Baaghi TV

Category: تعلیم

  • سرگودہا چند اوباشوں نے بچیوں کے سرکاری سکول کی دیوار گرا دی

    سرگودہا چند اوباشوں نے بچیوں کے سرکاری سکول کی دیوار گرا دی

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی ) نواحی گاؤں چک نمبر 42 جنوبی میں چند با اثر اوباشوں نے محمد رمضان ولد دین قوم راجپوت کی سربراہی میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی زیر تعمیر دیوار گرا دی
    تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں چک نمبر 42 جنوبی میں بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بچیوں کے سکول کی چار دیواری کا کام جاری تھا کہ 9 اور 10 محرم کی درمیانی شب کو سکول سے ملحقہ کالونی کے رہائشی محمد رمضان نے چند اوباشوں کے ساتھ مل کے سکول کی زیر تعمیر دیوار گرا دی اور بنیادیں مٹی سے بھر دیں سکول کمیٹی بھی معاملات حل کرانے میں ناکام ہو چکی ہے سکول انتہائی حساس ادارہ ہے اور کیٹیگری A میں شامل ہے سکول کی پرنسپل کی جانب سے ایس ایچ او تھانہ کڑانہ کو کار سرکار میں مداخلت کی درخواست بھی دی گئی ہے تاہم ابھی تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی سکول پرنسپل کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کرے.بچیوں کی بے پردگی کا مسئلہ ہے اس ماحول میں نصابی عمل شدید متاثر ہے

  • ملک بھر کی یونیورسٹیوں نے ریسرچ کے نام پر کروڑوں روپے اڑا دئیے۔

    ملک بھر کی یونیورسٹیوں نے ریسرچ کے نام پر کروڑوں روپے اڑا دئیے۔

    شہباز اکمل جندران۔

    باغی انویسٹی گیشن سیل۔

    ملک بھر کی یونیورسٹیوں نے ریسرچ کے نام پر کروڑوں روپے اڑا دئیے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو ریسرچ و تحقیق کے 2ہزار 5سو 73پراجیکٹس کے لیے 6ارب 77کروڑ روپے جاری کئے تاہم صرف 6سو 10پراجیکٹ ہی مکمل کئے جاسکے۔

    ملک میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیوں کی ناقص مینجمنٹ،کمزور چیک اینڈ بیلنس اور ناپختہ سپروئین کے باعث ریسرچ اور تحقیق کے پراجیکٹس ناکام اور تاخیر کا شکار ہونے لگے ہیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تحقیق اور ریسرچ کو فروغ دینے کے لیے نیشنل ریسرچ پروگرام فار یورنیوسٹیز (NRPU) کے تحت ملک بھر کی پرائیویٹ اور سرکاری یونیورسٹیوں کی ڈیمانڈ پر مجموعی طورپر2ہزار5سو73منصوبے شروع کئے اور ان پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے یونیورسٹیوں کو 6ارب 77کروڑ روپے جاری کئے گئے۔تاہم یونیورسٹیوں کی طرف سے محض 6سو 10پراجیکٹس ہی مکمل کئے جاسکے ہیں۔جبکہ بہت سے ر منصوبہ جات نامکمل ہیں۔اورمتعدد پراجیکٹس ناکام ہوچکے ہیں۔

    قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی پرائیویٹ اور سرکاری یونیورسٹیوں میں کامسٹیس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد کو 230پراجیکٹس کے لیے 59کروڑ روپے جاری ہوئے تاہم یونیورسٹی صرف 36پروگرام ہی مکمل کرسکی۔بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو 41پروگرامز کے لیے 9کروڑ روپے جاری ہوئے تاہم صرف 9پروگرام ہی مکمل کئے جاسکے۔گورنمنٹ کالج فیصل آباد کو 95پروگرامز کے لیے 16کروڑ روپے کی رقم جاری ہوئی تاہم صرف 2پراجیکٹ ہی مکمل کئے جاسکے۔انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کو 54پروگرامز کے لے 12کروڑ روپے جاری ہوئے تاہم یونیورسٹی نے صرف 12پراجیکٹ مکمل کئے۔خیبر پختونخواہ ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور کو 73منصوبہ جات کے لیے 15کروڑ روپے جاری ہوئے جبکہ صرف 33منصوبے ہی مکمل کئے جاسکے۔

    یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی لاہور کو 54پروگرامز کے لیے 21کروڑ روپے جاری ہوئے لیکن یونیورسٹی نے صرف 6منصوبے ہی مکمل کئے۔لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی کو 19پراجیکٹس کے لیے 5کروڑ روپے کی رقوم جاری ہوئیں۔لیکن صرف 6منصوبے ہی مکمل کئے جاسکے۔نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آ باد کو 147منصوبہ جات کی تکمیل کے لیے 31کروڑ روپے جاری ہوئے تاہم صرف 42پروگرامز ہی مکمل کئے جاسکے۔پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی اسلام آباد کو 188پروگرامز کے لیے 57کروڑ روپے جاری ہوئے لیکن یونیورسٹی صرف 60منصوبے مکمل کرسکی۔یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کو 268منصوبہ جات کے لیے 65کروڑ روپے جاری ہوئے تاہم صرف 85منصوبے ہی مکمل کئے جاسکے۔

    یونیورسٹی آف کراچی کو 227پروگرامز کے لیے 59کروڑ روپے جاری ہوئے تاہم صرف 80پروگرامز ہی مکمل کئے جاسکے۔یونیورسٹی آف سرگودھا کو 50منصوبہ جات کے لیے 15کروڑ روپے جاری ہوئے لیکن 8منصوبے مکمل کئے جاسکے۔پنجاب یونیورسٹی لاہور کو 118پروگرامز کی تکمیل کے لیے 32کروڑ روپے جاری کئے گئے لیکن صرف 30منصوبے ہی مکمل کئے جاسکے۔یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈاینیمل سائنسز لاہور کو 33پروگرامز کے لیے 4کروڑ روپے جاری کئے گئے لیکن یونیورسٹی صرف 4ہی پروگرام مکمل کرسکی۔یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کو 6منصوبہ جات کے لیے ایک کروڑ روپے جاری کئے گئے لیکن یونیورسٹی ایک پروگرام ہی مکمل کرسکی۔کنیرڈ کالج لاہور کو 2منصوبہ جات کے لیے ایک کروڑ روپے جاری کئے گئے لیکن کالج ایک بھی منصوبہ مکمل نہ کرسکا۔

    کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج یونیورسٹی کو 7منصوبہ جات کے لیے 90لاکھ روپے جاری کئے گئے لیکن کے ای محض ایک ہی پراجیکٹ مکمل کرسکی۔انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور کو 3منصوبہ جات کی تکمیل کے لیے 70لاکھ روپے جاری کئے گئے لیکن ایک بھی منصوبہ مکمل نہ کیا جاسکا۔اسی طرح گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو 31منصوبہ جات کی تکمیل کے لیے 7کروڑ روپے جاری کئے گئے لیکن جی سی یو صرف 9منصوبے ہی مکمل کرسکی۔

  • کیا تمھیں پیسے سے ہی محبت ہے ؟ غریبوں کی بے بسی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاو ، بچوں کو فیس کی بنیاد پر سکولوں سے نہ نکالا جائے :عدالت

    کیا تمھیں پیسے سے ہی محبت ہے ؟ غریبوں کی بے بسی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاو ، بچوں کو فیس کی بنیاد پر سکولوں سے نہ نکالا جائے :عدالت

    لاہور :کیا تمھیں پیسے سے ہی محبت ہے ؟ غریبوں کی بے بسی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاو ، بچوں کو فیس کی بنیاد پر سکولوں سے نہ نکالا جائے عدالت نے پرائیویٹ سکولوں کی اجارہ داری پر سخت ناراضگی کا اظہارکردیا ، عدالت نے مزید کہا کہ فیصلہ آنے تک فیسوں کی عدم ادائیگیوں پر بچوں کو اسکولوں سے نکالا نہ جائے،

    عدالت نے درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا،لاہور ہائی کورٹ میں نجی اسکولز میں اضافی فیس سے متعلق کیس کی سماعت والدین سکول فیسوں میں اضافے کیخلاف ہائیکورٹ میں پھٹ پڑے

