وزیراعظم اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک کی آواز بن گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے تجارت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے ہماری پالیسی دنیا میں سراہی گئی ،وبا کے باعث لاکھوں افراد خط ٖغرب سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کے باعث ہر شعبہ زندگی متاثر ہوئی کورونا صورتحال میں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کورونا وبا کے تدارک کے لیے سہولیات میں اضافہ کیا جائے، ترقی پذیر ممالک کو بلاتفریق ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے،کورونا سے بچاوَ کی ہماری حکمت عملی خوش قسمتی سے موثر ثابت ہوئی، ہمیں لوگوں کو وبا اور بھوک کے باعث اموات سے بچانا ہے،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی سطح پر کورونا ویکسین کی دستیابی میں وقت درکار ہے ،وزیراعظم عمران خان نے ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے 5نکاتی ایجنڈا کی تجویزدی اور کہا کہ وبا کے خاتمے تک غریب ممالک کے قرض مؤخرکیے جائیں،عالمی سطح پر مالیاتی اداروں کی جانب سے امدادی اقدامات میں اضافہ کیا جائے ،کوروناکے خاتمے تک مقروض ممالک میں قرضوں میں خصوصی رعایت دی جائے،عالمی وبا کے تدارک کے لیے سہولیات میں اضافہ کیا جائے،5ارب ڈالر کے امدادی فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے،امیرممالک غریب ممالک کی لوٹی ہوئی دولت واپس کریں،
پھنسانے والے اب خود پھنس چکے،وزیراعظم کا دبنگ اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنماوَں کا اجلاس ہوا
پارٹی ترجمانوں کےاجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی ،حکومتی رہنماوَں کو براڈشیٹ، فارن فنڈنگ کیس اور قبضہ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن پر بریفنگ دی گئی
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو ن لیگ کی سرپرستی حاصل رہی، سیاسی سرپرستی کے بغیر کوئی بھی سرکاری زمین پر قبضہ نہیں کر سکتا، قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حیرت ہے سرکاری زمینوں کا قبضہ چھڑانے کو بھی سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے، حکومتی ترجمان قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ کریں،فارن فنڈنگ کیس میں ہمیں پھنسانے والے اب خود پھنس چکے ہیں الیکشن کمیشن میں ہمارا موقف درست ثابت ہوا،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ براڈشیٹ کے معاملے پر شفاف اور منصفانہ تحقیقات کرانا چاہتے ہیں،قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ہر کردار کو سامنے لائیں گے،اپوزیشن کی خام خیالی ہے کہ وہ پراپیگنڈہ کر کے حقائق چھپا لیں گے،
وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک پاکستانیوں کی شکایت پرنوٹس لے لیا،بیرون ملک سفارتی عملے، مشن کی کارکردگی بہتربنانےکیلئےعملی اقدامات کا آغازکر دیا گیا،وزیراعظم عمران خان نے وزارت خارجہ کو 20 روزمیں ایکشن پلان مکمل کرنےکی ہدایت کر دی ،رپورٹ ہر 4 ماہ بعد وزیراعظم کوپیش کی جائے گی ،سفارتی عملے کی پرفارمنس پرمبنی ریٹنگ طے ہوگی ،بہترکارکردگی نہ دکھانے والے سفارتی عملے کو پاکستان واپس بلا لیا جائے گا
سینیٹ الیکشن سے قبل پنجاب میں تحریک انصاف کو بڑا دھچکا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے ناراض اراکین کے وزیراعلی ٰپنجاب سے اختلافات سامنے آ گئے
ناراض اراکین نے سینیٹ الیکشن میں حصہ نہ لینے اور پنجاب اسمبلی سے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی،اراکین کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے نہیں کیے جا رہے، سینیٹ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے،وزیراعلیٰ پنجاب نے ابھی تک وعدوں پر عمل نہیں کیا،
خواجہ داؤد سلیمانی کا کہنا ہے کہ وزیراعلی ٰ اپنوں کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دے رہے،سینیٹ الیکشن میں کسی کو ووٹ نہیں دیں گے،مطالبات نہ مانے گئے تو گروپ پنجاب اسمبلی نشست سے مستعفی ہوجائے گا،جلد اپنی میٹنگ بلا کر اگلا لائحہ عمل طے کریں گے،
