بحر یہ ٹاؤن کراچی انتظامیہ نے اپریل 2020 سے آپ کو متعر دبار بذریعہ نوٹسز اور ٹیلی فون کالز آگاہ کیا ہے کہ آپ آپنی پراپرٹی کا قبضہ (possession) حاصل نہیں کیا ہے بحر یہ ٹاؤن انتظامیہ نے possion charges اور utility connecion charges میں ٪20 (فی صد) اضافہ کردیا ہے جو کہ 15فروری 2021 سے لاگو ہونا تھا لیکن بحر یہ ٹاؤن نے اپنے معزز صارفین کی سہولت کے لیے واجبات جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 01 مارچ 2021 تک توسیع کردی ہے لہزا آپ اپنے پلاٹ کا قبضہ 01 مارچ 2021 سے پہلے موجودہ واجبات ادا کر کے حاصل کر لیں ، تاکہ ٪20 اضافے سے بچ سکیں
Category: اہم خبریں
-

پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس کا مکالمہ
پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس کا مکالمہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی
چیف جسٹس گلزاراحمدکی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ سماعت کررہا ہے ،چیف الیکشن کمشنر دیگرممبران کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو گئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی جواب جمع کرادیا،جواب میں کرپٹ پریکٹس روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کا بتایا ہے،آن لائن شکایت سننے کا سسٹم شروع کررکھا ہے،انتخابات سے متعلق موصول شکایات پرفوری کارروائی ہوتی ہے
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا، گزشتہ روزجوعدالت نے پوچھا تھا اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا
الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ سینٹ الیکشن پر آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے،آرٹیکل 218 کے تحت شفاف الیکشن کرانا ذمہ داری ہے، آرٹیکل 218 کی تشریح سے 226 کو ڈیفیوز نہیں کیا جا سکتا،آرٹیکل 226 کی سیکریسی کو محدود نہیں کیا جا سکتا، خفیہ ووٹنگ میں ووٹ کی تصاویربناناجرم ہے
وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ خفیہ رائے شماری میں ووٹ قابل شناخت نہیں ہوتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ تو آج سے قیامت تک سیکریسی کی بات کررہے ہیں ایسا نہ توآئین وقانون میں لکھا ہے نہ ہی ہمارے فیصلوں میں،جو ان پڑھ ہیں یا ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے مدد لیتے ہیں انکی سیکریسی کا کیا ہو گا ،الیکٹرانک ووٹنگ بھی قابل شناخت ہے،سائبرکرائم والوں سے پوچھ لیں ہر میسج ٹریس ایبل ہے،
پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا
نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟
سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ
سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سیکریسی کامعاملہ الیکشن ایکٹ میں درج ہے سوال یہ ہے کس حد تک سیکریسی ہوگی،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قومی اسمبلی انتخابات کیلئےفری ووٹ کی اصطلاح استعمال ہوئی،سینیٹ انتخابات کیلئے فری ووٹ کی اصطلاح کوشعوری طورپرہٹایا گیا،وکیل نے کہا کہ ہر امیدوار سے ووٹوں کی خریدوفروخت نہ کرنے کا بیان حلفی لیا جائے گا،ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گے،کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،اوپن بیلٹ سےانتخابات کرانےکیلئےآئین میں ترمیم کرنا ہوگی،
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 226 صرف ووٹ ڈالنے کو خفیہ رکھنے کی بات کرتا ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل الیکشن کمیشن سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےآپ کی بات سن لی، اب آپ جاسکتے ہیں،
سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس،سندھ حکومت کا جواب عدالت میں جمع
سینیٹ انتخابات،پیپلز پارٹی نے ایسا اعلان کر دیا کہ مولانا حیران ہو گئے
سینیٹ میں ٹکٹ کیسے دیئے جائیں گے؟ وزیراعظم کا اعلان
سینیٹ الیکشن، ن لیگ کس کو دے ٹکٹ؟ امیدوار بیتاب ،قیادت پریشان
سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے کونسا قدم اٹھا لیا گیا؟
سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے جاری آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج
سینیٹ انتخابات، ٹکٹوں کی تقسیم،پیپلز پارٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا
سینیٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے،سینیٹر فیصل جاوید
سینیٹ ووٹنگ ،اپوزیشن جماعتیں آرڈیننس کے خلاف متحد،پیپلز پارٹی کا ن لیگ سے رابطہ
مولانا دیکھتے رہ گئے، تحریک انصاف کا مذہبی جماعت کے سربراہ کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ
سینیٹ الیکشن ،ووٹوں کی خریدو فروخت کی ویڈیو سامنے آگئی
پیسے لینے دینے والی ویڈیو سے سپیکر قومی اسمبلی کا کیا لینا دینا؟ اہم انکشاف
سینیٹ الیکشن، ن لیگ میدان میں آ گئی، وزیراعظم کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا
سینیٹ انتخابات ،انتہائی اہم شخصیات کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا
سینیٹ انتخابات، سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار، بڑا حکم دے دیا
جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ ڈالنے کےبعد خفیہ رکھنے کامرحلہ ختم ہو جاتا ہے،کرپشن کےخاتمے کیلئے الیکشن کمیشن ڈالے گئے ووٹوں کاجائزہ لے سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ووٹ فروخت کرنے سے متناسب نمائندگی کےاصول کی دھجیاں اڑیں گی،کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کرسیٹیں جیت لے توسسٹم تباہ ہو جائے گا،
چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کیسے تعین کرتا ہے کہ انتخابات متناسب نمائندگی سے ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کسی کو ووٹ کاحق استعمال کرنےسےنہیں روک سکتے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آزاد امیدوارجس کو چاہے ووٹ دے سکتا ہے وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آزادانہ ووٹ نہ دیاتوسینیٹ انتخابات الیکشن نہیں سلیکشن ہوں گے،
چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا متناسب نمائندگی نہ ہونے سے سینیٹ الیکشن کالعدم ہو جائیں گے،ووٹنگ بے شک خفیہ ہو لیکن سیٹیں اتنی ہی ہونی چاہیئں جتنی بنتی ہیں،چیف الیکشن کمشنر صاحب آپ ابھی تک اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے،اپنا قانون پڑھ کر آپ سب بتا رہے بات کی گہرائی سمجھیں،سب کو پتہ ہے ہمارے سینیٹ کے انتخابات کیسے ہوتے رہے ہیں،
چیف جسٹس گلزار احمد نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کےوکیل کوکل عدالت میں ہونا چاہیے کیس کسی بھی وقت ختم ہوجائے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بار ادائیگیوں کا طریقہ کار بدل چکا ہے،اب ہنڈی کےذریعے دبئی میں بھی ادائیگیاں ہو رہی ہیں،
چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمشنرصاحب ہم صرف آپ کی معاونت کرناچاہتے ہیں،آپ بات کو سمجھ نہیں رہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کرپٹ پریکٹس کوروکنے کیلئے الیکشن کمیشن کومتحرک ہونا پڑے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ پچھلے سینیٹ الیکشن میں پارٹی کی صوبائی رکنیت کے تناسب سے مختلف نتائج آئے،آپ بتادیں گزشتہ انتخابات سےاب تک کیاکارروائی کی؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اب تک وہی بات کررہے ہیں جوپہلے دن کررہے تھے،
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اضافی اختیارات ہیں تاکہ آئین خمیازہ نہ بھگتے،آئین پورے ملک کی اتھارٹیزکوپابند کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت اداروں سےآئینی ذمہ داریاں پوری کرانےمیں دلچسپی رکھتی ہے،
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیاآپ نےوطن پارٹی کیس میں سپریم کورٹ کافیصلہ پڑھاہے؟ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وطن پارٹی کیس کافیصلہ نہیں پڑھا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اتنا اہم فیصلہ نہیں پڑھا توآپ سے کیا بات کریں،عدالتی فیصلے میں الیکشن کرانے کا پورا طریقہ کا ردرج ہے
