Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    انمول پنکی کیس پر سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے پولیس چیف نے کہا کہ کراچی پولیس اور حساس ادارے لمبے عرصے سے اس کیس پر کام کر رہے تھے، پنکی 18 سال سے ڈرگ سپلائی کر رہی ہے ، وہ آن لائن نیٹ ورک اور بائیکیا رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ، 2018 سے کراچی میں بھی سپلائی جاری ہے،انمول کراچی کی ہے ، اس کی لاہور میں ڈرگ اسمگلر سے شادی ہوئی ہے ،انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    آزاد خان نے کہا کہ کوکین ڈرگ سپلائی میں انمول کے دو بھائی اور خواتین کے علاوہ لاہور کے بڑے نام بھی انمول پنکی کیساتھ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں، پنکی قتل کیس میں بھی ملوث ہے جس میں ریمانڈ نہیں ملا ، منشیات کی رقم آن لائن بھائیوں کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی تھی ، موبائل فون میں 860 غیر ملکیوں اور دیگر منشیات ڈیلرز کے نمبر موجود ہیں، پنکی کے موبائل سے بڑے ڈیلرز کے شواہد مل گئے ہیں۔

    کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سندھ ،پنجاب ، خیبر پختونخوا کے منشیات ڈیلرز پنکی کیساتھ رابطے میں ہیں ، راجہ پرویز اشرف سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں ، پنکی کے موبائل فون سے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیس آگے بڑھا رہے ہیں۔

  • خاتون کی جانب سے پولیس انسپکٹر پر زیادتی کا الزام،مقدمہ درج

    خاتون کی جانب سے پولیس انسپکٹر پر زیادتی کا الزام،مقدمہ درج

    تبسم عباس نامی خاتون کا راجن پور میں تعینات انسپکٹر ابرار احمد پر زیادتی کے الزام کا معاملہ ،آر پی او ڈی جی خان محمد اظہر اکرم کے خصوصی حکم پر خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا

    آر پی او نے مقدمہ کی تفتیش میرٹ، شفافیت اور غیر جانبداری کی بنیاد پر مکمل کرنے کا حکم دے دیا، تفتیشی عمل کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے انسپکٹر ابرار احمد کو کلوز ٹو لائن کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے،آر پی او کے حکم پر مقدمہ کی تفتیش مکمل ہونے تک انسپکٹر ابرار احمد کلوز ٹو لائن رہیں گے ،آرپی او ڈی جی خان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے،مقدمہ کی تفتیش میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے، آر پی او محمد اظہر اکرم کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی میں کسی بھی فریق کے خلاف زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی،محکمۂ پولیس اپنے اہلکاروں کے غیر قانونی و غیر اخلاقی طرزِ عمل پر سخت محکمانہ کارروائی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،ترجمان پولیس کے مطابق خاتون نے آر پی او ڈیرہ غازی خان محمد اظہر اکرم کی کھلی کچہری میں پیش ہو کر زیادتی کا الزام عائد کیا تھا،آر پی او محمد اظہر اکرم کے فوری نوٹس لینے پر حسب ضابطہ قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی،

  • پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا-

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں،مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے پیغامات میں گولڈن اسٹف 25 ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف 15 ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے، نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذر یعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا-

  • کٹی پتنگ کی ڈور پھرنے سے نوجوان زخمی

    کٹی پتنگ کی ڈور پھرنے سے نوجوان زخمی

    لاہور کے علاقے اچھرہ پل پر کٹی پتنگ کی ڈور ایک اور شہری کے لیے خطرہ بن گئی، ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار نوجوان زخمی ہو گیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق نوجوان ابوبکر موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اچانک کٹی پتنگ کی ڈور اس کی گردن پر پھر گئی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد زخمی نوجوان کو اسپتال منتقل کر دیا۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ابوبکر کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور اسے ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    واقعے کے بعد پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ شہری حلقوں نے ایک بار پھر پتنگ بازی اور دھاتی ڈور کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    کٹی ڈور پھرنے سے نوجوان زخمی، ڈی آئی جی آپریشنز کا نوٹس،ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن کو شوکاز نوٹس جاری
    مسلم ٹاؤن پل ، کٹی ڈور پھرنے سے نوجوان کے زخمی ہونے کا معاملہ،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا واقعہ کا سخت نوٹس، ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ ابوبکر نامی نوجوان موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ کٹی ڈور اس کی گردن پر پھری. زخمی نوجوان کو فوری میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، حالت خطرے سے باہر ہے، ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی ماڈل ٹاؤن کو واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا۔ ترجمان دی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت جاری ہے،تمام ایس ایچ اوز کو اپنے اپنے علاقوں میں پتنگ بازی کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے،تمام علاقوں میں درختوں، چھتوں اور بجلی کے کھمبوں پر لٹکتی ڈور فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت کی ہے،ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس رواں سال ابتک 4ہزار 185 ملزمان گرفتار کر چکی ہے،پتنگ بازوں اور فروشوں سے 1 لاکھ 14 ہزار سے زائد پتنگیں اور 44 سو سے زائد چرخیاں برآمد کر چکی. شہریوں کی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی.

  • انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل

    انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل

    انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں بھی ہلچل مچ گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے کراچی پولیس سے رابطہ کرکے پنجاب بھر کے مبینہ ڈرگ ڈیلرز کی فہرست اور انمول پنکی کے بیانات طلب کرلیے ہیں۔

    پنجاب بھر میں منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، لاہور کے مقدمات کی تفتیش کیلئے بھی کراچی پولیس سے تفصیلات حاصل کرلی گئیں۔پولیس ذرائع کے مطابق انمول پنکی کا ریکٹ کراچی سے لاہور میں بھی آپریٹ کرتا رہا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پنکی کے پنجاب میں ڈرگ ڈیلرز سے متعلق انکشافات کو لاہور پولیس کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، لاہور پولیس کو ملزمہ پنکی کے بیانات اور منشیات ریکٹ کا ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق لاہور میں انمول پنکی کو 2024ء میں اس وقت کے پولیس نارکوٹکس یونٹ نے گرفتار کیا تھا۔

    علاوہ ازیں منشیات سے متعلق کیس میں انمول عرف پنکی کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
    ، 2019 میں تھانہ لیاقت آباد میں منشیات ایکٹ کی دفعہ 9C کے تحت درج مقدمے میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مقدمے میں طاہر سلیم کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جس نے دورانِ تفتیش مؤقف اختیار کیا کہ وہ انمول عرف پنکی کا مبینہ مال فروخت کرتا رہا ہے۔تحقیقات کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے سی آر او برانچ کو خصوصی ٹاسک سونپا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دس سال کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام مقدمات میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر تفتیش میں غفلت سامنے آئی تو ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی.

  • قاضیاں مبینہ زیادتی کیس، واقعہ سابقہ قتل کیس سے جوڑنے کی کوشش، تحقیقات کا دائرہ وسیع

    قاضیاں مبینہ زیادتی کیس، واقعہ سابقہ قتل کیس سے جوڑنے کی کوشش، تحقیقات کا دائرہ وسیع

    زیادتی کا الزام یا انتقامی کارروائی؟ قاضی عتیق نے الزامات کو گواہی سے روکنے کی سازش قرار دیا خاتون نے کا ویڈیو بیان بھی جاری
    گوجر خان زیادتی مقدمے کی شفاف انکوائری اور موبائل ڈیٹا سی ڈی آر چیک کرنے کا مطالبہ پولیس کا میرٹ پر تفتیش کا عزم

    گوجر خان (قمرشہزاد)گوجر خان کے نواحی علاقے قاضیاں میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے نے ایک نئی اور انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے تانے بانے چند ہفتے قبل ہونے والے ایک ہائی پروفائل قتل کیس سے ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات اور مقامی ذرائع کے مطابق، اس واقعے کو محض ایک جرم کے طور پر نہیں بلکہ سابقہ دشمنی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جبکہ وکٹم خاتون نے بھی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسکے ساتھ زیادتی کی گئی ہے تین ماہ بعد رپورٹ آئے گی حقائق سامنے آ جائیں گے دو ملزمان مجھے بیڈ روم لے گے میں بھاگتی رہی دونوں نے زیادتی کی تیسرے نے ویڈیو بنائی۔

