Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسلام آباد سے پی ٹی آئی کوخوشخبری مل گئی :پی ٹی آئی کی امیدوار174 ووٹ لیکرکامیاب

    اسلام آباد سے پی ٹی آئی کوخوشخبری مل گئی :پی ٹی آئی کی امیدوار174 ووٹ لیکرکامیاب

    اسلام آباد :اسلام آباد سے پی ٹی آئی کوخوشخبری مل گئی :پی ٹی آئی کی امیدوار174 ووٹ لیکرکامیاب،اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن، حفیظ شیخ کی شکست کے باوجود حکومت قومی اسمبلی سے خواتین کی نشست پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیں ہیں ۔

    تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن کے سلسلے میں قومی اسمبلی سے خواتین کی نشست پر ہونے والے الیکشن کے نتائج بھی سامنے آگئے۔ تحریک انصاف کی فوزیہ ارشد 174 ووٹ حاصل کر کے 13 ووٹوں کی برتری سے کامیاب قرار پائیں۔جبکہ مسلم لیگ ن کی فرزانہ کوثر کو 161 ووٹ ملے۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی سے جنرل نشست پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے5 ووٹوں سے حفیظ شیخ کو شکست دی۔

    یوسف رضا گیلانی کو 169 اور تحریک انصاف کے حفیظ شیخ کو164 ملے جبکہ الیکشن میں 6 ووٹ مسترد ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ آج سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن ہوا جس کے لیے پولنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا، پولنگ کا عمل 5 بجے تک جاری رہا۔

    اسلام آباد کی 2 نشستوں پر ارکان قومی اسمبلی نے ووٹ کاسٹ کیا۔ اسلام آباد کی جنرل نشست پر پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے یوسف رضا گیلانی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا، اب کامیاب امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے،

    سینیٹ الیکشن کے نتائج کے مطابق سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی نے حفیظ شیخ کو شکست دے دی ہے، یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں

  • سینیٹ الیکشن کے مکمل نتائج آگئے:پی ٹی آئی 18،اتحادی11:پی پی 8:ن لیگ5 دیگرپی ڈی ایم اتحادی6:سیٹیں لینے میں کامیاب

    اسلام آباد:سینیٹ الیکشن کے مکمل نتائج آگئے:پی ٹی آئی 18،اتحادی11:پی پی 8:ن لیگ5 دیگرپی ڈی ایم اتحادی6:سیٹیں لینے میں کامیاب، اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن کی 48 نشستوں کے مکمل نتائج آگئے ہیں

    قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ ہوئی۔ اسلام آباد کی 2 نشستوں میں‌ سے ایک پی ڈی ایم اتحاد اورایک پی ٹی آئی جیتنے میں کامیاب رہی ، سندھ اسمبلی کی 11 میں سے 7 پی پی 2 پی ٹی آئی اوردوہی ایم کیوایم نے حاصل کی ہیں‌

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی 12 میں سے 10 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ، جبکہ دو سیٹیں پی ڈی ایم اتحادی لینے میں کامیاب رہے

    بلوچستان کی 12 میں سے 7 بلوچستان عوامی پارٹی ، دو جے یو آئی ایف ، دو بلوچستان نیشنل پارٹی جبکہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا ہے

    دوسری طرف قانونی اورآئینی ماہرین کہتے ہیں کہ بظاہر تو یوسف رضاگیلانی کی سیٹ پرملک بھرمیں بہت زیادہ شورشرابہ تھا ، تاہم جب سینیٹ کی بات ہوگی تو ان کا ایک ہی ووٹ ہے جو تصورکیا جائے گا اس لیے کوئی خاص اچنبہ نہیں ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت کوسینیٹ میں مزید نشتیں ملنے سے اب پوزیشن ماضی کی نسبت بہتر ہوگئی ہے

  • حکومت نے یوسف گیلانی کی فتح کا نتیجہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا

    حکومت نے یوسف گیلانی کی فتح کا نتیجہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد:حکومت نے یوسف گیلانی کی فتح کا نتیجہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق حکومت نے سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گِل کا کہنا تھاکہ غیر حتمی طور پر 7 ووٹ مسترد ہوئے ہیں اور 5 ووٹ کا فرق ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ ابھی اس نتیجہ کو چیلنج کریں گے۔

     

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی جنرل نشست پر قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی جس میں اپوزیشن امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کامیاب قرار پائے۔

    حکومت کی جانب سے دوبارہ ووٹنگ کرائی گئی تاہم دوبارہ ووٹنگ میں بھی یوسف رضا گیلانی کامیاب قرار پائے۔

    یوسف رضا گیلانی حفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں سے شکست دے کر اسلام آباد سے سینیٹر منتخب ہوگئے۔

  • اک زرداری سب پر بھاری، پی ٹی آئی شکست

    اک زرداری سب پر بھاری، پی ٹی آئی شکست

    ینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو شکست دیدی ہے۔

    عبدالحفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان مقابلے کو ہی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سب سے بڑا اور اہم مقابلہ قرار دیا جا رہا تھا۔

    سینیٹ کی 37 خالی نشستوں پر انتخابات کے لئے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواکی صوبائی اسمبلیوں میں ہوئی۔ پولنگ کا عمل صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔

    قومی اسمبلی میں رکن اسمبلی شفیق آرائیں نے پہلا ووٹ جبکہ اس کے بعد فیصل واوڈا نے ووٹ ڈالا۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنا ووٹ ڈالا جنہوں نے اسمبلی ہال میں آمد کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے ارکانِ قومی اسمبلی کے ساتھ ملاقات بھی کی۔

    وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے عبدالحفیظ شیخ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی جنرل نشست پر انتخاب لڑ رہے تھے جبکہ خواتین کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کی فوزیہ ارشد اور پاکستان مسلم لیگ ن کی فرزانہ کوثر مدِمقابل آئیں۔

  • یوسف رضا گیلانی کامیاب:اسلام آباد کا نتیجہ آگیا

    یوسف رضا گیلانی کامیاب:اسلام آباد کا نتیجہ آگیا

    اسلام آباد:یوسف رضا گیلانی کامیاب:اسلام آباد کا نتیجہ آگیا اسلام آباد نے نقشہ ہے بدل دیا ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد سے اپوزیشن اتحاد کے یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوگئے ہیں‌

    اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن کا معرکہ ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ بیلٹ سے ووٹنگ ہوئی۔

    سینیٹ الیکشن کےنتائج آنا شروع ہوگئے ہیں

    قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبرچترالی کے سوا تمام 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ بیلٹ پیپر پر دستخط کی وجہ سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے 7 کو الگ کردیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق الگ کیے گئے 7 ووٹوں کے مشکوک ہونے کا امکان ہے۔

    بلوچستان اسمبلی میں تمام 65 اراکین نے ووٹ ڈال دیے۔ سندھ اسمبلی میں 168 میں سے 167 اراکین نے ووٹ ڈالا، جماعت اسلامی کے رکن عبدالرشید نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

    خیبرپختونخوا میں پولنگ سست روی کا شکار رہی اور وہاں ایک گھنٹہ تاخیر سے تمام 145 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن کے لیے صبح 9 بجے سے 5 بجے تک پولنگ جاری رہی۔

    الیکشن کمیشن کے اسٹاف نے اسمبلیوں کا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا، قومی اسمبلی کے عملے کا ایوان میں داخلہ بند تھا اور ہال میں صرف الیکشن کمیشن کے عملے اور ارکان ووٹر کو داخلے کی اجازت تھی جب کہ میڈیا کے بھی پریس گیلری میں فون لے جانے پر پابندی عائد تھی۔

