Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوازشریف بھارت نواز‌:مودی نوازشریف کےجانے،عمران خان     کےآنےپرغصےمیں ہیں:سابق ہائی کمشنرعبدالباسط

    نوازشریف بھارت نواز‌:مودی نوازشریف کےجانے،عمران خان کےآنےپرغصےمیں ہیں:سابق ہائی کمشنرعبدالباسط

    لاہور: نوازشریف مودی ڈاکٹرائن کےپیروکار:مودی نوازشریف کےجانےاورعمران خان کےآنےپرسخت غصےمیں ہیں:سابق ہائی کمشنرعبدالباسط نے نوازشریف کی بھارتی نوازی سے پردہ اٹھا دیا ہے ،بھارتی صحافی کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف نے مودی کی ترجیحات کو یکطرفہ اور غیر مشروط طور پر اہمیت دی۔

    سابق ہائی کمشنر نے بڑے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ نوازشریف بھارت نوازہیں وہ کشمیر اوردیگرمسائل پرکبھی کبھاربیان بازی تو کرلیتے تھے مگروہ کشمیراوربھارتی مسلمانوں کے مسائل کی خاطربھارت سے ناراضگی کوفضول قراردیتے تھے

    بھارتی صحافی کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے نواز شریف پر سنگین الزامات لگاتے ہوئےکہا کہ نواز شریف نے مودی کی ترجیحات کو یکطرفہ اور غیر مشروط طور پر اہمیت دی، انہوں نے پاکستان کے مفادات پر مودی کی مرضی کو تر جیح دی۔

    سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے سرتاج عزیز اور طارق فاطمی پر بھی سنگین الزامات عائد کیے، انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی نے بھی مودی کی خواہشات کو پورا کیا۔ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی نے مودی کی مرضی کوسمجھنے کے لیے باقاعدہ کام کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف چین کی بجائے بھارت کے ساتھ دوستی کے لیے اندر اندرسے کوشاں تھے

    سابق ہائی کمشنر نے الزامات عائد کیے کہ نواز شریف نے دہلی میں نریندر مودی سے ملاقات کے وقت سفارتی عملے کو بھی شامل نہیں کیا۔انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ نوازشریف مودی کے ساتھ خفیہ معاہدے کرنا چاہتے تھے اوراس پرفریم ورک بھی نوازشریف اورمودی کے درمیان ڈیزائن ہوچکا تھا ، اس لیے نوازشریف کا یہ خیال تھا کہ اگرپاکستانی ہائی کمشنرکوان عزائم سے آگاہ کردیا تویہ بات پاک فوج تک پہنچ جائے گی جو کہ وہ کسی صورت بھی برداشت کرنے کےلیے تیار نہیں‌ تھے

    بھارت میں سابق پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک جونیئر اہلکار نے انہیں بتایا کہ سیکرٹری خارجہ کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ اُن کی اجازت کے بغیر بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو کوئی تفصیلات نے بتائیں،

    انہوں نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا کہ یہ توہین آمیز ہے کیا نوازشریف ہی محبت وطن ہیں ، ان کیا یہ نہیں پتہ کہ ہم بھارت میں اپنی اوراپنے اہل خانہ کی زندگیوں کو وطن عزیرکےلیے داو پرلگا کرمشن پرہوتے تھے اوروہ کسی کواس قابل سمجھتا ہی نہیں تھا

    بھارت میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر کہتے ہیں کہ نواز شریف کا مجھ پر اعتماد نہ کرنا، اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہ تھی لیکن میرا خیال ہے کہ وزارت خارجہ کے دیگر عملے نے ہمارے درمیان مشکلات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔اوروزارت خارجہ میں اس وقت ایسے لوگ لا کربٹھا دیئے گئے تھے جونوازشریف کے ایجنڈے کوسپورٹ کرنا چاہتے تھے

    انہوں نے کہا کہ حریت رہنماوں سے ملاقات سے لے کر کلبھوشن یادو تک انڈین ارب پتی صنعت کار سجن جندال نے مودی اور نواز شریف کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    نواز شریف کو بھارت سے جذباتی لگاو تھا، اور اِس دوران وہ یہ بھی بھول جاتے تھے کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ مودی کے ساتھ ملاقات میں نواز شریف نے کشمیر پر چپ سادھی رکھی، انہوں نے ایک بار کشمیر کا لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ ہی کشمیر کا کوئی ذکر کیا۔

    عبدالباسط کہتے ہیں کہ ایک بات یاد رکھ لیں کہ نوازشریف اوران کے ایک ہم سخن لوگوں کے لیے بھارت اکھنڈ اورمحفوظ بھارت ہی بہتر آپشن تھا اوراب بھی ہے اس لیے وہ فوج اورقومی اداروں کو بدنام کرکے بھارت کوسکون فراہم کررہے ہیں لیکن یہ بے وفائی زیادہ دیر تک نہیں چلنے والی

  • ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ن لیگ کی طرح فیصلہ خلاف آئے توعدالتوں پرحملے نہیں کرتے:بلاول بھٹو

    ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ن لیگ کی طرح فیصلہ خلاف آئے توعدالتوں پرحملے نہیں کرتے:بلاول بھٹو

    اسلام آباد:ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ن لیگ کی طرح فیصلہ خلاف آئے توعدالتوں پرحملے نہیں کرتے:اطلاعات کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ الیکشن سے متعلق عدالتی فیصلے پر ‏ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی آئین کی بالادستی پریقین رکھتی ہے، پارلیمنٹ اورآئین کی ‏بالادستی پرکوئی دوسری رائےنہیں، پیپلزپارٹی عدلیہ کی آزادی کااحترام کرتی ہے۔

    بلاول بھٹو نےاس موقع پرپارٹی کے آئینی موقف کودہراتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اگرفیصلہ خلاف آجائے توعدالتوں پرحملے نہیں کرتی ، ججوں کو بھرا بھلا نہیں کہتی پہلے بھی آئین پریقین تھا اب بھی آئین کی بالادستی کے لیے کوشاں ہیں

    بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نےماضی میں عدلیہ کی آزادی کیلئےجدوجہدکی، سینیٹ ‏انتخابات میں پر یزائیڈنگ افسرکےذریعےالیکشن چوری کیاگیا ہماری پارٹی آئین،پارلیمان کی بالادستی ‏میں یقین رکھتی ہے،

    انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نےپریزائیڈنگ افسرکےفیصلےکوچیلنج کیاتھا، پریزائیڈنگ ‏افسرنےجوفیصلہ سینیٹ کی پولنگ اسٹیشن میں دیاتھا، پریزائیڈنگ افسرنے7ووٹ نشاندہی کرتے ‏ہوئے مسترد کیے تھے

    چیئرمین پی پی نے کہا کہ بالافورم سےرجوع کرناہماراحق ہے اور بالافورم انصاف حاصل کرنے کیلئے ‏استعمال کریں گے، آئین ہمیں پارلیمان کی کارروائی پرسوال اٹھانےسےروکتاہےلیکن یہ پارلیمانی ‏کاروائی نہیں تھی۔

    بلاول بھٹو نے کہا ہےکہ پاکستان میں ایک پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کو پامال کیا ہے اوراب بھی وہ یہی چاہتی ہے لیکن پی پی ایسا ہرگزتصور نہیں کرسکتی

  • مودی بدل گیا ، بھارت اور پاکستان کا رومانس ، انجام کیا ہوگا ؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مودی بدل گیا ، بھارت اور پاکستان کا رومانس ، انجام کیا ہوگا ؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مودی بدل گیا ، بھارت اور پاکستان کا رومانس ، انجام کیا ہوگا ؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی : سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا ہےکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ چند روز میں کچھ برف پگھلی ہے ۔ اور اس سلسلے میں پاکستان نے بطور ریاست ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ ہم نے دیکھا پہلے ایل او سی پر سیز فائر ہوا۔
    پھر بھارت نے عمران خان کے جہاز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی اور پھر پاکستان کی ایک نیزہ باز ٹیم ایک بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے لیے بھارت آئی۔ پھر آرمی چیف جنرل باجوہ کا ایک بیان بھی پاک بھارت امن کے حوالے سے آیا ۔
    پھر وزیراعظم عمران خان کی کرونا میں مبتلا ہونے کی خبر پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر پیغام بھیجا۔ اس طرح دونوں حریف ممالک کے مابین مثبت اشاروں کا سلسلہ شروع ہوا۔اوراب پاکستان بھارت آبی مذاکرات ہو رہے ہیں۔ جس کا ایک دور آج ہوچکا ہے اور دوسرا اب کل ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سفارتی سطح پر ان تمام معاملات کو دونوں ممالک کے درمیان ٹریک ٹو مذاکرات کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق ان مثبت اقدام میں متحدہ عرب امارات کا کردار ہے تاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری چپقلش کم ہو سکے۔ اس حوالے سے امریکہ ذرائع ابلاغ بھی رپورٹ کر چکا ہے ۔ امریکی نشریاتی ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگ بندی دونوں ممالک کے مابین پائیدار امن کے وسیع روڈ میپ کا آغاز ہے ۔ اسکے بعد کے مراحل میں دونوں ممالک کے سفیروں کا تقرر ، تجارت کی بحالی اور کشمیر کا حتمی فیصلہ ہوگا ۔ ماضی کے مقابلے میں یہ کوششیں اس لیے مستحکم ہیں کہ جوبائیڈن افغانستان میں قیام امن کی کوششیں کررہے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ملڑی حکام کے درمیان 2003کے سیز فائر معاہدے نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا اور اس کے معاہدے پر عمل درآمد کے اعلان کے چوبیس گھنٹوں بعد متحدہ عرب امارات کے اعلی سفارتکار ایک روزہ دورے پر نئی دہلی روانہ ہوئے تھے ۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید نے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کےساتھ جو بات چیت کی اس کا اشارہ اس طرح دیا کہ انھوں نے مشترکہ مفاد کے تمام علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔

    اس تمام صورتحال پر کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرو نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ اگر یہ میڈیا قیاس آرائی نہیں اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن النہیان بھارت اور پاکستان کے مابین کسی بڑے معاہدے کو مکمل کر پائے تو وہ نوبیل انعام کے مستحق ہونگے۔ ویسے تعلقات میں نرمی ایک دم سے نہیں ہوئی بلکہ گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بھارتی صحافی کو انٹرویو دے کرانکشاف کیا تھا کہ بھارت بات چیت شروع کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم بعد ازاں بھارتی دفتر خارجہ نے اس بیان کی تردید کر دی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نومبر 25، 26کو بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے امارات کا دو روزہ دورہ کیا۔ اس کے چند دنوں بعد ہی دسمبر میں بھارتی آرمی چیف کا متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا چھ روزہ دورہ ہوا۔ بھارتی آرمی چیف کی واپسی کے بعد پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے17 دسمبر کو امارات کا دو روزہ دورہ کیا تھا۔
    متحدہ عرب امارات سے پہلے سعودی وزیر خارجہ بھی ایک انٹرویو میں اس بات کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ سعودی عرب نے بھی دونوں ممالک کو ٹیبل پر بیٹھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے وزیر مملکت عادل الجبیر نے گذشتہ برس مارچ میں بھی کہا تھا کہ سعودی عرب بھی پاک بھارت تناؤ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ، یورپی یونین، امارات والے سب کوئی نہ کوئی کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ سفارتی تعلقات
    110
    کی مکمل تعداد اور باقاعدہ ہائی کمشنر لیول کے ہوں جبکہ یورپی یونین تجارتی تعلقات کے لیے کوشاں ہے۔ ریل، روڈ، ہوائی راستے کھول کر عوامی روابط کھولنا بھی تجاویز میں شامل ہے۔ ابھی تک بھارتی اور پاکستانی وزارت خارجہ نے امارات کے کسی قسم کے کردار کے حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں آج یا کل دفتر خارجہ پاکستان بھی اس حوالے سے ریاستی موقف بارے واضح طور پر بتائے گا ۔ اعلیٰ سفارتی حکام کا کہنا ہے دوشنبے میں 30
    مارچ کو ہارٹ آف ایشیا وزرائے خارجہ سطح کی کانفرنس ہے۔ پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ممکنہ ملاقات سمت کا تعین کر دے گی کہ پاکستان بھارت تعلقات کس طرف جائیں گے۔

