Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • جہلم میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پرحملہ، ملزم گرفتار

    جہلم میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پرحملہ، ملزم گرفتار

    
انجینئر محمد علی مرزا پر گزشتہ رات جہلم میں واقع ان کی اکیڈمی کے اندر حملہ کیا گیا، تاہم وہ اس واقعے میں محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
    پولیس کے مطابق حملے کے وقت انجینئر محمد علی مرزا درس مکمل کرنے کے بعد شرکاء کے ساتھ فوٹو سیشن میں مصروف تھے کہ ایک نوجوان نعرہ لگاتے ہوئے خالی ہاتھ ان پر جھپٹ پڑا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے دونوں ہاتھوں سے ان کا گلا دبانے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود افراد نے فوری طور پر اسے قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزم ایبٹ آباد کا رہائشی ہے اور اس کا تعلق ایک کالعدم جماعت سے بتایا جا رہا ہے۔
    ‎واقعے کا مقدمہ تھانہ سٹی جہلم میں درج کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس مزید تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ حملے کے محرکات اور ممکنہ پس منظر کا تعین کیا جا سکے۔

  • کوہلو کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، ریسکیو آپریشن جاری

    کوہلو کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، ریسکیو آپریشن جاری

    کوہلو کے علاقے کوہ جاندران میں لگی آگ پے24 گھنٹوں بعد بھی مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔

    جنگلات حکام کے مطابق محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کوہلو کے اہلکار اور مقامی رضاکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں آگ نے وسیع رقبے کے جنگلی درخت اور جھاڑیاں جلا دی ہیں اور جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا ہے ڈویژنل فارسٹ آفیسر جان محمد کاکڑ نے بتایا کہ آگ بجھانے تک ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن جاری رکھا جائے گا، دشوار گزار پہاڑی علاقے کی وجہ سے ریسکیو عملے کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم فیلڈ میں موجود عملہ مسلسل آگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں مصروف ہےبعض مقامات پر آگ کی شدت برقرار ہے اور مکمل کنٹرول میں وقت لگے گا،عملہ محدود وسائل کے باوجود مسلسل آپریشن میں مصروف ہے اور ریسکیو ٹیمیں مرحلہ وار آگ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • نوشہرو فیروز میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق

    نوشہرو فیروز میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق

    نوشہرو فیروز کے قریب قومی شاہراہ پر تیز رفتار کار اور ٹریلر کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں کار میں سوار چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق سولنگی برادری سے بتایا جا رہا ہے حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ ٹریلر سڑک کے کنارے جا رکا، مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کیں اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دی۔

    ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو گاڑی سے نکال کر ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس کے ذریعے نوشہرو فیروز کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا اسپتال ذرائع کے مطابق تمام افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد لاڑکانہ سے کراچی جا رہے تھے حادثے کے بعد کچھ دیر کے لیے قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جسے پولیس کی مدد سے بحال کر دیا گیا۔

    پولیس نے ٹریلر کو تحویل میں لے کر ڈرائیور سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں،حکام کے مطابق ابتدائی طور پر تیز رفتاری کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔

  • طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں کا وین ڈرائیور پر شدید تشدد

    طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں کا وین ڈرائیور پر شدید تشدد

    بھکر کے نواحی علاقے برکت والا میں کالج طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں نے وین ڈرائیور پر شدید تشدد کیا۔

    پولیس کے مطابق چند اوباش افراد نے طالبات کو تنگ کرنے کی کوشش کی، جس پر وین ڈرائیور قاسم نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں منع کیا ڈرائیور کے روکنے پر ملزمان طیش میں آگئے اور اپنے دیگر ساتھیوں کو بلا کر قاسم پر تشدد کیا۔ بتایا گیا ہے کہ 4 افراد نے ڈرائیور کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے آدھ موا حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او بھکر شہزاد رفیق نے فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا –

    ڈی پی او شہزاد رفیق نے کہا ہے کہ خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے اور اوباش عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا۔

  • ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر طالبہ نےخودکشی کرلی

    ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر طالبہ نےخودکشی کرلی

    کولکتہ:ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر دسویں جماعت کی طالبہ نے اپنے کمرے کی چھت سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں پیش آیا ا والدین کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے اور گھر میں صرف ایک بہن اور دادی موجود تھیں شام کو والدین گھر واپس لوٹے اور جب کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی تو دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی جواب نہیں آیا جس پر اہل خانہ نے دروازہ توڑ دیا اہل خانہ کمرے میں داخل ہوئے تو بیٹی کو دوپٹے کے ذریعے پنکھے سے لٹکا ہوا پایا اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں موت کی تصدیق کردی گئی۔

    والدین نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی دسویں کلاس میں پڑھتی تھی اور اس کے تمام پیپرز بہت اچھے ہوئے تھے لیکن ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر وہ ہر وقت افسردہ رہتی تھی اس نے مایوسی کے عالم میں دو دن سے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور کمرے میں ہر وقت اکیلی رہتی تھی۔

    مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ خودکشی کا کیس لگتا ہے لیکن مقدمے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہےتعلیمی ماہرین کے بقول بھی امتحانات کے دوران طلبا کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے خاص طور پر جب وہ نتائج کے بارے میں غیر معمولی فکرمند ہوں،ماہرین والدین اور اساتذہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کی ذہنی کیفیت پر نظر رکھیں اور انہیں ناکامی یا کم نمبروں کی صورت میں بھی حوصلہ دیں۔

    وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،صدر مملکت

  • انسٹاگرام سے شروع ہونے والی محبت سیپٹک ٹینک میں لاش ملنے پر ختم

    انسٹاگرام سے شروع ہونے والی محبت سیپٹک ٹینک میں لاش ملنے پر ختم

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوبال میں ایک سنسنی خیز قتل کا انکشاف ہوا ہے جہاں 33 سالہ خاتون کی مسخ شدہ لاش خالی پلاٹ میں قائم سیپٹک ٹینک سے برآمد ہوئی۔

    پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اندوہناک واردات کو 24 گھنٹوں کے اندر ٹریس کر لیا گیا، جس کی کہانی محبت، دھوکہ، بلیک میلنگ اور قتل جیسے پہلوؤں پر مشتمل ہے۔پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت اشرفی عرف سیا کے نام سے ہوئی ہے جو ریاست مہاراشٹر کے ضلع گونڈیا کی رہائشی تھیں۔ تحقیقات کے مطابق سیا کو پیر کے روز اس کے شادی شدہ عاشق سمیر نے مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کیا، جس میں اس کے اہلِ خانہ نے بھی معاونت کی۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سال قبل سیا اور سمیر کی ملاقات سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ہوئی۔ ابتدا میں عام نوعیت کی گفتگو جلد ہی معاشقے میں بدل گئی۔ محبت میں اندھی سیا تقریباً تین ماہ قبل اپنا گھر چھوڑ کر بھوبال منتقل ہو گئی اور سمیر کے ساتھ رہائش اختیار کر لی، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز کر رہی ہے۔تاہم سمیر پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا۔ جب سیا اس کے علاقے کملہ نگر کے گھر میں رہنے لگی تو روزانہ کی بنیاد پر جھگڑے شروع ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیا اور سمیر کی بیوی کے درمیان اکثر تلخ کلامی ہوتی تھی جبکہ پڑوسیوں نے بھی گھر میں کشیدگی اور چیخ و پکار کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ سیا سمیر پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس نے شادی سے انکار کی صورت میں پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ گھریلو حالات مزید کشیدہ ہو گئے اور سمیر کی بیوی مبینہ طور پر حالات سے تنگ آ کر اپنے میکے جَبَل پور چلی گئی۔پیر کی شام سیا اور سمیر کے درمیان ایک اور شدید جھگڑا ہوا۔ پولیس کے مطابق طیش میں آ کر سمیر نے سیا کا گلا دبا دیا جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے سمیر نے مبینہ طور پر اپنے بھائی، والدہ اور بہن کی مدد سے لاش کو ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور پیر اور منگل کی درمیانی شب گھر کے قریب ایک خالی پلاٹ میں موجود سیپٹک ٹینک میں پھینک دیا۔جمعرات کی شام قریبی علاقے میں کھیلنے والے بچوں نے ٹینک سے اٹھنے والی شدید بدبو کی شکایت کی۔ مکینوں نے اندر لوہے کا صندوق تیرتا دیکھا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تلاشی لی تو صندوق کے اندر سے سیا کی بری طرح مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔لاش کافی حد تک گل چکی تھی جس کے باعث واضح زخموں کے نشانات نظر نہیں آ رہے تھے، تاہم ہاتھ پر بنے چراغ کے مخصوص ٹیٹو اور تاریخ "26 مئی 1992” سے شناخت ممکن ہوئی، جو غالباً اس کی تاریخ پیدائش تھی۔