    پولنگ کے آغاز پر قومی اسمبلی میں ریٹرننگ افسر نے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق اعلان کیا اور ووٹ مسترد تصور ہونے سے متعلق بھی بتایا۔ریٹرننگ افسر ظفر اقبال نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے انتخاب ہو رہا ہے ، کوئی بھی شخص ووٹ پر نشان درج نہ کرے ورنہ ووٹ مسترد ہو جائے گا جب کہ دو لوگوں کو پہلی ترجیح دینے پر بھی ووٹ مسترد ہو جائے گا۔

    دوسری طرف غیرسرکاری نتیجے کے مطابق سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے آزاد امیدوار عبدالقادر کامیاب ہوگئے ہیں۔بلوچستان سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کےامیدوار مولاناعبدالغفورحیدری بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے امیدوار محمد قاسم بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کے لیے قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ پی ٹی آئی کے میاں شفیق آرائیں اور دوسرا ووٹ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کاسٹ کیا۔

    سندھ اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن کے لیے پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے رکن ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔

    بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پہلا ووٹ صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی نے کاسٹ کیا۔

    سینیٹ انتخابات کا سب سے دلچسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہےجہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

    حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں ہیں۔

    یاد رہے کہ پنجاب کی تمام 11نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آبادکی 2، خیبر پختونخوا کی 12، سندھ کی 11 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔

  • سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹ الگ :کے پی میں سازش یا منافقت معاملہ بگڑگیا

    سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹ الگ :کے پی میں سازش یا منافقت معاملہ بگڑگیا

    اسلام آباد : سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹوں کو الگ کردیا گیا،اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن کا معرکہ ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ بیلٹ سے ووٹنگ ہوئی۔

    سینیٹ الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، ایوان بالا کی 37 نشستوں کا فیصلہ ہونے میں کچھ دیر کا مزید انتظار ہے۔اسلام آباد کی 2 نشستوں، سندھ اسمبلی کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 12،12 نشستوں پر امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کچھ دیر میں ہوگا۔

    قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبرچترالی کے سوا تمام 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ بیلٹ پیپر پر دستخط کی وجہ سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے 7 کو الگ کردیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق الگ کیے گئے 7 ووٹوں کے مشکوک ہونے کا امکان ہے۔

    بلوچستان اسمبلی میں تمام 65 اراکین نے ووٹ ڈال دیے۔ سندھ اسمبلی میں 168 میں سے 167 اراکین نے ووٹ ڈالا، جماعت اسلامی کے رکن عبدالرشید نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

    خیبرپختونخوا میں پولنگ سست روی کا شکار رہی اور وہاں ایک گھنٹہ تاخیر سے تمام 145 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن کے لیے صبح 9 بجے سے 5 بجے تک پولنگ جاری رہی۔

    الیکشن کمیشن کے اسٹاف نے اسمبلیوں کا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا، قومی اسمبلی کے عملے کا ایوان میں داخلہ بند تھا اور ہال میں صرف الیکشن کمیشن کے عملے اور ارکان ووٹر کو داخلے کی اجازت تھی جب کہ میڈیا کے بھی پریس گیلری میں فون لے جانے پر پابندی عائد تھی۔

    پولنگ کے آغاز پر قومی اسمبلی میں ریٹرننگ افسر نے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق اعلان کیا اور ووٹ مسترد تصور ہونے سے متعلق بھی بتایا۔ریٹرننگ افسر ظفر اقبال نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے انتخاب ہو رہا ہے ، کوئی بھی شخص ووٹ پر نشان درج نہ کرے ورنہ ووٹ مسترد ہو جائے گا جب کہ دو لوگوں کو پہلی ترجیح دینے پر بھی ووٹ مسترد ہو جائے گا۔

    دوسری طرف غیرسرکاری نتیجے کے مطابق سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے آزاد امیدوار عبدالقادر کامیاب ہوگئے ہیں۔بلوچستان سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کےامیدوار مولاناعبدالغفورحیدری بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے امیدوار محمد قاسم بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کے لیے قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ پی ٹی آئی کے میاں شفیق آرائیں اور دوسرا ووٹ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کاسٹ کیا۔

    سندھ اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن کے لیے پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے رکن ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔

    بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پہلا ووٹ صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی نے کاسٹ کیا۔

    سینیٹ انتخابات کا سب سے دلچسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہےجہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

    حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں ہیں۔

    یاد رہے کہ پنجاب کی تمام 11نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آبادکی 2، خیبر پختونخوا کی 12، سندھ کی 11 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔

    دوسری طرف کے پی میں کل 14 ووٹ مسترد ہوئے ہیں جن میں 11 ووٹ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے اراکین کے ہیں‌، جس پرعمران خان نے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے

  • بلوچستان سےآزادممبرعبدالقادر،سندھ سے پی پی کے شہادت اعوان،جے یوآئی کے غفورحیدری سینیٹرمنتخب ہوگئے ہیں‌

    بلوچستان سےآزادممبرعبدالقادر،سندھ سے پی پی کے شہادت اعوان،جے یوآئی کے غفورحیدری سینیٹرمنتخب ہوگئے ہیں‌

    کوئٹہ:بلوچستان سے آزاد ممبرعبدالقادرجیت گئے،اطلاعات کے مطابق بلوچستان سے وہ امیدوار کامیاب ہوگئے جسے عمران خان نے پہلے پسند کیا تھا مگرپھرٹکٹ واپس لے لیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق عبدالقادر کو سینیٹ انتخابات میں بلوچستان اسمبلی میں پولنگ کاعمل مکمل ہوگیا ہے جس میں تمام 65 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے ہیں۔

    غیر سرکاری نتیجےکے مطابق آزاد امیدوار عبدالقادر بلوچستان سے جنرل نشست پر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں، ذرائع کے مطابق انہیں بلوچستان عوامی پارٹی(بی اے پی) کی حمایت حاصل تھی۔

    خیال رہےکہ پہلے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عبدالقادر کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا تھا تاہم پی ٹی آئی میں اندرونی مخالفت کے بعد ان سے ٹکٹ واپس لے لیا گیا تھا۔

    سندھ سے پیپلزپارٹی کے شہادت اعوان بھی سینیٹرمنتخب ہوچکے ہیں‌
    اس کے علاوہ بلوچستان سے جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل عبدالغفور حیدری بھی جنرل نشست سے سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کےامیدوار محمد قاسم بھی جنرل نشست پر کامیاب ہوگئے ہیں ، انہیں اپوزیشن الائنس کی حمایت حاصل تھی

    منظورکاکڑ، اورسرفراز بگٹی بھی سینٹرمنتخب ہوچکے ہیں

  • گنتی کا عمل شروع، خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے کتنے اراکین نے بیلٹ پیپر ضائع کئے؟

    گنتی کا عمل شروع، خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے کتنے اراکین نے بیلٹ پیپر ضائع کئے؟

    ‏سینیٹ الیکشن ،پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے

    ریٹرننگ افسر نے ہال کے گیٹ بند کرنے کا حکم دے دیا ،امیدواروں کے ایجنٹس کے سامنے بیکٹ باکسز کی سیلز کھولیں گئیں گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، قومی اسمبلی کے 341 میں سے 340 ووٹ ڈالے گئے قومی اسمبلی، مولاناعبد الاکبر چترالی نےووٹ کاسٹ نہیں کیا ،

    اسلام آبادکی خواتین کی ایک نشست پرفوزیہ ارشدتحریک انصاف کی امیدوارہیں اسلام آبادکی خواتین کی ایک نشست پرفرزانہ کوثر مسلم لیگ ن کی امیدوار ہیں اسلام آباد کی جنرل نشست پریوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ میں مقابلہ ہے

    دوسری جانب خیبر پختون خوا اسمبلی میں ووٹ دیتے وقت 13ارکان نے بیلٹ پیپر ضائع کیے ،13 ارکان اسمبلی نے غلط نشان لگانے پر بیلٹ پیپرز واپس کردئیے،درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ بیلٹ پیپرز جاری کر دئیے،غلطی کرنے والے ارکان اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 11 ارکان شامل ہیں جے یو آئی کے ایک رکن نے دوبارہ بیلٹ پیپر لیا،جماعت اسلامی کے ایک رکن نے بھی بیلٹ پیپر تبدیل کرایا 4ایم پی ایز خواتین، 8 ایم پی ایز جنرل اور ایک رکن اسمبلی کا اقلیتی رکن کا بیلٹ پیپر ضائع ہوا

    ‏وفاقی دارالحکومت سے 2 اور سندھ سے 11سینیٹرز منتخب ہوں گے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے 12،12سینیٹر زمنتخب کیے جائیں گے اسلام آباد کی جنرل نشست پر حفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی مدمقابل ہیں پنجاب سے سینیٹ کے 11امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں

  • وزیراعظم نے بھی ووٹ غلط کاسٹ کیا،اہم شخصیت کا انکشاف، زرتاج گل کا "نام” بھی آ گیا

    وزیراعظم نے بھی ووٹ غلط کاسٹ کیا،اہم شخصیت کا انکشاف، زرتاج گل کا "نام” بھی آ گیا

    وزیراعظم نے بھی ووٹ غلط کاسٹ کیا،اہم شخصیت کا انکشاف، زرتاج گل کا "نام” بھی آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن کے لئے پولنگ جاری ہے

    شہر یار آفریدی نے ووٹ غلط کاسٹ کیا، جس کے بعد اب خبریں آ رہی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور زرتاج گل نے بھی اپنا ووٹ ضائع کیا ہے

    ن لیگی رہنما رنا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ وزیراعظم اور زرتاج گل نے سیریل نمبر کے بجائے ٹک لگایا ہے ،شہر یار آفریدی نے باقاعدہ درخواست دی ہے جس سے تصدیق ہو گئی ہے کہ انکا ووٹ غلط ہو گیا ہے

    زرتاج گل نے کہا ہے کہ مجھ سے کوئی بھی غلطی نہیں ہوئی ہے میں نے صحیح ووٹ کاسٹ کیا ہے مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی،شہباز گل نے بھی کہا ہے کہ ‏زرتاج گل کے ووٹ میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا،‏زرتاج گل نے ٹھیک ووٹ کاسٹ کیا ہے،

    شہر یار آفریدی نے درخواست میں کہا کہ پریذائیڈنگ آفیسر ووٹنگ کا وقت ختم ہونے سے قبل میری درخواست پر فیصلہ سنائیں مجھے ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کیاجائے ،

    شہر یار آفریدی نے درخواست میں کہا کہ کچھ دن سے میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی الیکشن کی تیاری کے حوالے سے پارٹی اجلاسوں میں شرکت نہیں کرسکاتھا،جب ووٹ کاسٹ کرنے پہنچا تو آپ سے، آپ کے اسٹاف سے پوچھا، آپ کا عملہ مجھے گائیڈ کرنے میں ناکام رہا، مجھے اپنا ووٹ دوبارہ کاسٹ کرنے کی اجازت دی جائے،

    شہریار آفریدی نے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین سے مشاورت کے بعد فوری درخواست داخل کردی ریٹرننگ افسر نے درخواست کی کاپی وصول کرکے فیصلہ سنانے کا عندیہ دیدیا

    قبل ازیں سابق صدر آصف زرداری نے ووٹ کاسٹ کرلیا تا ہم پہلی بار سابق صدر آصف علی زرداری کا بیلٹ پیپر ضائع ہو گیا،آصف زرداری کودوبارہ بیلٹ پیپر جاری کیا گیا،

    آصف زرداری کی غلطی سے بیلٹ پیپر خراب ہوا جس کے بعد آصف زرداری نے ریٹرننگ افسر کو بیلٹ پیپر دوبارہ جاری کرنے کی گزارش کی، درخواست پر دوسرا بیلٹ پیپر جاری کردیاگیا، سابق صدر نے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔

    وفاق اور صوبوں میں جنرل نشستوں پر 39 امیدوار آمنے سامنے ہیں، خواتین 18، ٹیکنو کریٹ 13 اور اقلیتی نشستوں پر 8 امیدوار مدمقابل ہیں۔ آئین کے مطابق سینیٹ انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوں گے

  • سینیٹ الیکشن، نمبر گیم کیا ہے؟ کون آگے، کون پیچھے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    سینیٹ الیکشن، نمبر گیم کیا ہے؟ کون آگے، کون پیچھے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    سینیٹ الیکشن، نمبر گیم کیا ہے؟ کون آگے، کون پیچھے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج سینیٹ کے انتخابات ہیں اور اس وقت تقریباً تمام پارٹیوں کے سربراہان اور سرکردہ رہنما اسلام آباد میں موجود ہیں ۔ آصف زرداری ، حمزہ ، بلاول ، مولانا سب اسلام آباد میں اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں ۔ خوب سیاسی گہما گہمی کا ماحول ہے ۔ کیونکہ اسلام آباد میں حفیظ شیخ بمقابلہ یوسف رضا گیلانی ایک بڑا معرکہ ہونے جا رہا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں یہ الیکشن اتنی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی سرکاری مصروفیات منسوخ کر کے گزشتہ روز سے تقریباً 3 درجن اراکین اسمبلی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔آج انھوں نے اراکین قومی اسمبلی کے لیے ظہرانے کی میزبانی بھی کی ۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی ان ملاقاتوں میں ہمراہ رہے ۔ کچھ اراکین اسمبلی نے وزیراعظم سے علیحدہ جبکہ کچھ نے گروپس کی شکل میں ملاقات کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام صوبائی گورنروں اور صدر مملکت عارف علوی کو 3 مارچ کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش سے روک دیا تھا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ۔ تمام تفصیلات یہ ہیں ۔ کہ تمام صوبوں سے 50 فی صد ارکان کا انتخاب ہو گا۔ سینیٹ کے 104 اراکین میں سے 52 اراکین اپنی 6 سالہ مدت ختم ہونے کے بعد 11 مارچ کو ریٹائر ہوجائیں گے جس میں قبائلی اضلاع کے 8 میں سے 4 سینیٹرز بھی شامل ہیں اور اب قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کی وجہ سے یہ چار نشستیں پُر نہیں کی جاسکتیں جس سے سینیٹ کی مجموعی نشستیں کم ہو کر 100 رہ جائیں گی۔48 اراکین سینیٹ کو منتخب کرنے کے لیے پولنگ کل یعنی 3 مارچ کو ہوگی جس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے 12، 12 سینیٹرز، پنجاب اور سندھ سے 11،11 جبکہ اسلام آباد سے 2 سینیٹرز کو منتخب کیا جائے گا۔پولنگ میں چاروں صوبوں سے عام نشستوں پر 7 اراکین، 2 نشستوں پر خواتین، 2 نشستوں پر ٹیکنوکریٹس کو چُنا جائے گا جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے اقلیتی نشست پر ایک، ایک رکن منتخب ہوگا۔۔ سندھ کی 11 نشستوں کیلئے ارکان اسمبلی کو
    3،3 بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے، خیبرپختونخوا، بلوچستان کی 12،12 نشستوں کیلئے 4،4 بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے۔۔ خیبرپختونخواسے سینیٹ کی خالی 12 نشستوں کے لیےچناوَ ہوگا نشستوں میں 7جنرل،2 ٹیکنو کریٹ،2 خواتین اور ایک اقلیتی ہوگا خیبرپختونخوا اسمبلی کے 145 اراکین سینیٹ امیدواروں کا چناو َکریں گے حکومتی اتحاد میں 94 پی ٹی آئی اراکین اور بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 اراکین کا حجم ہے،اپوزیشن میں جے یو آئی 15،اے این پی 12