    youtu.be/c-cQ37Fu9CY

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب بہت سے لوگ اس جانب بھی اشارہ کررہے ہیں کہ یہاں صرف متحدہ عرب امارات کا کردار نہیں بلکہ امریکہ کا کردار بھی کسی حد تک ہے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف بھی بیک ڈور رابطوں میں فعال رہے ہیں۔ اور یہ دو طرفہ تھا یعنی صرف پاکستان ہی نہیں امریکہ نے بھارت پر بھی اپنا اثر رسوخ استعمال کیا ہے ۔

    پر بہت سوں کا ماننا ہے کہ مسئلہ گھوم کر پھر وہیں پہ آ جائے گا کہ مذاکرات کر کے کیا حاصل کرنا ہے کیونکہ کشمیر اصل مسئلہ ہے۔ بھارت تو پہلے بھی یہی چاہتا ہے کہ پہلے دوستی کریں۔ مسئلے بعد میں خود حل ہو جائیں گے۔ لیکن پاکستان کا موقف ہے کہ پہلے دیرینہ مسئلہ حل ہو۔ پھر دوستی کریں گے۔ جب فریم ورک بنے گا تو بھارت سخت پوزیشن لے گا اور پاکستان سے رعایت مانگے گا۔ یہ اتنا آسان معاملہ نہیں ہے جتنا نظر آ رہا ہے کیونکہ بھارت کشمیر پر بات نہیں کرے گا تو معاملہ پھر آگے کیسے بڑھے گا۔ ابھی آج ہونے والے پاک بھارت انڈس واٹر کمشنرزکے مذاکرات کو دیکھ لیں ۔ پاکستانی وفد نے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی دریاﺅں پر پن بجلی منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے تو بھارتی وفد حقائق نظراندازکرکے میں نہ مانوں کی گردان کرتا رہا۔ بھارتی وفد کی ضد ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کی تعمیر بھارت کا حق ہے ،منصوبوں کی تعمیر اور ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کے عین مطابق ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب سوال یہ بھی ہے کہ بھارت پاکستان کے تعلقات اگر امن کی جانب رواں دواں ہیں تو دونوں ممالک کے ہائی کمشنروں کی اپنے سٹیشنوں پر واپسی کب ہو گی؟
    اس وقت دونوں ممالک کے ہائی کمیشن میں عملے کی تعداد55 ہے۔ گذشتہ برس جون میں بھارت نے عملہ
    50فیصد کرنے کا نوٹفیکیشن جاری کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے بھی دہلی سے اپنا
    50 فیصد عملہ واپس بلا لیا تھا۔اگر آپ تھوڑا پیچھے جائیں تو
    2003میں بھی سیز فائر کے معاہدے سے تعلقات میں بہتری شروع ہوئی تھی اور 2004 میں سارک سربراہی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ اب بھی اسی طرح کی پیش رفت ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے جس کی وجہ سے تعطل کا شکار سارک سربراہی کانفرنس اسلام آباد میں ممکن ہونے کا امکان ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مگر آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو گا کہ پانچ اگست کے بعد کی صورت حال سے مذاکرات شروع ہوں گے یا پانچ اگست سے پہلے۔ اس سارے معاملے میں بنیادی سٹیک ہولڈر کشمیری ہیں۔ اور کسی نہ کسی اسٹیج پر ان کو شامل کرنا ہی پڑے گا ۔ ابھی ہمیں ان مذاکرات کا خیر مقدم کرنا چاہیے لیکن سوالات یہ ابھرتے ہیں کہ مذاکرات کے لیے روڈ میپ کیا ہو گا اور تعلقات کی بحالی کے لیے پاکستان کو کیا قیمت دینی پڑے گی؟

  • میں نہ مانوں، فیصلہ خلاف آنے پر گیلانی نے کیا لائحہ عمل اٹھانے کا فیصلہ کر لیا؟

    میں نہ مانوں، فیصلہ خلاف آنے پر گیلانی نے کیا لائحہ عمل اٹھانے کا فیصلہ کر لیا؟

    میں نہ مانوں، فیصلہ خلاف آنے پر گیلانی نے کیا لائحہ عمل اٹھانے کا فیصلہ کر لیا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ سے چیئرمین سینیٹ کا الیکشن کا فیصلہ آنے کے بعد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وکلا سے مشاورت شروع کر دی ہے ،وکلا نے یوسف رضا گیلانی کوعدالتی فیصلے سے تفصیلی طورپرآگاہ کیا،یوسف رضا گیلانی نے وکلاسے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے معاملے پر مشاورت کی،علی حیدر گیلانی کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی وکلا سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ جانے سے متعلق فیصلہ کریں گے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی درخواست نا قابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنادیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کا معاملہ ہے اور آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمان کی کارروائی کو تحفظ حاصل ہے اس لیے اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے میں کوئی ڈائریکشن جاری نہیں کرسکتی

    چیئرمین سینیٹ الیکشن کے نتائج، پیپلز پارٹی کا یوٹرن،زرداری حکومت پر نہیں بلکہ اپوزیشن پر بھاری رہے

    چیئرمین سینیٹ الیکشن نتائج، پی ڈی ایم کے لئے بری خبر

    کاش حکومتی پیشکش مان لی ہوتی تو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہمارا ہوتا،مولانا کا نواز اور زرداری کو فون

    واضح رہے کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں صادق سنجرانی اور مرزا آفریدی منتخب ہو چکے ہیں جبکہ پی ڈی ایم کو شکست ہوئی ہے، چیئرمین کی سیٹ پر پی ڈی ایم نے نتایج کو چینلج کر دیا ہے

