ہے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اس کے ساتھ یہ کیا وہ زندہ ہیں۔


    انہوں نے لکھا میں اس خونی دنیا میں ایسے انصاف کو دیکھ کر میں مایوسی کا شکار ہوں۔ ہمیں نئے قوانین کی ضرورت ہے۔

    اشیش نے مطالبہ کیا کہ براہ کرم مجرموں کو سزا دیں !!

    دوسری جانب اداکارہ انشکا شرما نے بھی ہےھنی کی افسوسناک موت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا انسٹا گرام پر بالی وڈ اداکارہ انوشکا شرما نے لکھا کہ وزیراعلیٰ کیرالہ سے گذارش کرتے ہیں کہ مجرموں کو تلاش کریں اور انہیں اس بھیانک ظلم پرانصاف کے کٹہرے میں لائیں
    https://www.instagram.com/p/CA98mSSp1b-/?igshid=43rix133heg3
    انوشکا نے لکھا کہ کیرالہ میں نامعلوم افراد نے ایک حاملہ ہاتھی کو کریکر بھری انناس کھلایا جو اس کے منہ میں پھٹ گیا اور اس کے جبڑے کو نقصان پہنچا۔ وہ گاؤں کے آس پاس چلتی رہی اور آخر کار ایک ندی میں کھڑی ہو گئی-

    اداکارہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس امید پر راکشسوں کی تلاش کرتے رہتے ہیں کہ ان کے سروں پر شیطان کے سینگ لگے ہوں گے۔ لیکن اپنے آس پاس دیکھو ، راکشس آپ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

    انوشکا نے ہتھنی جے بچے کے بارے میں جو 18-20 ماہ بعد پیدا ہونے والا تھا پر افسوس کا اظہار کیا-

    انوشکا نے لکھا کہ ہاتھی کے زخمی ہونے کے بعد بھی اس تکلیف میں بھی، اس نے کسی ایک گھر کو کچل نہیں دیا یا کسی ایک انسان کو تکلیف نہیں دی۔ وہ صرف دردناک درد کی وجہ سے ایک ندی میں کھڑی ہوئی اور کسی جان کو تکلیف پہنچائے بغیر ہی چل بسی۔

    انہوں نے کہا کہ ان جانوروں میں سے بہت سے انسانوں پر بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ ماضی میں ان کی مدد کی جاتی رہی ہے یہ حد سے زیادہ ظالمانہ ہے۔ جب آپ میں ہمدردی اور شفقت کا فقدان ہے تو ، آپ کو انسان کہلانے کا اہل نہیں ہے۔ کسی کو تکلیف دینا انسان نہیں ہے۔
    صرف سخت قوانین مدد نہیں کریں گے۔ ہمیں بھی قانون کی معقول حد تک عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

    انوشکا شرما نے مجرموں کو ڈھونڈ کر سزا دینے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جب تک کہ مجرموں کو بدترین طریقے سے سزا نہیں دی جاتی ، یہ شریر راکشس کبھی بھی قانون سے خوف نہیں کھائیں گےناگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے ، لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو تلاش کرنے کے اہل ہوں گے اور اسی کے مطابق انہیں سزا دیں گے۔


    اداکارہ عالیہ بھٹ نے بھی اپنی انستا گرام سٹوری پر حاملہ ہتھنی کر کئے جانے والے ظلم پر افسوس کا اظہار کیا-

    علاوہ ازیں ٹویٹر پر ورون دھون اوت ٹائیگر شروف نے بھی ہتھنی کی موت پر شدید افسوس اور غم کا اظہار کیا-

    بھارت میں حاملہ ہتھنی کے منہ میں کریکر ڈال کر اسے مار دیا گیا

    جے شری رام نہ بولنے پر ہندو انتہا پسندوں کا 18 سالہ نوجوان پر تشدد

  • غبارے بیچنے والے بچے پر شہری نے کتے چھوڑ دیئے، بچہ شدید زخمی،ملزم گرفتار

    غبارے بیچنے والے بچے پر شہری نے کتے چھوڑ دیئے، بچہ شدید زخمی،ملزم گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کتے نے بچے کو نوچ کر لہو لہان کر دیا، پولیس نے کتے کے مالک کو گرفتار کر کیا

