Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خدارا پاکستان پر رحم کرو ، سینئر اینکر پرسن و صحافی مبشر لقمان نے حکومتی تباہ کاریوں سے پردہ اٹھا دیا

    خدارا پاکستان پر رحم کرو ، سینئر اینکر پرسن و صحافی مبشر لقمان نے حکومتی تباہ کاریوں سے پردہ اٹھا دیا

    سینئر اینکر پرسن و صحافی مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آپ یہ الفاظ ماضی میں کئی دفعہ سن چکے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ہر آمر جب بھی آیا اس نے یہ کہا لیکن پھر اس آمر کے ساتھ ساتھ یہ وقت بھی گزر گیا۔ سویلین حکومتیں بھی اس فقرے کا اپنے مفادات کے لیئے استعمال کرتی رہی ہیں لیکن اس وقت میں یہ سمجھتا ہو کہ پاکستان واقعی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اس کی کیا وجہ ہے۔
    امریکہ کا افغانستان سے اس طرح بھاگنا کسی بھی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ انیس سال کی لڑائی کے بعد طالبان اپنے آپ کو فاتح سمجھتے ہیں اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ جلد وہ پورے افغانستان پر قبضہ کر لین گے۔ لیکن امریکہ نے اب یہاں نہ رہتے ہوئے بھی غیر روئیتی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس کام کے لیئے افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر اڈوں کے لیئے نہ صرف خود پریشر ڈال رہا ہے بلکہ اس کے قریبی دوستوں سے بھی پریشر ڈلوا رہا ہے،

    سینئیر اینکر پرسن و صحافی مبشرلقمان نے مزید کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار ابھی ٹلی نہیں تو یورپ نے پاکستان کے خلاف جی ایس پی کا کٹا کھول دیا ہے، کبھی ہیومن رائٹ کے نام پر تو کبھی تشدد پسندی کے نام پر پاکستان کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ ظاہری سے بات ہے پاکستان کے یہ کبھی بھی مفاد میں نہیں ہو گا کہ اشرف غنی کی حکومت کو سپورٹ کرنے والے پاکستان سے بیٹھ کر طالبان پر بم برسائیں اور اس کابدلہ وہ پاکستان کی مظلوم عوام سے لیں یہاں پر بم دھماکے ہوں معصوموں کا خون بہے۔ اگرپاکستان یہ قدم اگر اٹھائے گا تو انتہائی مجبوری میں اٹھائے گا۔ یہی نہیں پاکستان میں گلگت بلتستان سمیت بلوچستان میں بھی علیحدگی پسندوں کو اربوں ڈالر کی مدد دے کر پاکستان میں بھونچال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اس صورتحال میں پاکستان پر پریشر ڈالا جائے گا اسے بتایا جائے گا کہ اگر تم نے یہ نہ کیا تو تمھارے ساتھ کیا ہو سکتا ہے تمھارے کتنے ٹکرے کیئے جائیں گے۔ ایک طرف سے بھارت تم پر یلغار کرے گا دوسری طرف سے طالبان، آئی ایس آئی ایس
    اور بھارت کی پراکسیاں تمھاری بوٹیاں نوچیں گے، عالمی ادارے اپنے قرضوں کی ادائیگی پر زور دیں گی اور بہانے بہانے سے تمھیں ڈیفالٹ کرانے کی کوشش کریں گی، یورپ اور امریکہ سے تجارتی پابندیاں لگیں گی اور تمھارے عرب میں پرانے ساتھی بھی تمھارا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تو ایسے میں پاکستان کو انتہائی پھونک پھونک کر قدم اٹھانا ہے اس کا ایک غلط قدم اسے کھائی میں پھینک سکتا ہے۔ الحمدللہ پاکستان کے پاس بہترین دماغ ہیں۔ جہاں پاکستان امریکہ اور چین کی لڑائی میں وجود برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے وہاں پاکستان نے روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں بھی انتہائی کامیابی سے نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کیئے بلکے ایٹمی طاقت بھی بن گیا اسی طرح کا امتحان اور خدشات ہمیں آج بھی درپیش ہیں۔
    امریکہ بھارت کے ساتھ ملک کر چین کے خلاف صف بندی کر چکا ہے، اور چین کے تمام اتحادیوں کو گرانا یا اپنے ساتھ ملانا اس کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
    لیکن ایسے میں ہم کیا کر رہے ہیں۔۔ کیا ہمارا رویہ بچگانہ ہے یا پھر ہم نے اپنے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ یا ہم میں کھل کر وہ فیصلے کرنے کی ہمت نہیں ہے جسے ہم اپنے ملک کے لیئے بہتر سمجھتے ہیں اور وہ عوامی رائے کے خلاف ہیں

    دیکھیں ہم بڑی باتیں سن رہے ہیں کہ کشمیر پر کچہڑی پک رہی ہے کیا کچہڑی پک رہی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں پاکستان کا مغربی بارڈر گرم ہونے والا ہے وہاں مشرقی بارڈر کو ٹھنڈا کیا جائے اس حوالے سے حکمت عملیاں بھی بن چکی ہیں لیکن ہم کر کیا رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق آرمی چیف نے خود بتایا ہے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ وقت کے وزیر اعظم کو بتائے بغیر نہیں کرتے نواز شریف تو دور کی بات شاہد خاقان عباسی کو بھی اہم ایشوز پر اعتماد میں لیا جاتا تھا اور انہیں اگاہ کیا جاتا تھا۔
    ظاہری سئ بات ہے عمران خان کو بھی آرمی چیف نے بھارت کے حوالے سے ماضی کی تلخیاں بھلا کر نیا سفر شروع کرنے کی بات کرنے سے پہلے اعتماد میں لیا ہو گا۔ لیکن ہوا کیا۔
    اس کے چند دن بعد حماد اظہر نےای سی سی
    کی کمیٹی میں بھارت سے تجارت کی اجازت دی، کابینہ میں معاملہ گیا تو اس وقت تک سوشل میڈیا پر میدان گرم تھا کہ جب تجارت بند کی تو اس وقت بھارت نے
    آرٹیکل
    370
    کو ختم کیا تھا کیا وہ اس نے واپس لے لیا ہے جو تجارت کھولی جا رہی ہے تو کابینہ نے اس کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے کمیٹی بنائی جس میں وزارت خارجہ سمیت کئی وزارتوں نے بریفنگ دی اور پھر فیصلہ یہ ہوا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیئے بغیر تجارت نہیں ہو گی۔
    ٹھیک ہے جی نہیں ہو گی۔ لیکن آپ سعودی عرب جاتے ہیں وہاں خفیہ بھارتی وفد کے آنے کی اطلاعات آتی ہیں۔ دفتر خارجہ کی بریفنگ جاری ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کشمیر کا حل دو طرفہ مذاکرات سے نکالا جائے گا۔ بھارت جس نے کشمیر پر کبھی بھی کسی دوسرے ملک کی ثالثی قبول نہیں کی اپنی زبان بند رکھتا ہے۔ پاکستان کی حکومت اپنی زبان بند رکھتی ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عوام کو ٹیسٹر لگانے کے لیئے کہا کہ ہمارا کنسرن تو35 اے