    تفصیلات کے مطابق، چند ہفتے قبل قاضیاں میں قاضی عمیر نامی نوجوان کو سرعام قتل کر دیا گیا تھا، جس میں قاضی عتیق نامی شہری زخمی ہوئے تھے۔ اس قتل کیس میں قاضی حیدر اور قاضی کلیم نامزد ملزمان ہیں۔ اب حالیہ واقعے میں ملزم قاضی حیدر کی ملازمہ نے قاضی عتیق کے بیٹے اور بھانجے پر زیادتی کا الزام عائد کیا ہے، جسے قاضی عتیق نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔قاضی عتیق کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مقدمہ سراسر بے بنیاد اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کا واحد مقصد انہیں قتل کیس میں گواہی دینے سے روکنا اور دباؤ ڈالنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وقوعہ کے وقت ان کا بیٹا گھر پر موجود تھا اور مخالف فریق قانونی گرفت سے بچنے کے لیے خواتین کو ڈھال بنا کر انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔انہوں نے اے ایس پی گوجر خان سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ جدید تکنیکی شواہد، موبائل لوکیشن (CDR) اور حقائق کو مدنظر رکھا جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے اور کسی بے گناہ کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور تمام سائنسی و قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ تھانہ گوجرخان کی چوکی قاضیاں کی حدود میں درندگی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ملزمان نے گھر میں گھس کر ایک شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس نے خاتون کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ذرائع کے مطابق ایک ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    قاضیاں کی رہائشی مسمات ش نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر کام پر اور بچے سکول گئے ہوئے تھے کہ صبح نو بجے کے قریب وہ گھر کا فرش دھو رہی تھی قاضی مہتاب اور قاضی حماس نامی ملزمان ایک نامعلوم ساتھی کے ہمراہ زبردستی گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے خاتون کو کمرے میں لے جا کر باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ ان کا تیسرا نامعلوم ساتھی اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بناتا رہا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی انچارج چوکی قاضیاں لیاقت شاہ نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور متاثرہ خاتون کو طبی معائنے کے لیے لیڈی کانسٹیبل کے ہمراہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 382/26 بجرم 375A اور 292 ت پ کے تحت درج کر کے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ دوسری جانب گوجرخان سرکل میں خواتین اور بچوں کیساتھ ہراسانی اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوامی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    عوامی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اب تک رپورٹ ہونے والے کسی بھی کیس میں نہ تو پولیس کا روایتی نیفے میں پستول چلنے پولیس مقابلے والا خوف نظر آیا اور نہ ہی ایسے کیسز کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سی سی ڈی کے حوالے کیا گیا۔ شہریوں نے آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مقدمات کے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے کیسسز فوری طور پر سی سی ڈی کے سپرد کیے جائیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہ سکے اور خواتین اور بچے خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔

  • انمول عرف پنکی کی نشاندہی پر گھر پر چھاپہ،کوکین برآمد

    انمول عرف پنکی کی نشاندہی پر گھر پر چھاپہ،کوکین برآمد

    کراچی میں منشیات فروشی کے خلاف پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی نشاندہی پر سچل کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں کوکین اور پیکنگ میٹریل برآمد کر لیا۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق کارروائی کے دوران گھر سے کوکین کے علاوہ منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے خصوصی پیکٹس بھی قبضے میں لیے گئے۔ پولیس نے اس حوالے سے سچل تھانے میں سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی منشیات انمول عرف پنکی نے مختلف علاقوں میں سپلائی کے لیے گھر میں چھپا رکھی تھی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں میں کوکین فراہم کرتی رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کو پہلے ہی قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دورانِ تفتیش منشیات کے کاروبار سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین سپلائی کا باقاعدہ نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

    تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انمول عرف پنکی نے مبینہ طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھا اور بعد ازاں اپنے نام سے منشیات کا ایک الگ برانڈ بھی متعارف کرایا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے ابتدا میں اپنے سابق شوہر کے ساتھ مل کر یہ کاروبار شروع کیا، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل تھا اور مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی کوکین گینگ سے منسلک رہا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ منشیات سپلائی چین کے مزید روابط کا سراغ لگانے کی کوشش جاری ہے

  • متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی،منشیات فروش پنکی کا انکشاف

    متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی،منشیات فروش پنکی کا انکشاف

    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ایک افسر نے میرے بھائی کو متعدد بار پکڑا اور رشوت لے کر چھوڑ دیا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہےتفتیش میں پنکی کے زیرِ استعمال 2 موبائل سمز افضل اور صابرہ بی بی کے ناموں پر رجسٹرڈ نکلیں، متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی، پولیس اہلکار نے میرے رائیڈرز کو حرا ست میں لے کر 1 کروڑ کی مجموعی رشوت لی۔