    واقعہ پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور میں پیش آیا جہاں مون مارکیٹ کے ایک پارک میں ملزم نے غبارے بیچنے والے بچے پر کتے چھوڑ دئے، کتے نے بچے کو لولہان کر دیا، موقع پر شہری جمع ہوئے اور انہوں نے بچے کو کتے سے بچایا تا ہم بچے کی حالت بری ہو چکی تھی

    موقع پر موجود شہریوں نے پولیس کو کال کر کے شدید زخمی بچے کو ہسپتال منتقل کیا، پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا

    ترجمان لاہور پولیس کے مطابق پولیس نے اس افسوسناک واقعہ پر فوری کاروائی کا آغاز کر دیا تھا

    تاہم بچے کے والد کی طرف سے ملزم کے خلاف کسی کاروائی سے انکار کے بعد پولیس مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بچے کو ہسپتال میں علاج معالجہ کی فراہمی کے بعد گھر منتقل کر دیا ہے۔

    شہریوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس واقعے پر شدید احتجاج کیا ہے اور گرفتار ملزم کو سزا کا مطالبہ کیا ہے،.

  • کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے پانچ افراد ہلاک ، چالیس زخمی

    کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے پانچ افراد ہلاک ، چالیس زخمی

     

    گجرات:کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے پانچ افراد ہلاک ، چالیس زخمی،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست گجرات میں فیکٹری میں دھماکے سے 5 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد شدید زخمی ہوگئے ہیں ، زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے

     

     

     

     

     

    ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ ایک کیمکل کی فیکٹری میں ہوا ہے جس کی آوازدور دور تک سنائی دی گئی ، ادھر بھارتی حکام کا کہنا ہےکہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے،

     

     

    یاد رہے کہ پچھلے مہینے بھی ایک کیمکل کی فیکٹری میں دھماکہ  ہوا تھا جس مٰیں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے اورہزاروں کی تعداد میں بے ہوش ، اس دھماکے کی تحقیقات کا مطالبہ ابھی جاری تھا کہ آج ایک نئے دھماکے سے اوراموات ہوگئیں

  • زہرہ شاہ کو انصاف دیا جائے مطالبہ ٹویٹر ٹرینڈ بن گیا

    زہرہ شاہ کو انصاف دیا جائے مطالبہ ٹویٹر ٹرینڈ بن گیا

    بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ کو مبینہ طور پر اس کے مالکوں نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیاتھا ۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کے وائرل ہونے پر پاکستان ٹویٹر پینل پر جسٹس فار زہرہ شاہ ٹرینڈ کر رہا ہے

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق ، زہرہ شاہ نے کچھ ماہ قبل بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے فیز VIII میں مالک کے اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتے ہوئے فیملی کے لئے کام کرنا شروع کیا تھا۔

    اس وقت جسمانی زیادتی ہوئی جب زہرہ شاہ نے کچھ پنجروں سے طوطوں کو رہا کیا جس سے اس کے ملازمین مشتعل ہوگئےاور بچی کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور بعد ازاں عملہ نے پولیس کو فون کرنے پر اسے اسپتال منتقل کردیا۔

    پولیس نے بچی کی موت کے بعد بحریہ ٹاؤن کے رہائشی حسن صدیقی اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں کو راوت پولیس اسٹیشن میں رکھا جارہا ہے۔

    ابھی تفتیش جاری ہے۔ تاہم ، یہ وحشت لڑکی کے خلاف تشدد کی پہلی مثال نہیں تھی۔زہرہ شاہ کو اس سے پہلے بھی مارا پیٹا گیا تھا کیونکہ پرانے زخموں کا علاج ہورہا تھا اور پولیس یہاں تک کہ جنسی استحصال کا بھی شبہ کرتی ہے۔

    پولیس نے حسن صدیقی اور اس کی اہلیہ کے خلاف قتل ، زیادتی اور قبل از قتل قتل کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔

    دوسری جانب اس واقعہ کے بعد زہرہ کے انصاف کے لئے ٹویٹر صارفین نے مطالبہ کرنا شروع کر دیا-


    یاسف نامی صارف نے لکھا کہ زہرہ 7 سال کی عمر میں ایک گھر میں کام کرتی تھی جو چائلڈ لیبر قانون کی خلاف ورزی ہے اور پھر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اسے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا لیکن ہمارے انسانی حقوق کے وزیر جن کو قوانین کو نافذ کرنا چاہئے تھا وہ نیند سے لطف اندوز ہو رہے ہیں


