بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوبال میں ایک سنسنی خیز قتل کا انکشاف ہوا ہے جہاں 33 سالہ خاتون کی مسخ شدہ لاش خالی پلاٹ میں قائم سیپٹک ٹینک سے برآمد ہوئی۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اندوہناک واردات کو 24 گھنٹوں کے اندر ٹریس کر لیا گیا، جس کی کہانی محبت، دھوکہ، بلیک میلنگ اور قتل جیسے پہلوؤں پر مشتمل ہے۔پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت اشرفی عرف سیا کے نام سے ہوئی ہے جو ریاست مہاراشٹر کے ضلع گونڈیا کی رہائشی تھیں۔ تحقیقات کے مطابق سیا کو پیر کے روز اس کے شادی شدہ عاشق سمیر نے مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کیا، جس میں اس کے اہلِ خانہ نے بھی معاونت کی۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سال قبل سیا اور سمیر کی ملاقات سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ہوئی۔ ابتدا میں عام نوعیت کی گفتگو جلد ہی معاشقے میں بدل گئی۔ محبت میں اندھی سیا تقریباً تین ماہ قبل اپنا گھر چھوڑ کر بھوبال منتقل ہو گئی اور سمیر کے ساتھ رہائش اختیار کر لی، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز کر رہی ہے۔تاہم سمیر پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا۔ جب سیا اس کے علاقے کملہ نگر کے گھر میں رہنے لگی تو روزانہ کی بنیاد پر جھگڑے شروع ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیا اور سمیر کی بیوی کے درمیان اکثر تلخ کلامی ہوتی تھی جبکہ پڑوسیوں نے بھی گھر میں کشیدگی اور چیخ و پکار کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سیا سمیر پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس نے شادی سے انکار کی صورت میں پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ گھریلو حالات مزید کشیدہ ہو گئے اور سمیر کی بیوی مبینہ طور پر حالات سے تنگ آ کر اپنے میکے جَبَل پور چلی گئی۔پیر کی شام سیا اور سمیر کے درمیان ایک اور شدید جھگڑا ہوا۔ پولیس کے مطابق طیش میں آ کر سمیر نے سیا کا گلا دبا دیا جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے سمیر نے مبینہ طور پر اپنے بھائی، والدہ اور بہن کی مدد سے لاش کو ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور پیر اور منگل کی درمیانی شب گھر کے قریب ایک خالی پلاٹ میں موجود سیپٹک ٹینک میں پھینک دیا۔جمعرات کی شام قریبی علاقے میں کھیلنے والے بچوں نے ٹینک سے اٹھنے والی شدید بدبو کی شکایت کی۔ مکینوں نے اندر لوہے کا صندوق تیرتا دیکھا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تلاشی لی تو صندوق کے اندر سے سیا کی بری طرح مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔لاش کافی حد تک گل چکی تھی جس کے باعث واضح زخموں کے نشانات نظر نہیں آ رہے تھے، تاہم ہاتھ پر بنے چراغ کے مخصوص ٹیٹو اور تاریخ "26 مئی 1992” سے شناخت ممکن ہوئی، جو غالباً اس کی تاریخ پیدائش تھی۔
نشات پورہ تھانے کے انسپکٹر منوج پٹوا کے مطابق لاش تین سے چار روز پرانی معلوم ہوتی ہے اور ابتدائی شواہد گلا دبانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پولیس نے سمیر کے بھائی، والدہ اور بہن کو لاش ٹھکانے لگانے میں مدد دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سمیر تاحال مفرور ہے۔ اس کی بیوی سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد کو بھی علم تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق سیا کی ذاتی زندگی بھی پیچیدہ تھی اور اس کی اس سے قبل تین شادیاں ہو چکی تھیں، جن میں سے بعض ریاست مہاراشٹر اور راجستھان میں ہوئیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اصل محرک اور واقعات کی مکمل ترتیب فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کی تلاش تیز کر دی ہے جبکہ علاقے میں اس لرزہ خیز واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا ہے