Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • قصور:ایک لمحے کی غفلت، چار زندگیاں ختم، باراتی کار خوفناک حادثے کا شکار

    قصور:ایک لمحے کی غفلت، چار زندگیاں ختم، باراتی کار خوفناک حادثے کا شکار

    قصور (طارق نوید سندھو سے)پتوکی سے بارات میں جانے والی ایک کار کو نواحی علاقے بھوئے آصل سے واپسی کے دوران چھانگا مانگا روڈ پر ایک دلخراش حادثہ پیش آیا، جہاں تیز رفتار کار بے قابو ہو کر سڑک کنارے درخت سے جا ٹکرائی۔ افسوسناک حادثے کے نتیجے میں کار میں سوار چار نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

    تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے چاروں نوجوان پتوکی کے رہائشی تھے اور اپنے ایک دوست کی بارات میں شرکت کے لیے بھوئے آصل گئے ہوئے تھے۔ شادی کی تقریب سے واپسی پر جب کار چھانگا مانگا کے قریب پہنچی تو تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا، جس کے نتیجے میں کار سڑک سے اتر کر زور دار طریقے سے ایک درخت سے ٹکرا گئی۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے گاڑی میں پھنسی لاشوں کو نکال کر ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پتوکی منتقل کر دیا۔ جاں بحق نوجوانوں کی شناخت ملک عبداللہ، ملک کیف، ملک رحمت اور ملک مٹھو کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    پولیس کے مطابق حادثہ بظاہر تیز رفتاری کے باعث پیش آیا تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ جاں بحق نوجوانوں کی خبر پتوکی پہنچتے ہی علاقے میں کہرام مچ گیا، جبکہ اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ واقعے کے بعد شہریوں نے سڑکوں پر تیز رفتاری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ جاں بحق نوجوانوں کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

  • جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا

    جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا

    لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے معروف تعلیمی ادارے KIPS ایجوکیشن سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد وزیر خان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 122/26 تھانہ جوہر ٹاؤن ضلع لاہور میں درج کیا گیا، جس کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ 21 جنوری 2026 کو رات 11 بج کر 40 منٹ پر درج کی گئی۔ واقعہ کی اطلاع KIPS کے ڈائریکٹر فنانس طاہر وزیر خان نے پولیس کو دی، جو مغوی عابد وزیر خان کے حقیقی بھائی بھی ہیں۔درخواست گزار کے مطابق عابد وزیر خان 21 جنوری کو شام 6 بج کر 34 منٹ پر KIPS کے کارپوریٹ آفس واقع 1.5/D مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن سے اپنی سفید رنگ کی ٹویوٹا کیمری (نمبر 534/18 LEF) خود ڈرائیو کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ادارے کی جنرل منیجر اسکولز میڈم لبنیٰ کو فون کیا۔دورانِ فون کال میڈم لبنیٰ نے بتایا کہ گاڑی کے شیشے پر زور سے دستک کی آواز آئی اور ایک نامعلوم شخص کی آواز سنائی دی جس نے کہا کہ "تم نے میری گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ کر دیا ہے”۔ اس کے فوراً بعد فون کال منقطع ہو گئی اور دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے بھائی سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے منصوبہ بندی کے تحت انہیں اغوا کر لیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغوی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔پولیس کے مطابق یہ مقدمہ اے ایس آئی ارشد اقبال کی جانب سے درج کیا گیا، جبکہ ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کو مزید کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ (INV) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقام کے اطراف نصب سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔

    درخواست گزار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اغوا میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لاہور پولیس کے اعلی افسران تفتیش میں لگ گئے،لاہور پولیس نے اعلی افسران نے سیف سٹی میں کیمروں کی نگرانی شروع کردی،چار ایس پیز کی نگرانی میں مغوی کی تلاش کیلئے ٹیمیں متحرک ہییں

  • نامعلوم افراد نے پیٹرول پمپ کو آگ لگا دی

    نامعلوم افراد نے پیٹرول پمپ کو آگ لگا دی

    
ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹانک روڈ پر نامعلوم افراد نے ایک پیٹرول پمپ کو آگ لگا دی۔
    پولیس کے مطابق واقعے سے قبل ملزمان نے پمپ کے عملے کو رسیوں سے باندھ دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان کی تعداد 30 سے 40 کے درمیان تھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

