Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان اس لیے نہیں بناکہ شریف اور زرداری ارب پتی بن جائیں ، وزیراعظم

    پاکستان اس لیے نہیں بناکہ شریف اور زرداری ارب پتی بن جائیں ، وزیراعظم

    پاکستان اس لیے نہیں بنا تھا کہ شریف اور زرداری ارب پتی بن جائیں ، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیرا عظم عمران خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اتحادیوں کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر مشکل وقت میں اتحادیوں نے میرا ساتھ دیا مجھے آپ میں ایک ٹیم نظر آئی، ہماری ٹیم مضبوط ہوتی رہے گی،جب آپ مشکل وقت سے نکلتے ہیں تو اور مضبوط ہوجاتے ہیں، پارٹی جب مضبو ط ہوتی ہےتو مشکل وقت سے نکلتی ہے، آپ سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مشکل وقت سے نکلے،کئی اراکین کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پھر بھی آئے ، شکریہ ادا کرتا ہوں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ قوم اپنے نظریے سے پیچھے ہٹتی ہے تو مرجاتی ہے،ہماری لیڈرشپ کو پتا ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک عظیم خواب تھا، پاکستان اس لیے نہیں بنا تھا کہ شریف اور زرداری ارب پتی بن جائیں علامہ اقبال کا خواب پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا تھا، اچھا لگا کہ آپ سب کو سینیٹ الیکشن کے نتائج پر دل سے تکلیف ہوئی انشاءاللہ اس سے ہماری ٹیم اور مضبوط ہو گی، الیکشن کمیشن کے بیان پر صدمہ ہوا،سینیٹ الیکشن میں جوہوا اس پر مجھے شرمندگی ہوتی ہے،الیکشن کمیشن کہتاہے کہ بڑا اچھا الیکشن ہوا ، اس سے مجھے اور صدمہ ہوا، اگر یہ اچھا الیکشن ہے تو برا الیکشن کیا ہوتا ہے؟

    پی ٹی آئی کے کونسے دو اراکین وزیراعظم کو ووٹ نہیں دے سکتے؟

    اسلام آباد سیٹ سے شکست، وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ سن کر مریم اور مولانا کی خواہش ہوئی پوری

    وزیراعظم کا اعتماد کاووٹ ،اوپن ہو گا یا سیکرٹ؟ اعلان ہو گیا

    چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،کن سینیٹرز کا کردار بڑھ گیا، سب کی نگاہیں ان کی طرف

    سینیٹ میں تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن گئی،ن لیگ کونسے نمبر پر؟

    سینیٹ میں شکست کے بعد پی ٹی آئی حکومت کا اخلاقی جواز ختم،سابق وزیراعظم

    کون ہو گا اگلا چیئرمین سینیٹ؟ اپوزیشن نے اعلان کر دیا

    سینیٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ وزیراعظم نے سب کو بلا لیا

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، اپوزیشن نے اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات دے دیں

    کپتان کا کمال، مریم اور بلاول کی راہیں پھر جدا؟

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    جتنی محنت عمران خان نے کی اتنی کسی نے بھی نہیں کی، شیخ رشید

  • وزیراعظم عمران خان سچ کہتے ہیں:کہ دنیا میں اسلام اورمسلمانوں کےخلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے:اقوام متحدہ

    وزیراعظم عمران خان سچ کہتے ہیں:کہ دنیا میں اسلام اورمسلمانوں کےخلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے:اقوام متحدہ

    نیویارک:وزیراعظم عمران خان سچ کہتے ہیں:کہ دنیا میں اسلام اورمسلمانوں کےخلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ نے دنیا میں‌اسلام اورمسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی تشویش جائز ہے ،

    اقوام متحدہ کی طرف سے کہا گیا کہ جس طرح وزیراعظم عمران خان عالمی برادری سے اسلام فوبیا کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اوراب بھی ان کا فوکس یہی ہے کہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت کو روکا جائے یہ مطالبہ درست اورقابل غور ہے ،

    اقوام متحدہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بعض ممالک اسلام کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں سے دراصل مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک اسلام کا منفی تاثر ابھار کر مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں جس سے ان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی جان و مال کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بعض ممالک نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، دشمنی اور تشدد کو مستقل اور جائز قرار دیا ہے۔ اسلام دشمنی کے شکار ان ممالک میں مسلمانوں کے خلاف ایک تصوراتی دیوار تعمیر کر دی ہے جس سے ان ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے انسانی حقوق پامال کئے جا رہے ہیں اور ریاست اس پر آنکھیں بند کئے سب کچھ دیکھ رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں نائن الیون کے مشکوک واقعات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2001 میں امریکہ میں دہشت گرد حملے کے بعد اسلام کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں سے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ کئی مسلمانوں نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو بتایا ہے کہ بعض ممالک میں انہیں مشکوک کمیونٹیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی جماعت کی کارروائیوں کو پوری مسلم امہ پر ڈال کر مسلمانوں سے نفرت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر سرخرو، اپوزیشن کی امیدوں پر پانی پھر گیا

    وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر سرخرو، اپوزیشن کی امیدوں پر پانی پھر گیا

    وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر سرخرو، اپوزیشن کی امیدوں پر پانی پھر گیاباغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا،

    وزیراعظم عمران خان نے 178 ووٹ حاصل کر لئے

    اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا نعت رسول مقبول ۖ بھی پڑھی گئی جس کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا۔اجلاس کے دوران مہمانوں کی گیلری میں اہم شخصیات بھی موجود تھی

    اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیر خارجہ شاہ محمود کو قرارداد پیش کرنے کی ہدایت کر دی جس کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں اعتماد کی قرارداد پیش کر دی،اسپیکر ارکان قومی اسمبلی کونے ووٹنگ میں حصہ لینے کا طریقہ بتا یا وزیراعظم عمران خان ایوان میں موجود ہیں اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کرنے پر ایوان میں ڈیسک بجائے گئے

    قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے ایوان میں گھنٹیاں بجائی گئیں، اسپیکر نے ایوان کے دروازے بند کرانے کا اعلان کر دیا ،5منٹ کے بعد قومی اسمبلی کے دروازے بند کردیئے گئے ،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ وزیر اعظم کی حمایت میں ووٹ دینےوالے دائیں لابی کی طرف جائیں،

    قومی اسمبلی کے ایوان میں 176 حکومتی اور اتحادی ارکان موجود ہیں،اپوزیشن رکن محسن داوڑ بھی قومی اسمبلی ایوان میں پہنچ گئے ،جماعت اسلامی کے رکن اکبر چترالی بھی ایوان میں موجود تھے، اسمبلی گیلری میں وزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ تینوں صو بوں کےوزہراعلیٰ موجود ہیں وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان، عبدالحفیظ شیخ بھی نشستوں پر موجود ہیں فیصل واوَڈا ایوان کی بجائے مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں

    اسپیکر قومی اسمبلی کی نے وزیراعظم کی حمایت والے ارکان کو دائیں جانب جانے کی ہدایت کی ،وزیراعظم پر اعتماد کےلیےاراکین لابی میں گئے ،رہنما پی ٹی آئی عامر ڈوگر نے اراکین کی نگرانی کی ،حکومت کے 2 اراکین ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکتے ،فیصل واوَڈا استعفیٰ کے باعث ووٹ نہیں ڈال سکتے اسد قیصر اجلاس کی صدارت کرنے کے باعث ووٹ نہیں ڈال سکتے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے ووٹ کا اندراج کرا یا شاہ محمود قریشی،فواد چودھری اور اسدعمر نے اپنے ووٹ کا اندراج کرا دیا،

    وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایوان میں موجود اپوزیشن کے رکن محسن داوڑ کو وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کی درخواست کی ،رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اپوزیشن بنچوں پر موجود رہے، انہوں نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیا.

    وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا، اراکین واپس نشستوں پر آ گئے اسپیکر نے بند دروازے کھولنے کی ہدایت کی تھی ،اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی تھی، وزیراعظم عمران خان ووٹنگ اور گنتی کے عمل کے دوران تسبیح پڑھتے رہے،

    اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے قومی اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا تھا

  • پارلیمنٹ کے باہر احسن اقبال کے سر پر جوتا پڑ‌گیا

    پارلیمنٹ کے باہر احسن اقبال کے سر پر جوتا پڑ‌گیا

    پارلیمنٹ کے باہر احسن اقبال کے سر پر جوتا پڑ‌گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان اعتماد کا ووٹ لے رہے ہیں

    ن لیگی اراکین اسمبلی کے باہر پریس کانفرنس کرنے پہنچے تو تحریک اںصاف کے کارکنان کے ساتھ ہنگامہ آرائی ہوئی، اس دوران مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے سر پر جوتا پڑ گیا۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال دیگر پارٹی قائدین کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین جمع ہو گئے اور انہوں نے حکومت کے حق اور اپوزیشن کی مخالفت میں نعرے بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے بعد جب لیگی رہنما واپس جانے لگے تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کو لات ماری جس کے بعد معاملہ ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔

    اس واقعے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان دھکم پیل بھی شروع ہوئی اور لیگی رہنما دوبارہ ایک اونچی جگہ پر جمع ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ احسن اقبال اور مرتضیٰ جاوید عباسی حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے کہ اس دوران ایک جوتا اچھالا گیا جو مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے سر پر لگا۔اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور مصدق ملک کا گریبان بھی پکڑا۔

    پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ن لیگی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کے بعد پولیس کی اضافی نفری ڈی چوک پر پہنچ گئی،اس موقع پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سیاسی ورکر کبھی گالیاں نہیں دیتا،سیاسی ورکر کبھی کسی کی عزت سے نہیں کھیلتا،میں ان پہاڑوں کا باسی ہوں ،اعتماد کو چھوڑو آکر کرمقابلہ کرو،عمران خان اپنے ہی ارکان پر پریشرڈالنے والے ہیں،ہم اس آدمی سے ڈرنے والے نہیں ہیں، میدان حاضر ہے، آؤ الیکشن میں مقابلہ کرلو، پتا چل جائے گا عمران خان کی حیثیت کیا ہے، جس میں ہمت کیمرے کےسامنے آ جائے، میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ،

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اعتماد کاووٹ لینا بھی وزیراعظم کی ناکامی ہے،ہم نے اس بدمعاشی کامقابلہ اسمبلی کے اندر اورباہر بھی کرنا ہے، ہم نے شرافت کی سیاست کی ہے بدمعاشی کی سیاست نہیں چلے گی ، آج جواب صدر علوی نے دینا ہے ،کیا صدر نے خط لکھا ہے کہ عمران خان کے پاس اکثریت نہیں ،قومی اسمبلی کے سپیکر کوبھی جواب دینا پڑے گا۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کرائے کے غنڈے چلے گئے اب کرائے کے وزیر اعظم کے جانے کا وقت ہے،ایک کمزور عورت پر حملہ کرایا گیا، تم بدمعاشی کرو گے توہم تم سے زیادہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کریں گے

  • وزیراعظم اسمبلی پہنچ گئے، کاروائی شروع، کتنے اراکین موجود؟ اپوزیشن کا کونسا رکن اسمبلی پہنچ گیا؟

    وزیراعظم اسمبلی پہنچ گئے، کاروائی شروع، کتنے اراکین موجود؟ اپوزیشن کا کونسا رکن اسمبلی پہنچ گیا؟

    وزیراعظم اسمبلی پہنچ گئے، کاروائی شروع، کتنے اراکین موجود؟ اپوزیشن کا کونسا رکن اسمبلی پہنچ گیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اسمبلی ہال میں پہنچ گئے

    اسپیکراسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا،وزیراعظم عمران خان اسمبلی میں پہنچے تو پی ٹی آئی اراکین نے وزیر اعظم کے حق میں نعرے لگائے،اپوزیشن نشستوں پر نوٹوں کے ہار رکھ دیئے گئے وزیراعظم عمران خان اسمبلی ہال میں موجود ہیں،وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمودقریشی نے ایوان میں آپس میں بات چیت کی

    قومی اسمبلی کے ایوان میں 176 حکومتی اور اتحادی ارکان موجود ہیں،اپوزیشن رکن محسن داوڑ بھی قومی اسمبلی ایوان میں پہنچ گئے اجلاس میں وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی جائے گی اسمبلی گیلری میں وزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ تینوں صو بوں کےوزہراعلیٰ موجود ہیں

    وزیراعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرار داد تیار کر لی گئی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرار داد پیش کریں گے آرٹیکل 91 کی شق 7 کے تحت وزیراعظم ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے اعتماد کے ووٹ کے بعدکامیابی کی صورت میں وزیراعظم ایوان سے خطاب کریں گے

    حکومتی اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز بھی خطاب کریں گے ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، ق لیگ کے طارق بشیر چیمہ خطاب کریں گے

    اسلام آباد سیٹ سے شکست، وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ سن کر مریم اور مولانا کی خواہش ہوئی پوری

    وزیراعظم کا اعتماد کاووٹ ،اوپن ہو گا یا سیکرٹ؟ اعلان ہو گیا

    چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،کن سینیٹرز کا کردار بڑھ گیا، سب کی نگاہیں ان کی طرف

    سینیٹ میں تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن گئی،ن لیگ کونسے نمبر پر؟

    سینیٹ میں شکست کے بعد پی ٹی آئی حکومت کا اخلاقی جواز ختم،سابق وزیراعظم

    کون ہو گا اگلا چیئرمین سینیٹ؟ اپوزیشن نے اعلان کر دیا

    سینیٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ وزیراعظم نے سب کو بلا لیا

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، اپوزیشن نے اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات دے دیں

    کپتان کا کمال، مریم اور بلاول کی راہیں پھر جدا؟

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    340 کے ایوان میں حکومتی اتحاد کی تعداد 180 جبکہ اپوزیشن کے پاس 160 ووٹ ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے 171 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوگی جبکہ اس وقت ایوان زیریں میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 180 ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان زندہ باد، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات بھی سامنے آ گئے

    وزیراعظم عمران خان زندہ باد، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات بھی سامنے آ گئے

    وزیراعظم عمران خان زندہ باد، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات بھی سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے رہے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں کینیڈا میں بھی پاکستانیوں نے بینرز لگا دیئے

    ٹورنٹومیں مقیم پاکستانیوں نے وزیراعظم عمران‌ خان سے محبت کا اظہار کیا ہے، دیار غیر میں مقیم پاکستان نے اپنے جذبات کا اظہار ٹورنٹو کی معروف شاہراہوں پر بینرز لگا کا کیا ہے،ایک شہری کا کہنا تھاکہ کینیڈا میں وزیراعظم عمران خان کے لئے موجود ہیں، کینیڈا میں عمران خان کی حمایت کے لئے سڑکوں پر بورڈ لگائے ہیں ،وزیراعظم عمران خان زندہ باد

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ڈی چوک پر تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہو چکی ہے جو وزیراعظم سے یکجہتی کرنے کے لئے ہیں، ڈی چوک میں اکھٹے ہونے کے لیے سوشل میڈیا پر عوامی رابطہ مہم بھی چلائی گئی، گزشتہ روز سوشل میڈیا پر اس حوالے سے دو ٹرینڈز ٹاپ 10 میں موجود رہے ۔پہلا ٹرینڈ #D_chowk_at_11 اور دوسرا #چلو_چلو_ڈی_چوک_چلو کے نام سے ٹرینڈنگ پینل پر موجود ہیں۔

    آج بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان کے حق میں ٹرینڈ چلائے جا رہے ہیں، ڈی چوک میں پہنچ کر کارکنان تصاویر اور پوسٹرز شیئر کر رہے ہیں،

    https://twitter.com/VirkBhai/status/1368085121438527492

    قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے پی ٹی آئی ارکان کی آمدجاری ہے۔خیبرپختونخواسے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،عمران خٹک،سلیم رحمان،ساجدمہمند،محبوب شاہ اوردیگرپہنچ گئے، ارکان اسمبلی کاکہناہے کہ آج کرپٹ ٹولے کوبتائیں گے کپتان کےساتھ کھڑے ہیں۔

    اسلام آباد سیٹ سے شکست، وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ سن کر مریم اور مولانا کی خواہش ہوئی پوری

    وزیراعظم کا اعتماد کاووٹ ،اوپن ہو گا یا سیکرٹ؟ اعلان ہو گیا

    چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،کن سینیٹرز کا کردار بڑھ گیا، سب کی نگاہیں ان کی طرف

    سینیٹ میں تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن گئی،ن لیگ کونسے نمبر پر؟

    سینیٹ میں شکست کے بعد پی ٹی آئی حکومت کا اخلاقی جواز ختم،سابق وزیراعظم

    کون ہو گا اگلا چیئرمین سینیٹ؟ اپوزیشن نے اعلان کر دیا

    سینیٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ وزیراعظم نے سب کو بلا لیا

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، اپوزیشن نے اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات دے دیں

    کپتان کا کمال، مریم اور بلاول کی راہیں پھر جدا؟

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    تحریک انصاف اور اتحادیوں کی مشترکہ حکمت عملی تیار

    قومی اسمبلی کا اجلاس دن سوا بارہ بجے شیڈول ہے۔ 340 کے ایوان میں حکومتی اتحاد کی تعداد 180 جبکہ اپوزیشن کے پاس 160 ووٹ ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے 171 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوگی جبکہ اس وقت ایوان زیریں میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 180 ہے

  • تحریک انصاف اور اتحادیوں کی مشترکہ حکمت عملی تیار

    تحریک انصاف اور اتحادیوں کی مشترکہ حکمت عملی تیار

    تحریک انصاف اور اتحادیوں کی مشترکہ حکمت عملی تیار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے پاکستان تحریک انصاف اور اتحادیوں کی مشترکہ حکمت عملی تیارکر لی گئی ہے

    وزیراعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرار داد تیار کر لی گئی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرار داد پیش کریں گے آرٹیکل 91 کی شق 7 کے تحت وزیراعظم ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے اعتماد کے ووٹ کے بعدکامیابی کی صورت میں وزیراعظم ایوان سے خطاب کریں گے

    حکومتی اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز بھی خطاب کریں گے ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، ق لیگ کے طارق بشیر چیمہ خطاب کریں گے

    قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے پی ٹی آئی ارکان کی آمدجاری ہے۔خیبرپختونخواسے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،عمران خٹک،سلیم رحمان،ساجدمہمند،محبوب شاہ اوردیگرپہنچ گئے، ارکان اسمبلی کاکہناہے کہ آج کرپٹ ٹولے کوبتائیں گے کپتان کےساتھ کھڑے ہیں۔

    اسلام آباد سیٹ سے شکست، وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ سن کر مریم اور مولانا کی خواہش ہوئی پوری

    وزیراعظم کا اعتماد کاووٹ ،اوپن ہو گا یا سیکرٹ؟ اعلان ہو گیا

    چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،کن سینیٹرز کا کردار بڑھ گیا، سب کی نگاہیں ان کی طرف

    سینیٹ میں تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن گئی،ن لیگ کونسے نمبر پر؟

    سینیٹ میں شکست کے بعد پی ٹی آئی حکومت کا اخلاقی جواز ختم،سابق وزیراعظم

    کون ہو گا اگلا چیئرمین سینیٹ؟ اپوزیشن نے اعلان کر دیا

    سینیٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ وزیراعظم نے سب کو بلا لیا

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، اپوزیشن نے اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات دے دیں

    کپتان کا کمال، مریم اور بلاول کی راہیں پھر جدا؟

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    قومی اسمبلی کا اجلاس دن سوا بارہ بجے شیڈول ہے۔ 340 کے ایوان میں حکومتی اتحاد کی تعداد 180 جبکہ اپوزیشن کے پاس 160 ووٹ ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے 171 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوگی جبکہ اس وقت ایوان زیریں میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 180 ہے۔

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

  • وزیراعظم لیں گے اعتماد کا ووٹ، اراکین کی ایوان آمد جاری

    وزیراعظم لیں گے اعتماد کا ووٹ، اراکین کی ایوان آمد جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں آج اعتماد کاووٹ لیں گے ،

    قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے پی ٹی آئی ارکان کی آمدجاری ہے۔خیبرپختونخواسے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،عمران خٹک،سلیم رحمان،ساجدمہمند،محبوب شاہ اوردیگرپہنچ گئے، ارکان اسمبلی کاکہناہے کہ آج کرپٹ ٹولے کوبتائیں گے کپتان کےساتھ کھڑے ہیں۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس دن سوا بارہ بجے شیڈول ہے۔ 340 کے ایوان میں حکومتی اتحاد کی تعداد 180 جبکہ اپوزیشن کے پاس 160 ووٹ ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے 171 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوگی جبکہ اس وقت ایوان زیریں میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 180 ہے۔

