Baaghi TV

Category: تعلیم

  • 10 سے 15 فیصد تک فیسوں میں اضافہ،پنجاب یونیورسٹی کے اقدام پر طالب علم پریشان

    10 سے 15 فیصد تک فیسوں میں اضافہ،پنجاب یونیورسٹی کے اقدام پر طالب علم پریشان

    لاہور:ملک میں مہنگائی کی لہر تعلیمی اداروں تک جا ہہنچی ،جس کی وجہ سے اب تعلیمی اداروں نے فیسوں میں بھی ہوشر با اصافہ کردیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی نے رجسٹریشن فیس، ڈگریوں کی ویری فکیشن فیس، داخلہ فیس اور امتحانی فیسوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ کر دیاہے ۔

    یونیورسٹی ذرائع کے مطابق بی اے، بی ایس سی، بی ایڈ اوربی کام کی فیسیوں میں 11 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا جبکہ ایم اے، ایم ایس سی، ایم ایس اورایم ایڈ کی فیسوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب فیسوں میں اضافہ سے طلبہ میں بے چینی پائی جاتی اور انہوں نے گورنر پنجاب سے فیسوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • سی ای او ایجوکیشن کا سرکاری گاڑی کا غیر قانونی استعمال،ویڈیو باغی ٹی وی کو موصول

    سی ای او ایجوکیشن کا سرکاری گاڑی کا غیر قانونی استعمال،ویڈیو باغی ٹی وی کو موصول

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )سی ای او ایجوکیشن کا سرکاری گاڑی کا غیر قانونی استعمال،پٹرول کی مد میں 6ماہ سے سرکاری خزانہ کو لاکھوں کا ٹیکہ لگا دیاویڈیو باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ،TA/DAاور غیر قانونی وزٹ ڈال کر بھی گھپلوں کا انکشاف،سومواروالے دن سیکرٹری ایجوکیشن کو حاضری رپورٹ بھی بوگس جانے لگی،ضلع چنیوٹ پولیس نے تیز رفتاری پر چالان کر دیا،ڈپٹی کمشنر،کمشنر سرگودھا ڈویثرن،سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب،وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق سی ای او ایجوکیشن سرگودھا ریاض قدیر بھٹی نے پی ٹی آئی حکومت کی کرپشن مکاؤ مہم کی دھجیاں بھکیر تے ہوئے پٹرول کی مد میں سرکاری خزانہ کو عرصہ 6ماہ میں لاکھوں کا چونا لگا چکے ہیں موصوف جب سے سی ای او ایجوکیشن سرگودھا تعینات ہوئے ہیں ہر ہفتہ کو سرکاری گاڑی نمبر SGP-950میں گاڑی کی ٹینکی بھروا کر اپنے ذاتی استعمال کے لئے گھر لے جاتے ہیں اور ہرسوموار کو واپس آجاتے ہیں جبکہ سوموار والے دن سیکرٹری ایجوکیشن کو حاضری رپورٹ بھی بوگس بھجوائی جاتی ہے جبکہ ان کی خاندانی فوتگی پر ڈپٹی ڈی ای او زنانہ کی سرکاری گاڑی بھی چا ر دن کے لئے مامو ں کانجن ان کے استعمال میں رہی موصوف ٹی اے ڈی کے لالچ میں سکولوں کے وزٹ بھی بوگس ڈالتے ہیں اور جب میانوالی سے سرگودھا ٹرانسفر ہو کر جوائن ہوئے تو انہوں نے فیملی شفٹ کے لئے 1لاکھ 15ہزار کا ٹی اے ڈی وصول کیا تھا حالانکہ ان کی فیملی بھی شفٹ نہ ہو ئی تھی موصوف ماموں کانجن کے رہائشی ہیں گزشتہ روز جب سرکاری گاڑی پر گھر جانے کے لئے نکلے تو ضلع چنیوٹ پولیس نے تیز رفتاری پر ان کا چالان کر دیاجس کی ویڈیو باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

  • پاکستانی بچوں کی سوچ شاہینوں جیسی میٹرک کے طالب علم نے اپنی تحریر سے سب کو خوش کردیا

    پاکستانی بچوں کی سوچ شاہینوں جیسی میٹرک کے طالب علم نے اپنی تحریر سے سب کو خوش کردیا

