Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

    افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

    افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کی سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر اور دیگر حکام موجود ہیں،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ انتخابات میں کرپٹ پریکٹس کیسے روکیں گے؟ الیکشن ایکٹ میں کسی بھی کرپٹ پریکٹس کا ذکر واضح نہیں ،انتخابات سے قبل اور بعد میں سیاسی مداخلت سمیت کرپٹ پریکٹس کیلئے گارڈ کا لفظ ہے ،کرپٹ پریکٹس کو گارڈ کرنے کا مطلب الیکشن سے پہلے حفاظتی انتظامات کیے جائیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں سیاسی مداخلت اور پیسے کا استعمال ہوتا ہے،الیکشن کمیشن میکنزم بتائے کہ کیسے کرپٹ پریکٹس کو روکا جائے،آپ نے کرپٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے ہیں؟

    چیف الیکشن کمشنر نے عدالت کو جواب دیا کہ ہم آرٹیکل 226تحت تمام اقدامات کررہے ہیں، ،چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جو پوچھا ہے اس کا جواب نہیں دے رہے ہیں ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر الیکشن کے3 ماہ بعد کوئی بیلٹ پیپر دیکھنا چاہے تو کیا ہوگا؟ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بیلٹ پیپر پر ووٹر کا سیریل نمبر نہیں ہونا چاہیے،اگر ووٹر کے بارے میں معلوم کرنا بھی ہے تو آئینی ترمیم کی جائے،ہم نے سینیٹ انتخابات سے متعلق بہت غور و خوض کیا ہے،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ جو خرید و فروخت ہو رہی ہے اس کو روکنے کے لیے کیا کیا ؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی کی ایک قانونی حیثیت ہے،آپ ایک ویجیلنس سیل بن سکتےہیں،کرپٹ پریکٹس پر کسی کو کال کرکے بلایا ہے؟ چیف الیکشن کمشنر نے عدالت میں کہا کہ اگر ہماری مانیٹرنگ ٹیم یا کوئی بھی شکایت آتی ہے توایکشن لیتے ہیں

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم آپ کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں،کمیشن کے اختیارات بہت ہیں ان کو استعمال کریں،چیف الیکشن کمشنر نے عدالت کو جواب دیا کہ ہم آپ کے احکامات پر کام کرتے رہیں گے، گزشتہ روز ایک سیاسی پارٹی نے جلسہ کیا اس پر ہم نے ایکشن لیا ہے ،عدالت کو تحریری جواب جمع کروا چکے ہیں،انتخابات سے کرپشن کو ختم کرنے کا طریقہ کار ایکٹ میں موجود ہے،الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے،

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے کرپشن ہر حال میں روکنی ہوگی،جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دینے پر کارروائی نہیں ہوسکتی،

    چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے شاید ہمارے گزشتہ روز کےحکم کوسمجھنے کی کوشش نہیں کی ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپکو معلوم نہیں پاکستان میں الیکشن کیسے ہوتا ہے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو بولنے سے روک دیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر خود جواب دیں گے،ضابطہ اخلاق بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مانٹرینگ اور پولیٹیکل فنانس ونگ کو مضبوط کیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ افسران کے کرنے کا کام ہے آپ خود کیا کرتے ہیں ؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جو ویڈیو وائرل ہوئی اس پر ایکشن لیا ہے، اس کا ابھی پتہ لگا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ یہی تو افسوس ہے کہ 2018 کی ویڈیو کے بارے میں کمیشن کو نہیں علم،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ویڈیو کے بارے میں کمیشن کے علاوہ پورا پاکستان جانتا تھا،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ ایک آئینی ادارہ ہیں،مینڈیٹ آپکے پاس ہے،کسی کا انتظار نہ کریں، چیف الیکشن کمشنر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کام کررہے ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ کچھ کر نہیں رہے،جو آئین آپ کو کہہ رہا ہے وہ آپ نے پہلے کرنا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جنرل الیکشن میں ٹریبونل کو بیلٹ اور دیگر اشیا کا جائزہ لینے کااختیار ہے،

    سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے ایک پرپوزل بنائی ہے، اس کا جائزہ لیا جائے،عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو ہدایت کی کہ اٹارنی جنرل کا پروپوزل دیکھ لیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ کرپٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے اقدامات سامنے نہیں آرہے،لوگوں کو شفاف الیکشن کے لیے مطمئن کیاگیا، لوگوں کو تسلی دینے کے لیے کوئی کا م کیا ہے؟

    چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے استفسار کیا کہ آپ ہمیں کرپٹ پریکٹس روکنے کی اسکیم نہیں بتا رہے،اتنے عرصے سے کیس چل رہا ہے آپ صرف ایکٹ کی باتیں کر رہے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قومی اسمبلی کے نمائندگان کیخلاف ٹربیونل کیس سنتا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ووٹ قابل شناخت نہیں ہوتے، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ ووٹ دینے کے بعد اسکی شناخت نہیں کی جاسکتی،

    رضا ربانی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے،جس پر چیف جسٹس نے رضا ربانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی تو ان کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں،چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے صرف دفتر میں بیٹھ کر کام نہیں کرنا، آپ کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ ہر امیدوار کو الگ بینک اکاوَنٹ کھولنے کا کہا ہے،امیدوار کی اہلیت جاننے کے لیے نیب ایف آئی اے سے ڈیٹا لیں گے، نادرا اور اسٹیٹ بینک ایف بی ار بھی امیدواروں کے کوائف لیں گے،

  • الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے کرپشن ہر حال میں روکنی ہوگی،سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے کرپشن ہر حال میں روکنی ہوگی،سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے کرپشن ہر حال میں روکنی ہوگی،سپریم کورٹ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کی سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر اور دیگر حکام موجود ہیں،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ انتخابات میں کرپٹ پریکٹس کیسے روکیں گے؟ الیکشن ایکٹ میں کسی بھی کرپٹ پریکٹس کا ذکر واضح نہیں ،انتخابات سے قبل اور بعد میں سیاسی مداخلت سمیت کرپٹ پریکٹس کیلئے گارڈ کا لفظ ہے ،کرپٹ پریکٹس کو گارڈ کرنے کا مطلب الیکشن سے پہلے حفاظتی انتظامات کیے جائیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں سیاسی مداخلت اور پیسے کا استعمال ہوتا ہے،الیکشن کمیشن میکنزم بتائے کہ کیسے کرپٹ پریکٹس کو روکا جائے،آپ نے کرپٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے ہیں؟

    چیف الیکشن کمشنر نے عدالت کو جواب دیا کہ ہم آرٹیکل 226تحت تمام اقدامات کررہے ہیں، ،چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جو پوچھا ہے اس کا جواب نہیں دے رہے ہیں ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر الیکشن کے3 ماہ بعد کوئی بیلٹ پیپر دیکھنا چاہے تو کیا ہوگا؟ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بیلٹ پیپر پر ووٹر کا سیریل نمبر نہیں ہونا چاہیے،اگر ووٹر کے بارے میں معلوم کرنا بھی ہے تو آئینی ترمیم کی جائے،ہم نے سینیٹ انتخابات سے متعلق بہت غور و خوض کیا ہے،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ جو خرید و فروخت ہو رہی ہے اس کو روکنے کے لیے کیا کیا ؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی کی ایک قانونی حیثیت ہے،آپ ایک ویجیلنس سیل بن سکتےہیں،کرپٹ پریکٹس پر کسی کو کال کرکے بلایا ہے؟ چیف الیکشن کمشنر نے عدالت میں کہا کہ اگر ہماری مانیٹرنگ ٹیم یا کوئی بھی شکایت آتی ہے توایکشن لیتے ہیں

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم آپ کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں،کمیشن کے اختیارات بہت ہیں ان کو استعمال کریں،چیف الیکشن کمشنر نے عدالت کو جواب دیا کہ ہم آپ کے احکامات پر کام کرتے رہیں گے، گزشتہ روز ایک سیاسی پارٹی نے جلسہ کیا اس پر ہم نے ایکشن لیا ہے ،عدالت کو تحریری جواب جمع کروا چکے ہیں،انتخابات سے کرپشن کو ختم کرنے کا طریقہ کار ایکٹ میں موجود ہے،الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے،

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے کرپشن ہر حال میں روکنی ہوگی،جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دینے پر کارروائی نہیں ہوسکتی،

    چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے شاید ہمارے گزشتہ روز کےحکم کوسمجھنے کی کوشش نہیں کی ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپکو معلوم نہیں پاکستان میں الیکشن کیسے ہوتا ہے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو بولنے سے روک دیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر خود جواب دیں گے،ضابطہ اخلاق بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مانٹرینگ اور پولیٹیکل فنانس ونگ کو مضبوط کیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ افسران کے کرنے کا کام ہے آپ خود کیا کرتے ہیں ؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جو ویڈیو وائرل ہوئی اس پر ایکشن لیاہے، اس کاابھی پتہ لگا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ یہی تو افسوس ہے کہ 2018 کی ویڈیو کے بارے میں کمیشن کو نہیں علم،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ویڈیو کے بارے میں کمیشن کے علاوہ پورا پاکستان جانتا تھا،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ ایک آئینی ادارہ ہیں،مینڈیٹ آپکے پاس ہے،کسی کا انتظار نہ کریں، چیف الیکشن کمشنر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کام کررہے ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ کچھ کر نہیں رہے،جو آئین آپ کو کہہ رہا ہے وہ آپ نے پہلے کرنا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جنرل الیکشن میں ٹریبونل کو بیلٹ اور دیگر اشیا کا جائزہ لینے کااختیار ہے،

  • تحریک انصاف کے بڑے بڑے دیکھتے رہ گئے،خاتون اوّل کی قریبی دوست بازی لے گئیں

    تحریک انصاف کے بڑے بڑے دیکھتے رہ گئے،خاتون اوّل کی قریبی دوست بازی لے گئیں

    تحریک انصاف کے بڑے بڑے دیکھتے رہ گئے،خاتون اوّل کی قریبی دوست بازی لے گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا مرحلہ اختتام پذیر ہو چکا

    اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے بڑے بڑے دیکھتے رہ گئے،خاتون اوّل کی قریبی دوست فرحت شہزادی المعروف فرح خان نے سینیٹ الیکشن کے لئے کاغذات جمع کروا دئیے ہیں،

    خاتون اوّل کی قریبی دوست نے سینٹ کے لئے پنجاب سے کاغذ جمع کرا ئے ہیں فرح خان کے نام سے شہرت رکھنے والی فرحت شہزادی خاتون اوّل کی دوست ہیں ،

    خاتون اول کی قریبی دوست کی جانب سے سینیٹ میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے پر سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ تحریک انصاف بھی اپنوں کو نوازنے لگی ہے، تحریک انصاف اپنے مشور سے ہٹ کر اگر فیصلے کرے گی تو اسے نقصان اٹھانا پڑے گا، دیگر سیاسی جماعتوں اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو….سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کیس،عدالت کے ریمارکس

    سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ

    سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا

    سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس،سندھ‌ حکومت کا جواب عدالت میں جمع

    سینیٹ انتخابات،پیپلز پارٹی نے ایسا اعلان کر دیا کہ مولانا حیران ہو گئے

    سینیٹ میں ٹکٹ کیسے دیئے جائیں گے؟ وزیراعظم کا اعلان

    سینیٹ انتخابات کے لیے سب سے زیادہ امیدوار حکمران پاکستان تحریک انصاف نے میدان میں اتارے ہیں جن کی تعداد 52 ہےجبکہ مسلم لیگ ن 19 امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔کل 170 امیدواروں  نے کاغذت نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ پی پی پی 18 امیدواروں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ بلوچستان سے حکمران بی این پی نے 16،پی ٹی آئی دو،جمیعت علمائے اسلام ف نے 5، بی این پی مینگل پانچ،عوامی دو،اے این پی تین،آزاد دو،جمہوری وطن پارٹی، ہزارہ ڈویلپمنٹ پارٹی نے ایک ایک امیدوار میدان میں اتارا ہے۔

