Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • سیالکوٹ:ڈی پی او  کے جرائم کنٹرول کے احکامات

    سیالکوٹ:ڈی پی او کے جرائم کنٹرول کے احکامات

    سیالکوٹ(بیوروچیف شاہدریاض کی رپورٹ)ڈی پی او کی زیر صدارت کرائم میٹنگ: جرائم پر قابو پانے اور اشتہاریوں کی گرفتاری کے احکامات

    تفصیل کے مطابق ڈی پی او سیالکوٹ رانا عمر فاروق کی سربراہی میں پولیس لائنز کے کانفرنس روم میں کرائم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ایس پی انویسٹی گیشن، ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز اور انچارج برانچز نے شرکت کی۔

    میٹنگ کے دوران ڈی پی او نے تھانہ جات کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیا، جن میں مقدمات کے اندراج، 15 کالز پر کارروائی، مطلوب اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور سنگین مقدمات کی پراگریس شامل تھی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ اپنے سرکلز میں جرائم پر قابو پانے اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنائیں۔

    ڈی پی او نے زور دیا کہ تمام زیر تفتیش مقدمات کو میرٹ پر یکسو کیا جائے اور خبردار کیا کہ میرٹ سے ہٹ کر کام کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • فیک نیوز پر سخت سزا، سائبر کرائم ترمیمی بل کا مسودہ تیار

    فیک نیوز پر سخت سزا، سائبر کرائم ترمیمی بل کا مسودہ تیار

    اسلام آباد (باغی ٹی وی رپورٹ) حکومت نے سائبر کرائم ترمیمی بل کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت جھوٹی خبریں (فیک نیوز) پھیلانے پر 5 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بل کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جسے سوشل میڈیا سے مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کا اختیار ہوگا۔ اتھارٹی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں یا کسی فرد کے خلاف نفرت انگیز یا گمراہ کن مواد کو ہٹانے کا حکم دینے کا اختیار دیا جائے گا۔

    اتھارٹی کے اختیارات میں ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد، جھوٹے الزامات، پورنوگرافی اور خوف و ہراس پیدا کرنے والے مواد کو ہٹانا شامل ہوگا۔ بل کے مطابق جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلانے پر سخت کارروائی ہوگی۔

    ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی میں ایک چیئرمین اور 6 اراکین ہوں گے اور اتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے لیے ٹریبونل قائم کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون ڈیجیٹل میڈیا کو منظم اور فیک نیوز کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔

  • قصور: خاتون کی خودسوزی، ایس ایچ او گنڈا سنگھ معطل

    قصور: خاتون کی خودسوزی، ایس ایچ او گنڈا سنگھ معطل

    قصور ( ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو سے) خاتون کا اقدام خودسوزی،ایس ایچ او تھانہ گنڈا سنگ کو معطل کر دیا گیا

    تفصیل کے مطابق تھانہ گنڈا سنگھ کی حدود میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون نے مبینہ طور پر پولیس کے ناروا سلوک سے تنگ آکر خود پر پٹرول ڈال کر آگ لگا لی، جس کے نتیجے میں خاتون کا 70 فیصد جسم جھلس گیا۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اس واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں کو تحقیقات کے احکامات جاری کیے۔

    تحقیقات کے نتیجے میں ایس ایچ او تھانہ گنڈا سنگھ ابرار جمیل کو معطل کر دیا گیا جبکہ ان کی جگہ سب انسپکٹر ریڈر ڈی پی او کو ایس ایچ او تھانہ گنڈا سنگھ تعینات کر دیا گیا۔ اسی دوران تھانہ شیخم کے ایس ایچ او نبیل احمد کو پی سی کلوز لائن کر دیا گیا اور سب انسپکٹر علی اکبر کو ان کی جگہ تعینات کیا گیا۔

    مزید تبدیلیوں میں سب انسپکٹر عثمان ورک کو پولیس لائن سے ڈی پی او ریڈر کے طور پر تعینات کیا گیا۔ واقعے کے بعد قصور پولیس کی انتظامی کارکردگی اور رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاتون کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

  • راجن پور پولیس کی گاڑی کی ٹرک سے ٹکر، دو اہلکار شہید، دو زخمی

    راجن پور پولیس کی گاڑی کی ٹرک سے ٹکر، دو اہلکار شہید، دو زخمی

    راجن پور/کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی،تحصیل رپورٹرمریدٹالپور)انڈس ہائی وے پرحادثہ، راجن پور پولیس کی گاڑی کی ٹرک سے ٹکر، دو اہلکار شہید، دو زخمی