    سیاسی لیڈر علی خان ترین نے لکھا کہ جب آپ چھوٹے بچوں کو ملازمت دیتے ہیں تو ، آپ ان پر یا ان کے والدین پر احسان نہیں کر رہے ہوتے۔ اگر آپ مہربان بننا چاہتے ہیں: ان کی تعلیم کی ادائیگی کریں ، انہیں کھانا کھلائیں ، ان کی دیکھ بھال کریں ، ان کو ملازمت نہ دیں ، ان پر قابو نہ رکھیں ، انہیں نہ ماریں ، انہیں نہ قتل کریں۔


    زہرہ نامی صارف نے لکھا کہ ایک پرندے نے پنجرا چھوڑ دیا ، ایک روح نے جسم چھوڑا۔ آپ ملازمت کی حیثیت سے اپنے گھر میں 7 سالہ بچی کو آپ کے لئے کیسے کام کرتے ہیں؟پرندے روح سے زیادہ مستحق ہیں قاتل کو سزائے موت دیدنی ہوگی
    https://twitter.com/PIP__official/status/1268129904580755457?s=20
    پاکستان انقلابی پارٹی نے لکھا کہ ہمیں نہیں معلوم جب ہم انصاف مانگنا چھوڑ دیں گے ، ہمیں نہیں معلوم کہ انصاف کب پوچھنے سے پہلے دروازے پر آئے گا ، ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اس ہیش ٹیگ کا استعمال کب چھوڑیں گے انصاف کے لئے ہماری خواہش


    رضوان نامی صارف نے لکھا کہ ایک نو عمر بچی ، 8 سال کی نوکرانی کو اس کے آجر نے جان بوجھ کر مہنگے طوطے آزاد کرنے پر ہلاک کردیا۔ شیریں مزاری ہر معاملے پر بات کر سکتی ہے سوائے اس کے کہ اسے کیا فکر ہے


    اس آدمی نے 7 سال کے چھوٹی بچی کو مار پیٹ کر ہلاک کردیا۔ہم چاہتے ہیں کہ اسی طرح موت تک اسے پیٹا جائے


    فاطمہ بٹ نے لکھا کہ ایک معمولی بات پر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا – اس نے طوطے کو پنجرے سے چھڑا یا… ہم انسان ہیں … ؟؟؟

    "سمیسٹر فیس ختم کرو” طلباء کا مطالبہ ٹویٹر ٹرینڈ بن گیا

  • پولیس کی پالیسی میں اصلاح کا وقت آ گیا ، سیاہ فام فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر ٹویٹر کے بانی جیک کی بیان

    پولیس کی پالیسی میں اصلاح کا وقت آ گیا ، سیاہ فام فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر ٹویٹر کے بانی جیک کی بیان

    واشنگٹن:پولیس کی پالیسی میں اصلاح کا وقت آ گیا ، سیاہ فام فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر ٹویٹر کے بانی جیک کی بیان ،اطلاعات کے مطابق امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام کے قتل کے بعد اٹھنے ہونے فسادات نے امریکہ کی تمام ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، وہاں ٹویٹرکے بانی نے کہا ہےکہ پولیس کی پالیسی میں اصلاح کا وقت آ گیا

     

     

    https://twitter.com/alexbruesewitz/status/1267566183412379648

    باغی ٹی وی کے مطابق ٹویٹرکے بانی نے اپنے ایک پیغام میں کہاہےکہ امریکی پولیس کے رویے کی وجہ سے اتنا بڑا نقصان ہورہا ہے اوراگرپولیس کے رویے مٰیں اصلاح نہ کی گئی تو پھرحالات اوربھی خراب ہوسکتے ہیں

     

    ذرائع کے مطابق ٹویٹرکے بانی جیک نے اپنے پیغام میں کہا ہےکہ امریکی پولیس میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے کیوں پولیس کے رویے کی وجہ سے امریکہ اس وقت ایک بہت بڑے بحران کا سامنا کررہا ہے، اس لیے اب ضروری ہوگیا ہے کہ پولیس کی اصلاح کی جائے

