Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ایک اور صلاح الدین پولیس کے ہتھے چڑھ گیا ، طالب علم پر بدترین تشدد کرکے موت کے دروازے تک پہنچا دیا

    ایک اور صلاح الدین پولیس کے ہتھے چڑھ گیا ، طالب علم پر بدترین تشدد کرکے موت کے دروازے تک پہنچا دیا

    قصور: دوریش وزیراعلیٰ کی نگری میں ایک اور صلاح الدین کو موت کے دروازے تک پہنچانے میں پنجاب کی ہونہار پولیس نے کوئی کسر نہیں‌چھوڑی ، اطلاعات کےمطابق قصور ضلع کی تحصیل کوٹ رادھاکشن میں پولیس کے مبینہ تشدد سے نویں جماعت کا طالب علم موت و زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔

    پنجاب پولیس کے تشدد کی لہر قصور بھی پہنچ گئی۔ پولیس نے نویں جماعت کے طالب علم نصیر کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے اس کی حالت انتہائی غیر ہو گئی۔

    پولیس گردی کی بھینٹ چڑھنے والے طالب علم نصیر کے ماموں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نصیر کو کئی روز تک بدترین تشدد کا نشانہ بناتی رہی جو اب گزشتہ 6 روز سے جناح اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔

    نصیر کے ماموں نے میڈیا کو بتایا کہ نصیر اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک کالنگ سینٹر بھی چلا رہا ہے۔ نصیر نے کسی شہری سے موبائل خریدا لیکن پولیس نے چوری کا الزام لگا کر کئی روز تک نصیر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ جب نصیر کی حالت انتہائی غیر ہو گئی تو پولیس نے اسے اسپتال لے جانے کے بجائے ہمارے حوالے کر دیا۔

    دوسری جانب حسب عادت ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ پولیس نے نصیر نامی کسی نوجوان پر کوئی تشدد نہیں کیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ نصیر سے موبائل برآمد ہوئے جو اس نے ڈکیتوں سے خریدے تھے۔

  • یہ کس ماں کے جگر کا ٹکڑا ہے ! مزنگ اوورہیڈ برج پر نامعلوم نوجوان جانبحق

    یہ کس ماں کے جگر کا ٹکڑا ہے ! مزنگ اوورہیڈ برج پر نامعلوم نوجوان جانبحق

    لاہور : انتظامیہ کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا کسی ماں کا لخت جگر، اطلاعات کے مطابق فیروز پور روڈ مزنگ کے علاقے میں اوور ہیڈ برج کی سیڑیوں پر کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق، پولیس نے لاش پوسٹمارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دی۔پولیس کا کہنا تھا کہ نوجوان کی شناخت نہیں ہوسکی

    پولیس کے مطابق مزنگ فیروزپور روڈ پر بنائے جانیوالے اوور ہیڈ برج پر تعمیراتی کام جاری تھا، انتظامیہ کی جانب سے بریج کو سرئیے لگا کر بند کردیا گیا تھا، نامعلوم نوجوان نے اوور ہیڈ برج پر جانے کی کوشش کی تو اسے کرنٹ لگ گیا جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

  • حواکی ایک اور  بیٹی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے  ، کون ہے یہ حوا کی بیٹی  اور کیا ہوا ؟

    حواکی ایک اور بیٹی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے ، کون ہے یہ حوا کی بیٹی اور کیا ہوا ؟

    ملتان :ایک اور حوا کی بیٹی پر ظلم کی انتہا ، مبینہ طور پر گھر سے جانے والی خاتون کی گھر میں ہی پنچایت لگ گئی،سسر اور والد نے مل کر خاتون کے سر کے بال کاٹ دئیے ۔ملتان پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کے والد حبیب ، بھائی حنیف اور سسرغلام فرید کو گرفتار کیا دوسری طرف خاتون کے سسر والد اور شوہر نے اس بات کا اعترا ف کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ اپنے اس عمل پر بالکل شرمندہ نہیں ہیں

