ڈی جی ریسکیو پنجاب کی ہدایت پر پنجاب بھر میں گلوبل روڑ سیفٹی ویک منایا جا رہا ہے۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب کی ہدایت پر پنجاب بھر میں گلوبل روڑ سیفٹی ویک منایا جا رہا ہے۔ روڑ سیفٹی ویک کا مقصد لوگوں کو روڑ ٹریفک ایکسیڈنٹ کے بارے آگاہی دینا ہے۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب کا کہنا ہے کہ ریسکیو کو سال 2019 میں 197065 روڑ ٹریفک ایکسیڈنٹ کالز پنجاب بھر میں موصول ہوئی۔ گزشتہ سال 3346 لوگوں کی صرف روڑ ٹریفک ایکسیڈنٹ میں اموات ہوئیں۔ ہم سب کو قانون کی پاسداری اور آگاہی سے روڑ ٹریفک ایکسیڈنٹ میں کمی لانی ہے۔ ریسکیو 1122 محفوظ پاکستان کے قیام کے لیے ہر دم کوشاں ہیں۔
Category: جرائم و حادثات
-

دو پولیس والوں میں لڑائی، اصل حقائق کیا؟
باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق لاہور میں ڈی ایس پی اور خاتون سب انسپکٹر کے درمیان چپقلش طول پکڑ گئی۔ دونوں افسران نے ایک دوسرے کے خلاف رپوٹ بناکر حکام کو بھجوا دی۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ڈی ایس پی نواں کوٹ نے زنا کے مقدمے میں اخراج رپورٹ بنانے پر جواب پوچھا، سب انسپکٹر روبی سیرت نے سخت رویہ اپنایا اور جواب نہیں دیا۔ روبی سیرت نے انکوائری کے دوران گستاخانہ رویہ اپنایا، روبی سیرت نے دفتر میں سب سے سامنے چیختے ہوئے بات کی۔ مقدمے کے مدعی کی جانب سے 8787 پر انکوائری کے لیے روبی سیرت کو بلایا گیا۔ دوسری جانب روبی سیرت نے بھی ڈی ایس پی کے خلاف تھانے میں رپٹ لکھ دی۔ مجھے تین گھنٹے ڈی ایس پی عمر فاروق نے کمرے کے باہر بٹھایا، میرے ساتھ سب کے سامنے گالی گلوچ دیکر زیادتی کی، ڈی ایس پی نے مجھے مقدمہ مدعی کے سامنے ذلیل کیا، ڈی ایس پی عمر فاروق کا کہنا ہے کہ روبی سیرت کے خلاف چار مئی کو رپوٹ بناکر بھیجی ۔روبی سیرت نے معاملہ کو دبانے کے لیے 25 گھنٹوں بعد میرے خلاف رپٹ لکھی۔ جب اسکو پتہ چلا کہ رپورٹ اسکے خلاف ہے تو اسنے بچنے کے لیے یہ کیا۔ ترجمان پولیس لاہور کا کہنا ہے کی ایس پی سی آئی اے لاہور عاصم افتخار انکوائری کر رہے ہیں۔ انکوائری میں قصور وارپولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
-

سنگین ورداتیں کرنے والے ملزموں کے ساتھ کیا کیا گیا؟
لاہور انویسٹی گیشن پولیس سمن آباد کی کارروائی۔ گن پوائنٹ پرڈکیتی کی متعد د وارداتوں میں ملوث رضوان ڈکیت گینگ کے 2 ملزمان گرفتار کر لیے گئے۔ گر فتار ملزمان میں رضوان اور مبین شامل ہیں، ملزمان سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں۔گر فتار ملزمان سے 2لاکھ روپے نقدی اور ناجائز پسٹل برآمد کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے شہر کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی اور راہزنی کی متعدد وارداتوں کا اعتراف کر لیا ہے۔انوسٹی گیشن پو لیس سمن آباد نے ملزمان کوجدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا۔ ایس پی انویسٹی گیشن اقبال ٹاؤن نوید ارشادکی طرف ملزمان کی گر فتاری پر پولیس ٹیم کو شاباش دی۔
-