    سینیٹ الیکشن، ن لیگ کس کو دے ٹکٹ؟ امیدوار بیتاب ،قیادت پریشان

    سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے کونسا قدم اٹھا لیا گیا؟

    سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے جاری آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    سینیٹ انتخابات، ٹکٹوں کی تقسیم،پیپلز پارٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا

    سینیٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے،سینیٹر فیصل جاوید

    سینیٹ ووٹنگ ،اپوزیشن جماعتیں آرڈیننس کے خلاف متحد،پیپلز پارٹی کا ن لیگ سے رابطہ

    مولانا دیکھتے رہ گئے، تحریک انصاف کا مذہبی جماعت کے سربراہ کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    سینیٹ الیکشن ،ووٹوں کی خریدو فروخت کی ویڈیو سامنے آگئی

    پیسے لینے دینے والی ویڈیو سے سپیکر قومی اسمبلی کا کیا لینا دینا؟ اہم انکشاف

    سینیٹ الیکشن، ن لیگ میدان میں آ گئی، وزیراعظم کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

    سینیٹ انتخابات ،انتہائی اہم شخصیات کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی 23، پی پی پی تین،اے این پی تین،جے یو آئی 8،مسلم لیگ ن تین ، جماعت اسلامی ایک اور آزاد امیدوار 9 میدان میں ہین۔ سندھ سے پی پی پی کے 14،ایم کیو ایم 10،پی ٹی آئی 12،جی ڈی اے 2 اور تحریک لبیک کا ایک امیدوار میدان میں ہے۔اسی طرح پنجاب سے پی ٹی آئی 15،مسلم لیگ ن 12،مسلم لیگ ق 1امیدوار کے ساتھ میدان میں ہے۔اسلام آباد سے پی پی ایک،پی ٹی آئی پانچ اور مسلم لیگ ن کےچار امیدوار میدان میں ہیں۔

  • سینیٹ میں کوئی سرپرائز نہیں،نواز شریف کیسے واپس آ سکتے ہیں؟ شیخ رشید

    سینیٹ میں کوئی سرپرائز نہیں،نواز شریف کیسے واپس آ سکتے ہیں؟ شیخ رشید

    سینیٹ میں کوئی سرپرائز نہیں،نواز شریف کیسے واپس آ سکتے ہیں؟ شیخ رشید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نوازشریف نے پاکستان نہ آنا ہوتو آج رات 12 بجے تک ویزے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوگی

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو پاکستان آنے سے نہیں روکا جارہا، نواز شریف کی پاسپورٹ تجدید کی مدت آج رات بارہ بجے ختم ہو رہی ہے ،نوازشریف کی درخواست پرپاکستان آنے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکتا ہے ،نوازشریف کو پاکستان نہیں آنا توان کے پاسپورٹ کی آئینی حیثیت نہیں رہے گی ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے نواز شریف پاکستان واپس آئیں نوازشریف کا پاسپورٹ ری نیو نہیں کر سکتا،اگر نوازشریف واپس آئیں تو 72 گھنٹے پہلے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا،نواز شریف نے عدالتی رعایت کا غلط استعمال کیا

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز نے سرجری کی بات ہے،جن کے نام ای سی ایل پر ہوں ان کو نیا پاسپورٹ جاری نہیں ہوسکتا،مریم نواز نے کوئی درخواست نہیں دی ہے ای سی ایل سے نام نکالنے کی،اگروہ درخواست نہیں کرنا چاہتی تونہ کریں اچھی بات ہے ،اسمبلیوں پر لعنت بھیجنے والے اسمبلی سےووٹ مانگ رہے ہیں وہ لوگ جو سارے نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں یہ ان کی بہت بڑی شکست ہے،سینیٹ میں کوئی سرپرائز نہیں ہوگا، عمران خان سینیٹ الیکشن جیتیں گے،پی ڈی ایم اسلام آباد لانگ مارچ کے فیصلےکی تاریخ پرنظر ثانی کرے،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت ہوگی، ساری سیاست اب 3 مارچ کو الیکشن میں ہوگی، عمران خان 4 مارچ کو سینیٹ میں سرخرو ہوں گے، نواز شریف کے پاسپورٹ کا بڑا شور ہے،20 اگست 2018 سے نوازشریف، مریم نواز کے نام ای سی ایل میں ہیں، نواز شریف نے عدالتی رعایت کا غلط استعمال کیا، جو لوگ اسمبلیوں پر لعنت بھیجتے تھے آج سینیٹ ٹکٹوں کی جستجو میں ہیں،وہ کیا سیاستدان ہے جو دھوکا دے کر ملک چھوڑ جائے، پی ڈی ایم سے کہوں گا اتنے فیصلے بدلے، لانگ مارچ کا بھی بدل لیں، لانگ مارچ کا فیصلہ بھی رمضان کے بعد کرلیں پی ڈی ایم نے قانون ہاتھ میں نہ لیا تو لانگ مارچ میں رکاوٹ نہیں ہوگی پچھلی دفعہ ایک بیان ازراہ مذاق ہی دیا تھا اس پر معذرت خواہ ہوں،آصف زرداری نے ووٹ خریداری میں پی ایچ ڈی کیا ہواہے ،لیکن انہیں مایوسی ہوگی

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ دس سال کے پاسپورٹ کی قیمت آدھی کردی ہے،ہم نے ویزا سیکشن میں موجود 50 افسران کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے،