    ہے جس کے تحت بھارت نے غیر کشمیریوں کو وہاں زمین خریدنے، کاروبار شروع کرنے سمیت لوکل لوگوں والی سہولیات دے دی ہیں تاکہ رائے شماری کی صورت میں وہاں آبادی کا توازن بدلا جا سکے۔
    جبکہ آرٹیکل370بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، یہ بات جب میرے سامنے آئی تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا کہ وزیر خارجہ کی سپیڈ بہت تیز ہے اور انہوں نے اتنی جلدی یہ بات کر دی ہے۔
    جب پاکستان میں عوامی رائے کو اس کے خلاف دیکھا گیا تو فوری طور پر عمران خان اور وزیر خارجہ نے اس سے ری ٹریک کر لیا ؎۔ اور وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت بحال کیئے بغیر بھارت سے مزاکرات شروع نہیں کیئے جا سکتے۔ بلکل ٹھیک کہا پاکستان کی عوام یہی سننا چاہتی ہے لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آٓرہی کہ پاکستان کے مفاد میں کیا ہے پاکستان کی کیا پالیسی ہے اگر پاکستان کا واقعی یہ موقف ہے تو سعودی عرب میں بریف جاری کرتے وقت اسے کیوں نہیں ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ کیا پاکستان کے وزیر خارجہ اتنے معصوم ہیں کہ انہیں یہ بات تین دن پہلے نہیں پتا تھی کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ا س کا حل صرف اور صرف اقوم متحدہ کی قرار داد میں ہے۔ پہلے یہ بیان کیوں دیا گیا۔ کیا پاکستان کی عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔

    کیا کوئی پالیسی ہے کیا کوئی راستہ ہے جو اس حکومت نے چنا ہے۔ کیوں ہر بات کو ٹیسٹر لگا کر عوامی مقبولیت کے مطابق چنا جاتا ہے۔ کیا اس ملک کی خارجہ پالیسی عوام نے بنانی ہے اور اگر آپ کو عوامی رائے کا اتنا ہی خیال ہے تو اس طرح کی شرارت کیوں کر رہے ہو جس سے عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔

    میں ہاتھ جوڑ کر اس حکومت سے درخواست کرتا ہوں کے خدا کے لیے پاکستان کو کرکٹ کا میدان نہ سمجھیں، وزیر ایسے بدلے جا رہے ہیں جیسے فیلڈر بھی نہیں بدلے جاتے، حکمت عملی کوئی ہے نہیں۔۔ ایک دن ایک بات کی جاتی ہے اگلے دن دوسری بات کر دی جاتی ہے یہ نہ ہو کہ خدا نہ خواستہ ہم
    1971
    کی غلطیوں کو کھیل کود میں دھراتے رہیں۔ سنجیدہ کام سنجیدگی سے ہونا چاہیے۔ اسے کھیل تماشا نہیں بنانا چاہیے۔ دشمن اپنی حکمت عملی بنا چکا ہے اور اب اسے آپ کی غلطی کا انتظار ہے۔

    جب آپ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یو ٹرن لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا، مشکلات سے گھبرانا نہیں اور جو عزم کر لو اس پر ڈٹ جاو، پھر جب آپ اقتدار میں آتے ہیں تو قوم کو بتاتے ہیں کہتاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔آپ نے قوم کو بتایا کہ قرضہ کسی بھی ملک کے لیئے ٹھیک نہیں ہوتا لیکن آپ نے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ لے لیا۔

    آپ نے قوم کو بتایا کہ پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے غریب شخص پر دباو بڑھتا ہے لیکن پھر قیمتیں بڑھانے کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے۔
    آپ نے ن لیگ کی میٹرو پر تنقید کی اور کہا کہ یہ پیسہ عوامی فلاح کے لیئے استعمال ہونا چاہیے لیکن پھر آپ نے خیبر بختونخوا میں تاریخی میٹرو بنائی جس کا حشر اور داستانیں پوری قوم نے سنی۔
    آپ نے ڈالر بھی مہنگا نہیں کرنا تھا لیکن ڈالر اور اس سے جڑی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
    بھارت سے دوستی نہ کرنے کے سیاسی نعرے بھی لگائے گئے، نواز شریف کو مودی کا یار بھی کہا گیا لیکن پھر آپ نے بھارت سے دوستی کرنے کی کوشش کی۔

    آپ نے ایمنسٹی سکیم پر تنقید کی لیکن پھر اپنی حکومت میں ایمنسٹی متعارف کروائی۔
    آپ نے جاگیرداروں اور روائیتی آزاد امیدواروں کو بھی نہیں لینا تھا۔ آپ نے نظریاتی سیاست کرنی تھی لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ جس کو کہیں جگہ نہ ملکی اسے تحریک انصاف میں جگہ ملی۔

    آپ نے یہ سوچے سمجھے بغیر کے پاکستان میں حکمران بغیر سیکیورٹی اور پروٹوکول کے بغیر نہیں چل سکتے ان پر تنقید کی لیکن پھر جب آپ اقتدار میں آئے تو آپ کو پتا چلا کہ یہ ناممکن ہے۔ اور پھر آپ نے وہ سب کچھ لیا جو سابق حکمران لے رہے تھے۔

    آپ نے بیرونی دورے کمرشل فلائیٹوں میں کرنے تھے لیکن جہاں تک مجھے یار ہے آپ خصوصی طیارے پر سعودی عرب پہنچے۔آپ نے مختصر کابینہ بنانی تھی لیکن آپ کی کابینہ شائد تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ ہو۔ آپ نے سائیکل پر وزیر اعظم ہاوس جانا تھا جیسے مغرب میں ہوتا ہے لیکن آپ نے پچپن روپے کلومیٹر والے ہیلی کاپٹر کا انتخاب کیا۔

    خان صاحب اگر میں آپ کے قول اور فعل کے تضاد سنانا شروع کر دوں تو لوگوں کو سنتے سنتے نیند آ جائے گی، اس لیئے آج کئ لیئے اتنا ہی کافی ہے

