Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نیتن یاہو جنگی جرائم کا مرتکب  مگر ٹرمپ کی حمایت کیوں،دبئی  منی لانڈرنگ کی جنت،امریکہ کا قطر سے دھوکہ

    نیتن یاہو جنگی جرائم کا مرتکب مگر ٹرمپ کی حمایت کیوں،دبئی منی لانڈرنگ کی جنت،امریکہ کا قطر سے دھوکہ

    سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے تازہ پروگرام میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر کھل کر گفتگو کی۔ پروگرام میں امریکا کے صدر جو بائیڈن کے سابق مشیر اور ممتاز سیاسی رہنما شاہد احمد خان شریک تھے۔ گفتگو کا محور قطر پر ہونے والے حالیہ حملے، امریکا کے کردار اور خطے میں طاقت کے توازن کے گرد گھومتا رہا۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ قطر امریکا کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ نہ صرف امریکا کا سب سے بڑا فوجی بیس قطر میں موجود ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات بھی انتہائی گہرے ہیں۔ اس کے باوجود امریکا نے حملے کو روکنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق یہ رویہ قطر کے ساتھ ایک کھلا دھوکہ ہے جو خطے میں امریکا کے اتحادیوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

    شاہد احمد خان نے اس موقف سے جزوی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بلاشبہ پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق صرف امریکا پر الزام ڈال دینا حقیقت کو سادہ بنانے کے مترادف ہوگا۔ حملے میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اس لیے ذمہ داری مشترکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی پالیسی میں کئی بار تضادات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن خطے کے ممالک کو بھی اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لینی ہوگی۔

    قطر کو طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کا سفارتی مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں عالمی طاقتوں کے نمائندے آ کر بات چیت کرتے ہیں، امن معاہدے طے پاتے ہیں اور مذاکرات ہوتے ہیں۔ مبشر لقمان نے کہا کہ حملے کے بعد قطر کے وقار اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ شاہد احمد خان نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو اپنی سلامتی کے حوالے سے نئے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

    گفتگو کے دوران شاہد احمد خان نے پاکستان کو "بہادر ملک” قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ مشکل حالات میں اپنے قومی مفاد کو ترجیح دی ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ اپنی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے عالمی سطح پر بھی اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرے۔

    پروگرام کے آخر میں مبشر لقمان نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک نے مشترکہ حکمتِ عملی نہ اپنائی تو آنے والے دنوں میں مزید بحران جنم لے سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کو نظرانداز کرنا اس کی پرانی عادت ہے، مگر اب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو خود بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

    امریکی وزیر خارجہ کا اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان

    شہباز شریف قطر کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے وطن روانہ

    قطر پر اسرائیلی حملہ، مسلم دنیا متحد ، دوحہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    اسرائیلی حملہ دہشت گردی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایرانی صدر

  • قطر پر اسرائیلی حملہ، مسلم دنیا متحد ، دوحہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    قطر پر اسرائیلی حملہ، مسلم دنیا متحد ، دوحہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    قطر پر اسرائیلی حملے کے خلاف عرب و اسلامی ممالک ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے، مسلم دنیا نے قطر کو مکمل تعاون اور اسرائیل کے خلاف جوابی اقدامات کی یقین دہانی کرادی۔

    ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ قطر پر اسرائیل کا بزدلانہ اور غیرقانونی حملہ قابلِ مذمت ہے، مسلم ممالک قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے ردعمل کی حمایت کرتے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ قطر پر اسرائیلی جارحیت خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے، غیرجانبدار ثالث پر حملہ امن کی کوششوں کے لیے خطرہ ہے، جبکہ مزید حملوں کی دھمکیوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

    قطر کے مہذب اور دانشمندانہ مؤقف کو سراہتے ہوئے اعلامیے میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی کوششوں کی حمایت کی گئی۔

    مشترکہ اعلامیہ کے اہم نکات:

    قطر پر اسرائیلی حملے کو "بزدلانہ اور غیرقانونی” قرار دیا گیا۔
    امن مذاکرات سبوتاژ کرنے والے فریق کو عالمی قوانین کا پابند بنانے کا مطالبہ۔
    واضح کیا گیا کہ ثالثی ناکام ہوئی تو خطے میں انتشار بڑھے گا۔
    مسلم دنیا نے متفقہ طور پر کہا: "قطر کی سالمیت مقدم ہے”۔
    اسرائیل سے عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ۔
    عالمی برادری سے اپیل کہ اسرائیل کے خلاف موثر سفارتی، قانونی اور معاشی اقدامات کیے جائیں۔ (more…)

  • انسانیت کے خلاف جرائم پر  اسرائیل کوجوابدہ ہونا ہوگا، شہباز شریف

    انسانیت کے خلاف جرائم پر اسرائیل کوجوابدہ ہونا ہوگا، شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے عرب اسلامی سربراہ کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ کرنا ہوگا، اس کی جارحیت نے امن کے حصول کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان دوحہ پر اسرائیلی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اسرائیل نے قطر کی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی، پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم ایک افسوسناک واقعے کے تناظر میں جمع ہوئے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی سمیت ہر پلیٹ فارم پر بھرپور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق، دوحہ سمٹ نے واضح پیغام دیا کہ مسلم امہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہے۔

    وزیر اعظم نے زور دیا کہ یو این سیکیورٹی کونسل فوری طور پر غزہ میں سیز فائر کرائے اور طبی عملے کو رسائی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خاموش رہنے کے بجائے ہمیں متحد ہونا ہوگا، اسرائیل عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کا حامی ہے اور غزہ میں شہری آبادی کو فوری بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، بصورت دیگر تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

    ایشیا کپ 2025: یو اے ای نے عمان کو 42 رنز سے شکست دیدی

    کراچی سیف سٹی : 1300 میں سے 891 کیمروں کی تنصیب مکمل

    ٹرمپ کا نیو یارک گورنر کی ممدانی کی حمایت پر سخت ردعمل، فنڈز روکنے کی دھمکی

    دوحہ میں شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کی اہم ملاقات

  • دوحہ میں شہباز شریف اور سعودی ولی عہد  کی اہم ملاقات

    دوحہ میں شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کی اہم ملاقات

    دوحہ میں عرب و اسلامی ممالک کے ہنگامی سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی۔

    اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ملاقات میں اسرائیلی جارحیت کے بعد کی صورتحال، باہمی تعلقات اور مسلم امہ کے اجتماعی مؤقف پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے حرمین شریفین سے اپنی گہری عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی علاقائی سلامتی و خودمختاری کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم کے متوقع دورۂ ریاض کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔اس ملاقات میں نہ صرف خطے کی تازہ صورتحال پر بات چیت ہوئی بلکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

    وزیراعظم کی اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی دوحہ میں عرب اسلامی سربراہ کانفرنس اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات ہوئی۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قطر پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی، اس موقع پر اسرائیلی اقدام کو خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور اردن نے اسرائیلی اقدامات کے خلاف مسلم دنیا کے اتحاد پر زور دیا۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے قریبی مشاورت پر اتفاق کیا۔

    دوحہ میں اسرائیل کا حملہ بہت بڑی جارحیت تھی،امیر قطر

  • دوحہ میں اسرائیل کا حملہ بہت بڑی جارحیت تھی،امیر قطر

    دوحہ میں اسرائیل کا حملہ بہت بڑی جارحیت تھی،امیر قطر

    عرب اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس سے خطاب میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم میں تمام حدیں پارکردیں، گریٹراسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کیلئے شدید خطرہ ہے۔

    قطرکے دارالحکومت دوحہ میں عرب اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت کئی ممالک کے سربراہان شریک ہیں۔سربراہی اجلاس سے خطاب میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی کا کہنا تھاکہ اسلامی ممالک کے رہنماؤں کو دوحہ آمد پرخوش آمدید کہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسلی کشی ہورہی ہے، اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم میں تمام حدیں پارکردیں، دوحہ میں اسرائیل کا حملہ بہت بڑی جارحیت تھی اوراسرائیل نے قطرکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی،قطرنے ثالث کے طورپرخطے میں امن کےلیے مخلصانہ کوششیں کیں لیکن اسرائیل نے مذاکراتی عمل کوسبوتاژ کرتے ہوئے حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا، یرغمالیوں کی پرامن رہائی کےاسرائیل کے تمام دعوےجھوٹےہیں اور گریٹراسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کےلیےشدید خطرہ ہے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کُشی کر رہا ہے، صیہونی حکومت انسانیت کےخلاف جرائم کی مرتکب ہوئی ہے، اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی سنگین پامالی لمحہ فکریہ ہے۔