  • سینیٹ الیکشن، پی ٹی آئی پہلا نمبر لے گئی ،تحریک لبیک بھی میدان میں آ گئی

    سینیٹ الیکشن، پی ٹی آئی پہلا نمبر لے گئی ،تحریک لبیک بھی میدان میں آ گئی

    سینیٹ الیکشن، پی ٹی آئی پہلا نمبر لے گئی ،تحریک لبیک بھی میدان میں آ گئی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے ، اسلام آباد کی 2 نشستوں پر 10 امیدواروں نے کاغذات جمع کرا دیئے۔

    طارق فضل چودھری،محمدیوسف نے جنرل نشست کیلئے کاغذات جمع کرائے ،وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ، یوسف رضاگیلانی،محمدعلی بخاری اورفریدرحمان نے بھی جنرل نشست کیلئے کاغذات جمع کرائے ۔ خاتون کی ایک نشست کیلئے 4 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ۔امیدواروں میں فوزیہ ارشد، فرزانہ کوثر،فرح ناز اکبر،منیرا جاوید مرزا شامل ہیں۔

    سینیٹ انتخابات 2021 کے لئے الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی تفصیلات جاری کر دیں۔ سینیٹ کی 48 نشستوں پر 170 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے

    الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب کی 11 نشستوں پر 29 امیدوار سامنے آئے۔ سندھ کی 11 نشستوں پر  39 امیدواروں نے خیبر پختونخواہ کی 12 نشستوں پر 51 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر 41 امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ اسلام آباد کی دو نشستوں پر 10 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی  جمع کرائے۔

    پنجاب سے جنرل نشستوں کے لیے 21، ٹیکنو کریٹس اور علماء کے لیے 3، خواتین کی نشستوں پر 5 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ سندھ میں جنرل نشستوں کے لیے 19، ٹیکنو کریٹس 11 اور خواتین کی نشستوں کے لیے 9 کاغذات جمع ہوئے۔ خیبرپختونخواہ میں جنرل نشستوں کے لیے 22، ٹیکنو کریٹس اور علماء کے لیے 11، خواتین کے لیے 13 اور اقلیتی نشست کے لیے 5 امیداوار میدان میں آئے۔

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو….سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کیس،عدالت کے ریمارکس

    سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ

    سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا

    سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس،سندھ‌ حکومت کا جواب عدالت میں جمع

    سینیٹ انتخابات،پیپلز پارٹی نے ایسا اعلان کر دیا کہ مولانا حیران ہو گئے

    سینیٹ میں ٹکٹ کیسے دیئے جائیں گے؟ وزیراعظم کا اعلان

    بلوچستان میں جنرل نشستوں پر 19، ٹیکنو کریٹس پر8، خواتین نشستوں کے لیے 9 اور اقلیتی نشست کے لیے 5 کاغذات جمع ہوئے۔ اسلام آباد سے جنرل نشست کے لیے 6 اور خواتین کی نشست کے لیے 4 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

    سینیٹ انتخابات کے لیے سب سے زیادہ امیدوار حکمران پاکستان تحریک انصاف نے میدان میں اتارے ہیں جن کی تعداد 52 ہےجبکہ مسلم لیگ ن 19 امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔کل 170 امیدواروں  نے کاغذت نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ پی پی پی 18 امیدواروں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ بلوچستان سے حکمران بی این پی نے 16،پی ٹی آئی دو،جمیعت علمائے اسلام ف نے 5، بی این پی مینگل پانچ،عوامی دو،اے این پی تین،آزاد دو،جمہوری وطن پارٹی، ہزارہ ڈویلپمنٹ پارٹی نے ایک ایک امیدوار میدان میں اتارا ہے۔

    سینیٹ الیکشن، ن لیگ کس کو دے ٹکٹ؟ امیدوار بیتاب ،قیادت پریشان

    سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے کونسا قدم اٹھا لیا گیا؟

    سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے جاری آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    سینیٹ انتخابات، ٹکٹوں کی تقسیم،پیپلز پارٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا

    سینیٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے،سینیٹر فیصل جاوید

    سینیٹ ووٹنگ ،اپوزیشن جماعتیں آرڈیننس کے خلاف متحد،پیپلز پارٹی کا ن لیگ سے رابطہ

    مولانا دیکھتے رہ گئے، تحریک انصاف کا مذہبی جماعت کے سربراہ کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    سینیٹ الیکشن ،ووٹوں کی خریدو فروخت کی ویڈیو سامنے آگئی

    پیسے لینے دینے والی ویڈیو سے سپیکر قومی اسمبلی کا کیا لینا دینا؟ اہم انکشاف

    سینیٹ الیکشن، ن لیگ میدان میں آ گئی، وزیراعظم کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

    سینیٹ انتخابات ،انتہائی اہم شخصیات کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی 23، پی پی پی تین،اے این پی تین،جے یو آئی 8،مسلم لیگ ن تین ، جماعت اسلامی ایک اور آزاد امیدوار 9 میدان میں ہین۔ سندھ سے پی پی پی کے 14،ایم کیو ایم 10،پی ٹی آئی 12،جی ڈی اے 2 اور تحریک لبیک کا ایک امیدوار میدان میں ہے۔اسی طرح پنجاب سے پی ٹی آئی 15،مسلم لیگ ن 12،مسلم لیگ ق 1امیدوار کے ساتھ میدان میں ہے۔اسلام آباد سے پی پی ایک،پی ٹی آئی پانچ اور مسلم لیگ ن کےچار امیدوار میدان میں ہیں۔

    سینیٹ انتخابات، پیپلز پارٹی سپریم کورٹ پہنچ گئی

  • ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ،کرونا ویکسین کیوں نہیں بنائی؟ وزیراعظم کیخلاف عدالت میں درخواست

    ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ،کرونا ویکسین کیوں نہیں بنائی؟ وزیراعظم کیخلاف عدالت میں درخواست

    ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ،کرونا ویکسین کیوں نہیں بنائی؟ وزیراعظم کیخلاف عدالت میں درخواست