    ہائیکورٹ میں بچوں کی فیسوں میں اضافہ کیخلاف کیس میں والدین بھی عدالتی کارروائی دیکھنے آئے، کیس کی سماعت کے بعد والدین نے حکومت کی جانب سے فیسوں میں اضافہ نہ روکنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔

    اس دوران عدالت کے احاطے میں‌ والدین نے مطالبہ کیاکہ حکومت سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پرائیویٹ سکولوں میں فیس وصول کروانے کے موثر اقدامات کرے۔

  • باغی ٹی وی کی خبر پر ایکشن!اساتذہ سے واش روم صاف کروانے والا ڈی ای او عہدے سے ہٹادیاگیا

    مظفرگڑھ میں سرکاری سکول کے اساتذہ سے واش رومز کی صفائی کرنے والے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو عہدے سے ہٹادیا گیا،اساتذہ سے واش رومز کی صفائی کرانے کی خبر باغی ٹی وی پر منگل کے روز چلی۔تھی.مظفرگڑھ کے گورنمنٹ پرائمری سکول چک روہاڑی میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مردانہ سجاد بھابھہ نے سکول کے اساتذہ سے نہ صرف گندے واش رومز صاف کرائے تھے بلکہ واش رومز صاف کرانے کی فوٹیج بھی بنائی گئی تھی.بعدازاں ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔منگل کو باغی ٹی وی پر خبر چلی تو وزیرتعلیم مراد راس کے نوٹس لینے کے بعد ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی بھی حرکت میں آگئی۔ڈپٹی ڈی ای او سجاد بھابھہ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیاگیا اور ان کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی بھی سفارش کی گئی.محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈی ای او سجاد بھابھہ کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا.

  • باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں لڑکے لڑکیوں کے اکٹھےگھومنے پر پابندی عائد

    باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں لڑکے لڑکیوں کے اکٹھےگھومنے پر پابندی عائد

    پشاور : تحریک انصاف کی صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی آنی شروع ہوگئی ہے اور اطلاعت ہیں کہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں لڑکے لڑکیوں کے اکٹھےگھومنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، یہ پابندی وائس چانسلر کی طرف سے حکم کے بعد عائد کی گئی

    پاکستان، ترکی، ملائیشیا کا ‘اسلاموفوبیا’ کا مقابلہ کرنے کیلئے انگریزی چینل شروع کرنے کا اعلان

    ذرائع کےمطابق کے پی حکومت کی طرف سے صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں اسلامی اقدار کی پاسداری کے حوالے سے انقلابی فیصلے کیے جارہے ہیں ، انہیں فیصلوں میں ایک فیصلہ یہ بھی ہےکہ سکول ، کالج اور یونیورسٹیز میں طلبا وطالبات تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر شخصی نشستوں اور مجلسوں میں اکٹھے بیٹھنے اور ادھر ادھر گھومنے پھرنے سے پرہیز کریں ،

    یاد رہے کہ چند دن قبل بھی کے پی حکومت کی طرف سے صوبے کے سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں‌ طالبات کو حجاب اوڑھنے کی نصیحت کی گئی تھی تاکہ اس دوران منفی ردعمل سے محفوظ رہ سکیں‌

  • موٹر سائیکل سے کار کیا ٹکرائی کہ دو طلباء تنظمیوں کی لڑائی بن گئی

    موٹر سائیکل سے کار کیا ٹکرائی کہ دو طلباء تنظمیوں کی لڑائی بن گئی

    لاہور : موٹرسائیکل کی ٹکرائی کہ دو طلباء تنظیموں کی لڑائی بن گئی ، اطلاعات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے فیصل آڈیٹوریم میں کشمیر کے مسئلے پر اہم کانفرنس کے سلسلے میں مہمان آرہے تھے تو اس دوران ایک کار ایک موٹرسائیکل سوار سے ٹکرا گئی ،بس اسی بات پر پھر بحث اور پھر لڑائی نے کشمیر کانفرنس کے ماحول کو بہت متاثر کیا ،

