خان پور میں پسند کی شادی کرنے والی ایک خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس کے بعد واقعے نے عوامی توجہ حاصل کر لی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ڈی ایس پی آفس خان پور کے باہر پیش آیا، جہاں خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کر چکی ہیں اور اس حوالے سے عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنے شوہر کے حق میں بیان بھی ریکارڈ کرا چکی ہیں۔
خاتون کے مطابق عدالتی بیان کے باوجود ان کے والدین اور دیگر رشتہ داروں نے مبینہ طور پر انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔ اس دوران موقع پر موجود افراد کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک خاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بھی ہاتھا پائی ہوتی دکھائی دیتی ہے، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات اور ویڈیو کے تمام مناظر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس معاملے میں کسی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے یا مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر کوئی بالغ خاتون اپنی آزاد مرضی سے شادی کرے اور عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا دے تو اس کی رضامندی کو قانون میں اہم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم ایسے معاملات میں کسی بھی تنازعے کا فیصلہ متعلقہ عدالت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شواہد کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
Category: جرائم و حادثات
-

پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو زبردستی لے جانے کی کوشش
-

لاہور، واٹر پارک میں انتظامیہ کی مبینہ غفلت، دبئی سے آئی 9 سالہ بچی جاں بحق
لاہور کے ایک نجی واٹر پارک میں مبینہ انتظامی غفلت کے باعث سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے 9 سالہ بچی رحمین فاطمہ جاں بحق ہوگئی۔ افسوسناک واقعے نے اہل خانہ کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق رحمین فاطمہ چند روز قبل دبئی سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے لاہور آئی تھی اور مصری شاہ میں اپنے ننھیال میں مقیم تھی۔ 13 جولائی کو وہ خاندان کے دیگر بچوں کے ہمراہ جلو موڑ کے قریب واقع ایک نجی واٹر پارک میں نہانے گئی، جہاں کھیلتے ہوئے اچانک لاپتہ ہوگئی۔اہل خانہ کے مطابق بچی کے لاپتہ ہونے پر فوری طور پر واٹر پارک انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا، تاہم کافی تلاش کے بعد رحمین فاطمہ کی لاش سوئمنگ پول کے ڈرینیج سسٹم کے تیسرے مین ہول سے برآمد ہوئی۔ بچی کی لاش ملتے ہی والدین اور اہل خانہ پر قیامت ٹوٹ پڑی اور موقع پر کہرام مچ گیا۔
پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے واٹر پارک کے منیجر سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا اور مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔جاں بحق ہونے والی بچی کے والد محمد ندیم نے الزام عائد کیا کہ رحمین فاطمہ ان کی شادی کے نو سال بعد منتوں مرادوں سے پیدا ہونے والی اکلوتی بیٹی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے سوئمنگ پول میں موجود ہونے کے باوجود عملے نے ڈرینیج ہول کھول رکھے تھے اور وہاں حفاظتی جنگلہ بھی موجود نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے نہانے کے دوران ڈرینیج سسٹم کو کھلا رکھنا مجرمانہ لاپرواہی ہے، جس کے باعث ان کی اکلوتی بیٹی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ متاثرہ خاندان نے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
-

مٹیاری ٹرین حادثہ، 17 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، ریلوے ٹریک 24 گھنٹے بند رہنے کا امکان
سندھ کے ضلع مٹیاری میں وہاب شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب یوسف والا کول ہاپر ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے باعث 17 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور اپ و ڈاؤن دونوں ریلوے ٹریک مکمل طور پر بند ہو گئے۔ حادثے کے بعد ملک کے مختلف شہروں کے درمیان ریلوے ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ حکام نے ٹرینوں کی آمد و رفت تقریباً 24 گھنٹوں تک معطل رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ڈی سی او ریلویز کراچی کے مطابق حادثے کے فوری بعد امدادی اور تکنیکی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر روانہ کر دیا گیا، جہاں بوگیوں کو ہٹانے اور متاثرہ ٹریک کی بحالی کا کام جاری ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ٹریک بند ہونے کے باعث متعدد مسافر ٹرینوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے اور بحالی کے کام میں وقت لگ سکتا ہے۔
حادثے کے بعد کراچی سے لاہور جانے والی قراقرم ایکسپریس کو حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا، جبکہ علامہ اقبال ایکسپریس کو کوٹری اسٹیشن پر روک لیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان ایکسپریس کو لانڈھی اسٹیشن، تیزگام ایکسپریس کو ڈرگ روڈ اسٹیشن، جبکہ ملت ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کو کراچی کینٹ اسٹیشن پر روک دیا گیا ہے۔
ریلوے انتظامیہ کے مطابق متاثرہ ٹریک کی مرمت مکمل ہونے تک مزید ٹرینوں کے شیڈول میں بھی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی متعلقہ ٹرین کی تازہ صورتحال معلوم کر لیں تاکہ غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔
ترجمان پاکستان ریلویز کراچی ڈویژن نے بتایا کہ کراچی ڈویژن کی حدود میں متاثر ہونے والے تمام مسافروں کو ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے ریلوے اسٹیشنوں پر عملہ موجود ہے اور انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
تاحال حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم ریلوے حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ریلوے ٹریفک کو جلد از جلد معمول پر لایا جائے۔ -