    ذرائع کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے علاقہ تھانہ بستی ملوک میں خاتون پر تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آیا، پنجائیت نے کوثربی بی پر تشدد کرکے اس کے سر کے بال بھی کاٹ دیئے اورگنجا کردیا ، کوثر بی بی چار بچوں کی ماں ہے، پنجائیت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خاتون کے کسی کے ساتھ ناجائزتعلقات ہیں،

    جبکہ ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کا کہناتھا کہ گھریلو جھگڑا ہواجس پر میرا منہ کالا کیا اور سر کے بال مونڈھ دیئے گئے،متاثرہ خاتون کے سر کے بال مونڈھنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، خاتون نے حصول انصاف کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سے مدد کی اپیل کی۔

  • پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟  محمد عبداللہ

    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • فیروز پور روڈ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ ، میاں‌ بیوی شدید زخمی ، بیوی کی ٹانگ ہی کٹ گئی

    فیروز پور روڈ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ ، میاں‌ بیوی شدید زخمی ، بیوی کی ٹانگ ہی کٹ گئی

    لاہور : تیزرفتاری خطرہ جان ، پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، فیروز پور روڈ پر جنرل ہسپتال کے سامنے ٹرک کی ٹکر لگنے سے موٹر سائیکل سوار میاں بیوی شدید زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق فیروز پور روڈ پر جنرل ہسپتال کے سامنے ٹرک نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوارمیاں بیوی شدید زخمی ہوگئے، حادثے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو طبی امداد کیلئے جنرل ہسپتال منتقل کردیا، نشتر کالونی پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں شامل خاتون 30 سالہ کومل بی بی کی ٹانگ کٹ گئی، خاتون شوہر کے ہمراہ گھر جارہی تھی کہ ٹرک نے ٹکر مار دی، زخمیوں کا تعلق یوحنا آباد کے علاقے سے ہے۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں موٹرسائیکل سواروں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جن کی حالت ابھی بھی خطرے میں ہے

  • سگریٹ ، پان ، نسوار ، گٹکے کے استعمال پر پابندی ، کہاں اور کیوں عائد کی گئی وجہ سامنے آگئی

    سگریٹ ، پان ، نسوار ، گٹکے کے استعمال پر پابندی ، کہاں اور کیوں عائد کی گئی وجہ سامنے آگئی

    کراچی : سول ایوی ایشن کی طرف سے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کراچی ائیر پورٹ پر سگریٹ ، پان ، نسوار اور گٹکے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے , سول ایوی ایشن نے متنبہ کیا ہے کہ پابندی کے فیصلے کا اطلاق ایئرپورٹ کے تمام عملے پر بھی ہوگا اور اگر کوئی پان، نسوار اور گٹکا استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ،

    ذرائع کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں پر سالانہ 12 ملین مسافروں کی آمدرفت کی سہولت موجود ہے۔ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان کی قومی ایئر لائن سمیت نجی فضائی کمپنیوں کا بھی مرکز ہے جہاں انجینئرنگ کے شعبوں سمیت دیگر کئی اور شعبے بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک بھر میں حج پروازوں سے قبل نسوار لے کر جانے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی ، نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ عرب ممالک نے نسوار کو بھی منشیات کی فہرست میں شامل کر دیا ہے لہٰذا جس مسافر سے بھی نسوار برآمد ہوئی اس کے خلاف سخت قدم اٹھایا جائے گا۔

  • 9اور 10محرم الحرام کی مناسبت سے مظفرگڑھ پولیس نے سیکورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی

    ڈی پی او مظفرگڑھ صادق علی ڈوگر نے کہا ہے کہ ضلع مظفرگڑھ میں 9 اور 10 محرم الحرام کے دن چند حساس مقامات پر موبائل فون سروس بند رہے گی.سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے.مظفرگڑھ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی پی او صادق علی ڈوگر کا کہنا تھا کہ محرم الحرام میں ضلع کے 22 علماء و ذاکرین کی زبان بندی اور 27 علماء و ذاکرین کی ضلع بدری کی گئی.ڈی پی او صادق علی ڈوگر کا کہنا تھا کہ امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر فوج اور رینجرز کی نفری بھی ضلع میں پہنچ گئی ہے جبکہ پنجاب کانسٹیبلری کے 700 سے زائد اضافی اہلکار بھی ضلع بھر کے تھانوں میں تعینات کردئیے گئے ہیں.ڈی پی او مظفرگڑھ کا کہنا تھا کہ ضلع کے داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی کے لیےTravel Eye (ٹریول آئی) سسٹم نصب کردیا گیا ہے جبکہ شرپسندوں اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے.

