Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • خیرپور میں پراسرار بیماری سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے جاں بحق

    خیرپور میں پراسرار بیماری سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے جاں بحق

    ‎خیرپور کے کچے کے علاقے احمد پور میں ایک ہفتے کے دوران پراسرار بیماری سے ایک ہی خاندان کے تین بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ متعدد دیگر بچے بھی اسی نوعیت کی بیماری میں مبتلا ہیں، جس کے باعث والدین سخت تشویش میں مبتلا ہیں اور فوری طبی امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
    ‎ورثا کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کو ابتدا میں تیز بخار اور مسلسل الٹی کی شکایت ہوئی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو گمبٹ اور خیرپور کے اسپتالوں میں بھی دکھایا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے بیماری کی واضح تشخیص نہیں بتائی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ علاج کے باوجود بچوں کی حالت بگڑتی گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔
    ‎متاثرہ خاندان نے حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹروں اور طبی ٹیموں کو بھیجا جائے تاکہ بیماری کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ اہلخانہ کے مطابق گاؤں کے کئی دوسرے بچے بھی بخار اور دیگر علامات میں مبتلا ہیں، اس لیے خدشہ ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ تینوں بچوں کا انتقال اسپتال میں نہیں ہوا، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق بیماری کی نوعیت جاننے کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر نمونے لیبارٹری بھیجے جائیں گے۔
    ‎واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں بھی خیرپور میں بچوں میں مختلف متعدی بیماریوں کی علامات سامنے آئی تھیں، جن میں ایم پاکس، خسرہ اور چکن پاکس شامل تھے۔ اس دوران متعدد بچوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا جبکہ دس روز کے اندر سات بچوں کے انتقال کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
    ‎اس وقت کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے بتایا تھا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں میں سے صرف چار میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر بچے خسرہ، چکن پاکس، غذائی قلت اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار تھے۔ موجودہ واقعے کے بعد ایک بار پھر صحت کے نظام اور بیماریوں کی بروقت تشخیص پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقے میں فوری طبی سروے اور احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • کوہاٹ میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی، 4 افراد جاں بحق

    کوہاٹ میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی، 4 افراد جاں بحق

    ‎کوہاٹ میں شدید بارش کے دوران ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں ایک رہائشی مکان کی چھت اچانک گرنے سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے وقت گھر میں کئی افراد موجود تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
    ‎ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی کارروائی کے دوران ملبے سے 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ دیگر افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
    ‎حکام کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 15 افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔ امدادی اہلکار بھاری مشینری اور دستی آلات کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
    ‎مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں کے باعث علاقے میں متعدد کچے اور خستہ حال مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث شہریوں کو احتیاط برتنے اور کمزور عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق امدادی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام متاثرہ افراد کو ملبے سے نکال نہیں لیا جاتا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور جائے حادثہ پر غیر ضروری رش سے گریز کریں تاکہ امدادی کام متاثر نہ ہو۔
    ‎ضلعی انتظامیہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ شدید بارشوں کے پیش نظر حساس علاقوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں کے دوران کمزور اور بوسیدہ عمارتوں میں رہائش اختیار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور کسی بھی خطرناک صورتحال کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • ویتنام میں سیاحوں کی کشتی الٹنے سے 15 بھارتی سیاح ہلاک

    ویتنام میں سیاحوں کی کشتی الٹنے سے 15 بھارتی سیاح ہلاک

    ویتنام کے جنوبی جزیرے فو کوک کے قریب سیاحوں کی ایک کشتی الٹنے سے کم از کم 15 بھارتی سیاح ہلاک جبکہ 21 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

    حادثے کے بعد مقامی حکام نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے اور واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے مقامی حکام کے مطابق کشتی میں مجموعی طور پر 36 افراد سوار تھے، جن میں 32 بھارتی سیاح، عملے کے تین ارکان اور ایک معاون شامل تھا، کشتی ہون مے رٹ جزیرے سے این تھوئی بندرگاہ جا رہی تھی کہ ساحل سے تقریباً 400 میٹر دور سمندر میں الٹ گئی۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت سمندر میں بڑی لہریں اٹھ رہی تھیں اور موسم خراب تھا، جس کے باعث کشتی حادثے کا شکار ہوئی، تاہم حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