    ناکامیوں سے کم نہ ہو ٸ دل کی آرزو
    ٹھوکر لگی تو اور بڑھی منزل کی آرزو
    میرے مارکس کیوں کم آئے؟
    زیادہ نمبر لینا اور اچھی پوزیشن سے پاس ہونا کسی بھی طالب علم کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے، اور زمانے کا ٹرینڈ بھی یہی ہے، اس لیے ہر امتحان دینے والا طالب علم کو یہی درد سر لاحق ہوتا ہے. اس سال مجھے بھی پہلی دفعہ بورڈ میں پیپر دینے کی "سعادت” نصیب ہوئی. نمبروں کے حوالے سے میں نے اپنے ذہن میں ایک ٹارگٹ تیار کر رکھا تھا اور اسی کے مطابق میں نے محنت بھی کی تھی. (میری محنت اور سبق کے ساتھ میری دلچسپی کا میرے اساتذہ اور والدین شاہد ہیں) جنتی میری استطاعت تھی، میرا قوی تھا، میری صلاحیت تھی میں نے سب کچھ لگایا، رائٹنگ کا مسئلہ بھی گزشتہ سال ایک ماہر خطاط کی شاگردی میں سخت مشقت سے کام لیتے ہوئے حل کر لیا تھا، مگر جب رزلٹ اوٹ ہوئے تو مارکس میری توقع اور امید سے کافی …… بلکہ بہت ہی…… کم آئے. اب آپ سے کیا چھپاوں، میں نے سوچا تھا 500 سے اوپر کا مگر آئے 423….(پریکٹیکل والے سر کی "کرم فرمائی” تو میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا، البتہ بددعا ہرگز نہیں دوں گا)
    بہر حال یہ حالت دیکھ کر میری حالت غیر ہوگئی، دل دھڑکنے لگا، دماغ میں ہلچل سی پیدا ہوگئی، رنجیدہ و شرمندہ ہو کر کمرے میں گھس کر کمبل اوڑھ کر سونے کی ناکام کوشش کی، مگر جب دل و دماغ میں ہلچل مچی ہو تو نیند کہاں سے آئے….
    بہت کوشش کی اور بار بار یہ کہہ کر نیند کو پکارا اور غیرت دلائی کہ:
    اب درد شش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریک
    اب کیا ہو، اب تو نیند کو آجانا چاہیے

    مگر مجال ہے کہ نیند آتی، اور میں کچھ دیر غم دوران … بلکہ غم امتحان…. کو بھولنے کی "سعی لاحاصل” کرتا…
    جب نیند سے مایوس ہوا تو سوچنے لگا کہ آخر میرے کم مارکس آئے کیوں؟ کیا میری محنت اور تیاری میں کوئی کسر رہ گئی تھی؟ کیا میں محنت کے ساتھ ساتھ دعاوں سے کام نہیں لیا تھا؟ محنت تو میں نے بھر پور کی تھی، البتہ تیاری دوسری چیز ہے، اس میں کسر رہ گئی ہو تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا. ہاں اپنی سی کوشش کے ساتھ میں ہر نماز کے بعد بالخصوص رمضان المبارک میں دعائیں بھی خوب مانگی تھیں…. پھر اللّہ کا وعدہ بھی ہے کہ وہ کسی کی محنت کو رائیگان نہیں جانے دیتا……
    پھر سوچنے لگا کہ آخر وجہ کیا ہے؟ بہت سوچنے اور سوچ سوچ کر پاگل ہونے والا تھا کہ اچانک میرے دماغ کے دریچے کھل گئے اور بات میری سمجھ میں آنے لگی… ہم انسان کتنے جلد باز ہوتے ہیں، اور کتنی جلدی میں اپنی محنت کی برکت کو دیکھنا چاہتے ہیں…؟
    یقینا اللہ تعالی کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا، اور اپنی حکمت کے مطابق صحیح وقت اور صحیح موقع پر اپنی مہربانی کرتا ہے… میں نے یہ بھی سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ اللّہ تعالی کسی انسان سے کوئی اور کام لینا چاہتا ہے، مگر وہ سماج کے trend کے مطابق ڈاکٹر یا انجنئیر بننا چاہتا ہے، (جو کہ بہت چھوٹی خواہشیں ہیں) اور اللہ تعالی اپنے اس بندے کو اپنے فیصلہ والے کام تک لے جانے اور ڈاکٹر یا انجنئیر بننے سے بچانے کے لیے مطلوبہ معیار سے کم نمبروں سے پاس کرتا ہے… میں سوچنے لگا کہ شاید یہی وجہ ہو اور اللّہ تعالی مجھ سے کوئی اور کام لینا چاہتا ہو، اور اسی وجہ سے میرے مارکس کم آئے ہوں، یہ سوچتے ہوئے میرے دل کو اطمینان ہونے لگا اور پریشانی دور ہونے لگی…. پھر اللہ تعالی کا یہ ارشاد بھی میری پریشانی دور کرنے اور اطمینان حاصل کرنے کا باعث ہوا کہ:
    "بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو تمھیں پسند نہیں، مگر اس میں تمھارے لیے خیر ہوتی ہے اور بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو تمھیں اچھی لگتی ہیں مگر درحقیقت اس میں تمھارے لیے نقصان ہوتا ہے”
    یہ آیت کریمہ یاد آتے ہی میرا غم خوشی میں اور پریشانی مسرت میں بدل گئی.. میں سوچنے لگا کہ ضرور میرے کم نمبر لینے میں قدرت کاملہ کی کوئی خاص حکمت پوشیدہ ہے… اور میں مطمئن ہونے لگا.
    لہذا میں اپنے ان تمام دوستوں سے گزارش کروں گا، جن کے حصے میں محنت کے مقابلے میں کم نمبر آئے ہیں، وہ اللّہ تعالی کی اس ارشاد پر غور کرکے خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں. اور یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالی آپ سے آپ کے ذہن میں بسا ٹارگٹ سے بڑا کام لینا چاہتا ہے… اور یہ تو مسلم ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی مطلوبہ اصولوں اور طریقہ کار کے مطابق محنت کرنے والوں کو ان کی محنت کا صلہ ضرور دیتا ہے…. مگر کب دیتا ہے، یہ اس کی حکمت پر موقوف ہے… لہذا ہمیں نتائج کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہیے…
    رپورٹ : نسیم اللہ شاہین

