Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • معرکہ حق میں،فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی ،وزیراعظم

    معرکہ حق میں،فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں بھارت کو جو سبق سکھایا وہ زندگی بھر یاد رکھے گا،میرے پاس فیلڈ مارشل کا فون آتا ہے کہ میں آپ کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں کہ دشمن نے ہم پر حملہ کردیا مجھے کہنے لگے وزیراعظم آپ مجھے اجازت دیں، ہم ان کو وہ سبق سکھائیں گے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔

    لندن میں اوورسیز پاکستانیز کے کنونشن سے خطاب کے دوران شہباز شریف نےکہا کہ میرے لیے خوشی کی بات ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے سامنے کھڑا ہوں، آپ کے پاکستان کے وہ سفیر ہیں جو بیرون ملک دن رات محنت کرتے ہیں،دن میں آپ دیار غیر میں انتہائی محنت سے رزق حلال کماتے ہیں، میں اس بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی محنت سے جو رزق کماتے ہیں، یہ جو سال گزرا ہے آپ نے پاکستان اپنی خون پسینے کی کمائی سے ساڑے 38 ارب ڈالر اپنے ملک بھجوائے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ نہ صرف معاشی طور پر بلکہ سیاسی طور پر جس طرح آپ ہر جگہ پاکستان کا دفاع کرتے ہیں، اس کے لیے بھی آپ سب کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں،سب سے پہلے آپ سب کو 10 مئی 2025 کی عظیم فتح کی مبارکباد دینا چاہتا ہوں، یہ وہ فتح ہے جس نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو وہ زندگی بھر یاد رکھے گا، جب ہم پر الزامات لگائے گئے تو ہم نے یہ بیان دیا کہ پاکستان کا پہلگام واقعے سے دور دور تک تعلق نہیں،پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے میں نے عالمی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے کہ یہ پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں لیکن ہمسایہ ملک نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

    دنیا پاکستان کو مسائل کے حل میں ایک شریکِ کار کے طور پر جانتی ہے،صدرِ مملکت

    انہوں نے کہا کہ اس کے جواب میں 6 مئی کو دشمن نے پاکستان کے خلاف حملہ کیا جس میں بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے، مساجد کو شہید کیا گیا اور سویلینز پر حملے کیے گئے، جس پر پاکستان کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنی پڑی، ایک جھٹکے میں دشمن کے 6 جہاز زمین بوس ہوگئے، دشمن کو چند گھنٹوں میں پتا چل گیا کہ یہ بات بہت دور تک چلی جائے گی، میرے پاس فیلڈ مارشل کا فون آتا ہے کہ میں آپ کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں کہ دشمن نے ہم پر حملہ کردیا مجھے کہنے لگے وزیراعظم آپ مجھے اجازت دیں، ہم ان کو وہ سبق سکھائیں گے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دوست ممالک میں ایک سربراہ نے مجھ سے پوچھا وہ کون سی دو باتیں جو اس عظیم فتھ کی وجہ بنی، میں نے کہا کہ افواج پاکستان کی دلیری، شجاعت، پروفیشنلزم ، اللہ پر بھروسہ اور دوسرے نمبر پر سیاسی وعسکری قیادت کی سوچ میں یکسانیت جب کہ تیسری بات جب فیصلہ ہوا تو ملٹری لیڈرشپ نے مڑ کر نہیں دیکھا، فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی جب کہ ہمارے شاہنیوں نے ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں دشمن کے جہازوں کو گرایا،عظیم پاکستانیوں اللہ نے آپ کو وہ فتح دی ہے کہ آج مغرب سے لیکر مشرق تک لوگ جب پاکستان کے سبز پاسپورٹ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں ہم سلام پیش کرتے ہیں۔

