Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • نوکری کا جھانسا دے کر 20 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    نوکری کا جھانسا دے کر 20 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    لاہور: نوکری کا جھانسا دے کر 20 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کرنے والے ملزم کو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی قلعہ گجر سنگھ پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے متاثرہ لڑکی کو ملازمت دلوانے اور اس کی اکیڈمی کے اخراجات برداشت کرنے کا لالچ دے کر اپنے گھر بلایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب لڑکی ملزم کے گھر پہنچی تو وہاں ملزم کے علاوہ کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نے گھر کو اندر سے لاک کر کے مبینہ طور پر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    پولیس نے ملزم، جس کی شناخت مجاہد خان کے نام سے ہوئی ہے، کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے مزید تفتیش جاری ہے۔اس موقع پر ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی نے کہا کہ زیادتی جیسے گھناونے جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ایسے ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
لاڑکانہ: مبینہ پولیس مقابلے میں خطرناک ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    
لاڑکانہ: مبینہ پولیس مقابلے میں خطرناک ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    ‎لاڑکانہ کے علاقے سر کٹیو پیر میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ایک مطلوب ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت رفیق چانڈیو کے نام سے ہوئی ہے۔ کارروائی کے دوران ملزمان نے پولیس پر شدید فائرنگ کی، جس پر پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں رفیق چانڈیو مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا، جبکہ دیگر ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎پولیس کے مطابق رفیق چانڈیو چند ہفتے قبل پیش آنے والے اس حملے میں بھی ملوث تھا، جس میں پولیس اہلکار مجیب الرحمان شہید جبکہ ایک اور اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے وہ پولیس کو انتہائی مطلوب تھا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم کے خلاف ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، پولیس مقابلوں اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد مقدمات درج تھے اور وہ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
    ‎پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • غیر ملکی خواتین سے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ

    غیر ملکی خواتین سے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ

    لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء اور اجتماعی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ایک غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے معاملے میں تین ملزمان کے ڈی این اے نمونے فرانزک تجزیے میں میچ کر گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی این اے میچ ہونے والے ملزمان میں نواز کا نام سرِفہرست ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نواز پر الزام ہے کہ اس نے سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ اس کے بعد اس کے اکسانے پر دیگر دو ملزمان، ساجد اور سکندر، بھی مبینہ طور پر اس جرم میں شامل ہوئے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس نے مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کے ڈی این اے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوائے تھے، جن میں سے تین کے نمونے متاثرہ خاتون کے شواہد سے میچ کر گئے ہیں، جبکہ دیگر ملزمان کے ڈی این اے نمونوں کا فرانزک تجزیہ تاحال جاری ہے۔

    دوسری جانب پولیس اس مقدمے کے دیگر پہلوؤں پر بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سے قبل ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے تصدیق کی تھی کہ غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی کی بھی شناخت کر لی گئی ہے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں مقدمے کی تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ تمام حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
سوات میں جھیل کے درمیان ویڈیو بنانا سیاحوں کو مہنگا پڑ گیا

    
سوات میں جھیل کے درمیان ویڈیو بنانا سیاحوں کو مہنگا پڑ گیا

    ‎سوات کی نصراللہ جھیل میں ویڈیو بنانے کی کوشش کے دوران سیاحوں کی گاڑی جھیل کے پانی میں پھنس گئی، جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں سوار تینوں افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ واقعے کے بعد انتظامیہ نے سیاحوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی۔
    ‎اسسٹنٹ کمشنر بحرین کے مطابق تینوں سیاحوں کو حفاظتی ہدایات کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں مقررہ جرمانہ ادا کرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ حکام نے کہا کہ قدرتی مقامات پر سیاحوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
    ‎انتظامیہ نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز یا تصاویر بنانے کی خاطر اپنی اور دوسروں کی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ جھیلوں، دریاؤں اور دیگر حساس مقامات پر غیر ذمہ دارانہ سرگرمیاں سنگین حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب کالام کی سیف اللہ جھیل میں پانچ روز قبل پیش آنے والے کشتی حادثے میں لاپتا لڑکی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن آج بھی جاری رہا۔ ریسکیو ٹیمیں جدید آلات اور غوطہ خوروں کی مدد سے مسلسل تلاش میں مصروف ہیں، تاہم تاحال لاپتا لڑکی کا سراغ نہیں مل سکا۔
    ‎یاد رہے کہ سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹنے کے افسوسناک حادثے میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے نو افراد سوار تھے۔ حادثے کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔ ایک لڑکی تاحال لاپتا ہے، جس کی تلاش کے لیے ریسکیو ادارے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
    ‎ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تفریحی مقامات پر جاری حفاظتی اصولوں پر عمل کریں، غیر محفوظ مقامات پر جانے سے گریز کریں اور ریسکیو و انتظامی اہلکاروں کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • 
قصور میں بانس کی کونپلیں چوری کرنے کے الزام میں چینی شہری گرفتار

