Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • کراچی: قتل کے بعد بھی جنسی زیادتی کی، 6سالہ بچے کے  مقتول  کے تہلکہ خیزانکشافات

    کراچی: قتل کے بعد بھی جنسی زیادتی کی، 6سالہ بچے کے مقتول کے تہلکہ خیزانکشافات

    کراچی میں لی مارکیٹ میں 6 سالہ عبدالولی کے قتل کا کی تحقیقات جاری ہیں جب کہ گرفتار ملزم حمزہ کے دورانِ تفتیش تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

    دوران تفتیش ملزم حمزہ نے اعتراف کیا کہ مقتول بچہ ولی اسے چچا کی طرح مانتا تھا اورمیں اکثر اسے چیزیں دلواتا تھا، گلی میں انتقال ہوا تھا سب وہاں گے ہوئے تھے، جنازے کے دوران موقع پا کر بچے کو فلیٹ میں لے گیا، میں نے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعد میں قتل کردیا ولی کو قتل کرنے کے بعد میں نے پھر زیادتی کی تھی، بچہ میری شناخت جانتا تھا اسی وجہ سے قتل کیا، قتل کے بعد لاش بوری میں بند کر کے کمبل میں لپیٹ کر الماری میں چھپا د ی۔

    ملزم نے بتایا کہ پولیس نے فلیٹ کی تین مرتبہ تلاشی لی مگر لاش برآمد نہ ہو سکی، علاقے والوں کا مجھ پر شک بڑھنے پر خوفزدہ ہو گیا تھا، اہل علاقہ کا شک دور کرنے کے لیے اہل خانہ کے ساتھ بچے کو ان کے ساتھ بھی ڈھونڈا تھا،سی سی ٹی وی سے معلوم ہوا کہ بچہ علاقے سے باہر نہیں گیا تھا، ملزم نے اعتراف کیا کہ خوف کے باعث لاش فلیٹ کی کھڑکی سے نیچے پھینکی، پولیس جب فلیٹ پہنچی تو میں کمرے میں اکیلا موجود تھا۔

    پولیس نے کہا کہ مشتعل علاقہ مکین نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بنایا، گرفتار ملزم حمزہ نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا کہ واردات میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں، ملز م حمزہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ساتھیوں کی شمولیت کا جھوٹا دعویٰ کر رہا تھا، ملزم حمزہ کے والد کو بھی تحویل میں لے رکھا ہےملزم سے مزید اہم انکشا فات متوقع ہیں، پولیس ملزم حمزہ کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہےاور ماضی میں کسی دوسرے بچے کیساتھ زیادتی یا بدفعلی کے پہلوؤں کی بھی تحقیقات کر رہی ہے-

  • شکایت لے کر تھانے جانے والی خاتون سے سب انسپکٹر کامعاشقہ،تعلقات،اسقاط حمل بھی کروا دیا

    شکایت لے کر تھانے جانے والی خاتون سے سب انسپکٹر کامعاشقہ،تعلقات،اسقاط حمل بھی کروا دیا

    اتر پردیش کے ضلع بریلی میں ایک خاتون کی شکایت کے بعد پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف جہیز اور گھریلو تشدد کی شکایت درج کرانے کے لیے تھانے گئی تھی، جہاں تعینات سب انسپکٹر نے پہلے ہمدردی ظاہر کی، پھر شادی کا وعدہ کرکے اس کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم کیے، مالی فائدہ حاصل کیا اور بعد میں دھمکیاں بھی دیں۔شکایت سامنے آنے کے بعد سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افسر کو معطل کر دیا اور پورے معاملے کی تحقیقات ایک آئی پی ایس افسر کے سپرد کر دی ہیں۔

    معاملہ کیسے شروع ہوا؟
    متاثرہ خاتون کے مطابق وہ اپنے شوہر کے خلاف جہیز سے متعلق مقدمے کی شکایت لے کر تھانہ بارادری پہنچی تھی۔ اس دوران سب انسپکٹر نے اس کی شکایت سننے کے بعد کارروائی کا یقین دلایا اور رابطے کے لیے اس کا موبائل نمبر حاصل کیا۔خاتون کا کہنا ہے کہ بعد میں تفتیش کے بہانے پولیس افسر اس سے مسلسل رابطے میں رہا اور آہستہ آہستہ ذاتی تعلقات قائم کر لیے۔