  • سینیٹرروبینہ خالد کے ادارے نے طلبا کا مستقبل تباہ کر دیا

    سینیٹرروبینہ خالد کے ادارے نے طلبا کا مستقبل تباہ کر دیا

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹرروبینہ خالد کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل سٹڈیز نے 40سے زائد طلبا و طالبات کا تعلیمی و پروفیشنل کیریئر دا پر لگا دیا،اصل اسناد ادارے نے غیرقانونی طورپراپنے پاس رکھے ہوئے ہیں نہ تعلیم آگے جاری رکھ سکتے ہیں اورنہ ہی گورنمنٹ ملازمت کیلئے اپلائی کر سکتے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر روبینہ خالد کے‌خلاف ریفرنس دائر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب سکل ڈویلپمنٹ کے تحت گزشتہ سال ستمبر 2018 میں پرنٹ میڈیا گرافکس ڈیزائنینگ اور فیشن ڈیزائنینگ کے دو کورسز شروع کروائے گے،جن کا مقصد نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور بہتر روزگار مہیا کرنا تھا، مگر بدقسمتی سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل سٹڈیز میں روزگار اور ہنر مند بننے کے خواہشمند طلبا نہ تو ہنر مند بن سکے اور نہ ہی ملازمت پا سکے،

    لوک ورثہ میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل سٹڈیز پچھلے چھے ماہ سے سیل ہے، پرنٹ میڈیا گرافکس ڈیزائنینگ کی متاثرہ طالبہ عائزہ مغل نے بتایا کہ داخلے کے وقت اس سمیت تمام سٹوڈنٹس کی اصل تعلیمی اسناد اور ڈومیسائل اس شرط پر جمع کر لئے گے کہ کورس کے اختتام پر انہیں ڈاکومنٹس واپس کر دئے جائیں گے مزید برآں اگر دوران کورس بھی کسی کو اصل ڈاکومنٹس کی ضرورت پیش آئے تو وہ لے سکتا ہے، تقریبا دو ماہ کلاسز چلیں کہ پروگرام کوآرڈینیٹرز میڈم ندا کی جانب سے کلاس کے واٹس ایپ گروپ میں یہ مسج موصول ہوا کہ ادارہ کل بند رہے گا اور ہمارے اگلے پیغام کے آنے تک آپ کی کلاسز عارضی طور پر بند ہیں،اس کے بعد چھے ماہ گزر چکے ہیں کسی کا کوئی میسج نہیں آیا سٹوڈنٹس کی جانب سے ادارے کی انتظامیہ سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گی مگر کوئی رسپانس نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی معقول وجہ بتائی گی البتہ میڈیا کے ذریعے اب معلوم ہو رہا ہے کہ سینیٹر روبینہ خالد جو اس ادارے کی سربراہ ہیں ان پر کرپشن اور تجاوزات کے کیسز ہیں جسکی وجہ سے انکے کیریئر کا نقصان ہو رہا ہے ، ماریہ،خنسا، عائشہ، مرزا خبیب، اویس ودیگر نے بتایا کہ اصل اسناد ادارے کے پاس جمع ہونے کی وجہ سے وہ نہ تو اپنی تعلیم آگے جاری رکھ پا رہے ہیں اور نا ہی گورنمنٹ ملازمت کیلئے اپلائی کر سکتے ہیں،اصل اسناد جمع کروانا پی ایس ڈی ایف کی ریکوائرمنٹ بھی نہیں تھی اور نہ ہی پہلے کبھی ایسا ہوا ہے کہ طلبا کے اصل ڈاکومنٹس جمع کئے جائیں، نیکس انتظامیہ نے یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت کیا اور اصل ڈاکومنٹس جمع نا کروانے والے طلبا کو کورس سے نکالنی کی دھمکی دی،