  • فلسطینیوں کے حملوں کا خوف : اسرائیل نےغزہ پرکیمیائی حملہ کردیا

    فلسطینیوں کے حملوں کا خوف : اسرائیل نےغزہ پرکیمیائی حملہ کردیا

    مقبوضہ بیت المقدس :فلسطینیوں کے حملوں کا خوف : اسرائیل نےغزہ پرکیمیائی حملہ کردیا،اطلاعات کے مطابق دہشت گرد صیہونی فوجیوں نے عید الفطر کے موقع پر غزہ کے شہریوں پر ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے –

    غزہ میں وزارت صحت نے ڈاکٹروں کے ذریعے شہیدوں کی لاشوں کا معائنہ کئے جانے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے فلسطینیوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے –

    دہشت گرد صیہونی فوجیوں کے اس وحشیانہ اور سفاکانہ حملے کے بعد فلسطین نے ہیگ کی عالمی عدالت سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے کیمیائی حملے کی تحقیقات کرے –

    صیہونی فوج کے شدید حملوں کی وجہ سے غزہ کے اسپتالوں کو دواؤں اور دیگر طبی ساز و سامان کی قلت کا سامنا ہے جبکہ اسپتالوں میں کورونا کے مریض پہلے ہی سے زیرعلاج ہیں-

  • "ملّامنان نیازی”کون:امریکہ اوربھارت کےلیےکیاخفیہ مشن     سرانجام دیئے:اشرف غنی کوکیسےبچایا؟اوراب کیامنصوبے؟    اہم انکشافات آگئے

    "ملّامنان نیازی”کون:امریکہ اوربھارت کےلیےکیاخفیہ مشن سرانجام دیئے:اشرف غنی کوکیسےبچایا؟اوراب کیامنصوبے؟ اہم انکشافات آگئے

    لاہور:”ملّا منان نیازی”کون:امریکہ اوربھارت کےلیے کیاخفیہ مشن سرانجام دیئے:اشرف غنی کوکیسے بچایا؟اوراب کیامنصوبے ہیں؟اہم انکشافات آگئے،باغی ٹی وی کی تحقیقات کے مطابق پاکستان کے خلاف افغانستان میں امریکہ اوربھارت کے ہاتھوں‌ کٹھ پتلی بننے والی خفیہ طاقتوں اورسازشوں کا ظہورہونا شروع ہوگیا ہے

     

    اس وقت جب امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے ، امریکہ نے نکلنے سے پہلے پیچھے افغانستان میں اپنے خاص بندوں کوبہت حساس ذمہ داریاں بھی سونپ دی ہیں‌، ویسے تواطلاعات کے مطابق اس وقت افغانستان میں ایک درجن سے زائد گروہوں کے درمیان نیٹ ورکنگ کی ہے اورپھران کو اپنے اپنے علاقے اورافرادی قوت کے اعتبار سے مختلف قسم کے اہداف دیئے ہیں‌

     

    یہ بھی یاد رہےکہ اہداف مختلف ہیں مگران کا مقصد صرف ایک ہی ہےکہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان تعلقات کومعمول پرنہ آنے دینا اورپاکستان کوافغانستان میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے سے روکنے کےلیے پاکستان کوعدم اسحتکام جیسے معاملے میں مصروف رکھنا سمیت دیگراہم مقاصد ہیں

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے بھارت ، امریکہ اور ایران نیٹو فورسز کی مدد سے ان درجن سے زائد گروہوں کی سرپرستی کررہے ہیں‌،

     

    ان میں سب سے زیادہ معروف اورخطرناک گروہ "ملامنان نیازی” کا ہے جوافغان طالبان کونقصان پہنچانے میں کوئی موقع بھی ضائع جانے نہیں دیتے ، ملامنان نیازی اس وقت امریکی خفیہ اداروں ، بھارتی خفیہ ایجنسی را اورایسے ہی شمالی اتحاد کی مدد کرنے والے ایک ہمسائے ملک سے مدد ملنے کی بھی اطلاعات ہیں ، ملامنان نیازی جہاں ایک طرف افغانیوں کوایک مخلص اورطالبان لیڈرکے طورپرباورکرانے میں مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں‌وہاں ملا منان نیازی کوامریکہ اوربھارت کے مفادات کے لیے کام کرنے والے عالمی میڈیا کی درپردہ حمایت بھی حاصل ہے

    ملامنان نیازی بھی جب روس نے افغانستان پرحملہ کیا تواس وقت بچے کھچے اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے تھے اورپھرپاکستان اورپاکستانیوں نے اپنے ان افغان بے گھرمہاجرین کواپنا بناکران کی خدمت بھی کی ، ان کورہنے سہنے کےلیے بہترین مقامات بھی فراہم کیئے اورپھران کے بچوں کی تعلیم وتربیت کےلیے پاکستانی تعلیمی اداروں کےدروازے بھی کھول دیئے ،

    پھر جب افغانستان سے روسی فوجوں‌ کا انخلا ہوا توپھراس کے بعد افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت آئی توپھرملامحمد عمرنے ملامنان نیازی کوہرات صوبے کی اہم ذمہ داری سونپ دی

     

    اس دوران ملامنان نیازی نے ہرات میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے اوراس عہدے پرہمیشہ کےلیے براجمان رہنے کےلیے مقامی لوگوں کی حمایت لینے کےلیے کابل میں قائم افغان طالبان کی حکومت کے خلاف سازشیں کرنے لگے

    افغان امورکے ان دنوں کا جائزہ لیں‌تویہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ملامنان نیازی نے اس دوران افغآن طالبان کے خلاف بغاوت کا سماں پیدا کیا اورپھردرپردہ ہرات کے صوبے کے چیف کے طورپرقائم رہنے کےلیے افغآن طالبان کے مخالف دھڑوں اوردوستم ملیشیا سے مدد لینا شروع کردی

    دوسری طرف دوستم ملیشیا کے اہلکاروں افغان طالبان کے خلاف موقع غنیمت جانتے ہوئے ملامنان نیازی کی نہ صرف مدد کی بلکہ ہرات اورگردونواح سے افغان طالبان کااثرورسوخ ختم کرنے کے لیے ملامنان نیازی کومہرے کےطورپراستعمال کیا

     

    https://newlinesmag.com/photo-essays/afghanistans-post-nato-battle-lines/

    اس کےبعد جب امریکہ نے افغانستان میں افغآن طالبان کی حکومت ختم کی توملامنان نیازی چونکہ پہلے ہی افغان طالبان کے مخالف جانے جاتےتھے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ سے حملے سے پہلے ہی مضبوط روابط قائم کرلیے اوربظاہرافغان طالبان کے ہمدرد بنتے ہوئے جہاد کا اعلان کیا لیکن درپردہ امریکہ کی طرف سے وفاداری کےبدلے تحفظ کی بھیک بھی مانگی

    افغانستان کے ان کٹھن حالات کے متعلق ہرات کی کچھ اہم ذمہ دار شخصیات نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملامنان نیازی کوان دنوں ہی امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کی مدد بھی حاصل ہوگئی ، بعض ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جب امریکی مشاورت سے بڑی تعداد میں افغان کمانڈروں کوٹریننگ اوردیگرمعاملات طئے کرنے کے لیے بھارت بھیجا جاتا تھا توملامنان نیازی بھی ایک مرتبہ بھارت کا دورہ کرچکے ہیں

     

    ادھر ملامنان نیازی کےمتعلق مزید انکشافات بھی سامنے آئے ہیں ، ملامنان نیازی چونکہ ملامحمد عمرکے ساتھ پاکستان میں زیرتعلیم رہے اورملامحمد عمر نے ملامنان نیازی کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کی اورپھران کی خاطربڑی بڑی مشکلات بھی برداشت کیں اسی وجہ سے ملامنان نیازی ملامحمد عمر کی وفات تک ان کے قریب رہے اور ان کے خلاف زیادہ کھل سامنے نہیں آئے

     

    لیکن جب ملامحمد عمر کی وفات کی خبرجاری ہوئی توسب سے پہلے بغاوت کرنے والوں میں ملامنان نیازی ہی تھی جنہوں نے ہرات میں باقاعدہ اپنے الگ طالبان گروپ کا اعلان کرکے افغان طالبان کی اجتماعییت کوپارہ پارہ کرنے کی خطرناک کوشش کی

    اس کےبعد ملامنان نیازی نے ہرات اورگردونواح کے علاقوں میں اپنے سابقہ تعلقات اورجدوجہد کے پس منظرمیں اپنا الگ دھڑا بناتے ہوئے افغان طالبان کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کردیا اوردوستم ملیشیا کے وفاداروں کی مدد سے علاقے سے افغان طالبان کونکالنے کے ان پربڑے خطرناک حملے بھی کیئے

     

    اس دوران جب ملامحمد عمر کی وفات کی خبرجاری ہوچکی تھی اورملامنصورافغان طالبان کے نئے امیر کے طورپرسامنے آچکے تھے توملامنان نیازی نے ملامنصورکی امارت کوقبول کرنے کے انکارکردیاتھا ، ویسے بھی اس سے پہلے ملامنان نیازی امریکہ اوربھارت کے لیے وفاداری کا حلف اٹھا چکے تھے توملامحمد عمرکی وفات اورملامنصور کی امارت کے اعلان کے بعد یہ کھل کرسامنے آگئے تھے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس وقت سے لیکراب تک ملامنان نیازی افغانستان میں افغان طالبان کے خلاف درپردہ بھی اوراعلانیہ جنگ بھی کررہےہیں ،ملامنان نیازی کے نظریات کوافغان عوام تک پہنچانے کے لیے مغربی اوربھارتی میڈیا کی ذریعے بہت زیادہ مدد کی گئی اورپھرایک وقت وہ بھی آیا کہ ہرات اوردیگرعلاقوں میں وائس آف امریکہ،وائس آف جرمنی ، ہندوستان ٹائمز،دی ہندو اورایسے ہے دیگرانڈین میڈیا چینلز نے اپنے افغآن بلٹن میں افغان طالبان کے مخالفین کوسہارا دینے میں بہت زیادہ کردار ادا کیا ، ملامنان نیازی بھی ان میں سے ایک ہیں جن کو خصوصی حیثیت حاصل تھی

    یہی ملامنان نیازی ہرات میں بیٹھ کرایک طرف امریکہ ،بھارت ، نیٹو سے مدد لے رہے تھے تواس کے بدلے میں وہ اشرف غنی کی حکومت کوسہارا دینے کےلیے پیادے کے طورپراستعمال بھی ہورہے تھے

    یوں یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا ، چلتا رہا ، لیکن منان نیازی ہرات کے علاوہ دیگرعلاقوں مین اپنا اثرورسوخ قائم کرنے میں ناکام رہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا ذمہ دارافغان طابان اورپاکستان کوالزام دیتے رہے ، اورپھران کے الزامات کا سلسلہ اس حد تک دراز ہوگیا کہ وہ اپنے گناہوں اورغلطیوں کوپاکستان کے کھاتے میں ڈال کربھارت اورپاکستان کے دیگرمخالفین سے اس آڑ میں مزید مدد لیتےرہے ہیں

    یہ بھی انکشافات سامنے آرہےہیں کہ ملامنان نیازی کے حمایت یافتہ ممالک میں کچھ بینک اکاونٹس بھی ہیں جہاں ان کے اکاونٹس میں ان کی تحریک اوران کی ذمہ داریوں کے لیے جو رقم تحفے کے طورپرآتی ہے وہ ان اکاونٹس میں جمع ہوجاتی ہے ، ان اکاونٹس کے بینکس اکاونٹ نمبرفی الحال نہیں بتائے گئے

    اب جبکہ امریکہ سخت ہزیمت اورشکست کے بعد افغانستان چھوڑنے پرمجبورہے تواس دوران سب سے زیادہ پریشانی بھارت اوران افغان طالبان مخالف گروہوں کو لاحق ہے جو یہ سمجھ رہےہیں‌کہ امریکہ کے جانے کے بعد افغان طالبان کے غیض وغضب سے وہ کیسے بچ پائیں گے

    ان پریشانیوں نے ملامنان نیازی کواورپریشان کردیا ہے اب وہ اپنے آپ کوبچانے اورمقامی لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کےلیے پاکستان اورافغآن طالبان پرالزامات لگانے میں کوئی لمحہ بھی ضائع نہیں کررہے ،

    ملان منان نیازی کوہرات میں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ، میری اطلاعات کے مطابق ہلمند میں لوگ سنگوریانو ملیشیا سے بہت تنگ آگئے ہیں۔ لوگوں کے مطابق یہ ملیشیا لوگوں کے اغواء ، چوری ، قتل اور دیگر جرائم میں ملوث ہے۔ یہ ملیشیا سابقہ کمیونسٹ جنرل جبار کے ہاتھ میں ہے۔ خبر کے مطابق اس ملیشیا میں ملا منان نیازی کے مسلح افراد بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ مل کر طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ مگر یہ ملیشیا جہاں بھی طالبان کے خلاف لڑنے نکلے ہیں عوام کے ساتھ انہوں نے انتہائی برا سلوک کیاہے۔

    یہ بھی خبردی گئی ہے کہ ملامنان نیازی پاکستان سے محبت کرنے والے افغانوں کے قتل اوران کے گھروں‌ کوتباہ کرنے میں بھی ملوث ہے ، یہ وہی ملامنان ہے جب روس نےافغانستان پرحملہ کیاتواپنے بچے کھچے خاندان کے ساتھ پاکستان پہنچےتوسب سے پہلے پاکستانیوں نے انصارکی طرح اپنے گھربارپیش کیے ، اپنی جائیدادیں پیش کیں ، تعلیم اورصحت کےلیے تمام وسائل فراہم کیے لیکن آج وہی ملامنان نیازی پاکستانیوں‌ کو نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں اچھے خیالات رکھنے والے افغانیوں کوماررہا ہے ، ان کے گھرگرا رہا ہے اور ان کوبے گھرکررہا ہے

     

    ملامنان نیازی پچھلے 5 سالوں سے ہرات ، ہلمند اوردیگرعلاقوں میں ان جرائم پیشہ وارداتوں میں ملوث پایا گیا ہے جن میں لوگوں‌ کولوٹ مارکے دوران قتل بھی کردیا جاتا ہے اوراس کے لیے یہ کام اتنا آسان ہےکہ ایک ایک واقعہ میں 30 ،30 افراد بھی جان سے ماردیئے

    بات ہورہی تھی کہ اب ملامنان نیازی پاکستان کے خلاف اتنا کھل کرکیوں آگیا ہے پہلے توملامنان نیازی کی دشمنی کے احساسات دیکھیں اورپھراگلی صورت حال سے آگاہ کرتا ہوں

    ملامنان نیازی کس طرح ہرات اوردیگر علاقوں میں دوستم ملییشیا اورشمالی اتحاد کے لوگوں کوپاکستان کے خلاف اکسارہے ہیں ذرا ملاحظہ کریں‌

    اے افغان اے مسلمان!
    امریکہ اور طالبان دونوں غیر ملکی مداخلت کرنے والے ہیں شکر ہے ، ناپاک امریکی جارہے ہیں وہ رضاکارانہ طور پر آئے اور اپنی مرضی سے چلے گئے

    لیکن خداوند پاک کے نام پر یقین رکھیں کسی بھی افغان کو یہ برداشت نہیں کہ وہ اس ملک کو پنجابی کرنلوں اور بڑی کمپنیوں پر چھوڑ دے۔

    ملامنان نیازی مزید زہراگلتے ہوئے کہتے ہیں کہ

    طالبان پنجاب کے غلام ہے اور ان کے ساتھ لڑنا ہی اصل جہاد ہے

    اس کے بعد ملامنان ان لوگوں‌کوجوافغآن طالبان سے محبت رکھتے ہیں کس طرح ان کواپنی وفاداری کا یقین دلاکران کے غضب سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ،

    ذرا ملاحظہ کریں‌
    میں طالبان ہوں .. میں اس طالبان کی طاقت جانتا ہوں .. پنجاب فوج کی مدد کے بغیر ، طالبان دو مہینے نہیں چل پائیں گے۔ یہ طالبان اور افغانوں کے مابین جنگ نہیں بلیک پنجاب اور افغانوں کے مابین جنگ ہے طالبان پنجاب کا خادم ہے ۔پنجاب اور مسلم قوم کے مابین جنگ ہے۔

    غلام ابن غلام سراج حقانی ، حمزہ حقانی ، انس حقانی سب پنجاب کے انتہائی قابل فخر غلام ہیں اللہ کی قسم ، انہوں نے پنجاب کے لئے اپنے والد کو بھی مار ڈالا
    نصیر حقانی کو اسلام آباد میں قتل کیا۔

    ملامنان نیازی جس نے پاکستان میں‌پرورش پائی ، پاکستانیوں کی محبت اوروفاداری کا کس طرح قتل کرتے ہیں یہ بھی ذراملاحظہ فرمائیں‌

    پاکستان کے اقدامات اور الفاظ منافقت سے بھرے ہیں

    منان نیازی کہتےہیں کہ :خلیل زاد آپ کیوں نہیں سوچ رہے ؟ کل ، پنجابیوں نے ملا کبیر اور پنجاب کے چھوٹے بیٹے غازی سراج حقانی کو اسلام آباد طلب کیا اور کہا کہ وہ اپنی جنگ جاری رکھیں۔

    طالبان کو کہا جا رہا ہے کہ اپنے ایران اور پاکستان کے ساتھ دوستیاں کی ہیں، جو کوئی کفار کے ساتھ دوستی کرے گا وہ کافر ہے تو لہذا آپ لوگ بھی کافر ہو گئے آپ لوگوں نے پاکستان جانےکے لئے داڑھیاں چھوڑی ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے آپ اپنی داڑھیاں چھوٹی کرتے تھے، اب بڑھانے لگے ہیں۔

    ملامنان نیازی کے فرمودات سن لیے ، خود بھارت کی گود میں‌ پل رہا ہے اوربھارت اورایران میں بینک اکاونٹس ہیں اورثابت یہ کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ اس کا اورافغانوں کا اصل دشمن بھارت اورعالم کفرنہیں بلکہ پاکستان ہے

    اب ملامنان نیازی نے ایک اورکہانی سنادی ہے اورکہتے ہیں کہ انہوں نے اشرف غنی کی حکومت کوبچایا تویہ تو میں پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ درپردہ ملامنان نیازی یہ کھیل کھیلتے رہے ہیں اورامریکہ اوربھارت کے ہاتھوں استعمال ہوکرافغان طالبان کوکابل سے دوررکھنے کے لیے وہ ملامنان نیازی کواشرف غنی کوتحفظ دینے کا خفیہ مشن سرا نجام دیتے رہے ہیں

    ملامنان نیازی یہ بھی کہہ رہے ہیں‌کہ وہ انہوں نے نیٹو کے خلاف جہاد کیا تویہ وہ کیوں نہیں بتاتے کہ جب نیٹو ،امریکہ اوردیگرقوتیں افغستان کے چپے چپےسے افغان طالبان کوتلاش کرکے ان کے خلاف کارروائیاں کررہے تھے توہرات میں وہ کیوں محفوظ رہے ، ہرات میں ملامنان نیازی کولاجسٹک سپورٹ کس نے دی ، اگروہ خود نہیں بتائیں گے تواگلی باریہ بھی بتادوں‌گا کہ ملامنان نیازی کو لمحہ بہ لمحہ حالات سے باخبرکون رکھ رہا تھا اوران کے خلاف کیوں نہ کارروائی کی گئی جبکہ وہ خود اپنے آپ کوطالبان کمانڈربھی کہتے ہیں‌

    ملامنان نیازی یہ کیوں نہ بتارہےکہ ان کے پاکستان اورطالبان مخالف غیرملکی قوتوں سے کیا معاملات چل رہے ہیں‌، ان کے گروہ کو ماہانہ تنخواہیں کون ادا کررہاہے ، ان کے گھروں کے چولہے کون جلا رہے ہے جبکہ بقول ملامنان نیازی کے کہ وہ توپہاڑوں میں‌لڑرہے ہیں ، وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ہرات میں ملامنان نیازی کی سینکڑوں گاڑیوں کا فیول کون فراہم کررہا ہے،

    آخرکوئی توقوت ہے ناں‌ جو اس گروہ کی تمام مالی ضروریات پوری کررہا ہے اورپھریہ حقائق سے ثابت بھی ہوگیا ہے کہ ملامنان نیازی بھارت اورایران کی ہمدردیاں رکھتے ہیں‌

    اصل بات یہ ہےکہ عین اس و قت جب امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے ،سب سے زیادہ پریشانی بھارت اورامریکہ کےساتھ ساتھ ان قوتوں کوہے جویہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کےجانے بعد افغان طالبان ان کا کیا حشر کریں گے وہ اپنی بوئی فصل کواپنی آنکھوں‌کے سامنے کاشت ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں‌

    یہی وہ قوتیں ہیں‌جو سخت پریشان ہیں کہ اگراس موقع پر پاکستان اورافغان طالبان کے اثرورسوخ کونہ روکا گیا توپھرافغانستان میں بھارتی مفادات کا تحفظ کون کرے گا، بھارتی سرمایہ کاری کو کون بچائے گا ، امریکہ کے خفیہ مشن کوکون جاری رکھے گا ، یقینا دشمن اتنا توبے وقوف نہیں کہ وہ میدان خالی کرکے بھاگ جائے گا اور پکی پکائی کھیر پاکستان کےلیے چھوڑ دیے گا ایسا نہیں ہے

    میری اطلاعات کے مطابق پاکستان اورافغان طالبان کی مخالف قوتوں نے اپنا سارا بندوبست کیا ہوا ہے ، درجس سے زائد گروہوں کوباقاعدہ تربیت دی گئی ہے اورملامنان نیازی جیسے افراد کے ذریعے اس مشن کومکمل کرنے یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بھارتیوں ، امریکیوں اوران کے وفاداروں کوافغآن طالبان کےغیض وغضب سے بچانے کے لیے یہ مہرے تیارکیے گئے ہیں

    لیکن یاد رکھیں اب بھارت اورامریکہ کا دورگزرچکا جوکرنا تھا انہوں نے کرلیا اگراتنے ہی طاقتورہوتے توپھرپاکستان کی منتیں کرکے افغانستان سے واپسی کا محفوظ راستہ نہ مانگتے ، بھارت کی بھی چیخیں نکلیں گی ، اورپھرجوبھی ان کا وفادار ہوگا وہ بھی افغان قوم کے سامنے ننگا ہوگا ، کوئی ان کونہیں بچا سکے گا ،

    پاکستان کودھمکیاں دینے والے بھی سن لیں پاکستان ایک بہت بڑی طاقت بن کرابھررہا ہے ،پاکستان نے تمام بیرونی سازشوں اورپراکسیوں کا بھرپورجواب دیا ہے ، مسئلہ بیرونی نہیں ، مسئلہ اندورنی ہے ،

    پاکستان کو”ملامنان نیازی ” کی دھمکیوں‌ کا ڈرنہیں ، ملامنان نیازی کوبھی پتہ ہے کہ وہ کن ہاتھوں‌ میں کھیل رہے ہیں‌

    بیرونی سازشوں سے توپاکستان احسن انداز سے نمٹ رہا ہے مگروہ عناصرجوبیرونی قوتوں کے آلہ کاراوران کے نظریات کوپروان چڑھانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہےہیں ، ریاست ان کو بھی جانتی ہے ، اللہ اس ملک کوہمیشہ ہمیشہ سلامت رکھیں گے اورپاکستان سے مختلف معاملات کی آڑ میں دشمنی کرنے والے نیست ونابود ہوں گے ، ذلیل ورسوا ہوں گے یہ ملک قیامت تک قائم رہے گا

  • اہل اسلام  کے لیے اچھی خبر، وزیرا عظم نے فلسطین کے صدر  کو ٹیلی فون کردیا،اسرائیل بارے حکمت عملی طے

    اہل اسلام کے لیے اچھی خبر، وزیرا عظم نے فلسطین کے صدر کو ٹیلی فون کردیا،اسرائیل بارے حکمت عملی طے

    اہل اسلام کے لیے اچھی خبر، وزیرا عظم نے فلسطین کے صدر کو ٹیلی فون کردیا،اسرائیل بارے کیا کہا

    باغی ٹی وی : وزیرا عظم نے فلسطین کے صدر محمود عباس کو ٹیلی فون کرکے مکمل یقین دہانی کرائی ہے . وزیر اعظم عمران خان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ٹیلیفون کیا اور فلسطینی صدر سے اسرائیلی جارحیت پر گفتگو کی۔

    وزیر اعظم کی جانب سے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی اور وزیر اعظم نے فلسطینی صدر کو پاکستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا.

    وزیراعظم عمران خان کا فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا، رابطے کے دوران فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی جائز جدوجہد کے لئے پاکستان کی جانب سے مستقل حمایت کا عزم کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے ظالم اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ میں معصوم نمازیوں پر ہونے والے حملے پر مذمت کی اور غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد بچوں سمیت سویلین شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مل کر مسئلہ فلسطین پر کو اجاگر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے فلسطینی صدر کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کو متحرک کرنے میں پاکستان کی کوششوں کی یقین دہانی کرائی اور بحرانی صورتحال کے دوران پاکستانی قیادت کی جانب سے مکمل حمایت کا اعادہ کیا

  • پاکستان کرونا پر قابو پانے لگا ، وزیر اعظم نے خوشخبری سنا دی

    پاکستان کرونا پر قابو پانے لگا ، وزیر اعظم نے خوشخبری سنا دی

    پاکستان کرونا پر قابو پانے لگا ، وزیر اعظم نے خوشخبری سنا دی

    باغی ٹی وی : کورونا کے حوالے سے اچھی خبر آنا شروع ہوگئی ہے . اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وبا پر پاکستان نے قابو پانا شروع کردیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پوری امتِ مسلمہ کو عید مبارک ہو۔ آج کی عید بہت مختلف ہے، جسے 2 اہم وجوہ کی بناء پر ہمیں اپنےاہلِ خانہ کےہمراہ خاموشی سے گزارنی چاہئیے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ہم ان اہلِ کشمیر و فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں جنہیں قابض قوتوں کے ہاتھوں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اپنے بنیادی حقوق کی صریح پامالی کے ساتھ پیہم جبر و بربریت کا سامنا ہے۔

    وزیرا عظم نے کہا کہ ہم کو اس وبا پر احتیاط کر کے قابو پانا ہوگا، چنانچہ لازم ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر (SOPs) خاص طور پر عمل کرنا ہوگا .


    اس سے قبل وزیر اعظم نے پیغام دیا کہ ساری قوم کو عید مبارک ہو. ہم اس ماہ مقدس کے فیوض و برکات سمیٹ کر عید دیکھنے کے اہل ہوئے ہیں.
    انہوں نے کہا عید پرضرورت مندوں اورغریبوں کواپنی خوشیوں میں شریک کریں۔ احساس ہی ریاست مدینہ کا خاصہ تھا جو ہمارا رول ماڈل ہے۔ ہمیں چاہیےکہ پوراسال احساس کےاس جذبےکوساتھ لےکرچلیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ احتیاط ہمارے دین کا حکم بھی ہے اورسنت رسولﷺبھی۔ اللہ ہماری قوم کوعید کی خوشیاں نصیب فرمائےاورملک کوآفات سے محفوظ رکھے۔ ہم اس وقت کورونا وبا کی تیسری لہرسے نبردآزما ہیں۔ عیدکےموقع پراحتیاطی تدابیرپرسختی سےعمل کرناہوگا۔

    عمران خان نے کہامیری پوری قوم سے اپیل ہے کہ اس سال عید کی خوشیاں مناتے ہوئے اپنے ارد گرد بسنے والے بے کس و بے سہارا افراد خصوصا کورونا کی وجہ سے مشکلات کا شکار خاندانوں کا بھی خیال رکھیں.

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کا دورہ

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کا دورہ

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کا دورہ

    باغی ٹی وی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کا دورہ کیا جس کے دوران عید کی نماز وہاں تعینات جوانوں کے ساتھ ادا کی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہفوج قوم کی توقعات پرپورا اترنےکیلئےہر اقدام کرے گی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا اور جوانوں کے ہمراہ نماز عید الفطر ادا کی اور پاکستان کی خوشحالی اور امن کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول پر تعینات جوانوں کےجذبے،لگن اورپیشہ ورانہ تیاریوں کو سراہا، آرمی چیف نےکرونا روک تھام میں سول انتظامیہ سےفارمیشن کےتعاون کوسراہا.

    چیف نے سول انتظامیہ کو کوویڈ 19کے خاتمے کے لیے تعاون کی بھی تعریف کی، آرمی چیف نے وبا کے خاتمے کے لیے ہر ممکن احتیاط کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور بہتری پاک فوج کی اولین ترجیح ہے

  • اسرائیل کےایف 16،اپاچی ہیلی کاپٹرکےذریعےفضائی اور بحری حملے،فلسطینیوں کی لاشوں کے ڈھیرلگ گئے

    اسرائیل کےایف 16،اپاچی ہیلی کاپٹرکےذریعےفضائی اور بحری حملے،فلسطینیوں کی لاشوں کے ڈھیرلگ گئے

    مقبوضہ بیت المقدس :اسرائیل کےفضائی اور بحری حملے،فلسطینیوں کی لاشوں کے ڈھیرلگ گئے:ایف 16،اپاچی ہیلی کاپٹرکےذریعے بمباری ،اطلاعات کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم ‘حماس’ کے درمیان آج بدھ اورجمعرات کی درمیانی رات کو بھی لڑائی میں مزید اضافہ سامنے آیا ہے۔

     

     

     

    اسرائیل نے فضائی حملوں کے بعد سمندر سےبھی میزائل داغنےشروع کردیے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کےمطابق مجموعی طور پر تین روز میں 23 بچوں اور 8 خواتین سمیت 85 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ فلسطینیوں کےراکٹ حملوں میں 11 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

     

    https://twitter.com/suzanaaK/status/1392264359641063426

     

    آج بدھ اورجمعرات کی درمیانی شب کو اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر بمباری گذشتہ کئی سال کی شدید ترین ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

     

    ادھر ذرائع کے مطابق مصر نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی کارروائی روکنے اور کشیدگی میں کمی لانےکے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

     

     

    غزہ کے ساحل کےقریب متعدد اہداف پر اسرائیلی جنگی کشتیوں اور آبدوزوں ذریعے میزائل داغے گئے جب کہ فضائی حملوں میں اسرائیل کے ‘ایف 16’ طیاروں کے علاوہ ‘اپاچی ہیلی کاپٹر’ بھی حصہ لے رہے ہیں۔

     

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں ڈرون طیاروں‌کے ذریعے حملوں کی تیاری کرنےوالے ایک گروپ کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق تازہ کارروائیوں میں حماس کے کئی اہم رہ نما اور جنگجو مار ے گئے ہیں۔

    درایں اثنا اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ ‘طویل البنیاد’ جنگ بندی کے بغییر کوئی فائر بندی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اسرائیل میں دو ہفتے کے لیے ہنگامی حالت میں توسیع کا بھی اعلان کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نےدعویٰ‌کیا ہےکہ ‘حماس’ کے ملٹری انٹیلی جنس چیف فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے حماس رہ نما صلاح دھمان کے گھر پر بھی بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں۔

     

    اسرائیلی فوج نے مشرقی خان یونس بیت لاھیا کے مقام پر ایک موٹرسائیکل پر بھی حملہ کرکے اسلامی جہاد کے میزائل یونٹ کے تین جنگجوئوں‌کو ہلاک کردیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ کی پٹی پرجاری بمباری کے دوران حماس کے دو اہم رہ نما مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق غزہ سے داغے راکٹوں سے مزید دو اسرائیلی ہلاک ہوگئے ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان کاعیدالفطرکےموقع پرقوم کےنام محبتوں     بھراپیغام:اہل وطن اورملت اسلامیہ کودلی مبارک بادپیش

    وزیراعظم عمران خان کاعیدالفطرکےموقع پرقوم کےنام محبتوں بھراپیغام:اہل وطن اورملت اسلامیہ کودلی مبارک بادپیش

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا عیدالفطر کے موقع پر قوم کے نام محبتوں بھراپیغام:اہل وطن اور ملت اسلامیہ کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ملک وقوم کی خوشحالی اورترقی کی دعائیں بھی کیں

     

    وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر میں اہل وطن اور ملت اسلامیہ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نےہمیں رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ رب العزت ہمارے روزوں اور عبادات کو اپنی بارگاہ مبارک میں قبول فرمائے۔

    میرے عزیز ہم وطنو!

    رمضان المبارک میں اللہ تعالی نے ہمیں صبر و شکر اور اپنے نفس اور ضروریات پر قابو پانے کی جس عملی تربیت سے گزارا ہے اس کا مقصد ہمارے اندر دوسروں کی تکالیف، بھوک، پریشانی کا احساس پیدا کرنا ہے۔ احساس اور دوسروں کا درد ہی انسانی معاشرے کی اصل طاقت اور پہچان ہوتے ہیں اور یہی ریاست مدینہ کا خاصہ تھا جو ہمارا رول ماڈل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پورا سال اس جذبے کو ساتھ لے کر چلیں اور معاشرے کو انسان دوست بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

    میرے پاکستانیو!

    جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم اس وقت کورونا وباء کی تیسری لہر سے نبردآزما ہیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر میری پوری قوم سے درخواست ہے کہ عیدالفطر کے موقع پر کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے ایس او پیز پر مکمل طریقے سے عمل پیرا ہوں اور ہر ممکن احتیاط برتیں۔ احتیاط ہمارے دین کا حکم بھی ہے اور سنت رسول ﷺبھی۔

     

    آخر میں میری پوری قوم سے اپیل ہے کہ اس سال عید کی خوشیاں مناتے ہوئے اپنے ارد گرد بسنے والے بے کس و بے سہارا افراد خصوصا کورونا کی وجہ سے مشکلات کا شکار خاندانوں کا بھی خیال رکھیں۔ آئیے اس موقع پر ان افراد اور ان خاندانوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں جو بڑے مقاصد کے لئے بڑی قربانیاں دیکر قوم کا سر فخر سے بلند کرتے ہیں۔ عید کے اس پرمسرت موقع پر ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہماری قوم کو عید کی خوشیاں نصیب فرمائے اور ہمارے ملک کو آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین

    پاکستان پائندہ باد

  • یکم شوال کا چاند نظر آ گیا، عید الفطر جمعرات کو منائی جائے گی،رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کردیا

    یکم شوال کا چاند نظر آ گیا، عید الفطر جمعرات کو منائی جائے گی،رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کردیا

    اسلام آباد:یکم شوال کا چاند نظر آ گیا، عید الفطر جمعرات کو منائی جائے گی،رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق عید الفطرکا یکم شوال کا چاند نظر آ گیا، عید الفطر جمعرات کو منائی جائے گی۔

    عید الفطر کی رویت کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں چیئرمین مولاناعبدالخبیرآزاد کی سربراہی ہوا۔ اجلاس 5 گھنٹے سے زائد تک جاری رہا۔ اسکے علاوہ زونل اور ضلعی ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی اپنے اپنے متعلقہ مقامات پر ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہادتوں کے بعد فیصلہ کیا گیا یکم شوال جمعرات کو ہو گی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب سمیت دنیا کے کسی ملک میں گزشتہ روز شوال کا چاند نہیں دیکھا جاسکا جس کی وجہ سے بیشتر ممالک میں آج 30واں روزہ ہے اور عید الفطر جمعرات کو منائی جائے گی۔

    یادرہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر لکھا کہ اس وقت چاند کی عمر پاکستان میں 13 گھنٹے 42 منٹ ہے لہذا چاند کا آج (بدھ) کو نظر آنا ممکن ہی نہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جن حضرات نے عید سعودیہ کے ساتھ منانی ہے یہ ان کی آپشن ہے لیکن جھوٹ بول کر ماہ مقدس کا اختتام کرنا کہاں کی عقلمندی ہو گی، سیدھا کہیں کہ ہمیں عید افغانستان یا سعودیہ کے مطابق منانی ہے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ عید یا رمضان کا فیصلہ کرنا کسی وزیر یا حکومتی شخصیت کے لیے مناسب نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے سے پہلے اہم دینی و شرعی حکم کا فیصلہ دینا دینی شعائر کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، اس کام کے لیے حکومت کا متعین ادارہ اور جید علما سمیت متعلقہ اداروں کی نمائندگی موجود ہے، اور اس بات کا فیصلہ کرنا کسی حکومتی شخصیت یا وزیر کا کام نہیں ہے۔

  • خان صاحب آپ نے توامت مسلمہ کوحوصلہ دے دیا:قیادت کریں ہم تمہارے ساتھ ہیں:ترک صدرکاعمران خان کوفون

    خان صاحب آپ نے توامت مسلمہ کوحوصلہ دے دیا:قیادت کریں ہم تمہارے ساتھ ہیں:ترک صدرکاعمران خان کوفون

    اسلام آباد:خان صاحب آپ نے توامت مسلمہ کوحوصلہ دے دیا:قیادت کریں ہم تمہارے ساتھ ہیں:ترک صدرکاعمران خان کوفون ،اطلاعات کےمطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلیفون کیا ہے، دونوں رہنماؤں نے اسرائیلی حملے رکوانے کےلیے اقوام متحدہ اور اوآئی سی میں ملکر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    ترک صدرطیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان کومبارک باد دیتےہوئے کہا کہ آپ کی طرف سے امت مسلمہ کےلیے آوازکا بلند کرنا اوران کی مدد کوپہنچنے کی خواہش کااظہارکرنا ، اس سے امت مسلمہ کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں ، ترکی کو بھی آپ کی قیادت پرفخرہے، آگے بڑھیئے ہمیں‌آپ اپنے ساتھ پائیں گے

    تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجیب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلیفون کیا ہے، دونوں ممالک نے اسرائیل کی طرف سے رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصیٰ پر حملے اور غزہ پر ہونے والے بدترین حملوں پر تبادلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے واقعات کو عالمی قانون اور انسانیت کیخلاف قرار دیدیا۔ وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے عزم کا اظہار کیا کہ مل کر مظلوم فلسطینیوں پر حملے رکوانے کے لیے اس مسئلے کو مل کر اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا۔

    دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین اعلی سطح کے تبادلے کی رفتار جاری رہے گی۔

    دونوں رہنما اس بات پر متفق ہوئے کہ مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اٹھانے کے لیے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ مل کر اقدامات اٹھائیں گے۔

    ترکی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے افغانستان میں انخلا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے لئے سیاسی حل کی کوششوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