    نشات پورہ تھانے کے انسپکٹر منوج پٹوا کے مطابق لاش تین سے چار روز پرانی معلوم ہوتی ہے اور ابتدائی شواہد گلا دبانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پولیس نے سمیر کے بھائی، والدہ اور بہن کو لاش ٹھکانے لگانے میں مدد دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سمیر تاحال مفرور ہے۔ اس کی بیوی سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد کو بھی علم تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق سیا کی ذاتی زندگی بھی پیچیدہ تھی اور اس کی اس سے قبل تین شادیاں ہو چکی تھیں، جن میں سے بعض ریاست مہاراشٹر اور راجستھان میں ہوئیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اصل محرک اور واقعات کی مکمل ترتیب فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کی تلاش تیز کر دی ہے جبکہ علاقے میں اس لرزہ خیز واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا ہے

  • کراچی میں چور سنار کی دکان کا صفایا کر گئے

    کراچی میں چور سنار کی دکان کا صفایا کر گئے

    کراچی میں ایک بار پھر چوری کی بڑی واردات نے تاجروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے سنار کی دکان کا صفایا کر دیا اور لاکھوں روپے مالیت کا سامان لے اُڑے۔

    پولیس کے مطابق واردات شہر کے علاقے ملیر سٹی میں قائم گھانچی مارکیٹ میں پیش آئی۔ ملزمان نے رات کی تاریکی میں دکان کے تالے کاٹ کر اندر داخل ہونے کے بعد سنار کی تجوری اٹھا لی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق چور انتہائی مہارت سے کارروائی کر کے فرار ہوئے۔
    تھانہ پولیس حکام کے مطابق تجوری میں تقریباً 850 گرام سونا اور 15 لاکھ روپے نقد رقم موجود تھی۔ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مارکیٹ کے چوکیدار کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے تاکہ واردات میں کسی اندرونی مدد کے امکان کو بھی جانچا جا سکے۔

    دوسری جانب متاثرہ سنار کا کہنا ہے کہ اس کی دکان میں 5 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور دیگر قیمتی زیورات موجود تھے اور مجموعی نقصان پولیس کے ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔ سنار نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے لوٹا گیا مال برآمد کیا جائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت کے لیے مارکیٹ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے جبکہ فرانزک ٹیم نے بھی شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ پانچ روز قبل بھی کراچی کے علاقے سعید آباد میں اسی نوعیت کی واردات پیش آئی تھی، جہاں ملزمان سنار کی دکان کے تالے کاٹ کر 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات لے گئے تھے۔ اس واقعے کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج ہے تاہم تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔تاجروں اور دکانداروں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی کے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • اوگاہوں ڈیم میں نہاتے ہوئے دو کمسن طالب علم زندگی کی بازی ہار گئے