اٹارنی جنرل خالدجاویدکےدلائل مکمل ہوگئے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالت ماضی میں ووٹ خفیہ رکھنےکے معاملے پرفیصلہ دے چکی،آئین کی کسی ایک شق کوالگ سےنہیں پڑھا جا سکتا، انتحابی عمل کی ہرشق پرعمل پارلیمانی نظام کےمجموعی تناظرمیں ہوتاہے، اراکین اسمبلی اپنی مرضی سےسینیٹ الیکشن میں ووٹ نہیں دےسکتے،متناسب نمائندگی کامطلب صوبائی اسمبلی کی سینیٹ میں عددی نمائندگی ہے
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگرمتناسب نمائندگی ہی ہے توپھرالیکشن کی کیا ضرورت،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ اکثریت کی حکومت اوراقلیت کی نمائندگی ہوتی ہے،ایڈووکیٹ جنرل کےپی کےدلائل مکمل ہو گئے
عدالت نے کہا کہ کل تین صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلزسمیت دیگرفریقین کوسنیں گے،
-

محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طرف محمد علی سد پارہ کی خبر سننے کے لیئے قوم بے تاب ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے سے پوچھ رہا ہے کہ علی سدپارا کی کوئی خبر آئی تو دوسری طرف کچھ لوگ اس حساس ایشو پر غلط خبریں پھیلا کر غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہٰیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کبھی علی سد پارہ کی دو ہزار آٹھ کی تقریب کی تصویر شیئر کر دی جاتی ہے اور اس پر لکھ دیا جاتا ہے کہ علی سدپارا نے برف میں دو سو گھنٹے گزار کر ریکارڈقائم کر دیا ہے اور علی سد پارا زندہ ہے۔کئی ٹویٹر اکاونٹ نہ صرف علی سدپارا بلکہ ان کے بیٹے کے نام پر بھی بن گئے ہیں اور جھوٹی سچی ہر لمحہ رپورٹنگ کی جا رہی ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ John snori اورJ p Moher کی فیملیاں پاکستان میں ہیں اور حکومت پاکستان اور دیگر Stake holdersدس دن گزرنے کے باوجود اپنے تمام وسائل،جدید ٹیکنالوجی سمیت اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ لاپتہ کوہ پیماوں کو ڈھونڈا جا سکے۔محمد علی سد پارا کے ٹویٹر اکاونٹ سے کی جانے والی ٹویٹ کے مطابقSAR سیٹلائٹ سے متعلق Apex committee 17اکتوبر کو گلگت میں ہوگی۔The government and other stakeholders are still putting their best efforts to find our missing climbers. A meeting of apex committee regarding SAR will be held on 17th Feb. in Gilgit. Please avoid any premature statements and keep away from fake reports. Managementجبکہ اس حوالے سے Virtual & physical base campکی جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے،
اس میں کہا گیا ہے،اگر دنیا کے دوسرے اونچے ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیون میں سر کرنا مشکل ہے تو اس موسم میں لا پتہ کوہ پیماوں کو ڈھونڈنا اس سے بڑا چیلنچ ہے۔ ہم نے سیٹلائٹ تصویروں کا مشاہدہ کیا، SAR
سیٹلایٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔سینکڑوں تصویروں کوScan کیا ہے۔ کئی نئے پوائنٹس کا دورہ کیا ہے، جس راستے سے کوہ پیما گئے اس راستے کا دوبارہ مشاہدہ کیا گیا،Testimonials
چیک کیئے گئے اور ٹائمنگ بھی دیکھی گئی۔اس حوالے سے Specialistsکی مدد حاصل کی گئی، جبکہ پاکستان، آئس لینڈ اور چلی حکام کی بھی پھرپور مدد حاصل رہی ہے۔اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا سرچ آپریشن جاری ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔اور سب ٹیم ورک اور اس سے بڑھ کر ان کا لازوال جزبہ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔جب Rotary machinesخراب موسم کی وجہ سے کام نہیں کر رہی تھی تو پاک فوج نے f-16 بھیجے تاکہ Photographic survey کیا جا سکے۔ہم نے ثابت کیا کہ SAT/SAR technology کام کرتی ہے اور اس نے کئی پوائنٹس ڈھونڈنے میں مدد کی لیکن بد قسمتی سے وہ پھٹے ہوئے Sleeping bags, ٹوٹے ہوئے ٹینٹ اور سلیپنگ بیگ تھے اور ان میں سے کوئی بھی علی سدپارہ اور اس کی ٹیم کے نہیں تھے۔اس کے علاوہ اس میں ایک اہم پریس کانفرنس کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو پیرکو ہونا تھی لیکن کہا جا رہا ہے کہ کچھ وجوہات کی بنا پر اس میں تاخیر کر دی گئی ہے اور شائد بدھ سترہ فروری کو کی جائے۔اس پریس ریلیز میں John snori کے چھ بچوں J p moher کے تین بچوں اور Ali sadpara کے چار بچوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیئے اچھی یادوں کو شئیر کیا جائے۔ اور غلط خبروں سے اجتناب کیا جائےاتنے دن گزر جانے کے بعد بھی لوگ کسی معجزے کے انتظار میں ہیں لیکن کوہ پیمائی کا تجربہ رکھنے والے جس میں ان کے بیٹے بھی شامل ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ اتنے دن کسی کا مائنس پچاس ٹمپریچر میں Survive کرنا ممکن نہیں۔بہت سے لوگ یہ وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بالآخر ایسا کیا ہوا کہ پہاڑون کا چیتا کہلائے جانے والا محمد علی سد پارا پہاڑوں میں کھو گیا۔ علی سد پارا کے گاوں کے لوگوں کے مطابق علی سدپارا پہاڑوں سے بھیڑ کو اپنے کندے پر ڈال کر نیچے اترنے کا ماہر تھا جب سب کے سانس اکھڑ جاتے تھے تو وہ پہاڑوں پر بھاگنے کی صلاحیت رکھتا تھا اس نے سیاچن جیسے مہاذ پر رات کے اندھیرے میں فوجیوں کے لیئے راشن لے جانے کا ماہر تھا۔اس سے ایسی کیا غلطی ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ علی سدپارا اور ٹیم کو پتا تھا کہ چند گھنٹے کے بعد موسم بہت خراب ہو جائے گا اور ان کے پاس چند گھنٹے ہیں کہ وہ Summit مکمل کر لیں یا واپس کیمپ تک محفوض پہنچ جائیں۔اور کوہ پیمائی میں یہ فیصلہ ہی تمام نتائج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
علی سد پارا کے بیٹھے کے مطابق جب انہوں نے سفر شروع کیا تو بیس سے پچیس لوگ ان کے ساتھ تھے لیکن بوٹل نیک تک پہنچتے پہنچتے سب کے اعصاب جواب دے چکے تھے اور وہ واپس آگئے۔ علی سد پارا کا کہنا تھا کہ اگر نیپالی ہماری زمین پر آکر سردیوں میں ہمارا پہاڑ سر کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ، اس کا اظہار وہ کئی دفعہ کر چکے تھےاور اس کے لیئے ایک کوشش پچیس جنوری کو ناکام ہو گئی تھی جب سدپارا اور ٹیم کو سات ہزار آٹھ سو کی بلندی سے خراب موسم کی وجہ سے واپس آنا پڑا تھا۔ لیکن سد پارا اسے ہر حال میں سر کرنا چاہتا تھا اور وہ بھی بغیر اکسیجن کے۔
نیپالی کوہ پیماوں کی یہ خوش نصیبی تھی کہ انہیں بہت اچھیWeather windowمل گئی تھی جبکہ اس کے بعد کے ٹو کا موسم بہت خونخوار ہو گیا بی بی سی کے مطابق علی سدپارا کے بیٹے شاہد سدپارا نے کہا ہے کہ جب میرا اکسیجن ریگولیٹر خراب ہوا تو میرے والد نے مجھے ساتھ آنے کے لیئے کہا میں نے کہا کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ تھوڑا سا چلو تم ٹھیک ہو جاو گے، لیکن میں بوٹل نیک کے پاس سے واپس آگیا۔ کیونکہ میری ہمت جواب دے چکی تھی، اور میری حالت بگڑ رہی تھی۔علی سدپارا چاہتا تھا کہ جب وہ کے ٹوبغیر اکسیجن کے سر کرے تو اس کا بیٹا اس کے ساتھ ہوعلی سد پارا نے دوہزار انیس میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم چودہ دوستون میں سے 12 دوست موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور اکثر میرے دوست مجھ سے پوچتھے ہیں کہ علی تم کب مرنے جا رہے ہو۔جب شاہد سدپارا سے پوچھا گیا کہ اس کے والد اس بات پر اتنا اصرار کیوں کر رہے تھے تو اس کا کہنا تھا کہ میرے والد اسے ہر حال میں سر کرنا چاہتے تھے، اس حوالے سے بھی کئی ماہرین کا خیال ہے کہ جب آپ خطروں اور آنے والے طوفانوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو مشکل میں پھنسنے کے امکان زیادہ ہو جاتے ہیں۔نرمل پوجادنیا کی دوسری بڑی چوٹی K-2 سر کرنے والی دس نیپالی کوہ پیماوں کی ٹیم کے رکن تھے انہوں نے سردیوں میں اپنا کے ٹو سر کرنے کاExperience شئیر کرتے ہوئے کہا کہ North kingکے نام سے جانے جانے والے اس پہاڑ نے انہیں بہت مشکل وقت دیا، لیکن ان کا مقصد اسے سر کرنا تھا، اسی لیے وہ کامیاب ہوئے۔ سردی میں کے ٹو کو سر کرنا بہت مشکل ہے اور یہ انہوں نے اس مہم کے دوران خود دیکھا اور محسوس کیا.اس حوالے سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ایک اتنا مشکل پہاڑ اوپر سے سردیوں میں بغیر اکسیجن کے اسے سر کرنے کے پیچھے کیا راز ہے۔؟
