کراچی میں ایک بے قابو کار حلوہ پوری کے اسٹال سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں اسٹال کے 4 ملازمین زخمی ہو گئے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آ گئی ہے، جس میں کار کے اسٹال سے ٹکرانے کا منظر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
Category: جرائم و حادثات

بے قابو کار کی حلوہ پوری کے اسٹال سے ٹکر، 4 ملازمین زخمی

نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ، نامعلوم مسلح افراد نے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین کو راکٹ سے نشانہ بنایا، جس سے ٹرین کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پولیس اور ریلوے ذرائع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کے اوقات میں ہوا، جب ٹرین گزشتہ پانچ دنوں سے اسی اسٹیشن پر کھڑی تھی راکٹ لگنے سے انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے، اور اب ٹرین کو لے جانے کے لیے دوسرا انجن بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، مگر ابھی تک متبادل انجن نہیں پہنچ سکا، اس حملے سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریلوے ٹریک اور سامان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
احمد وال ریلوے اسٹیشن نوشکی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے اہم لاجسٹک پوائنٹ ہے، جہاں سے سامان کی ترسیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہےاسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر ایک اہم پل کو نشانہ بنایا،جس سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہےیہ پل نوشکی اور دیگر اضلاع کو ملانے والا اہم راستہ ہے،اور اس کی تباہی سے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد فوری طور پر علاقے کی تلاشی شروع کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز نے احمد وال اور آس پاس کے علاقوں میں گشت بڑھا دی ہے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مسافروں اور تاجروں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایسی کارروائیوں سے سامان کی ترسیل اور روزمرہ زندگی پر اثر پڑ سکتا ہےسیکیورٹی فورسز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے، اور جلد ہی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گاتاہم،علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں کو روکا جا سکے۔

انسداد پتنگ بازی ایکٹ کے تحت کریک ڈاؤن ، 153 افراد گرفتار
لاہور: پنجاب پولیس کی جانب سے انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں 141 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 153 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، کارر وائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 22 ہزار 753 غیر منظور شدہ پتنگیں اور 570 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں لاہور میں غیر قانونی پتنگوں کے کاروبار میں ملوث 81 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2807 پتنگیں برآمد ہوئیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال صوبے میں دھاتی ڈور اور پتنگوں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث 4171 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے گرفتار افراد سے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پتنگیں اور 7985 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں،پتنگ بازوں، مینوفیکچررز اور پتنگیں فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پتنگ بازی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس
بھارت کے شہر غازی آباد میں تین بہنوں کی خودکشی کے بعد ملنے والے ایک نوٹ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کوریائی پاپ کلچر کی جنون کی حد تک دیوانی تھیں، ساتھ ہی نوٹ میں گھر کے دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات کے آثار بھی نمایاں ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں بہنوں کی عمریں 12، 14 اور 16 سال تھیں، جنہوں نے اپنی رہائشی عمارت کی نویں منزل سے کود کر جانیں دیں، واقعے کے پیچھے آن لائن کوریائی ڈرامے اور گیمز کے لیے شدید لگاؤ، گھر کے اندر شدید دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات بنیادی وجوہات تھیں۔
