Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • اوکاڑہ: پولیس کا بڑا کارنامہ، 35 لاکھ مالیت کے 71 چوری شدہ موبائل فونز برآمد

    اوکاڑہ: پولیس کا بڑا کارنامہ، 35 لاکھ مالیت کے 71 چوری شدہ موبائل فونز برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار،ملک ظفر)ڈسٹرکٹ پولیس اوکاڑہ کی آئی ٹی ونگ نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر 35 لاکھ روپے مالیت کے 71 چوری اور ڈکیتی شدہ موبائل فونز برآمد کر کے ان کے اصل مالکان کے حوالے کر دیے۔

    اس سلسلے میں ڈی پی او آفس کے کمیونٹی لائنزون سینٹر میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) راشد ہدایت نے خود شہریوں کو ان کے موبائل فونز واپس کیے۔ اس موقع پر شہریوں نے پولیس کی اس شاندار کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا اور اوکاڑہ پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈی پی او راشد ہدایت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست عوام کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی ونگ کی ٹیم اور انچارج نور صمند ناہرہ کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں شاباش دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رہیں گی۔

  • پنڈی بھٹیاں : ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 5 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق

    پنڈی بھٹیاں : ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 5 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق

    پنڈی بھٹیاں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے خاتون ٹیچر اور پانچ بچوں سمیت 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ سکھیکی منڈی کے محلہ فاروق اعظم میں پیش آیا، جہاں ایک رہائشی مکان میں ٹیوشن کلاسز جاری تھیں، ماں اور بیٹا بچوں کو پڑھا رہے تھے کہ اسی دوران مکان کی چھت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں وہ اور کئی طالب علم ملبے تلے دب گئے،واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور متاثرین کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا، جہاں متعدد افراد کی اموات کی تصدیق کی گئی۔

    حادثے میں ٹیچر، ان کا بیٹا اور 5 طالب علم جاں بحق ہوئے واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حافظ آباد، عاطف نذیر موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیاڈی پی او نے ریسکیو اداروں کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جائے اور ملبہ ہٹانے کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائےانہوں نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت و ہمدردی بھی کی۔

    شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا تعطل سابق حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، رانا ثنااللہ

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد ابتدائی طور پر 3 طلبہ کی اموات رپورٹ ہوئیں، تاہم زخمیوں میں سے مزید افراد دورانِ علاج دم توڑ گئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 7 ہو گئی، جن میں ٹیچر اور ان کا بیٹا بھی شامل ہیں،ریسکیو حکام نے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت بھی جاری کی، جن میں 60 سالہ سرور بی بی، 9 سالہ عبدالرحمٰن، 5 سالہ عمر، 4 سالہ روہان اور 8 سالہ ریحان شامل ہیں۔

    گوجرانوالہ:ملازم کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر لواحقین کا احتجاج، حافظ آباد روڈ بلاک

  • گوجرانوالہ:ملازم کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر لواحقین کا احتجاج، حافظ آباد روڈ بلاک

    گوجرانوالہ:ملازم کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر لواحقین کا احتجاج، حافظ آباد روڈ بلاک

    گوجرانوالہ (نامہ نگار،محمدرمضان نوشاہی) گوجرانوالہ کے علاقہ قلعہ دیدار سنگھ میں جنرل سٹور کے مالک کے تشدد سے ایک ملازم کی ہلاکت کے بعد لواحقین نے مقدمہ درج نہ ہونے پر نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ شدید غم و غصے میں مبتلا مظاہرین نے حافظ آباد روڈ دونوں اطراف سے بند کر دی اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

    احتجاج کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا جب مظاہرین میں شامل خواتین سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے ایک شخص کو مظاہرین نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم، مقامی ڈی ایس پی سرکل اور پولیس نے بروقت مداخلت کر کے ملزم کو مظاہرین کے ہتھے سے چھڑوا لیا۔