    شادی اور ملازمت کا وعدہ
    شکایت کے مطابق سب انسپکٹر نے خاتون کو یقین دلایا کہ وہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو چکا ہے اور جلد اس سے شادی کرے گا۔ خاتون کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزم نے پولیس محکمے میں ملازمت دلانے کا وعدہ بھی کیا اور اسی بنیاد پر اس کا اعتماد حاصل کیا۔

    لاکھوں روپے کے زیورات لینے کا الزام
    متاثرہ خاتون نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ فروری 2026 میں سب انسپکٹر نے اپنے بیٹے کی شادی کا بہانہ بنا کر تقریباً آٹھ لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات حاصل کیے۔ بعد ازاں جب خاتون نے زیورات واپس مانگے تو اسے مختلف بہانوں سے ٹالا جاتا رہا۔

    حمل اور اسقاط حمل سے متعلق الزامات
    خاتون نے اپنی شکایت میں یہ بھی کہا ہے کہ تعلقات کے دوران وہ حاملہ ہوئی، جس کے بعد ملزم نے شادی سے انکار کرتے ہوئے مبینہ طور پر اس پر حمل ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔خاتون کا دعویٰ ہے کہ 12 مئی 2026 کو اسے اسقاط حمل کی دوا دی گئی، جس کے باعث اس کی طبیعت بگڑ گئی اور اسے اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اس کا حمل ختم کرایا گیا۔

    شکایت پر ایس ایس پی کا ایکشن
    خاتون نے ثبوتوں کے ساتھ سینئر پولیس حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد ایس ایس پی نے ابتدائی جانچ کی بنیاد پر متعلقہ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا۔پولیس حکام کے مطابق پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور انکوائری رپورٹ آنے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔

    تحقیقات جاری، حتمی فیصلہ رپورٹ کے بعد
    فی الحال معاملہ تفتیش کے مرحلے میں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد حقائق کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو متعلقہ افسر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ تحقیقات میں مختلف حقائق سامنے آنے کی صورت میں فیصلہ انہی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

  • بھارت ،زیادتی کیس،پولیس مقابلے میں ہلاک ملزم کی لاش لینے سے ماں کا انکار

    بھارت ،زیادتی کیس،پولیس مقابلے میں ہلاک ملزم کی لاش لینے سے ماں کا انکار

    بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے علاقے بروئی پور میں نابالغ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور قتل کے مرکزی ملزم پربھاس منڈل پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک ہو گیا، جبکہ اس کی ماں نے بیٹے کی لاش وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "اس نے جو کیا، اسی کی سزا اسے مل گئی۔”

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پربھاس منڈل اس وقت پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا جب اسے واردات کی جگہ پر شواہد کی دوبارہ جانچ کے لیے لے جایا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے ایک اہلکار کی بندوق چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر جوابی کارروائی میں اسے گولی لگی۔ زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹرز نے اسے مردہ قرار دے دیا۔انکاؤنٹر کے بعد پولیس اہلکار ملزم کے گھر پہنچے اور اس کی والدہ سندھیا منڈل کو بیٹے کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ پولیس نے انہیں اسپتال جا کر لاش دیکھنے کی پیشکش کی، تاہم انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف بیٹے کو دیکھنا چاہتی ہیں بلکہ اس کی لاش بھی وصول نہیں کریں گی۔

