اسلام آباد : 73سال بعد اوورسیز پاکستانیوں کو’’ووٹ کا حق‘ کا بل منظور:عمران خان کے ووٹ بنک میں اضافہ ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق 73سال بعد اوورسیز پاکستانیوں کے ’’ووٹ کا حق‘ کا بل قومی اسمبلی نے منظور کر لیا،
ذرائع کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیے گئے اپنے ایک ٹویٹ میں سینئر پی ٹی آئی رہنما بابراعوان نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مبارکباد۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مبارکباد۔ 73 سال بعد، اوورسیز پاکستانیز کے right of vote کا بل پاکستان کی قومی اسمبلی نے منظور کرلیا۔ اپوزیشن نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا اور بل کی مخالفت بھی کی۔ اب بلِ سینیٹ آف پاکستان میں پیش ہوگا۔
اپنے ٹویٹ پیغام میں مزید لکھتے ہیں کہ 73 سال بعد، اوورسیز پاکستانیز کے right of vote کا بل پاکستان کی قومی اسمبلی نے منظور کرلیا۔ اپوزیشن نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا اور بل کی مخالفت بھی کی۔ اب بلِ سینیٹ آف پاکستان میں پیش ہوگا۔
دوسری طرف اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے بل کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں کہا اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ہر کوئی دینا چاہتا ہے۔چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانی دوسرے اوورسیز پاکستانی سے مقابلہ کرکے ہاوَس کا ممبر بنے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کا اپنا انتخابی حلقہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج تنقید نہیں اپیل کررہا ہوں کہ آپ رولز کو سسپینڈ نہیں کریں گے۔ چاہتے ہیں کہ عوام کے مسائل حل کرسکیں۔ ہم ایک ایسا قانون لے کر آئیں جس میں حکومت اور اپوزیشن کی بات شامل ہو۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر حلقے کے عوام کے نمائندے کو حق ہے کہ وہ بھی بلز پر رائے دیں۔ اگر آپ اتفاق رائے چاہتے تو ہم سے بات کرتے نا کہ رات کے اندھیرے میں آرڈیننس لاتے ہیں
وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے مراعات لیں ، وزیر خزانہ کا انکشاف
باغی ٹی وی : وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کورونا کے دوران مشکل فیصلے کیے،کورونا لاک ڈاوَن سے 2کروڑافرادکا روزگارمتاثر ہوا،وزیراعظم عمران خان کا اسمارٹ لاک ڈاوَن بھی ایک مشکل فیصلہ تھا،حکومت نے تعمیراتی اورزرعی شعبے کومراعات دیں،
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ زرعی شعبے میں 2اعشاریہ 7فیصد ترقی ہوئی .لارج اسکیل مینو فکچرنگ شعبے میں 9فیصد ترقی ہوئی ،تعمیراتی شعبے کےلیے وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے مراعات لیں،ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا،ترسیلات زر26ملین ڈالرکراس کرچکی ہے ،
ایف اے ٹی ایف میں ریلیف کی توقع ہے،آئی ایم ایف اورورلڈ بینک نے گروتھ کونچلی سطح پر دکھایاتھا،ایف بی آر نے4ہزار 200ارب کے محصولات جمع کیے،ایف بی آر نے4ہزار 200ارب روپےکے محصولات جمع کیے،ہم گندم ،چینی ،دالیں اورگھی درآمد کررہےہیں ،
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے،عوام پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں 58فیصداضافہ ہوا ،ترسیلات زر29ملین ڈالرہوجائیں گی .ترسیلات زراللہ نے فرشتہ بناکربھیج دیا.ترسیلات زر میں اضافہ اووسیز پاکستانیوں کاوزیراعظم پر اعتماد کامظہرہے،
کروڈ آئل 19فیصد بڑھا ہم نے کوئی اضافہ نہیں کیا،پاکستان پر مجموعی قرض 38ٹریلین ہوچکاہے ،مہنگائی روکنے کی کوشش کررہے ہیں،عالمی مارکیٹ سے جوچیزیں آرہی ہیں انکی قیمتیں بڑھیں،مہنگائی روکنے کی کوشش کررہے ہیں ،عالمی مارکیٹ سے جوچیزیں آرہی ہیں انکی قیمتیں بڑھیں،
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں غیر ملکی قرض 700ارب روپے کم ہے،کوشش ہوگی برآمدات میں اضافہ ہو،پاکستا ن اسٹاک ایکس چینج ایشیا کی بہترین مارکیٹ ہے،مہنگائی روکنے کےلیے پیداوار بڑھانے کی کوشش کررہےہیں.ہم نے بجٹ 5اعشاریہ7ٹریلین کارکھاہے ،
حکومت کی پالیسیوں کے باعث معیشت مستحکم ہوئی ،پاکستان کاایمازون کی سیلر لسٹ میں آناخوش آئند ہے .ہمیں اپنے انفراسٹرکچر کوٹھیک کرنا ہوگا،ہم استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں،ملکی معاشی ترقی کےثمرات غریب آدمی تک پہنچیں گے،احساس پروگرام عالمی سطح پر بہترین منصوبہ پے،
کارپوریٹ سیکٹر بینکوں سے کل قرض 75فیصد لےجاتاہے،چھوٹی صنعتوں کے لیے محض 6فیصد قرض دیاجاتاہے،آئی ٹی کےشعبے کومزید مراعات دیں گے جو 40فیصد شرح سے ترقی کررہاہے،ہماراہدف آئندہ سال آئی ٹی کےشعبے میں 100فیصدترقی لانا ہے،
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ روشن پاکستا ن اکاوَنٹ میں ایک ارب ڈالرسے زائد جمع ہوا،گردشی قرضہ 2سےڈھائی سو ارب رہ گیاہے،کوشش ہے کہ چین کی ملازمتوں کی بیرون ملک منتقلی میں اپنے شیئرز لیں،خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کےلیے ماہرین کابورڈ بنائیں گے ،
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ 1991سےنوازشریف بھی کہتے رہے کہ نجکاری کرنی ہے،جی ڈی پی میں بینکنگ سیکٹر کاحصہ 16فیصدسے مزید بڑھاناہوگا،علاقائی ہاوَسنگ بینک بنائیں گے ،پاورسیکٹر ہمار ے لیے بڑا چیلنج ہے ،سوائے 2تین بینکوں کے کوئی نجکاری نہیں کی گئی ،اعتراض آتا ہے کہ ایس او ایزپراخراجات آتے ہیں،اکنامک زونز بنانے کے لیے چین کومراعات دینے کوتیار ہیں،
ضمنی الیکشن میں شکست یا کچھ اور، پی ٹی آئی نے ق لیگی حمایت یافتہ امیدوار کو ٹکٹ دے دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کاروباری حضرات وزیراعظم کو مسیحا کے طور پر دیکھ رہےہیں،
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا عوام کو مشکلات سے نکالنے کا عزم جاری ہے،سیالکوٹ چیمبرز آف کامرس کے صدر نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی .کاروباری برداری وزیر اعظم عمران خان کی کاوشوں کی معترف ہے،
پی ٹی آئی نے سیالکوٹ چیمبر کے صدر قیصر بریار کو پی پی 38ضمنی انتخاب کے لیے ٹکٹ دے دیا ، تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعجاز چودھری کا کہنا ہے کہ قیصر بریار کو ٹکٹ دینے کی منظوری وزیراعظم نے دی
واضح رہے کہ قیصر بریار ق لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار ہیں، ق لیگ نے اس حلقے میں تحریک انصاف کو اپنا امیدوار پیش کیا تھا، جس کی وزیراعظم عمران خان نے منظوری دی ہے قیصر بریار ق لیگ پنجاب کے صدر سلیم بریار کے چھوٹے بھائی ہیں
مذکورہ حلقہ کی نشست MPAچوہدری خوش اختر سبحانی کی وفات سے خالی ہوئی۔ کاغذات نامزدگی 10جون تک جمع کروائے جاسکیں گے۔ 18جون کو کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی، کاغذات نامزدگی کو منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں 22جون تک دائر کی جاسکیں گیں۔ 28جون کو اپیلوں پر فیصلے کئے جائیں گے۔ 30جون تک امیدوار کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔یکم جولائی کو انتخابی نشانات الاٹ کئے جائیں گے اور 28جولائی کو حلقہ میں پولنگ ہوگی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپوزیشن جماعتیں سیٹیں جیت چکی ہیں ،کراچی سے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی چھوڑی ہوئی نشست پیپلز پارٹی نے جیت لی ہے جبکہ دیگر حلقوں سے بھی جہاں ضمنی الیکشن ہوئے ہیں حکمران جماعت کو شکست ہوئی ہے
وفاقی بجٹ، اپوزیشن کیا پروگرام بنا رہی ہے؟ شہباز شریف سے کس نے امید لگا لی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بجٹ میں ایک روز باقی ہے، حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالہ سے تیاریاں جاری ہیں تا ہم اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی ہدایت کی منتظرہے
قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے تاحال اپوزیشن جماعتوں سے رابطے نہیں کیے، بجٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے سے متعلق پی ڈی ایم م کی حکمت عملی تیار نہیں ہوئی،بجٹ سے متعلق شہبازشریف نے تاحال پیپلزپارٹی سے بھی رابطہ نہیں کیا، پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں شہبازشریف کو بجٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا ٹاسک سونپا تھا تا ہم ابھی تک شہباز شریف نے پیپلز پارٹی سمیت کسی سے بھی رابطہ نہیں کیا
وفاقی حکومت کا بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش ہونا ہے،بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتوں کا کوئی مشترکہ لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتیں بیانات تو دے رہی ہیں لیکن عملی طور پر بجٹ منظور کروانے یا نہ کروانے کے لئے کیا کردار ادا کرنا ہے کیا حکمت عملی ہونی ہے اس پر کوئی بات چیت ابھی تک نہیں ہوئی
بجٹ کے حوالہ سے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلواسطہ ٹیکس سے 242 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہی، تباہی سرکار اب پیٹرولیم لیوی کو ایف بی آر کی وصولی میں شامل کر رہی ہے، پیٹرولیم لیوی کی رقم این ایف سی میکینزم کے مطابق فیڈرل ڈویژبل پول میں شامل نہیں ہوگی،اپوزیشن عوام دشمن بجٹ کو مسترد کردے گی، کیا آئی ایم معیشت چلائے گی؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا اب میکرو اکنامک شعبے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے،
دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل کا کہنا ہے حکومت ملک کے عوام کے تحفظات دُور کرنے کے لئے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔ آئندہ بجٹ عوام دوست ہو گا جس میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار ارب روپے سے زائد ہوگا۔ بجٹ میں 500ٹیرف لائنزختم کرنےکےساتھ ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ زیرغور ہے۔بجٹ خسارہ 35ارب روپے متوقع ہے،دفاع کیلئے 1320ارب روپے مختص کئے جاسکتے ہیں۔آئندہ مالی سال معاشی ترقی کا اندازہ 4اعشاریہ 8فیصد ہوگا،زراعت کا ساڑھے 3فیصد،صنعتی شعبے کا ساڑھے 6فیصداور خدمات کے شعبے کی ترقی کا تخمینہ 4اعشاریہ 8فیصد لگایا گیا ہے۔
نواز شریف کو پاکستان واپس لانے وزیراعظم کی کوششیں تیز ہو گئیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا آئندہ ماہ دورہ برطانیہ کا امکان ہے
وزیراعظم کو 8جولائی کو ہونیوالے پاک انگلینڈ میں پہلے ون ڈے میچ دیکھنے کی دعوت دی گئی ہے وزیراعظم کے ممکنہ دورہ برطانیہ کے حوالے سے شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے حتمی طور پر فی الحال وزیراعظم عمران خان کا دورہ برطانیہ طے نہیں ہوا،شیڈول کے بعد وزیراعظم کے دورہ برطانیہ کو حتمی شکل دی جا سکے گی،وزیراعظم ممکنہ دورہ برطانیہ میں دو طرفہ تعلقات ، تجارت پر بات چیت کریں گے،وزیراعظم ممکنہ دورہ برطانیہ میں برطانوی ہم منصب سے ملاقات کریں گے،ملاقات میں افغان امن عمل سمیت خطے کی صورتحال پر بات چیت کی جائے گی
واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم عمران خان کی برطانوی ہم منصب سے ٹیلی فونک بات چیت ہوئی تھی جس میں برطانوی وزیراعظم نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی اس موقع پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ افغان حکومت کی سفارتی اور ترقیاتی مدد جاری رکھے گا۔
بورس جانسن نے یواین ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کے کامیاب انعقاد پر وزیراعظم عمران خون کو مبارکباد دی اور دونوں رہنماؤں نے کوروناکےخلاف مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق کیا۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کہہ چکے تھے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے لئے برطانوی ہم منصب سے بات کرنا پڑی تو کروں گا، نواز شریف علاج کے لئے لندن گئے تھے لیکن تا حال واپس نہ آئے، اب وزیراعظم عمران خان ممکنہ دورے کے دوران نواز شریف کی واپسی کی بات کرتے ہیں یا نہیں یہ آنیوالے دنوں میں پتہ چلے گا ،
سینیٹ انتخابات، دوبارہ گنتی کی درخواست،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست خارج کر دی
الیکشن کمیشن نے تاج آفریدی کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں 4رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا
درخواست گزار تاج آفریدی کے وکیل وسیم سجاد الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تھے تاج آفریدی نے خیبرپختونخوا سے ذیشان خانزادہ کی کامیابی کو چیلنج کیا ہے
واضح رہے کہ کے پی کے سے کامیاب ہونے والے سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹفکیشن جاری کر دیا تھا .الیکشن کے بعد ذیشان خانزادہ کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا .ذیشان خانزادہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے
اسلام آباد سے سینیٹ کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی جیت گئے تھے اور حفیظ شیخ ہار گئے تھے تا ہم چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں گیلانی ہار گئے تھے، گیلانی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا، گیلانی نے دوبارہ اپیل کی جو ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے، یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا ہے
بھارت میں پاکستانی ہندوؤں کا قتل، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ میں بھارت میں 11 پاکستانی ہندووَں کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی یقین دہانی پر کیس نمٹا دیا عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے وزارت خارجہ کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی،حکومت کے پالیسی میٹرز میں عدالت مداخلت نہیں کرتی ،وزارت خارجہ کے مطابق معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں عدالت کیا کر سکتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ عدالت وفاق کو ہدایات جاری کرے یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پالیسی میٹر ہے، عدالت اس میں کوئی ہدایت نہیں دے گی
مقتول ہندوؤں کے خاندان کی شریمتی مکھنی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکررکھی ہے بھارت میں ایک ہی خاندان کے11 پاکستانی ہندوؤں کو زہر کا ٹیکا لگا کرقتل کیا گیا تھا
واضح رہے کہ 9 اگست کو بھارت میں 11 پاکستانی ہندو پراسرار طور پر ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی میڈیا نے کہا تھا کہ پاکستان سے جانے والے ہندو راجستھان کے ضلع جودھپور میں رہائش پذیر تھے، جاں بحق ہونے والوں پورے خاندان کا صرف ایک فرد ہی زندہ بچا تھا۔
ایف اے ٹی ایف پر بڑی کامیابی ، پاکستان تاریخ رقم کرنے جارہا، سنیئے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف والا معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے ۔ پاکستان نے چالیس میں سے اکتیس شرائط مکمل کرلی ہیں ۔
اور پاکستان اب ایشیا پیسیفک گروپ کی توسیع شدہ سے ’فالواپ فہرست‘ میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں کسی بھی ملک کی جانب سے صرف 2 سال میں20 معیارات میں بہتری بے مثال ہے۔ یہ وفاق میں
14 اور صوبائی سطح پر 3 قوانین میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ یہ 20 سے زائد وزارتوں اور محکموں کے نمائندوں پر مشتمل ایف اے ٹی ایم کی پوری ٹیم کی انتھک کوششوں کے ممکن ہوا ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس تک گرے لسٹ میں ہی رکھا گیا ہے تاہم اس کی ریٹنگ بہتر کی گئی ہے۔ دراصل سفارشات پر عمل درآمد سے پاکستان کی فیٹف معاملات پر سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیررفنانسنگ کےلیے عالمی معیار پر پورا اترا ہے۔
اس معاملے پر پاکستان نے قانون سازی بھی کی ہے اور کئی ایسے اقدامات بھی اٹھائے ہیں جو کہ کافی مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن اب یہ معاملہ صرف قانون سازی کی حد تک نہیں رہا بلکہ اس پر سفارتی محاذ پر بھی لابنگ کرنے کی ضرورت ہے جو کہ اس بار نظر نہیں آ رہی۔ کیونکہ ہم کو نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرانا چاہتا ہے۔
اگر حقائق دیکھے جائیں تو پاکستان بطور ریاست کبھی منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں رہا مگر بھارت نے ایف اے ٹی ایف کے رکن ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرادیا۔
پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے دیگر عوامل بھی تھے۔ پاکستان کا نام بھارت کی طرف سے اسکے پاکستان کیخلاف بغض و عناد کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا۔ اس لیے سفارتی محاذ پر پاکستان کو آنکھیں کھولی رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کی طرف سے یقین ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان رواں اجلاس کے دوران گرے لسٹ سے نکل آئیگا مگر یہ اتنا آسان اس لئے بھی نظر نہیں آرہا کہ عالمی سیاست پاکستان کی مواقفت میں نہیں ہے۔ آج ایف اے ٹی ایف کا اجلاس پیرس میں ہو رہا ہے۔ فرانس نے پہلے ہی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کی سفارش محض اس بنیاد پر کر دی کہ ناموس رسالت کے حوالے سے فرانسیسی صدر کی خباثت پر پاکستان کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔ ادھر ڈینئل پرل کے قتل کے فیصلے پرامریکہ بھی تحفظات کا اظہار کرتا آرہا ہے۔ بلاشبہ فیصلہ میرٹ پر ہوا تو پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائیگا۔ پر آپکو کو پتہ ہے کہ عالمی منظر نامے میں میرٹ اور انصاف کی بات کمزور کرتا ہے ۔ ہم کو پہلے سے ہی ہر حوالے سے تیاری رکھنی چاہیے ۔
۔ کیونکہ اگر جائزہ لیا جائے تو بھارت گرے لسٹ میں شامل ہونے کے
criteria
پر پورا اترتا ہے۔ مگر وہ محفوظ اس لئے رہے گا کہ اسکی حمایت میں کئی ممالک قرارداد مسترد کرنے کیلئے تیار ہونگے۔ حالانکہ جن بنیادوں پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا ۔ بھارت اس سے کہیں زیادہ دہشت گردوں کی سرپرستی اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہے جس کے ٹھوس ثبوت امریکہ سمیت کئی ممالک نے دیئے ہیں۔ چند ماہ قبل بھارت کے
44
بنک ریاستی دہشت گردی میں منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تھے ۔ لیکن اس کیخلاف ایسی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی جس سے ایف اے ٹی ایف کے دہرے معیار کا عندیہ ملتا ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں ابھی بھی ایف اے ٹی ایف کے خیال میں پاکستان کو کالعدم تنظیموں پر مزید سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے، گو پاکستان نے ایسے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی مزید کارروائی کا بھی مطالبہ سامنے آ سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ایسے ادارے موجود ہیں جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات تو اٹھا رہے ہیں لیکن نئے قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ابھی وقت درکار ہے۔
۔ تاہم افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں آپریشن ردالفساد کے چار سال پورے ہونے کے موقع پر بریفنگ کے دوران فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا تھا۔ کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ان کی آبزرویشنز پر بہت کام کیا گیا اور ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بہت پرامید ہیں۔
آسان الفاظ میں ہاتھی نکل گیا ہے اب اس کی صرف دم باقی ہے۔ امید ہے یہی مثالی روش اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت آئند ہ بھی قوم کو سرخرو کریگی۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی معیشت کو ناقابل یقین مسائل میں الجھایا گیا، اقتصادی محاصرے میں لینے کی بہت سی کوششیں ہوئیں۔ مگر پاکستانی معیشت اس وار کو بھی سہہ گئی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے بلیک لسٹ کے خدشے کی کیا کیا کہانیاں بنائی گئیں، لیکن پاکستان نے مکمل ذمے داری، محنت، باریک بینی، اعداد و شمار کی صحت، تکنیکی سفارشات اور شرائط کی تکمیل میں کوئی سقم نہ چھوڑا اور عالمی منظر نامے پر ایک شاندار فیئر پلے کے ساتھ اقتصادی امتحان میں سر خرو کر دیا ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے نئے ادارے قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئے ادارے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کام کریں گے۔ یہ نئے ادارے نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایف ایم یو، نیکٹا، اے این ایف اور صوبائی اینٹی کرپشن محکموں کے تحت قائم کیے جائیں گے۔ نئے اداروں میں درجنوں خصوصی پراسیکیوٹر بھرتی کیے جائیں گے۔ شرائط پوری کر کے رپورٹ فیٹف کو پیش کی جائے گی۔
اب تک پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف میں منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے فنڈنگ کرنے کے مقدمات کی سماعت کم سے کم وقت میں کی گئی ہے۔ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے فنڈنگ کرنے والوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کی گئی ہے اور ان کا دائرہ اقوام متحدہ کی ہدایات کی روشنی میں بڑھایا گیا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے عدلیہ اور متعلقہ اداروں میں خصوصی افسران تعینات کیے گئے ہیں اور انہیں تربیت بھی دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی نامزد کردہ 1267 کالعدم تنظیموں کا خاتمہ کیا گیا اور عالمی ادارے کے نامزد کردہ
1373 افراد کو سزائیں دی گئی ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے اثاثے اور بینک اکاؤنٹس ختم کیے ہیں اور اُن کے اثاثے اور دیگر جائیدادوں کو منجمد کیا گیا ہے۔
کالعدم تنظیموں کے زیرانتظام چلنے والے مدارس اور مساجد سرکاری تحویل میں لیے گئے ہیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کی فنڈنگ کرنے والے اداروں کے عہدیداروں کو سزائیں دیں اور اس سلسلے میں بھرپور حکمت عملی وضع کر کے اس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کی فنڈنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں کیں۔ حکومت نے پاکستان نے مدارس کو اپ گریڈ کر کے اسکول کے مساوی بنایا اور مدرسہ اصلاحات کے ذریعے مدارس کی اپ گریڈیشن کی۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مدرسہ اصلاحات کر کے مدارس کو انتہا پسندی سے پاک کیا۔ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان
SECP
صوبائی اور ضلعی حکومتوں اور انتظامیہ کے درمیان مکمل ضابطہ کار وضع کیا گیا اور ایسا نظام بنایا گیا کہ اب کالعدم تنظیموں کو وفاق سے منجمد کردیا جائے تو وہ صوبوں اور اضلاع میں کسی دوسرے نام سے کام نہیں کرسکیں گی۔
پاکستان نے ہنڈی اور حوالہ کی روک تھام کے لیے بینکنگ چینلز کو مربوط کیا۔ روشن ڈیجٹل اکاؤنٹس کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر قانونی راستے سے پاکستان منگوانے کا اہم سنگ میل عبور کیا۔
ہنڈی اور حوالہ کی موثر روک تھام کے سلسلے میں پاکستان زمینی، فضائی اور سمندری راستوں سے کرنسی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی معیار کے اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کے حصول کے لیے ملک میں کمپنیز ایکٹ 2017 میں ضروری ترامیم کی ہیں جس سے بےنامی کمپنیز مکمل طور پر ختم ہوجائیں گی۔ کمپنیوں کو حقیقی اور اصل مالک کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ اس طرح حصص کی لین دین میں مشکوک ترسیلات کا بھی وجود ختم ہوجائے گا۔
کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن کے 122 کے ساتھ ہی سیکشن123 کا بھی اضافہ کیا گیا جس کے تحت کمپنی کو اصل مالک ظاہر کرنا ہوگا۔ کمپنی اور اس کی ذیلی کمپنی کے بھی حقیقی مالک کا نام بتانا ہوگا۔ کمپنیز سے فائدہ اٹھانے والے بڑے شیئر ہولڈرز کی تفصیلات دینا ہوں گی۔
اس قانون کے تحت کسی بھی کمپنی میں محض 25 فیصد حصص رکھنے والا مالک تصور کیا جائے گا اور اسے اپنے ذرائع آمدن ظاہر کرنا ہوں گے۔ یہ قانون دنیا کے سخت ترین کارپوریٹ لاء میں سے ایک ہے۔ اس طرح کے قوانین کے ماحول میں سرمایہ کار گھٹن محسوس کرتے ہیں اور سرمایہ کاری سے ہچکچاتے ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسی کمپنیز ایکٹ کی سیکشن کے60 میں اب سیکشن 60 اے بھی شامل کی گئی۔ سیکشن 60 اےکے تحت بیریئر شیئرز ہولڈ کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔
سیکشن 60 اے کے تحت کالعدم تنظمیوں کو کمپنیوں کے شیئرز نہیں مل سکیں گے اور شیئرز کی لین دین شکوک و شبہات سے پاک ہوجائے گی۔ اس طرح شیئرز کی لین دین کے ذریعے مشکوک ترسیلات کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔
پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے دیے گئے اہداف میں سے آخری شرط جزوی طور پر پوری کی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان پوسٹ کے لیے نئی اسکیمز پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تاہم ایف اے ٹی ایف چاہتا ہے کہ پاکستان پوسٹ کی تمام بینکنگ ٹرانزیکشنز کی اسٹیٹ بینک نگرانی کرے اور اس کی ادائیگیاں بھی اے ٹی ایم سے ہوں۔
اس سلسلے میں پاکستان بھرپور کوششوں میں مصروف ہے لیکن یہ نظام اتنا پیچیدہ اور بوسیدہ ہے کہ اسے اپ گریڈ کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ پاکستان پوسٹ ملک کے ایسے علاقوں میں بھی بینکنگ، سرمایہ کاری، پینشن اور دیگر مالیاتی امور سرانجام دیتا ہے جہاں مواصلات کی سہولت نا ہونے کے برابر ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بھی بتا دوں کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر جو شرائط عائد کی ہیں اور جن شعبوں میں پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے اس پر عملدرآمد کرنا کسی ایک حکومتی ادارے کا کام نہیں ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ، حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر سطح پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کو جلد از جلد قانون سازی کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے عملدرآمد کے طریقہ کار کو بھی وضع کرنا ہوگا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اور ذرا تھوڑا ہٹ کر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پاکستان مخالف تصور نہیں کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت رُکے گی تو اس کا فائدہ قانونی طریقے سے کمانے والے عام عوام کو ہوگا۔
۔ حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی، قانونی لین دین میں اضافے سے ٹیکسوں کی وصولی بھی بہتر ہوگی، سب سے بڑھ کر دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری پر کاری ضرب لگنے سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فی الحال حوصلہ افزاء چیز یہ ہے کہ چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکی، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کے بھرپور حامی ہیں۔۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ہر حکمت عملی باہمی رضا مندی سے طے ہوتی ہے جب ڈرنے ڈرانے کا وقت آتا ہے تو نواز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ڈیل کرنی ہو، لین دین یعنی آفر آئے تو پھر محمد شہباز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں۔
۔ شہباز شریف کی رہائی کے پیچھے تو سب ہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی پلان ہے جس کی وہ تو رازداری کر ہی رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے کھلم کھلا عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم کے طور ان کا نام لینا شروع کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے اصل کہانی آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔
۔ ابھی آپ سیاست کے رنگ دیکھیں کہ جیسے سب جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو گلے لگا لیا ہے جب کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لئے پی ڈی ایم کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری بھی نواز شریف اور مریم کو طعنے دے رہے ہیں مگر انھوں نے ساتھ ببانگ دہل یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی شہباز شریف کے موقف کو ہی مسلم لیگ (ن) کا
’’بیانیہ‘‘
سمجھتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے عبوری مدت کے لئے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
۔ اس لیے یہ قابل غور چیز ہے کہ جب سے شہباز شریف متحرک ہوئے ہیں مسلم لیگ(ن) کے جارحانہ بیانات میں کمی آ گئی ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اب عمران خان شکستہ حال پی ڈی ایم سے خوفزدہ نہیں بلکہ شہباز شریف کی
’’پھرتیوں‘‘
سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے مسلم لیگ ن سے قابل قبول شخصیت شہباز شریف ہیں۔
جب کہ مسلم لیگ ن کے اندر بھی طاقت ور عناصر جو خود وزارت عظمی کے منصب پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں شہباز شریف کی راہ میں کانٹے بچھا رہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ اگر شہباز شریف ایک بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے اور قومی حکومت کے اس منصوبے کا چوہدری نثار علی خان بھی حصہ بن گئے تو پھر ان کو ہٹانا ممکن نہیں ہو گا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب یہ بات برملا کہی جارہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بننے کی راہ میں حائل نہیں۔ اسی لیے وہ عبوری مدت کے لئے قومی حکومت کے قیام کی تجویز کی منظوری حاصل کرنے کے لئے لندن جانا چاہتے ہیں ۔
۔ کیونکہ اشارہ دینے والوں نے نہ صرف اشارہ دے دیا ہے بلکہ دو حرفی بات کہہ دی ہے کہ ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی لیکن اگر تبدیلی کی خواہش ہے تو پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لائیں۔ دوسری طرف سے جواب ملا ہے۔ ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کی جائے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی نہیں لانی بلکہ باہر سڑکوں پر مظاہرے ریلیاں اور مناسب طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے لیکن ابھی الیکشن کرانے ہیں تو کرا لیں ہم تیار ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مگر شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ اپنی شیڈو کابینہ بنائی جائے۔ سیاسی جلسے جلوسوں، ریلیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
۔ جبکہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے پہلے دس وزارء کی شیڈو کابینہ کی فہرست بنا کر ڈیوٹیاں بھی لگادی ہیں کہ دو سال میں ایسی پلاننگ کریں کہ ہم حکومت لیتے ہی ملک میں انقلابی اقدامات کر سکیں۔
۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ سسٹم میں موجود بیوروکریسی کے لوگ روازنہ کی بنیاد پر رپورٹ اپنے سابق سینئر کو دے رہے ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ویسے یہ حقیقت تو خود عمران خان کی تسلیم کردہ ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت تو مل گئی لیکن ان کی سرے سے تیاری ہی نہیں تھی۔ لہٰذا یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جس کو حکومت دیں، ساتھ تیاری کا بھی کہیں۔
۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ وزیراعظم عمران خان کیوں چینخ چلا رہے ہیں۔ وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن فوج سے کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت گرانے میں اُس کی مدد کرے۔ وہ یہ طعنے کیوں دے رہے ہیں کہ ایک طرف یہ لوگ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور دوسری طرف منتخب حکومت کو گرانے کے لئے فوج کی مدد مانگتے ہیں۔ آپکو سمجھ آجانی چاہیئے ۔
جب شہباز شریف کہتے ہیں کہ نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے تو اس کے پیچھے کیا سوچ ہے ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات یہ کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ یا عملی اقدامات، یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، کبھی چین یا امریکہ کی، کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی سکنڈے نیوین ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔ آخر وہ کون سا نظام ہے جو عمران خان لانا چاہتے ہیں۔ ان کی تان دو باتوں پر آکر ٹوٹتی ہے، ایک یہ کسی کو
NRO
نہیں دوں گا اور دوسری کسی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آئے دن سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں اور ان کے کرداروں کو محفوظ راستہ بھی دیا جاتا ہے۔کچھ ابھی تک ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور کچھ پتلی گلی سے نکل گئے ہیں۔
۔ شہباز شریف کے ملک سے باہر جانے کی کوشش تو تحریک انصاف کی حکومت نے بھرپور کوشش کر کے ناکام بنا دی یا کم از کم التوا میں ضرورڈال دی ہے ۔ مگر شہباز شریف کی تھیوری یا ڈاکٹرائن نے بہت سوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے بیشتر لیڈروں کی طرح شہباز شریف کا بھی یہی خیال لگ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو سپورٹ نہ کرے تو عمران خان الیکشن نہیں جیت سکتے۔ شہباز شریف اور ان کے ہم خیال لیڈروں کے خیال میں اگر ن لیگ کوانتخابی میدان میں کھیلنے کا برابر موقعہ ملا تو وہ تحریک انصاف سے بہت بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف ڈاکٹرائن ہے ہی یہی کہ مقتدرقوتوں کے ساتھ براہ راست ٹکرائو سے گریز کرتے ہوئے افہام وتفہیم کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے جائیں اور کبھی دو قدم پیچھے ہٹ ، کبھی دائیں بائیں ہو کر ، ضرورت پڑنے پر دو قدم آگے بڑھ کرتخت وتاج حاصل کرنے کی سیاست کی جائے۔
یہ شہباز شریف کا پرانا نظریہ اور سٹائل ہے۔ مسلم لیگ ن پر سب سے مشکل اور سخت وقت جنرل مشرف کی وجہ سے آیا۔ اس وقت بھی ان کی یہ سیاست کام آئی اور بعد میں جب نواز شریف کی واپسی ہوئی تب بھی یہ سیاست کام آئی ۔ مگر گیند پہلے بھی میاں نواز شریف کی کورٹ میں تھی، اب پھر انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کچھ عرصہ کے لئے پیچھے ہٹ کر خاموش رہنا پسند کریں گے؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہرحال نتیجہ جو بھی نکلے، پہلی بار عمران خان کی حکومت پریشان اور خوفزدہ نظر آئی ہے۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن نے خان صاحب کو چکرا دیا ہے ۔ نواز شریف کے بیانات کے برعکس شہباز شریف کی مفاہمت انہیں اپنی حکومت اور سیاسی مستقبل کے لئے زیادہ خطرناک لگ رہی ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہرحال اپوزیشن کے پاس اس وقت سب سے بہترین موقع یہ ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں حکومت کو سخت مقابلے سے دوچار کر دے،اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے،اس سے اپوزیشن کی عوام میں پذیرائی بھی بڑھ جائے گی۔
این سی اوسی کا اجلاس کاروباری طبقے کے لیے اچھی خبر
باغی ٹی وی : کرونا کے وار کم ہوئے تو کاروباری طبقے کو بھی ریلیف مل گیا. نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر این سی او سی نے کاروباری پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے کاروبار 2 دن کے بجائے ایک دن بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم دن کا فیصلہ تمام صوبائی اکائیاں خود کریں گی۔
یہ فیصلہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام سرکاری اور نجی ملازمین کیلئے ویکسی نیشن لازمی قرار دی جائے گی۔ نجی شعبوں سے منسلک ملازمین کو 30 جون تک ویکسی نیشن کرانا ہوگی۔
این سی او سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ویکسی نیشن کرانے کیلئے مختلف شعبوں کو مراعات متعارف کرائی جائیں گی۔ دفاتر میں 50 فیصد حاضری کو بڑھا کر واپس 100 فیصد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے.
ادھر این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 77 اموات ہوئی ہیں-
این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 43 ہزار 900 ٹیسٹ کئے گئے1 ہزار118 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 2.54 فی صد رہی۔
پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 21ہزار453 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9لاکھ36ہزار131 ہو چکی ہے۔
ٹرین حادثہ معمولی نہیں تھا بلکہ…وفاقی وزیر ریلوے کے تہلکہ خیز انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا ہے کہ ڈہرکی ٹرین حادثہ معمولی نہیں تھا
اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک جائے حادثہ پر موجود رہا،واقعے کے بعد زخمیوں کی اسپتال منتقلی کے لیے آرمی ہیلی کاپٹر زموجود تھے ڈہرکی ٹرین حادثے میں 63افراد جاں بحق ہوئے اور20زیرعلاج ہیں،ٹرین حادثے میں زخمیوں میں 3 کی حالت تشویشناک ہے،زخمیوں کے لواحقین کے ساتھ ہمارے افسران موجود ہیں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے دئیے جائیں گے،ٹریک کی بحالی سے متعلق ریلوے حکام نے کام کیا،2014 سےآج تک ریلوے پر کوئی خرچہ نہیں ہوا،
وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کا مزید کہنا تھا کہ ریلوے ٹریکس کی صرف مرمت ہوئی ہے،ٹرین کی رفتار کی حدمقرر کی ہے کیونکہ خطرناک ٹریک ہے،حادثے کاشکار ہونے والی ملت ایکسپریس کی 30 سے 40بوگیاں پرانی تھیں،کوچز 50سال پرانی ہیں،آٹھ میل کے ٹریک کے اندرکوئی خرابی تھی ،ایم ایل ون پر چینی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں ہمیں ہرصورت ریلوے کانظام بہتر کرنا ہو گا،ریلوے ٹریک کواپ گریڈ کرنا ہے اورکوئی راستہ نہیں چینی سفیرکو ایم ایل ون پرمختلف تجاویزدی ہیں،چینی حکام کو باور کرایا کہ فیزون میں انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے،3 بجکر 38منٹ پرملت ایکسپریس حادثہ ہوا،ٹرین کی 12بوگیاں ڈی ریل ہوئیں جوحادثے کی وجہ بنی جب حادثہ ہوا تو جانیں بچانے کابھی موقع نہیں ملا ملت ایکسپریس کی بوگیاں دوسرے ٹریک پر آگئیں اسی دوران دوسری ٹرین بوگیوں سے ٹکرا گئیں،ریلیف ٹرین 2گھنٹے تاخیرسے پہنچی ،ملت ٹرین جب کراچی سے چلی تو بوگیاں ہل رہی تھیں
واضح رہے کہ گزشتہ روز ٹرین حادثہ ہوا تھا جس میں پچاس سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، حادثہ کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی جس کے بعد پاک فوج، رینجرز سمیت دیگر ادارے ریسکیو و ریلیف کے لئے موقع پر پہنچے، شدید زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہیلی کاپٹر پر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں بھی زخمیوں کو منتقل کیا گیا اور انکا علاج معالجہ کیا گیا