لاہور پولیس نے اچانک شہر کی سیکیورٹی کو بڑھا دیا
ماہ صیام کا دوسرا جمعتہ المبارک،کورونا وائرس کے خدشات بھی برقرار۔ لاہور پولیس نے جمعتہ المبارک کے موقع پر عبادت گاہوں اور نمازیوں کی سکیورٹی بڑھا دی۔ 03 ہزار سے زائد پولیس افسران اور جوان سکیورٹی پر تعینات۔ نمازی حضرات کی ماسک، سینٹائزر اور صفوں میں فاصلہ کے حوالے سے چیکنگ بھی یقینی بنائی گئی۔ ڈی آئی جی رائے بابر سعید کا کہنا ہے کی مساجد، امام بارگاہ اور عبادت گاہوں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرامد کے لئے 277 انفورسمنٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی۔ 20نکاتی ایس او پیز یقینی بنانے کے لئے پولیس افسران مساجد کمیٹیوں اور انتظامیہ سےمکمل رابطے میں ہیں۔ علماء کرام، مساجد انتظامیہ20نکاتی ہدایات کی پابندی سے عبادت گذاروں کو کورونا سے محفوظ رکھیں۔ شہر کی 5057مساجد کو حساسیت کے اعتبار سے 03کیٹیگریزمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ اے کیٹیگری میں 218،بی کیٹیگری775جبکہ سی کیٹیگری میں 4064 مساجد شامل۔ ڈولفن سکواڈ،پیرو ٹیمیں اور تھانوں کی گاڑیاں عبادت گاہوں کے اطراف موثر پٹرولنگ کریں۔
-

لاہور پولیس کی کاروائی، مغوی بچہ کروایا بازیاب، اغوا کار کو دیکھ کر سب حیران
لاہور پولیس کی کاروائی، مغوی بچہ کروایا بازیاب، اغوا کار کو دیکھ کر سب حیران
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو روز قبل اغواء ہونیوالا 7سالہ مغوی بچہ سبحان انیس کو شاہدرہ سے بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا ہے
ڈی آئی جی انعام وحید خان کا کہنا تھا کہ مغوی سبحان انیس کو 4کروڑ روپے تاوان کے لیے اغواء کیا گیا تھا،اغواء کار مغوی کا قریبی رشتہ دار ذیشان عرف شانی اور اس کے ساتھی فرحان گرفتارکر لئے گئے
ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کی سربراہی میں انچارج اغواء برائے تاوان سیل طارق الیاس کیانی نے بچے کو بازیاب کروایا، مغوی بچے کو مختلف معلومات سمیت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بازیاب کروایا گیا،
مغوی بچے کی بحفاظت بازیابی پر سی آئی اے کی پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا گیا
-

گجرات میں عباس نامی شخص نے سگی بہن اور ماں پر ظلم کی انتہا کر دی
گجرات میں عباس نامی شخص نے سگی بہن اور ماں پر ظلم کی انتہا کر دی
انتہائی افسوسناک خبر شامل کرتے ہیں گجرات کے علاقہ ٹبی سیکھوں سے جہاں بیٹے نے ماں اور بہین اور بانجی اور بھابھی پر عباس نامی شخص نے فائرنگ کردی کراۓ کے لوگوں سے مل کر تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کو زمین مکان اپنے نام لگوانے کے لیے مجبور کرتا رہا کہ اگر تم لوگوں نے اپنا سب کچھ میرے نام نہ لگوایا تو میں تم سب کو قتل کر دوں گا جس طرح میں نے پہلے لوگوں کو قتل کر کے یہ سب پیسہ لیا ھے یہ ہی حال میں تمہارا کروں گا یاد رھے عباس ان کا سگا بھائ ھے پولیس نے ملی بگھت کرکے مقدمہ درج نہیں کیا اور نہ ہی میڈیکل ھونے دیا مذید جانتے ہیں مظفر اقبال بھٹی اس رپورٹ میں
-