  • اسلام آباد، راولپنڈی کے درمیان جدید اور تیز رفتار ٹرین چلانے کا فیصلہ

    اسلام آباد، راولپنڈی کے درمیان جدید اور تیز رفتار ٹرین چلانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان عوام کو تیز، آرام دہ اور جدید سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    جیو نیوز کے مطابق یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر ریلوے حنیف عباسی کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں منصوبے کے خدوخال اور فریم ورک پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں مارگلہ اسٹیشن اسلام آباد سے راولپنڈی صدر اسٹیشن تک ریل منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے پر اتفاق ہوا، جبکہ منصوبے کے فریم ورک ایگریمنٹ کو آئندہ ہفتے حتمی شکل دے کر دستخط کیے جائیں گے۔اعلامیے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان یہ سفر صرف 20 منٹ میں طے ہوگا، جس سے نہ صرف قیمتی وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ سڑکوں پر بڑھتے ٹریفک کے دباؤ میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ ٹرین شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولت فراہم کرے گی۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تیز رفتار ٹرین کے لیے ریل ٹریک وزارت ریلوے فراہم کرے گی جبکہ ریل سروس کا انتظام کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سپرد ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹرینیں درآمد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ عوام کو عالمی معیار کی سفری سہولت میسر آسکے۔

    وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ "جڑواں شہروں کے درمیان ریل سروس کا آغاز عوامی فلاح کا ایک بہترین منصوبہ ہوگا، جس سے شہری صرف 20 منٹ میں تیز اور آسان سفر کر سکیں گے۔”وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس منصوبے کو وزیراعظم کے عوامی ریلیف کے وژن کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ "منصوبے کی تکمیل سے ہزاروں شہریوں کو جدید، محفوظ اور معیاری سفری سہولت حاصل ہوگی، جو کہ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے درمیان آمد و رفت کو نئی جہت دے گی۔”

  • صدر  زرداری کا  اے وی آئی سی ایئرکرافٹ کمپلیکس کا تاریخی دورہ

    صدر زرداری کا اے وی آئی سی ایئرکرافٹ کمپلیکس کا تاریخی دورہ

    صدر آصف علی زرداری نے بیجنگ میں چین کے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن (اے وی آئی سی) کے ایئرکرافٹ کمپلیکس کا تاریخی دورہ کیا۔

    صدر مملکت بطور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اے وی آئی سی کمپلیکس پہنچے، جہاں انہوں نے پورے کمپلیکس کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہیں جے-10، جے ایف-17 اور جے-20 اسٹیلتھ فائٹر طیاروں سمیت ڈرونز، خودکار یونٹس اور ملٹی ڈومین آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. جے-10 سی طیارہ، جس نے مئی 2025 کے معرکۂ حق میں اہم کردار ادا کیا تھا، بھی اس کمپلیکس میں تیار کیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے انجینئرز اور سائنسدانوں سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ جے-10 اور جے ایف-17 طیاروں نے پاک فضائیہ کو مزید مضبوط بنایا ہے اور ان کی کارکردگی معرکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں نمایاں رہی۔ انہوں نے اے وی آئی سی کو چین کی ٹیکنالوجی اور پاک-چین اسٹریٹجک شراکت داری کی علامت قرار دیا۔

    صدر آصف علی زرداری اس کمپلیکس کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو، خاتون اول آصفہ بھٹو، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی اور چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ بھی ان کے ہمراہ تھے۔پاکستان اور چین نے دفاعی پیداوار اور ہوا بازی میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر مائیک ہیسن کی مایوسی، آئی سی سی کو شکایت

    سندھ میں سیلابی صورتحال: پیپلز پارٹی نے سیاسی سرگرمیاں معطل کردیں

    برلن میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے خلاف 20 ہزار افراد کا احتجاج

    اسحاق ڈار کی دوحہ میں اہم سفارتی ملاقاتیں، اسرائیلی حملوں کی مذمت

  • اسرائیل عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، اسحٰق ڈار

    اسرائیل عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، اسحٰق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل عالمی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔

    اسحٰق ڈار نے دوحہ میں ہنگامی عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس کے وزارتی تیاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے خلاف اسرائیل کی غیر قانونی اور بلاجواز جارحیت کی سخت مذمت کی۔

    انہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ ماہ او آئی سی وزرائے خارجہ جدہ میں فلسطین میں اسرائیلی مظالم پر غور کے لیے جمع ہوئے تھے، جو اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    اسحٰق ڈار نے قطر پر حالیہ اسرائیلی حملوں کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جارحیت خطے کے استحکام کے لیے شدید خطرہ اور اسرائیل کی سرکش سوچ کا مظہر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات عالمی نظام اور سفارتکاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    اجلاس میں شرکا نے اسرائیلی مظالم پر احتساب کی ضرورت پر زور دیا اور کئی اہم فیصلے کیے:

    اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف عرب۔اسلامی ٹاسک فورس کی تشکیل

    او آئی سی کی سفارش کے مطابق اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ

    رکن ممالک کی جانب سے تعزیری اقدامات پر اتفاق

    سلامتی کونسل سے مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ

    غزہ میں انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کی ضمانت

    دو ریاستی حل کے لیے حقیقی اور وقت مقررہ مذاکراتی عمل کی بحالی

    آخر میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ نے عالمی امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، انصاف اور قیامِ امن کے لیے او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔
    امریکا اور چین کے درمیان میڈرڈ میں اہم تجارتی مذاکرات شروع

    ایشیا کپ: بھارت کی پاکستان کو بآسانی 7 وکٹوں سے شکست

  • وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت

    وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت

    وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف کا دورہ بنوں ،وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے دہشت گردی سے متعلق اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی،

    وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے جنوبی وزیرستان آپریشن میں 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا، پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں ہیں اور ان کی پُشت پنائی ہندوستان کر رہا ہے، افغانستان کو واضح کر دیا گیا ہے کے خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں، دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں جو افغانستان سے پار آ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے ،پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر رد کرتی ہے، جو بھی خارجیوں اور ہندوستان کی دہشت گرد پراکسیوں کی سہولت کاری اور معاملہ فہمی کی بات کرتا ہے وہ انہی کا اعلیٰ کار ہے اور اُسے بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے، اکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے غیور عوام، ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ملکر ہندوستان کی ان پراکسیوں کے خلاف بنیان مرصوص کی طرح متحد ہیں،دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر جواب دینے کے لئے جو ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرنے پڑے وہ فوراً کریں گے –

    وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے بنوں سی ایم ایچ میں زخمیوں کی عیادت بھی کی مپشاور کے کور کمامڈر نے علاقے کی سیکورٹی صورتحال پر تفصیلاً بریف کیا ،وزیر اعظم کا چیف آف آرمی اسٹاف نے بنوں کنٹونمنٹ میں استقبال کیا

  • مودی سرکار ہوش میں آؤ، بھارتی فوجی سڑکوں‌پر نکل آئے

    مودی سرکار ہوش میں آؤ، بھارتی فوجی سڑکوں‌پر نکل آئے

    بھارتی ریاست بہار میں بڑی تعداد میں فوجیوں نے اپنی ضروریات اور مراعات کے لیے سڑکوں پر نکل کر زبردست احتجاج کیا۔ اُنہوں نے دھمکی کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاجی کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا دیا جائے گا۔

    خبررساں ادارے کے مطابق باقاعدہ وردی میں ملبوس فوجیوں نے ضروریات اور مراعات کی عدم فراہمی کے خلاف سڑکوں پر مارچ کیا ۔ اُنہوں نے بھارتی ترنگا اور بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ احتجاج میں شریک فوجیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے ۔فوجیوں کا کہنا تھا کہ اُنہیں ضروریات اور مراعات سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ احتجاجی فوجیوں نے دھمکی کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات فوری طور پورے نہ کیے تو پورے بھارت میں احتجاج کیا جائے گا ۔ فوجیوں نے ”ہماری مانگیں پوری کرو پوری کرو ، مودی سرکار ہوش میں آﺅ ہوش میں آﺅ“ جیسے نعرے لگائے۔انہوں نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ”ہمیں ایک پیسہ بھی الاﺅنس نہیں ملا رہا ، ہم وزیر اعظم، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع کو خط لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں لیکن کوئی ہماری نہیں سن رہا لہٰذا ہم احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔

    یہ دنیا کا ایک انوکھا واقعہ ہے کہ باقاعدہ وردی میں ملبوس کسی ملک کے فوجی مراعات اور دیگر ضروریات نہ ملنے پر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بھارتی فوجیوں کے احتجاج نے عوام اور سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے اور امکان ہے کہ یہ معاملہ جلد بھارتی پارلیمنٹ میں بھی زیرِ بحث آئے گا۔