بچیوں کی جانب سے لکھے گئے نوٹ میں خاندان سے متعدد بار معافی مانگی گئی اور یہ احساس ظاہر کیا گیا کہ ان کے احساسات اور جذبات کر ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں گیا اور وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھیں،کئی صفحات پر مشتمل نوٹ میں کورین میوزک گروپ ’کے-پاپ‘ اور کوریائی اداکاروں کے لیے شدت سے عقیدت کا ذکر تھا۔
نوٹ میں بچیوں نے لکھا تھا کہ ہمیں کوریائی پاپ موسیقی سے بے حد محبت تھی، ہمیں افسوس ہے کہ شاید آپ سمجھ نہیں پائے کہ ہمارے لیے یہ کتنا اہم تھا یہ ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا بعض اوقات لگتا تھا کہ یہ دنیا ہمارے لیے سب کچھ سے زیادہ معنی رکھتی ہے،نوٹ میں بہنوں نے اپنی کوریائی پسندیدگی اور کے-پاپ، ڈراماز، اور آن لائن گیمز جیسے ’دی بے بی ان یلو‘، ’ایول نن‘ اور دیگر کوریائی، چینی، تھائی اور جاپانی شوز کا ذکر بھی کیا۔
انہوں نے لکھا کہ کوریا ہماری زندگی ہے، آپ نے ہمیں ہماری زندگی چھوڑنے پر مجبور کیا، اب آپ نے اس کا ثبوت دیکھ لیا،نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ،کسی بھارتی سے شادی کرنے کا سوچنا ہمیں ذہنی دباؤ دیتا تھا، کیونکہ ہم اپنے آپ کو کوریائی دنیا کے قریب محسوس کرتے تھے، ہمیں توقع نہیں تھی کہ ہم اپنی زندگی کے بارے میں ایسے جذبات محسوس کریں گے معاف کرنا،ممی، پاپا۔‘
پولیس کے مطابق بہنیں کئی سال سے اسکول نہیں جارہی تھیں، اپنا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں، اور والد کی سخت تربیت سے دلبرداشتہ تھیں بہنوں نے سوشل میڈیا پر ایک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس پر خاصی تعداد میں فالورز جمع ہوئے اور انہوں نے علیزہ، ماریہ اور سِنڈی جیسے مغربی نام بھی رکھے تھے۔
والد چیتن کمار کو ان کے اکاؤنٹ کا تقریباً دس دن قبل معلوم ہوا، جس کے بعد انہوں نے اسے حذف کر دیا اور بچیوں کے فونز ضبط کر لیےاور انہیں کہا کہ وہ کوریائی مواد نہ دیکھیں اور آن لائن گیمز نہ کھیلیں، جس سے وہ شدید غصے اور ذہنی دباؤ میں تھیں کیونکہ انہیں وہ کوریائی شوز اور مواد دیکھنے کا موقع نہیں ملا جو وہ روزانہ فالو کرتی تھیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی آباد کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس، الوک پریادرش نے کہا کہ یہ بچیاں کے-ڈراماز کے زیرِ اثر تھیں انہوں نے اسکو ل چھوڑ دیا اور اپنا ہر وقت موبائل پر دیکھنے میں صرف کیا منگل کی رات، جب باقی خاندان سو گیا، یہ بچیاں اپنے کمرے میں بند ہو گئیں اور خودکشی کر لی۔
والد چیتن کمار نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹیاں کے-ڈراماز کی بہت بڑی مداح تھیں اور تینوں نے کم از کم تین سال سے اسکول جانا بند کر دیا تھا۔ سب سے بڑی بچی کلاس 7 میں، دیگر دو کلاس 6 اور 5 میں اسکول چھوڑ چکی تھیں،تین ماہ قبل بچیوں نے یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا تھا، جسے انہوں نے حذف کر دیا، جس سے بہنیں بہت دل شکستہ ہو گئیں۔
حادثے سے قبل منگل کی رات خاندان نے بھنڈی اور روٹی کا کھانا کھایا، اس کے بعد بچیاں کمرے میں بند ہو گئیں والد کے مطابق، تھوڑی دیر بعد چیخوں اور گرنے کی آوازیں آئیں، جس کے بعد وہ تینوں بہنیں مردہ حالت میں ملی اس واقعے کی تحقیقات میں کچھ تنازعات بھی سامنے ہیں ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو بہنیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کودی تھیں جبکہ تیسری الگ کھڑکی سے نیچے اتری۔
تاہم ایک گواہ نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا کہ اس نے دیکھا کہ دو بہنیں کودنے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ تیسری انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی، پولیس نے کہا کہ کیس میں خاندان کے مالی دباؤ، والد کے سخت ڈسپلن اور بچوں کی آن لائن کوریائی دنیا سے لگاؤ سب پہلو شامل ہیں اور تحقیقات جاری ہیں،ابتدائی طور پر پولیس اس کیس کو خودکشی کے طور پر دیکھ رہی ہے مگر ہر زاویے سے چھان بین کی جارہی ہے۔

فلپائن میں خوفناک آتشزدگی، ہزاروں افراد بے گھر