  • کوہاٹ، عدالت پیشی کے لئے آنے والا شخص قتل، قاتل گرفتار

    کوہاٹ، عدالت پیشی کے لئے آنے والا شخص قتل، قاتل گرفتار

    کوہاٹ میں کچہری چوک پر فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق شخص کی شناخت ضیاء کے نام سے ہوئی ،پولیس کے مطابق فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا شخص عدالت میں پیشی کے لئے آیا تھا، پولیس نے قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے ،پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا

    پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے ملزم محسن کمال کو تھانہ کینٹ منتقل کر دیا گیا ہے جس سے تفتیش کی جائے گی اور قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا، پولیس نے ملزم سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے

  • مظفرگڑھ میں نو عمر لڑکوں پر مشتمل ڈکیت گینگ گرفتار

    مظفرگڑھ میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل 5 رکنی ڈکیت گینگ کو گرفتار کرلیا۔ملزمان سے لاکھوں روپے نقدی،ڈکیتی کی وارداتوں میں چھینی گئی موٹر سائیکلیں اور جدید اسلحہ بھی برآمد کرلیاگیا.ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ صادق علی ڈوگر نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ کم عمر نوجوانوں پر مشتمل 5 رکنی ڈکیت گینگ کو سرغنہ سمیت سنانواں سے گرفتار کیاگیا.ڈی پی او صادق علی ڈوگر کیمطابق گرفتار ڈاکو شہریوں سے اسلحہ کے زور پر موٹر سائیکل اور رقم چھیننے کی 14 سے زائد وارداتوں میں ملوث ہیں.ڈاکوؤں سے لاکھوں روپے نقدی،شہریوں سےچھینی گئی موٹر سائیکلیں اور جدید اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا.ڈی پی او مظفرگڑھ کا کہنا تھا کہ شیرازی ڈکیت گینگ نے ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر کئی شہریوں کو زخمی بھی کیا.

  • ساحل سمندر ،ریسٹورنٹ ہوٹل کے ویٹر کی خاتون سے زیادتی کی کوشش

    ساحل سمندر ،ریسٹورنٹ ہوٹل کے ویٹر کی خاتون سے زیادتی کی کوشش

    کراچی کے ساحل پر واقع ریسٹورنٹ کے ویٹر نے‌ خاتون سے زیادتی کی کوشش کی ،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دو دریا پر واقع نجی ریسٹورنٹ پر ہوٹل کے ویٹر نے خاتون سے مبیبنہ طور پر زیادتی کی کوشش کی، پولیس کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹ میں مظفر نامی شخص اپنی دوست کے ہمراہ کھانا کھانے کے لئے ریسٹورنٹ میں گیا، اسی دوران خاتون ریسٹورنٹ میں بنے خواتین کے لئے واش روم میں گئی تو ہوٹل کا ویٹر دیوار پھلانگ کر آ‌گیا

    خاتون کے مطابق ہوٹل کا ویٹر نشے میں تھا وہ نازیبا حرکات کرنے لگا جس پر اس نے شور مچا دیا، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے. ایس ایچ او غزالہ پروین کا کہنا ہے کہ ویٹر ضیاء الدین کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا.

    واضح رہے کہ ساحل سمندر پر خواتین سے زیادتیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں‌آیا ہے ، اس سے قبل بھی متعدد ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں. پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوتی ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں،

    عوامی حلقوں نے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور ریسٹورنٹ ویٹر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے