Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈی آئی خان:دہشتگردوں کا کسٹمز آفس پر حملہ، 2 اہلکار شہید 2 زخمی

    ڈی آئی خان:دہشتگردوں کا کسٹمز آفس پر حملہ، 2 اہلکار شہید 2 زخمی

    ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم دہشت گردوں نے کسٹم آفس اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید جبکہ دو زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق شہید ہونے والوں میں کسٹم اہلکار اسرار خان اور پولیس اہلکار محمد بلال شامل ہیں ، زخمیوں میں عمر اور خیال محمد شامل ہیں جنہیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے، شہید اہلکاروں کی لاشیں بھی ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے سی پیک روٹ پر چلنے والی مسافر بسوں پر بھی فائرنگ کی اس کے علاوہ دہشت گردوں نے کسٹم کی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی جس سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچا ، جوابی کارروائی کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئےواقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیاعلاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔

    کوئٹہ میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 8 دہشتگرد ہلاک

    آمد رمضان پر شہریوں کی ضلعی انتظامیہ سے سخت اپیل

    
جسٹس انعام امین منہاس کی نجف حمید کی ضمانت بحالی کیس سننے سے معذرت

  • 
ایم 9 موٹروے پر ٹریفک حادثہ: خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق

    
ایم 9 موٹروے پر ٹریفک حادثہ: خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق

    ‎ایم 9 موٹروے پر وین اور متعدد گاڑیوں کی ٹکر سے خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہو گئے ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق حادثہ ممکنہ طور پر بارش اور سڑک پر پھسلن کی وجہ سے بریک نہ لگنے کے باعث پیش آیا۔ مسافر غلام رسول نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی، بہو اور پوتے کے ساتھ گاؤں مورو جا رہا تھا، حادثے میں ان کی بیوی اور پوتا جاں بحق جبکہ بہو زخمی ہوئی۔
    ‎واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کاٹھور کے قریب ایم 9 موٹروے پر ہونے والے ایک خوفناک ٹریفک حادثے میں 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • گوجرانوالہ میں خاتون اور بچے کے قتل کا ملزم گرفتار

    گوجرانوالہ میں خاتون اور بچے کے قتل کا ملزم گرفتار

    
گوجرانوالہ میں خاتون اور اس کے بیٹے کے قتل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پنجاب پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
    ‎دورانِ تفتیش ملزم نے 3 سالہ بچی اور 14 سالہ لڑکے کے قتل کا بھی اعتراف کیا۔ ملزم کی نشاندہی پر بچی کی لاش نہر سے برآمد کر لی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزم واردات کے بعد ٹرین کے ذریعے کراچی فرار ہو رہا تھا، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور بروقت کوآرڈینیشن کے ذریعے اسے ٹرین میں ہی گرفتار کر لیا گیا۔
    ‎پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری ہیں اور قانون کے مطابق ملزم کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

  • 
کراچی میں ڈکیتی، 15 تولہ سونا اور نقدی لوٹ کر ملزمان فرار

    
کراچی میں ڈکیتی، 15 تولہ سونا اور نقدی لوٹ کر ملزمان فرار

    
شہر قائد کے علاقے گڈاپ تھانے کی حدود میں سپر ہائی وے کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ڈکیتی کی سنگین واردات پیش آئی، جس میں مسلح ملزمان نے شہری کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کا سونا اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔
    پولیس کے مطابق یہ واردات ممتاز مولائی کے گھر میں ہوئی، جہاں دو موٹر سائیکل سوار ملزمان داخل ہوئے، جن میں سے ایک کے پاس پستول اور دوسرے کے پاس چھری تھی۔ ملزمان نے گھر والوں کو یرغمال بنا کر 15 تولہ سونا، نقدی اور موبائل فونز لوٹ لیے اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور کرائم سین سے شواہد جمع کیے گئے۔ متاثرہ شہری کے بیان کی بنیاد پر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے جبکہ علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • جہلم میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پرحملہ، ملزم گرفتار

    جہلم میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پرحملہ، ملزم گرفتار

    
انجینئر محمد علی مرزا پر گزشتہ رات جہلم میں واقع ان کی اکیڈمی کے اندر حملہ کیا گیا، تاہم وہ اس واقعے میں محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
    پولیس کے مطابق حملے کے وقت انجینئر محمد علی مرزا درس مکمل کرنے کے بعد شرکاء کے ساتھ فوٹو سیشن میں مصروف تھے کہ ایک نوجوان نعرہ لگاتے ہوئے خالی ہاتھ ان پر جھپٹ پڑا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے دونوں ہاتھوں سے ان کا گلا دبانے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود افراد نے فوری طور پر اسے قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزم ایبٹ آباد کا رہائشی ہے اور اس کا تعلق ایک کالعدم جماعت سے بتایا جا رہا ہے۔
    ‎واقعے کا مقدمہ تھانہ سٹی جہلم میں درج کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس مزید تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ حملے کے محرکات اور ممکنہ پس منظر کا تعین کیا جا سکے۔

  • کوہلو کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، ریسکیو آپریشن جاری

    کوہلو کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، ریسکیو آپریشن جاری

    کوہلو کے علاقے کوہ جاندران میں لگی آگ پے24 گھنٹوں بعد بھی مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔

    جنگلات حکام کے مطابق محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کوہلو کے اہلکار اور مقامی رضاکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں آگ نے وسیع رقبے کے جنگلی درخت اور جھاڑیاں جلا دی ہیں اور جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا ہے ڈویژنل فارسٹ آفیسر جان محمد کاکڑ نے بتایا کہ آگ بجھانے تک ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن جاری رکھا جائے گا، دشوار گزار پہاڑی علاقے کی وجہ سے ریسکیو عملے کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم فیلڈ میں موجود عملہ مسلسل آگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں مصروف ہےبعض مقامات پر آگ کی شدت برقرار ہے اور مکمل کنٹرول میں وقت لگے گا،عملہ محدود وسائل کے باوجود مسلسل آپریشن میں مصروف ہے اور ریسکیو ٹیمیں مرحلہ وار آگ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • نوشہرو فیروز میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق

    نوشہرو فیروز میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق

    نوشہرو فیروز کے قریب قومی شاہراہ پر تیز رفتار کار اور ٹریلر کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں کار میں سوار چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق سولنگی برادری سے بتایا جا رہا ہے حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ ٹریلر سڑک کے کنارے جا رکا، مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کیں اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دی۔

    ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو گاڑی سے نکال کر ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس کے ذریعے نوشہرو فیروز کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا اسپتال ذرائع کے مطابق تمام افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد لاڑکانہ سے کراچی جا رہے تھے حادثے کے بعد کچھ دیر کے لیے قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جسے پولیس کی مدد سے بحال کر دیا گیا۔

    پولیس نے ٹریلر کو تحویل میں لے کر ڈرائیور سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں،حکام کے مطابق ابتدائی طور پر تیز رفتاری کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔

  • طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں کا وین ڈرائیور پر شدید تشدد

    طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں کا وین ڈرائیور پر شدید تشدد

    بھکر کے نواحی علاقے برکت والا میں کالج طالبات کو ہراساں کرنے سے منع کرنے پر اوباش نوجوانوں نے وین ڈرائیور پر شدید تشدد کیا۔

    پولیس کے مطابق چند اوباش افراد نے طالبات کو تنگ کرنے کی کوشش کی، جس پر وین ڈرائیور قاسم نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں منع کیا ڈرائیور کے روکنے پر ملزمان طیش میں آگئے اور اپنے دیگر ساتھیوں کو بلا کر قاسم پر تشدد کیا۔ بتایا گیا ہے کہ 4 افراد نے ڈرائیور کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے آدھ موا حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او بھکر شہزاد رفیق نے فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا –

    ڈی پی او شہزاد رفیق نے کہا ہے کہ خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے اور اوباش عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا۔

  • ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر طالبہ نےخودکشی کرلی

    ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر طالبہ نےخودکشی کرلی

    کولکتہ:ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر دسویں جماعت کی طالبہ نے اپنے کمرے کی چھت سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں پیش آیا ا والدین کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے اور گھر میں صرف ایک بہن اور دادی موجود تھیں شام کو والدین گھر واپس لوٹے اور جب کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی تو دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی جواب نہیں آیا جس پر اہل خانہ نے دروازہ توڑ دیا اہل خانہ کمرے میں داخل ہوئے تو بیٹی کو دوپٹے کے ذریعے پنکھے سے لٹکا ہوا پایا اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں موت کی تصدیق کردی گئی۔

    والدین نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی دسویں کلاس میں پڑھتی تھی اور اس کے تمام پیپرز بہت اچھے ہوئے تھے لیکن ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر وہ ہر وقت افسردہ رہتی تھی اس نے مایوسی کے عالم میں دو دن سے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور کمرے میں ہر وقت اکیلی رہتی تھی۔

    مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ خودکشی کا کیس لگتا ہے لیکن مقدمے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہےتعلیمی ماہرین کے بقول بھی امتحانات کے دوران طلبا کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے خاص طور پر جب وہ نتائج کے بارے میں غیر معمولی فکرمند ہوں،ماہرین والدین اور اساتذہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کی ذہنی کیفیت پر نظر رکھیں اور انہیں ناکامی یا کم نمبروں کی صورت میں بھی حوصلہ دیں۔

    وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،صدر مملکت

  • انسٹاگرام سے شروع ہونے والی محبت سیپٹک ٹینک میں لاش ملنے پر ختم

    انسٹاگرام سے شروع ہونے والی محبت سیپٹک ٹینک میں لاش ملنے پر ختم

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوبال میں ایک سنسنی خیز قتل کا انکشاف ہوا ہے جہاں 33 سالہ خاتون کی مسخ شدہ لاش خالی پلاٹ میں قائم سیپٹک ٹینک سے برآمد ہوئی۔

    پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اندوہناک واردات کو 24 گھنٹوں کے اندر ٹریس کر لیا گیا، جس کی کہانی محبت، دھوکہ، بلیک میلنگ اور قتل جیسے پہلوؤں پر مشتمل ہے۔پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت اشرفی عرف سیا کے نام سے ہوئی ہے جو ریاست مہاراشٹر کے ضلع گونڈیا کی رہائشی تھیں۔ تحقیقات کے مطابق سیا کو پیر کے روز اس کے شادی شدہ عاشق سمیر نے مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کیا، جس میں اس کے اہلِ خانہ نے بھی معاونت کی۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سال قبل سیا اور سمیر کی ملاقات سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ہوئی۔ ابتدا میں عام نوعیت کی گفتگو جلد ہی معاشقے میں بدل گئی۔ محبت میں اندھی سیا تقریباً تین ماہ قبل اپنا گھر چھوڑ کر بھوبال منتقل ہو گئی اور سمیر کے ساتھ رہائش اختیار کر لی، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز کر رہی ہے۔تاہم سمیر پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا۔ جب سیا اس کے علاقے کملہ نگر کے گھر میں رہنے لگی تو روزانہ کی بنیاد پر جھگڑے شروع ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیا اور سمیر کی بیوی کے درمیان اکثر تلخ کلامی ہوتی تھی جبکہ پڑوسیوں نے بھی گھر میں کشیدگی اور چیخ و پکار کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ سیا سمیر پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس نے شادی سے انکار کی صورت میں پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ گھریلو حالات مزید کشیدہ ہو گئے اور سمیر کی بیوی مبینہ طور پر حالات سے تنگ آ کر اپنے میکے جَبَل پور چلی گئی۔پیر کی شام سیا اور سمیر کے درمیان ایک اور شدید جھگڑا ہوا۔ پولیس کے مطابق طیش میں آ کر سمیر نے سیا کا گلا دبا دیا جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے سمیر نے مبینہ طور پر اپنے بھائی، والدہ اور بہن کی مدد سے لاش کو ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور پیر اور منگل کی درمیانی شب گھر کے قریب ایک خالی پلاٹ میں موجود سیپٹک ٹینک میں پھینک دیا۔جمعرات کی شام قریبی علاقے میں کھیلنے والے بچوں نے ٹینک سے اٹھنے والی شدید بدبو کی شکایت کی۔ مکینوں نے اندر لوہے کا صندوق تیرتا دیکھا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تلاشی لی تو صندوق کے اندر سے سیا کی بری طرح مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔لاش کافی حد تک گل چکی تھی جس کے باعث واضح زخموں کے نشانات نظر نہیں آ رہے تھے، تاہم ہاتھ پر بنے چراغ کے مخصوص ٹیٹو اور تاریخ "26 مئی 1992” سے شناخت ممکن ہوئی، جو غالباً اس کی تاریخ پیدائش تھی۔

    نشات پورہ تھانے کے انسپکٹر منوج پٹوا کے مطابق لاش تین سے چار روز پرانی معلوم ہوتی ہے اور ابتدائی شواہد گلا دبانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پولیس نے سمیر کے بھائی، والدہ اور بہن کو لاش ٹھکانے لگانے میں مدد دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سمیر تاحال مفرور ہے۔ اس کی بیوی سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد کو بھی علم تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق سیا کی ذاتی زندگی بھی پیچیدہ تھی اور اس کی اس سے قبل تین شادیاں ہو چکی تھیں، جن میں سے بعض ریاست مہاراشٹر اور راجستھان میں ہوئیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اصل محرک اور واقعات کی مکمل ترتیب فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کی تلاش تیز کر دی ہے جبکہ علاقے میں اس لرزہ خیز واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا ہے