  • پی پی کوسخت دھچکہ:یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے خلاف درخواست خارچ کردی گئی

    پی پی کوسخت دھچکہ:یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے خلاف درخواست خارچ کردی گئی

    اسلام آباد:پی پی کوسخت دھچکہ:یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے خلاف درخواست خارچ کردی گئی ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی درخواست کو مسترد کردیا ہے

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے دائر درخواست پر دوپہر کو فیصلہ محفوظ کیا جسے اب جاری کیا گیا ہے۔

    تحریری فیصلے میں عدالت نے چیئرمین سینیٹ کی تقرری کے خلاف دائر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’آئین کے آرٹیکل کے تحت درخواست قابل سماعت نہیں ہے، اس حوالے سے کمیٹی کے پاس معاملہ لے کر جایا جائے‘۔

    یوسف رضا گیلانی کی جانب سے عدالت میں معروف قانون دان فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے جنہوں نے معزز جج کو مسترد ہونے والے 7 ووٹوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اعتراض کیا۔

    فاروق ایچ نائیک نے یوسف رضاگیلانی کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا عدالت12مارچ کےچیئرمین سینیٹ کے انتخابات کالعدم قراردے اور چیئرمین سینیٹ کے12مارچ کا نوٹیفکیشن معطل کرے۔

    اس نکتے پر چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ کس قانون کےتحت چیئرمین سینیٹ کےالیکشن ہوئے تھے، فاروق ایچ نائیک نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کردار پڑھ کرعدالت کو سنایا۔

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا پورے اتنخابات میں الیکشن کمیشن کا کچھ کردارہے؟ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ جی نہیں یہ پورا عمل پارلیمنٹ نےکرایا تو چیف جسٹس نے کہا تو پھر آرٹیکل 69 سے کیسے نکلیں گے، آرٹیکل 69 کی ذیلی شق نمبر 2 بھی پڑھ لیں۔

    فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ الیکشن عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، جو ووٹ سےمتعلق ہدایت تھیں ان پرمکمل عمل کیا گیا ، سعید غنی اور شیری رحمان سمیت دیگر نے پی او سے مہر لگانے سے متعلق سوال کیا، جس پر انہوں نام کے اوپر مہر لگانے کا جواب دیا گیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 کےتحت آپ ریفرنس اسپیکر کو بھیج سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس سے پہلے کبھی چیئرمین سینیٹ کوعہدے سےہٹایاگیاہے؟۔ اس پر فاروق ایچ نائیک نے نفی میں سر ہلایا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت بےجا مداخلت سے پرہیز کرتی ہے، معاملہ سینیٹ کمیٹی کے پاس لے جا سکتے ہیں۔جس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سینیٹ کمیٹی کے پاس چیئرمین سینیٹ کوہٹانے کااختیار ہی نہیں ہے۔

  • پاکستان؛بھارت کےدرمیان ڈپلومیسی کا ماسٹرمائنڈ کون؟مقاصدکیا؟پاکستان کی حکمت عملی کیاہوگی؟خصوصی رپورٹ

    پاکستان؛بھارت کےدرمیان ڈپلومیسی کا ماسٹرمائنڈ کون؟مقاصدکیا؟پاکستان کی حکمت عملی کیاہوگی؟خصوصی رپورٹ

    لاہور:پاکستان اوربھارت کے درمیان ڈپلومیسی کا ماسٹرمائنڈ کون؟مقاصدکیا؟اورپاکستان کی حکمت عملی کیاہوگی؟خصوصی رپورٹ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان اوربھارت کے درمیان بظاہر برف پگھلتے ہوئے نظرآرہی ہے ، اس بیک ڈورڈپلومیسی کو کس نے ڈیزائن کیا اوراس کے مقاصد کیا ہیں اس حوالے سے ماضی ، حال اورمستقبل میں ہونے والی متوقع تبدیلیوں اوراثارکی بنیاد اوراس دوران متحرک حکومتوں اورشخصیات سے ملنے والی مستند خبروں کی بنیاد پرایک واضح صورت حال سامنےآتی ہے

    جہاں تک تعلق ہےکہ پاکستان اوربھارت کے درمیان اچانک برف کیوں پگھلنے لگی تواس کی بڑی وجہ خطے میں امریکہ کے مفادات اورموجودہ حالات میں امریکہ کے چین اورروس کے حوالے سے پیدا ہونے والے محرکات ہیں

    کوئی بھی طاقت ور سے طاقت ورملک اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک وقت میں کئی محاذوں پرلڑسکے ، جب اس صورت حال میں جب کہ امریکہ کودوبڑی دشمن قوتوں‌ کا سامنا ہے امریکہ کے لیے جنوبی ایشیا اورخاص کرچین کے حوالے سے اپنے مسائل پرفوکس کرنے کے لیے امریکی دفاعی ماہرین نے دسمبر، جنوری میں کچھ اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیے

    پینٹا گان اورسی آئی اے کے ماہرین کی طرف سے اس اہم اجلاس میں مختلف قسم کے پہلو زیربحث آئے ، جن میں سرفہرست اوربڑا مسئلہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی اورمعاشی قوت کا تھا ، جس پرپینٹا گان اورسی آئی اے کے ماہرین اس بات پرمتفق ہوئے کہ چین کے حوالے سے امریکہ کا بڑا اتحادی بھارت اس وقت بہت سی مشکلات کا شکارہے ،

    اس اہم اجلاس میں مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارتی دفاعی حکام بھی شامل تھے ، جن کی طرف سے بھارت کوحائل مشکلات کی ایک کہانی سنائی گئی ، اس اجلاس کے دوسرے دن بھارتی دفاعی حکام نے یہ معذوری ظاہر کی کہ جب تک بھارت کو کشمیر میں مشکل صورت حال کا سامنا ہے ، بھارت وہاں سے توجہ ہٹا کر دوسرے معاملات پرفوکس نہیں کرسکتا،