  • امریکہ میں بغاوت عروج پرہرطرف جیلاو گھیراو،توڑپھوڑ،تشدد قتل وغارت گری ائیرفورس کے بیس تک پہنچ گئی 2 اہلکارہلاک،کئی زخمی

    امریکہ میں بغاوت عروج پرہرطرف جیلاو گھیراو،توڑپھوڑ،تشدد قتل وغارت گری ائیرفورس کے بیس تک پہنچ گئی 2 اہلکارہلاک،کئی زخمی

    امریکہ :امریکہ میں بغاوت عروج پرہرطرف جیلاو گھیراو،توڑپھوڑ،تشدد قتل وغارت گری ائیرفورس کے بیس تک پہنچ گئی 2 اہلکارہلاک،کئی زخمی ،اطلاعات کے مطابق امریکہ میں بغاوت عروج پرہے اورتازہ واقعہ میں امریکا کی ریاست ڈکوٹا میں ایئر فورس بیس میں فائرنگ کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    ایئر فورس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ شمالی ڈکوٹا میں واقع گرینڈ فورکس ایئر فورس بیس میں صبح پیش آیا جس میں 319 ریکوننینس ونگ کے 2 ایئرمین ہلاک ہوگئے۔بیان میں کہا گیا کہ فائرنگ صبح تقریباً ساڑھے چار بجے ہوئی اور اڈے موجود ہنگامی ٹیم نے موقع پر ایکشن لیا۔

    سیاہ فارم برادری کے حق میں کیے جانے والے مظاہروں میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو پولیس گرفتار کر رہی ہے— فوٹو: اے ایف پی

    بیس کے ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اس لیے کسی بھی سوال کا جواب دینا قبل از وقت ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے اہلکاروں سے متعلق معلومات ان کے لواحقین کی اجازت کے بغیر فراہم نہیں کی جا سکتی۔وائٹ ہاؤس کے باہر جلاؤ گھیراؤ کا ایک منظر— فوٹو: اے ایف پی

    واضح رہے کہ گزشتہ کے اوائل میں امریکی بحری اڈے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔مذکورہ واقعہ امریکی ریاست فلوریڈا میں پیش آیا اور ریاست کے گورنر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحری اڈے میں حملہ کرنے والا سعودی فضائیہ کا اہلکار تھا جو فوجی تربیت کے لیے امریکا میں موجود تھا۔

    کولوراڈو میں مظاہرین کا احتجاج کے دوران ایک انداز— فوٹو: اے ایف پی

    رون ڈی سنٹس نے تصدیق کی تھی کہ حملہ آور کی فائرنگ سے اب تک 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ چاروں افراد عام شہری تھے یا امریکی بحریہ کے اہلکار تھے۔

    پنسلوینیا میں مظاہرین کی جانب سے نذر آتش کی گئی پولیس کی گاڑی سے شعلے بلند ہو رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

    امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف امریکا بھر میں پرتشدد مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری ہے۔

    نیویارک میں احتجاج کے دوران عوام نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جس پر درج تھا کہ سیاہ فارم افارد کی زندگی بھی معنی رکھتی ہے— فوٹو: اے ایف پی

    پیر کے روز ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار نے اس کی گردن پر اس سختی سے اپنا گھٹنا رکھا ہوا تھا کہ وہ آخر کار سانس نہ آنے کی وجہ سے دم توڑ گیا تھا۔

    پینسلویلیا میں مظہارین پولیس کی جانب سے کی جانے والی آنسو گیس کی شیلنگ میں شیل واپس پولیس کی جانب پھینک رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز

    امریکی ریاست مینسوٹا میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس نے اس وقت کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود پورے امریکا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جبکہ 40 سے زائد شہروں میں کرفیو نافذ ہے۔

    احتجاج کے دوران امریکا بھر میں بڑے پیمانے پر املاک کو نذر آتش کیا گیا— فوٹو: رائٹرز

    امریکا میں لوگ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور اس دوران مختلف شہروں میں بڑی بڑی دکانوں اور اسٹورز کو لوٹنے کے ساتھ ساتھ مشتعل مظاہرین کی جانب سے گاڑیوں سمیت دیگر املاک کو نذر آتش کردیا گیا۔