  • اسلام آباد میں دھماکہ، متعدد افراد زخمی

    اسلام آباد میں دھماکہ، متعدد افراد زخمی

    اسلام آباد کے تھانہ شمس کالونی کی حدود میں ایک گھر میں گیس لیکج کے باعث زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ گھر کی دیواریں اور چھت گر گئیں، زخمیوں میں ایک مرد، دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں، وا قعے کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں، دو افراد کو معمولی زخم آئے ہیں، جبکہ تین زخمیوں کو اسپتال منتقل کر کے داخل کر لیا گیا ہے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک روڈ پر نامعلوم افراد نے پیٹرول اسٹیشن کو آگ لگا دی ڈی آئی خان پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے اسٹاف کو رسیوں کے ساتھ باندھ کر پیٹرول پمپ کو آگ لگا دی، جبکہ پیٹرول پمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد رقم بھی لوٹ کر لے گئے واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ ہو گئیں ، دوسری جانب پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • سانگھڑ: قانون کمزور، وڈیرے طاقتور؛ بااثر وڈیرے کے بیٹے پر معصوم بچی پر بدترین تشدد کا مبینہ الزام، زبان کاٹنے کی اطلاع

    سانگھڑ: قانون کمزور، وڈیرے طاقتور؛ بااثر وڈیرے کے بیٹے پر معصوم بچی پر بدترین تشدد کا مبینہ الزام، زبان کاٹنے کی اطلاع

    سانگھڑ (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سانگھڑ کے علاقے چوٹیاری کے قریب پیش آنے والا واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا ہے، جہاں ایک معصوم بچی پر مبینہ طور پر بااثر وڈیرے کے بیٹے وزیر راجڑ کی جانب سے درندگی، شدید تشدد اور زبان کاٹنے جیسے ہولناک الزامات سامنے آئے ہیں۔ واقعے کی نوعیت اس قدر سنگین ہے کہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو ریاستی اداروں کی پراسرار خاموشی ہے۔

    ذرائع کے مطابق واقعے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود نہ مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بااثر ہونا قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس بن چکا ہے؟ کیا ایک معصوم بچی کا خون اور چیخیں بھی طاقتوروں کے سامنے بے معنی ہیں؟

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ پولیس مبینہ طور پر اثر و رسوخ کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف، غم و غصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے، جبکہ سماجی اور انسانی حقوق کے حلقے اسے کھلا انسانی المیہ قرار دے رہے ہیں۔

    عوامی، سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور اعلیٰ عدالتی حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس دلخراش واقعے کا فوری ازخود نوٹس لیا جائے، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مظلوم بچی کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ظلم پر خاموش نہ رہیں، کیونکہ آج اگر ایک بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم پر آواز نہ اٹھی تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

  • میرپورماتھیلو:ابرار کولاچی قتل کیس،مقتول کی بیوی سمیت تین گرفتار

    میرپورماتھیلو:ابرار کولاچی قتل کیس،مقتول کی بیوی سمیت تین گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس نے بڑی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بلائنڈ مرڈر کا معمہ حل کر لیا۔ تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں قتل ہونے والے شخص ابرار احمد ولد محمد مراد کولاچی کے کیس میں مقتول کی بیوی کو مرکزی ملزمہ قرار دیتے ہوئے دو دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو، ڈی ایس پی یو ٹی اور ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 12 جنوری 2026 کو پولیس کو اطلاع ملی کہ کوثر کالونی، تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں ایک شخص کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔

    واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور محرکات جاننے کے لیے ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو محمد یونس، ڈی ایس پی یو ٹی سھیل احمد سومرو اور ایس ایچ او بدر دین برڑو کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی۔

    تشکیل شدہ ٹیم نے واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی اور ٹیکنیکل بنیادوں پر مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ مخفی اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی بیوی آسیہ بنت علی مراد کولاچی، مقتول کے سالے محمد شعیب ولد علی مراد کولاچی اور ملزمہ کے بھانجے کاشف علی ولد صفیر احمد کولاچی کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمہ اور دونوں ملزمان نے تفتیش کے دوران قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ آسیہ نے اپنے شوہر کو قتل کرانے کے لیے 15 لاکھ روپے کا سودا طے کیا تھا، جس میں سے 11 لاکھ روپے نقد اپنے بھائی محمد شعیب کے ذریعے ملزمان کو ادا کیے گئے۔ یہ رقم مقتول کے گھر میں چاولوں کے فضل کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ نے اپنے شوہر کی جائیداد اور ملکیت اپنے بھائیوں اور دیگر رشتے داروں کو منتقل کروانے کی غرض سے قتل کی سازش رچائی۔

    پولیس نے گرفتار ملزمہ آسیہ، محمد شعیب کولاچی، کاشف علی کولاچی، سلیم کولاچی، ضمیر کولاچی اور روشن کولاچی کے خلاف کرائم نمبر 18/2026 کے تحت دفعات 302، 120-B، 109، 34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے پولیس ٹیم کی شاندار اور اہم کارروائی پر شاباش کا پیغام دیا۔