    
قصور میں بانس کی کونپلیں چوری کرنے کے الزام میں چینی شہری گرفتار

    ‎قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا تھانے کی حدود میں دیہاتیوں نے بانس کی کونپلیں (شوٹس) چوری کرنے کے الزام میں چند چینی شہریوں کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
    ‎مقامی افراد کے مطابق چینی شہری بانس کے کھیتوں میں داخل ہو کر نئی نکلنے والی کونپلیں کاٹ رہے تھے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کافی عرصے سے بانس کے کھیتوں سے مسلسل کونپلیں غائب ہو رہی تھیں، جس کے باعث کاشتکاروں کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، تاہم اس سے قبل مبینہ چوروں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا تھا۔
    ‎اطلاعات کے مطابق دیہاتیوں نے منصوبہ بندی کے تحت نگرانی کی اور مبینہ طور پر چوری کی کوشش کے دوران چینی شہریوں کو پکڑ لیا۔ اس دوران ان کی گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی گئی، جبکہ موقع سے کلہاڑیاں، چاقو اور دیگر اوزار بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
    ‎مقامی افراد نے واقعے کی ویڈیو بھی بنائی، جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ویڈیو میں چند افراد کو روک کر ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، تاہم ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎بانس کے کھیتوں کے مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور متعلقہ حکام اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افراد کے خلاف پاکستان کے مروجہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔ بعض متاثرین نے غیر ملکی شہریوں سے متعلق قانونی اور سفارتی تقاضوں کے مطابق بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • لاہورسےکراچی جانےوالی شالیمارایکسپریس حادثے کا شکار

    لاہورسےکراچی جانےوالی شالیمارایکسپریس حادثے کا شکار

    لاہورسےکراچی جانےوالی شالیمارایکسپریس حادثے کا شکار ہوگئی۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس ٹرین کو خانیوال لوکو شیڈ کے قریب حادثہ پیش آیا جہاں ٹرین کی بوگی پٹری سے اتر گئی ، شا لیمار ایکسپریس کی ٹرالی کے ویل سے ریل کا پہیہ نکل کر دوسری بوگی سے جا لگا اور زوردار جھٹکا سے ٹرین پٹری سے اتر گئی ٹرین کی رفتار کم تھی جس کی وجہ سے معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہ ہوا ریلوے انتظامیہ کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریلوے انتظامیہ ملازمین کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

    واضح رہے کہ رواں سال 27 اپریل کو کراچی ایکسپریس کی بوگی میں آگ لگنے کے نتیجے میں خاتون سمیت 7 افراد چل بسے تھے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد جو ریلوے ٹریک پاکستان کو ملا تھا ، اس میں کسی قسم کی جدت لائی گئی اور نہ ہی کوئی تبدیلی کی گئی، متعدد ریلوے پلوں کی مدت معیاد پوری ہوچکی ہے مگر حکومت ان پر کوئی توجہ نہیں دے رہی اس کے علاوہ ملک بھر میں ہزاروں ایسے پوائنٹس موجود ہیں جہاں یا تو پھاٹک نہیں اوریا پھر پھاٹک والا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے خوفناک حادثات رونما ہوتے ہیں۔

  • کراچی:بس اور واٹر ٹینکر  کی ٹکر سے کمسن بچی سمیت 3 جاں بحق

    کراچی:بس اور واٹر ٹینکر کی ٹکر سے کمسن بچی سمیت 3 جاں بحق

    کراچی کے علاقے قائد آباد گل احمد چورنگی کے قریب مسافر کوچ ڈرائیور سے بے قابو ہو کر الٹ گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ خاتون مسافر زخمی ہوگئی –