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعظم پاکستان کا کرونا ویکسین کی درآمد کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ،جسٹس شمس محمود مرزا شہری اظہر عباس کی درخواست پر سماعت کی درخواست میں وزیراعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیئرمین این سی او سی کو فریق بنایا گیا ہے،

    عالمی ادارہ صحت کی پاکستان کو کرونا ویکسین بارے بڑی یقین دہانی

    کرونا ویکسین کا راز ہیکرز کی جانب سے چوری کرنے کی کوشش ناکام

    کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے، جبکہ ملک میں ڈاکٹرز اور ریسرچ لیبارٹریز بھی موجود ہیں، ایٹمی صلاحیت کے باوجود کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین اور علاج دریافت کیوں نہیں کیا گیا ہے، پاکستان کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے علاج سمیت دیگر اقدامات کیلئے چین، امریکہ، برطانیہ ودیگر ممالک پر انحصار کررہاہے، ان ممالک میں کتے، بلیوں اور دیگر حرام خوراک کھانے والے انسانوں پر ویکسین کی تیاری کیلئے تجربات کیے گئے ہیں، ان ممالک کی ویکسین کے پاکستان سمیت دیگر آسلامی ممالک کے سبزیاں، چاول، دالیں اور حلال خوراک کھانے پینے والے انسانوں پر مضر صحت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،

    پاکستان میں کرونا ویکسین کہاں تک پہنچ گئی، مبشر لقمان کے ساتھ ڈاکٹر جاوید اکرم کے تہلکہ خیز انکشافات

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    برطانیہ میں کورونا ویکسین سب سے پہلے کس کو لگائی گئی؟

    کرونا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا،شہری عدالت پہنچ گیا

    کورونا ویکسین لگنے سے 500 کے قریب بھارتیوں کی حالت بگڑ گئی

    ہیلتھ ورکرز کی کورونا ویکسینیشن کا عمل جاری

    درخواستگزار نے کہا کہ وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب درآمدی ویکسین لگانے کی مہم کے افتتاح کررہے ہیں جبکہ خود یہ ویکسین نہیں لگوا رہے، ڈبلیو ایچ او کے متعین کردہ سٹینڈرڈز اختیار نہ کرنا اس دعوے کو تقویت دیتا ہے کہ دنیا میں اور خصوصاً پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا نہیں ہے، عدالت وزیراعظم پاکستان سے پوچھے کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک ہونے کے باوجود کرونا ویکسین کی تیاری اور علاج کی دریافت کیلئے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے، کرونا وائرس کی ویکسین کے مضر اثرات سے عوام کو بچانے کیلئے درآمد پر پابندی عائد کی جائے،