    سندھیا منڈل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، "اسے دیکھ کر میں کیا کروں گی؟ مجھ میں وہاں جانے کی بھی ہمت نہیں ہے۔ میرا گلا خشک ہو چکا ہے اور میں ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہی۔”جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اپنے بیٹے کی موت کا افسوس ہے تو انہوں نے جواب دیا، "ایک ماں ہونے کے ناطے دکھ تو ہوتا ہے، لیکن اس دکھ کا اب کوئی مطلب نہیں۔ اس نے جو جرم کیا، اسی کی وجہ سے اس کا انجام یہ ہوا اور میں اسی بات پر مطمئن ہوں۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم میں سے کوئی بھی اس کی لاش لینے نہیں جائے گا۔ اسے لے جاؤ، دفنا دو یا جہاں چاہو پھینک دو، جو کرنا ہے کرو۔ وہ کبھی ہماری بات نہیں سنتا تھا، خاص طور پر اپنی ماں کی۔ وہ نشے کا عادی تھا، اس لیے اب اس کے بارے میں میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔”

    واضح رہے کہ یہ واقعہ 4 جولائی کو اس وقت پیش آیا تھا جب ایک نابالغ لڑکی لاپتہ ہو گئی تھی۔ اگلے روز سورجیاپور ہاٹ کے علاقے سے اس کی لاش ایک بورے میں بند حالت میں برآمد ہوئی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔واقعے کے خلاف مقامی افراد نے بروئی پور،جے نگر روڈ بلاک کر دیا، مختلف مقامات پر ٹائر نذرِ آتش کیے گئے اور پولیس کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اسی دوران مشتعل ہجوم نے اس کیس میں ملوث ہونے کے شبہے میں ایک شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا، جس کی شناخت بعد ازاں اندرجیت منڈل کے نام سے ہوئی۔

    پولیس نے اس مقدمے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ کیس کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

  • باپ کی جگہ سرکاری نوکری حاصل کرنے کیلئے بیٹی نے ماں کو قتل کر دیا

    باپ کی جگہ سرکاری نوکری حاصل کرنے کیلئے بیٹی نے ماں کو قتل کر دیا

    باپ کی جگہ نوکری حاصل کرنے کیلئے بیٹی نے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر ماں کو قتل کر دیا-

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر ایک 23 سالہ بیٹی نے سرکاری نوکر ی اور جائیداد حاصل کرنے کی خواہش میں اپنی ماں کو قتل کر دیا ملزمہ ایوشی نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی اور واردات کے بعد اسے سڑک حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی، تاہم تحقیقات کے دوران یہ منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔

    ابتدائی تفتیش میں پولیس نے انکشاف کیا کہ قتل کی اس واردات میں ایوشی سمیت خاندان کے 7 افراد ملوث تھے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے واقعے کے بعد ابتدا میں یہ تاثر دیا گیا کہ خاتون کی موت ایک تیز رفتار موٹرسائیکل کی ٹکر سے ہوئی، تاہم شواہد اور تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ یہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل تھا۔

    پولیس ڈپٹی کمشنر کے مطابق پرتاپ نگر کے علاقے رویندرہ نگر کے رہائشی 45 سالہ نیرج شرما نے ابتدائی طور پر بیان دیا تھا کہ خاتون کی موت 3 جولائی کو موٹرسائیکل حادثے کے نتیجے میں ہوئی تاہم مقتولہ کے بھائی راکیش نے اپنی بھانجی ایوشی اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا۔

    تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مقتولہ کے شوہر گزشتہ سال انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد ہمدردی کی بنیاد پر مقتولہ کو شوہر کی جگہ سرکاری ملازمت دی گئی تھی، ایوشی چاہتی تھی کہ والد کی وفات کے بعد ملنے والی نوکری اسے دی جائے، جبکہ وہ خاندان کی جائیداد پر بھی اپنا حق حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے مبینہ طور پر ماں پر دباؤ ڈالا، لیکن جب مقتولہ نے ملازمت چھوڑنے سے انکار کیا تو ایوشی نے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد ملزمان نے واقعے کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی، لیکن شواہد کی بنیاد پر اصل حقیقت سامنے آ گئی واقعے میں ملوث تمام 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • اسکردو جانے والی پرواز کے ساتھ پرندہ ٹکرا گیا،طیارے کے انجن کو شدید نقصان