فلپائن کے جنوبی علاقے میں واقع ایک ساحلی جزیرے میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اور سرکاری نیوز ایجنسی پی این اے کے مطابق آگ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً رات 10 بجے بارنگائے لامیون میں بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ لگنے کے بعد تیز ہواؤں نے شعلوں کو مزید بھڑکایا، جس کے باعث آگ تیزی سے گنجان آباد علاقے میں پھیل گئی۔ متاثرہ بستی میں مکانات زیادہ تر لکڑی اور ہلکے تعمیراتی سامان سے بنے ہوئے تھے اور پانی پر کھمبوں کے سہارے قائم تھے، جس کی وجہ سے آگ نے انتہائی تیزی سے تباہی مچائی۔
چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس آگ کے نتیجے میں کم از کم 1000 مکانات مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بلند شعلے پورے جزیرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں جبکہ لوگ جان بچانے کے لیے زمین اور سمندر کے راستے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد کو بحفاظت نکال کر دو عارضی امدادی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بونگاؤ کی مقامی انتظامیہ نے بنگسامورو وزارتِ سماجی بہبود اور صوبائی حکومت کے تعاون سے فوری امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ متاثرین کو خوراک، پانی اور بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔
بونگاؤ رورل ہیلتھ یونٹ کی طبی ٹیمیں بھی امدادی مراکز میں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے میونسپل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ آفس کے مطابق خوش قسمتی سے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد لکڑی کے فٹ برج آگ کی نذر ہو گئے جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا رہا۔
فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کا اعلان بدھ کی صبح تقریباً 2 بجے کیا گیا۔ واقعے کی وجوہات جاننے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ٹھٹھہ و مکلی میں بند آر او فلٹر پلانٹس پر صوبائی محتسب سندھ کا سخت نوٹس، رپورٹ طلب
ٹھٹھہ (بلاول سموں):ٹھٹھہ اور مکلی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے آر او فلٹر پلانٹس کے طویل عرصے سے بند پڑے ہونے، مبینہ نااہلی اور بدانتظامی کے خلاف صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ نے سخت نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ محکمے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یہ نوٹس عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے نائب صدر ممتاز علی سمیجو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر صوبائی محتسب سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر ٹھٹھہ ہارون احمد خان کی ہدایت پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ ٹھٹھہ کو جاری کیا گیا ہے۔
نوٹس کے متن کے مطابق شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مکلی سمیت ضلع ٹھٹھہ میں قائم تقریباً 62 آر او فلٹر پلانٹس میں سے اکثریت مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، جس کے باعث شہری صاف پینے کے پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شکایت میں خاص طور پر بھٹی مسجد کے قریب ناریجا گاؤں مکلی، درگاہ حضرت شاہ ابراہیم شاہ جیلانی ٹھٹھہ، درگاہ مخدوم آدم نقشبندی ٹھٹوی مکلی اور گاؤں رسول بخش بروہی مکلی میں قائم آر او فلٹر پلانٹس کی بندش کا ذکر کیا گیا ہے، جو گزشتہ کئی مہینوں بلکہ برسوں سے غیر فعال پڑے ہیں۔
صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے جاری نوٹس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 23 فروری 2026 تک اپنی تفصیلی اور جامع رپورٹ پیش کرے، بصورتِ دیگر محتسب ایکٹ 1991 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کی عدم تعمیل یا رپورٹ پیش نہ کرنے کی صورت میں صوبائی محتسب سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر کو ہائی کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہیں، جن کے تحت طلبی، تحقیقات اور توہینِ عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بند پڑے آر او فلٹر پلانٹس جلد از جلد فعال کیے جائیں گے اور ذمہ دار افسران کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ عوام کو صاف پینے کے پانی کی سہولت میسر آ سکے۔