    تفصیلات کے مطابق قائد آباد کے علاقے لانڈھی گل احمد چورنگی کے قریب مسافر کوچ الٹ گئی ، حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو رضا کار موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا تاہم دو افراد راستے میں دم توڑ گئے۔

    ہیڈ محرر تھانہ قائد آباد علی نواز نے بتایا کہ الیاس کوچ ڈرائیور سے بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے ٹکرا کر الٹ گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص اس کے نیچے دب کر جاں بحق ہوا جس کی شناخت نذیر کے نام سے کی گئی جبکہ جاں بحق ہونے والا دوسرا شخص کوچ کا مسافر تھا حادثے میں امیرین نامی خاتون زخمی ہوئی انہوں نے بتایا کہ کوچ کا ڈرائیور موقع سے غائب ہیں جسے تلاش کیا جا رہا ہے۔

    چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے دوسرے شخص کو 45 سالہ سلیم کے نام سے شناخت کیا گیا ہے جبکہ زخمی خاتون کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دریں اثنا جیکسن کے علاقے کیماڑی مسان چوک گلی نمبر 4 بلاک 5 میں ٹریفک حادثے میں کمسن بچی جاں بحق ہوگئی جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لیجائی گئی ۔

    ایس ایچ او جیکسن عنایت اللہ مروت نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت ڈھائی سالہ نبیحہ دختر جہانزیب کے نام سے کی گئی جبکہ حادثہ گلی میں چھوٹا واٹر ٹینکر ریورس ہوتے ہوئے اس کی ٹکر سے پیش آیا جس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس نے واٹر ٹینکر قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا ہے پولیس کو ڈرائیور کے حوالے سے معلومات حاصل ہوئی ہیں جس کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

  • کراچی: ٹریفک پولیس اہلکار نے دوران ڈیوٹی خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی

    کراچی: ٹریفک پولیس اہلکار نے دوران ڈیوٹی خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی

    کراچی: سول لائنز کے علاقے ڈاکٹر ضیاء الدین احمد خان روڈ پر ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔

    ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل نواز ندیم قریشی نے دوران ڈیوٹی اپنے سر پر گولی ماری اہلکار کی ڈیوٹی ضیاء الدین روڈ پر تھی اور وہ پی آئی بی کالونی کے علاقے نفیس آباد کا رہائشی تھا واقعے کے بعد لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ اتفاقیہ گولی چلی ہے، تاہم سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ساؤتھ کا کہنا ہے کہ معاملے کو چیک کیا جارہا ہے اور جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جارہی ہے۔

  • ممبئی ، ہائی پروفائل جسم فروشی کا اڈہ بے نقاب، دو اداکارائیں ہوٹل سےگرفتار

    ممبئی ، ہائی پروفائل جسم فروشی کا اڈہ بے نقاب، دو اداکارائیں ہوٹل سےگرفتار

    ممبئی: بھارت کے شہر ممبئی میں پولیس نے ایک ہوٹل پر چھاپہ مار کر مبینہ ہائی پروفائل جسم فروشی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    کارروائی کے دوران فلم انڈسٹری سے وابستہ دو خواتین کو ہوٹل کے ایک کمرے سے برآمد کیا گیا، جبکہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم فلمی دنیا میں میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کام کرتا تھا اور اسی حیثیت سے اپنے روابط کو مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔پولیس حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔ اطلاع موصول ہونے کے بعد خصوصی ٹیم نے منصوبہ بندی کے ساتھ ممبئی کے گرگاؤں (گوریگاؤں) علاقے میں واقع ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا، جہاں ایک کمرے میں دو خواتین موجود تھیں۔ ابتدائی طور پر وہ کسی شوٹنگ یا نجی تقریب کے لیے تیار دکھائی دے رہی تھیں، تاہم پولیس کی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر جسم فروشی کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔تحقیقات کے مطابق برآمد ہونے والی خواتین میں سے ایک مراٹھی فلموں کی اداکارہ بتائی جاتی ہے، جبکہ دوسری خاتون بنگالی فلموں میں کام کر چکی ہے اور چند بالی ووڈ فلموں میں مختصر کردار بھی ادا کر چکی ہے۔ پولیس نے دونوں خواتین کو وہاں سے نکال کر مزید کارروائی کے لیے تحویل میں لیا، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم فلمی صنعت سے وابستہ ہونے کے باعث متعدد فنکاروں اور ماڈلز سے رابطے میں تھا۔ تفتیشی حکام کا الزام ہے کہ وہ انہی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر خواتین کو گاہکوں تک پہنچانے کا انتظام کرتا تھا اور ایک منظم نیٹ ورک چلا رہا تھا۔حکام کے مطابق ملزم سے تفتیش جاری ہے اور اس کے موبائل فون، کال ریکارڈ، چیٹ ہسٹری، بینک لین دین اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس مبینہ ریکیٹ میں مزید کون کون افراد شامل تھے اور یہ نیٹ ورک کتنے عرصے سے سرگرم تھا۔پولیس نے بتایا کہ چھاپے سے قبل پورے آپریشن کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تاکہ کسی بھی مشتبہ شخص کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ تفتیشی ٹیم اب اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ کارروائیاں صرف ایک ہوٹل تک محدود تھیں یا شہر کے دیگر مقامات پر بھی اسی نوعیت کی سرگرمیاں جاری تھیں۔