    پینسلوینیا میں ہونے والے پرتشدد سے نمٹنے کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے نیشنل گارڈز کو بھیج دیا گیا ہے— فوٹو: رائٹرز
    لاس اینجلس میں احتجاج میں شریک افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی
    لاس اینجلس میں احتجاج میں شریک افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی
    کیلیفورنیا میں مظاہرے کے دوران مارچ میں شریک خاتون نے پلے کارڈ اٹھایا ہوا ہے— فوٹو: اے ایف پی
    نیویارک میں احتجاج کے دوران عوام نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جس پر درج تھا کہ سیاہ فارم افارد کی زندگی بھی معنی رکھتی ہے— فوٹو: اے ایف پی
  • آن لائن کلاس نہ دیکھ پانےپر نویں جماعت کی طالبہ نے خودخوکشی کرلی

    آن لائن کلاس نہ دیکھ پانےپر نویں جماعت کی طالبہ نے خودخوکشی کرلی

    کیرالہ : آن لائن کلاس نہ دیکھ پانےپر نویں جماعت کی طالبہ نے خودخوکشی کرلی کورونا وائرس کی وبا کے باعث بھارت میں جہاں لاک ڈاؤن نافذ ہے اور کاروبار زندگی بھی جزوی طور پر مفلوج ہے، وہیں وہاں تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔

    ریاست کیرالہ نے تقریبا 42 لاکھ اسکول کے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا ہے اور آن لائن کلاسز کو مقامی ٹی وی چینلز پر یومیہ بنیادوں پر دکھایا جا رہا ہے۔تاہم ریاست کیرالہ کے بہت سارے غریب طلبہ کے گھروں میں نہ تو ٹی وی ہے اور نہ ہی ان کے گھروں میں اسمارٹ موبائلز ہیں، جس وجہ سے وہاں کے بہت سارے طلبہ مسائل کا شکار ہیں۔

    بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق کیرالہ کےضلع مالاپرم کے نواحی شہر والن چیری کی نویں جماعت کی طالبہ نے آن لائن کلاس کو نہ دیکھ پانے پر خودکشی کرلی۔رپورٹ کے مطابق 14 سالہ دیویکا بالاکرشن یکم جون کی سہ پہر سے گھر سے غائب تھی اور 2 جون کو ان کی جلی ہوئی لاش ان کے گھر کے قریب ایک خالی مکان سے ملی۔

    جواں سالہ لڑکی کی لاش ملنے پر اہل محلہ نے پولیس کو مطلع کیا، پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردیا جب کہ غیر طبعی موت کا مقدمہ دائر کرکے تفتیش کا آغاز بھی کردیا۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ لڑکی کی لاش کے قریب ایک خط بھی ملا ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی ختم کرنے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔

    لڑکی نے خط میں لکھا ہے کہ یکم جون سے آن لائن کلاسوں کا آغاز ہو رہا ہے اور ان کے گھر میں نہ تو ٹی وی ہے اور نہ ہی اسمارٹ فون اور چوں کہ وہ آن لائن کلاس نہیں دیکھ پائیں گی، اس لیے وہ اپنی زندگی ختم کرنے جا رہی ہیں۔لڑکی نے خودکشی سے قبل آخری خط اپنے والدین کے نام لکھا اور انہیں بتایا کہ وہ جا رہی ہیں۔

    لڑکی کے والد نے پولیس کو بیان میں بتایا کہ ان کے گھر کا ٹی وی گزشتہ تین ماہ سے خراب ہے اور ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ اسے ٹھیک کروائیں جب کہ ان کے گھر میں کوئی اسمارٹ فون نہیں ہے۔نویں جماعت کی طالبہ کی خودکشی کے بعد ریاستی وزارت تعلیم نے تمام اضلاع کے تعلیمی افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ سروے کریں کہ کتنے گھروں میں ٹی وی، اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں۔

    ساتھ ہی وزارت تعلیم نے کہا ہے کہ آن لائن کلاسز بار بار نشر کی جائیں گی، اس لیے طلبہ کوئی ایک کلاس نہ دیکھ پانے پر مایوس نہ ہوں۔دوسری جانب لڑکی کی خودکشی کے بعد کیرالہ سے منتخب ہونے والے حزب اختلاف کے رکن لوک سبھا اور کانگریس پارٹی کے صدر راہول گاندھی نے ریاست بھر کے طلبہ کو آن لائن کلاسز دیکھنے کے لیے ٹی وی، اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • زندہ دفن کیا گیا نوزائیدہ بچہ برآمد،کس نے دفن کیا،کیوں کیا ،خطرناک حقائق نے سننے والوں کو پریشان کردیا

