Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • باراتیوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی حادثے کا شکار، 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    باراتیوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی حادثے کا شکار، 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    رحیم یار خان میں رکن پور قومی شاہراہ پر باراتیوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی اور ٹرالر کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 4 باراتی جاں بحق جبکہ 20 افراد زخمی ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں کے مطابق حادثہ رکن پور قومی شاہراہ پر پیش آیا جہاں باراتیوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی ٹرالر سے ٹکرا گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کردیا، جبکہ شدید زخمیوں کو بھی فوری طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

    پولیس کے مطابق حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ڈی پی او کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ ڈرائیور کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی بتائی جارہی ہے، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جاسکے۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان ظہیر انور نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو الرٹ کردیا ہے۔ انہوں نے امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔

  • انسٹاگرام پر محبت، 8 ماہ ساتھ رہنے کے بعد نوجوان کا شادی سے انکار

    انسٹاگرام پر محبت، 8 ماہ ساتھ رہنے کے بعد نوجوان کا شادی سے انکار

    اتر پردیش کے ضلع فتح پور میں انسٹاگرام پر شروع ہونے والی دوستی مبینہ طور پر محبت میں تبدیل ہونے کے بعد ایک نوجوان کی جانب سے شادی سے انکار کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

    اعظم گڑھ کی رہائشی لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ فتح پور کے بندکی علاقے کے نوجوان نے شادی کا وعدہ کرکے اسے اپنے ساتھ مختلف شہروں میں رکھا اور تقریباً 8 ماہ تک میاں بیوی کی طرح زندگی گزاری۔اطلاعات کے مطابق لڑکی کی انسٹاگرام کے ذریعے بندکی کوتوالی کے علاقے میں رہنے والے نوجوان سے دوستی ہوئی۔ دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر چیٹنگ کے بعد فون پر بھی مسلسل رابطہ رہا، جو بعد ازاں محبت میں تبدیل ہوگیا۔لڑکی کا الزام ہے کہ نوجوان نے شادی کا وعدہ کرکے نہ صرف اس کا اعتماد حاصل کیا بلکہ اس کے اہل خانہ کو بھی شادی کے لیے رضامند کرلیا۔ بعد ازاں نوجوان لڑکی کو اعظم گڑھ سے اپنے ساتھ چھتیس گڑھ لے گیا، جہاں اس کی خالہ رہتی تھی۔ کچھ عرصہ وہاں قیام کے بعد دونوں فتح پور واپس آئے اور نوجوان نے لڑکی کو اپنے ایک دوست کے گھر ٹھہرایا۔

    رپورٹ کے مطابق بعد میں نوجوان نے لڑکی کے والدین کے سامنے شادی کی تجویز بھی رکھی اور اہل خانہ کو یقین دلایا کہ وہ اس سے شادی کرے گا۔ اہل خانہ کی رضامندی کے بعد دونوں گجرات کے شہر سورت چلے گئے، جہاں وہ مبینہ طور پر میاں بیوی کی طرح تقریباً 8 ماہ تک ساتھ رہے۔لڑکی کے مطابق اسی دوران وہ حاملہ ہوگئی اور اس نے نوجوان سے شادی کرنے پر زور دیا، تاہم الزام ہے کہ اس کے حاملہ ہونے کے بعد نوجوان کے رویے میں تبدیلی آگئی۔ وہ شادی سے بچنے کے لیے مختلف بہانے بنانے لگا اور بالآخر شادی کرنے سے صاف انکار کردیا۔مبینہ طور پر دھوکے کا شکار ہونے کے بعد لڑکی نے مقامی پولیس سے رجوع کیا اور نوجوان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی درخواست کی۔

  • مری، گھر پر مسلح افراد کا دھاوا، دو بچیوں کو اغوا کر لیا،مقدمہ درج

    مری، گھر پر مسلح افراد کا دھاوا، دو بچیوں کو اغوا کر لیا،مقدمہ درج

    مری کے تھانہ پٹریاٹ کی حدود میں گھر پر مسلح افراد کے مبینہ حملے اور دو بچیوں کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق 4 ستمبر 2026 کو درج ایف آئی آر میں دفعہ 365-B کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔مقدمے کی مدعیہ اکسیر بی بی زوجہ محمد شکیل عباسی کے مطابق 3 اور 4 ستمبر کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ بجے 7 سے 8 مسلح افراد ڈنڈوں اور اسلحے کے ہمراہ ان کے گھر میں داخل ہوئے۔مدعیہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ان کی دو بیٹیوں، 15 سالہ ہادیہ بی بی اور 18 سالہ حدیبیہ بی بی کو مبینہ طور پر زبردستی باندھا اور اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ایف آئی آر میں عمران شاہ، عابد شاہ اور سرفراز سمیت 3 سے 4 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق واقعے کے بعد ملزمان کشمیر پل کی جانب فرار ہوگئے۔مدعیہ نے موقف اختیار کیا کہ مبینہ واقعے کی وجہ ان کے بیٹے عاطف کی چند روز قبل ہونے والی شادی ہے۔

    پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ سب انسپکٹر محمد لطیف شاہین کی سربراہی میں واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے مبینہ مغوی بچیوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔

  • بنوں،سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک

    بنوں،سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک

    بنوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بنوں ریجن اور پولیس نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے 5 کلاشنکوفیں، 10 میگزین، 5 بنڈولیئر، 2 ہینڈ گرینیڈز اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ مزید کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔

  • کراچی،ڈیفنس فیز 8 میں نوجوان پر تشدد، مرکزی ملزم  گرفتار

    کراچی،ڈیفنس فیز 8 میں نوجوان پر تشدد، مرکزی ملزم گرفتار

    کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 8 میں نوجوان علی جعفری پر مبینہ تشدد کے واقعے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ملک ابراہیم کو گرفتار کرلیا۔

    واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں تین نوجوانوں کو علی جعفری پر تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ 29 اگست کو پیش آیا تھا، جس کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں اور مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔متاثرہ نوجوان علی جعفری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ دوستوں کے ساتھ ڈیفنس فیز 6 میں کھانا کھانے گیا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد باہر نکلا تو کسی نے سر پر ڈنڈا مارا، جس سے وہ بے ہوش ہوگیا۔ علی کے مطابق ملزمان اسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے، جہاں اس پر تشدد کیا گیا، جبکہ ایک شخص پستول تانے کھڑا رہا۔علی جعفری کا کہنا ہے کہ ملزمان اسے معافی مانگنے پر مجبور کرتے رہے، پیسوں کا مطالبہ کیا اور اس کے اکاؤنٹ سے خریداری بھی کی۔ تاہم علی کے وکیل اور اہلخانہ نے پیسوں کے لین دین کو تشدد کی بنیادی وجہ قرار دینے کی تردید کی ہے۔

    پولیس کے مطابق نوجوان کا گزری تھانے کی حدود میں واقع ایک گیمنگ زون میں جھگڑا ہوا تھا۔ واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس میں علی فیصل، ابراہیم ملک سمیت پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں مبینہ طور پر ہراساں کرنے، اغوا، جان سے مارنے کی دھمکی اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔علی جعفری نے کہا کہ مقدمہ اس لیے درج کرایا ہے تاکہ آئندہ کسی اور بچے کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور عملے نے تعاون کیا، تاہم انہیں کچھ وقت انتظار کرنا پڑا، اب امید ہے کہ انصاف ملے گا اور جس نے غلط کیا اسے سزا دی جائے گی۔

    علی جعفری کے ٹیچر عبداللہ جمال نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد دونوں خاندانوں میں صلح کرانے کی کوشش کی گئی اور متاثرہ نوجوان کو کئی روز تک ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق علی کی ٹانگ اور ہاتھ پر شدید نوعیت کے زخم آئے۔علی کے والد کے وکیل طلحہ بلوچ نے کہا کہ علی کے والد دل کے مریض ہیں اور خاندان نے صرف اس لیے مقدمہ درج کرایا ہے کہ مستقبل میں کسی اور بچے کو اس طرح تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیسوں کے لین دین کا کوئی معاملہ بھی تھا تو کسی نوجوان کو سڑک سے اٹھا کر لے جانا اور تشدد کرنا قابل قبول نہیں۔وکیل نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی میڈیا ادارے کے پاس پیسوں کی لین دین سے متعلق کوئی معلومات یا شواہد ہیں تو وہ پولیس کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کے کردار کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

  • چنیوٹ میں جائیداد کے تنازع پر خاتون اور تین بچے قتل

    چنیوٹ میں جائیداد کے تنازع پر خاتون اور تین بچے قتل

    چنیوٹ: جائیداد ہتھیانے کے مبینہ تنازع پر ایک خاتون اور اس کے تین کم سن بچوں کو قتل کیے جانے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔

    پولیس کے مطابق مقتولہ کے اہلخانہ نے مقدمے میں خاتون کے شوہر نواز اور اس کے ساتھیوں کو نامزد کیا ہے۔ اہلخانہ کی جانب سے 29 اور 30 اگست کی درمیانی شب مقدمہ درج کرایا گیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ نواز نے ساتھیوں کے ہمراہ اپنی بیوی کو مبینہ طور پر قتل کیا اور تینوں بچوں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مغوی بچوں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے تھے۔ اسی دوران مقامی قبرستان کے قریب بچوں کی چادر کی نشاندہی پر ایک مقام پر کھدائی کی گئی، جہاں سے تینوں مغوی بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

    پولیس کے مطابق واقعے میں نامزد ملزمان تاحال فرار ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔دوسری جانب آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او فیصل آباد سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • راولپنڈی میں ایک اور شادی شدہ خاتون قتل، شوہر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    راولپنڈی میں ایک اور شادی شدہ خاتون قتل، شوہر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    راولپنڈی میں حنا جاوید کے واقعے کے بعد ایک اور شادی شدہ خاتون مبینہ طور پر قتل کردی گئی۔ پولیس نے مقتولہ کے شوہر تنویر احمد سمیت 2 افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی محمد ابراہیم کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تھانہ صدر بیرونی کی حدود حبیب لین میں شادی شدہ خاتون سندس کی پھندہ لگی لاش گھر کے ایک کمرے سے برآمد ہوئی۔ مقدمے میں مقتولہ کے شوہر تنویر احمد، اس کی بہن فضاء اور عبدالعزیز کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق سندس کی شادی تقریباً 2 سال قبل تنویر احمد سے ہوئی تھی اور دونوں کا ایک بچہ بھی ہے۔ مقتولہ کے بھائی نے الزام عائد کیا کہ اس کی بہن کو شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر ذہنی دباؤ کا سامنا تھا اور وہ متعدد مرتبہ اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں اور پریشانیوں کی شکایت کرچکی تھی۔

    مقدمے کے مطابق واقعے سے قبل گزشتہ رات سندس نے فون پر اپنی والدہ کو بتایا تھا کہ سسرال والے اسے بہت زیادہ پریشان کررہے ہیں۔ رات تقریباً ساڑھے 10 بجے جب مقتولہ کے گھر دوبارہ فون کیا گیا تو کال اس کے شوہر کی بہن فضاء نے وصول کی اور بتایا کہ سندس نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق اطلاع ملنے پر مقتولہ کا بھائی گھر پہنچا تو اس نے اپنی بہن کو پھندے کی حالت میں پایا۔ بھائی نے الزام عائد کیا کہ سندس کو خودکشی نہیں بلکہ گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا گیا، جبکہ اس کے ہاتھوں پر مہندی بھی لگی ہوئی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی لاش گھر کے کمرے سے برآمد ہوئی، جبکہ اس کے شوہر تنویر احمد اور کزن عبدالعزیز کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ خاتون کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا جبکہ مزید شواہد کے لیے فارنزک نمونے بھی حاصل کرلیے گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور پوسٹ مارٹم، فارنزک شواہد اور دیگر تحقیقات کی روشنی میں واقعے کی اصل صورتحال کا تعین کیا جائے گا۔

  • لاہور: 24 گھنٹوں میں 6 خواتین سے زیادتی، 2 سے زیادتی کی کوشش؛ کوئی ملزم گرفتار نہ ہوسکا

    لاہور: 24 گھنٹوں میں 6 خواتین سے زیادتی، 2 سے زیادتی کی کوشش؛ کوئی ملزم گرفتار نہ ہوسکا

    لاہور میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خواتین اور کم عمر لڑکیوں سے مبینہ زیادتی اور زیادتی کی کوشش کے 8 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولیس کے مطابق تمام واقعات کے مقدمات درج کرلیے گئے ہیں، تاہم تاحال کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

    پولیس کے مطابق کاہنہ کے علاقے میں دو افراد ذیشان عرف شانی اور کاشو نے مبینہ طور پر نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر ایک شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی قابل اعتراض ویڈیو بھی بنائی۔

    نشتر کالونی میں ایک شخص پر مبینہ طور پر جھوٹا نکاح کرکے خاتون سے زیادتی کرنے کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ کوٹ لکھپت میں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی سابقہ بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    نواب ٹاؤن میں مدثر نامی ملزم پر الزام ہے کہ اس نے خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر تقریباً ڈیڑھ سال تک مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    پولیس کے مطابق ہنجر وال کے علاقے میں کاشف نامی ملزم نے مبینہ طور پر اپنی سابقہ بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ شاہدرہ ٹاؤن میں علی رضا نامی شخص پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب ملت پارک میں الیاس نامی شخص پر اپنی 14 سالہ بھتیجی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ باغبانپورہ میں علی نامی ملزم نے مبینہ طور پر 16 سالہ ذہنی معذور لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تمام واقعات کے مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، تاہم تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

  • ڈالر تبدیلی کا جھانسہ دے کر  شہریوں سے رقم ہتھیانے والا نوسرباز گروہ گرفتار

    ڈالر تبدیلی کا جھانسہ دے کر شہریوں سے رقم ہتھیانے والا نوسرباز گروہ گرفتار

    لاہور: ڈالر تبدیل کرنے کا جھانسہ دے کر شہریوں سے نوسربازی کرنے والے گروہ کے تین ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

    ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق دو روز قبل گلشن اقبال میں ایک شہری کو 40 ہزار روپے سے محروم کرنے کے بعد پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کی۔ سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا گیا۔ریس کورس پولیس نے مشکوک گاڑی کو ٹریک کرتے ہوئے جیل روڈ پر کارروائی کی اور گاڑی میں سوار دو ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔ گرفتار ملزمان کی شناخت حسین اور عباس کے نام سے ہوئی۔پولیس کے مطابق ملزمان کی نشاندہی پر واردات میں شریک خاتون کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزمان غیر ملکی شہری بن کر لوگوں سے نوسربازی کرتے تھے۔

    ملزمان ڈالر دکھا کر پاکستانی کرنسی تبدیل کروانے کے بہانے شہریوں کو لوٹتے تھے۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی قبضے میں لے لی ہے۔گرفتار ملزمان، خاتون اور گاڑی کو مزید قانونی کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا گیا ہے۔

  • آن لائن جوئے میں رقم ہارنے کے بعد ڈکیتی کی جھوٹی کال، ملزم گرفتار

    آن لائن جوئے میں رقم ہارنے کے بعد ڈکیتی کی جھوٹی کال، ملزم گرفتار

    قصور،رپورٹ،طارق نوید سندھو،بیوروچیف باغی ٹی وی قصور
    ماموں کے 2 لاکھ 50 ہزار روپے آن لائن جوئے کی ایپ میں ہارنے کے بعد معاملہ چھپانے کے لیے 15 پر ڈکیتی کی جھوٹی کال کرنے والے نوجوان کو پولیس نے گرفتار کرلیا، مقدمہ درج کرکے حوالات میں بند کردیا گیا۔

    پولیس کے مطابق تھانہ صدر پتوکی کے ایس ایچ او عامر اسلم کی سربراہی میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شیرگڑھ بازار حبیب آباد کے رہائشی میسم تیمار کو گرفتار کیا۔ملزم نے حبیب آباد بائی پاس کے قریب اپنے بھائی کے موبائل فون سے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کرکے اطلاع دی کہ نامعلوم افراد اس سے 2 لاکھ 50 ہزار روپے اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے ہیں۔پولیس ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور کالر سمیت اردگرد موجود افراد سے پوچھ گچھ کی۔ دوران تفتیش میسم تیمار پر شک گزرا، جس پر پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید تحقیقات کیں۔

    پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس ماموں کی وصولی کی رقم موجود تھی، جو اس نے آن لائن جوئے کی ایپ میں ہار دی۔ رقم ہارنے کے بعد معاملہ چھپانے کے لیے اس نے اپنا موبائل فون دوست کے گھر پہنچا دیا اور اپنے بھائی کو ساتھ لے کر جائے وقوعہ پر پہنچا، جہاں بھائی کے موبائل فون سے رابری کی جھوٹی کال کی۔پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر اس کا موبائل فون بھی اس کے دوست کے گھر سے برآمد کرلیا۔پولیس نے میسم تیمار کے خلاف ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے حوالات میں بند کردیا ہے