    ذرائع کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں تصادم گاڑی اور موٹر سائیکل تصادم کے بعد شروع ہوا۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر ڈنڈوں مکوں سے حملہ کیا گیا۔ ایک طالب علم زخمی بھی ہوا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔جھگڑے کے بعد پشتون کونسل نے وی سی آفس کے باہر مطالبات کی منظوری کے حق میں احتجاجی دھرنا دیا۔ انتظامیہ نے دھرنا دینے والے طلبہ کو تشدد کرنے والے طلبہ کے خلاف ایف آئی آراور انضباطی کارروائی کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔

  • پنجاب ٹیچرز یونین نے صوبائی وزیرتعلیم کو بہت بڑی دھمکی دے دی ،  اس دھمکی میں 36 ہزار لوگوں کا مستقبل بھی وابستہ ہے

    پنجاب ٹیچرز یونین نے صوبائی وزیرتعلیم کو بہت بڑی دھمکی دے دی ، اس دھمکی میں 36 ہزار لوگوں کا مستقبل بھی وابستہ ہے

    لاہور : پنجاب ٹیچرز یونین نے صوبائی وزیرتعلیم کو ایسی دھمکی دے دی کہ جس کے ساتھ 36 ہزار لوگوں کا مستقبل بھی وابستہ ہے، پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری نے احتجاج کی دھمکی دیدی۔یاد رہے کہ صوبائی وزیرتعلیم نے پنجاب کے 36 ہزار اور لاہور کے 527 پرائمری سکولوں میں خاکروب بھرتی کرنے کا وعدہ کیا تھا ،

    پنجاب بھر کے 36 ہزار پرائمری سکولوں میں خاکروب بھرتی کرنے کے حوالے سے صوبائی وزیرتعلیم نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد ہی بھرتی کرکے یہ کمی دور کردیں گے ، پورے صوبے میں تو دور کی بات ہے لاہور کے 527 پرائمری سکولوں کیلئے بھی خاکروب بھرتی نہ کیے جا سکے، پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری کاشف شہزاد نے صوبائی وزیرتعلیم سے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری کاشف شہزاد نےکہا کہ سکولوں میں خاکروب نہ ہونے سے طلبا صفائی کرنے پر مجبور ہیں، ناقص صفائی پر اساتذہ کیخلاف انتقامی کارروائی شروع کردی جاتی ہے, انہوں نے دھمکی دی ہے کہ خاکروب بھرتی نہ کیے گئے تو بھرپور احتجاج کریں گے۔سکول ایجوکیشن نے 2018 میں پرائمری سکولوں کیلئے خاکروب بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا تھا،

  • پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا ایک اور بلنڈر۔ دسویں کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں 2017کی بجائے 1998کی مردم شماری کے اعدادوشمارشامل کردیئے۔

    پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا ایک اور بلنڈر۔ دسویں کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں 2017کی بجائے 1998کی مردم شماری کے اعدادوشمارشامل کردیئے۔

    شہباز اکمل جندران۔

    باغی انویسٹی گیشن سیل۔

     

     

    پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا ایک اور بلنڈر۔ دسویں کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں 2017کی بجائے 1998کی مردم شماری کے اعدادوشمارشامل کردیئے۔

    ملک میں جولائی 2017میں تازہ مردم شماری کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔جس کے تحت آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے سوا پاکستان کی مجموعی آباد 21کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔تاہم پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے پروفیسر (ر) آفتاب احمد ڈار کے قلم سے دسویں جماعت کے لیے لکھی جانے والی مطالعہ پاکستان میں 1998کی مردم شماری کے اعداد وشمار بیان کئے گئے ہیں۔

    اور یہی نہیں بلکہ "آبادی، معاشرہ اور پاکستان کی ثقافت ” کے عنوان سے پورا باب نمبر 9ہی آبادی کے پرانے اور آوٹ ڈیٹیڈ اعدادشمار پر شامل کردیا ہے۔ جس سے طلبہ کنفیوژن کا شکار ہیں۔

    اس باب کے صفحہ 108پر 2013-14میں ہونے والے اکنامک سروے کے مطابق ملکی آبادی 18کروڑ بیان کی گئی ہے۔جبکہ صفحہ 109صفحہ 110،113اور 114میں 1998کی مردم شماری کو ملک کی آخری مردم شماری کے طورپر بیان کیا گیا ہے۔