رحیم یار خان: 18 سالہ طالب علم سے مبینہ اجتماعی زیادتی، ایک ملزم گرفتار
رحیم یار خان میں 18 سالہ طالب علم کے ساتھ مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ایک نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ نوجوان کو مبینہ طور پر سالگرہ کی تقریب کا بہانہ بنا کر ایک رہائشی عمارت میں بلایا گیا، جہاں اسے نشہ آور چیز پلائے جانے کا الزام ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق نشہ آور شے پلانے کے بعد تین سے چار افراد نے مبینہ طور پر باری باری نوجوان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد متاثرہ طالب علم کو نیم مردہ حالت میں بائی پاس روڈ کے کنارے پھینک دیا گیا۔ راہگیروں نے نوجوان کو دیکھ کر فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جس کے بعد امدادی ٹیم نے اسے اسپتال منتقل کیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔
متاثرہ نوجوان کی درخواست پر تھانہ سٹی سی ڈویژن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں جبکہ متاثرہ نوجوان کا میڈیکل معائنہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے، جس کی رپورٹ تفتیش کا حصہ بنائی جائے گی۔
پولیس نے مقدمے میں نامزد ملزم حماد اکرم ولد اکرم مسیح، سکنہ حبیب کالونی، کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد تین دیگر ملزمان نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر رکھی ہے، جبکہ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔
متاثرہ نوجوان کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان نے زیادتی کے بعد ان کے بیٹے کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو کمرہ خون سے آلود تھا، جس سے واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور تمام دستیاب شواہد، فرانزک رپورٹ اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث ہر شخص کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ -

شہریوں کو مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر لوٹنے والے 2 پولیس اہلکار گرفتار ایک فرارہو گیا
لاہور میں شہریوں کو مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر لوٹنے والے تین پولیس اہلکاروں کے گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ایک اہلکار فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ کاہنہ کی حدود میں خیابانِ امین سوسائٹی کے قریب پیش آیا، جہاں تینوں اہلکاروں نے مبینہ طور پر ناکہ لگا رکھا تھا اور شہریوں کو ڈرا دھمکا کر اسلحے کے زور پر لوٹ رہے تھے اطلاع ملنے پر پٹرولنگ پولیس نے فوری کارروائی کی، پولیس کو دیکھتے ہی اہلکار سجاد موقع سے فرار ہوگیا، جبکہ د یگر دو اہلکار علی حسن اور کبیر علی کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار اہلکار علی حسن تھانہ سندر جبکہ کبیر علی تھانہ گارڈن ٹاؤن میں کانسٹیبل کے طور پر تعینات ہیں فرار ہونے والا اہلکار سجاد بھی پولیس میں کانسٹیبل ہے ابتدائی تحقیقات کے مطابق تینوں اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک گروہ بنا رکھا تھا اور شہریوں سے لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث تھے۔
پولیس کے مطابق گرفتار دونوں اہلکاروں کو تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ تینوں اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے فرار ہونے والے اہلکار سجاد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزمان اس نوعیت کی کتنی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں اور آیا ان کے ساتھ کوئی اور افراد بھی شامل تھے یا نہیں۔
-

شیخوپورہ: تھیٹر میں اسٹیج اداکارہ پر مبینہ حملہ، اداکارہ نے جان کو خطرہ قرار دے دیا
شیخوپورہ میں ایک تھیٹر پرفارمنس کے دوران اسٹیج پر ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک نوجوان مبینہ طور پر اسٹیج پر چڑھ گیا اور پروگرام میں خلل ڈالا۔ واقعے کے بعد اسٹیج اداکارہ شمع ناز نے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شمع ناز نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ راجہ زین نامی شخص ان پر غیر اخلاقی تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے اس کی خواہش ماننے سے انکار کیا تو انہیں تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ تھیٹر میں محنت کر کے اپنے خاندان کا رزق کماتی ہیں، مگر بعض عناصر ان کے روزگار کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے بقول کچھ افراد نشے کی حالت میں تھیٹر میں داخل ہو کر اسٹیج پر چڑھ جاتے ہیں اور فنکاروں کے ساتھ بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی کرتے ہیں، جس سے نہ صرف پروگرام متاثر ہوتا ہے بلکہ فنکاروں کی جان و مال کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
شمع ناز نے کہا کہ اگر انہیں یا ان کے اہلِ خانہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری ان کے بقول راجہ زین نامی شخص پر ہوگی۔ انہوں نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور تھیٹرز میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ فنکار محفوظ ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے پولیس یا نامزد شخص کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ واقعے سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی، جبکہ حکام کی جانب سے تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔ -

مخالفین کو پھنسانے کے لیے 7 سالہ بیٹی کے مبینہ قتل کا الزام، والد گرفتار
خیرپور کے علاقے کوٹ ڈیجی میں سات سالہ کمسن بچی کے مبینہ قتل کے افسوسناک واقعے میں پولیس نے مقتولہ کے والد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے مخالفین کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی غرض سے اپنی ہی بیٹی کو مبینہ طور پر قتل کیا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) خیرپور امیر سعود مگسی کے مطابق ملزم کو گرفتار کر کے اس سے مبینہ آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
پولیس کے مطابق بچی کے قتل کا مقدمہ مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں والدہ نے اپنے شوہر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ذاتی دشمنی کا بدلہ لینے اور مخالفین کو پھنسانے کے لیے اپنی بیٹی کو مبینہ طور پر قتل کیا۔
مقتولہ کی والدہ کے مطابق چند روز قبل بچوں کے درمیان معمولی جھگڑا ہوا تھا، جس کے دوران مخالفین کے بچوں نے ان کے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے کے بعد شوہر نے کہا تھا کہ وہ ایک بیٹی کو قتل کر کے مخالفین کے خلاف مقدمہ درج کروائے گا۔
والدہ نے مزید الزام لگایا کہ جب انہوں نے شوہر کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو انہیں بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ بعد ازاں ان کی بیٹی پراسرار طور پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، جس پر انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور واقعے سے متعلق تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ فرانزک اور دیگر تکنیکی رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے سنگین جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ -

بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 32 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور ڈرون برآمد
بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشن میں اب تک 32 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ علاقے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، ایک ڈرون اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مقامی طور پر تیار کیے گئے پانچ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز)بروقت تلاش کر کے ناکارہ بنا دیے، جس سے ممکنہ بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ایک کواڈ کاپٹر (ڈرون)، ایک اینٹی ڈرون گن، تین سب مشین گنز (ایس ایم جیز) اور ایک ایم فور رائفل بھی قبضے میں لی گئی۔ اس کے علاوہ متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی ہے۔ فورسز مرحلہ وار مختلف مقامات کی تلاشی لے رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے اور دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ -

کالام کے مٹلتان میں گلیشیئر ٹوٹ گیا، 7 افراد متاثر، ایک لاپتا
خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقے کالام کی وادی مٹلتان میں گلیشیئر ٹوٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 7 افراد اس کی زد میں آ گئے۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور مقامی انتظامیہ نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد میں سے 3 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 3 افراد محفوظ رہے۔ ایک شخص تاحال لاپتا ہے، جس کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ اور گلیشیئر کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم لاپتا شخص کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
مقامی انتظامیہ نے سیاحوں اور شہریوں کو گلیشیئرز اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ موسمی تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے ٹوٹنے اور برفانی تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر سے قبل موسم اور مقامی حکام کی ہدایات سے آگاہ رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔ -

وانا میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی،دہشتگردی کی بڑی کوشش ناکام
سکیورٹی فورسزنے انٹیلیجنس پر مبنی کارروائی سے وانا اور گردونواح کی شہری آبادی کو ایک بڑی ممکنہ تباہی سےبچا لیا گیا-
تفصیلات کے مطابق سکیورٹی فورسزنے جنوبی وزیرستان لوئر کےعلاقے وانا (غواخوا) میں بارودی مواد سے بھری گاڑی خودکش حملے سے پہلےہی تباہ کردی کامیاب کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری گاڑی اورموٹر سائیکل تباہ کر دیے جس میں ایک خارجی جہنم واصل اور 5 زخمی ہوئے، گاڑی میں موجود دھماکا خیز مواد کسی ممکنہ بڑے دہشتگرد حملے میں استعمال کیا جانا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا سکیورٹی فورسز نے خودکش حملے کیلئے تیارگاڑی کی مسلسل تین دن نگرانی کی اور آبادی سے دور جانے پر ہی اسے نشانہ بنایا،دہشتگردی کیخلاف یہ کامیاب کارروائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سکیورٹی فورسز امن دشمن عناصر کیخلاف سیسہ پلائی دیوار ہیں۔
واضح رہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں شدت سے جاری ہیں آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ ماہ فورسز نے کاروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 48 دہشت گرد ہلاک کیے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا 13 جون کو شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کے دوران 21 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔ کارروائیوں میں میران شاہ اور گرد و نواح میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