    ، ن لیگ 7،پیپلزپارٹی6 اراکین شامل ہیں ،سینیٹ انتخابات میں جماعت اسلامی کے 3 اور3 آزاد اراکین اہم کردار ادا کریں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب عمران‌ خان کا تو کہنا ہے کہ انشااللہ فتح ہماری ہوگی حفیظ شیخ کامیاب ہوں گے ۔ اس بار سینیٹ میں ہماری تعداد زیادہ ہوگی ۔۔ پر یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بنانے کیلئے حمزہ شہباز بھی متحرک ہوگئے ہیں ۔ انھوں نے ارکان قومی اسمبلی کو قائد حزب اختلاف کی رہائش گاہ طلب کر لیا ہے ۔ ۔ جبکہ پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے سینٹ الیکشن میں لیگی اراکین قومی اسمبلی کی 100 فیصد حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار ہیں ان کی جیت پارٹی کی جیت ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت کے کیے تمام ممکنہ پارٹی وسائل بروئے کار لائیں جائیں۔ تو دوسری طرف ذرداری بڑی راز داری کے ساتھ اپنے کارڈز کا استعمال کررہے ہیں بلکہ وہ تو اعلان کر چکے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی ہی ہوں گے تو مولانا فضل الرحمان افہام وتفہیم کرنے اور کروانے میں لگے ہوئے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی اپنی 157 نشستیں ہیں، اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی اور بی اے پی کی 5، 5 جی ڈی اے کی 3، شیخ رشید کی آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی 1، 1 نشست جبکہ 1 آزاد امیدوا اسلم بھوتانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن کی 83، پیپلزپارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، اے این پی اور جماعت اسلامی کی 1،1 نشست جبکہ 3 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین کی تعداد 161
    بن جاتی ہے۔ یوں وفاق کی جنرل نشست پر اپوزیشن کو جیتنے کے لئے حکومتی اتحاد میں سے 10 ووٹ توڑنے ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 341 اراکین پر مشتمل ہے، اگر تمام ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو جیتنے والے امیدوار کو 171 ووٹ درکارہوں گے۔ اگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے
    51 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا۔ ۔ فی الحال یہ کہا جا رہا ہے کہ بازی چاہے نہ پلٹے ۔ اور حکومت بچ بھی جائے پھر بھی حکومت کا عروج ختم ہو چکا ہے اور اب یہ زوال کی جانب گامزن ہے۔ ۔ کل سینیٹ انتخابات کے نتائج جو بھی ہوں لیکن ان نتائج کے اثرات اپوزیشن پر کم اور حکومت پر زیادہ پڑیں گے۔۔ اگر حفیظ شیخ جیت جاتے ہیں تو اپوزیشن اپنے پلان کے مطابق اس مہینے مزید شدت اور زور کے ساتھ لانگ مارچ کرے گی اور اسلام آباد میں دھرنا دے گی۔ اگر ہار جاتے ہیں تو سب کو معلوم ہی ہے کہ پھر عمران خان کے خلاف تو تحریک عدم اعتماد ہر حال میں ہی آئے گی ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اصل میں سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کے اتار چڑھائو کے بعد اگلی سیاست شروع ہو گی۔ ظاہر ہے اپوزیشن کی کوشش ہو گی کہ حکومت کو یا تو اتار دیا جائے یا کمزور کیا جائے جبکہ حکومت کو ایسی حکمتِ عملی بنانی ہے کہ ایک تو وہ اپنی مدت پوری کرے دوسرا اگلے الیکشن کے لئے اپنے مہرے اور اپنی گیم تیار کرے، فی الحال پی ٹی آئی کی کارکردگی ایسی نہیں کہ وہ اگلے اڑھائی سال لوگوں کو مطمئن رکھ سکے۔ اگلے الیکشن کے حوالے سے امیدیں باندھنا تو بہت دور کی کوڑی لانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ یہ طے ہے کہ پی ٹی آئی کو اس سال سیاسی دھچکے لگیں گے، بازی بےشک نہ پلٹے قلابازیاں ضرور لگیں گی۔