    ویتنام میں بھارتی سفارت خانے نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہا ہےمتاثرہ خاندانوں کی معاونت کے لیے ہو چی منہ سٹی اور ہنوئی میں ہنگامی مراکز قائم کر دیے گئے ہیں، جبکہ مقامی حکام کے ساتھ رابطہ بھی جاری ہے حادثے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں کیونکہ مقامی حکام کی جانب سے سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

  • 2 لالچی بیٹوں نے جائیداد نام کرانے کیلیے باپ کو کمرےمیں رسیوں سے باندھ کر قید کر دیا

    2 لالچی بیٹوں نے جائیداد نام کرانے کیلیے باپ کو کمرےمیں رسیوں سے باندھ کر قید کر دیا

    ڈی آئی خان میں لالچی بیٹوں نے جائیداد نام کرانے کیلئے باپ کو کمرے میں قید کردیا ۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ ڈی آئی خان کے علاقے کوٹ جائی میں پیش آیا جہاں 2 لالچی بیٹوں نے جائیداد نام کرانے کے لیے باپ کو کمرےمیں رسیوں سے باندھ کر قید کردیا،پولیس نے بتایا کی بیٹی کی جانب سے پولیس کو اطلاع دی گئی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بزرگ شہری کو بازیاب کرایا،پولیس کے مطابق شہری بیٹوں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کو بھی زمین کا حصہ دینا چاہتا تھا تاہم دونوں بیٹوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کردی ہے۔

  • اچھرہ کے ٹیوشن سینٹر میں 10 سالہ بچی کی موت،  مقدمہ درج

    اچھرہ کے ٹیوشن سینٹر میں 10 سالہ بچی کی موت، مقدمہ درج

    لاہور کے علاقے اچھرہ میں واقع ایک ٹیوشن سینٹر میں 10 سالہ بچی نعیمہ کی پراسرار ہلاکت کے واقعے پر پولیس نے والد محمد عدنان کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق 10 سالہ نعیمہ اپنی دو بہنوں کے ہمراہ دوپہر تقریباً ایک بجے ٹیوشن پڑھنے گئی تھی۔ کچھ دیر بعد ٹیوشن سینٹر چلانے والی ٹیچر کے والد عبدالرؤف نے اہل خانہ کو اطلاع دی کہ بچی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔ اطلاع ملنے پر اسے فوری طور پر بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کر دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق بچی کی گردن پر رسی یا پھندے کے واضح نشانات پائے گئے ہیں، جس کے باعث مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اچھرہ کی اتحاد کالونی میں ایک گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر میں پیش آیا، جہاں محلے کی 15 سے 20 بچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ واقعے کے روز نعیمہ اپنی دو بہنوں کے ساتھ ٹیوشن پہنچی تھی۔ دورانِ کلاس اس نے واش روم جانے کی اجازت لی، تاہم کافی دیر گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی۔ تشویش پر اس کی بڑی بہن واش روم گئی تو نعیمہ نیم مردہ حالت میں پڑی تھی۔ شور مچنے پر اہل محلہ جمع ہو گئے اور بچی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد نعیمہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق طالبہ کے گلے پر پھندے کا واضح نشان موجود ہے اور موت کی وجہ گلے میں پھندا لگنا قرار دی گئی ہے، جبکہ جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح آثار نہیں ملے۔

    تحقیقات کے دوران پولیس نے جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کرکے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔ پولیس کے مطابق واش روم کا دروازہ لاک نہیں تھا، جبکہ مزید تفتیش کے لیے گھر کے مالک کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔محلے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ گھر میں دو بہنیں عرصہ دراز سے ٹیوشن سینٹر چلا رہی ہیں اور ان کے اپنے بچے بھی وہاں پڑھتے رہے ہیں، اس سے قبل کبھی کسی قسم کی شکایت یا ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا۔