    زندہ دفن کیا گیا نوزائیدہ بچہ برآمد،کس نے دفن کیا،کیوں کیا ،خطرناک حقائق نے سننے والوں کو پریشان کردیا

    نئی دہلی : زندہ دفن کیا گیا نوزائیدہ بچہ برآمد،کس نے دفن کیا،کیوں کیا ،خطرناک حقائق نے سننے والوں کو پریشان کردیا ،اطلاعات کےمطابق عام طور بچیوں کوپیدائش سے قبل ہی ماؤں کے پیٹ میں مارنے یا پھر انہیں زندہ دفن کرنے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔تاہم اس بار بھارت سے سامنے آنے والی خبر نے سب کو حیران کردیا۔

    بھارتی خبر رساں اداے انڈو ایشین نیوز سروس (آئی اے این ایس) کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع سدھارتھا نگر کے گاؤں سنوا کے علاقہ مکین جب کھیتوں کے برابر کھڑے تھے تو انہیں ایک نوزائیدہ بچے کے رونے کی آواز سنائی دی اور تلاش کرنے پر انہوں نے بچے کو زمین کے اندر دفن پایا۔

    رپورٹ کے مطابق گاؤں والوں نے بچے کے رونے کی آواز کے بعد اسے تلاش کرنا شروع کیا تو انہیں گیلی مٹی میں نوزائیدہ بچے کے پاؤں دکھائی دیے اورانہوں نے مٹی کو ہٹاکر بچے کو بچالیا۔مذکورہ واقعے کے وقت وہاں موجود کچھ افراد نے واقعے کی ویڈیو بھی بنائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق گاؤں والوں نے بچے کو مٹی سے نکالنے کے بعد اسے قریبی صحت مرکز لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے بچے کے ٹیسٹ کرنے کے بعد انہیں ابتدائی طبی امداد دی اور بعد ازاں انہیں قریبی شہر کے بڑے طبی مرکز منتقل کردیا گیا۔

    معاملہ سامنے آنےکے بعد پولیس بھی حرکت میں آگئی اور پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف بچے کو زندہ دفن کرنے کا مقدمہ دائر کرکے تفتیش شروع کردی۔اسی خبر کے حوالے سے برطانوی اخبار ڈیلی میل نے بھی بتایا کہ اب بچے کی صحت خطرے سے باہر ہے اور اسے ایک ہفتے تک صحت مرکز میں رکھے جانے کا امکان ہے۔

    اسی معاملے پر آؤٹ لک انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بچے کی صحت بہتری کی جانب گامزن ہے اور ایک ہفتے کے بعد بچے کو حکومت کے ماتحت چلنے والے چائلڈ پروٹیکشن سینٹر منتقل کیا جائے گا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ نوزائیدہ بچہ کتنے ماہ کا ہے اوراسے کتنے گھنٹے قبل دفن کیا گیا تھا۔

    بچے کو مٹی سے نکالنے کی ویڈیوز بھارتی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور انسانیت سوز واقعے پر درجنوں افراد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

  • میں اب کبھی پی آئی اے پر سفر نہیں کروں گی کیونکہ اس کو سفارشی ٹولا چلا رہا ہے  ماہین خان

    میں اب کبھی پی آئی اے پر سفر نہیں کروں گی کیونکہ اس کو سفارشی ٹولا چلا رہا ہے ماہین خان

    پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر ماہین خان نے کہا ہے کہ اب میں دوبارہ پھر کبھی ان کے طیاروں پر سفر نہیں کریں گی کیونکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو سفارشی ٹولا چلا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر ماہین خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ گزشتہ 30 سال میں پی آئی اے میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور اپنے ہی رشتہ داروں کو ملازمتیں دی گئیں۔


    انہوں نے لکھا کہ وہ حیران ہیں کہ کس طرح پی آئی اے کو سفارشی ٹولے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کراچی میں ہونے والے پی آئی اے کے طیارہ حادثے پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ حادثے میں چلے جانے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔


    فیشن ڈایزائنر نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں اعلان کیا کہ اب وہ دوبار پی آئی اے کے طیاروں میں کبھی بھی سفر نہیں کریں گی۔