    اور صفحہ 110پر 1998کی آخری مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 13کروڑ تھی۔آبادی کے متعلق غلط اعدادوشمار کی وجہ سے طلبہ کو ملکی وسائل،ان کی تقسیم،جغرافیائی عوامل،ملک میں آبادی کی افزائش،مخلوط آبادی،کم اور گنجان آبادی کے علاقوں، بڑھتے حجم کے شہروں،خوراک اور صنعتی ضروریات، انتخابی حلقہ جات،شرح خواندگی، جرائم اور بیروزگاری کی شرح،تعلیمی اداروں، روزگار کے مواقعوں، میں پاور اور شرح نمو کو سمجھنے میں ناصرف دشواری کا سامنا ہے بلکہ وہ کنفیوژڈ ہیں۔

    ُپنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ سال 2020-21کی کتاب میں یہ غلطیاں دور کرلی جائینگی۔

  • چارسدہ جابر پرنسپل نے طلباء کو کالج سے نکال دیا

    چارسدہ جابر پرنسپل نے طلباء کو کالج سے نکال دیا

    چارسدہ (نمائندہ باغی ٹی وی) گورمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ انتظامیہ یونیفام کی آڑ میں طلبہ کو بے جا تنگ کرنے سے باز آجائے طلباء کا کالج انتظامیہ کے خلاف احتجاج۔
    طلباء نے کالج گیٹ پر دھرنا دیا دھرنے کی قیادت ناظم اسلامی جمعیت طلبہ علاقہ کالجز برادر نسیم الرحمن نے کی، دھرنے میں چارسدہ کالج اور عبدالعلی خان ڈگری کالج کے کثیر تعداد میں طلبا نے شرکت کی ۔
    دھرنے میں ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کالج برادر پیر عامر اور معتمد کالج برادر اسحاق دیروی بھی موجود تھے۔

  • پرائیویٹ سکول اب اپنی مرضی سے فیسیں نہیں لے سکیں‌ گے ، حکومت کے سخت اقدامات

    پرائیویٹ سکول اب اپنی مرضی سے فیسیں نہیں لے سکیں‌ گے ، حکومت کے سخت اقدامات

    لاہور : اللہ اللہ کرکے اب بڑی مشکل سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی من مانیوں اور اجارہ داریوں پر حکومتی کنٹرول نظر آنا شروع ہوگیا ہے، اطلاعات کے مطابق پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسیں 2017ء پر منجمد کرنے کا حکم جاری، سکولز مالکان کو اضافہ شدہ فیسوں کی وصولی سے بھی روک دیا گیا ہے۔

    وفاقی وزارت تعلیم نے باقاعدہ طور پر مراسلے میں‌کہا ہے کہ نرسری جماعت سے لے کر اے لیول تک کی تعلیم دینے والے نجی سکولز اور کالجوں پر اس مراسلے کا اطلاق ہوگا۔ وزارت تعلیم نے نئے فیس سٹرکچر طے کرنے کا اختیار بھی پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹویشنز ریگولیٹری اتھارٹی کو سُپرد کر دیا ہے۔ یہ اتھارٹی ہر کلاس کے لیے الگ الگ نیا فیس سٹرکچر وضع کرے گی۔

    کوئی پرائیویٹ سکول بقایا جات کی مد میں طلباء سے فیسیں وصول نہیں کرے گا ، وزارت نے یہ مراسلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 13 ستبمر کے فیصلے کی روشنی میں جاری کیا ہے۔ وزارت تعلیم کے اعلامیے کے مطابق کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے جب تک فیسوں‌ کا نیا سٹرکچر منظور نہیں کیا جاتا تب تک پرائیویٹ تعلیمی ادارے 2017ء والی فیسیں وصول کرنے کے پاپند ہوں گے۔

    وفاقی حکومت کی طرف سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی سکول نے کسی طالب علم کو فیس کے معاملے پر سکول سے نکالا یا اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی تو محکمہ تعلیم سخت کارروائی کرے گا۔