    دوسری جانب جاں بحق بچی کے والد محمد عدنان، جو پیشے کے لحاظ سے رکشہ ڈرائیور ہیں، نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہوا، تاہم انہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف کرے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ، پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں واقعے کی تمام ممکنہ جہتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

  • اچھرہ ،ٹیوشن سنٹر  میں 10 سالہ بچی سے زیادتی کا شبہہ،ہسپتال میں بچی چل بسی

    اچھرہ ،ٹیوشن سنٹر میں 10 سالہ بچی سے زیادتی کا شبہہ،ہسپتال میں بچی چل بسی

    اچھرہ میں ٹیوشن سنٹر میں 10 سالہ بچی کی لاش ملنے کے معاملہ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    پولیس کے مطابق تین منزلہ گھر کی دوسری منزل پر بچوں کو گھر کی عورتیں ٹیوشن پڑھا رہی تھیں ، بچی واش روم کرنے گرائونڈ فلور پر آئی تھی ، دس منٹ تک واپس نہ آنے پر ٹیچر نیچے آئی ، تو بچی بے ہوشی کی حالت میں واش روم میں پڑی تھی ، ٹیچر نے شور مچانا شروع کردی اس دوران محلے دار اکٹھے ہو کر اندر گئے ، بچی کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر پانی کے چھینٹے مارے گئے ، ہوش نہ آنے پر ہسپتال لے جایا گیا ، جہاں پر وہ جانبر نہ ہوسکیں ، بچی کی گردن پر نشانات ہیں ، جس سے شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس کا گلہ رسی سے دبا کر مبینہ طور قتل کیا گیا ہے ، شبہ ہے کہ اسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے ، لاہور پولیس نے گھر کے مالک عبدلرائوف کو حراست میں لے لیا ،عبدالرائوف کی دونوں بیٹیاں ٹیویشن پڑھاتی ہیں ، 20 کے قریب بچیاں اور بچے ٹیوشن پڑھتے ہیں ،اہلخانہ کا کہنا ہے کہ نعیمہ نے خودکشی نہیں کی ،

  • قتل کیس، وکلاء نے مبینہ تشدد کے ٹیکسٹ پیغامات کو دفاع کا حصہ بنا دیا

    قتل کیس، وکلاء نے مبینہ تشدد کے ٹیکسٹ پیغامات کو دفاع کا حصہ بنا دیا

    امریکا میں مشہور سبسکرپشن پلیٹ فارم اونلی فینز سے وابستہ ماڈل کورٹنی کلینی کے خلاف اپنے بوائے فرینڈ کرسچن اوبومسیلی کے قتل کے مقدمے میں ایک نئی قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی نئی دستاویزات کے مطابق کلینی کی قانونی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول کی جانب سے ماضی میں کیے گئے مبینہ جسمانی اور ذہنی تشدد کے شواہد، خصوصاً ٹیکسٹ پیغامات، مقدمے میں بطور ثبوت پیش کیے جائیں گے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ملزمہ نے اپنے دفاع میں کارروائی کی تھی۔

    30 سالہ کورٹنی کلینی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپریل 2022 میں میامی کی ایک رہائشی عمارت میں اپنے بوائے فرینڈ کرسچن اوبومسیلی کو چاقو کے وار سے ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے خلاف سیکنڈ ڈگری قتل کا مقدمہ درج ہے، جبکہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت اگلے ماہ شروع ہونے والی ہے۔میامی ڈیڈ کرمنل کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں کلینی کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقتول نے قتل سے قبل کئی ماہ تک ان پر جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تشدد کیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق کلینی نے دعویٰ کیا ہے کہ اوبومسیلی نے کم از کم نو مختلف مواقع پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جن میں چہرے پر مکے مارنا، پسلیاں توڑ دینا، کندھا اکھاڑ دینا، گلا دبانا، دھکے دینا اور بازو پکڑ کر گھسیٹنا شامل ہے۔