    تھانہ لدھیوالہ پولیس کی جانب سے قتل کا مقدمہ درج کرنے کی یقین دہانی کے بعد لواحقین نے احتجاج ختم کر دیا اور ٹریفک کی روانی بحال ہو سکی۔

  • گھوٹکی:قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چاچڑ برادری کا دھرنا، قومی شاہراہ بند

    گھوٹکی:قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چاچڑ برادری کا دھرنا، قومی شاہراہ بند

    گھوٹکی (نامہ نگار،مشتاق علی لغاری) گھوٹکی میں چاچڑ برادری نے اپنے مقتول نوجوانوں کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کے حصول کے لیے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ دھرنے کی وجہ سے ٹریفک مکمل طور پر رک گئی اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    مظاہرین نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی۔

    پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے قاتلوں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے اور قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بحال ہوئی۔

  • تنگوانی:دو قبائل میں فائرنگ، ایک شخص قتل، دوسرا زخمی

    تنگوانی:دو قبائل میں فائرنگ، ایک شخص قتل، دوسرا زخمی

    تنگوانی (نامہ نگارمنصوربلوچ) تنگوانی کے قریب تھانہ جمال کی حدود میں نندوانی اور جعفری قبائل کے درمیان راستے پر گزرنے کے تنازعے پر فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔

    واقعہ نواحی گاؤں میں پیش آیا جہاں معمولی بات پر جھگڑا شروع ہوا جو بڑھ کر فائرنگ تک پہنچ گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں راحب علی نندوانی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ عمران علی نندوانی شدید زخمی ہوئے۔

    تھانہ جمال کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتول اور زخمی کو سول ہسپتال منتقل کیا۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد مقتول کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔ اس واقعے کی اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔

    قتل ہونے والے راحب علی نندوانی کے گھر میں سوگ کا سماں ہے اور ان کے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔

  • 100کمسن بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عدالت میں سائلین کے تشدد کا سامنا

    100کمسن بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عدالت میں سائلین کے تشدد کا سامنا

    کراچی کے علاقے قیوم آباد میں کمسن بچیوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی عدالت میں پیشی کے موقع پر متاثرہ بچی کی والدہ اور عدالت آنے والے سائلین نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

    کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ملزم کو اعترافی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے عدالت میں پیش کیا تھا،عدالتی ذرائع کے مطابق ملزم کا اعترافی بیان ریکارڈ کرنے والے جج کی طبیعت ناساز ہونے پر عدالت نے سماعت میں وقفہ کیا،احاطہ عدالت میں متاثرہ بچی کی والدہ نے ملزم پر تشدد کیا جبکہ عدالت آنے والے سائلین نے بھی ملزم کو مارا پیٹا جس سے ملزم کی حالت بگڑ گئی، جس کے بعد پولیس نے ملزم کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا،ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔ ملزم کے خلاف 7 مقدمات درج ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل کراچی کی مقامی عدالت میں 100 سے زائد کمسن بچوں سے زیادتی کے کیس کی سماعت کے دوران متاثرہ 4 بچیوں نے جج کے روبرو ملزم شبیر کو شناخت کرلیا اور جج کے سامنے اپنا 164 کا بیان قلمبند کروا دیا تھا،ملزم کو قیوم آباد سی ایریا سے 11 ستمبر کو قبل اہل علاقہ نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا، ملزم کے موبائل فون سے 300 سے زائد بچوں اور بچیوں کی نازیبا ویڈیوز ملی تھیں۔

    سونے کی قیمت نئی بلند سطح پر پہنچ گئی

    پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران نابالغ لڑکیوں اور لڑکوں کا ریپ کرنے اور اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز بنانے کا اعتراف کیا،پولیس نے اس کے قبضے سے ایک موبائل فون برآمد کیا ہے جس میں اس کے کمرے میں 8 سے 12 سال کی عمر کی نابالغ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی/جنسی زیادتی کی سیکڑوں ویڈیوز موجود ہیں۔

    دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ وہ سینکڑوں نابالغ لڑکیوں کو چند سو روپے دے کر بہلاتا تھا، اس نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ وہ کمسن بچیوں کو اپنے کمرے میں لاتا تھا جہاں وہ اکیلا رہتا تھا اور قیوم آباد کے سی-ایریا میں اپنے کمرے میں تقریباً 100 نابالغ لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا اور ان سب کی فلم بندی کی۔

    سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

  • اسلام آباد:مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افغان گروہ کے 5 ارکان گرفتار

    اسلام آباد:مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افغان گروہ کے 5 ارکان گرفتار

    تھانہ کھنہ پولیس کی بڑی کارروائی میں ہراسمنٹ ، سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش، منشیات فروشی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث منظم افغانی گروہ کے پانچ ارکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضہ سے مختلف بور کے پانچ عدد پستول اور آئس برامد ہوئے ہیں،گرفتار ملزمان کی شناخت ابراہیم، شاہد خان ، محمد ابراہیم خوشحال اور عین الحق کے ناموں سے ہوئی ہے،گرفتار ملزمان کےخلاف متعدد مقدمات درج ہیں جبکہ گروہ نے کم عمر لڑکوں کو مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل کرنے کا بھی انکشاف کیا۔

    ڈی آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے جبکہ منظم اور متحرک گینگز کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔

    آئی لو محمد کا بورڈ لگانے پر بھارت میں مقدمہ،مسلمان سراپا احتجاج

    پشاور ہائیکورٹ کی ہدایت پر منشیات کے مقدمات احتساب عدالتوں کو منتقل

    پرتگال بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر تیار، برازیل کابھی،اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام

  • لاہور پولیس سے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی روش ختم، ایک اور مثال قائم

    لاہور پولیس سے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی روش ختم، ایک اور مثال قائم

    لاہور پولیس سے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی روش ختم، ایک اور مثال قائم کر دی

    اغواء کی وادات میں ملوث پولیس اہلکاروں کی نشاندہی 24 گھنٹے میں مکمل،ایک ملزم گرفتار، باقی ملزمان کی تلاش کے لیے مسلسل چھاپے جاری ہیں، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق 17 ستمبر کو ہونے والی واردات کا گزشتہ روز مقدمہ درج ہوا تھا،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعہ کا نوٹس لیا تھا،ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی کینٹ قاضی علی رضا کی سربراہی میں سپیشل ٹیم تشکیل دی،مقدمہ میں کہا گیا کہ شہری محمد ندیم کے ساتھ میڈیکل سکیم سے نکلتے ہوئے واردات ہوئی،وردی میں ملبوس اہلکاروں نے شہری کو اغواء کر کے 40 لاکھ تاوان وصول کیا، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق گرفتار ملزم فاروق الحسن کانسٹیبل پولیس لائنز میں تعینات تھا، مفرور ملزمان کانسٹیبل شاہد اور کانسٹیبل آصف کی تلاش جاری ہے،

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ مجرم وردی میں ہو کسی بھی لباس میں، ٹھکانہ جیل ہی ہے، لاہور پولیس میں جزا کے ساتھ ساتھ سزا کا بھی سخت نظام ہے، لاہور پولیس شہریوں کی محافظ، ایک ڈسپلن فورس ہے،لاہور پولیس میں قانون اور ضابطہ خلاف ورزی کی ہرگز گنجائش نہیں،قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سخت سزا کے لیے تیار رہیں،

  • سات سالہ بچی کی قبر کی بے حرمتی کرنے والا گرفتار

    سات سالہ بچی کی قبر کی بے حرمتی کرنے والا گرفتار

    دھمیال کے علاقہ میں 7 سالہ بچی کی قبر کے قریب سے کفن ملنے کا واقعہ،دھمیال پولیس کی اہم کارروائی،قبر کی بیحرمتی کرنے والا شخص گرفتار کر لیا گیا