مکلی بائی پاس پر ٹریفک حادثہ، ایک راہگیر جاں بحق
ٹھٹھہ (باغی ٹی ویڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں):مکلی بائی پاس پر تیز رفتار مزدا گاڑی کی ٹکر سے ایک راہگیر جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے شخص کا تعلق تھر سے تھا اور اس کی شناخت ٹھاکر کے نام سے ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مذکورہ شخص سڑک عبور کر رہا تھا کہ تیز رفتار مزدا گاڑی نے اسے زوردار ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر سول اسپتال مکلی منتقل کر دیا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق شخص کی جیب سے ضروری ذاتی سامان کے علاوہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے نقد رقم بھی برآمد ہوئی ہے، جبکہ حادثے میں ملوث مزدا گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

خانپور مہر: BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی و فائرنگ کے خلاف احتجاج
میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) خانپور مہر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعے کے خلاف آل سندھ مہر فاؤنڈیشن اور سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا) کے تحت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرہ آل سندھ مہر فاؤنڈیشن کے رہنماؤں ایڈووکیٹ عرض آزاد مہر، ایاز مہر، ریاض احمد مہر، عبدالقیوم مہر اور دیگر کی قیادت میں تحصیل اسپتال کے سامنے بائی پاس روڈ پر کیا گیا، جہاں مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے پولیس کی مبینہ غفلت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
مظاہرین کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل گھوٹکی اے سیکشن تھانے کی حدود مسو کلوڑ کے قریب مسلح ملزمان نے BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے 38 لاکھ روپے لوٹ لیے اور مزاحمت کرنے پر انہیں گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا۔ رہنماؤں نے بتایا کہ زخمی BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر تاحال تشویشناک حالت میں سکھر کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود اے سیکشن گھوٹکی پولیس نہ تو BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی لوٹی گئی رقم برآمد کی جا سکی ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی اور فائرنگ میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے اور زخمی کو انصاف فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار
گوجرانوالہ: ایف آئی اے نے کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار کر لیا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق گروہ 6 افراد پر مشتمل تھا جس کے 2 افراد کمبوڈیا میں مقیم تھے پاکستان میں مقیم 4 ملزمان دیگر نوجوانوں کو جال پھنساتے تھے، ملزمان سوشل میڈیا پر کمبوڈیا میں کال سینٹر پر جاب کا اشتہار دیتے تھے، اشتہار دیکھ کر سادہ لوح نوجوان ملزمان سے رابطہ کرتے تھے ملزمان پڑھے لکھے اور کمپیوٹر اسکلز والے لوگوں کو ٹارگٹ کرتے تھے، کمبوڈیا میں مقیم ملزمان فی کس 2 ہزار ڈالر لیتے تھے پاکستانیوں کو قیدی بناکر آن لائن اسکیمنگ کا کام کروایا جاتا تھا، کام سے انکار کرنے والوں پر تشدد بھی کیا جاتا تھا، یہ گروہ اب تک 100 سے زائد پاکستانیوں کو کمبوڈیا بھیج چکا تھا۔

تین بہنوں کی نویں منزل سے کود کر خودکشی،گیمنگ ایپلیکیشن سے ٹاسک پر شبہ
بھارتی ریاست اترپردیش کے شہرغازی آباد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں 3 کمسن بہنوں نے مبینہ طور پر آن لائن گیمنگ کی لت اور والدین کی جانب سے مخالفت کے بعد 9 ویں منزل سے کود کر اجتماعی خودکشی کر لی۔
واقعے کے بعد بچیوں کا 8 صفحات پر مشتمل ایک نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے والدین سے معذرت کرتے ہوئے اپنی گیمنگ سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے،نوٹ ایک جیب میں رکھی ڈائری میں تحریر کیا گیا تھا جو ہندی اور انگریزی میں لکھا گیا ہے، بچیوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پوری ڈائری ضرور پڑھیں کیونکہ اس میں لکھی ہر بات سچ ہے-