    دفاعی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ اپریل 2021 میں کلینی نے اپنے بوائے فرینڈ کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں لکھا تھا کہ "تم نے میرے چہرے پر پوری طاقت سے مکا مارا۔”دستاویزات کے مطابق اوبومسیلی نے جواب میں کہا تھا کہ ان کا ایسا کرنے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ صرف ان کا ہاتھ ہٹانا چاہتے تھے۔وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ مقتول مبینہ طور پر اپنے پرتشدد رویے کو معمولی قرار دیتا تھا اور اس کی سنگینی کو کم کرکے پیش کرتا تھا۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق اگست 2021 میں کلینی نے ایک اور پیغام میں الزام لگایا کہ اوبومسیلی نے انہیں پیٹھ پر مکے مارے اور حملہ کیا۔وکلاء کے مطابق یہ پیغامات مبینہ تشدد کے فوراً بعد بھیجے گئے تھے، اس لیے وہ ان کے بیان کی تائید کرتے ہیں۔

    عدالتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ "اوبومسیلی مسلسل جسمانی تشدد، دھمکیوں، خوف و ہراس، تعاقب، قابو میں رکھنے کی کوشش، نفسیاتی دباؤ اور جذباتی استحصال کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔”دفاعی ٹیم کے مطابق ستمبر 2021 میں ایک سوئمنگ پول سے واپسی کے دوران ہونے والی تلخ کلامی میں اوبومسیلی نے کلینی کی کلائی زور سے پکڑ کر پیچھے کھینچا، جس کے نتیجے میں ان کا کندھا مبینہ طور پر چوتھی مرتبہ اپنی جگہ سے نکل گیا۔اسی طرح دبئی کے سفر کے دوران بھی ایک واقعہ پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق کلینی نے اوبومسیلی کو متحدہ عرب امارات کے سخت قوانین کے باعث چرس استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا، جس پر دونوں میں جھگڑا ہوا۔دفاعی مؤقف کے مطابق اوبومسیلی نے انہیں اتنی شدت سے دھکا دیا کہ وہ زمین پر گر گئیں اور ان کی پسلیاں متاثر ہوئیں، تاہم انہوں نے دبئی میں طبی امداد حاصل نہیں کی۔عدالتی دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنوری 2022 میں آسٹن، ٹیکساس میں ایک اور جھگڑے کے دوران اوبومسیلی نے کلینی کا بازو زور سے پکڑا، جس سے ان کی انگلی زخمی ہوگئی۔

    کورٹنی کلینی پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ پر چاقو اپنے دفاع میں پھینکا تھا اور ان کا مقصد اسے قتل کرنا نہیں تھا۔دوسری جانب استغاثہ کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر قتل کا تھا، جبکہ دفاعی ٹیم عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملزمہ ایک طویل عرصے سے گھریلو تشدد کا شکار تھیں اور وقوعہ اسی پس منظر میں پیش آیا۔

  • اینٹی انکروچمنٹ کارروائی کے بعد شہری کی خود کشی کی کوشش، سرکاری گاڑی نذرِ آتش

    اینٹی انکروچمنٹ کارروائی کے بعد شہری کی خود کشی کی کوشش، سرکاری گاڑی نذرِ آتش

    لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اینٹی انکروچمنٹ کارروائی کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی، جہاں مشتعل افراد نے مبینہ طور پر سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی، جبکہ واقعے کے باعث رائیونڈ روڈ پر ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر رہی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اینٹی انکروچمنٹ اہلکاروں نے کارروائی کے دوران ایک ریڑھی بان کی ریڑھی الٹ دی، جس پر متاثرہ شخص نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد موقع پر موجود افراد مشتعل ہوگئے اور شدید احتجاج شروع کر دیا۔رپورٹس کے مطابق علی ٹاؤن میٹرو اسٹیشن کے قریب نامعلوم افراد نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اینٹی انکروچمنٹ کی گاڑی کو آگ لگا دی، جس سے گاڑی مکمل طور پر جل گئی۔ واقعے کے باعث رائیونڈ روڈ سے علی ٹاؤن اور قزلباش چوک جانے والی سڑک پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے دوران ایک گاڑی کے شیشے بھی توڑے گئے جبکہ ایک سرکاری گاڑی کو نذرِ آتش کیا گیا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پا لیا، جس سے مزید نقصان ہونے سے بچ گیا۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگانے اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقدی لے کر فرار، مقدمہ درج

    شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقدی لے کر فرار، مقدمہ درج

    بھارتی بہار کے ضلع کیمور میں شادی کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں راجستھان سے آنے والے دولہے نے الزام لگایا ہے کہ شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقد رقم لے کر فرار ہو گئی۔

    متاثرہ دولہا گوتم کمار، راجستھان کے ضلع بیکانیر کے دیشنوک گاؤں کا رہائشی ہے۔ اس نے بھبھوا تھانے میں دلہن، اور ایک اور شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔شکایت کے مطابق گوتم کمار کے خاندان کی ملاقات سنتوش عرف ستیش تیواری نامی ایک شخص سے ہوئی، جس نے کیمور کے کرمچٹ تھانہ علاقے کی رہائشی 24 سالہ نیہا کماری سے شادی کرانے کا وعدہ کیا۔ الزام ہے کہ شادی کے انتظامات کے نام پر خاندان سے ایک لاکھ روپے نقد وصول کیے گئے، جبکہ تقریباً ایک لاکھ 17 ہزار روپے مالیت کے زیورات اور دیگر سامان بھی لیا گیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ شادی پر مجموعی طور پر تقریباً چار لاکھ روپے خرچ ہوئے۔شکایت کے مطابق 7 جولائی کو بھبھوا کورٹ کے قریب شادی کی رسم مکمل کرائی گئی۔ بعد ازاں ملوانے والےنے خاندان کو ہوٹل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دلہن کو اگلی صبح ریلوے اسٹیشن پہنچا دیا جائے گا۔الزام ہے کہ اگلی صبح بھبھوا روڈ ریلوے اسٹیشن پر دلہن نے باتھ روم جانے کا بہانہ کیا اور باہر پہلے سے موجود موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گئی۔ متاثرہ خاندان نے فوری طور پر دلہن سے ملوانے والے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد اس کا موبائل فون بھی بند ہو گیا۔

    بھبھوا تھانے کے ایس ایچ او مکیش کمار کے مطابق پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
پاک بحریہ نے اورماڑہ کے قریب ڈوبتے کارگو جہاز کے 20 پاکستانی عملے کو بچا لیا

    
پاک بحریہ نے اورماڑہ کے قریب ڈوبتے کارگو جہاز کے 20 پاکستانی عملے کو بچا لیا

    ‎اورماڑہ کے مشرق میں سمندر میں پیش آنے والے ایک ہنگامی واقعے میں پاک بحریہ نے پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (PMSA) کے ساتھ مشترکہ اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈوبنے والے کارگو جہاز میں سوار تمام 20 پاکستانی عملے کے ارکان کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
    ‎پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق واقعے کی اطلاع جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر کو موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد پاک بحریہ نے امدادی کارروائی شروع کرتے ہوئے جنگی جہاز پی این ایس حنین اور ضروری فضائی وسائل کو متاثرہ مقام کی جانب روانہ کیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی مربوط حکمت عملی اور ریسکیو ٹیموں کی پیشہ ورانہ مہارت کے باعث متاثرہ جہاز میں موجود تمام 20 افراد کو محفوظ طریقے سے سمندر سے نکال لیا گیا۔ امدادی کارروائی انتہائی کم وقت میں مکمل کی گئی، جس سے کسی جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
    ‎ترجمان کے مطابق ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ان کی صحت کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے بروقت نمٹا جا سکے۔
    ‎آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیاب آپریشن پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے انسانی جانوں کے تحفظ، فوری ردعمل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک بحریہ ہر قسم کی سمندری ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے اور ملکی سمندری حدود میں جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔
    ‎اس کامیاب ریسکیو آپریشن نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاک بحریہ اور متعلقہ ادارے سمندر میں پیش آنے والے کسی بھی ہنگامی واقعے پر فوری اور مؤثر انداز میں کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے بلکہ سمندری سلامتی کے نظام پر اعتماد بھی مزید مضبوط ہوتا ہے۔