اس حوالے سے کوہ پیمائی کا تجربہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی بھی ایک گیم ہے اور اس میں ہر کوہ پیما ریکارڈ بنانے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ کوئی کم وقت میں کسی چوٹی کو سر کرتا ہے تو دوسرا بھی چاہتا ہے کہ اس سے بھی کم وقت میں چوٹی تک پہنچ جائے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔سردیوں میں چوٹیوں کو سر کرنے والے کوہ پیماؤں کے لیے پہاڑی تودوں کا خطرہ کم ہوتا ہے، لیکن سردیوں میں اس کے علاوہ بھی دیگر بہت سے خطرات ہوتے ہیں۔سردی میں شدید موسم میں جہاں درجہ حرات منفی 70 تک بھی پہنچ جاتا ہے اور ساتھ میں ہوا کی رفتار بھی بہت زیادہ تیز ہوتی ہے تو یہ صورتحال تودوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے، لیکن پھر بھی جسمانی لحاظ سے فٹ کوہ پیما اس چیلنج کو قبول کرکے چوٹی سر کرنے نکل جاتے ہیں۔پاکستان میں واقع کے ٹو سمیت دیگر بلند چوٹیوں میں کوہ پیماؤں کے ساتھ کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی صورت میں ریسکیو آپریشن عسکری ایوی ایشن نامی کمپنی کرتا ہے جو پاکستان میں ایک کمرشل کمپنی ہے جو کو پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ ایوی ایشن شعبے سے وابستہ اہلکاروں کے زیر انتظام ہے۔عام طور پر کوہ پیما جب کے ٹو سر کرنے جاتے ہیں تو وہعسکری ایوی ایشن نامی ایک پاکستانی ادارے کے پاس 15 ہزار ڈالر یعنی تقریباً 23 لاکھ روپے کی قابل واپسی رقم جمع کروانی پڑتی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں پاکستان آرمی کی جانب سے عسکری ایوی ایشن کو درخواست دینے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو سروس فراہم کی جاتی ہے۔اگر مہم جوئی کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے تو جمع کروائی گئی رقم میں سے تین سو سے چار سو ڈالر بطور سروس فیس کاٹ کر بقیہ رقم کوہ پیما کو واپس دی جاتی ہے۔ لیکن موجودہ سرچ آپریشن پاکستان آرمی کی طرف سے مفت کیا جا رہا ہے۔محمد علی سدپارہ اب قومی یکجہتی کی علامت بن چکے ہیں۔ انھیں پورے پاکستان کی محبت حاصل ہے۔ اس کی بخیریت واپسی کے لیے پاکستان کا ہر فرد آج بھی دعاگو ہے
-

کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،وکیل الیکشن کمیشن
کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،وکیل الیکشن کمیشن
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی
چیف جسٹس گلزاراحمدکی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ سماعت کررہا ہے ،چیف الیکشن کمشنر دیگرممبران کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو گئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی جواب جمع کرادیا،جواب میں کرپٹ پریکٹس روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کا بتایا ہے،آن لائن شکایت سننے کا سسٹم شروع کررکھا ہے،انتخابات سے متعلق موصول شکایات پرفوری کارروائی ہوتی ہے
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا،گزشتہ روزجوعدالت نے پوچھا تھا اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا
الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ سینٹ الیکشن پر آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے،آرٹیکل 218 کے تحت شفاف الیکشن کرانا ذمہ داری ہے، آرٹیکل 218 کی تشریح سے 226 کو ڈیفیوز نہیں کیا جا سکتا،آرٹیکل 226 کی سیکریسی کو محدود نہیں کیا جا سکتا، خفیہ ووٹنگ میں ووٹ کی تصاویربناناجرم ہے
وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ خفیہ رائے شماری میں ووٹ قابل شناخت نہیں ہوتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ تو آج سے قیامت تک سیکریسی کی بات کررہے ہیں ایسا نہ توآئین وقانون میں لکھا ہے نہ ہی ہمارے فیصلوں میں،جو ان پڑھ ہیں یا ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے مدد لیتے ہیں انکی سیکریسی کا کیا ہو گا ،الیکٹرانک ووٹنگ بھی قابل شناخت ہے،سائبرکرائم والوں سے پوچھ لیں ہر میسج ٹریس ایبل ہے،
پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا
نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟
سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ
سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سیکریسی کامعاملہ الیکشن ایکٹ میں درج ہے سوال یہ ہے کس حد تک سیکریسی ہوگی،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قومی اسمبلی انتخابات کیلئےفری ووٹ کی اصطلاح استعمال ہوئی،سینیٹ انتخابات کیلئے فری ووٹ کی اصطلاح کوشعوری طورپرہٹایا گیا،وکیل نے کہا کہ ہر امیدوار سے ووٹوں کی خریدوفروخت نہ کرنے کا بیان حلفی لیا جائے گا،ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گے،کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،اوپن بیلٹ سےانتخابات کرانےکیلئےآئین میں ترمیم کرنا ہوگی،
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 226 صرف ووٹ ڈالنے کو خفیہ رکھنے کی بات کرتا ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل الیکشن کمیشن سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےآپ کی بات سن لی، اب آپ جاسکتے ہیں،
سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس،سندھ حکومت کا جواب عدالت میں جمع
سینیٹ انتخابات،پیپلز پارٹی نے ایسا اعلان کر دیا کہ مولانا حیران ہو گئے
سینیٹ میں ٹکٹ کیسے دیئے جائیں گے؟ وزیراعظم کا اعلان
سینیٹ الیکشن، ن لیگ کس کو دے ٹکٹ؟ امیدوار بیتاب ،قیادت پریشان
سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے کونسا قدم اٹھا لیا گیا؟
سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے جاری آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج
سینیٹ انتخابات، ٹکٹوں کی تقسیم،پیپلز پارٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا
سینیٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے،سینیٹر فیصل جاوید
سینیٹ ووٹنگ ،اپوزیشن جماعتیں آرڈیننس کے خلاف متحد،پیپلز پارٹی کا ن لیگ سے رابطہ
مولانا دیکھتے رہ گئے، تحریک انصاف کا مذہبی جماعت کے سربراہ کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ
سینیٹ الیکشن ،ووٹوں کی خریدو فروخت کی ویڈیو سامنے آگئی
پیسے لینے دینے والی ویڈیو سے سپیکر قومی اسمبلی کا کیا لینا دینا؟ اہم انکشاف
سینیٹ الیکشن، ن لیگ میدان میں آ گئی، وزیراعظم کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا
سینیٹ انتخابات ،انتہائی اہم شخصیات کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا
سینیٹ انتخابات، سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار، بڑا حکم دے دیا
-

جعلی ڈگری کیس، عدالت نے سابق سینیٹر کو سزا سنا دی،گرفتار کرنیکا حکم
جعلی ڈگری کیس، عدالت نے سابق سینیٹر کو سزا سنا دی،گرفتار کرنیکا حکم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق سینیٹریاسمین شاہ کوجعلی ڈگری کیس میں عدالت نے سزا سنا دیوفاقی وزیرفہمیدہ مرزاکی درخواست پرپہلے ہی یاسمین شاہ ناہل قرارپا چکی ہیں مقامی عدالت نے سابق سینیٹریاسمین شاہ کو2 سال سزاسنا دی،عدالت نے یاسمین شاہ کوگرفتارکرنے کا حکم دے دیا
یاسمین شاہ اوران کے شوہرعلی بخش پپوشاہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں.اطلاعات کے مطابق پولیس انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کر لے گی
سال 2018 میں سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کو نااہل قرار دیا تھا،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کی اپیل کی سماعت کی تھی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میٹرک اور بی اے کی ڈگریوں پر ناموں میں تضاد ہے، یاسمین شاہ کی ڈگری پر اعتراض کو کون سا ریکارڈ درست ثابت کرے گا۔
کراچی یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بی اے کی ڈگری پر نام میں ردوبدل کیا گیا جبکہ میٹرک کی سند پر نام یاسمین محمد حسین ولد محمد حسین لکھا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نادرا کے ریکارڈ میں نام بی بی یاسمین شاہ ہے جبکہ والد کا نام بھی علی حسین جمالی لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ والد کے نام میں تو بہت ہی زیادہ فرق ہے، یونیورسٹی والے کہتے ہیں کورٹ ڈگری کے بغیر نام تبدیل نہیں ہوتا۔
یاسمین شاہ کے وکیل نے کہا کہ کیس گزشتہ دس سال سے چل رہا ہے، اگر یہ کسی اور کی ڈگری ہوتی تو وہ اب تک سامنے آچکا ہوتا۔ عدالت نے سینیٹر یاسمین شاہ کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی، یاسمین شاہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔ یاسمین شاہ نے 2003 میں سینیٹر بنتے وقت بی اے کی جعلی ڈگری جمع کرائی تھی۔