    حکام نے کہا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد اضافی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں کسی بھی شخص کو اس وقت تک مجرم قرار دینے سے گریز کیا ہے جب تک عدالت میں الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔

  • مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی،  مجھے تھپڑ مارے ،متعدد بار زیادتی کی گئی، غیر ملکی خاتون کا بیان آ گیا

    مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی، مجھے تھپڑ مارے ،متعدد بار زیادتی کی گئی، غیر ملکی خاتون کا بیان آ گیا

    لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے کیس میں غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے بیان کا کچھ حصہ منظرِ عام پر آ گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میری عمر 40 سال ہے اور میں اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہوں اور حلف لے کر اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہوں،غیر ملکی خاتون کا کہنا ہے کہ میری کہانی ویسی ہی ہے جیسے اسٹیفنی نے بتایا، اس گھر میں قیام کے دوران میرا تجربہ مختلف تھا، پہلی رات 4 لوگ اسلحے کے ساتھ آئے اور ہمیں باندھ دیا، ایک شخص جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے، اُس نے میرے جسم کے مخصوص حصوں کو چھوا، انہوں نے میرے چہرے پر متعدد گھونسے مارے، رضا ڈار آیا اور اس نے مجھ سے کمپیوٹر اور پیسوں کے بارے میں پوچھا،میں نے بتایا دونوں چیزیں سبز بیگ میں پڑی ہوئی ہیں، اس دوران اسٹیفنی کو واپس لایا گیا اور ہم دونوں سے پاس ورڈ اور کمپیوٹر کے بارے میں پوچھتے رہے، انہوں نے میرے سر پر بہت زور سے پسٹل کا بٹ مارا،وہاں ایک اور شخص موجود تھا جو بہت اچھی انگلش بول رہا تھا جس سے میں نے پوچھا کہ کیا تم لوگ ہمیں مار دو گے، جس پر اس نے کہا کہ اگر تم نے ہمیں پیسے نہ دیے تو زندہ نہیں جاؤ گی۔
    کچھ دیر بعد یہ شخص نیچے چلا گیا اور 3 لوگ بیڈ روم میں آ گئے، ایک بڑی عمر کا شخص رائفل کے ساتھ تھا جس نے 2 لوگوں کو میرے پاس رکنے کا کہا، وہ صرف اردو بول رہے تھے اور زور زور سے ہنس رہے تھے۔

    غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کے مطابق انہوں نے مجھے جنسی تعلق کا کہا جس کا میں نے متعدد بار انکار کیا، مگر کالے کپڑوں میں ملبوس شخص مجھے دوسرے فلور پر لے گیا اور مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی، اس نے مجھے تھپڑ مارے اور منہ بند کرنے کا کہا،میرے ساتھ متعدد بار زیادتی کی گئی، میرے شور مچانے پر وہ رک گیا اور مجھے دوبارہ کپڑے پہنا دیے اور مجھے دوبارہ اس کمرے میں لے جایا گیا جہاں دیگر لوگ موجود تھے۔