    پاکستان میں بزرگ شہریوں کے لئے کرونا ویکسین کی رجسٹریشن کا آغاز

  • سینیٹ الیکشن، کھچڑی پک گئی، کیا پلٹ کر وار کرنے کی باری عمران خان کی؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سینیٹ الیکشن، کھچڑی پک گئی، کیا پلٹ کر وار کرنے کی باری عمران خان کی؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سینیٹ الیکشن، کھچڑی پک گئی، کیا پلٹ کر وار کرنے کی باری عمران خان کی؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ پورے ملک پر چھا چکے ہیں ۔ ہر کوئی یہ حساب کتاب لگانے میں پھنسا ہوا ہے کہ کون جیتے گا کون ہارے گا ۔ یعنی اس وقت حکومت کے لیے وہ make or break والی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ضمنی اور سینیٹ انتخابات ملکر لڑیں گے۔ تو دوسری جانب پی ٹی آئی اس وقت اندرونی انتشار کو شکار دیکھائی دیتی ہے ۔ کبھی بلوچستان سے اور کبھی سندھ سے پی ٹی آئی کے اندر سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں ۔ کہ جن لوگوں کو ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ ان پر اعتراض ہے ۔ تو کہیں یہ شور برپا ہے کہ پی ٹی آئی نے ارب پتی افراد کو امیدوار بنایا ہے ۔ پر جب سے پی ڈی ایم متفقہ طور پر اسلام آباد سے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ الیکشن کے لیے سامنے لائی ہے ۔ ایک ہلچل سی مچ گئی ہے ۔ ان کےکاغذات نامزدگی کے تجویز و تائید کنندہ دو سابق وزرائے اعظم راجا پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی یوسف رضا گیلانی ہیں۔ اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی جیت گئے تو ۔ پھر حکومت اور اس نظام کا بوریا بستر گول ۔۔۔ کیونکہ اس کے بعد واضح ہو جائے گا کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکے ۔ اور اس کامیابی بھی یقینی ہو جائے گی ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب حکومت کی اہم اتحادی کے حوالے سے خبریں گرم ہیں کہ وہ شاید پی ٹی آئی کو سینیٹ الیکشن میں داغا دے جائے ۔ اس کی یہ توجیح پیش کی جا رہی ہے کہ پیر پگاڑا کے بھائی صدر الدین راشدی سندھ سے سینیٹ کا الیکشن لڑ رہے ہیں اور پپیپلز پارٹی نے ان سے setting کر رکھی ہے کہ سندھ میں وہ انکی سیٹ پر سپورٹ کریں گے اور بدلے میں وفاق میں یوسف رضا گیلانی کو سپورٹ کیا جائے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو بڑا سیٹ بیک ہوگا حکومت کے لیے ۔ دوسری طرف بلوچستان کے بعد پی ٹی آئی صوبہ سندھ ریجن کے مقامی رہنماؤں نے بھی سینیٹ الیکشن کے لئے سندھ سے منتخب کردہ شخصیات پرعدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے ۔ گورنر سندھ کو لکھے گئے خط میں پی ٹی آئی کی جانب سے سینٹ نشستوں کے لئے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نامزدگی کی مخالفت کر دی ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر ان سفارشات پر غور نہ کیا گیا تو پارٹی کو سندھ میں آئندہ منعقد ہونے والی ناصرف بلدیاتی انتخابات میں بلکہ آئندہ عام انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو لیاری سے شکست دینے والے رکن قومی اسمبلی شکور شاد بھی پی ٹی آئی سے ناراض ہیں ۔ انہوں نے سیدھی بات کر دی ہے کہ مجھے سینیٹ کا ٹکٹ نہ ملا تو پا رٹی چھو ڑ دوں گا اور سینٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوا ر کو ووٹ بھی نہیں دو ں گا۔ یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ عمران خان نے آئی بی کے سربراہ سے بھی پوچھا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے چل کیا رہا ہے ۔ اب سماء ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ ٹکٹوں کے معاملے پر دوبارہ مشاورت کا فیصلہ کیا ہے اور پارٹی کے سینئر رہنماﺅں کا اجلاس بلا لیا ہے ۔ اجلاس میں فیصل واوڈاکو ٹکٹ دینے سے متعلق اعتراضات کا بھی جائزہ لیا جائےگا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پارٹی ٹکٹ میرٹ پر دیں گے ،پارٹی کارکنان کی خواہشات کااحترام کرتے ہیں ۔ کسی پیراشوٹر کو سینیٹر نہیں بنائیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سندھ سے سیف اللہ ابڑو اور فیصل واوڈا کی ٹکٹیں واپس ہونے کاامکان ہے،خیبرپختونخوا سے نجیہ اللہ خٹک اور فیصل سلیم سے بھی ٹکٹیں واپس لی جاسکتی ہیں۔ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق آئندہ 24 گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پر میں آپکو بتاوں پی ڈی ایم فیصلہ کر چکی ہے ایک دوسرے کے خلاف اپنے امیدوار کھڑے نہیں کرینگے۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں مشاورت سے اپنے امیدوار لا رہی ہیں۔ اسلام آباد کی دو سیٹوں پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے امیدوار ہونگے۔ خیبرپختونخوا کی جنرل سیٹ اور ٹیکنو کریٹ سیٹوں پر ایڈجسمنٹ کے ساتھ بہتر کارکردگی والے امیدوار کو سامنے لایا جائے گا ۔ جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں سے اپنے امیدوار کے کاغذات واپس لے لے گی۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ سب نے دیکھا کے پی ٹی آئی نے بلوچستان میں سینٹ ٹکٹ دے کر واپس لے لیا۔ وفاقی حکومت کو خوف ہے اور اپنے لوگوں پر شک ہے۔ اس طرح کے اقدامات کرنے سے اگر اوپن ووٹنگ ہو تب بھی ان کے بہت سارے لوگ ان کے کہنے پر ووٹ نہیں دیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لیے کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پردلچسپ مقابلہ ہوگا ۔ ہو سکتا ہے یوسف رضا گیلانی کو حکومتی اتحادی حفیظ شیخ کے مقابلے میں ووٹ دے دیں۔ غالب امکان ہےکہ یوسف رضاگیلانی سینیٹ میں کامیاب ہوسکتےہیں۔ پر اگر اس سب کے باوجود عمران خان نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی تو پھر پی ڈی ایم کی خیر نہیں کیونکہ اس کے بعد وار کرنے کی باری ہو گی وہ عمران خان کی ہوگی ۔ اور پی ڈی ایم کے پاس صرف یہ ہی آپشنز باقی رہیں گی کہ یہ تو ساری پی ڈی ایم استعفے دے یا پھر agitationکی سیاست شروع کرکے دھرنوں اور لانگ مارچ پر اکتفا کرے

  • کراچی حادثات، 2 خواتین سمیت 11 افراد ہلاک 1 زخمی

    کراچی حادثات، 2 خواتین سمیت 11 افراد ہلاک 1 زخمی

    کراچی:سوک سینٹر پل کے قریب ٹریفک حادثہ ایک شخص ہلاک ۔
    ہلاک ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا.
    ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت شہزاد ولد یوسف عمر32سال۔

    کراچی:ڈیفنس فیز 6خیابان راحت کے قریب خودکشی گن شارٹ ایک شخص ہلاک۔
    ہلاک ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا.
    ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت صدر السلام ولد نامعلوم عمر45سال۔

    کراچی:نارتھ ناظم آباد بلاک Bکے قریب سے ایک شخص کی لاش برآمد(وجہ ہلاکت نامعلوم)۔
    لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے عباسی ہسپتال منتقل کیاگیا.
    لاش کی شناخت محمد نواز ولد چنوں خان عمر71سال۔

    کراچی:معمار موڑ شنواری ریسٹورنٹ کے قریب ٹریفک حادثہ ایک خاتون ہلاک۔
    ہلاک ہونے والی خاتون کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے عباسی ہسپتال منتقل کیا گیا.
    ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت زاہدہ زوجہ فصل ودود عمر50سال۔

    کراچی:جہانگیر روڈ 02نمبر جمشید کوارٹرگھر سے 04سے 05دن پرانی ایک شخص کی لاش برآمد(وجہ ہلاکت نامعلوم)۔
    لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے سول ہسپتال منتقل کیاگیا.
    لاش کی شناخت تاحال نہ ہوسکی عمر60سال۔

    کراچی:پرانا حاجی کیمپ ٹیمپر مارکیٹ کے قریب ٹریفک حادثہ ایک شخص ہلاک سول ہسپتال منتقل کیاگیا ہے۔
    ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عاطف ولد اشرف عمر28سال۔

    کراچی:گلشن معمار فقیرا گوٹھ گھرمیں خودکشی گن شارٹ ایک شخص ہلاک۔
    ہلاک ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے عباسی ہسپتال منتقل کیا گیا.
    ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت جمشید خان ولد جان سن عمر35سال۔

    کراچی:سائٹ ایریانورس چورنگی کے قریب کمپنی سے ایک خاتون کی لاش برآمد(وجہ ہلاکت نامعلوم)۔
    لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے عباسی ہسپتال منتقل کیاگیا.
    لاش کی شناخت حلیمہ بانو زوجہ سعید احمد عمر45سال۔