    اسکردو جانے والی پرواز کے ساتھ پرندہ ٹکرا گیا،طیارے کے انجن کو شدید نقصان

    کراچی سے اسکردو جانے والی نجی ایئرلائن کی پرواز ٹیک آف کے دوران پرندہ ٹکرانے سے حادثے کا شکا ر ہو گئی، جس کے نتیجے میں طیارے کے ایک انجن کو شدید نقصان پہنچا۔

    ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق پرواز پی کے 455 میں 170 مسافر سوار تھے ٹیک آف کے دوران ایک پرندہ طیارے سے ٹکرا گیا، جس کے باعث ایئربس اے 320 کے انجن نمبر دو کو شدید نقصان پہنچا پرندہ ٹکرانے سے انجن کے بلیڈ ٹوٹ گئے، جس کے بعد طیارے کو مزید پرواز کے لیے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد تمام 170 مسافروں کو بحفاظت ایئرپورٹ لاؤنج منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں متبادل انتظامات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، طیارے کی فنی جانچ اور مرمت کا کام جاری ہے، جبکہ واقعے کی نوعیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • کراچی: 6 سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل، پڑوسی گرفتار

    کراچی: 6 سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل، پڑوسی گرفتار

    کراچی کے علاقے نیپیئر میں 6 سالہ بچے کے اغوا، مبینہ زیادتی اور قتل کے دلخراش واقعے نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جو مقتول بچے کا پڑوسی بتایا جاتا ہے۔

    پولیس کے مطابق 6 سالہ ولی پیر کی شام گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتا ہوگیا تھا، جس کے بعد اہل خانہ اور اہل علاقہ مسلسل دو روز تک اس کی تلاش میں مصروف رہے۔ بعد ازاں بچے کی تشدد زدہ لاش بوری میں بند حالت میں برآمد ہوئی، جسے پولیس نے تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ شبہ سامنے آیا ہے کہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا، تاہم واقعے کی حتمی نوعیت اور موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔

    مقتول بچے کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کی مسخ شدہ لاش بوری میں بند کرکے تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خاندان گزشتہ دو روز سے بچے کو تلاش کر رہا تھا، جبکہ ملزم مسلسل انہیں گمراہ کرتا رہا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واردات ملزم کے گھر میں انجام دی گئی۔ ان کے مطابق جب بھی انہوں نے شک کی بنیاد پر ملزم کے گھر جانے کی کوشش کی، اس نے انہیں اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اہل خانہ نے مزید بتایا کہ ملزم خود بھی بچے کی تلاش میں ان کے ساتھ شامل رہ کر بے گناہی کا تاثر دیتا رہا۔

    مقتول کے والد، جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ چلاتے ہیں، نے بتایا کہ ان کے چار بیٹیوں اور ایک بیٹے پر مشتمل پانچ بچے تھے، جن میں 6 سالہ ولی سب سے چھوٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اکلوتے بیٹے کا بے رحمانہ قتل پورے خاندان کے لیے ناقابل برداشت سانحہ ہے۔دوسری جانب اہل علاقہ نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ ملزم حمزہ کو انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قابو کرکے پولیس کے حوالے کیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ شہریوں نے ملزم کو قرار واقعی سزا دینے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد اور دیگر رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب مقتول کے اہل خانہ نے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ملزم کو جلد از جلد سخت ترین قانونی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے

  • 
کبڈی میلے میں چوروں کا دھاوا، مہمانِ خصوصی سمیت متعدد افراد لٹ گئے

    
کبڈی میلے میں چوروں کا دھاوا، مہمانِ خصوصی سمیت متعدد افراد لٹ گئے

    ‎سرائے مغل: نواحی علاقے بھسین میں منعقدہ کبڈی میلے کے دوران چوروں نے رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد افراد کو لوٹ لیا اور موقع سے فرار ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔
    ‎پولیس کے مطابق واردات اس وقت پیش آئی جب کبڈی میچ میں مہمانِ خصوصی کی آمد پر ان کے استقبال کے لیے لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ اسی دوران جیب تراشوں نے رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی افراد کی جیبیں صاف کر دیں۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق چور ایک لاکھ 94 ہزار روپے نقدی اور دو قیمتی موبائل فون لے اڑے۔ حیران کن طور پر ملزمان نے مہمانِ خصوصی کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی واردات کا نشانہ بنایا۔
    ‎واقعے کے بعد متاثرہ افراد نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس پر تھانہ سرائے مغل پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور مقدمہ درج کر لیا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میلے میں موجود سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
    ‎علاقہ مکینوں نے عوامی اجتماعات اور میلوں میں سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں، اس لیے آئندہ تقریبات میں پولیس کی موثر نفری اور نگرانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

  • آن لائن فرینڈ شپ کلب،پہلے دوستی،پھر لوٹ مار،خواتین سمیت 5 رکنی گینگ گرفتار

    آن لائن فرینڈ شپ کلب،پہلے دوستی،پھر لوٹ مار،خواتین سمیت 5 رکنی گینگ گرفتار

    نوئیڈا: آن لائن فرینڈشپ کلب کے نام پر لوگوں کو دوستی کا جھانسہ دے کر سنسان مقامات پر بلا کر لوٹنے والے ایک منظم گینگ کا پردہ فاش کر دیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خواتین سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار جبکہ ایک نابالغ کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے لوٹی گئی فورچونر گاڑی، واردات میں استعمال ہونے والی دو کاریں اور ایک چاقو بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ایڈیشنل ڈی سی پی منیشا سنگھ نے بتایا کہ مخبر کی اطلاع پر سیکٹر-54 کے کھیل گاؤں پارک کے قریب ناکہ بندی کر کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد میں اومویر یادو، منجیش یادو، ندھی یادو، پرینکا یادو اور کاجل عرف ریا یادو شامل ہیں، جبکہ ایک نابالغ بھی پولیس کی تحویل میں ہے۔پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان نے ایک جعلی آن لائن فرینڈشپ کلب بنا رکھا تھا۔ گروہ کے ارکان مختلف ذرائع سے لوگوں کے موبائل نمبر حاصل کرتے، پھر خواتین متاثرہ افراد سے رابطہ کر کے دوستی کی پیشکش کرتیں اور اعتماد حاصل کرنے کے بعد ملاقات کے لیے دہلی، نوئیڈا یا این سی آر کے سنسان علاقوں میں بلاتیں۔متاثرہ شخص کے پہنچنے پر خاتون اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر کسی ویران مقام پر لے جاتی، جہاں پہلے سے موجود گروہ کے دیگر افراد پہنچ جاتے۔ اس کے بعد متاثرہ شخص کو دھمکیاں دے کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور اس سے نقدی، موبائل فون، گاڑی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا جاتا۔

    پولیس کے مطابق گینگ واردات کے دوران دو الگ الگ گاڑیاں استعمال کرتا تھا۔ ایک گاڑی میں خاتون اور چند ساتھی موجود ہوتے، جبکہ دوسری گاڑی کچھ فاصلے پر کھڑی رہ کر نگرانی کرتی۔ واردات مکمل ہونے کے بعد دونوں گاڑیاں مختلف راستوں سے فرار ہو جاتیں تاکہ پولیس ان کا سراغ نہ لگا سکے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ گروہ اس سے قبل بھی نوئیڈا اور این سی آر کے مختلف علاقوں میں اسی نوعیت کی دیگر وارداتوں میں ملوث رہا ہے یا نہیں۔ تفتیش کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

  • بوائے فرینڈ سے ملنے جانے پر نوجوان خاتون قتل، تین ماہ بعد ماں اور بھائی گرفتار

    بوائے فرینڈ سے ملنے جانے پر نوجوان خاتون قتل، تین ماہ بعد ماں اور بھائی گرفتار

    اندور: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں غیرت کے نام پر قتل (آنر کلنگ) کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 26 سالہ نوجوان خاتون کو مبینہ طور پر اس کے بھائی نے قتل کر دیا، جبکہ پولیس کے مطابق اس جرم میں ماں نے بھی بیٹے کا ساتھ دیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتولہ جیوتی اگروال آن لائن کاروبار سے وابستہ تھی اور اسی دوران اس کی ایک ساتھی نوجوان سے دوستی اور تعلق قائم ہوگیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ نوجوان کا تعلق دوسری ذات سے تھا، جس پر گھر والوں کو شدید اعتراض تھا اور اسی معاملے پر اکثر گھریلو تنازعات ہوتے رہتے تھے۔پولیس کے مطابق 2 اپریل کو جیوتی اپنے دوست سے ملنے کے لیے گھر سے نکلنے کی تیاری کر رہی تھی کہ اس دوران اس کی اپنے بھائی پرکاش اگروال سے تلخ کلامی ہوگئی۔ الزام ہے کہ جھگڑا شدت اختیار کرنے پر بھائی نے بہن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کا سر دیوار سے دے مارا، جس سے وہ شدید زخمی ہو کر بے ہوش ہوگئی۔

    تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ زخمی حالت میں جیوتی کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ملزم نے واقعے کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ طور پر اس کے منہ میں زہر بھی ڈال دیا۔ جیوتی 3 اپریل کو دورانِ علاج دم توڑ گئی۔ابتدائی طور پر اہل خانہ نے واقعے کو خودکشی قرار دیا، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کان کے پیچھے گہری چوٹ اور جسم پر تشدد کے 14 نشانات سامنے آنے کے بعد پولیس نے قتل کے شبہے پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا۔پولیس نے تقریباً تین ماہ تک شواہد اکٹھے کیے، جس کے بعد ماں اور بھائی سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان نے دورانِ تفتیش قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا، جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • انسٹاگرام ریلز نے دلہن کو جیل پہنچا دیا

    انسٹاگرام ریلز نے دلہن کو جیل پہنچا دیا

    میرٹھ: بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ڈکیتی کے ایک سنسنی خیز مقدمے میں پولیس نے مبینہ طور پر ایک خاتون سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں سوشل میڈیا پر سرگرم دلہن جیوتی چودھری بھی شامل ہے، جسے پولیس نے ہنی مون کے دوران گرفتار کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیوتی چودھری نے مبینہ طور پر پہلی شادی ختم کرنے کے بعد دوسری شادی کی اور شوہر کے ساتھ ہری دوار میں ہنی مون منا رہی تھی۔ اسی دوران وہ انسٹاگرام پر مسلسل ریلز اور ویڈیوز شیئر کر رہی تھی، جن کی مدد سے پولیس نے اس کی لوکیشن کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی 12 جون کو پیش آنے والی ڈکیتی کی واردات کی تحقیقات کے دوران عمل میں آئی۔ واقعے میں پے ٹی ایم کمپنی کے ایک ٹیم لیڈر آکاش شرما کو راستے میں روک کر ان سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر مقدمہ لوٹ مار کا درج کیا گیا، تاہم پانچ ملزمان کے ملوث ہونے کے باعث بعد ازاں ڈکیتی کی دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔

    تحقیقات کے دوران گرفتار ملزمان نے جیوتی چودھری کا نام لیا، جس کے بعد پولیس نے اس کی تلاش شروع کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جیوتی نے مبینہ طور پر ایک جرائم پیشہ گروہ سے تعلق قائم کیا اور مختلف وارداتوں میں شریک رہی۔تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ جیوتی نے 23 جون کو موہت نگر نامی شخص سے دوسری شادی کی، جس کے بعد دونوں ہری دوار چلے گئے تھے، جہاں سے پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔پولیس حکام کے مطابق جیوتی چودھری کا نام ماضی میں ہنی ٹریپ کے ایک مقدمے اور ایک مبینہ گینگسٹر سے تعلقات کے حوالے سے بھی سامنے آ چکا ہے۔ پولیس اس کے مبینہ مجرمانہ ریکارڈ کی مزید چھان بین کر رہی ہے۔ادھر پولیس نے اس کیس میں دیگر ملزمان انکت شرما، گورو شرما، شنی عرف شیوم اور دیگر کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ایک ملزم پہلے ہی کسی دوسرے مقدمے میں جیل میں موجود ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور گروہ سے متعلق مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