نوٹ میں لکھا تھا کہ اس ڈائری میں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب پڑھ لو کیونکہ یہ سب سچ ہے، ابھی پڑھو! مجھے بہت افسوس ہے ممی پاپا سوری، اس جملے کے ساتھ ایک روتا ہوا ایموجی بھی بنایا گیا تھا،یہ نوٹ پولیس نے تفتیش کے لیے اپنے قبضے میں لے لیا ہے بچیوں کے کمرے کی دیوار پر بھی ایک جملہ لکھا ہوا ملا کہ ’میں بہت، بہت اکیلی ہوں-
انڈیا ٹوڈے کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 16 سالہ نشیکا، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں اور ایک کوریائی ٹاسک بیسڈ آن لائن گیمنگ ایپ کی عادی تھیں،جس کی لت انہیں کورونا وبا کے دوران لگی۔
والد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی بیٹیاں کھیل کے آخری مرحلے پر تھیں، مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا وہ آخری ٹاسک مکمل کر رہی تھیں اس گیم میں کل 50 ٹاسک تھے، اور میری 14 سالہ بیٹی اس کھیل کی لیڈر تھی، فیصلے کرتی تھی کہ کون سا کمانڈ مکمل کرنا ہے وہ ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں اور کسی کو شک نہیں ہونے دیا کہ وہ ایسا کر رہی ہیں،والد نے شک ظاہر کیا کہ بچیوں نے کھیل کے ایک ٹاسک کے تحت بالکونی سے چھلانگ لگانے کے لیے چھوٹی ٹو اسٹیپ سیڑھی استعمال کی ہے-
ان کی گیم سے اس حد تک وابستگی تھی کہ انہوں نے اپنے لیے کوریائی نام بھی رکھے ہوئے تھے اور گیم میں دیے گئے ٹاسک بھی پورے کرتی تھیں نوٹ میں اس بات کے واضح شواہد ملے ہیں نوٹ میں لکھا تھا ’ہم کوریا کو چھوڑ نہیں سکتے، کوریا ہی ہماری زندگی ہے آپ ہمیں آزاد نہیں کر سکتے، ہم اپنی زندگی ختم کر رہے ہیں۔
والد چیتن کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس گیم کے بارے میں علم نہیں تھا، اگر معلوم ہوتا تو وہ بچیوں کو ہرگز کھیلنے کی اجازت نہ دیتےجو کچھ ہوا وہ انتہائی خوفناک ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا کسی اور بچے کے ساتھ ہو، میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کو ویڈیو گیمز سے دور رکھیں۔‘
بھارتی میڈیا کے مطابق، رہائشیوں نے رات کے سناٹے میں زور دار آواز سنی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو سیل کیا اور لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیں۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ اتُل کمار سنگھ کے مطابق، واقعہ رات 12 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا اور فوری کارروائی کے باوجود بچیوں کو زندہ نہیں بچایا جا سکا،پولیس نے یہ واضح کیا ہے کہ ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ خودکشی کا براہِ راست تعلق آن لائن گیمنگ سے تھا تفتیش میں خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بچیوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے سائبر ماہرین کو بھی اس معاملے میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ آن لائن ایپ کے استعما ل اور ڈیجیٹل تعاملات کی جانچ کی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر پولیس نمیش پٹیل کے مطابق کمزور تعلیمی کارکردگی اور مالی مسائل کے باعث بچیاں زیادہ تر گھر پر ہی رہتی تھیں حالیہ دنوں میں اہلِ خانہ نے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کردی تھیں، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ ملک بھر میں والدین اور نوجوانوں کے درمیان آن لائن سرگرمیوں اور ان کی ممکنہ خطرناک عادات کے بارے میں ایک مرتبہ پھر ایک فکری بحث کو جنم دیا ہےیہ اندوہ ناک حادثہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی بچوں اور نوجوانوں میں آن لائن گیمز کی لت یا خطرناک ٹاسکس کی وجہ سے المناک نتائج سامنے آ چکے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا میں موجود کچھ گیمز اور چیلنجز محض تفریح نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی صحت اور جان کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں، ان سے مسلسل مکالمہ کریں، اور انہیں ایسی آن لائن سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت آگاہی اور رہنمائی فراہم کریں۔