    اوگاہوں ڈیم میں نہاتے ہوئے دو کمسن طالب علم زندگی کی بازی ہار گئے

    گوجرخان کے نواحی علاقے میں اوگاہوں ڈیم کا افسوسناک سانحہ دسویں جماعت کے دو طالب علم پانی میں ڈوب کر جاں بحق، علاقے میں کہرام
    اوگاہوں ڈیم میں حفاظتی انتظامات پر سوالیہ نشان، دو ہنستے بستے گھروں کے چراغ گل، شہریوں کا ضلعی انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے میں واقع اوگاہوں ڈیم ایک دل خراش سانحے کا منظر پیش کرنے لگا جہاں نہاتے ہوئے دو نوجوان پانی کی بے رحم لہروں کی نذر ہو گئے۔ افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق عرفان اور شاہزیب نامی دو کمسن طالب علم، جو دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھے، گرمی کے باعث ڈیم میں نہانے کے لیے اترے۔ اچانک پانی کی گہرائی اور تیز بہاؤ کے باعث دونوں نوجوان ڈوب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور مقامی افراد کی مدد سے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔کچھ دیر کی جدوجہد کے بعد دونوں نوجوانوں کی نعشیں پانی سے نکال لی گئیں۔ جانبحق ہونے والے دونوں طالب علموں کی میتوں کو قانونی کارروائی کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا گیا۔

    جیسے ہی حادثے کی خبر پھیلی علاقے میں کہرام مچ گیا اور اہلِ خانہ پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ ہر سو رنج و الم کی فضا قائم ہو گئی جبکہ تعلیمی ادارے اور مقامی افراد بھی غم میں ڈوب گئے۔مقامی شہریوں نے اس المناک سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیم اور دیگر آبی مقامات پر مؤثر حفاظتی اقدامات، وارننگ بورڈز اور سیکیورٹی عملہ تعینات کیا جائے تاکہ مستقبل میں قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ یہ سانحہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی ہے کہ تفریحی مقامات پر حفاظتی تدابیر اور احتیاطی شعور کی کمی کس طرح لمحوں میں خوشیوں کو ماتم میں بدل دیتی ہے۔

  • 
چولستان جیپ ریلی میں حادثہ، تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے پولیس افسر جاں بحق

    
چولستان جیپ ریلی میں حادثہ، تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے پولیس افسر جاں بحق

    
چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کے دوران پیش آنے والے حادثے میں ایک پولیس افسر جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد انتظامیہ نے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے۔
    تفصیلات کے مطابق حادثہ ریلی ٹریک کے مڈ پوائنٹ پر اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار جیپ بے قابو ہو کر ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر سے ٹکرا گئی۔ حادثہ پری پیئرڈ کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ کے دوران قلعہ جام گڑھ کے مقام پر پیش آیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے افسر کی شناخت بشیر کرم خان کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کی میت کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
    ‎حادثے کے بعد انتظامیہ نے ریلی ٹریک پر سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے شائقین کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر ٹریک سے دور منتقل کر دیا، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • کراچی،مشرف کالونی میں گولیاں چل گئیں،میاں بیوی،بیٹے کی موت

    کراچی،مشرف کالونی میں گولیاں چل گئیں،میاں بیوی،بیٹے کی موت

    کراچی کے علاقے مشرف کالونی میں صبح سویرے اندوہناک فائرنگ کے واقعے میں میاں، بیوی اور ان کا کمسن بیٹا جاں بحق جبکہ ایک خاتون زخمی ہو گئی۔

    واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا، پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمی خاتون کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ بظاہر ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں عابد نامی شخص، اس کی اہلیہ اور ان کا بیٹا شامل ہیں۔ عابد پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور تھا اور اس کا تعلق مانسہرہ سے بتایا جاتا ہے۔ فائرنگ کے دوران زخمی ہونے والی خاتون مقتول عابد کی سالی ہے جو واقعے کے وقت گھر میں بطور مہمان موجود تھی۔

    زخمی خاتون نے پولیس کو ابتدائی بیان میں بتایا کہ حملہ آور عابد کا ہم زلف دانش تھا۔ اس کے مطابق عابد نے اپنی ایک بیٹی دانش کو گود دے رکھی تھی، تاہم بعد ازاں اسی معاملے پر دونوں کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ زخمی خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم دانش رات تقریباً تین بجے عابد کے گھر آیا تھا اور بعد ازاں صبح فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔پولیس حکام کے مطابق علاقہ مکینوں نے بھی بیان دیا ہے کہ انہوں نے ملزم دانش کو واردات کے بعد عابد کے گھر سے فرار ہوتے دیکھا۔ پولیس نے ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