ڈی آئی جی لاہور کا شہر کا دورہ، اہم اقدام کر دئیے
ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید کا شہر کےمختلف علاقوں کا ہنگامی دورہ
ڈی آئی جی آپریشنز نے علامہ اقبال روڈ، دھرم پورہ، گڑھی شاہو،صدر گول چکر، کینال روڈ، مغلپورہ، داروغہ والا,قائد اعظم انٹرچینج رنگ روڈ،کپ سٹور سمیت مختلف ناکوں کا معائنہ کیا۔ رائے بابر سعید نے جامعہ مسجد انوار مدینہ، مسجد حنفیہ نورانیہ، جامعہ مسجد منظور الاسلامیہ سمیت مختلف مساجد پر سکیورٹی ڈیوٹی بھی چیک کی۔ ڈی ایس پیز,ایس ایچ اوز اور متعلقہ پولیس افسران نے ڈی آئی جی آپریشنز کوپولیس اقدامات بارے بریفنگ دی۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رائے بابر سعید کا کہنا تھا کہ مساجد سکیورٹی اور ناکوں پر تعینات پولیس جوان انتہائی الرٹ ہو کر ڈیوٹی کریں۔ ناکوں اور مساجد پر شہریوں کو کورونا سے بچاؤ کی ایس او پیز پرعمل کرنے کی ہدایت کریں۔ جرائم پیشہ افراد پر کڑی نظر رکھیں،شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ شہریوں سے مساجد میں دوران عبادات 20 نکاتی کورونا ایس او پیز پر عملدرامد کروائیں۔ پولیس افسران وجوان حفاظتی ماسک،گلوز اور سینیٹائزر کا استعمال یقینی بنائیں۔
-

بھارت میں ہرطرف لاشیں ،ہزاروں بےہوش ، زخمیوں کی چیخوں اورآہوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دینے لگیں
نئی دہلی :بھارت میں لاشیں اورہرطرف زخمی ہی زخمی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں ایک کیمیکل پلانٹ سے گیس لیک ہونے کے باعث تقریباً 15 افراد ہلاک اور ایک ہزار افراد متاثر ہوگئے جبکہ حکام نے پلانٹ کے اطراف کے علاقے خالی کروالیے اور اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں اداے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گیس کا اخراج 5 ہزار ٹن کے 2 ٹینکس سے ہوا جو جنوبی کوریا کی کمپنی ایل جی کیم کی ملکیت ہیں اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث وہاں کام معطل تھا۔بھارتی ٹیلی ویژن پر چلنے والی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ساحلی صنعتی شہر وساکھا پٹنم کی گلیوں میں خواتین اور بچے بے حس وحرکت پڑے ہیں۔
اس ضمن میں ڈسٹرک ہسپتال کے کوآرڈنیٹر بی کے نائیک نے کہا کہ کم از کم ایک ہزار افراد کو مختلف ہسپتالوں میں لایا گیا اور خدشہ ہے متعدد افراد اپنے گھروں میں بے ہوش ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’حکام گھروں میں بھی تلاشی لے رہے ہیں اور لوگوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے کام کررہے ہیں جو (گیس لیکیج کے وقت) اپنے گھروں میں سوتے ہوئے بے ہوش ہوگئے۔
ہسپتالوں کی سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا گیا کہ ایک ایک بستر پر 2 یا 3 افراد موجود ہیں جن میں سے اکثریت بے ہوش ہیں۔ایل جی پولیمر کا یہ کیمیکل پلانٹ 50 لاکھ کی آبادی والے شہر کے مضافات میں قائم ہے۔وساکھا پٹنم کی اسسٹنٹ کمشنر رانی کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پلانٹ بے کار پڑا تھا اور ٹینک میں حرارت اور کیمیائی ردِ عمل کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ گاؤں کے باسیوں نے رات ساڑھے 3 بجے گیس کی اطلاع دی اور جو پولیس اہلکار اطلاع ملنے کے بعد یہاں پہنچے ان کا فوراً علاج کروانا پڑا۔رانی کا مزید کہنا تھا کہ ہوا میں گیس کی مقدار اتنی تھی کہ محسوس ہورہی تھی اور کسی کے لیے بھی وہاں 5 منٹ سے زیادہ دیر رکنا ممکن نہیں تھا۔
بعدازاں ایل جی کیم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پلانٹ سے گیس کا اخراج رک گیا ہے، ’گیس لیکیج کی صورتحال قابو میں ہے اور ہم اب اس سے متاثرہ تمام افراد کو فوری علاج فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم گیس لیک اور اموات کی وجوہات اور نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے تحقیقات کررہے ہیں‘۔
دوسری جانب بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق گیس لیکیج سے ایک 8 سالہ بچی سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 5 ہزار افراد متاثر ہوئے۔نیوز 18 ٹیلی ویژن نے فوٹیج میں دکھایا کہ لوگ بے ہوشی کے عالم میں گلیوں میں پڑے ہوئے ہیں، بیچ راستوں میں موٹر سائیکلیں کھڑی ہیں جبکہ ان کے سوار گر پڑے۔
خیال رہے کہ بھارت نے 1984 میں سب سے بڑی صنعتی تباہی کا سامنا کیا تھا اور ایک کیڑے مار ادویات بنانے والے پلانٹ سے گیس کے اخراج کے نتیجے میں چند دنوں میں ساڑھے 3 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے، بعدازاں آنے والے دنوں میں مزید اموات ہوئیں اور لوگ آج تک اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یونین کاربائیڈ پلانٹ کے اطراف رہائش پذیر ایک لاکھ افراد سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔بچ جانے والوں کو سانس اور گردے کے امراض، ہارمونز کے عدم تواز اور دماغی امراض کے ساتھ مختلف اقسام کے کینسر میں مبتلا ہیں جبکہ ان کی نئی نسل زیر زمین آلودہ پانی اور پیدائش کے وقت پلائے گئے ماؤں کے زہریلے دودھ کی وجہ سے بیمار ہے۔گیس سے متاثر ہونے والی ماؤں کے بچے اب تک جسمانی نقائص، کمزور نظام مدافعت، نشونما رک جانے اور پیدائشی عوارض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔
-