    تفصیل کے مطابق راجن پور کے انڈس ہائی وے پر کھیتران پمپ کے قریب تھانہ صدر راجن پور کی پولیس وین ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے۔

    پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس پارٹی شراب کی ترسیل کی اطلاع پر منشیات فروشوں کے تعاقب میں تھی جب یہ حادثہ پیش آیا۔ شہید اہلکاروں میں عطا اللہ ملانہ اور محمد کاشف شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں سب انسپکٹر ذیشان اور کانسٹیبل غلام محمد شامل ہیں۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    حادثے کے بعد آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ڈی جی خان سے رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کے بہترین علاج کی ہدایت کی اور ڈی پی او راجن پور کو شہدا کے خاندانوں سے فوری رابطے کی تاکید کی۔

    ترجمان پنجاب پولیس نے کہا کہ شہید ہونے والے بہادر اہلکار فرض کی راہ میں اپنی جان قربان کر کے محکمہ کا فخر بنے ہیں۔ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • سیالکوٹ:کھیت میں بکریاں جانے اور پرانی رنجش پر 3 افراد زخمی

    سیالکوٹ:کھیت میں بکریاں جانے اور پرانی رنجش پر 3 افراد زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)کھیتوں میں بکریاں داخل ہونے اور پرانی رنجش کے تنازع پر دو مختلف واقعات میں3افراد زخمی ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ اگوکی کے علاقہ دھنے میں بکریاں کھیتوں میں گھسنے کے تنازع پر ملزمان آصف، عارف، حماد، ابراہیم، اور عمیر نے ڈنڈوں اور مکوں سے ناظم حسین پر حملہ کیا، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔

    دوسرا واقعہ عدالت گڑھا میں پیش آیا جہاں اکرم کا بیٹا حسنین اپنے دوست کے ساتھ دکان پر کھانا کھا رہا تھا۔ سابقہ تنازع کے باعث ملزمان عمر اور ابوزر نے وہاں پہنچ کر ڈنڈوں اور مکوں سے دونوں پر حملہ کیا، جس سے دونوں زخمی ہوگئے۔

    پولیس نے دونوں واقعات کے مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

  • کبیروالا : غیرت کے نام پر اتائی ڈاکٹر پر تشدد، ناک اور کان کاٹ دیے گئے

    کبیروالا : غیرت کے نام پر اتائی ڈاکٹر پر تشدد، ناک اور کان کاٹ دیے گئے

    کبیروالا (نامہ نگار) غیرت کے نام پر اتائی ڈاکٹر پر تشدد، ناک اور کان کاٹ دیے گئے

    کنڈ سرگانہ سے تعلق رکھنے والے اتائی ڈاکٹر پر غیرت کے نام پر حملہ ہوا، جس میں نامعلوم مسلح افراد نے اس کی ٹانگوں میں گولیاں ماریں اور استرے سے اس کا ناک اور کان کاٹ دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ صدر کبیروالا موقع پر پہنچی جبکہ زخمی ڈاکٹر کو حالت تشویشناک ہونے پر نشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا۔

    اطلاعات کے مطابق اتائی ڈاکٹر محمد رمضان، جو کنڈ سرگانہ میں کلینک چلاتا تھا، نے مبینہ طور پر اپنے کلینک کے ایک خفیہ کمرے میں کیمرا نصب کر رکھا تھا۔ اس کی مدد سے وہ خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بناتا رہا۔ اس بات کے انکشاف پر مقامی افراد نے احتجاج کیا، جس کے بعد وہ اپنی فیملی کے ہمراہ کنڈ سرگانہ چھوڑ کر بٹہ کوٹ میں روپوش ہوگیا۔

    گزشتہ روز بٹہ کوٹ کے علاقے میں رمضان نواز پٹرولیم سروس کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اسے روکا اور نہ رکنے پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ حملہ آوروں نے اسے گھسیٹ کر قریبی گھر میں لے جا کر استرے سے ناک اور کان کاٹ دیے اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق اتائی ڈاکٹر کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر لیک ہونے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔

  • اوکاڑہ: ریسکیو 1122 کی نومبر کی کارکردگی رپورٹ جاری

    اوکاڑہ: ریسکیو 1122 کی نومبر کی کارکردگی رپورٹ جاری

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی,نامہ نگارملک ظفر) ریسکیو 1122 اوکاڑہ نے گزشتہ ماہ کے دوران 4375 ایمرجنسیز پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے 4137 افراد کو مدد فراہم کی۔ 1524 متاثرین کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی، جبکہ 2613 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام کی زیر صدارت سنٹرل اسٹیشن اوکاڑہ میں منعقدہ ماہانہ کارکردگی اجلاس میں یہ تفصیلات پیش کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کل 15206 کالز موصول ہوئیں، جن میں سے 4375 حقیقی ایمرجنسی کالز تھیں، جبکہ 7633 غیر متعلقہ، 3165 معلوماتی، 21 غلط اور 12 جھوٹی کالز تھیں۔

    روڈ ٹریفک حادثات: 1076 حادثات میں 1125 افراد متاثر ہوئے، 10 جان بحق اور 533 کو ہسپتال منتقل کیا گیا،میڈیکل ایمرجنسیز: 2736 کیسز رپورٹ ہوئے۔آتشزدگی: 62 واقعات میں 18 ملین روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی محفوظ کی گئی۔جرائم اور متفرق حادثات: 109 کرائم اور 392 متفرق واقعات رپورٹ ہوئے۔

    ریسکیو موٹر بائیک سروس نے 2137 ایمرجنسیز پر 3.65 منٹ کے اوسط وقت میں کارروائی کرتے ہوئے 2095 افراد کو مدد فراہم کی۔ پیشنٹ ریفرل سسٹم کے تحت 319 مریضوں کو بہتر طبی امداد کے لیے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں 127 افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اوکاڑہ اور 192 کو دیگر اضلاع کے ہسپتالوں میں پہنچایا گیا۔

    ریسکیو 1122 اوکاڑہ کی بروقت کارروائیوں کو عوام نے سراہتے ہوئے ان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: عدالتی حکم کے باوجود پریس کلب کی بندش، توہین عدالت کی درخواست دائر

    ڈیرہ غازی خان: عدالتی حکم کے باوجود پریس کلب کی بندش، توہین عدالت کی درخواست دائر

    ڈیرہ غازی خان (نامہ نگار) ڈیرہ غازی خان میونسپل کارپوریشن کی مبینہ نااہلی کے خلاف عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ سول جج یعقوب علیانی نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    صدر پریس کلب ڈیرہ غازی خان شیر افگن بزدار کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نے عدالتی حکم کے باوجود پریس کلب کو ڈی سیل نہیں کیا بلکہ اس پر تین شفٹوں میں پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا ہے جو عدالت کے حکم کی واضح توہین ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی بیلف کے ذریعے پریس کلب کو فوری طور پر ڈی سیل کیا جائے۔

    صدر پریس کلب اور صدر انجمن صحافیان غلام مصطفی لاشاری نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب صحافیوں کا مرکز اور مظلوم طبقے کی آواز ہے۔ پریس کلب کی بندش سے نہ صرف صحافتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی سے ملک بھر میں ایک منفی تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے۔

    انہوں نے میونسپل کارپوریشن اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے پریس کلب کو فوری طور پر کھولنے کے اقدامات کریں تاکہ صحافی اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے ادا کر سکیں۔

  • لنڈی کوتل: مشتبہ شخص سے 4 کلوگرام ہیروئن اور 1 کلوگرام چرس برآمد

    لنڈی کوتل: مشتبہ شخص سے 4 کلوگرام ہیروئن اور 1 کلوگرام چرس برآمد

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) لنڈی کوتل پولیس نے منشیات سپلائر کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کے قبضے سے 4 کلوگرام ہیروئن اور 1 کلوگرام چرس برآمد کر لی۔ ملوث ملزم کو موقع پر گرفتار کرکے حوالات منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال کی قیادت میں ضلع بھر میں منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کامیاب کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ایس ایچ او لنڈی کوتل عدنان آفریدی کی جانب سے موصول ہونے والی خفیہ اطلاع پر لنڈی کوتل پولیس سٹیشن کے ایڈیشنل ایس ایچ او عظمت ولی شینواری نے علاقہ خوگا خیل دلخاد بائی پاس پر کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران مشتبہ پیدل شخص سجاد خان ولد ایوب، سکنہ خوگا خیل، کو روکا گیا، جس کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے، اور ضلع بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ عوام نے پولیس کی اس کامیاب کارروائی کو سراہا ہے۔

