Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • 
اے سی چلانے کے تنازع پر بیٹے نے فائرنگ کر کے والد کو قتل کر دیا

    
اے سی چلانے کے تنازع پر بیٹے نے فائرنگ کر کے والد کو قتل کر دیا

    ‎پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالہ میں گھریلو تنازع افسوسناک سانحے میں تبدیل ہوگیا، جہاں بجلی کے بل اور اے سی چلانے کے معاملے پر ہونے والے جھگڑے کے دوران ایک نوجوان نے مبینہ طور پر فائرنگ کر کے اپنے والد کو قتل جبکہ والدہ اور بہن کو زخمی کر دیا۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعہ گلفشاں ٹاؤن میں پیش آیا، جہاں گھر میں بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر بحث کے دوران والد نے اپنے بیٹے کو ایئر کنڈیشنر چلانے سے منع کیا اور زیادہ بل آنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ابتدا میں تلخ کلامی ہوئی، تاہم دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ شدت اختیار کر گیا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ والد کی سرزنش پر مشتعل ہونے والے بیٹے نے مبینہ طور پر اسلحہ نکال کر فائرنگ کر دی۔ گولیاں لگنے سے والد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ والدہ اور بہن بھی زخمی ہو گئیں۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمی خواتین کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق دونوں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے لاش کو قانونی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعے کی بنیادی وجہ بجلی کے بل میں اضافے اور اے سی کے استعمال پر ہونے والا گھریلو تنازع معلوم ہوتی ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎علاقہ مکینوں نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معمولی گھریلو اختلافات کو تشدد کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات معاشرے میں برداشت، تحمل اور باہمی احترام کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے اور ملزم کو جلد قانون کی گرفت میں لا کر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

  • 
عارف والا میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے دوران اسکول کی دیوار گر گئی

    
عارف والا میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے دوران اسکول کی دیوار گر گئی

    ‎عارف والا میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورے کے دوران اس وقت ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب ان کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے دوران ایمیننس اسکول کی بیرونی دیوار گر گئی۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں وزیراعلیٰ پنجاب، ہیلی کاپٹر کے عملے یا اطراف میں موجود کسی بھی شخص کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز عارف والا میں ایمیننس اسکول کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچیں، جہاں ان کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے لیے قریبی ہاؤسنگ کالونی میں خصوصی ہیلی پیڈ تیار کیا گیا تھا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر کے زمین پر اترتے وقت پیدا ہونے والے شدید ہوا کے دباؤ کے باعث اسکول کی بیرونی دیوار اچانک منہدم ہوگئی۔ دیوار گرنے کے بعد موقع پر موجود انتظامیہ اور سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر متحرک ہوگئے اور علاقے کا جائزہ لیا گیا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ معمول کے مطابق جاری رہا اور افتتاحی تقریب بھی مکمل کی گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو بھی کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
    ‎انتظامیہ نے واقعے کے بعد متاثرہ مقام کا معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ دیوار گرنے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ متعلقہ ادارے اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا دیوار پہلے سے کمزور تھی یا ہیلی کاپٹر کے بلیڈز سے پیدا ہونے والے ہوا کے دباؤ نے اسے گرایا۔
    ‎واقعے کے بعد مقامی افراد میں تشویش پائی گئی، تاہم ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عوام کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا تعمیراتی خامی سامنے آئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کے کہنے پر  ڈیوٹی پر مامور پولیس افسر کو کچل دیا

    ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کے کہنے پر ڈیوٹی پر مامور پولیس افسر کو کچل دیا

    پنجاب کے ضلع اٹک میں جی ٹی روڈ پر لارنس پور ٹول پلازہ کے قریب ایک ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کے کہنے پر فرض شناس ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس افسر کو کچل کر شہید کر دیا۔

    ہائی وے پولیس کے مطابق یہ ڈمپر اوور لوڈ تھا اور پٹرولنگ آفیسر جاوید اکبر نے اسے روکنے کا اشارہ کیا تھا انہوں نے ڈرائیور سے اوور لوڈنگ کے چالان کے لیے رسید اور ڈرائیونگ لائسنس مانگا لیکن ڈرائیور نے دستاویزات دینے کے بجائے گاڑی سڑک کنارے کھڑے ڈیوٹی افسر کے اوپر چڑھا دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    پولیس کو اس ہولناک واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موصول ہو گئی ہے جس کی مدد سے تحقیقات کی جا رہی ہیں موٹروے پولیس کے ترجمان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مفرور ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کی ترغیب پر یہ انتہائی قدم اٹھایا ٹرک کے مالک نے ڈرائیور کو موبائل پر کہا کہ اس کو کچل دو اور ڈمپر بھگا دو، اس سفاکانہ حکم پر عمل کرتے ہوئے ڈرائیور نے پولیس افسر جاوید اکبر پر ڈمپر چڑھا دیا اور انہیں کچلتا ہوا موقع سے فرار ہو گیا۔

    موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہید اکبر کے ناحق قتل کے تمام تر پختہ شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں اور ٹرک کے مالک اور ڈرائیور دونوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے دونوں ملزمان اس وقت روپوش ہیں لیکن انہیں بہت جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا،شہید ہونے والے فرض شناس پولیس افسر جاوید اکبر کے سوگواران میں ایک بیوہ اور پانچ بچے شامل ہیں۔

    شہید جاوید اکبر کی نمازِ جنازہ مردان میں ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہےنمازِ جنازہ اور تدفین میں پولیس حکام، اہلخانہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اس دکھ کی گھڑی میں آئی جی موٹروے پولیس نے شہید کے اہلِ خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہےآئی جی موٹروے نے اپنے پیغام میں کہا کہ محکمہ اس مشکل وقت میں شہید کے ورثا کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے اور ان کی دیکھ بھال کی جائے گی,جاوید اکبر جیسے فرض شناس اور بہادر پولیس افسران پر پورے محکمے کو فخر ہے جنہوں نے فرض کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

  • پشاور:گھر میں آگ لگنے سے4 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق

    پشاور:گھر میں آگ لگنے سے4 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق

    پشاور کے علاقے تہکال پایان میں ایک انتہائی افسوسناک اور ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک گھر میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے ایک ہی خاندان کے 6افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    جاں بحق ہونے والوں میں میاں، بیوی اور ان کے چار معصوم بچے شامل ہیں جو آگ کی لپیٹ میں آنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے اس دلخراش واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق، سرچ آپریشن کے دوران گھر کے ایک کمرے سے چھ افراد کے جسد خاکی نکالے گئے جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت ہو گئی ہے جن میں 55 سالہ سراج، ان کی 40 سالہ اہلیہ، 11 سالہ حریرہ،9 سالہ حنایا، 4 سالہ حسنین اور3سالہ منہال شامل ہیں ہلاک ہونے والے تمام افرا د ایک ہی کمرے میں موجود تھے اور ان کی موت آگ کی شدید تپش اور دم گھٹنے یعنی دھویں کی وجہ سے ہوئی ہے۔

    اس واقعے کے حوالے سے ریسکیو 1122 کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ مکان کے ہال والے حصے میں لگی تھی جہاں فرنیچر، فوم اور دیگر سا ما ن رکھا ہوا تھاجس نےتیزی سے آگ پکڑ لی ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہیں اور اس حوالے سےتحقیقات کی جا رہی ہیں ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر مکمل قابو پا لیا تھا لیکن کمرے میں دھواں اور تپش زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

  • 
10 سال پرانے قیدی فرار کیس کا فیصلہ، 2 پولیس اہلکاروں کو 6، 6 سال جبکہ ڈرائیور کو 12 سال قید

    
10 سال پرانے قیدی فرار کیس کا فیصلہ، 2 پولیس اہلکاروں کو 6، 6 سال جبکہ ڈرائیور کو 12 سال قید

    ‎گوجرانوالہ: جیل سے عدالت لائے گئے دو خطرناک قیدیوں کے فرار کے 10 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا، جس میں اینٹی کرپشن کی اسپیشل کورٹ نے دو پولیس اہلکاروں کو 6، 6 سال جبکہ قیدی وین کے ڈرائیور کو 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
    ‎اسپیشل کورٹ کے جج نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے اے ایس آئی نوازش علی اور کانسٹیبل بشیر احمد کو چھ، چھ سال قید اور ایک، ایک لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قیدی وین کے ڈرائیور کو غفلت اور ذمہ داری پوری نہ کرنے پر 12 سال قید کا حکم بھی دیا۔
    ‎یہ مقدمہ 30 مئی 2016 کو تھانہ سول لائن میں درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق دو قیدیوں کو جیل سے ضلع کچہری میں پیشی کے لیے قیدی وین کے ذریعے لایا گیا تھا۔ عدالت کے باہر پہلے سے موجود ملزمان کے ساتھیوں نے پولیس اہلکاروں کو نشہ آور جوس پلا دیا، جس کے باعث اہلکار بے ہوش ہوگئے اور دونوں قیدی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ فرار ہونے والے دونوں ملزمان قتل اور دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات میں گرفتار تھے، جن کے فرار نے اس وقت سکیورٹی انتظامات پر بھی کئی سوالات کھڑے کیے تھے۔
    ‎طویل قانونی کارروائی اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ذمہ دار اہلکاروں کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائیں۔ فیصلے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں غفلت اور فرائض میں کوتاہی کے خلاف ایک اہم عدالتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

  • شادی سے انکار پر شخص نے خاتون پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگادی

    شادی سے انکار پر شخص نے خاتون پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگادی

    لاہور: والٹن روڈ پر شادی سے انکار پر ایک شخص نے خاتون پر آتش گیر مادہ پھینک کر اُسے آگ لگا دی جبکہ واقعے کے دوران ملزم خود بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر جھلس گیا، جس کے بعد متاثرہ خاتون اور زخمی ملزم دونوں کو جناح اسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا۔

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے جناح اسپتال لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے متاثرہ خاتون سے ملاقات کرکے اس کی خیریت دریافت کی اور اسے انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی،انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی متاثرہ خاتون کے ساتھ ہیں اس موقع پر انہوں نے ایم ایس، ڈاکٹرز اور اسپتال انتظامیہ سے متاثرہ خاتون کے علاج سے متعلق بریفنگ بھی لی۔

    حنا پرویز بٹ نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاتون کو ہر قسم کی بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی واقعے کا مقدمہ تھانہ فیکٹری ایریا میں درج کر لیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاتون اپنے 4 سالہ بیٹے کو مدرسے میں داخل کروانے کے لیے لے کر جا رہی تھی گلی میں پہنچنے پر ملزم نے اسے روک کر تنگ کرنا شروع کر دیا خاتون کے شور مچانے پر ملزم نے اس پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی جس کے نتیجے میں خاتون کے چہرے، بال اور جسم کے مختلف حصے جھلس گئے۔

    حنا پرویز بٹ کے مطابق ملزم پہلے بھی 2 شادیاں کر چکا تھا اور اس کی دونوں بیویاں ناراض ہو کر میکے چلی گئی تھیں بیویوں کی ناراضی کے بعد ملزم نے اپنی پڑوسی خاتون سے دوستی کی اور 3 بچوں کی ماں کو خلع لے کر اس سے شادی کرنے کا مطالبہ کیا، خاتون کے انکار پر ملزم طیش میں آ گیا اور اس نے خاتون کو آگ لگا دی۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا، دباؤ ڈالنا یا شادی کے لیے مجبور کرنا ناقابل برداشت جرم ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا واضح پیغام ہے کہ خواتین ہماری ریڈ لائن ہیں، خواتین پر تشدد کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی متاثرہ خاتون کو قانونی، طبی اور ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ خواتین پر تشدد اور ہراسگی میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

  • حاملہ خاتون کو زندہ جلانے کا الزام، شوہر اور پہلی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

    حاملہ خاتون کو زندہ جلانے کا الزام، شوہر اور پہلی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

    ‎شیخوپورہ کے علاقے الجلیل گارڈن میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے ہر آنکھ اشکبار کر دی، جہاں چھ ماہ کی حاملہ خاتون مبینہ طور پر آگ لگنے سے جاں بحق ہوگئی۔ مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں شوہر اور اس کی پہلی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق تحسیم بی بی کی شادی تقریباً دو سال قبل حمزہ نامی شخص سے ہوئی تھی۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شوہر پہلے سے شادی شدہ تھا اور دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھا گیا تھا، جہاں تحسیم بی بی کو آئے روز گھریلو جھگڑوں، مبینہ تشدد اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق حالیہ دنوں میں شوہر کا رویہ مزید سخت ہوگیا تھا اور وہ اپنی حاملہ اہلیہ کو بھی مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔
    ‎درخواست کے مطابق واقعے کے روز شام تقریباً چار بجے مقتولہ نے اپنی والدہ کو فون کر کے بتایا کہ اسے دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ والدہ نے بیٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے روز آکر اسے ساتھ لے جائیں گی، تاہم یہی دونوں کے درمیان آخری گفتگو ثابت ہوئی۔
    ‎اسی رات تقریباً 11 بجے اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ تحسیم بی بی آگ لگنے سے جاں بحق ہو گئی ہیں۔ والدہ اپنے بھائی اور دیگر عزیزوں کے ہمراہ جب الجلیل گارڈن پہنچیں تو انہوں نے اپنی بیٹی کی جھلسی ہوئی لاش گھر کے کچن میں دیکھی۔ اس افسوسناک واقعے میں نہ صرف ایک نوجوان خاتون کی جان چلی گئی بلکہ اس کے بطن میں موجود چھ ماہ کا بچہ بھی زندگی سے محروم ہو گیا۔
    ‎مقتولہ کی والدہ کی درخواست پر پولیس نے شوہر حمزہ اور اس کی پہلی بیوی سلمیٰ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • راولاکوٹ:کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کا حملہ،سکیورٹی اہلکار شہید

    راولاکوٹ:کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کا حملہ،سکیورٹی اہلکار شہید

    راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سےوابستہ مسلح شرپسندوں نےسیکیورٹی فورسزاور شہریوں پرحملہ کر دیا،آٹومیٹک ہتھیاروں سےفائرنگ کے نتیجےمیں رینجرزکا ایک اہلکارشہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔

    مذموم ایجنڈے میں ناکامی کے بعد آج صبح کالعدم ایکشن کمیٹی کےمسلح جتھوں نے متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ کے قریب شہری آبادی پرفائرنک کی بزدلانہ کارروائی کے بعد امن وامان کی بحالی کیلئے پیش قدمی کرنے والی پولیس اور معاونت کیلئےپہنچنے والی رینجرزپرمسلح جتھوں نے جدید ہتھیاروں سے سیدھی فائرنگ کی،جس کے نتیجےمیں رینجرزکا ایک اہلکارشہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا-

    واقعے کےبعد پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھرپورکارروائی کا آغاز کر دیا،آزاد کشمیر حکومت نے انتشاری عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے سابقہ مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا دوبارہ قانونی کارروائی شروع کرتے ہوئےسرغنہ مہران کےقریبی ساتھی ظہیرسمیت چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،مزید گرفتاریوں کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاجدید اسلحے اور بارودی مواد کا استعمال باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی دہشتگردی ہے سیکیورٹی فورسز کی بے مثال قربانیاں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ ریاستی رٹ کا ہر حال میں قیام اور تحفظ ناگزیر ہے،ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث مسلح جتھوں کے خلاف فوری، سخت اور بلا امتیاز قانونی کاروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  • 2005 زلزلہ: لاپتہ 4 سالہ بچے کی باقیات 21 سال بعد مل گئیں

    2005 زلزلہ: لاپتہ 4 سالہ بچے کی باقیات 21 سال بعد مل گئیں

    بالاکوٹ میں 2005 کے زلزلے میں لاپتہ 4 ہونے والے 4 سالہ بچے کی باقیات 21 سال بعد مل گئیں۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے شہر بالاکوٹ میں 2005 کے تباہ کن زلزلے میں لاپتہ ہونے والے چار سالہ بچے جمال شفیق کی باقیات 21 سال بعد ملبے سے برآمد ہوگئیں، بچے کے والد شفیق الرحمن نے بتایا کہ 2005 کے زلزلے میں ان کے گھر کے 8 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 4 سالہ جمال شفیق لا پتہ ہوگیا تھا جس کا سراغ نہیں مل سکا تھا حال ہی میں مکان کی دوبارہ تعمیر کے دوران ملبے کے ڈھیر سے انسانی باقیات برآمد ہوئیں جبکہ ساتھ ملنے والے کپڑوں اور جوتوں سے یہ شناخت ممکن ہوئی کہ یہ ان کے بیٹےکی باقیات ہیں۔

    واضح رہے 8 اکتوبر 2005 کو 7.6 شدت کے زلزلے سے آزاد کشمیر اور ہزارہ ڈویژن سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی تھی اور زلزلے میں 80 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

  • کوہاٹ میں بارش کے دوران کچے مکان کی چھت گرگئی،خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    کوہاٹ میں بارش کے دوران کچے مکان کی چھت گرگئی،خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    کوہاٹ میں بارش کے دوران کچے مکان کی چھت گرگئی، ملبے تلے دب کر بچوں اور خواتین سمیت 11افراد جاں بحق جبکہ 12 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق پیر کو کوہاٹ کے نواحی پہاڑی گاؤں مالگین میں شدید بارش سےکچے مکان کی چھت گرگئی واقعےمیں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی،جاں بحق ہونےوالوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں حادثے کے وقت مکان میں تقریب جاری تھی ملبے سے زخمیوں کو نکال کر ابتدائی طبی امداد کے بعد مختلف اسپتالوں میں منتقل کیاگیا،زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے-

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کوہاٹ کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائےحادثہ پر پہنچ گئیں اورامدادی کارروائیاں شروع کردیں ریسکیو آپریشن میں ریسکیو 1122 کوہاٹ کی چار ایمبولینسیں، ریسکیو 1122 کرک کی دو ایمبولینسیں اور ایک ریکوری وہیکل نےحصہ لیا ریسکیو اہلکاروں نےمقامی افراد کےتعاون سے ملبے تلے دبے تمام متاثرین کو نکال کر ابتدائی طبی امداد فراہم کی-

    اس کے علاوہ اٹک میں بھی بارش سے دیوار گرگئی جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں بارش کے بعد برساتی ند یوں میں طغیانی آگئی ،بارش کے باعث ملتان، ڈی جی خان اور مظفرگڑھ کے متعدد علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی،سیلابی ملبہ گھروں میں داخل ہوگیا، زر عی زمینیں، فصلیں اوردرخت بہہ گئے،تھورکی رابطہ سڑک متعدد مقامات پربند ہے،ٹریفک معطل، بجلی بھی منقطع ہوگئی۔