    ایوان زیریں میں پی ٹی آئی کے اپنے 156 اراکین ہیں جبکہ اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ (ق) اور بی اے پی کی 5، 5 نشستیں ہیں، جی ڈی اے کی 3، آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک، ایک نشست ہے، 2 آزاد امیدوار بھی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن میں مسلم لیگ (ن) کے 83 اور پیپلز پارٹی کے 55 اراکین ہیں۔ متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، بی این پی کی 4، اے این پی کی 1 نشست ہے جبکہ اپوزیشن کو 2 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے تاہم پی ڈی ایم نے آج کے اجلاس کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

    قومی اسمبلی قواعد کے مطابق وزیراعظم اعتماد کا ووٹ قرار داد کے تحت رائے شماری کے ذریعے لیں گے۔ قومی اسمبلی اجلاس شروع ہونے کے بعد سپیکر 5 منٹ تک گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کریں گے جس کا مقصد پارلیمنٹ کی عمارت میں موجود تمام ارکان کی حاضری یقینی بنانا ہوگی۔ اس کے بعد ہال کے تمام دروازے بند کر دئیے جا ئیں گے۔

    سپیکر وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد پڑھنے کے بعد ارکان سے کہیں گے کہ ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کے خواہشمند شمار کنندگان کے پاس ووٹ درج کروا دیں۔ فہرست میں رکن کے نمبر کے سامنے نشان لگا کر اس کا نام پکارا جائے گا۔ ووٹ درج ہونے کے بعد ا پوزیشن اور حکومتی ارکان اپنی اپنی لابیز میں انتظار کریں گے۔ سیکرٹری قومی اسمبلی گنتی کا نتیجہ سپیکر کے حوالے کریں گے۔ سپیکر ارکان کو ہال میں واپس بلا کر نتیجے کا اعلان کر دینگے۔

  • پتہ چل گیا:عمران خان کی حکومت کون نہیں چلنے دے رہے:عوام مشتعل اورکپتان سے ناراض

    پتہ چل گیا:عمران خان کی حکومت کون نہیں چلنے دے رہے:عوام مشتعل اورکپتان سے ناراض

    اسلام آباد:پتہ چل گیا:عمران خان کی حکومت کون نہیں چلنے دے رہے:عوام مشتعل اورکپتان سے ناراض ،اطلاعات کے مطابق کچھ ایسے حقائق منظرعام پرآرہے ہیں کہ جن کے بعد عوام کے صبرکا پیمانہ لبریزہوتا ہوا نظرآتا ہے ،

    یہ حقائق وزیراعظم عمران خان کی شخصیت کے ایسے افسران کے بارے میں جوکھاتے اس ملک کا ہیں لیکن وفادار کرپشن پربرطرف سابق وزیراعظم نوازشریف کے ہیں ، یہ لوگ عمران خان کی حکومت کو چلنے نہیں دے رہے

    اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ ٹیم شریف برادران مافیا کے لیے کام کرتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ عمران‌ خان کے ایسے ایسے اقدامات کہ جن کا سن کرعوام خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں ایسے افسران کی وجہ سے وہ انجام کو نہیں پہنچتے

    یہ شخصیات کون ہیں‌ کہ جن پرعمران خان نے تواعتبار کرلیا لیکن وہ عمران خان اورریاست کےساتھ وفادار نہیں‌ ہیں‌،

    ان میں‌ ایک ایسی شخصیت بھی ہے کہ جس کے بہت سے رشتے داراہم پوسٹوں پرتعینات ہیں‌

    یہ شخصیت سعید مہدی جوکہ سابق چیف سیکرٹری پنجاب ، سکریٹری ٹو نوازشریف وہ چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ

    وہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے سسر ہیں۔وہ موجودہ چیف کمشنر اسلام آباد کے والد ہیں۔پھر یہ ہی نہیں بلکہ ان کو شریف فیملی کا سب سے زیادہ وفاداربیوروکریسی خاندان کہا جاتا ہے

    دوسری اہم شخصیت سکندر سلطان راجہ۔ (ر) ہیں جو کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر ہیں۔انہوں نے شہباز شریف کے زیرسایہ اے سی ایس پنجاب کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سعید مہدی کا داماد ہے۔

    عمران خان کی حکومت کو نہ چلنے دینے والے تیسرے بیوروکریٹ شہریار سلطان (سیکرٹری فوڈ پنجاب)

    وہ شہبازشریف کی کچن کیبنٹ کے حصہ تھے شہباز شریف کے تحت اہم اسائنمنٹس پر خدمات انجام دیں۔

    عمران خان کی گڈگورننس کا راستہ روکنے والے چوتھے بیوروکریٹ زاہد مختار زمان ہیں جوکہ جنوبی پنجاب کے لیے اسسٹنٹ چیف سیکرٹری کے طورپرخدمات انجام دے رہے ہیں‌

    شہباز شریف کے زیرسایہ ڈی سی او ملتان اور شیخوپورہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی ایل ڈی اے لاہور کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
    شہبازشریف کے انہتائی معتمد افسران میں ان کا شمارہوتا تھا

    وزیراعظم کی حکومت کے پانچویں مہرے علی عامر (چیف کمشنر اسلام آباد)وہ سعید مہدی کا بیٹے ہیں‌ ، نواز شریف اور شباز شریف سے انتہائی پیاراوروفا کرنے والے بیوروکریٹ ہیں

    سب سے بڑی بات یہ کہ وہ وہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے بہنوئی ہیں۔

    6. نور الامین مینگل (سکریٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب)

    وہ شہباز شریف کے پرسنل سٹاف آفیسر رہ چکے ہیں اورابھی بھی پچھلے احسانات کا بدلہ چکانےکے لیے شہبازشریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں ،شہباز شریف کے تحت ڈی سی او لاہور اور ڈی سی او فیصل آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

    7. علی مرتضیٰ (سیکرٹری ٹرانسپورٹ پنجاب)

    انہوں نے شہباز شریف کے زیرسایہ سیکریٹری داخلہ کی خدمات انجام دیں۔ اور وہ بھی شہباز شریف کے کچن کابینہ کا حصہ تھا۔

    8. کیپٹن عثمان (سیکرٹری صحت پنجاب)

    انہوں نے شہباز شریف کے تحت ڈی سی او لاہور کی خدمات انجام دیں۔وہ شہباز شریف کا پسندیدہ افسر اور اعتماد کرنے والا تھا۔اس کا نام ماڈل ٹاؤن واقعے میں ہے۔

    9. نبیل جاوید (سیکرٹری خصوصی صحت پنجاب)

    انہوں نے نوازشریف اورشہبازشریف کی اطاعت میں بہت وقت گزارا ہے اور وہ شریف برادران کا قریبی ساتھی ہے۔

    10. احمد جاوید قاضی (سیکرٹری ایم پی ڈی ڈی پنجاب)

    ایڈیشنل سیکرٹری ٹو شہباز شریف اور ڈی سی او کے بطور خدمات انجام دیں۔

    11. نادر چٹھہ (کمشنر ساہیوال)

    شہباز شریف اور احد چیمہ کا بہت قریبی ساتھی ہیں ڈی سی او جھنگ اور ملتان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

    12.صالحہ سعید (D.G ایکسائز پنجاب) یہ نواز شریف اورشہبازشریف کی انتہائی وفادار رہی ہیں‌، اور اہم اسائنمنٹس سرانجام دے رہی ہیں‌

    13. اعجاز منیر (سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ)وہ فواد حسن فواد کے قریبی دوست ہیں‌ اور اہم اسائنمنٹس سرانجام دے رہیں‌

    ۔

    14. ڈاکٹر عمر جہانگیر
    جو کہ ابھی تک سابق وزیراعظم شاہد خاقان کے پی ایس او رہے ہیں

    .
    15. گلزار شاہ۔ (کمشنر گوجرانوالہ)ڈی سی او ملتان اور خوشاب کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں‌

    16. کیپٹن ظفر (کمیسونیر بہاولپور)

    یہ بھی ن لیگ کے جیالے کے طور پرجانے جاتے ہیں اورپی ٹی آئی کی حکومت میں رہتے ہوئے ہمدریاں ن لیگ کے لیے ہیں‌

    17. راجہ جہانگیر انور
    سیکرٹری انفارمیشن

    ان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ شہازشریف کے بہت ہی وفادارافسر کے طورپرجانے جاتے ہیں

    اس صورت حال کا جائزہ لیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ جن پرعمران خان نے تکیہ کیا ہوا وہ بیوروکریٹ ریاست کے لیے نہیں‌بلکہ سابق حکمران خاندان کے لیے اپنی توانائیا‌ں صرف کرتے ہیں

    ان حالات میں کیسے ہوسکتا ہے کہ عمران خان بہتر انداز میں ڈلیور کرسکیں

  • وزیراعظم آج اعتماد کا ووٹ لیں گے:کتنے ووٹ ضروری ہیں

    وزیراعظم آج اعتماد کا ووٹ لیں گے:کتنے ووٹ ضروری ہیں

    اسلام آباد:وزیراعظم آج اعتماد کا ووٹ لیں گے:کتنے ووٹ ضروری ہیں ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ قومی اسمبلی قواعد کے مطابق وزیراعظم اعتماد کا ووٹ "قرارداد” کے تحت کی تقسیم کے ذریعے رائے شماری کے تحت لیں گے۔

    قومی اسمبلی کے قاعدہ 36 اور شیڈول دوم کے مطابق اجلاس شروع ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی 5 منٹ تک ایوان میں گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کریں گے جس کا مقصد یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی عمارت میں موجود تمام ارکان کی حاضری یقینی ہو جائے۔

    اس کے بعد ہال کے تمام دروازے بند کر دئیے جائیں گے۔ اس طرح کوئی رکن باہر یا اندر نہیں آ سکے گا۔

    سپیکر وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد پڑھنے کے بعد ارکان سے کہیں گے کہ ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کے خواہشمند شمار کنندگان کے پاس ووٹ درج کروا دیں۔

    شمارکنندگان کی فہرست میں رکن کے نمبر کے سامنے نشان لگا کر اس کا نام پکارا جائے گا۔

    قواعد کے تحت ووٹ درج ہونے کے بعد اپوزیشن اور حکومتی ارکان اپنی اپنی لابیز میں انتظار کریں گے۔تمام ارکان کے ووٹ مکمل ہونے کے بعد سیکرٹری قومی اسمبلی گنتی کا نتیجہ سپیکر کے حوالے کریں گے۔

    سپیکر دوبارہ دو منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائیں گے تاکہ لابیز میں موجود ارکان قومی اسمبلی ہال میں واپس آ جائیں اور پھر سپیکر قومی اسمبلی نتیجے کا اعلان کر دیں گے۔

    وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد منظور یا مسترد ہونے کے بارے میں قومی اسمبلی کے سپیکر صدر مملکت کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کے پابند ہیں۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کو سادہ اکثریت کے لیے ہر صورت 171 ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ 341 کے ایوان میں حکومتی اتحاد کی تعداد 181 جبکہ اپوزیشن کے پاس 160 ووٹ ہیں۔

    قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اپنے 157 اراکین ہیں جبکہ اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ (ق) اور بی اے پی کی 5، 5 نشستیں ہیں، جی ڈی اے کی 3، آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک، ایک نشست ہے، 2 آزاد امیدوار بھی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    سپیکر قومی اسمبلی ووٹ استعمال نہیں کریں گے، جس کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کا نمبر 180 بنتا ہے۔ پی ٹی آئی رکن فیصل واوڈا ہائی کورٹ میں اپنا استعفیٰ پیش کر چکے ہیں تاہم قومی اسمبلی نے ان کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں کیا، اس لیے وہ بھی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔

    متحدہ اپوزیشن میں مسلم لیگ (ن) کے 83 اور پیپلز پارٹی کے 55 اراکین ہیں۔

    متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، بی این پی کی 4، اے این پی کی 1 نشست ہے جبکہ اپوزیشن کو 2 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے تاہم پی ڈی ایم نے آج کے اجلاس کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

    دوسری جانب ‏وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو خط‏ لکھا ہے جس میں انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ پارٹی کی ہدایت کے مطابق تمام ارکان کو اعتماد کے ووٹ کیلئے حاضری یقینی بنانا ہوگی۔