    متاثرہ طلبا و طالبات نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ناصرف انکی اصل تعلیمی اسناد واپس لے کر دی جائیں بلکہ انہیں وعدہ کے مطابق ہنر اور ملازمت بھی دی جائے اور جو وقت کا ضیاع ہوا ہے اس پر ادارے کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے تا کہ آئندہ کوئی ادارہ طلبا کے مستقبل کے ساتھ ایسا کھیل نا کھیل سکے .

    محمد اویس

  • فیصل آباد میں زیرالتواءانکوائریز کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت

    فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی )ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب عبدالرب چوہدری نے ہدایت کی ہے کہ زیر التواءانکوائریز کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں اس ضمن مےں دئیے گئے اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں تاکہ بدعنوانی میں ملوث پائے جانے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرکے کرپشن کے ناسور پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے یہ ہدایت اپنے دورہ کے دوران اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ فیصل آباد ریجن کے افسران سے میٹنگ کے دوران جاری کی۔ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سجاد احمد خان ودیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے سرکاری محکموں میں کرپشن کے خلاف مہم کے سلسلے میں فیصل آباد ریجن کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور کہا کہ اینٹی کرپشن کے ہائی پروفائل مقدمات کی تفتیش جلد مکمل کریں اس ضمن میں تمام تر قانونی تقاضوں اور تکنیکی مہارتوں کو بروئے کار لایا جائے تاکہ ٹھوس اور جامع انداز میں حقائق سامنے آسکیں۔انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کے تمام مقدمات کی تفتیش میںمیرٹ اور غیر جانبداری برقرار رہنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے خلاف کریشن کی شکایات کا جائزہ لے کر الزام علیہ کو ناجائز ہراساں نہ کیا جائے بلکہ انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ سرکاری خزانے کی خرد برد اور محکمانہ بے قاعدگی میں ملوث ملزمان سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں فنڈز کے شفاف استعمال پر گہری نظر رکھیں۔انہوں نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ فیصل آباد ریجن کی مجموعی کارکردگی پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سجاد احمد خان نے انکوائریز اور مقدمات کی تفتیش کے سلسلے میں فیصل آباد ریجن کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ کرپشن کے خلاف مہم کی کامیابی کے لئے پرعزم انداز میں فرائض انجام دیئے جارہے ہیں اس ضمن میں درخواست گزاروں کو ہر ممکن ریلیف کی فراہمی میں تمام تر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کوبروئے کار لایا جا رہا ہے۔