    ماہین خان نے کراچی طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایک شخص کی بہن کی ویڈیو بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی ، جس میں وہ اپنے بھائی کی لاش وصول کرنے میں درپیش مشکلات پر بات ک رہی ہیں۔


    ویڈیو میں خاتون نے کہا کہ پی آئی اے طیارے میں ان کے بھائی مرزا وحید شاہ بیگ بھی سوار تھے اور انہیں حادثے کا علم خبروں کے ذریعے ہوا تھا۔

    خاتون نے کہا کہ پی آئی اے نے اس حوالے سے کوئی بھی ہیلپ ڈیسک قائم نہیں کیا اور نہ ہی اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ جن کے پیارے حادثے میں چلے گئے ان کے غمزدہ لواحقین کے ساتھ کس طرح بات کی جانی چاہیے۔

    خاتون کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے مدد تو دور کی بات بلکہ وہ لواحقین کے عزیزوں سے بدتمیزی سے پیش آ رہے ہیں اور رشتہ داروں کی جانب سے کوئی بھی سوال پوچھے جانے پر پی آئی اے انتظامیہ ان کے ساتھ نامناسب انداز میں بات کر رہے ہیں۔

    یہ ویڈیو شئیر کرتے ہوئے ماہین خان نے بھرپور غصے کا مظاہر کیا اور پی آئی اے اور فیڈرل گورنمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا-


    ماہین خان ایک اور ٹویٹ میں پی آئی اے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ کوئی جادوئی چھڑی پی آئی اے کی اصلاح نہیں کرسکتی ہے .یہ ایک دن اتنی سنجیدگی سے دیمک کی طرح خود ہی ٹوٹ جائے گی

    واضح رہے کہ 22 مئی 2020 کو جمعۃ الوداع کی دوپہر کو لاہور سے کراچی جانے والا پی آئی اے کا طیارہ اے 320 ایئربس کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوا تھا۔

    طیارے میں 99 مسافرین اور عملے کے ارکان سوار تھے، جس میں سے 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے تھے

    طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والی ادکارہ و ماڈل زارا عابد کی پہلی شارٹ فلم ریلیز

    طیارہ حادثہ ہم سب کے لیے ایک بڑا نقصان ہے عدنان صدیقی

  • بحریہ ٹاؤن میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی دم توڑ گئی، پولیس کا ملزم کو گرفتار کرنیکا دعویٰ

    بحریہ ٹاؤن میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی دم توڑ گئی، پولیس کا ملزم کو گرفتار کرنیکا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی علاج کے دوران دم توڑ گئی

    راولپنڈی سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے۔ بحریہ ہاؤسنگ سوسائٹی فیز 8 میں زیادتی اور تشدد کا نشانہ بننے والی بچی علاج کے دوران دم توڑ گئی۔آٹھ سالہ ملازمہ زارا کو گھر میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کی جائے گی۔

    تھانہ روات پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔درخواست میں بتایا گیا ہے کہ آٹھ سالہ بچی گھریلو ملازمہ تھی،جس کو نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ تشدد بھی کیا گیا جس کے بعد اس کی حالت غیر ہوگئی۔بچی راولپنڈی کے سرکاری اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گئی۔مقدمے میں قتل اور زیادتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں

    سوشل میڈیا پر اس خبر کو لے کر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ بچی پر ظلم ڈھانے والے جے سفاک شخص کو کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہئے۔اسی واقعے سے متعلق ایک اور میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زارا حسن صدیق کے گھر واقع فیز 8 میں بطورنوکرانی کام کرتی تھی جس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر ملزمان کے خلاف زیادتی اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، بچی کو علاج معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا جو دوران علاج معالجہ دم توڑ گئی جس پر مقدمہ میں قتل کی دفعات کا اضافہ کیا گیا،

    تھانہ روات پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان حسن صدیق اور اسکی اہلیہ کو گرفتار کر لیا،ایس پی صدرضیاء الدین احمد نے کہاکہ میرٹ پر تفتیش کر کے ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا،

    سٹی پولیس آفیسرمحمد احسن یونس کا کہنا تھاکہ میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ بچوں کے ساتھ تشدد جیسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے،بچوں کے ساتھ زیادتی، تشدد اور استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، ایسے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا