Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • شاہدرہ ٹاؤن: تیزاب گردی کے واقعے میں ملوث ملزم گرفتار

    شاہدرہ ٹاؤن: تیزاب گردی کے واقعے میں ملوث ملزم گرفتار

    شاہدرہ ٹاؤن میں پیش آنے والے تیزاب گردی کے سنگین واقعے میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم یاسر محمود کو گرفتار کر لیا، ملزم کے خلاف تھانہ شاہدرہ ٹاؤن میں تیزاب گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ملزم نے ایک پان شاپ پر موجود دو افراد پر تیزاب پھینکا، جس کے نتیجے میں 26 سالہ شفیق شدید جھلس کر زخمی ہو گیا، جبکہ 17 سالہ اسلے جان کے بازو پر بھی تیزاب کے باعث گہرے زخم آئے واقعے کے فوراً بعد دونوں متاثرہ افراد کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں بروقت طبی امداد فراہم کی گئی۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزم کو ٹریس کر کے حراست میں لیا، گرفتار ملزم سے تفتیش کا عمل جاری ہے، جس دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ تیزاب گردی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متاثرہ شہریوں کو ہر صورت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

  • بچی کو دم کروانے کے بہانےہوٹل لے جاکر جوان بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا سوتیلا باپ گرفتار

    بچی کو دم کروانے کے بہانےہوٹل لے جاکر جوان بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا سوتیلا باپ گرفتار

    لاہور میں 18 سالہ بیٹی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنے والے سفاک سوتیلے باپ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    ایس پی کینٹ اختر نواز کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ان کی ہدایت پر ایس ایچ او ڈیفنس اے محمد افضال نے پولیس ٹیم کے ہمراہ فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد شاکر کو گرفتار کر لیا ملزم محمد شاکر بچی کو دم کروانے کے بہانے دی گرینڈ آرچرڈ ون ہوٹل کے کمرے میں لے گیا، جہاں اس نے مبینہ طور پر زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا اور کسی کو واقعے سے آگاہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

    ایس پی کینٹ کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں نامزد ملزم محمد شاکر کے خلاف فوری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش کے لیے کیس جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے انہوں نے بروقت کارروائی پر ایس ایچ او ڈیفنس اے محمد افضال، ایس آئی محمد آصف اور پولیس ٹیم کو شاباش د ی کہا کہ خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  • شوہر نے بہنوئی کے ساتھ مل کر بیوی اور بیٹی  پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی

    شوہر نے بہنوئی کے ساتھ مل کر بیوی اور بیٹی پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی

    ساہیوال کی شادمان کالونی میں ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو اس کے شوہر اور بہنوئی نے مبینہ طور پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 نے زخمی ماں بیٹی کو علاج کے لیے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے سے گھر کا فرنیچر اور برتن بھی جل گئے اس سے پہلے کہ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

    رپورٹس میں بتایا گیا کہ شکایت کنندہ محمد بلال کی بہن اور وہاڑی سٹی کی رہائشی ثوبیہ پروین نے تقریباً 15 سال قبل تحصیل ساہیوال کے چک 65/5-L کے شعبان بھٹی سے شادی کی، جوڑے کے پانچ بچے ہیں، مبینہ طور پر گھریلو تشدد ان کی پوری شادی شدہ زندگی کے دوران جاری رہا، ثوبیہ کو مبینہ طور پر اس کے شوہر اور بہنوئی کی طرف سے اکثر بدسلوکی اور شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔

    چند ماہ قبل اس نے مسلسل تشدد کے باعث اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دیا اور اپنے بچوں سمیت شادمان چوک کے قریب کرائے کے مکان میں رہنے لگی وہ خاندان کی کفالت کے لیے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی جمعہ کو شعبان اور اس کے بھائی محمد عظیم نے مبینہ طور پر کرائے کے مکان میں گھس کر ثوبیہ اور اس کی ایک بیٹی پر پٹرول چھڑک کر انہیں آگ لگا دی، ملزمان نے فرار ہونے سے قبل گھریلو سامان کو بھی مبینہ طور پر نذر آتش کیا۔

  • ہارون آباد میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 2 افراد جاں بحق، 2 زخمی

    ہارون آباد میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 2 افراد جاں بحق، 2 زخمی

    ہارون آباد (محمد عرفان، نامہ نگار باغی ٹی وی) ہارون آباد فورٹ عباس روڈ پر ٹینکی موڑ کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں دو افراد جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق دو موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں سوار افراد سڑک پر گر گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکل سوار ٹکر کے بعد قریب سے گزرنے والے ٹرک کے نیچے آ گئے، جس کے باعث دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو تحویل میں لے کر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔

    پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔علاقہ مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکی موڑ پر ٹریفک کے بہتر انتظامات اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • بیول میں مبینہ پنچایتی انصاف کی بھینٹ چڑھ کر نوجوان جاں بحق

    بیول میں مبینہ پنچایتی انصاف کی بھینٹ چڑھ کر نوجوان جاں بحق

    سفاکیت کی انتہا گوجرخان میں 30 سالہ زبیر پر وحشیانہ تشدد، نازک اعضاء کو نشانہ بنایا گیا، راولپنڈی ہسپتال میں دم توڑ گیا
    زیادتی کا الزام جھوٹا ہے، میرے بیٹے کو بے دردی سے مارا گیا زبیر کے والد کا چیف جسٹس اور آئی جی پنجاب سے انصاف کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے علاقے بیول میں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے سفاک ملزمان نے اپنی عدالت لگا لی، جس کے نتیجے میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والا 30 سالہ نوجوان زبیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راولپنڈی کے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق، ملزمان نے زبیر نامی نوجوان کو ایک ڈیرے پر لے جا کر محبوس کیا اور ایک بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا الزام لگا کر اسے ڈنڈوں اور دیگر آلات سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ملزمان نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوان کے نازک اعضاء پر بھی ضربات لگائیں۔ تشویشناک حالت میں نوجوان کو راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا، جہاں کئی گھنٹے موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ دوسری جانب، مقتول زبیر کے والد نے اپنے بیٹے پر لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ لواحقین نے قاضیاں پولیس پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ پولیس نے اس حساس معاملے میں داد رسی کے بجائے ناروا سلوک اختیار کیا۔ مقتول کے خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث سفاک ملزمان کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے اور پولیس کی غفلت کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ علاقے میں اس ہولناک واقعے کے بعد سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

  • 
بہاولپور میں کرنٹ لگنے سے 4 افراد جاں بحق

    ‎بہاولپور کے علاقے یزمان میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق یہ واقعہ سیوریج ڈسپوزل موٹر سے کرنٹ لگنے کے باعث پیش آیا، جس نے ایک ہی خاندان سمیت کئی افراد کی جان لے لی۔
    ‎تفصیلات کے مطابق حادثہ یزمان تحصیل کے ایک دیہی علاقے میں پیش آیا، جہاں سیوریج نظام سے متعلق ایک ٹربائن روم میں موٹر کو چلانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اسی دوران اچانک بجلی کا شدید کرنٹ پھیل گیا جس کی زد میں آ کر چار افراد جان کی بازی ہار گئے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک شخص کو کرنٹ لگنے کے بعد دیگر افراد اسے بچانے کے لیے آگے بڑھے، تاہم وہ بھی بجلی کے جھٹکے کی زد میں آ گئے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارکنوں نے لاشوں کو تحویل میں لے کر ضروری کارروائی کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہو گئے۔
    ‎مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ موٹر اور بجلی کے نظام میں حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق بجلی سے چلنے والی مشینری اور موٹروں کے استعمال کے دوران حفاظتی اصولوں پر عمل نہ کرنے سے ایسے جان لیوا حادثات پیش آ سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ اور حفاظتی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔
    ‎انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ اہل خانہ اور مقامی آبادی متاثرین کے لیے انصاف اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کر رہی ہے۔

  • 
پاکپتن میں تیز رفتار کار حادثے کا شکار، 2 افراد جاں بحق

    
پاکپتن میں تیز رفتار کار حادثے کا شکار، 2 افراد جاں بحق

    ‎پنجاب کے شہر پاکپتن میں ایک تیز رفتار کار خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ چھ افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بے قابو کار پہلے ایک رکشے اور موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور بعد ازاں سڑک کنارے درخت سے جا ٹکرائی۔
    ‎ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس کے باعث دو افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ حادثے میں دو خواتین اور ایک راہگیر سمیت مجموعی طور پر چھ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پڑی۔
    ‎اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق کار تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں حادثے کی زد میں آ گئیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کچھ دیر کے لیے ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی۔
    ‎پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر تیز رفتاری کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔
    ‎ماہرین کے مطابق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور حد رفتار سے تجاوز ملک بھر میں سڑک حادثات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • لاہور: گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کامقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر

    لاہور: گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کامقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر

    لاہور: پنجاب حکومت نے گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے مقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر کردیا۔

    گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے مقدمے میں پیش رفت ہوئی ہے جس میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کیس کو ہائی پروفائل ڈیکلیئر کر تے ہوئے تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیاپراسیکیوٹر جنرل پنجاب کاکہنا ہےکہ پراسیکیوشن تفتیشی افسر کو لائن آف انکوائری دے گی اور مقدمے میں دفعات سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    پراسیکیوٹر کے مطابق لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کے دوسرے بیان سے بھی یوٹرن لے لیا،لڑکی کے والد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مالکان کے اجتما عی زیادتی میں ملوث نہ ہونے کا بیان دباؤ میں دیا گیا تھا اور معاملے کی ازسرنو تفتیش کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

    دوسری جانب لڑکی کا ہلاکت سے قبل ریکارڈ کیا گیا دوسرا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس میں اس نے کہا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ڈرائیور حسن نے کیا، جبکہ مالکان اس واقعے میں ملوث نہیں اور انہیں بلاوجہ کیس میں شامل کیا جا رہا ہے ڈرائیور حسن نیند کی گولیاں کھلا کر زیادتی کرتا رہا اور اسی نے مالکان کا نام اجتماعی زیادتی کے الزام میں شامل کرنے پر مجبور کیا-

    پولیس کے مطابق لڑکی اپنی موت سے قبل عدالت میں بھی یہی مؤقف تحریری بیان کی صورت میں دے چکی تھی لڑکی کے والد کا بار بار موقف تبدیل کرنا معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے، جبکہ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں شامل قتل کی دفعات کے تحت بھی تفتیش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ لاہور میں اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی جس کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے درج کررکھا ہے۔

  • مجھے کام سے کیوں نکالا، ملزم کی سگے بھائیوں پر فائرنگ

    مجھے کام سے کیوں نکالا، ملزم کی سگے بھائیوں پر فائرنگ

    لاہور کے علاقے شاد باغ میں کام سے نکالے جانے پر ملزم نے سگے بھائیوں پر فائرنگ کر دی

    شاد باغ پولیس کی کاروائی دبئی سے آئے شہری کے گھر پر فائرنگ کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا،ملزم نے دو سگے بھائیوں پر سیدھی فائرنگ کی اور فرار ہو گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم سبحان کو فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ،ملزم کی فائرنگ سے علاقہ میں خوف وہراس پھیل گیا،ایس ایچ او شاد باغ نے اطلاع ملنے پر فوری ریسپانس کرتے ملزم سبحان کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا،ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے ،قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا علاقہ میں بدمعاشی اور شہریوں پر تشدد کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں

  • 
فیری میڈوز حادثہ، دو جاں بحق سیاحوں کے ورثاء تاحال لاپتا

    
فیری میڈوز حادثہ، دو جاں بحق سیاحوں کے ورثاء تاحال لاپتا

    ‎فیری میڈوز کے قریب پیش آنے والے المناک جیپ حادثے میں جاں بحق ہونے والے دو سیاحوں کے ورثاء کی تلاش کا عمل تاحال جاری ہے، جبکہ حادثے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود متعلقہ خاندانوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
    ‎اس افسوسناک حادثے میں مجموعی طور پر سات افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ اور اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے اور ان کے ورثاء کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے، تاہم دو افراد کی شناخت یا ان کے اہل خانہ تک رسائی اب تک ممکن نہیں بن سکی۔
    ‎دونوں نامعلوم افراد کی میتیں آر ایچ کیو ہسپتال چلاس میں محفوظ رکھی گئی ہیں جہاں انتظامیہ کی جانب سے ورثاء کی تلاش کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شناخت اور رابطے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے بھی معاونت حاصل کی جا رہی ہے تاکہ میتوں کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جا سکے۔
    ‎انتظامیہ کے مطابق اگر آئندہ روز تک دونوں جاں بحق افراد کے ورثاء سے رابطہ قائم نہ ہو سکا تو ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں اسلامی اصولوں اور قانونی تقاضوں کے مطابق دونوں میتوں کی تدفین چلاس شہر میں کر دی جائے گی۔ حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ تدفین سے قبل اہل خانہ تک رسائی حاصل ہو جائے گی تاکہ آخری رسومات ان کی موجودگی میں ادا کی جا سکیں۔
    ‎فیری میڈوز پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں ہر سال ملک بھر اور بیرون ملک سے ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ حالیہ حادثے نے علاقے میں آنے والے سیاحوں اور مقامی آبادی کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئی تھیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم سات افراد جانبر نہ ہو سکے۔
    ‎مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے عزیز و اقارب فیری میڈوز کے سفر پر گئے تھے اور ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تو فوری طور پر آر ایچ کیو ہسپتال چلاس یا ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