    اس موقع پربھارتی دفاعی حکام کی طرف سے یہ بھی عذرپیش کیا گیا کہ کشمیر اورکشمیر سے ملحقہ دوسرے علاقوں خصوصا لداخ میں چین اورپاکستان ملکر بھارت کو کمزورکررہےہیں اس لیے جب تک بھارت کو کشمیر کے حوالے سے کچھ سکون نہیں ملتا بھارت کھل کردیگرایشوز پراپنی توجہ فوکس نہیں کرسکتا

    دوسری طرف چین کے خلاف نئے اتحاد جسے کواڈ کا نام دیا گیا ہے اس کے اجلاسوں میں بھی یہ عذرپیش کیا گیا کہ بھارت کوپاکستان کی طرف سے سخت مشکلات کا سامنا ہے،جب تک بھارت پاکستان سرحدوں کے حوالے سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں تصورکرے گا بھارت کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دیگرمحاذوں پراپنے آپ کومشکل میں‌ ڈالے

    کواڈ کے سربراہی اجلاس میں جس میں بھارت ، امریکہ ، اسٹریلیا اورجاپان سمیت کئی اورچین مخالف ملکوں کے سربراہ شامل تھے اس ویڈیولنک اجلاس میں بھی بھارت نے سب سے پہلے کشمیرمیں جاری مزاحمت کی تحریک کا رونا رویا اورعذرپیش کیا کہ پاکستان کو مذاکرات کی میز پرلاکرجب تک بھارت کشمیر میں اپنے آپ کو ایزی فیل محسوس نہیں کرتا بھارت کے لیے بہت مشکل ہےکہ وہ چین کا سمندری گھیراو کرنے میں مکمل طورپراپنے آپ کو فعال کرسکے

    دوسری طرف اہم ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خود یہ محسوس کررہے کہ جب تک بھارت کشمیراوردیگراندورنی مسائل سے بے فکر نہیں ہوجاتا بھارت کی سلامتی کوخطرات لاحق رہیں گے اوراس صورت میں خطے میں چین کے لیے سکون کی کیفیت پیدا ہوگی

    یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے لیے بڑی دورسے آکرچین سے لڑنا بہت مشکل ہے اس لیے امریکہ نے چین کے مخالف ملکوں کے کندھے پربندوق رکھ کرچلانے کا فیصلہ کیا

    امریکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ خطے میں بھارت ہی ایسا ملک ہے جوچین کوکمزورہونے کے باوجود آنکھیں دکھا سکتا ہے ، اس صورت میں امریکہ اوراتحادی یہ چاہتے ہیں کہ بھارت کوزیادہ سے زیادہ طاقتورکیا جائے اورانکا یہ بھی خیال ہےکہ کمزوربھارت چین کے خلاف مزاحمت نہیں کرسکے گا ، اس لیے یہ قوتیں بھارت کو طاقتور دیکھنا چاہتی ہیں

    انہی قوتوں کا یہ خیال ہے کہ بھارت تب طاقتورہوسکتا ہےکہ جب اسے کشمیرمیں مزاحمت کا سامنا نہ ہواس لیے موجودہ ڈپلومیسی کے پیچھے چین مخالف قوتیں اوریہ نظریہ کارفرما ہے

    ماضی کو سامنے رکھیں تو ایک واضح صورت حال سامنے آتی ہے کہ جب بھی کشمیرمیں تحریک زورپرہوتی ہے بھارت بیک ڈورچینلز استعمال کرکے اس تحریک کوٹھنڈاکرنے میں کامیاب رہا ہے جس کا لامحالہ فائدہ بھارت کو ہی پہنچا ہے

    اس وقت کشمیر میں صورت حال بڑی خراب ہے اوربھارت کی طرف سے ہرگھرپرفوجی بٹھانے کے باوجود کشمیر بھارت کی گرفت سے باہرنکل رہا ہے ، دوسری طرف کشمیری مجاہدین نے اس قدر تابڑتوڑحملے کیے ہیں کہ بھارت کی آخری دفاعی کوششیں بھی ناکام نظرآتی ہیں ، ہرآنے والا دن بھارت کے لیے مصیبت بن کرآرہاہے ،

    مصدقہ ذرائع کے مطابق اس وقت کشمیر میں موسم کے بدلنے کے ساتھ ہی بڑی تیزی آگئی ہے اورلوگ پہلے اس قدر سامنے آکرپاکستان سے اظہارمحبت نہٰیں کرتے تھے جس قدر اب ہورہا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں ہر گھرپرپاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے ، قائداعظم محمد علی جناح ، وزیراعظم عمران خان کی قدآورتصاویرہرچوک پرآویزاں ہیں اورہرطرف سے آوازآرہی ہےکہ کشمیر بنے گا پاکستان

    اس صورت حال نے بھارت کو بیک ڈورڈپلومیسی پرمجبورکیا ہے

    ایک پہلویہ بھی سامنے آرہاہے کہ کشمیری مشکلات کے باوجود پاکستان کی موجودہ حکومت سے بہت خوش دکھائی دیتے ہیں اوران کا یہ خیال ہے کہ عمران خان واقعی کشمیروں کے لیے مخلص ہے اورجدوجہد کررہاہے ، عمران خان کی شخصیت نے کشمیروں کے حوصلے بلند کردیئے ہی

    اس ڈپلومیسی کو ڈیزائن کرنے والوں کا ایک منصوبہ یہ بھی ہے کہ اب پاکستان کے ساتھ ڈپلومیسی کی جائے اورپھرایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ پاکستان مخالف اپوزیشن پارٹیاں اس بیک ڈورڈپلومیسی پرسیاست کریں گی اورعمران خان کو مورود الزام ٹھہرائیں گی جس سے کشمیریوں کو عمران خان سے بھی اعتماد اٹھ جائے گا

    اورساتھ ساتھ عمران خان کے مخالفین کوالیکشن ایشومل جائے گا اوروہ اس کو ووٹ لینے میں کامیاب رہیں گے

    پاکستان اوربھارت کے درمیان بیک ڈورڈپلومیسی کا دوسرا پہلویہ سامنے آرہا ہےکہ بھارت کا یہ خیال ہے کہ ملک میں بے چینی بڑھ رہی ہے ، اقلیتیں کھڑی ہورہی ہیں ، سکھوں کی خالصتان تحریک نے پھرسراٹھا لیا ہے اورایسے ہی دیگرریاستوں میں آزادی کی تحریکیں زورپکڑرہی ہیں ، بھارتی ادارون کا یہ وہم ہےکہ بھارت کو توڑنے میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی یہ سارے کھیل کھیل رہی ہے اورجب تک بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پرنہیں لاتا تب تک بھارت میں ان تحریکوں کی سرگرمیوں میں کمی واقع نہیں ہوگی

    بیک ڈورڈپلومیسی کا ایک پہلویہ بھی سامنے آیا ہےکہ بھارت میں کسان تحریک نے پورے ملک کولپیٹ میں لے لیا ہے اوریہ تحریک ہرروزآگے ہی بڑھتی جارہی ہے بھارت کا یہ بھی وہم ہےکہ اس تحریک کے پیچھے پاکستان ہے ،

    ویسے تو بھارتی دفاعی ماہرین کی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اورپینٹا گان سے ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے معاملات زیربحث آئے لیکن چیدہ چیدہ یہی چند تھے

    واشنگٹن میں ہونے والے ان اجلاسوں میں بیک ڈورڈپلومیسی کا پیٹرن تیارہوتا ہے اوراس کے لیے کرداروں کے تعین کی بات بھی ہوتی ہے ، جس پران دواہم اجلاسوں میں اس بات پراتفاق کیا گیا کہ ان حالات میں پاکستان کواگرکوئی ملک مجبور کرسکتا ہے تو وہ سعودی عرب ہے پاکستان سعودی عرب سے اختلافات کے باوجود سعودی حکمرانوں کی تہہ دل سے قدرکرتا ہے ،

    اس مجلس میں عرب امارات اورقطری حکومتوں کے کردارکوبھی استعمال میں لانے پراتفاق ہوا

    اس کے بعد سعودی عرب اورعرب امارات کے سامنے خطے کی صورت حال کا ایک منظرنامہ پیش کیا جاتا ہے اوران کو ایسے باورکرایا جاتا ہے کہ جیسے اگرانہوں نے کوئی کردارادا نہ کیا توخطے میں ایٹمی جنگ ہوسکتی ہے

    ان دونوں حکومتوں کے سامنے پاکستان اوربھارت کے درمیان اختلافات کو بڑا ڈراونا دکھا کرپیش کیا گیااورساتھ یہ بھی باورکرایا گیا کہ اگرپاکستان اوربھارت کے درمیان برف نہیں پگھلتی تواس کے منفی اثرات آپ پربھی ہوں گے

    یوں ایک ماحول بناکرسعودی عرب اورعرب امارات کو قاصد کے طورپراستعمال کیا گیا تاکہ پاکستان اوربھارت کے درمیان حالات بہتر ہوں اوربھارت اپنے آپ کو ایزی محسوس کرکے چین کے خلاف دوسرے محاذوں پرسرگرم دکھائی دے

    یہ بھی یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی سعودی عرب اورعرب امارات امریکہ کے قاصد کے طورپرپاکستان اوربھارت میں مصالحت کارکا کردارادا کرتے رہے ہیں

    کبھی ریاض توکبھی لندن میں بھی ڈپلومیسی کے میزسجے ، موجودہ ڈپلومیسی کوئی تازہ کاوش نہیں بلکہ پاکستان اوربھارت کے درمیان بیک ڈوررابطوں‌کی کڑی لندن میں ہونے والی پیش رفت بھی ہے جس میں پاکستانی حکام کی طرف سے اہم لوگ مشن کے مطابق بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں

    پاکستان اوربھارت کے درمیان معاملات کے معمول پرآنے میں ایران کو بھی فائدہ ہے اس صورت میں ایران کے لیے یہ آسانی ہوگئی ہے کہ اس کے بارے مٰیں یہ تاثر کمزورپڑجائے گا کہ ایران بھارت کے بہت قریب ہے ،

    دوسری طرف ویسے تو اس حوالے سے بہت زیادہ تجزیے رپورٹس پیش کی جاتی ہیں کہ بیک ڈورڈپلومیسی ہورہی ہے لیکین یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ !

    پاکستان بھارت ،امریکہ اورپھرامریکہ کے اندازڈپلومیسی سے لاعلم نہیں

    پاکستان کوسارے حالات کا بخوبی علم ہے پاکستان کشمیرکے معاملے پراپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا

    پاکستان اپنے ہمسائیہ اوربرادرملک چین کے ساتھ ملکر یہ ڈپلومیسی ڈیل کررہا ہے روازنہ کی بنیاد پرپاکستان اورچین کے دفاعی ماہرین اورخارجہ امورسے متعلق لوگوں کے درمیان اس حوالے سے ایک متفقہ فیصلہ سامنے آتا ہے اورپھراس کی روشنی میں پاکستان بھارت ہویا امریکہ ، روس ہو یا ایران کے ساتھ اپنے معاملات کاجائزہ لیتا ہے

    مختصر یہ کہ امریکہ اب جتنی مرضی بیک ڈورڈپلومیسی کرلے پاکستان کوڈکٹیٹ نہیں کرسکتا پاکستان خطے میں اپنے کردار سے واقف ہے اورساتھ ساتھ بھارت ، امریکہ ، سعودی عرب ، عرب امارات اورامریکی اتحادیوں کے عزائم ، نظریات اورخیالات سے پوری طرح آگاہ ہے

    معاملات کچھ اورشکل اختیار کررہےہیں خطے میں چین کے گھیراوکے لیے یہ سب کچھ ہورہا ہے اورچین اورپاکستان بھی ان حالات سے واقف ہیں ، دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، دوسری طرف دوہی ملک ہیں ایک چین اوردوسرا پاکستان ہرطرف خطرات ہیں ، دشمن گھات لگا کربیٹھے ہیں ، ان سب خطرات سے کیسے نکلنا ہے اوراپنی قوت کوبرقرار بھی رکھنا اورمحفوظ بھی رکھنا ہے اس مقصد کے لیے جواس میدان کارزارمیں ڈٹے ہوئے ہیں وہ بہتر جانتے ہیں

    پہلے بھی بیک ڈورڈپلومیسیاں ہوتی رہی ہیں اوران کے نتائج سب کے سامنے ہیں موجودہ ڈپلومیسی بھی ماضی کی طرح لائن آف کنٹرول پرموجود فوجی کی بندوق سے نکلنے والی گولی سے دم توڑجائے گی ، بس ایک فائرکی آوازآئے گی توساری ڈپلومیسی دفن ہوجائے گی

  • نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس، سابق وزیراعلیٰ، ن لیگی اہم شخصیت کیخلاف انکوائری کی منظوری

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس، سابق وزیراعلیٰ، ن لیگی اہم شخصیت کیخلاف انکوائری کی منظوری

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس، سابق وزیراعلیٰ، ن لیگی اہم شخصیت کیخلاف انکوائری کی منظوری

    نیب ایکزیکٹیو بورڈ نے 12انکوائریز کی منظوری دے دی،سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کے خلاف انکوائری منظور کر لی گئی،سابق سٹی ناظم مقبول لہڑی اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ،سندھ اور بلوچستان کے مختلف محکموں کےافسران کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی

    نیب سے کون خوفزدہ تھا؟ ترمیمی آرڈیننس کیوں لائے؟ وزیراعظم نے بتا دیا

    میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

    چیئرمین نیب پر دفتر میں خاتون کو جنسی حراساں کرنے کے الزام کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟ رانا ثناء اللہ

    نیب کیسز کے بعد ویسے بھی بندہ غریب ہوجاتا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی

    سب کام نیب نے کرنا ہے تو کیا دیگر ادارے بند کردیں؟ سلیم مانڈوی والا

    چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بڑی مچھلیوں کے خلاف میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے،ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستان نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے، نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں،

    چئیرمین نیب جنا ب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے۔ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستا ن نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 714 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے۔ نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادادرہ ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز ٹھوس شواہدکی بنیاد پر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انوسٹی گیشن آفیسرز اورپراسیکوٹرز پوری تیاری کے ساتھ معزز عدالتوں میں نیب مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم بر آمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جا سکے

  • پاکستان میں پانی کا بحران کس قدرخوفناک ہورہا ہے:آئی ایم ایف نے خبردارکردیا

    پاکستان میں پانی کا بحران کس قدرخوفناک ہورہا ہے:آئی ایم ایف نے خبردارکردیا

    واشنگٹن:پاکستان میں پانی کا بحران کس قدرخوفناک ہورہا ہے:آئی ایم ایف نے خبردارکردیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں پانی کے بحران کے حوالے سے عالمی اداروں نے بھی خبردارکرنا شروع کردیا ہے ، اس حوالے سے آئی ایم ایف نے ایک انتہائی خوفناک رپورٹ جاری کی ہے ،

    اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی آنا شروع ہوگئی ہیں ادھراس حوالے سے مزید کہا گیا ہےکہ آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان ، جنوبی ایشیا خصوصا، پاکستان میں تازے پانی کی دستیابی کے بارے میں تشویش بڑھتی جارہی ہے۔

    آئی ایم ایف نے اس حوالے سے بھی خبردار کیا ہےکہ پینے کا صاف پانی جہاں ناپید ہوتا جارہا ہے وہاں گندا پانی رہے سہے صاف پانی میں شامل ہوکراسے ناقابل استعمال بنا رہا ہے۔

    واشنگٹن میں مقیم میگزین انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)کے مطابق ، 2040 تک پاکستان میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہو جائے گی اور پینے کے لئے صاف پانی بھی نہیںرہے گا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ، پانی کے بحران کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔

    آئی ایم ایف کے میگزین پرجاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تازے پانی کی فی کس دستیابی پانی کی قلت کی حد (ایک ہزار مکعب میٹر)سے نیچے آ گئی ہے ، جو 1961 میں 3950 مکعب میٹر اور 1991 میں 1600 تھی ، یہ اعدوشمار واقعی تشویشناک ہیں۔ 2025 تک ، پاکستان کی آبادی پانی کے ایک ایک قطرہ کے لئے تڑپ سکتی ہے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

    دوسری طرف اس حوالے سے بہت سے ماہرین کو خدشہ ہے کہ 2025 تک پاکستان میں تازہ پانی کی فی کس دستیابی 860 مکعب میٹر تک کم ہوجائے گی اور 2040 تک ملک میں پانی کی مکمل کمی ہو سکتی ہے ۔

    یہ بھی اطلاعات زورپکڑرہی ہیں کہ اگلے چند سالوں میں بڑے شہروں خصوصا لاہورجیسے آبادی والے شہروں میں پانی کی سطح اس قدر نیچے چلی جائے گی کہ پینے کے لیے پانی بھی دوسرے شہروں سے لاہوریو‌ں کے لیے آیا کرے گا

    یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ اس وقت لاہور میں مختلف مقامات پرپانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے ، اس وقت لاہور میں بعض مقامات پرتوایک ہزارفٹ سے بھی پانی نیچے چلا گیا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ چند سالوں کے بعد لاہورمیں پینے کا پانی نہیں ملے گا

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اگرپاکستان نے پانی کے بحران کے حوالے سے جامع پروگرامز مرتب نہ کیئے توپاکستان میں بہت بڑی تباہی کا اندیشہ ہے

    جبکہ بعض مدبرمحققین کہتے ہیں کہ سابقہ حکومتوں نے بھارت سے ذاتی تعلقات کو توپروان چڑھا لیا مگرپاکستان کے اصل مسئلے کے لیے بھارت سے دوٹوک بات نہیں کی جس کا خمیازہ موجودہ حکومت اورعوام کو بھگتنا پڑرہا ہے

    دوسریطرف جنوبی ایشیا سے متعلق اس حوالے سے ایک اورپریشان کن صورت حال سامنے آرہی ہے کہ اگربھارت نے پاکستان کے پانیوں پرسے قبضہ نہ چھوڑا تو پاکستان اپنا حق لینے کےلیے ، پینے کے لیے پانی لینے کے لیے خون دینے تک تیار ہے اوراس صورت میں دونوں ملکوں میں ایٹمی جنگ کا بھی خطرہ ہے

  • سعودی عرب کی پی ڈی ایم کو فنڈنگ مولانا کو کتنے ارب ملے ، حافظ حسین احمد کے تہلکہ خیز انکشافات

    سعودی عرب کی پی ڈی ایم کو فنڈنگ مولانا کو کتنے ارب ملے ، حافظ حسین احمد کے تہلکہ خیز انکشافات

    سعودی عرب کی پی ڈی ایم کو فنڈنگ مولانا کو کتنے ارب ملے ، حافظ حسین احمد کے تہلکہ خیز انکشافات

    باغی ٹی وی : سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے ایک وی لاگ میں جے یو آئی کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد سے سوال کیا کہ جے یو آئی اے کے لوگ آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان امامت کرا رہے تھے آپ نے پہلے ہی سلام پھیرا اور ان کو چھوڑ کر چلے گئے اس پر بڑا دلچسپ جواب دیتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ مولانا جماعت کرا رہے تھے میں جب دیکھا کہ آگے تو مریم نواز کھڑی ہے تو پھر میں کیا کرتا آپ سمجھ دار ہیں.

    مبشر لقمان نے پھر حافظ حسین احمد سے سوال کیا کہ سنا باہر سے کوئی پندرہ ارب آیا ہے پی ڈی ایم کے لیے . اس کے جواب میں حافظ حسین احمد نے کہا کہ مجھے حساب کتاپ کا تو زیادہ علم نہیں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ جہاں پر ہو وہاں پرندہ ہوتا ہے . اگر پر نہ ہو تو کوئی پرندہ نہیں کہتا . اس کے بعد مبشر لقمان نے حافظ حسین احمد سے پوچھا کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس پیسے کے بارے میں جواب دہ ہیں

    . جس کے جواب میں حافظ حسین احمد نےکہا جس نے پسوں کا جواب دینا تھا وہ تو بگھوڑا ہوگیا. جو یہاں ہیں‌ مریم نواز وہ کہتی ہے کہ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی جائیداد نہیں ہے.
    ان کا کہنا تھا کہ باہر بیٹھوں پر کوئی کرپشن کا کیس بھی نہیں ہے اور ان کے پاس اربوں جو ہے وہ اس پر اگر وہ زکوۃ دیں گے تو کچھ وہ بھی اڑھائی فیصد بنتی ہے . اب انہوں نے اس کار خیر کے لیے زکوۃ بھی دینی ہے .

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اجلاس میں کہا گیا جان جے یو آئی کی ہوگی اور مال ن لیگ کا ہوگا. ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس میں‌کوی صداقت ہے کہ مولانا کو غیر ملکی ممالک سے پیسا ملا ہے تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا دیگر ممالک کا تو علم نہیں لیکن سعودی عرب میاں صاحب پر ہمیشہ مہربان رہا ہے . انہوں نے کہا جب قومی اتحاد بن رہا تھا تب بھی سعودی عرب نے کھل کر پیسہ دیا تھا .

    ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کے ٹیسٹ رپورٹیں میں بھی ہیر پھیر کیا گیا تھا . اس پر تحقیق ہونی چاہیے کہ کس نے ایسا کیا . جس کے بعد وہ بیرون ملک گئے یہ سب بیرونی دباؤ پر کیا گیا تھا . اس کے شواہد بھی ہیں. ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا مستقبل نہیں ہے مستقبل اس کا ہوتا ہے جس کا ماضی یا حال ہو. ان کا تو کچھ بھی نہیں ہے . میں نے اس سلسلے میں جو بھی تجزیے پیش کیے وہ سب سچ ثابت ہوئے .

  • طلبا کی موجیں ، تعلیمی ادارے بند، کب تک چھٹیوں میں اضافہ کر دیا گیا؟

    طلبا کی موجیں ، تعلیمی ادارے بند، کب تک چھٹیوں میں اضافہ کر دیا گیا؟

    طلبا کی موجیں ، تعلیمی ادارے بند، کب تک چھٹیوں میں اضافہ کر دیا گیا؟
    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے این سی او سی اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے چند اضلاع میں کورونا کا پھیلاو َ تشویش ناک ہے،

    شفقت محمود کا کہنا تھا کہ سندھ ،بلوچستان اور گلگت بلتستا ن میں کورونا کی شدت کم ہے،جہاں کورونا کی شدت زیادہ ہے وہاں تعلیمی ادارے 11اپریل تک بند رہیں گے نویں تا بارہویں امتحانات شیڈول کے مطابق مئی کے آخر میں ہوں گے ، این سی او سی نے پنجاب کے کچھ اضلاع میں اسکولز 11 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے لاہور،راولپنڈی،گوجرانوالہ،گجرات،ملتان میں اسکول بندرہیں گے فیصل آباد،سیالکوٹ،سرگودھا،شیخوپورہ میں بھی اسکول بندرہیں گے،پنجاب کے دیگراضلاع میں پرانے شیڈول کے مطابق اسکول کھلیں گے،تمام تعلیمی ادارے 11 اپریل تک بندرہیں گے،اسلام آبادمیں بھی 11 اپریل تک تعلیمی ادارےبندرہیں گے،

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    تعلیمی ادارے بند، امتحانات کب ہوں گے؟ وفاقی وزیر تعلیم نے بتا دیا

    تعلیمی ادارے کب سے کھلیں گے؟ وفاقی وزیر تعلیم کا بڑا اعلان سامنے آ گیا

    کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر اور بڑھنے کیسز پر گزشتہ سال 26 نومبر سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ قبل ازیں گزشتہ سال 23 مارچ کی پہلی بندش کے بعد تعلیمی اداروں کو گزشتہ سال 15 دسمبر سے مرحلہ وار کھولا گیا تھا