  • فیصل آباد کے سرکٹ ہاﺅس میں کھلی کچہری لگا کر عوام کے مسائل سنے گئے

    فیصل آباد، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر عوامی مسائل سے آگاہی اور ان کے حل کے لئے سرکٹ ہاﺅس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی،آرپی او غلام محمود ڈوگر،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو) طارق خاں نیازی اورایس ایس پی آپریشنز علی رضا نے عوامی مسائل سنے اور موقع پر ہی افسران کو داد رسی کی ہدایت کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرجنرل میاں آفتاب احمد،اسسٹنٹ کمشنرز مصور خاں نیازی،شمائلہ منظور،ناذیہ موہل،شاہد ندیم،محمد اورنگزیب،خرم شہزاد بھٹی،ایم ڈی واسا فقیر محمد چوہدری،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق احمد سپرا،سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان،ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر خالد بشیر،ایڈمن آفیسر ریاض حسین انجم ،دیگر محکموں کے ڈویژنل وضلعی اور پولیس افسران کھلی کچہری میں موجود تھے۔ڈویژنل کمشنر نے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پرہر جمعہ کو کھلی کچہری کا انعقاد کرکے عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کئے جارہے ہیں۔انہوں نے درخواست گزاروں کے مختلف محکموں سے متعلقہ مسائل تحمل مزاجی سے سنتے ہوئے موقع پر موجودافسران کو نہ صرف داد رسی بلکہ تعمیلی رپورٹ سے بھی آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے اقدامات جاری ہیں اس سلسلے میں محکموں کی کارکردگی کی کڑی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت پنجاب کی ہدایات پر لوگوں کے مسائل سے آگاہی کے لئے اوپن ڈور پالیسی پر عملدرآمدبھی جاری ہے اور کھلی کچہری میں متعلقہ محکموں کے افسران کی موجودگی میں عوام سے رابطہ کرکے ان کی شکایات ومسائل کو حل کرنے کے لئے موقع پر ہی اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈویژنل انتظامیہ کی طرف سے کھلی کچہری میں موصول ہونے والی درخواستوں پر محکمانہ کارروائی کی براہ راست نگرانی کی جارہی ہے تاکہ درخواست گزار کو جلدازجلد ریلیف فراہم کیا جاسکے۔ڈویژنل کمشنر نے بعض محکموں سے متعلقہ لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے متعلقہ افسران کو حکم دیا کہ وہ شہریوں کے لئے قابل رسائی رہیں اور ان کے مسائل کے حل میں خصوصی دلچسپی لیں۔انہوں نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ ان کی شکایات کے حل کے لئے محکمانہ کارکردگی کی کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور انہیں ہر ممکن ریلیف فراہم کریں گے۔انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی شکایات کے حل میں گہری دلچسپی لیں اور درخواست گزاروں کو اطمینان بخش ریلیف فراہم کریں۔آر پی او نے پولیس سے متعلقہ لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے کہا کہ مظلوم کو جلد انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے جس میں کوتاہی کرنے والے پولیس افسران جواب دہ ہوں گے۔انہوں نے ہدایت کی کہ مختلف وارداتوں کے مقدمات درج کرنے میں تاخیر نہ کریں اور درج مقدمات کے ملزمان کی گرفتاری اور مسروقہ مال کی برآمدگی کے لئے حتی المقدور کوششیں کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ تھانوں میں سائلان کے ساتھ اچھا برتاو¿ ہونا چاہیے اور جرائم کی بیخ کنی کے لئے پٹرولنگ میں اضافہ کریں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور ایس ایس پی اپریشنز نے کہا کہ عوامی مسائل کا تیز رفتار حل ترجیح ہے اس ضمن میں لیت ولعل سے کام لینے والے افسران سے وضاحت بھی طلب کی جارہی ہے۔انہوں نے درخواست گزاروں سے کہا کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے کھلی کچہری میں پیش ہوں ان کی ہر ممکن حد تک داد رسی کی جائے گی۔

  • دھان میں اضافی پیداوار کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) جعفر برادرز کے زیر اہتمام شیخوپورہ میں سیمینار کا انعقاد.
    ایک مقامی ہوٹل میں جعفر برادرز فیٹلاٸزر اینڈ پیسٹی ساٸیڈ سیمینار میاں صدیق اینڈ سنز شرقپور روڈ کی طرف سے منعقد کیا گیا،جس کا مقصد دھان کی اضافی پیداوار بڑھانا تھا،ریجنل مینجر جعفر برادرز شہزاد الحق اور ایریا مینجرمیاں شہباز صدیق نےتقریب کےشرکإ سےخطاب کرتے ہوۓ کہا ہماری تمام پروڈکٹ امپورٹڈ ہیں اور ان میں جدید ٹیکنالوجی کی نیوٹرافل کھادیں اور پیسٹی ساٸیڈ کے بارے بریفنگ دی گٸی،تقریب میں کسان اور ڈیلرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی،اس موقع پر ڈیلرجعفر برادرز میاں زاہد صدیق نے تمام آنے والے کسانوں کا شکریہ ادا کیا اور جدید کھادوں نیو ٹرافلDap اور نیو ٹرافل urea کی تعریف کی اور جعفر برادرز کی طرف سے کسانوں کی رہنماٸی کو سراہا۔