  • لاہور: پالتو شیرنی کے حملے میں 8 سالہ بچی زخمی

    لاہور: پالتو شیرنی کے حملے میں 8 سالہ بچی زخمی

    لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھر میں پالی گئی شیرنی کے حملے کے نتیجے میں 8 سالہ معصوم بچی زخمی ہو گئی۔

    پولیس کے مطابق بچی کو کان، گردن اور ٹانگ پر گہرے زخم آئے، جس کے بعد اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شیرنی کسی طرح قابو سے باہر ہو گئی اور قریب موجود بچی پر حملہ کر دیا۔ زخمی بچی کے اہلِ خانہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

    ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک شہری نے غیر قانونی طور پر گھر میں شیرنی پال رکھی تھی۔ واقعے کے بعد ملزمان شیرنی کو ساتھ لے کر فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شیرنی کے مالک کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ملزمان کو قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔

    محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں میں پالنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • سانحہ گل پلازہ: لاشوں اور انسانی باقیات کی شناخت کا عمل تیز

    سانحہ گل پلازہ: لاشوں اور انسانی باقیات کی شناخت کا عمل تیز

    ‎سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں کی پانچ روز کے دوران سول اسپتال لائی گئی لاشوں اور انسانی اعضا کی شناخت کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق شناخت کے عمل سے متعلق سی پی ایل سی کے شناخت پروجیکٹ کے ڈائریکٹر نے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر انسانی باقیات سے شناخت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق متعدد ہڈیاں مکمل طور پر جل چکی ہیں، جن سے ڈی این اے حاصل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ جاں بحق افراد کی جو تعداد سامنے آ رہی ہے وہ بھی حتمی نہیں ہے۔
    ‎ڈائریکٹر شناخت پروجیکٹ کا کہنا تھا کہ انسانی باقیات کی تعداد بہت زیادہ ہے، مکمل لاشیں چند ہی ہیں جبکہ باقیات سیکڑوں میں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام باقیات کا ڈی این اے ممکن نہیں، تاہم سول اسپتال منتقل کی گئی لاشوں اور باقیات کی مجموعی تعداد 42 تک ہو سکتی ہے۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ اب تک 15 ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ سانحے کے بعد اب تک 60 افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں۔
    ‎ڈائریکٹر شناخت پروجیکٹ کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد 80 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں، جبکہ شناخت کا عمل مسلسل جاری ہے۔

  • اوکاڑہ:ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی، دو بھائی عمر قید کی سزا

    اوکاڑہ:ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی، دو بھائی عمر قید کی سزا

    اوکاڑہ (نامہ نگار: ملک ظفر) عدالت نے ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی کے مقدمے میں دو سگے بھائیوں کو عمر قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

    استغاثہ کے مطابق جنوری 2025 میں چک نمبر 16/1AL کے رہائشی دو بھائیوں رضوان اور عرفان نے ذہنی معذور لڑکی کو رکشہ میں بٹھا کر سرسوں کے کھیت میں لے جا کر باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کا مقدمہ نمبر 44/25 تھانہ صدر رینالہ خورد میں درج کیا گیا تھا۔

    پولیس نے میرٹ پر تفتیش مکمل کر کے ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت میں پیش کیا، جو ایڈیشنل سیشن جج رینالہ شبریز اختر راجہ کی عدالت میں زیرِ سماعت رہا۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر استغاثہ کو درست ثابت کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو عمر قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

    ڈی پی او اوکاڑہ محمد راشد ہدایت نے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ زیادتی جیسے سنگین جرم کے مرتکب کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے تفتیشی افسر اور لیگل ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

  • میرپور ماتھیلو: ابرار کولاچی قتل کیس پر لواحقین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو: ابرار کولاچی قتل کیس پر لواحقین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار: مشتاق علی لغاری) میرپور ماتھیلو میں ابرار کولاچی کے قتل کے خلاف لواحقین اور قریبی رشتہ داروں نے ایس ایس پی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شفاف و منصفانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرے کے دوران ابرار کولاچی کے ایک قریبی رشتہ دار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اصل قاتل بھاءُ کوڑا کولاچی کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں اور پولیس کی جانب سے بے گناہ افراد کو غلط طور پر ملوث کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

    مظاہرین نے قرآنِ پاک ہاتھ میں اٹھا کر نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ پولیس اور عدالتی ادارے غیرجانبدار تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حقائق سامنے نہ لائے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

    احتجاج میں خواتین بھی شریک تھیں، جنہوں نے جذباتی انداز میں انصاف کی اپیل کی اور کیس میں جانبداری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی شہریوں نے بھی زور دیا کہ اصل ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور بے گناہوں کی گرفتاری کا عمل فوری طور پر روکا جائے۔