    ملزم نے قبر کی بیحرمتی کی تھی، پولیس کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے جادو ٹونے کے لئے بچی کی قبر کو کھودا اور پھر دوبارہ قبر تیار کی،واقعہ کی اطلاع پر پولیس نے فوری رسپانڈ کرتے ہوئے قبر کشائی کروائی تھی،بظاہر نعش کی بیحرمتی کے شواہد سامنے نہیں آئے تاہم فرانزک رپورٹس کی روشنی میں حتمی تعین ہو سکے گا،قبر کشائی کے بعد فرانزک شواہد حاصل کئے گئے تھے، ملزم کی گرفتاری ایک چیلنج تھا، جس کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں،پولیس نے انتھک محنت سے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس ذرائع استعمال کر کے ملزم کو گرفتار کیا،فرانزک رپورٹس اور تفتیش کی روشنی میں ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،

  • بااثر وڈیرے کے تشدد کا شکار اونٹنی علاج کیلئے کراچی منتقل

    بااثر وڈیرے کے تشدد کا شکار اونٹنی علاج کیلئے کراچی منتقل

    سندھ کے علاقے صالح پٹ میں مبینہ طور پر زمیندار نے اونٹ کے بچے کی ٹانگ کاٹ دی، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں،جبکہ فصل کے نقصان پر بدترین تشدد کا شکار اونٹنی کو علاج کیلئے کراچی روانہ کردیا گیا۔

    چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کے مطابق ابتدائی علاج کے بعد اونٹنی کو فوری کراچی روانہ کیا گیا ہے ،گزشتہ روز سکھر کی تحصیل صالح پٹ میں کھیت میں گھس کر پانی پینے پر بااثر وڈیرے نے مبینہ طور پر اونٹنی کی ٹانگ توڑ دی تھی۔

    اونٹنی کے مالک کے مطابق کھیت میں گھسنے پر زمیندار نے اونٹنی کو ٹریکٹر سے باندھ کر گھسیٹا، تشدد کے بعد اونٹنی کی ٹانگ توڑ دی اور منہ پر بھی ڈنڈے مارے گئے زخمی اونٹنی کا علاج کرانے اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے انکار کر دیا۔

    بھارت بیانیے کی جنگ بھی ہار گیا تھا، بھارتی اینکر کا اعتراف

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صالح پٹ میں اونٹنی کی ٹانگ توڑنے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ جانور کے ساتھ اس طرح کا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا،وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر کمیل شاہ کو اونٹنی کا علاج کرانے کی ہدایت دی، سید کمیل شاہ نے اونٹنی کے مالک سے رابطہ کرتے ہوئے علاج کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے کے بعد پولیس نے اونٹنی کے مالک کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کرلیاپولیس نے بتایا کہ مقدمے میں نامزد 3 ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ دیگر 2 ملزمان کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جار ہے ہیں، زخمی اونٹنی کو علاج کے لیے کراچی روانہ کر دیا گیا ہے، ابتدائی علاج کے بعد اونٹنی کو فوری کراچی بھیجا گیا۔

    بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہنے کا امکان

    گزشتہ برس کیمیٰ نامی اونٹ کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، جس کی ٹانگ سانگھڑ میں ایک زمیندار نے کاٹ دی تھی کیونکہ وہ چرنے کے لیے اُس کے کھیت میں آئی تھی،اونٹنی تقریباً 8 ماہ کی تھی جب اس کی ایک اگلی ٹانگ کاٹ دی گئی۔ زمیندار نے الزام لگایا تھا کہ اونٹ اُس کے کھیت میں چرنے آئی تھی،متعلقہ کیس میں چھ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، جن میں زمیندار اور اُن کے ملازمین شامل تھے،سندھ حکومت اور مقامی سیاسی نمائندوں نے معاملے کا نوٹس لیا تھا اور اونٹنی کو بعد ازاں مصنوعی ٹانگ لگائی گئی تھی، جس سے وہ چلنے کے قابل بنی۔