  • ایجوکیشن ریویو کمیٹی کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میاں آفتاب احمد کی صدارت میں ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا

    فیصل آباد (نمائندہ باغی ٹی وی) ایجوکیشن ریویو کمیٹی کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) میاںآفتاب احمد کی صدارت میں ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس کی طرف سے رپورٹس پیش کی گئیں۔ سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی علی احمدسیان ‘ ایجوکیشن افسران چوہدری خالد اختر ‘ رضیہ تبسم ‘ سردار ساجد ‘ ایکسئین بلڈنگز قاسم شیخ و دیگر افسران بھی موجود تھے ۔ صدر اجلاس نے مانیٹرنگ رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے ایجوکیشن افسران کو اپنے فرائض تندہی سے انجام دینے کی تاکید کی تاکہ تعلیمی روڈ میپ کے تحت مطلوبہ نتائج کے حصول میں کوئی کسر باقی نہ رہے ۔ انہوں نے بچوںکے سکولوں میں داخلے کو برقرار رکھنے ق پالیسی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اقدامات جاری رہنے چاہیں ۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ سرکاری سکولوں میں اپ گریڈیشن ‘اضافی کلاس رومز ‘ چار دیواریوں و دیگرعدم دستیاب سہولتوں کی 116 سکیمیں 90 کروڑ روپے کے فنڈز سے مکمل کی جارہی ہیں جنکا 88 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ سی ای او ایجوکیشن نے تعلیمی روڈ میپ پروگرام پرعملدرآمد اور دیگر انتظامی امور سے آگاہ کیا۔

  • پائیدار اور جامع ترقیاتی منصوبہ بندی کے لئے سماجی شعبہ سے متعلق مسائل اور وسائل کے بارے میں مکمل اور حقیقی اعداد و شمار ناگزیر ہیں

    فیصل آباد، ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے کہا ہے کہ پائیدار اور جامع ترقیاتی منصوبہ بندی کے لئے سماجی شعبہ سے متعلق مسائل اور وسائل کے بارے میں مکمل اور حقیقی اعداد و شمار ناگزیر ہیں اس ضمن میں حقائق کے مطابق سروے مفید ثابت ہوتا ہے ۔ انہوںنے یہ بات سٹیٹکس بیورو پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب اور یونیسف کے اشتراک سے ” ملٹی پل انڈیکیٹر کلسٹر سروے “ Multiple Indicator Cluster Survey (MICS)کے حوالے سے سرکٹ ہاﺅس میں منعقدہ ڈویژنل آگاہی ورکشاپ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ آر پی او غلام محمود ڈوگر‘ فیصل آباد ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ کے ڈپٹی کمشنرز سردار سیف اﷲ ڈوگر ‘ میاں محسن رشید ‘ سید امان انور قدوائی ‘ ڈائریکٹر جنرل سٹیٹکس بیورو ساجد رسول ‘ یونیسف آفیسر نعمان غنی اور وائس چانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر علی چوہدری بھی وآسے فائدہ اٹھائیں گے۔ ورکشاپ کے دوران ڈائریکٹر جنرل سٹیٹکس بیورو ساجدرسول‘ یونیسف آفیسر نعمان غنی‘ سٹیٹکس آفیسرز محمد فاروق ‘ آئزک شہزاد ‘ میڈم شائستہ و دیگر نے تعلیم وصحت ‘ سوشل ویلفیئر اور دیگر سماجی شعبوں کے سروے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔

  • جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج طالبات کو جنسی حراساں کرنے اور کرپشن میں ملوث

    فیصل آباد (نمائندہ باغی ٹی وی)جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ٹیچر سلمیٰ امبر ‘ رزلٹ ٹمپرنگ‘ اختیارات کے ناجائز استعمال ‘ طلبہ کو بلیک میل کرنے‘ طالبات کو جنسی حراساں کرنے اور کرپشن میں ملوث نکلی۔ وزیر اعظم عمران خان کے پورٹل پر شکائت میں صورتحال سامنے آنے پر یونیورسٹی حکام نے انکوائری کی تو سلمیٰ امبر پر لگنے والے تمام الزامات ثابت ہوگئے ۔ یونیورسٹی کی ڈینز کمیٹی کی میٹنگ میں بھی سلمیٰ امبر اپنے پر لگنے والے الزامات کی تردید میں ایک بھی ثبوت نہ دے سکی۔ جس پر ایکشن لیتے ہوئے وائس چانسلر نے سلمیٰ امبر کو ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ٹیچر کے عہدے سے فارغ کردیا تاہم سلمیٰ امبر کی رٹ پٹیشن پر لاہور ہائیکورٹ نے سنڈیکیٹ کا اجلاس بلا کر اس بارے حتمی فیصلہ کرنے کا حکم دیا تو یونیورسٹی انتظامیہ نے سنڈیکیٹ کا اجلاس بلانے کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ تفصیل کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ٹیچر سلمیٰ امبر کے حوالے سے الزامات سامنے آرہے تھے کہ وہ ہائیر کلاسز کے رزلٹ میں ٹمپرنگ کرنے میں ملوث پائی جارہی ہیں۔ ان کے حوالے سے یہ بھی سامنے آیا کہ وہ طلباءو طالبات کو بلیک میل کرنے اور اس نام پر طلبہ سے مختلف ذاتی مفادات حاصل کرتی ہیں۔ سلمیٰ امبر کے حوالے سے یہ بھی سامنے آتا رہا ہے کہ وہ کلاس میں طالبات کے حوالے سے ایسی غیر اخلاقی گفتگو کرتی ہیں جو جنسی حراساں کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔ اس بارے میں ایک طالبہ کی شکائت پر ان کیخلاف یونیورسٹی کی ضابطہ اخلاق کمیٹی میں انکوائری بھی ہوئی مگر انہوں نے طالبہ کو بلیک میل کرکے شکائت واپس لینے پر مجبور کردیا۔ سلمیٰ امبر کے یونیورسٹی فنڈز میں خورد برد کرنے کی شکایات بھی سامنے آچکی ہیں جبکہ ان کے حوالے سے متعدد غیر اخلاقی معاملات کی انکوائری بھی یونیورسٹی میں چل رہی ہے۔ سلمیٰ امبر کے حوالے سے یہ شکایات وزیر اعظم عمران خان کے پورٹل پر سامنے آئیں تو وزیر اعظم آفس نے یونیورسٹی کو اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا۔ ابتدائی انکوائری میں ہی تمام الزامات کے ثبوت سامنے آنے لگے تو یونیورسٹی نے اس معاملے کی انکوائری کیلئے چیئرمین داخلہ کمیٹی ‘ڈائریکٹر ایڈوانس سٹیڈیز‘ ڈین سوشل سائنسز اور ڈپٹی کنٹرولر امتحانات پر مشتمل چار رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔ اس کمیٹی میں بھی سلمیٰ امبر پر لگنے والے تمام الزامات ثبوتوں کے ساتھ ثابت ہوئے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے چار رکنی کمیٹی کے فیصلہ کیخلاف سلمیٰ امبر کی اپیل پر یونیورسٹی کی اعلیٰ اختیاراتی ڈینز کمیٹی کو معاملے کی انکوائری اور سلمیٰ امبر کی اپیل کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ۔ ذرائع کے مطابق 31مئی کو ہونیوالے اجلاس میں ڈینز کمیٹی نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور اتفاق رائے سے سلمیٰ امبر کی اپیل مسترد کردی اور تمام الزامات ثابت ہونے سلمیٰ امبر کیخلاف کارروائی کی سفارش کر دی۔ ڈینز کمیٹی کی سفارشات پر سلمیٰ امبر کو ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ٹیچر کے عہدے سے ہٹا دیا اور ماس کمیونیکشن ڈپارٹمنٹ کے چیئر مین و ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر عاصم محمود نے ڈپارٹمنٹ میں نیا انچارج ٹیچر / کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر اشرف اقبال کو مقرر کردیا۔ وائس چانسلر کے اس حکم نامے کیخلاف سلمیٰ امبر نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو عدالت عالیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو سات دن کے اندر سنڈیکیٹ کا اجلاس بلا کر اس بارے فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے سنڈیکیٹ کا اجلاس بلانے کیلئے اقدامات شروع کردئیے ہیں ۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر امین کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کچھ بھی قانون کے خلاف نہیں کرے گی۔ انکوائری وزیراعظم پورٹل پر معاملہ سامنے آنے پر کی گئی ہے اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا گیا ہے اب بھی عدالت عالیہ کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا اور قانون کے مطابق اقدامات کئے جائیں گے۔