    کراچی:گلزار ہجری کنٹری ہائٹس گھر میں خودکشی گن شارٹ ایک شخص ہلاک۔
    ہلاک ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے عباسی ہسپتال منتقل کیا گیا.
    ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محتشم ولد نعیم عمر35سال۔

    کراچی:لانڈھی 01 نمبرنور منزل کے قریب فائرنگ ایک شخص زخمی۔
    زخمی ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا.
    زخمی ہونے والے شخص کی شناخت مختیار ولد داؤد خان عمر33سال۔

    کراچی:بلاول چورنگی کے قریب ٹریفک حادثہ02افراد ہلاک۔
    ہلاک ہونے والوں کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا.
    ہلاک ہونے والوں کی شناخت تاحال نہ ہوسکی عمر22,24سال۔

  • سردار عبدالرب نشتر قائد اعظم کے رفیق خاص تھے

    سردار عبدالرب نشتر قائد اعظم کے رفیق خاص تھے

    سردار عبدالرب نشتر قائد اعظم کے رفیق خاص تھے طارق حسن

    پاکستان حاصل کرنے کیلئے عبدالرب نشتر نے عملی جدوجہد کی کنور ارشد علی خان

    زندہ قومیں اپنے اکابرین کے کارناموں پر فخر کرتی ہیں صادق شیخ

    نعمت خلجی. معیزالحسن. عبدالقیوم خان. کمال احمد. فرید قریشی. امتیاز علی و دیگر کا سردار عبدالرب نشتر کی 63 ویں برسی کے موقع پر مذاکرے میں اظہار خیال

    کراچی: پاکستان مسلم لیگ سندھ کے صدر محمد طارق حسن نے کہا ہے کہ تحریک پاکستان کے رہنما سردار عبدالرب نشتر قائد اعظم محمد علی جناح کے رفیق خاص تھے قیام پاکستان میں انکی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ان خیالات اظہار انہوں تحریک پاکستان کے رہنما سردار عبدالرب نشتر کی کی 63 ویں برسی کے موقع پر مسلم لیگ (ق) کے تحت منعقدہ مذاکرے سے کیا مسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکرٹیری کنور ارشد علی خان نے کہا کہ قیام پاکستان کے حصول کیلئے سردار عبدالرب نشتر نے عملی جدوجہد کی اور مسلم لیگ (ق) اکابرین ملت کی زندگی کو شعار بناتے ہوئے انکے کاز پر عمل پیرا ہے مسلم لیگ (ق) سندھ کے انفارمیشن سیکرٹیری محمد صادق شیخ نے کہا کہ آزادی وطن نعمت ہے اور زندہ قومیں اپنے اکابرین کے کارناموں پر فخر کرتی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ سردار عبدالرب نشتر اور اکابرین ملت کے نقشں قدم پر چل کر تکمیل پاکستان کیلئے اپنا کردار ادا کریں اس موقع پر نعمت خان خلجی. معیزالحسن. عبدالقیوم خان. فرید قریشی. کمال احمد. امتیاز علی. راؤکاشف. واصل خان. سلطان بھٹی. سہیل صدیقی. سید اخلاق . ذاکر قریشی. حنیف وارثی. حاجی زاہد. رحیم شاہ. حاجی عبدالستار. اسلم سندھی اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا.

  • کے الیکٹرک کے پروگرام ”روشنی باجی“ کا افتتاح

    کے الیکٹرک کے پروگرام ”روشنی باجی“ کا افتتاح

    چیئرمین نیپرا،توصیف ایچ فاروقی نے کے الیکٹرک کے ویمن ایمبیسیڈر پروگرام ”روشنی باجی“ کا افتتاح کر دیا

    کراچی: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)کے چیئرمین، توصیف ایچ فاروقی نے کراچی میں کے الیکٹرک کے ویمن ایمبیسیڈر پروگرام”روشنی باجی“ کا افتتاح کردیا۔اس سلسلے میں ایک تقریب کے الیکٹرک کے ٹیپو سلطان کسٹمر کیئر سینٹر میں منعقد ہوئی۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جس میں منتخب خواتین کو سیفٹی ایمبیسیڈر مقرر کیا جائے گا جن کا مقصد مختلف کمیونٹیز میں خواتین کو بجلی کے موثر استعمال اور کنڈا کنکشن کے بجائے بجلی کے قانونی استعمال کے بارے میں آگاہی دینا ہے۔ یہ اقدام کمیونٹیز کے ساتھ کے الیکٹرک کی شراکت داری کا ایک تسلسل ہے جس میں رہائشیوں کو بجلی تک آسان رسائی، عوامی مقامات کی تزئین و آرائش اور روزگار کے مواقع ٖکی فراہمی کے ذریعے انہیں ترقی دینا اور باختیار بنانا شامل ہے۔

    نیپرا کی طرف سے جناب سیف اللہ چٹھہ، معززوائس چیئرمین اور ممبر پنجاب، جناب رفیق احمد شیخ، معزز ممبر سندھ، جناب رحمت اللہ بلوچ،معزز ممبر بلوچستان، انجینئر بہادر شاہ، معزز ممبر کے پی کے اور نیپرا، سی ایس آر ہیڈ محترمہ ہما ظفر،نے تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، مونس عبداللہ علوی، چیف فنانشل آفیسر، عامر غازیانی،چیف ڈسٹری بیوشن آفیسر، عامر ضیاء، چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن آفیسر، محترمہ سعدیہ دادا اور کے الیکٹرک کی لیڈرشپ کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔

    ”روشنی باجی“ ویمن ایمبیسیڈر پروگرام کا مقصد 100,000 سے زائد خواتین کو اس پروگرام میں شامل کرتے ہوئے اپنے خاندان کے افراد کو عمومی حفاظت، بجلی سے تحفظ، بارش میں حفاظت، بجلی چوری کے خطرات اور توانائی کی بچت جیسے اہم بنیادی اصولوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔کے الیکٹرک صحت اور تحفظ کے شعبے میں عمدہ کارکردگی کے حوالے سے غیر متزلزل عزم رکھتا ہے اورکمپنی کی جانب سے ہر سال جنرل پبلک سیفٹی سے متعلق آگاہی مہم چلائی جاتی ہے اوریہ مہم اِسی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

    اس ماڈل میں سوشل پارٹنر، کنسرن فار چلڈرن(سی ایف سی) کے اشتراک سے ممکنہ ریکروٹمنٹ اور ٹریننگ کو شامل کیا گیا ہے جو کراچی کے پسماندہ اور ترقی پذیر علاقوں میں مضبوط فٹ پرنٹ رکھتی ہے۔ پاور یوٹیلیٹی نے متعدد مقاصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سرگرمی کا آغاز کیا ہے جس میں سے اہم ترین مقصد، زیادہ تر آبادی کے لیے، بالخصوص پسماندہ طبقات اور خواتین کے لیے حفاظتی کورسز اور تربیتی سیشن کی کمی کو دور کرنا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اعلیٰ ترین کارکردگی اور نتائج کی حامل خواتین کو شناخت کر کے، وقت کے ساتھ ان کی سند یافتہ خواتین الیکٹریشنز کے طور پرتربیت کرنا ہے، تاکہ وہ انرجی سیکٹر میں ملازمت حاصل کر سکیں، یا اپنے رہائشی علاقے میں انفرادی طور پر الیکٹریشن کا پیشہ اختیار کرسکیں۔

    اس موقع پر نیپرا کے چیئرمین، توصیف فاروقی نے کہا کہ، کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلیٹی پروجیکٹس کے ذریعے نیپرا کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بجلی کی فراہمی، پاکستان کی تمام کمیونٹیز میں خوشحالی لائے گی۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 14ماہ قبل ہم نے پاکستان کے پسماندہ طبقات کو ترقی دینے کا خواب دیکھا تھا اور اب وقت آگیا ہے کہ حکمت عملی اور پائیدار سی ایس آر پروجیکٹس کے ذریعے اس خواب کو پورا کیا جائے جیسا کہ کے الیکٹرک اور دیگر لائسنس یافتہ ادارے کررہے ہیں۔انہوں نے کے الیکٹرک کے سی ایس آر اقدام کو بھی سراہا جو پاور سیکٹرکی دیگر تمام کمپنیوں کیلئے ایک ماڈل کے طور پر کام کرتی ہے۔ دونوں اداروں کی لیڈرشپ نے، نیپرا کے سی ایس آر، ویژن ”بجلی کی فراہمی کے ساتھ خوشحالی‘کو حاصل کرنے کیلئے شراکت داری میں توسیع کے عزم کا اظہار کیا۔

    کے الیکٹرک کے LEEDسرٹیفائیڈ ”گرین بلڈنگ“ کا دورہ کرتے ہوئے نیپرا کے چیئرمین نے کہاکہ، ”حفاظت ہر شخص کی ذمہ داری ہے اور خواتین کی چینج ایجنٹ کے طور پر شمولیت یقینی طور پر نہ صرف کمیونٹی ممبران بلکہ آنے والی نسل میں بھی حفاظت کے حوالے سے شعور میں اضافہ کرے گی۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ کے الیکٹرک نے نہ صرف ذاتی و عوامی تحفظ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں راہنما کردار ادا کررہا ہے بلکہ انہوں نے خواتین کی معاشی ترقی کے ذریعے بھی یہ کامیابی حاصل کی ہے۔یہ دونوں نیپرا کے سی ایس آر فریم ورک کی ترجیحات میں شامل ہیں اور جب میں مستقبل میں اس پروگرام کے مثبت اثرات دیکھتا ہوں تو دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی اسی نوعیت کے سوشل انویسٹمنٹ اقدامات کے ساتھ آگے آئیں۔“

    تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، مونس علوی نے کہا:”ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا کردار بجلی کی فراہمی سے بڑھ کر ہے جیسا کہ ہم نے پروجیکٹ سربلندی اور اجالا سمیت سوشل انویسٹمنٹ کے پروگرامز کے ذریعے کمیونٹی کے ساتھ کام کرنے اور ان کی ترقی کیلئے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔اسی کے ساتھ ہم خواتین کی شمولیت اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کیلئے بھی پرعزم ہیں،اس بات کو جانتے ہوئے کہ یہ معاشرتی ترقی کو فروغ دینے کا پائیدار طریقہ ہے۔کے الیکٹرک کی خواتین میٹر ریڈرزاس کا ثبوت ہیں اور ہم”روشنی باجی“ پروگرام کے ذریعے ان دونوں تصورات کومزید تقویت دے رہے ہیں۔ہرایک روشنی باجی نہ صرف فیمیل کمیونٹی انفلوئنسر کے طور پر کام کریں گی اوران کمیونیٹیز میں آگاہی فراہم کریں گے جن علاقوں سے وہ تعلق رکھتی ہیں بلکہ و ہ اپنے خاندان کیلئے مختلف مواقع بھی پیدا کریں گی۔

    کے الیکٹرک کی مینجمنٹ نے نیپرا کے وفد کو موسم گرما کے دوران شہر میں بجلی کی فراہمی کے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی،جب بجلی کی طلب زیادہ ہوتی ہے اور اتھارٹی کو یقینی دہانی کروائی کہ بجلی کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔نیپرا کے وفد کو پاور یوٹیلیٹی کے 900میگا واٹ کے آر ایل این پر مبنی پاور پلانٹ، بی کیو پی ایس III- کی پیشرفت اور 2021کے موسم گرما تک 450میگاواٹ کے پہلے یونٹ کی بروقت تکمیل کے بارے میں بھی آگاہ کیاگیا۔