Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امید ہےمستقبل میں بھی پاک امریکاباہمی تعاون جاری رہےگا  :آرمی چیف سےامریکی ناظم الامورکی ملاقات

    امید ہےمستقبل میں بھی پاک امریکاباہمی تعاون جاری رہےگا :آرمی چیف سےامریکی ناظم الامورکی ملاقات

    راولپنڈی:امید ہے مستقبل میں بھی پاک امریکا باہمی تعاون جاری رہے گا: آرمی چیف سےامریکی ناظم الامور انجیلا ایگلرکی ملاقات میں اہم گفتگو ، اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان امن عمل کے حوالے سے مخلصانہ حمایت کی ہے، امید ہے کہ مستقبل میں بھی پاک امریکا باہمی تعاون جاری رہےگا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر کی ملاقات ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر بھی بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں افغان امن عمل اور کورونا کے خلاف اقدامات سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن اور استحکام کے لئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید بہتر ہوگا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ امید ہے کہ مستقبل میں بھی پاک امریکا باہمی تعاون جاری رہےگا، پاکستان نے افغانستان امن عمل کے حوالے سے مخلصانہ حمایت کی ہے، خوشحال مستحکم، اور پر امن افغانستان خطے اور بالخصوص پاکستان کے حق میں ہے۔

  • اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کےقتل عام کا منصوبہ : غزہ کی پٹی میں وسیع آپریشن کی تیاریاں جاری

    اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کےقتل عام کا منصوبہ : غزہ کی پٹی میں وسیع آپریشن کی تیاریاں جاری

    تل ابیب :اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام کا منصوبہ : غزہ کی پٹی میں وسیع آپریشن کی تیاریاں جاری ،اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس دوران شدید ترین متبادل بم باری کے نتیجے میں اب تک 47 فلسطینی شہید اور 8 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔

    اسرائیل سے ذمہ دارذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں اپنا آپریشن وسیع کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی فضائیہ کا ایک چھاتہ بردار ڈویژن غزہ کے اطراف گامزن ہے۔

    اسرائیلی فوج نے حماس تنظیم کی عسکری انٹیلی جنس سیکورٹی کے سربراہ کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ فوج نے آج بدھ کی صبح بتایا کہ غزہ کی پٹی میں فضائی حملوں کے دوران میں حماس کے دو اہم کمانڈر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    ادھر اسرائیلی پولیس کے مطابق غزہ سے ہونے والی راکٹ باری کے نتیجے میں مزید دو افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب مصر غزہ کی پٹی میں زیادہ بڑے اسرائیلی وسکری آپریشن کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر رابطوں میں مصروف ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بھرپور میزائل حملے میں غزہ کی پٹی میں پولیس اور حکومتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ غزہ میں وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں کے پے در پے حملوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں پولیس کمان کے صدر دفتر کی تمام عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

    آج بدھ کو علی الصبح خطرے کے سائرن سنائی دیے گئے۔ علاوہ ازیں کئی زور دار دھماکے بھی سنے گئے۔ عبرانی زبان کے چینل 13 کے مطابق بئر السبع میں نیواتیم فضائی اڈے پر راکٹوں کی بارش کر دی گئی۔

    غزہ کی پٹی سے راکٹوں کی یہ برسات اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی جانب سے غزہ شہر کے وسط میں رہائشی عمارت الجوہرہ ٹاور کو تباہ کیے جانے کے بعد شروع ہوئی۔ عمارت میں 160 سے زیادہ فلسطینی گھرانے سکونت پذیر ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی طرف سے علاقے میں سخت فوجی آپریشن کی تیاریوں‌کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائیہ بھی الرٹ ہے اوروہ اس آپریشن کے دوران پیدل فوج کو کمک بھی فراہم کریں گی

    یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ اسرائیلی افواج کی تیاریوں سے ایسے ظاہرہورہا ہےکہ اسرائیل کسی بڑی جنگ لڑنے کے لیے تمام ترجنگی وسائل استعمال میں‌ لارہا ہے

    دوسری طرف یہ بھی خبریں ہیں کہ اگریہ فوجی آپریشن ہوتا ہے تواس کے نتیجے میں بہت زیادہ ہلاکتوں‌کا اندیشہ ہے جس سے حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ بھی ہے

  • عمران خان سفیرکشمیرکےبعدسفیرفلسطین بھی بن گئے       :اسرائیل کوسخت نتائج کی دھمکی:سلامتی کونسل ہل گئی

    عمران خان سفیرکشمیرکےبعدسفیرفلسطین بھی بن گئے :اسرائیل کوسخت نتائج کی دھمکی:سلامتی کونسل ہل گئی

    اسلام آباد/واشنگٹن/مقبوضہ بیت المقدس: عمران خان سفیرکشمیرکےبعدسفیرفلسطین بھی بن گئے:اسرائیل کوسخت نتائج کی دھمکی:سلامتی کونسل بھی ہل گئی،اطلاعات کے مطابق فلسطینیوں پراسرائیلی افواج کے حملوں اورفلسطینیوں کی شہادتوں کے بعد وزیراعظم عمران خان کی اسرائیل کوسخت نتائج بھگتنے کے لیے تیاررہنے کی دھمکی نے سلامتی کونسل کوہلا کررکھ دیا ہے

     

    اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے حوالے سے عالمی سلامتی کونسل کا نیا ہنگامی اجلاس آج بدھ کے روز ہو رہا ہے۔ اس بات کا اعلان سفارتی ذرائع نے منگل کے روز کیا۔ تین روز کے اندر یہ اپنی نوعیت کا دوسرا اجلاس ہو گا۔

     

     

    آج بند کمرے میں مقررہ اجلاس تونس، ناروے اور چین کی درخواست پر ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے پہلا اجلاس پیر کے روز تونس کی درخواست پر منعقد ہوا تھا۔ تاہم اس اجلاس کے اختتام پر سلامتی کونسل کا کوئی مشترکہ اعلان جاری نہیں ہو سکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکا نے "اس مرحلے پر” کوئی متن جاری کرنے سے روک دیا۔

     

    دریں اثنا مشرق وسطی کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے ٹور ونسلینڈ نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان بڑھتا ہوا تشدد ایک "بھرپور جنگ” تک پہنچا دے گا۔ ونسلینڈ نے فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری فائر بندی کو یقینی بنائیں۔

     

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کا کہنا ہے کہ  اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس بم باری کے تبادلے میں بچوں سمیت فلسطینی اور اسرائیلی ہلاکتوں پر رنجیدہ ہیں۔

     

    انہوں نے کہا کہ "فسلطینی سیکورٹی فورس انتہائی درجے کے تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اسرائیل میں رہائشی علاقوں پر اندھا دھند راکٹ اور مارٹر گولے داغے جانا قبول نہیں”۔

     

    اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے کمیشن کے ترجمان روبرٹ کولول نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم تشدد اور قومی انقسام پر اکسانے اور اشتعال انگیزی کی تمام صورتوں کی مذمت کرتے ہیں

    فرانس نے منگل کے روز اسرائیلی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا غیر ضروری استعمال نہ کریں۔

     

    جرمنی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ "اسرائیل پر راکٹ حملے ہر گز قبول نہیں ، انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے”۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم نے نہتے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیراعظم فلسطین کے ساتھ کھڑا ہوں۔وزیراعظم نے اسرائیل کوخبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ظلم وجبرکا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ، اگربند نہ ہوا توپھرظلم کا راستہ روکنے کا طریقہ ہمیں آتا ہے

    وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر امریکی دانشور نوم چومسکی کا قول بھی ٹویٹ کر دیا۔ نوم چومسکی نے اسرائیلی مظالم پر فلسطینی نوجوان کی داستان کو بیان کیا تھا۔

     

    یاد رہے گزشتہ روز ظالم اسرائیل کی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملے اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام مسلمان ممالک کو مسئلہ فلسطین پر یکجا ہونا پڑے گا۔

    عوام کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے مسجدالاقصیٰ میں بہت ظلم کیا، پاکستان نے اسرائیلی مظالم کی بھرپور مذمت کی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیساتھ بھی مسئلہ فلسطین پر بات کی، تمام مسلمان ممالک کو مسئلہ فلسطین پر یکجا ہونا پڑے گا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے 27 ویں شب کو مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر جو ظلم کیا، میں نے اس کی مذمت کرتا ہوں اوراسرائیل کوخبردار کرتا ہوں‌کہ وہ اپنی کمینی ، گھٹیا اوررزیلانہ حرکتوں سے بازآجائے ۔

     

    غزہ میں قیامت صغریٰ، صیہونی فورسز کی وقفے وقفے سے وحشیانہ بمباری سے شہدا کی تعداد 43 تک پہنچ گئی، جس میں 13 بچے بھی شامل ہیں جبکہ دو روز کے دوران 700 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    ایک دن میں سفاک اسرائیل کے اسی جنگی طیاروں نے غزہ پر بم برسائے، بارہ منزلہ رہائشی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ہسپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے، عورتوں بچوں سمیت کئی فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ پر حملوں میں اضافے کا حکم دے دیا۔

    وحشیانہ بمباری میں فلسطینیوں کے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ عورتیں اور بچے پناہ کی تلاش میں غزہ کی گلیوں میں دوڑتے رہے۔ شہدا کی تدفین کے دوران غمناک مناظر سامنے آئے، معصوم بچہ اپنوں کی جدائی برداشت نہ کرسکا، بھاگ کر بھائی اور والد کے جنازے کے پاس جا پہنچا، بچے کی بے بسی نے دیکھنے والوں کو رلا دیا۔ 11 سالہ بچے کے جنازے نے بھی کہرام مچا دیا

  • بھارت دنیا کے لئے خطرہ بن گیا،عالمی تھانیدار دوغلے پن کا شکار

    بھارت دنیا کے لئے خطرہ بن گیا،عالمی تھانیدار دوغلے پن کا شکار

    بھارت دنیا کے لئے خطرہ بن گیا،عالمی تھانیدار دوغلے پن کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت کے شہر ممبئی سے چند روز قبل ایٹم بم میں استعمال ہونے والی 7کلو گرام یورینیم چوری ہو گئی ۔ جس کی بھارتی مارکیٹ میں قیمت
    21کروڑ روپے بتائی گئی ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی چوری کیے گئے حساس تابکاری مواد کی برآمدگی کے متعدد واقعات بھارت کے مختلف علاقوں میں رونما ہو چکے ہیں جبکہ تازہ واردات میں بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ پکڑا جانے والا یورنییم انتہائی ریڈیو ایکٹو ہے۔ ماہرین کے مطابق دہشت گرد ریڈیو ایکٹو مواد کو کسی بھی روایتی ہتھیار سے جوڑ کر دھماکہ کر سکتے ہیں جسے ڈرٹی بم کا نام دیا جاتا ہے۔ 21 کروڑ روپے مالیت کے قدرتی یورینیم کا عام لوگوں کے ہاتھ لگنا، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور دیگر متعلقہ اداروں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ اس پر پاکستانی دفتر خارجہ اور وزیر خارجہ نے اظہار تشویش کیا جو کہ بالکل بجا اور درست ہے ۔ مگر دنیا کے تمام ادارے ، بڑے چئمیئن ملک بالکل خاموش ہیں ۔ دراصل بھارت دنیا کا پسندیدہ بچہ ہے چاہے کچھ بھی کرے اس پر دست شفقت رکھا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ واقعات وہاں متواتر ہوتے رہتے ہیں ۔ ۔ 2016ء میں مہاراشٹر سے نو کلوگرام یورینیم کی مقدار پکڑی گئی تھی۔ 2018ء میں کولکتہ سے 5 کریمنلز سے ایک کلو گرام یورینیم برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے ملزموں کو گرفتار کیا اور متعلقہ اداروں نے تحقیقات کیں لیکن یہ واردات کیسے ہوئی ۔ اس کی رپورٹ کبھی پبلک نہیں کی گئی۔۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جن میں یورینیم پکڑی گئی۔ جبکہ جرائم پیشہ افراد کئی بار یورینیم چرا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔۔ جس مقدار میں یورینیم بھارت میں سمگل ہو رہی تھی وہ ایکسرے مشینوں میں استعمال کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کس مقصد کے لیے استعمال ہونی تھی۔ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔ کیونکہ جہاں عالمی طاقتوں نے صرف نظر کیا ہو۔۔۔ تو بھارت کو تو ہلا شیری ملنی ہی ہے ۔ ۔ راجستھان کے روات بھاٹا نیوکلیئر پلانٹ میں اوپر تلے پانچ ہفتے میں دو واقعات میں تابکاری سے40 افراد متاثر ہوئے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام کبھی بھی محفوظ نہیں رہا ۔ کبھی یورینیم چوری ہوتی ہے تو کبھی سارا کا سارا سسٹم ہیک ہو جاتا ہے ۔ جبکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ترین ہے۔ گزشتہ سال امریکی ادارے نیوکلیئر سکیورٹی انڈیکس کی رپورٹ میں پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے بہتر تحفظ والا ملک قرار دیا گیا تھا ۔ بھارت کے 41 کے مقابلے میں پاکستان نے 47 پوائنٹ حاصل کیے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ بھارت میں یورینیم کا ریاستی کنٹرول سے باہر ہونا نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ایٹمی مواد کی سیکورٹی تمام ممالک کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرایسا کوئی واقعہ پاکستان میں پیش آیا ہوتا تو نہ صرف یہ کہ بھارت نے آسمان سرپر اٹھا رکھا ہوتا بلکہ بیشتر عالمی برادری بھی پاکستان کو ایٹمی صلاحیت کی حفاظت کے معاملے میں نااہل قرار دے رہی ہوتی۔ بھارت میں پائی جانے والی اس صورتحال کو دنیا کو چاہیئے کہ سیاسی مصلحتوں اور معاشی مفادات سے بلند ہوکر دیکھنا چاہیے اور نئی دہلی کو سخت وارننگ دی جانے چاہیئے اور عالمی اداروں اور دنیا کے تھانیداروں کو اپنا دوغلا پن چھوڑ دینا چاہیے ۔ کیونکہ خطرناک جوہری مواد کے عام ہاتھوں میں پہنچنے سے واضح ہو گیا ہے کہ بھارت ایٹمی مواد کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی غیر ذمہ دار ملک ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قطع نظراس سب کے کہ یورینیم کہاں سے آئی، کہاں جا رہی تھی کس مقصد کے لیے استعمال ہونی تھی، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ کڑی حفاظت میں ہونے کے باوجود غیر متعلقہ لوگوں اور غیر محفوظ ہاتھوں میں کیسے چلی گئی؟ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی دنیا نے اس پر چشم پوشی کر رکھی ہے اور بھارت کو ایٹمی کلب کا رکن بنا رکھا ہے ۔ اس کے بر عکس پاکستان کو جس نے ہمیشہ ایک انتہائی ذمہ دار ایٹمی ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے، نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ اگر اس قسم کا واقعہ پاکستان میں ہوتا تو بھارت ہی کیا پوری دنیا میں طوفان اٹھ کھڑا ہو جاتا۔ بھارت میں ایسے خطرناک مواد کی چوری پر عالمی طاقتوں کی خاموشی اور دوغلا رویہ کئی سوالات کو جنم د یتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ختم کرانے کے دعویدار ممالک اور ادارے بھارت کے خلاف اس قسم کے واقعات پر جو ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ کارروائی کریں۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام میں جس طرح کے سقم سامنے آ چکے ہیں وہ اس پر کئی پابندیوں کے متقاضی ہیں۔ بھارت میں ایٹمی فضلہ دریاؤں اور سمندر میں ڈالا جارہا ہے یہ عمل ماحولیات کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ بھارتی ڈائمنڈ مارکیٹ ہیرے کی شکل بدلنے کے لیے بھی یورینیم کا استعمال کر رہی ہے۔ اس لیے عالمی ادارہ برائے اٹامک انرجی بھارت کے تمام 22 سنٹرز کی سیکیورٹی چیکنگ کرے اور سیکیورٹی جانچ تک بھارت کا ایٹمی پروگرام بند کیا جانا چاہیے۔ ایف اے ٹی ایف کو بھی چاہیے کہ بھارت کو بلیک لسٹ میں ڈالے ۔ پتہ نہیں یہ بھارتی دہشت گردی کسی کو کیوں نظر نہیں آرہی ہے۔ کیونکہ یہ ہی یورینیم بھارت سے چوری ہو کر یا سمگل ہوکر داعش یا القاعدہ کے ہاتھ میں چلی جائے تو باقی آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کیا کچھ ہو سکتا ہے ۔ مودی کو تو اپنی داڑھی اور ہندوتوا کے سوا کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ۔ پاکستان سمیت تمام ذمہ دار ممالک کو بین القوامی جوہری توانائی ایجنسی سے جوہری ہتھیار کے پھیلاؤ پر بھارت کیخلاف فوری تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ یورینیم کی اسطرح بازیابی ثابت کرتی ہےکہ بھارت کا جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔یہ بات عیاں ہے کہ بھارت غیر قانونی جوہری پھیلاؤ کی سرگرمیوں اور یورینیم چوری میں ملوث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت ایٹمی بلیک مارکیٹ کا صارف رہا ہے اور اب یہ وہاں عام کاروبار بن گیا ہے۔ افسوس کہ جب بھارت کی بات آتی ہے تو عالمی برادری دوہرامعیار اختیار کرتی ہے۔ بھارت میں یورینیم کے کاروبار پر اقوام متحدہ ، امریکہ، آئی اے ای اے اور عالمی برادری تاحال خاموش ہیں ۔ جوکہ انتہائی افسوس ناک امر ہے ۔

  • جنگ پھیل گئی : فلسطینی مجاہدین نے 1000 سے زائد راکٹ حملے کرکے یہودیوں کی  چیخیں نکلوادیں

    جنگ پھیل گئی : فلسطینی مجاہدین نے 1000 سے زائد راکٹ حملے کرکے یہودیوں کی چیخیں نکلوادیں

    مقبوضہ بیت المقدس :جنگ پھیل گئی : فلسطینی مجاہدین نے 1000 سے زائد راکٹ حملے کرکے یہودیوں کی چیخیں نکلوادیں ،اطلاعات کے مطابق تحریک جہاد اسلامی فلسطین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج صبح 100 راکٹ تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں صیہونی ٹھکانوں پر فائر کئے گئے ہیں۔

    اپنی بے بسی کا رونا روتے ہوئے اسرائیلی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ تین روز کے دوران مقبوضہ فلسطین پر 1000 راکٹ فائر کئے گئے ہیں۔

    جہاد اسلامی تنظیم کی فوجی شاخ السرایا القدس نے آج بدھ کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے تل ابیب، عسقلان، بئرالسبع اور سدیروت میں واقع صیہونی ٹھکانوں پر 100 ميزائیل داغے گئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سرایا القدس کی جانب سے یہ اقدام غزہ کے رہائشی علاقوں پر صیہونی حکومت کے جارحانہ حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب القسام بریگيڈ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے مختلف شہروں پر آج صبح 210 راکٹ فائر کئے گئے ہیں۔میڈیا ذرائع پر فوج کی کڑی نگرانی کے سبب صیہونیوں کو ہونے والے جانی یا مالی نقصان سے متعلق خبریں بہت ہی کم منظر عام پر لائی جاتی ہیں

  • عمران خان نے کیسے ہتھیار ڈالے؟ سعودی عرب سے پاکستان کو کیا کچھ ملا؟ اہم انکشافات

    عمران خان نے کیسے ہتھیار ڈالے؟ سعودی عرب سے پاکستان کو کیا کچھ ملا؟ اہم انکشافات

    عمران خان نے کیسے ہتھیار ڈالے؟ سعودی عرب سے پاکستان کو کیا کچھ ملا؟ اہم انکشافات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو میں جہاں ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ پاکستان کو سعودی عرب سے کیا ملا اور کیا ملنے والا ہے وہیں ہم آپ کو بتائیں گے کہ عمران خان نے سعودی عرب سے تعلقات کیسے خراب کیئے، کیا عمران خان نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، ایران، ترکی پاکستان کا بلاک بنانے کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ امت مسلمہ کا نیا اور پرانا لیڈر سعودی عرب ہی ہے اور رہے گا، بلکہ مستقبل میں ہم اپنے فیصلے سعودی عرب کی مشاورت سے کریں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب کے بہت چرچے ہیں، ہر کوئی قیاس آرائیاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے، کرونا کے بعد کی نئی دنیا اور سپر پاورز کے بدلتے توازن کے درمیان کیا نئے معاہدے کیئے ہیں۔پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان اور سودی عرب نے اپنے تعلقات کو ایک جھٹکے کے بعد ری سیٹ کیا ہے جس کے لیئے پاکستان کے دفاعی حلقوں نے بہت محنت کی ہے آرمی چیف کا مسلسل تمام مراحل میں موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ جس طرح فوج سی پیک کی ضامن ہے اسی طرح سعودی عرب سے کی گئیCommitments کی ضامن بھی فوج ہی ہو گی۔ایک بیان انتہائی اہم ہے جو آرمی چیف سے محمد بن سلمان کی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ وہ ہے امت مسلمہ کی رہنمائی کون کرے گا۔۔ پہلے ہم نے سناتھا کہ نیا بلاک بنے گا اور امت مسلمہ کی سربراہی سعودی عرب کے علاقہ کوئی اور ملک کرے گا لیکن اگر ہم اس بیان پر نظر ڈالیں تو سب کچھ واضح ہو جاتا ہے۔Both nations will continue to play their part for betterment of Ummah۔یعنی پاکستان نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ امت مسلمہ کی سربراہی کا حق سعودی عرب کو حاصل ہے اور عمران خان جو ترکی، ملائشیا اور ایران کے ساتھ نیا بلا ک بنانے جا رہے تھے جس میں امت مسلمہ کی لیڈر شپ کسی اور نے کرنے تھی وہ سب پلان ٹھپ ہو چکا ہے۔ اور سعودی عرب اور پاکستان مل کر امت مسلمہ کی بھلائی، امن اور بہتری کے لیئے کام کرتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ جب بھی دورہ سعودی عرب ہوتا ہے اس میں پوری قوم بشمول میڈیا اس چیز پر نظر ہوتی ہے کہ پاکستان کو کیا ملا۔۔تو پاکستان کو سب سے پہلے جو چیز ملی ہے وہ ہے تسلی۔۔ پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات بحال ہو چکے، اور دونوں برادر ممالک مل کر کام کریں گے جو اختلافات کی ٹینشن تھی وہ دور ہو چکی ہے، نقدی میں فوری طور پر 500ملین ڈالر یعنی 75 ارب روپےسعودی ڈیویلپمنٹ فنڈ سے ملیں گے جو کہ پاکستان ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر سکتا ہے۔ محمد بن سلمان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کو اس کے Vision 2030 منصوبے کے لیئے اگلے دس سال میں تقریبا دس ملین ورکر، ماہر اور انجینئر سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے پاکستانیوں کو مناسب حق دینے کی درخواست دی گئی تھی ، جس پر پاکستان کویقین دلوایا گیا ہے کہ اسے ایک کروڑ نوکریوں میں ایک بٖڑا حصہ دیا جائے گا۔۔اس کے علاوہ کہا یہ جا رہا ہے کہ سعودی ولی عہد عید کے بعد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس میں بڑے اعلانات متوقع ہوں گے۔Saudi-Pakistan Supreme Coordination Councilکا قیام کر دیا گیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیاں تاخیر کا شکار منصوبوں کے علاہ۔ سیاسی، سیکیورٹی، معاشی، کلچرل اور سوشل معاملات پر آپس میںCoordinate کریں گے۔ جس کی صدارت وزیر اعظم اور کراون پرنس کریں گے۔اور اسے تین پلر کی شکل میں آرگنائز کیا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک پلر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ لیڈ کریں گے جس میں پولیٹیکل اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات دیکھیں گے اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اس کونسل کے Focal point ہوں گے۔دونوں ممالک کے درمیان بہت سے ایگریمنٹس پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل کو بریفنگ دی، انہیں ہیومن رائٹ کے حوالے سے آگاہ کیا اور پر امن حل پر زور دیا۔ ہم آپ کو اپنی گزشتہ ویڈیوز میں بتا چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مزاکرات میں سعودی عرب اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جبکہ افغانستان میں امن مزاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔مسلئہ فلسطین پر بھی بات ہوئی۔۔ ان سب چیزوں سے یہ لگتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب مستقبل میں چاہے افغانستان ہو یا کشمیر یا پھر اسرائیل سے تعلقات۔۔ ان معاملوں میں مل کر فیصلہ کریں گے۔۔۔ اور ہمیں مستقبل قریب میں بڑی بڑی تبد یلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب نے تمام شعبوں میں مل کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ سعودی عرب پر واضح کر چکا ہے کہ اب اسے اپنی حفاظت خود کرنا ہو گی، اس لیئے سعودی عرب کے پاس اپنے تحفظ کے لیئے پاکستان کے بہتر آپشن نہیں ہو سکتا جو مکہ اور مدینہ کے تحفط کو اپنی دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کو اس کی سالمیت، اور اس کی territorial integrity سمیت دو مقدس مقامات کے تحفظ کا یقین دلوایا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں سے ایک باریک لائن پر چل رہے ہیں۔سعودی عرب اب چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو تیل کی آمدن سے نکال کر ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بنائے جبکہ پاکستان چاہتا ہے کہ اب سعودی عرب کو اس کی ضرورت کے مطابق تعلقات کو صرف سیکیورٹی اور ثقافتی روابط تک محدود رکھنے کی بجائے اسے تمام شعبہ زندگی تک پھیلایا جائے۔

    سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مالی مدد کی ہے اور پاکستان نے اس کے بدلے سعودی عرب کے دفاع کی ذمہ داری لی ہے۔ اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو گزشتہ ساٹھ سالوں میں پاکستان نے کبھی سعودی عرب کی مدد یا قرضہ واپس نہیں کیا ہے۔ لیکن جس طرح اس دور حکومت میں بہت سے کام پہلی دفعہ ہوئے ہیں تو یہ کام بھی پہلی دفعہ ہوا ہے کہ پاکستان سے سعودی عرب نے پیسے واپس مانگ لیئے۔سعودی عرب کو یہ بات اچھی طرح پتا ہے کہ اگر کبھی اس کی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان اس کا سب سے قابل بھروسہ ساتھی ہو گا۔ اس ایک وجہ نے بھی دونوں ممالک کی دوستی کو قائم رکھا ہوا ہے۔اگر ان دونوں ممالک کےتعلقات میں سے دفاع نکال دیا جائے تو سعودی عرب کے پاس تو پاکستان کو دینے کو بہت کچھ ہے پیسے نوکریاں اور دیگر چیزیں۔۔ لیکن پاکستان کے پاس شائد دینے کو کچھ نہ بچے۔۔یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان نے یمن کے معاملے پر سعودی عرب کو فوج نہ دینے کا فیصلہ کیا تو تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے دشمن بھارت سے تعقات بہتر کرنا شروع کر دیئے۔ پاکستان کے مذہنی طبقوں، پاکستان کی فوج اور پاکستان کے سیاستدانوں کے لیئے سعودی عرب بہت اہمیت کا حامل ہے سعودی عرب کی ناراضگی پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ سعودی عرب کے پاکستان میںStakes بڑھائے جائیں، سعودی انویسٹرز کو معاشی موقع فراہم کیئے جائیں۔اور سعودی عرب کی اپنی معیشت کو بلکل تیل کے انحصار سے نکالنے کی کوشش میں اس کے ساتھی بن جائیں۔ پاکستان نے اگر اپنے تمام کارڈز ٹھیک کھیلے تو امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے سے تمام معاملات سیدھے ہو جائیں گے۔پاکستان یہ کوششیں دو ہزار اٹھارہ سے کر رہا ہے، پہلے جنرل راحیل شریف کی صورت میں یمنی باغیوں کے خلاف تیار مہاذ میں پاکستان کا جھنڈا شامل کیا گیا۔ ٹریننگ اور مشاورت کے لیئے فوجی بھیجے گئے۔ جو optics کے لئے اچھے تھے۔ پھر شائد خاقان عباسی کے دور میں اسی کوشش کو آگے بڑھانے کے لیئے کہ سعودی پاک تعلقات کا انحصار صرف دفاع پر نہ ہو ۔۔ ایکeconomic اور cultural packageپر بات کی گئی جو سوشل اور اکناملکexchange programکا حصہ تھا۔ سعودی عرب میں تعمیراتی منصوبوں میں پاکستانی افرادی قوت کے لئے کوٹہ بڑھا۔ اور دوبارہ ترسیل شدہ مائع قدرتی گیس پلانٹس ، آئل ریفائنری اور متبادل توانائی کے لئےسعودی سرمایہ کاری کو محفوظ بنایا۔اس کے بعد جب پاکستان میں حکومت تبدیل ہوئی اور عمران خان وزیر اعظم بنے تو تعلقات کو مزید قریب کرنے کے لیئے ایک کوشش کی گئی، اور بہت زیادہ لابنگ کی گئی کہ سعودی بادشاہ سلمان سے عمران خان کی ملاقات ہو جائے۔ملاقات تو ہو گئی لیکن سابق سفیر اس حوالے سے کہتے ہیں کہIK arrived in Riyadh clueless and unprepared about maintaining foreign relations.یعنی عمران خان کو کچھ پتا ہی نہیں تھا کہ اس نے کیا کرنا ہے پاکستان کے کیا تعلقات ہیں اور عمران خان کی تیاری ہی نہ تھی۔ جس کی وجہ سے یہ موقع ضائع ہو گیا۔

     

    ایک مہینے کے بعد ، اس موقع پر جب امریکہ ، برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد ممالک نے صحافی جمال خاشوگی کے قتل پر محمد بن سلمان کے "صحرا میں ڈیووس” کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پاکستان کی وہاں موجودگی نے اسے چھ بلین ڈالر کا پیکج دلوا دیا۔ اور فروری دوہزار انیس میں محمد بن سلمان معاشی و اقتصادی پیکج پر دستخط کرنے اسلام آباد پہنچے۔ تاکہ سعودی پاک تعلقات کی ایک شاندار تصویر دنیا کو دیکھائی جا سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی لیڈر شپ کے لیئے سعودی عرب کے غصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور اس کی وجہ تھی ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی دل کی باتیں کرنے کی عادت۔ اور انہیں اپنے دل اور دماغ کی باتیں کرنے کی بہت جلدی تھی۔ جبکہ ممالک کے تعلقات میں دل کی باتوں کو دل میں ہی رکھا جاتا ہے۔October 2018 summitپر جانے سے پہلے عمران خان نے جمال خشوگی کے قتل پر کنسرن شو کیا اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ Pakistan is desperate for a Saudi loan۔اس کے بعد عمران خان نےPublicly ایران اور سعودی عرب میں صلح کروانے کی پیش کش کر دی۔ جو لوگ سعودیوں کو جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ سعودی سب سے زیادہ جس چیز سے نفرت کرتے ہیں وہ ہےMediation۔اور دوسرا پاکستان کے پاس ایران پر ایسی کوئیLeverageنہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ اس طرح کی آفر کر دی۔۔عمران خان نے اپنے دماغی خیالات کو اس طرحفارن ریلیشن میں استعمال کیا۔ اور اس کے کھلے عام اظہار بھی کیا تاکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان نیوٹرل ہونے کا تاثر دے سکیں جس پر سعودی عرب نے اس کا شدید رد عمل دیا اور تعلقات مزید خراب ہو گئے۔ پاکستان سعودی عرب اور اس کے دشمن کےدرمیان نیوٹرل ہو کر سعودی عرب سے مدد کیسے لے سکتا ہے ۔

    عالمی برادری فلسطینی عوام کے تحفظ کیلئے فوری اقدام اٹھائے،وزیراعلیٰ پنجاب

    فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم، پاکستان میدان میں آ گیا، کیا اعلان کر دیا؟

    فلسطینی مسلمانوں پراسرائیلی مظالم ،ترکی میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر احتجاج

    فلسطین کی اسلامی مزاحتمی تنظیم حماس نے مانگی ایران سے حمایت

    جب مظلوم فلسطینی بیٹیوں کی گردنوں پر اِسرائیلی بَربریت کا گھٹنا سانسں لینےمیں رکاوٹ بن رہا تھا..جمیل فاروقی برس پڑے

    ان تصاویر کو دیکھ کر خودبخود جنت کی یاد آجاتی ہے،مریم نواز کی ٹویٹ پر صارف کا تبصرہ

    فلسطین پر حملے،ترکی نے اسرائیل کے خلاف کونسا قدم اٹھا لیا؟

    اسرائیل کی بربریت جاری، شہادتیں 36 ہو گئیں،ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے

    ان سب کے باوجود ، سعودیوں نے کبھی بھی عوامی سطح پر پاکستان کو پامال نہیں کیا ، بلکہ نجی طور پر اپنی ناراضگی پاکستانی فوجی قیادت تک پہنچائی ۔اس سب کے درمیاں عمران خان نے کوالمپور میں بھی کانفرنس اٹینڈ کرنے کا پلان بنا لیا جو سعودی عرب کے حریف، ترکی، ایران اور ملائشیا کروا رہے تھے۔ پھر جو دھمکی سعودی عرب کی طرف سے آئی وہ بھی طیب اردگان کو بتا دی گئی۔۔ جس کو اس نے سعودی عرب کو بدنام کرنے کے لیئے خوب استعمال کیا۔اس کے بعد سونے پر سہاگہ کا کام شاہ محمود قریشی کے اس بیان نے کیا جو انہوں نے کشمیر کے معاملے میں نیا بلاک بنانے کی دھمکی دے کر کیا۔ جس کا جواب سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کے soft loanکی واپسی اور تین بلین ڈالر کی ادھار تیل اور گیس کی سہولتRenewنہ کر کے دیا۔ پھر بند کمرے میں کس طرح تین میں سے ایک بلین اور ادھار تیل کی سہولیات بحال کروائی گئی یہ انہی کو پتا ہے جو اس کمرے میں بند تھے۔تاریخ میں پہلی بار ، مملکت نے پاکستان سے اپنا پیسہ واپس طلب کیا۔ پاکستان کا سعودی عرب سے ٹریڈ والیم تین ارب ڈالر سے زیادہ نہیں ہے جبکہ سعودی عرب اور بھارت آپس میں سالانہ$33 billionکی تجارت کرتے ہیں۔پاکستان کو اگر دیکھا جائے تو ہر خلیجی ملک سے پاکستان کے تعلقات دفاعی ڈپلومیسی Defense related ہیں جسے پاکستان نے ہر شعبے میں بڑھانے کا نہ صرف فیصلہ بلکے عملی اقدام بھی شروع کر دیا ہے۔عمران خان اپنے دیگر تمام خیالات کی طرح سعودی عرب کے حوالے سے خیالات کو معاشی بدحالی کی وجہ سے بدلنے پر مجبور ہیں۔پاکستان اب پہلے کی طرح سعودی عرب کی ہر ہان میں ہاں ملائے گا اور خطے کی سیاست سمیت ہر میدان میں مل کر چلے گا۔یہ ہے وہ نتیجہ جو پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات بحال ہونے کے بعد ہم سب کے سامنے آیا ہے اور اب امید کی جا رہی ہے کہ سعودی ولی عہد جب عید کے بعد پاکستان آئیں گے تو پاکستان کو کافی کچھ دے کر جائیں گے۔

  • ایک اور خطرہ،کرونا سے صحتیاب مریضوں کو زندہ رہنے کے لئے آنکھیں نکلوانا پڑیں

    ایک اور خطرہ،کرونا سے صحتیاب مریضوں کو زندہ رہنے کے لئے آنکھیں نکلوانا پڑیں

    ایک اور خطرہ،کرونا سے صحتیاب مریضوں کو زندہ رہنے کے لئے آنکھیں نکلوانا پڑیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا سے صحتیابی حاصل کرنے والے مریضوں کی جان کو ابھی بھی خطرہ باقی ہے

    بھارت میں کرونا سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کو بلیک فنگس نے آ گھیرا ہے، بھارت میں بلیک فنگس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں،طبی عملے کو بھی پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کیا کریں، کرونا مریضوں سے وارڈز بھری ہوئی ہیں اوپر سے کرونا سے ٹھیک ہونے والے مریض پھر ہسپتال پہنچنا شروع ہو گئے ہیں

    بھارت میں بلیک فنگس کے مریضوں میں اضافہ دہلی،ممبئی اور گجرات میں دیکھنے میں‌آیا، جبکہ مہاراشٹر میں بلیک فنگس کے 2 ہزار سے زائد مریض سامنے آ سکتے ہیں، اس خدشے کاا ظہار ریاستی وزیر صحت نے کیا ہے ،حکومت مہاراشٹر نے بلیک فنگس کے علاج کرنے کے لئے میڈیکل کالج سے وابستہ ہسپتالوں کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،ریاستی وزیر کا کہنا ہے کہ اب تک ریاست میں بلیک فنگس کے 2 ہزار سے زیادہ مریض ہو سکتے ہیں اورکرونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے درمیان اس کی تعداد میں بھی اضافہ ضرور ہوگا۔

    بلیک فنگس کی شرح اموات 50 فیصد ہے اور یہ ان کرونا مریضوں کو اپنی زد میں لیتا ہے جس کی قوت مدافعت کم ہے یا پھر وہ پہلے سے ہی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بلیک فنگس کا انفیکشن ناک سے شروع ہوتا ہے اور آنکھوں سے لے کر دماغ تک پھیل جاتا ہے۔ اس بیماری میں کچھ مریضوں کی جان بچانے کے لئے ان کی آنکھیں اور جبڑا تک نکالنا پڑ جاتا ہے۔

    ممبئی میں بی ایم سی کے بڑے ہسپتال سائن میں ڈیڑھ مہینے میں بلیک فنگس کے 30 مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان میں سے 6 کی موت واقع ہو چکی ہے اور 11 مریضوں کو زندہ رہنے کے لئے کو اپنی آنکھیں نکلوانی پڑی تھیں، مودی کے آبائی علاقے گجرات میں بھی ایسے 50 سے 60 مریض سورت اور احمدآباد میں سامنے آئے ہیں جن کا علاج جاری ہے،

    بھارت میں کرونا بحران کا مودی ذمہ دار،عالمی میڈیا بھی برس پڑا

    بھارت میں کرونا سے سڑکوں پر اموات، پاکستان نے بھی بڑا اعلان کر دیا

    بھارت میں کرونا کیسز ، بھارتی سائنسدانوں نے ہی بھارتی قوم کو ڈرانا شروع کر دیا

    کرونا کیسز، بھارت میں نیا ریکارڈ بن گیا،شمشان گھاٹ میں طویل قطاریں

    کرونا کیسز، بھارت دنیا میں نمبر ون، سب سے زیادہ مریضوں کا ایک اور ریکارڈ بنا لیا

    ہندوستانی عوام کے نام اسلام آباد سے پاکستانی تجزیہ نگار کا کھلا خط.

    ججز اور انکے اہلخانہ کے لئے فائیو سٹار ہوٹل میں کرونا ہسپتال قائم

    مرے یا مار دیا گیا؟ راہول گاندھی کا آکسیجن نہ ملنے کے باعث مرنیوالوں بارے مودی سے سوال

    بھارت میں کرونا بحران،بھارتی این جی او نے پاکستان سے آکسیجن ٹینک مانگ لئے

    بھارت میں کرونا کیسز کا نیا ریکارڈ، بھارتی عوام خوف کا شکار

    شمشان گھاٹ میں جگہ نہ ملی، کرونا سے مرنیوالوں کی لاشوں کو بھارتیوں نے ندی میں بہانا شروع کر دیا

    کرونا کا سستا ترین علاج، کیا واقعی چائے پینے سے کرونا نہیں ہو گا؟

    ٹھنڈے پانی میں تین چمچ گائے کا پیشاب، کرونا کا بھارت میں نیا علاج

    بھارت میں کرونا کی نئی قسم ،دنیا کے لئے خطرہ،عالمی ادارہ صحت نے کیا خبردار

    واضح رہے کہ بھارت میں کرونا نے قہر مچا دیا، انسان سڑکوں پر تڑپ تڑپ کر جانیں دینے لگے، کوئی پرسان حال نہیں، ہسپتال بھر گئے، آکسیجن کی کمی ہو گئی،شہریوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں دہلی کے کئی اسپتالوں میں کئی دنوں سے آکسیجن کا بحران چل رہا ہے۔ دہلی حکومت نے مرکزی حکومت سے امید لگائی ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے دہلی کے لئے کوٹہ بھی بڑھایا گیا ہے لیکن کرونا مریضوں کے بڑھنے کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں کیونکہ آکسیجن کی سپلائی میں بھی وقت لگتا ہے

    بھارت میں جعلی کرونا ویکسین لگانے والا گرفتار

  • ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،وزیراعظم عمران خان کا دنیا کو پیغام

    ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،وزیراعظم عمران خان کا دنیا کو پیغام

    ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،وزیراعظم عمران خان کا دنیا کو پیغام
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں وزیراعظم عمران خان نے وی اسٹینڈ ودغزہ اوروی سٹینڈ ود فلسطین کا ہیش ٹیگ شیئرکیا، وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں اور ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،

    واضح رہے کہ اسرائیل کا فلسطین پرجارحیت کا سلسلہ جاری ہے اسرائیل نے صبح سویرےغزہ میں پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا،فلسطینی سرزمین پرپولیس کا مرکزی آفس مکمل طور پرتباہ کردیا گیا، غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینوں کی تعداد 36 ہوگئی ہے اسرائیلی بربریت سے اب تک 10 بچوں سمیت 36 افراد شہید ہو چکے ہیں جب کہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔اسرائیلی فوج مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کر رہی ہے اور رمضان المبارک کا تقدس مجروح کررہی ہے ، مسلمانوں پر مسجد کے اندر ہی تشدد کیا جا رہا ہے، بوٹ پہنے اسرائیلی فوجی مسجد میں جا کر مسلمانوں پر تشدد کرتے ہیں،سپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے، عورتوں بچوں سمیت کئی فلسطینی شہید ہوگئے

    ‏فلسطینی لڑکی مریم عفیفی کی گرفتاری کے دوران مسکراہٹ، عالمی برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

    اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کردیے ، کئی فلسطینی شہید ہوگئے ، تعداد بڑھنے کا خدشہ

    مسجد اقصیٰ کے احاطے میں فلسطینی اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپ ، 170 فلسطینی شہری زخمی

     اسرائیل میں بھگڈر مچنے سے 44 افراد ہلاک 

    عالمی برادری فلسطینی عوام کے تحفظ کیلئے فوری اقدام اٹھائے،وزیراعلیٰ پنجاب

    فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم، پاکستان میدان میں آ گیا، کیا اعلان کر دیا؟

    فلسطینی مسلمانوں پراسرائیلی مظالم ،ترکی میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر احتجاج

    فلسطین کی اسلامی مزاحتمی تنظیم حماس نے مانگی ایران سے حمایت

    جب مظلوم فلسطینی بیٹیوں کی گردنوں پر اِسرائیلی بَربریت کا گھٹنا سانسں لینےمیں رکاوٹ بن رہا تھا..جمیل فاروقی برس پڑے

    ان تصاویر کو دیکھ کر خودبخود جنت کی یاد آجاتی ہے،مریم نواز کی ٹویٹ پر صارف کا تبصرہ

    فلسطین پر حملے،ترکی نے اسرائیل کے خلاف کونسا قدم اٹھا لیا؟

    اسرائیل کی بربریت جاری، شہادتیں 36 ہو گئیں،ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے

    سعودی عرب سے کتنی مزید امداد ملے گی؟ وزیر خارجہ نے حقیقت بتا ہی دی

  • اسرائیل کی بربریت جاری، شہادتیں 36 ہو گئیں،ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے

    اسرائیل کی بربریت جاری، شہادتیں 36 ہو گئیں،ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے

    اسرائیل کی بربریت جاری، شہادتیں 36 ہو گئیں،ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا فلسطین پرجارحیت کا سلسلہ جاری ہے

    اسرائیل نے صبح سویرےغزہ میں پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا،فلسطینی سرزمین پرپولیس کا مرکزی آفس مکمل طور پرتباہ کردیا گیا، غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینوں کی تعداد 36 ہوگئی ہے اسرائیلی بربریت سے اب تک 10 بچوں سمیت 36 افراد شہید ہو چکے ہیں جب کہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔اسرائیلی فوج مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کر رہی ہے اور رمضان المبارک کا تقدس مجروح کررہی ہے ، مسلمانوں پر مسجد کے اندر ہی تشدد کیا جا رہا ہے، بوٹ پہنے اسرائیلی فوجی مسجد میں جا کر مسلمانوں پر تشدد کرتے ہیں،سپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے، عورتوں بچوں سمیت کئی فلسطینی شہید ہوگئے

    اسرائیلی فوج کی جانب سے وحشیانہ بمباری میں فلسطینیوں کے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہین، گھر تباہ ہونے کے بعد فلسطین میں مسلمان بے گھر اور غیر محفوظ ہو چکے ہین، مسلمان عورتیں اور بچے پناہ کی تلاش میں غزہ کی گلیوں میں دوڑتے رہے تا ہم کہیں پناہ نہ مل سکی، ہر طرف بمباری اور حملوں کا امکان ہوتا ہے، شہدا کی تدفین کے دوران غمناک مناظر سامنے آئے ہیں.دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی جانب سے رہائشی علاقوں پر حملے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے غیر قانونی طاقت کا استعمال فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ نے غزہ پراسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔

    ‏فلسطینی لڑکی مریم عفیفی کی گرفتاری کے دوران مسکراہٹ، عالمی برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

    اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کردیے ، کئی فلسطینی شہید ہوگئے ، تعداد بڑھنے کا خدشہ

    مسجد اقصیٰ کے احاطے میں فلسطینی اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپ ، 170 فلسطینی شہری زخمی

     اسرائیل میں بھگڈر مچنے سے 44 افراد ہلاک 

    عالمی برادری فلسطینی عوام کے تحفظ کیلئے فوری اقدام اٹھائے،وزیراعلیٰ پنجاب

    فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم، پاکستان میدان میں آ گیا، کیا اعلان کر دیا؟

    فلسطینی مسلمانوں پراسرائیلی مظالم ،ترکی میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر احتجاج

    فلسطین کی اسلامی مزاحتمی تنظیم حماس نے مانگی ایران سے حمایت

    جب مظلوم فلسطینی بیٹیوں کی گردنوں پر اِسرائیلی بَربریت کا گھٹنا سانسں لینےمیں رکاوٹ بن رہا تھا..جمیل فاروقی برس پڑے

    ان تصاویر کو دیکھ کر خودبخود جنت کی یاد آجاتی ہے،مریم نواز کی ٹویٹ پر صارف کا تبصرہ

    فلسطین پر حملے،ترکی نے اسرائیل کے خلاف کونسا قدم اٹھا لیا؟

  • فلسطین پر حملے،ترکی نے اسرائیل کے خلاف کونسا قدم اٹھا لیا؟

    فلسطین پر حملے،ترکی نے اسرائیل کے خلاف کونسا قدم اٹھا لیا؟

    فلسطین پر حملے،ترکی نے اسرائیل کے خلاف کونسا قدم اٹھا لیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فلسیطینی مسلمانوں کی مدد کے لئے تاحال بیانات کے کسی مسلم ملک نے کچھ نہ کیا

    مسلم ممالک کی جانب سے بھی صرف مذمت کے بیانات جاری ہیں، دنیا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تا ہم اسرائیل مسلسل فلسطینی مسلمانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اسرائیل کی جانب سے گزشتہ شب بھی مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملہ کیا گیا،اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی اور مسلمانوں پر تشدد کیا،

    دوسری جانب ترکی نے فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی بربریت پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے اسرائیلی وزیر کے دعوتِ نامے کو منسوخ کردیا ہے،ترک میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بربریت  پر ترکی نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے جون میں ہونے والی توانائی کانفرنس میں اسرائیلی وزیر توانائی یووال ستینتز کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا۔ترکی نے اپنے فیصلے اسرائیلی حکام کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مسجدِ اقصیٰ اور اسرائیلی فوج کی فلسطینی شہری آبادی پر ہونے والی بمباری کے خلاف احتجاجاً یہ ردِعمل دیا ہے۔

     

    ‏فلسطینی لڑکی مریم عفیفی کی گرفتاری کے دوران مسکراہٹ، عالمی برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

    اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کردیے ، کئی فلسطینی شہید ہوگئے ، تعداد بڑھنے کا خدشہ

    مسجد اقصیٰ کے احاطے میں فلسطینی اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپ ، 170 فلسطینی شہری زخمی

     اسرائیل میں بھگڈر مچنے سے 44 افراد ہلاک 

    عالمی برادری فلسطینی عوام کے تحفظ کیلئے فوری اقدام اٹھائے،وزیراعلیٰ پنجاب

    فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم، پاکستان میدان میں آ گیا، کیا اعلان کر دیا؟

    فلسطینی مسلمانوں پراسرائیلی مظالم ،ترکی میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر احتجاج

    فلسطین کی اسلامی مزاحتمی تنظیم حماس نے مانگی ایران سے حمایت

    جب مظلوم فلسطینی بیٹیوں کی گردنوں پر اِسرائیلی بَربریت کا گھٹنا سانسں لینےمیں رکاوٹ بن رہا تھا..جمیل فاروقی برس پڑے

    ان تصاویر کو دیکھ کر خودبخود جنت کی یاد آجاتی ہے،مریم نواز کی ٹویٹ پر صارف کا تبصرہ