لاہور پولیس کے لیے کورونا سے حفاظت کے لیے انتظامات کر دئیے گئے
کورونا وائرس کے خلاف جنگ,لاہور پولیس فرنٹ لائن پر۔ لاہورپولیس کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رائے بابر سعید کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت میں مصروف پولیس فورس کے لئے بھرپور حفاظتی اقدامات کئے ہیں۔ ڈیڑھ ماہ میں 06ہزار پی پی ای کِٹس،12ہزار سینیٹائزرز اور87ہزار سے زائد حفاظتی ماسک تقسیم کئے جا چکے۔ 01 لاکھ 14ہزار سادہ جبکہ 05 ہزار سے زائد میڈیکل گلوزاور 04 ہزارسیفٹی سوٹ تقسیم کئے۔ 11 سو حفاظتی عینکیں اور 35ہزار سے زائد صابن بھی تقسیم کئے گئے۔ پولیس ناکوں، تھانوں، قرنطینہ مراکز، کفالت سنٹرز پر حفاظتی سامان تقسیم کیا گیا۔ پبلک ڈیلنگ مقامات پر تعینات پولیس ملازمین کو بھی حفاظتی سامان فراہم کیا گیا۔ فیلڈ ڈیوٹی اور پبلک ڈیلنگ مقامات پر پولیس فورس کو کورونا وائرس کے خطرات کا زیادہ سامناہے۔ ناکوں پر تعینات جوان کورونا ایس او پیز کے تحت حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کریں۔
-

تین بچوں کو قتل کرنے والی ماں کے ساتھ کیا ہوا؟
لاہور سیشن کورٹ میں تین بچوں کو قتل کرنے والی ماں انیقہ کے خلاف کیس کی سماعت،عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو شہادتوں کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت 16 مئی تک ملتوی کردی۔
ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ نے کیس پر سماعت کی،کرونا وائرس کے باعث ملزمہ کے وکلا عدالت میں پیش نہ سکے، عدالت کے روبرو سرکاری وکیل نے اگاہ کیا کہ عدالت نے باقاعدہ ملزمہ پر فردجرم عائد کررکھی ہے،ملزمہ سمیت تین افراد کے خلاف تھانہ ہیئر پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے، ملزمہ نے اپنے آشانہ کے ساتھ مل کر اپنے تین کمسن بچوں کو قتل کیا تھا پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ اور آشانہ کو گرفتار کیا تھا ملزمہ کے خلاف بچوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد آئندہ سماعت پر گواہوں کو شہادتوں کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت 16 مئی تک ملتوی کردی