    9 مئی کیس: خدیجہ شاہ نے سزا کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے آپریشن کے بعد سیز فائر ہوچکا اور اب ہم امن چاہتے ہیں، ہم ترقی وخوشحالی، ملک میں بیروزگاری کا خاتمہ اور سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور میں نے یہ آفر کئی مرتبہ دی ہے جو پوری دنیا نے سنی ہے، میں نے کہا ہے کہ ہم کشمیر، پانی، تجارت اور کاؤنٹر ٹیررازم پر بات کرنا چاہتے ہیں اور برابری کی بنیاد پر بات کرکے یہ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں،کشمیر کا مسئلہ حل ہونا، بنیادی ستون ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر باہمی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں تو وہ احمقوں کے جنت میں رہتے ہیں، کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، انہیں اپنا حق ملے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں جو اس وقت ظلم وستم کیا جارہا ہے، 64 ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں جس میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں جب کہ جو زندہ ہیں ان کا کھانا پانی اور ادویات تک بند کردی گئی ہیں، غزہ کی پٹی کے تناسب سے جتنی شہید ہوچکی ہیں، پچھلے 100 سال کے دوران ہونے والی جنگوں میں بھی اتنی زندگیاں تباہ نہیں ہوئیں،میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس خطے کو امن چاہیے جس کے لیے اسلامی ممالک کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اگر ہم فیصلہ کرلیں تو جس طرح ہم نے بھارت کے 6 جہاز گرائیں ہیں ویسے ہم غربت کا خاتمہ بھی کرکے دکھائیں گے اور پاکستان کو قرضوں سے نجات دلائیں گے، یہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

    9 مئی کیس: خدیجہ شاہ نے سزا کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

  • جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان میں پر اسرار طور ہلاک

    جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان میں پر اسرار طور ہلاک

    جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان میں پر اسرار طور ہلاک ہو گیا،

    بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کے مطابق فتنہ الہندوستان کا دہشتگرد افغانستان کے صوبے ہلمند میں17 ستمبر 2025 کو ہلاک ہوا، دہشتگرد گل رحمان فتنہ الہندوستان( مجید بریگیڈ) کا ٹرینر اور آپریشنل کمانڈر تھا، دہشتگردگل رحمان پاکستانی سیکیورٹی فورسز ، چینی شہریوں ، معصوم شہریوں اور مختلف اداروں پر حملوں میں ملوث تھا، فتنہ الہندوستان نے پاکستان کے نہتے معصوم شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنایا، فتنہ الہندوستان نے جعفر ایکسپریس، کراچی میں چینی قونصلیٹ اور گوادر پی سی ہوٹل میں دہشتگردانہ کاروائیاں کیں، فتنہ الہندوستان نے خضدار سکول بس دھماکہ، کراچی میں کنفیوشس انسٹیٹوٹ خود کش دھماکہ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملہ اور کوئٹہ ریلوے اسٹیشن میں دہشتگردانہ کاروائیاں کیں، امریکہ فتنہ الہندوستان کے مجید برگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے،

  • آئی لو محمد کا بورڈ لگانے پر بھارت میں مقدمہ،مسلمان سراپا احتجاج

    آئی لو محمد کا بورڈ لگانے پر بھارت میں مقدمہ،مسلمان سراپا احتجاج

    ہندوستان کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کی جانب سے اس وقت شدید احتجاج کیا جا رہا ہے جب کانپور پولیس نے ’آئی لو محمد‘ کے بورڈ لگانے پر متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

    9 ستمبر کو کانپور کے علاقے شاردہ نگر میں پولیس نے شرافت حسین، شبنور عالم، بابو علی، محمد سراج، فضل الرحمن، اکرام احمد، اقبال، بنٹی، کنّو کباڑی اور 15 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے اور سماجی انتشار پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔اس ایف آئی آر کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کانپور میں جمعہ کی نماز کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ’آئی لو محمد‘ کے بینر اٹھا رکھے تھے اور پرامن ریلی کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔اسی طرح مہاراشٹر کے پربھنی، تلنگانہ کے حیدرآباد، گجرات کے احمد آباد، مدھیہ پردیش کے برہان پور اور جھارکھنڈ میں بھی جمعہ کے بعد لوگوں نے بینرز اور وال پیپرز کے ذریعے اظہارِ محبتِ رسول ﷺ کیا۔

    احتجاج کا یہ سلسلہ صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک وسیع مہم کی شکل اختیار کر گیا۔ ہزاروں صارفین نے اپنی پروفائل تصاویر کو ’آئی لو محمد‘ کے لوگو سے تبدیل کیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر وال پیپرز شیئر کیے۔ اس آن لائن تحریک نے ملک گیر سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ مختلف مسلم تنظیموں اور عام شہریوں نے کانپور پولیس کے اقدام کو مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اقلیتوں کے مذہبی اظہار کو دبانے کی کوشش ہے۔

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے پیش،کاروائی کا بائیکاٹ

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے پیش،کاروائی کا بائیکاٹ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

    راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں عمران خان کو ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش کیا گیا تاہم انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا،سماعت سےقبل عمران خان کو 3 مرتبہ ویڈیو لنک پر پیشی کے لیے پیغام بھیجا گیا، ساڑھے 10 بجے پہلی بار رابطے پر بتایا گیا کہ وہ 11بجے ویڈیو لنک پر پیش ہوں گے، 11 بجے رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ عمران خان پیش ہو رہے ہیں، 11بجکر 25 منٹ پر رابطہ کرنے پر وہ ویڈیولنک پر پیش ہوئے،سماعت کے دوران وکیل صفائی فیصل ملک نے عمران خان سے اکیلے میں بات کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کی وکیل صفائی سے بات کرائی تاہم عمران خان نے مقدمہ اور قانونی نکات کی بجائے سیاسی گفتگو شروع کردی،اس موقع پر وکلا صفائی نے عمران خان کوبتایا کہ ویڈیو لنک نوٹیفکیشن کو ہائیکورٹ چیلنج کررہے ہیں، آپ کی اس نوٹیفکیشن پرکیا ہدایت ہے، اس پر عمران خان نے وکلا کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا کہہ دیا،عمران خان کی ہدایت کے بعد وکلا صفائی عدالت سے باہر چلے گئے تاہم عدالت نے سماعت جاری رکھتے ہوئے گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کردیے۔

  • بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں،ترجمان پاک فوج

    بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے ہمارے پاس مستند شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے اور بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

    جرمن جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا افغان مہاجرین کو پناہ کی بنیادی وجوہات غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی تھی، وہ وجوہات اب موجود نہیں ہیـں، پاکستان نے 40 سال تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے منظم اقدامات کیےگئےہیں، پاکستان نے انسانی بنیادوں پرافغان مہاجرین کے انخلاءکی ڈیڈلائن میں متعدد بار توسیع کی، ہمارے پاس مستند شواہد ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں، ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت میں پرتشدد واقعات بھارتی حکومت کی بڑھتی انتہاء پسند پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی جبکہ بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے،بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے، بھارتی فوجی افسران کے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں، پاکستان بھارتی دہشت گردی کے ثبوت اقوام عالم کے سامنے متعدد مرتبہ پیش بھی کر چکا ہے،بھارتی ریاستی ادارے بشمول آرمی شدت پسند سیاسی نظریات کے زیر اثر ہیں جبکہ پاکستان کی ریاست تمام غیرریاستی عناصرکوبلا تفریق مستردکرتی ہے، پاکستان میں کسی بھی جیش یا مسلح جتھوں کیلئے کوئی جگہ نہیں، ریاست کے علاوہ کوئی گروہ یا شخص جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں رکھتا،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بےپناہ قربانیاں دیں، امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار دہشت گردی میں استعمال ہو رہے ہیں، امریکا بھی اس اسلحے کے دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا معرکہ حق کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا قائدانہ کردار اسٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آیا، امریکا نےکالعدم مجید بریگیڈ کوعالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے متعدد ہلاک دہشت گرد نام نہاد مسنگ پرسنز کی فہرست میں بھی شامل تھے،پاکستان کے برادر ملک چین کے ساتھ بھی تعمیری اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں،

  • سکھ برادری کا  کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    سکھ برادری کا کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    سکھ برادری کا کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    ہندوتوا نظریہ کے تحت مودی کی سفاکی قتل و غارت سے خالصتان جدوجہد دبانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے،خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے مطابق ’’ بھارت میں سکھ رہنماؤں کے قتل کی عالمی سطح پر سازشیں کی جا رہی ہیں‘‘کینیڈین سرزمین پر بھارتی جاسوسی اور دھونس کی جواب دہی کے لیے سکھ برادری کا احتجاج جاری ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ کے مطابق ’’خالصتان تنظیم سِکھز فار جسٹس کا وینکورمیں بھارتی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے ‘‘،سکھز فار جسٹس کا کہنا ہے کہ بھارت خالصتان تحریک کو دہشتگرد کہتا ہے جبکہ اصل دہشتگرد نئی دہلی اور بھارتی مشنز میں بیٹھے ہیں،

    بھارتی قونصلیٹ کے باہر تاریخی احتجاج کرنے کے لیے سِکھز فار جسٹس نے میڈیا ایڈوائزری بھی جاری کر دی،میڈیا ایڈوائزری میں کہا گیا کہ خالصتان کے حامی بھارتی قونصلیٹ کے باہر تاریخی ’’احتجاج ‘‘ کریں گے ، میڈیا ایڈوائزری کے مطابق 18 ستمبر 2023 کو کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا تھا کہ ” ہردیپ سنگھ نجرکے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں”میڈیا ایڈوائزری کے مطابق بھارتی قونصلیٹ آج بھی خفیہ جاسوس نیٹ ورکس اور نگرانی کے ذریعے خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنا رہا ہے،خطرے کی سنگینی پر کینیڈین پولیس نے ہردیب سنگھ نجر کے قتل کے گواہ اندرجیت سنگھ گوسل کو تحفظ کی پیشکش بھی کی،

    سکھ برادری نے اعلان کیا ہے کہ ہردیب سنگھ نجر کا خون سکھ مزاحمت کا نعرہ بن چکا ہے، سکھوں کی عالمی جدوجہد انصاف ملنے تک نہیں رکے گی،

    1984ءسے آج تک بھارت نے سکھ برادری کو ظلم، فریب اور تشدد کے سوا کچھ نہیں دیا،بھارت نے سفارت خانوں کو خفیہ کمانڈ سینٹرز میں تبدیل کرکے بیرون ملک سکھوں کو نشانہ بنایا،کینیڈا میں ہردیب سنگھ نجر کا قتل بھارت کی سرحد پار دہشت گردی کو بے نقاب کرتا ہے،امریکہ اور برطانیہ میں سکھ رہنماؤں پر حملے بھارتی ریاستی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں،مودی کے ظلم و بربریت کیخلاف خالصتان تحریک اب عالمی تحریک کا روپ دھار چکی ہے

  • لاہور پولیس کا کمال،جرائم کی پیش گوئی،روک تھام کیلیے "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” سسٹم متعارف

    لاہور پولیس کا کمال،جرائم کی پیش گوئی،روک تھام کیلیے "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” سسٹم متعارف

    لاہور پولیس نے جرائم کی پیشگی روک تھام اور مؤثر نگرانی کے لیے جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی سسٹم "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام لاہور کو محفوظ تر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے اس جدید سسٹم کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لاہور میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کا سہرا پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ حکمت عملی کے سر ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پنجاب ایمرجنسی اے آئی سسٹم ایک ایسا جدید پلیٹ فارم ہے جو جرائم کی ممکنہ جگہ، وقت اور نوعیت کی پیشگی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے لاہور پولیس متعدد علاقوں میں ڈکیتی، چوری اور دیگر جرائم کو ہونے سے پہلے ہی روکنے میں کامیاب ہوئی ہے،یہ سسٹم مختلف ڈیٹا ذرائع جیسے ماضی کے جرائم، لوکیشن کے رجحانات، جرائم کے اوقات، اور دیگر عوامل کا تجزیہ کرکے ان علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں جرائم کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، ان علاقوں کو "ہاٹ اسپٹس” قرار دے کر پولیس وہاں پہلے سے ہی گشت اور نفری بڑھا دیتی ہے، یہ نیا اے آئی سسٹم لاہور میں "سمارٹ پولیسنگ” کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں فیصلے ڈیٹا بیسڈ اور پیشگی معلومات پر مبنی ہوں گے اس سے پولیس فورس کو جرائم کے خلاف بروقت ردعمل دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا،اگرچہ "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” کی نشاندہی کی گئی جگہوں پر ہر بار جرائم کا وقوع پذیر ہونا سو فیصد یقینی نہیں ہوتا، لیکن متعدد کیسز میں سسٹم کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کامیاب کارروائیاں کی گئی ہیں ،لاہور پولیس کا یہ قدم نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک بہترین مثال ہے بلکہ پاکستان میں پیشگی جرائم کنٹرول کے حوالے سے ایک سنگ میل بھی ہے۔ اگر یہ ماڈل کامیابی سے چلتا رہا، تو یہ دیگر شہروں کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔

  • پاکستان کرکٹ تباہ،چن چن کر نکمے بھرتی،پی سی بی سرکس، سر شرم سے جھک گئے

    پاکستان کرکٹ تباہ،چن چن کر نکمے بھرتی،پی سی بی سرکس، سر شرم سے جھک گئے

    سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی انتظامیہ پر شدید تنقید کی ہے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جیسی ناتجربہ کار ٹیم کے خلاف بھی غیر تسلی بخش کھیل پیش کیا۔ ان کے مطابق یو اے ای کے کئی کھلاڑی جز وقتی ہیں، کوئی کاریگر ہے، کوئی مزدور ہے، اس کے باوجود انہوں نے قومی ٹیم کو مشکلات میں ڈال دیا، جو شرمندگی کا باعث ہے۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے خاص طور پر پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ انہیں کھیل کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔مبشر لقمان نے کہا کہ انہیں صرف ٹھیکوں اور ترقیاتی منصوبوں کا تجربہ ہے، کرکٹ اور کھلاڑیوں کی مینجمنٹ ان کے بس کی بات نہیں.

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ کو دوبارہ بہتر سطح پر لانے کے لیے کم از کم پانچ سال درکار ہوں گے اور اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو پاکستان کرکٹ پر بین الاقوامی سطح پر مستقل پابندی لگوانے کی نوبت آ سکتی ہے۔سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ نے بھی وی لاگ کے بعد اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن قومی ٹیم کے کھیلنے کا انداز اور انتظامیہ کا رویہ مایوس کن اور تشویشناک ہے۔

    ٹی20 ایشیاء کپ: سری لنکا سے شکست کے بعد افغانستان ٹورنامنٹ سے باہر

    جماعت اسلامی کا غزہ چلڈرن مارچ، حافظ نعیم کو 30 لاکھ کا چیک پیش

    غزہ میں اسرائیلی حملے، مزید 48 فلسطینی شہید

    برطانوی سیکرٹری داخلہ کی غیر قانونی مہاجرین پر کڑی تنقید

    جلال پور پیروالا: سیلابی پانی نکالنے کے لیے ایم فائیو موٹروے پر شگاف ڈالنے کی تجویز

  • وزیرِ اعظم کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے  مشترکہ اعلامیہ جاری

    وزیرِ اعظم کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری

    ولی عہد و سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی پر وقار دعوت پر پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 17 ستمبر کو سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا۔

    ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، نے ریاض کے ال یمامہ پیلس میں وزیر اعظم پاکستان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کے آغاز میں، وزیر اعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے خیرمقدم کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور سٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات کا جائزہ لیا اور تبادلہ خیال کیا۔

    مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، بھائی چارہ اور اسلامی یکجہتی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں، ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” (SMDA) پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ، جو دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے اور پاکستانی وفد کے پرتپاک استقبال اور فراخدلی سے مہمان نوازی پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی عرب کے برادر عوام کے لیے مسلسل ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ عزت مآب ولی عہد نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی اچھی صحت، تندرستی اور پاکستان کے برادر عوام کی مزید ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    طالبان حکومت کا افغانستان میں انٹرنیٹ پر سخت کریک ڈاؤن، فائبر آپٹک کنکشن منقطع

    گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، کچے کے علاقے زیرِ آب

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    مشعال حسین ملک کا کشمیری رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ کو شاندار خراجِ عقیدت

  • وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قصر الیمامہ میں ملاقات کی، جہاں ان کا شاہی پروٹوکول کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ سعودی مسلح افواج کے دستوں نے وزیرِ اعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

    اعلامیے کے مطابق ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، مسئلہ فلسطین اور دیگر اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاک سعودی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر قطر پر اسرائیلی حملے کی ایک بار پھر مذمت بھی کی گئی۔سعودی ولی عہد نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا حل ناگزیر ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ فلسطین پر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتا آیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

    ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی بھی شریک تھے۔

    سعودی عرب آمد پر شاندار استقبال

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد کی دعوت پر ریاض پہنچے۔ ان کے طیارے کو سعودی فضائیہ کے ایف-15 لڑاکا طیاروں نے سعودی حدود میں داخل ہوتے ہی حصار میں لے کر خوش آمدید کہا۔ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر نے استقبال کیا جبکہ پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور پاکستانی سفیر احمد فاروق بھی موجود تھے۔

    ریاض آمد پر شہر بھر میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے، وزیرِ اعظم کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور سعودی افواج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

    مشعال حسین ملک کا کشمیری رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ کو شاندار خراجِ عقیدت