  • بچی کو ہراساں کرنے والے شخص کو بہو کی گواہی پر 14 سال قید

    بچی کو ہراساں کرنے والے شخص کو بہو کی گواہی پر 14 سال قید

    کراچی کی سیشن عدالت نے بچی کو ہراساں کرنے اور اسکی نازیبا تصاویر بنانے کے جرم میں ملوث شخص کو اس کی بہو کی گواہی پر 14 سال قید اور 10 لکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

    رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی عبدالظہور چانڈیو نے کم سن بچی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے بعد اس کی نازیبا تصاویر کھینچنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملزم اشوک کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377-بی (ہراسانی کی سزا) کے تحت 14 سال قید کی سزا سنائی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ’درخواست گزار اور ملزم کے درمیان کسی سابقہ دشمنی یا بدنیتی کے شواہد نہیں ملے نا ہی وکیل صفائی نے درخواست گزار یا استغاثہ کے گواہوں سے جرح کے دوران ایسی کسی دشمنی کے حوالے سے رائے یا شواہد پیش کیے‘۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ’ملزم اس بات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ مدعی یا کلیدی گواہان بشمول ملزم کی اپنی بہو ، نے اسے جھوٹے الزام میں پھنسایا ہے اور یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ اتنی کم سن بچی یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ ملزم کے خلاف اس قدر سنگین الزامات گڑھ سکے، لہٰذا ظاہری ثبوت قدرتی، مربوط اور قابل بھروسہ ہیں، ملزم کے قصور وار ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے’۔عدالت نے ملزم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہےاور عدم ادائیگی جرمانہ پر اسے مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔سرکاری وکیل عرفانہ قادری کے مطابق والدہ کام پر جاتی تو متاثرہ بچی اپنے پڑوسیوں کےگھر جاتی تھی، ایک دن مجرم اشوک کی بہو نے کسی کو کا ل کرنے کے لیے اس کا موبائل دیکھا تو اس میں اسےمتاثرہ بچی کی نازیبا تصاویر ملیں، ملزم کی بہو نے بعد ازاں بچی کے والدین کو واقعے سے آگاہ کیا، بچی نے بتایا کہ ملزم اسے ٹافیوں کا لالچ دیکر اسکی تصاویر کھینچتا تھا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ جنسی ہراسانی کے مقدمات میں متاثرہ فرد کا بیان ہی سزا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے بشرطیکہ وہ قابل اعتماد ہو اور دوسرے شواہد سے اس کی تصدیق کرتے ہوں، عدالت نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ’ یہ طے شدہ قانون ہے کہ متاثرہ فرد کی گواہی، خاص طور پر جنسی ہراسانی کے جرائم میں اہمیت کی حامل ہوتی ہے’۔ٹرائل کے دوران وکیل استغاثہ بیرسٹر بہزاد اکبر اورسرکاری وکیل نے دلائل میں کہا تھا کہ پراسیکیوشن نے 11 گواہوں پر جرح کے ذریعے کامیابی سےاپنا مقدمہ ثابت کیا ہے، طبی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ یہ ریپ نہیں جنسی ہراسانی کا مقدمہ ہے، انہوں مزید دلیل دی کہ ٹرائل کے دوران پیش کیے گئے متاثرہ بچی اور آزاد گواہوں کے بیانات ملزم کو سزا سنانے کے لیے کافی ہیں’۔دوسری جانب ، وکیل صفائی نے اپنے موکل کے بےگناہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دلیل دی کہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ( ایف آئی آر) تاخیر سے درج کرائی گئی، انہوں نے مزید دلیل دی کہ ان کے موکل کو ذاتی دشمنی کی بنیاد پربدنیتی کے ذریعے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔دریں اثنا، عدالت نے وکیل صفائی کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ’متاثرہ بچی اور گواہوں کے بیانات اعتماد پر مبنی، مستقل مزاج اور بغض سے پاک ہونے کے طے شدہ اصولوں پر پورا اترتے ہیں’۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ’شکایت کنندہ کی جانب سے ملزم کو دشمنی یا مذموم مقصد کے لیے نہیں پھنسایا گیا اور دفاع کی جانب سے یہ ثابت کرنے میں ناکامی استغاثہ کے مقدمے کی ساکھ کو مزید مضبوط کرتی ہے’۔ملزم کے خلاف کلفٹن پولیس اسٹیشن میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376( ریپ) اور 511(ایسے جرائم کے ارتکاب کی کوشش کرنے پر عمر قید یا مختصر مدت کے لیے سزا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    پاکستان اور سعودی عرب ، 56 کروڑ ڈالر کےمعاہدے حتمی مراحل میں داخل

    نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی