Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خیبر پختونخوا،35 دہشتگرد جہنم واصل،12 جوان شہید

    خیبر پختونخوا،35 دہشتگرد جہنم واصل،12 جوان شہید

    سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں آپریشنز کے دوران فتنہ الہندوستان کے 35 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ کارروائیوں کے دوران 12 جوانوں نے جام شہادت بھی نوش کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 10 سے 13 ستمبر تک خیبر پختونخوا میں 2 مختلف آپریشنز کیے جس میں خوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا،آپریشنز میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 35 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ہلاک خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا،فورسز نے باجوڑ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے 22 خوارج مارے گئے،سکیورٹی فورسز نے خوارج کے خلاف وزیرستان میں بھی کارروائی کی جس میں 13 مزید خوارج کو ہلاک کیا گیا، ہلاک خوارج متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے، شدید فائرنگ کے تبادلے میں مادر وطن کے 12 بہادر جوان بھی شہید ہوئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا بتانا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس میں گھناؤنے عمل میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، فتنہ الخوارج کا پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال بدستور شدید تشویش کا باعث ہے، پاکستان توقع کرتا ہےکہ افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرےگی،آئی ایس پی آر نے توقع ظاہر کی ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کوپاکستان مخالف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا، علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کے لیےکلیئرنس آپریشن جاری ہے، سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع باجوڑ اور ضلع جنوبی وزیرستان میں فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف دو مختلف کامیاب کاروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا،وزیراعظم نے ان آپریشنز میں فتنتہ الخوارج کے 35 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پزیرائی کی ،وزیراعظم نےضلع جنوبی وزیرستان کے آپریشن میں دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے 12 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا،وزیراعظم نے شہداء کی بلندیء درجات کی دعاء کی،وزیراعظم نےشہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہیں،پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے ،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں .

  • صدر زرداری کی چنگدو میں لی شو لی، ممبر پولیٹیکل بیورو اور وزیر پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ  سے ملاقات

    صدر زرداری کی چنگدو میں لی شو لی، ممبر پولیٹیکل بیورو اور وزیر پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ سے ملاقات

    صدر زرداری کی چنگدو میں لی شو لی، ممبر پولیٹیکل بیورو اور وزیر پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ، سے ملاقات ہوئی ہے،

    ملاقات میں دو طرفہ تعاون کو سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں بڑھانے پر بات چیت کی گئی،صدر آصف علی زرداری نے صوبہ سچوان میں مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور دوسرے گولڈن پانڈا فورم کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی،مسٹر لی شو لی نے صدر زرداری کو چین میں خوش آمدید کہا اور صدر شی جن پنگ کی نیک تمناؤں سے آگاہ کیا،مسٹر لی شو لی نے صدر زرداری کے فروری کے دورۂ چین اور حال ہی میں چائنا ڈےلی میں شائع ہونے والے مضمون کی تعریف کی،مسٹر لی شو لی نے کہا کہ آپ اور صدر شی جن پنگ نے پاکستان-چین تعلقات میں قیادت فراہم کی، دونوں ممالک ہمیشہ مضبوط بھائی رہیں گے،انہوں نے کہا کہ دنیا کو آج کتابوں کی خوشبو کی ضرورت ہے نہ کہ بارود کی بو اور پاکستان-چین دوستی آئندہ برسوں میں مزید فروغ پائے گی

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سیلاب متاثرہ علاقے کا دورہ،امدادی سرگرمیوں کا جائزہ

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سیلاب متاثرہ علاقے کا دورہ،امدادی سرگرمیوں کا جائزہ

    آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیلاب متاثرین کی دوبارہ آبادکاری اور بحالی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ریاست ہرسال قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قصور سیکٹر اور جلالپور پیر والا ملتان میں قائم فلڈ ریلیف کیمپس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سیلاب کی موجودہ صورتحال اور جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا، چیف سیکرٹری پنجاب اور سول انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی آرمی چیف کے ہمراہ موجود تھے، آرمی چیف کو زمینی صورتحال اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ،فیلڈ مارشل کا کہنا تھا ریاست ہر سال قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتی، آرمی چیف نے سیلاب متاثرین کے مسائل حل کرنے میں سول اور فوجی اداروں کے تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سول انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے اچھی طرزِ حکمرانی اور عوام دوست ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا عوام کو بار بار آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے درکار تمام ضروری اقدامات، انفرا اسٹرکچر کی ترقی کو تیز کیا جانا چاہیے،اس موقع پر آرمی چیف نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کی حمایت کے حوالے سے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    آرمی چیف سید عاصم منیر نے محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے سیلاب متاثرین سے بھی ملاقات کی اور متاثرین کو دوبارہ آبادکاری اور بحالی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی،فیلڈ مارشل نے ریلیف آپریشنز میں مصروف فوجی جوانوں، ریسکیو 1122کے اہلکاروں اور پولیس افسروں سے بھی ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے، تیاری اور انتہائی مشکل حالات میں قوم کی خدمت کے جذبے کو سراہا۔

  • ہرجانہ کیس، شہباز شریف کی جلد جرح مکمل کرنے کی استدعا

    ہرجانہ کیس، شہباز شریف کی جلد جرح مکمل کرنے کی استدعا

    وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کیخلاف ہرجانے کے کیس میں جلد جرح مکمل کرنے کی استدعا کر دی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعوے پر سماعت سیشن کورٹ لاہور میں ہوئی،دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے پوچھا کیا آپ نے لیگل نوٹس بھجوایا تھا؟ جس پر شہبازشریف کے وکیل نے جواب دیا جی میں نے لیگل نوٹس بھیجا تھا، کوریئر کمپنی کے ذریعے لیگل نوٹس ارسال کیا گیا تھا

    ویڈیو لنک پر موجود وزیراعظم شہباز شریف نے کہا میں کل خصوصی دورے پر قطر میں تھا، اس کیس کے لیے رات کو واپس آیا ہوں، جج صاحب آپ بھی مصروف ہیں، دیگر کیسز بھی نمٹانے ہوتے ہیں،ملک میں سیلابی صورتحال ہے، سیلاب اب سندھ میں داخل ہو رہا ہے، صوبے اور وفاق نے کس طرح ملکر کام کرنا ہے، زرعی ایمرجنسی کا اعلان کیا، آج بھی ایک گھنٹے سے آپ کے سامنے حاضر ہوں، اس کیس پر جرح مکمل کر لیں۔

    وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا لیگل نوٹس بھجوانے کی رسیدوں پر آپ کا نام نہیں ہے، جس پر شہباز شریف نے کہا جی درست ہے میرے وکیل کا نام ہے جو رسیدیں ہیں وہ لیگل ریکارڈ کا حصہ ہیں،عمران خان کے وکیل نے کہا رسیدوں پر یہ بھی نہیں لکھا یہ لیگل نوٹس کس شخص نے وصول کیا، جس پر شہباز شریف نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو بھی رسیدیں ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔

  • سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف، وزیراعظم فیصلہ نہ کرسکے

    سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف، وزیراعظم فیصلہ نہ کرسکے

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) سے رابطے کی ہدایت کردی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیراعظم نے وزارت خزانہ کے حکام کو سیلاب زدہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے بجلی بلوں میں ایک ماہ کے استثنیٰ پر آئی ایم ایف سے رابطےکی ہدایت کی ہے،ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ وزارتِ خزانہ اب آئی ایم ایف کے ساتھ اس ممکنہ ریلیف پر بات چیت کرے، بات چیت کا مقصد سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کوفوری ریلیف دیا جا سکے،ذرائع نے بتایا ہےکہ شہر ہوں یا دیہات، یہ ریلیف پورے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں دیا جائےگا۔

    اس سے قبل چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے بھی حکومت سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم وزیراعظم نے سیلاب کے سبب ملک میں زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔مرکزی کسان لیگ کے چیئرمین ذوالفقار اولکھ نے بھی بجلی بلوں کی معافی کا مطالبہ کیاہے،اور کہا ہے کہ کسانوں کوبجلی بلوں میں‌ریلیف دیا جائے،

  • آپریشن میں فتنۂ الخوارج کے ہتھیار ڈالنے والے خارجی عبدالصمد کے تہلکہ خیز انکشافات

    آپریشن میں فتنۂ الخوارج کے ہتھیار ڈالنے والے خارجی عبدالصمد کے تہلکہ خیز انکشافات

    پاک فوج کے کامیاب آپریشن میں ہتھیار ڈالنے والے خارجی کا تہلکہ خیز اعترافی بیان سامنے آگیا

    گل بہادر گروپ کے دہشت گرد عبدالصمد کے فتنۂ الخوارج کے بارے میں ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے، خارجی عبدالصمد نے اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا کہ "میں نے تقریباً ساڑھے چار سال افغانستان میں گزارے اور وہاں میں نے کلاشنکوف چلانے کی ٹریننگ حاصل کی”اس کے بعد منظر ہیل پہنچا جہاں گل بہادر گروپ کے کمانڈر صادق سے ملا اور تین ماہ گزارے، بعد ازاں زنگوٹی خرسین آیا جہاں حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈر اسد سے ملا اور اسکے گروپ میں شامل ہوا، زنگوٹی کی مینار والی مسجد میں اسد ملا فوج کو مرتد کہہ کر آئی ڈیز ،مائنز اور ڈرون بم بنواتا تھا ،مسجد میں آئی ڈیز اور مائنز بناتے وقت گندی ویڈیوز چلتی رہیں، اسد ملا مسجد میں گانے چلاتا اور غلط کاموں کے لیے اس نے اپنے ساتھ دو بچے رکھے ہوئے تھے ،اسد ملا کہتا فوج مرتد ہے اور ہمیں مائنز دے کر ہدایت کرتا کہ یہ فوج کے خلاف استعمال کرو، جب میں نے ان کے کام دیکھے تو مجھے لگا کہ یہ کافروں سے بھی بدتر ہیں،فتنۂ الخوارج کے دہشت گرد قرآن کی بےحرمتی، بچوں سے زیادتی اور مساجد کی توہین کرتے ہیں،

    خارجی عبدالصمدکا کہنا تھا کہ جب میں نے ان کو چھوڑنے کا ارادہ کیا تو اسی دوران فوج نے چھاپہ مارا, یہ لوگ وہاں سے بھاگ گئے، بھاگنے سے پہلے اسد ملا نے ہم سب سے موبائل فون اور شناختی کارڈ جمع کیا، موبائل فارمیٹ کر دئیے لیکن شناختی کارڈ اپنے ساتھ لے گیا، زنگوٹی کی مساجد ان کا مرکز تھیں، دین اکبر، مرزا خان اور لاؤد خیل مساجد میں 10، 10 بندے موجود تھے، مینار والی مسجد میں کمانڈر اسد ملا کے ساتھ 15 بندے موجود تھے اور گاؤں کی جتنی بھی مساجد تھیں، ان سب کا وہ کمانڈر تھا،میں نے 5 سال طالبان کے ساتھ اور صرف 5 دن فوج کے ساتھ گزارے، مگر گواہی دیتا ہوں کہ فوج درست اور طالبان غلط ہیں،طالبان کہتے تھے کہ فوج منافق ہے لیکن جب میں نے فوج کا رویہ دیکھا تو حقیقت یہ سامنے آئی کہ طالبان ہی منافق ہیں، طالبان بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے تھے، مساجد کا احترام نہیں کرتے تھے اور قرآن کی بے حرمتی کرتے تھے، میرا عوام کو پیغام ہے کہ اپنے بچوں کو ان لوگوں سے دور رکھیں اور فوج کے ساتھ تعاون کریں،

    خارجی صمد کے اعترافات نے اسلام کے نام پر فساد پھیلانے والے خوارج کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے،اسلام کے نام پر فساد پھیلانے والے خوارج کے خلاف فیصلہ کن وار کا وقت آچکا ہے

  • سپریم کورٹ،نورمقدم کیس،سزا پر نظر ثانی سماعت 3 ہفتوں کیلئے ملتوی

    سپریم کورٹ،نورمقدم کیس،سزا پر نظر ثانی سماعت 3 ہفتوں کیلئے ملتوی

    سپریم کورٹ،نور مقدم کیس میں ریویو کی سماعت کو تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا گیا

    سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر نظر ثانی پر سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کردی،ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ پہلے تو سلمان صفدر وکیل تھے،نظر ثانی میں کیا وکیل تبدیل ہو سکتا ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ قانون تبدیل ہو گیا،نظر ثانی میں اب وکیل تبدیل ہو سکتا ہے ،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کیا قانون کسی کیلئے تبدیل ہوا یا کسی اصول پر تبدیل ہوا ہے ،اس کیس میں فیصلہ میں نے لکھا ہے ،جسٹس علی باقر نجفی کا ایڈیشنل نوٹ ابھی آنا باقی ہے۔ہو سکتا ہے آپ کو ایڈیشنل نوٹ کا کوئی فائدہ مل جائے۔ایڈیشنل نوٹ آنے تک سماعت ملتوی کر دیتے ہیں،

    عدالت نے عندیہ دیا کہ ایڈیشنل نوٹ ممکنہ طور پر درخواست گزار کے حق یا خلاف اثر ڈال سکتا ہے، لہٰذا بہتر ہے کہ نوٹ کے اجراء تک سماعت مؤخر کر دی جائے۔ بینچ نے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کیس کی آئندہ تاریخ مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

  • پنجاب میں تباہی کے بعد سیلابی ریلہ سندھ میں داخل، کچے کے علاقے زیرِ خطرہ

    پنجاب میں تباہی کے بعد سیلابی ریلہ سندھ میں داخل، کچے کے علاقے زیرِ خطرہ

    پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی مچانے کے بعد سیلابی ریلہ اب سندھ میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث کچے کے علاقوں میں بسنے والے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق کشمور کے کچے کے علاقے سے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم دادو کے کچے کے مکینوں نے اپنے علاقے خالی کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    محکمہ آبپاشی کے مطابق گڈو اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 5 لاکھ 5 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 4 لاکھ 80 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 40 ہزار کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 15 ہزار کیوسک نوٹ کیا گیا۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پانی کا بہاؤ بڑھتا رہا تو بیراجوں اور کچے کے علاقوں کے لیے خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔اسلام آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ سیلاب کی دوسری لہر پنجند پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاری کر لی گئی ہے۔مصدق ملک نے مزید بتایا کہ مون سون کا سلسلہ چند دنوں میں ختم ہونے والا ہے، تاہم اس وقت تک اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    اسی موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور سندھ میں تمام ادارے این ڈی ایم اے کی ہدایت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ اور متاثرین کو بروقت امداد فراہم کرنا ہے۔

  • پاکستان مشکل وقت میں امیر قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام کے ساتھ کھڑا ہے،وزیراعظم

    پاکستان مشکل وقت میں امیر قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام کے ساتھ کھڑا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی۔

    وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کی پاکستان کی طرف سے شدید مذمت کی اور اسے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیاوزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور عوام کو برادر ملک قطر کے خلاف حملے پر سخت تشویش ہے، پاکستان مشکل وقت میں امیر قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

    انہوں نے قطری قیادت کو بلاجواز اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستان کی مکمل یکجہتی کا یقین دلایا اور اسرائیلی حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر ہمدردی کا اظہار کیا،وزیراعظم نے غزہ میں قیام امن کی کوششوں میں قطر کے تعمیری ثالثی کردار کو سراہا اور کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا مقصد علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا ہے، جس سے جاری سفارتی اور انسانی کوششوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ قطر کی درخواست پر پاکستان نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست دی تھی، شہباز شریف نے 15 ستمبر کو غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے قطر کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی جانب سے او آئی سی اجلاس کے شریک اسپانسر اور انعقاد کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے رواں سال بھارت کی بلاجواز جارحیت کے دوران پاکستان کی حمایت پر امیر قطر سے اظہار تشکر بھی کیا،امیر قطر نے اظہارِ یکجہتی کے لیے دوحہ کا دورہ کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن کے فروغ، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت اور پاک قطر برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

  • چھ مسلم ممالک پر اسرائیلی حملے، قطرڈپلومیسی تو وڑ گئی، اربوں  ڈالر تحائف کام نہ آئے

    چھ مسلم ممالک پر اسرائیلی حملے، قطرڈپلومیسی تو وڑ گئی، اربوں ڈالر تحائف کام نہ آئے

    سنئیر صحافی اور اینکر مبشر لقمان کا اپنے وی لاگ میں کہنا ہے کہ ایک ماہ کے اندر چھ مسلم ممالک پر حملے کے تناظر میں خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق اسرائیل کے تازہ فضائی حملے نے قطر کے سفارتی علاقے کو نشانہ بنایا جس میں حماس کے بعض رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ قطر نے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے جواب کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔فلسطین کے غزہ میں بمباری، لبنان اور شام پر حملے، یمن پر چڑھائی، ایران کو دھمکیاں اور اب قطر میں امریکی اتحادی کارروائی کے الزامات نے مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    مبشر لقمان کے تجزیے کے مطابق یہ حملہ امریکہ کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں تھا، کیونکہ قطر میں امریکی فوج کا سب سے بڑا بیس اور جدید دفاعی نظام موجود ہے لیکن پھر بھی نہ کوئی فضائی دفاعی نظام حرکت میں آیا، نہ ہی کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے میں 15 اسرائیلی جہاز شامل تھے جنہوں نے مختلف عرب ریاستوں کی فضائی حدود استعمال کیں لیکن کہیں سے بھی ان کو روکا نہیں گیا اور نہ ہی کسی نے خبردار کیا۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں اسرائیل نے اردن پر حملہ کرکے گولان ہائٹس پر قبضہ کیا اور اب اردن اپنا پانی اسرائیل سے پیسے دے کر خرید رہا ہے۔ ان کے مطابق قطر کے دفاعی معاہدوں اور جدید ہتھیاروں کے باوجود کوئی مؤثر مزاحمت نظر نہیں آئی۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ عرب ممالک کی فوجی حالت اور سیاسی بے عملی مسلم دنیا کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ان کے مطابق ترکی پر بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن وہ اس سے متفق نہیں کیونکہ ترکی نیٹو رکن ہے اور خود اسلحہ تیار کرتا ہے۔ تاہم اسرائیلی اور امریکی تھنک ٹینک یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ترکی کو دہشت گردوں کی حمایت کا الزام دے کر اس کے خلاف بھی کارروائی کو جواز دیا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا ماضی میں بھی حماس یا فلسطینی قیادت کی شہادتوں پر صرف مذمتی بیانات دیتی رہی ہے لیکن عملی اقدام نہیں کیا۔ ان کے مطابق جب تک اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو اقتدار سے نہیں ہٹتے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا کیونکہ خود اسرائیل کے اندر ان کے خلاف بڑی تحریکیں موجود ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران وہ دو ممالک ہیں جن سے اسرائیل کو خوف ہے کیونکہ یہ دونوں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مبشر لقمان کے بقول اگر قطر پاکستان کی فوجی صلاحیت کا عشرِ عشیر بھی اپنے دفاع پر خرچ کرتا تو اسرائیلی طیارے قطر پہنچنے سے پہلے ہی مار گرائے جاتے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اسرائیل کا قریبی دوست ہے اور نریندر مودی اسی طرح کا کردار جنوبی ایشیا میں ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پاکستان نے اس کا توڑ کیا۔ مبشر لقمان نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عوامی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستانی قوم اکٹھی ہو جاتی ہے۔

    ان کے مطابق قطر پر حملے کے بعد مسلم دنیا میں احتجاجی تحریک ہونی چاہیے تھی لیکن کوئی قابل ذکر ردعمل نظر نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ 1967 کی چھ روزہ جنگ سے جاری عمل کی ایک نئی کڑی ہے اور اگر مسلم ممالک نے اپنا دفاع اور اتحاد مضبوط نہ کیا تو سب کی باری آئے گی۔

    آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ وقت مسلم دنیا کے لیے ایک امتحان ہے اور اب صرف مذمتی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