    ملزمہ انمول عرف پنکی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار نے اتنا تنگ کیا کہ اسے قتل کروانے کی منصوبہ بندی بھی کی، پولیس اہلکار کے قتل کے لیے کرائے کے قاتلوں کی مدد لینے کا بھی سوچا لاہور سے منشیات بھیجنے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، میرا شناختی کارڈ بلاک ہوا تو سمیر کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھلوایا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے بتایا کہ منشیات کی رقم موبائل ایپ سے بھیجی اور وصول کی جاتی ہے، رقم کی منتقلی کے لیے بینک اکاؤنٹ ذیشان کے نام سے بھی کھلوایا گیا، سابق شوہر کے 2 بھائی بطور ایڈووکیٹ کام کرتے ہیں، پولیس سے بچنے کے لیے سابق شوہر منشیات وکلا بھائیوں کے چیمبرز میں رکھتا ہے۔

  • انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    کراچی :پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی گینگ کے ایک مرکزی کارندے ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزم ذیشان اس پورے نیٹ ورک کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالنے کا ذمہ دار تھا اور اس سے ہونے والی ابتدائی تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں منشیات کی خرید و فروخت کے لیے ادائیگیوں کا ایک پیچیدہ نظام بنایا گیا تھا جس میں آن لائن ایپس اور موبائل بیلنس کی آڑ میں رقم منتقل کی جاتی تھی جبکہ ایک نجی کمیونیکیشن فرنچائز کو بھی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ اب لاہور تک پھیل چکا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے خفیہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہےسی سی ڈی لاہور نے بھی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور امکان ہے کہ پنکی کو قانونی کارروائی کے لیے لاہور منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ایک نئی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر بچوں کو نشانہ بناتا ہے اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کا جال پھیلانے کے لیے زیادہ خریداری کرنے والوں کو رعایتی پیکج بھی دیے جاتے تھے عدالت نے اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔

    ادھر کراچی میں تفتیشی حکام کو ملزمہ کے بھائی شوکت کی تلاش ہے جس کا مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف پہلے ہی منشیات فروشی کا مقدمہ درج ہے ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس افسر رانا اکرام کو بھی اس کیس میں شامل تفتیش کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے دوران تفتیش منشیات کی فراہمی کے انتہائی انوکھے طریقے کا بھی پتہ چلا ہے جس کے مطابق یہ 6 رکنی گروہ جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے گاہک سے براہ راست نہیں ملتا تھا-

    پولیس حکام کے مطابق گروہ کا کارندہ کسی سنسان گلی یا مقام کا انتخاب کر کے وہاں پتھر کے نیچے منشیات چھپا دیتا تھا اور پھر خریدار کو اس مقام کی لوکیشن بھیج دی جاتی تھی،پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی جبکہ پنکی منشیات کالین دین آئن لائن کرتی تھی،پولیس اب ملزم ذیشان کے بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ڈیٹا کی مدد سے اس پورے گروہ کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    واضح رہے کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا جب کہ گزشتہ روز پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آیا ہے۔

    لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ 2022 میں شاداب کالونی میں لگژری گاڑی سے پنکی کا بھائی ملزم ریاض بلوچ منشیات دینے اترا تو پولیس نے قابو کرلیا، اس کے ساتھ موجود اس کی بہن انمول عرف پنکی گاڑی دوڑا کر نکل گئی، پنکی کے بھائی ریاض بلوچ پر لاہور میں 7 جنوری 2022 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محض 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی کوکین نیٹ ورک کی اہم کارندہ بن گئی انمول کی پہلی شادی ایک وکیل سے ہوئی جو عالمی کوکین گینگ سے وابستہ تھا، جہاں سے اس نے منشیات کی دنیا میں قدم رکھا،وکیل سے طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے شادی کی اور اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا-

    انمول کراچی کے علاقے نگارہ گوٹھ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، سال 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات کی سپلائی کا آغاز کیا، ملزمہ نے اس فیلڈ میں اپنا نام پنکی رکھا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کام کو پھیلایاکراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی ، اور وہیں سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے 800 سے زائد کسٹمرز تھے جن کو وہ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ۔

    حیران کن طور پر ملزمہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھ کر اپنا “برانڈ” بھی متعارف کروا رکھا تھاملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ تھا جس میں کوئی بھی رکن ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتا تھا لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین کے ذریعے کوکین کراچی بھیجی جاتی، جہاں سے با ئیک رائیڈرز اسے مختلف ڈیلرز تک پہنچاتے اور ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بتانا ہے کہ ملزمہ کے گروپ میں دیگر خواتین اور مرد بھی شامل ہیں ، نیٹ ورک کے کارندے کوکین اسمگل کرکے مختلف شہروں ، کراچی کی جامعات ، کالجز اور آن لائن فروخت بھی کرتے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ملزمہ اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہی تھی اور اس نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے،جبکہ ملزمہ لاہور میں کپڑے کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