یاسمین شاہ کیخلاف سابق اسپیکر قومی اسمبلی پیپلزپارٹی کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے درخواست دائر کی تھی جس پر الیکشن کمیشن نے انھیں نااہل قرار دیکر تمام مراعات واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
-

امیدواران کی کامیابی جمہوریت کی جیت ہے
پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و ایم پی اے فریال تالپور کا ضمنی انتخابات میں پارٹی امیدواران کی کامیابی پر پیغام
فریال تالپور کی پی ایس-88 ملیر اور پی ایس-43 سانگھڑ میں پی پی پی امیدواران کی کامیابی پر جیالوں اور عوام کو مبارکباد
ضمنی انتخابات میں پی پی پی امیدواران کی کامیابی جمہوریت کی جیت ہے: فریال تالپور
ضمنی الیکشن میں کامیابی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے: فریال تالپور
فریال تالپور نے سانگھڑ اور ملیر سے کامیاب امیدواران جام شبیر علی اور یوسف مرتضیٰ بلوچ کو بھی ان کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے
-

نظام عدل قائم کئے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا
سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ نظام عدل قائم کئے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا اہلسنت کو متحد کرنا وقت کی ضرورت ہے حکومت اگر محب وطن قوتوں کو آگے نہیں لائے گی تو انتہا پسند اور دہشتگردوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مر کز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ ملک میں امن چاہتے ہیں تو عمران خان مدینہ طرز حکمرانی کے صرف دعوے نہ کریں بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات کریں انہوں نے کہا کہ مدینہ طرز حکمرانی کے لئے ضروری ہے کہ عوام کو ان کے حقوق مہیا کئے جائیں اور نظام عدل کو عام کیا جائے۔۔ان کا کہنا تھا کہ آج کی یہ سنی کانفرنس اہلسنت کے اتحاد کے لئے اور باطلوں کے اعوانوں میں زلزلہ طاری کرنے کے لئے بہت اہم ہے ملک کی اکثریت اہلسنت کو دیوار سے لگایا گیا تو پھر انتہا پسند پروان چڑھیں گے حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں کو چاہئے کہ کہ وہ ملک میں نظام عدل، تعلیم اور بہتر صحت کیلئے عوام کو سہولیات مہیا کریں اب دعوں سے کام نہیں چلے گا حکومت کو عملی طور پر کام کرنا ہوگا تین سالہ دورے حکومت میں عوام کو مایوسیوں اور محرومیوں سےمیڈان پاکستان پالیسیوں سے نکالا جاسکتا ہے اگر مایوسیوں اور محرومیوں کو ختم نہیں کیا گیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے جو جمہوری قدروں کے لئے منفی ہوں گے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے بھارت اس میں فرنت مین کا کردار ادا کررہا ہے ۔ہر ھارت کے بزدلانہ حملوں کاجواب دینے کے لئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں پاک فوج نے جس دن جہاد کا اعلان کیا تو کشمیر کو دنوں میں نہیں گھنٹوں میں آزاد کروا کر دم لیں گے۔بھارت پاکستان کی پر امن پالیسی کو کمزوری سے تعبیر نہ کرے ۔پاکستان کے عوام ملک دشمنوں کے دانت توڑنا اچھی طرح جانرے ہیں ۔
-

پاکستان کوسٹ گارڈزکی کاروائی
پاکستان کوسٹ گارڈزکی کاروائی،۔ترجمان کوسٹ گارڈز
کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمداسمگلرز گرفتار۔ترجمان کوسٹ گارڈز
ناکہ کھاری چیک پوسٹ پردوران چیکنگ کوچ سے 43.80کلو گرام اعلی کوالٹی کی کرسٹل،37.65کلو گرام چرس،29.80کلو گرام ہیروئن،12.30کلوگرام ائس اور 6.15کلوگرام افیون برآ مد۔ترجمان کوسٹ گارڈز
ناکہ کھاری چیک پوسٹ (وندر) کوچ سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد 04 اسمگلرز گرفتار۔ترجمان کوسٹ گارڈز
پسنی شادی کور میں پہاڑوں کے درمیان چھپائی گئی 280کلو گرام اعلی کوالٹی کی چرس برآمد۔ترجمان کوسٹ گارڈز
پہاڑوں کے درمیان چھپائی گئی منشیات بیرون ملک اسمگل ہونا تھی۔ترجمان کوسٹ گارڈز
پکڑی جانے والی منشیات کی مالیت65.72725ملین روپے کے لگ بھگ ہے۔ترجمان کوسٹ گارڈز
ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈزنے جوانوں کی اس انتھک محنت اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہا۔ ترجمان کوسٹ گارڈز
-

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،3 دہشتگرد جنہم واصل
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،3 دہشتگرد جنہم واصل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق علیم خان خوشحالی گروپ سے تھا۔ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر حملے اور اغوا برائے تاوان کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق مارے جانے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ اور بارودی سرنگ کے حملوں میں ملوث تھے۔
کراچی ،دہشت گردانہ حملے میں شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ ادا
دہشت گردی کا حملہ ناکام بنانے والے پولیس کے بہادر سپاہیوں اورمحافظوں کو وزیراعظم کا سلام
آرمی چیف کا شمالی وزیرستان کا دورہ،دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کیلئے تیار رہنا ہوگا،آرمی چیف
بھارتی میڈیا نے مودی حکومت کی اصلیت واضح کردی،وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ،دو دہشت گرد جہنم واصل،ایک گرفتار
رواں ماہ کے آغاز پر بھی میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو جوان شہید اور چار زخمی ہوئے تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشتگرد اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں بھی ملوث تھے۔
جنوبی وزیرستان ،دہشتگردوں کاچیک پوسٹ پرحملہ،4 جوان شہید، چار دہشت گرد جہنم واصل
-

ریکارڈ توڑ دھاندلی کی گئی؟؟
ضمنی الیکشن ضلع ملیر پی ایس 88 میں پیپلزپارٹی نے پولیس کی سرپرستی میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔
امیر کراچی علامہ رضی حسینی رضویپیپلزپارٹی کی جانب سے پولنگ اسٹیشن پر جدید اسلحہ کا آزادانہ استعمال کیا گیا جبکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔
امیر کراچی علامہ رضی حسینی رضوی۔پیپلزپارٹی کے غنڈوں نے ٹی ایل پی کے پر امن کارکنان کو زدوکوب کیااور یہ ساری غنڈہ گردی انتظامیہ کی سرپرستی میں ہوتی رہی۔
امیر کراچی علامہ رضی حسینی رضوی۔سندھ کی حکمران جماعت کی جانب سے پی ایس 88 کے ضمنی الیکشن میں زبردستی فوت شدگان اور ایک شناختی کارڈ پر کئی کئی ووٹ ڈلوائے گئے۔
امیر کراچی علامہ رضی حسینی رضوی۔پیپلزپارٹی نے اپنی یقینی شکست نظر آنے پر دھاندلی اور غنڈہ گردی کی بدترین مثالیں قائم کردیں۔
امیر کراچی علامہ رضی حسینی رضوی۔تحریک لبیک کے پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز کو ہراساں کیا گیا اس موقع پر انتظامیہ کی خاموشی معنی خیز تھی۔
امیر کراچی علامہ رضی حسینی رضوی۔خواتین کے پولنگ اسٹیشنز پر ایک ایک خواتین نے کئی کئی ووٹ ڈالے پیپلزپارٹی کی اس غنڈہ گردی پر الیکشن حکام کی خاموشی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
امیر کراچی علامہ رضی حسینی رضوی۔پیپلزپارٹی کی جانب سے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا – اور سارا دن الیکشن قوانین کی دھجیاں اڑائی جاتی رہیں۔
امیر کراچی علامہ رضی حسینی رضوی۔کراچی ( ) تحریک لبیک پاکستان کراچی ڈویژن کے مرکزی امیر علامہ رضی حسینی رضوی نے کراچی کے حلقہ پی ایس 88 ضلع ملیر میں ہونے والے ضمنی الیکشن کی پولنگ ختم ہونے کے بعد مرکزی الیکشن آفس میں هنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پپلز پارٹی کو سخت الفاظ میں هدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ضمنی الیکشن ضلع ملیر پی ایس 88 میں پیپلزپارٹی نے پولیس کی سرپرستی میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے پولنگ اسٹیشن پر جدید اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جبکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ یو سی 9 در محمد گوٹھ اور درسانه چنہ سمیت مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلزپارٹی کے غنڈوں نے ٹی ایل پی کے پر امن کارکنان کو زدوکوب کیا اور یہ ساری غنڈہ گردی انتظامیہ کی سرپرستی میں ہوتی رہی۔سندھ کی حکمران جماعت کی جانب سے پی ایس 88 کے ضمنی الیکشن میں زبردستی فوت شدگان کے ووٹ بھی ڈالے