خواجہ داوَد سلمانی پی پی 285 سے رکن پنجاب اسمبلی ہیں،ناراض اراکین میں شہاب الدین، ملک غضنفر چھینہ اورتیمور لالی شامل ہیں ،مامون تارڑ، فیصل فاروق چیمہ، اعجاز خان اورگلریز افضل چن بھی ناراض اراکین میں شامل ہیں ،غضنفر عباس، خواجہ داؤد بندیشہ، محی الدین کھوسہ اور عامر عنایت شہانی سمیت دیگر ارکان شامل ہیں
حکومت سوشل میڈیا رولز میں نظر ثانی کرنے پر تیار،عدالت کو بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا رولز کے خلاف کیس کی سماعت 4 ہفتے تک ملتوی کر دی گئی
حکومت سوشل میڈیا رولز میں نظر ثانی کرنے پر تیار،اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کردیا ،اٹرنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ رولز حرف آخر نہیں اسٹیک ہولڈرز تجاویز دے سکتے ہیں، عدالت نے پی ٹی اے اور اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو لگ رہا ہے کہ پی ٹی اے نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی، مشاورت ہو تاکہ کوئی ابہام ہی نہ رہے، اٹارنی جنرل کا موقف تو بہت مناسب ہے،اسٹیک ہولڈرز کو بلا کر سننا بہت مناسب تجویز ہے، جو اسٹیک ہولڈرز ہیں ان کی آپ بھی نشاندہی کردیں،اٹارنی جنرل رپورٹ پیش کریں گے تو بہتر چیز سامنے آئے گی،
وکیل نے کہا کہ ہمیں پہلے بھی پی ٹی اے نے سنا مگر ہماری تجاویز شامل نہیں کی گئیں،جس پر عدالت نے کہا کہ آپ اٹارنی جنرل پر بھروسہ رکھیں،اٹارنی جنرل نے کہہ دیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کو سننے کے لیے تیار ہیں، اٹارنی جنرل پر اس عدالت کی طرح آپ بھی مکمل اعتماد رکھیں،اٹارنی جنرل نے تجویز دی ہے کہ درخواست گزار تجاویز سننے کو تیار ہیں،
حکومتی وفد کی اپوزیشن رہنماؤں سے آج ہو گی اسلام آباد میں اہم ملاقات،مریم بھی ہوں گی شریک؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن پر مشاورت کیلئے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگا۔
ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز بھی اجلاس میں شریک ہوں گی۔ اجلاس میں ان ہاؤس تبدیلی اور تحریک عدم اعتماد کے متعلق بات ہوگی۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ن لیگ کے اراکین قومی اسمبلی وسینیٹ شرکت کریں گے۔
اجلاس میں ارکان سے سینیٹ الیکشن پر بھی رائے لی جائے گی۔ پی ڈی ایم تحریک پر بھی ارکان کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔ پی ڈی ایم لانگ مارچ اور پارلیمنٹ سے استعفوں پر بھی رائے لی جائے گی۔
ن لیگ کی ترجمان کے مطابق اجلاس میں موجودہ مجموعی ملکی صورتحال، کورونا وائرس کے خطرے اور معاشی تباہی کے مسائل پر غور ہوگا۔ شرکائے اجلاس ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی و اقتصادی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس کو احسن طریقے سے چلانے کیلئے آج پھر اسلام آباد میں اہم بیٹھک ہو گی،حکومتی وفد آج پھر اپوزیشن سے تعاون کیلئے ملاقات کرے گا،وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر مملکت علی محمداور عامر ڈوگر اپوزیشن سے ملیں گے،ملاقات شام 4 بجے قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں ہوگی۔
اپوزیشن کو خاص طور پرسپیکر اور وزرا کے رویہ پر تحفظات ہیں،اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ایوان کا ماحول خود حکومتی بنچز خراب کرتے ہیں، سپیکر شہباز شریف، خواجہ آصف، خورشید شاہ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈرز جاری کریں،حکومت چاہتی ہے اپوزیشن ہاوَس بزنس ایڈوائزری کمیٹیوں میں شریک ہو۔
پشاور :خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں زلزلہ ،سخت سردی کے باوجود لوگ گھروں سے بھاگ نکلے ،اطلاعات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں زلزلے جھٹکے محسوس کیے گئے ، لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
تفصیلات کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی ، زلزلے کے جھٹکے سوات ، کوہستان ، مانسہرہ میں محسوس کیے گئے ، اس کے ساتھ ساتھ کاغان ویلی ، لوئر دیر اوراس کے گر دو نواح میں بھی زلزلہ آیا ،
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور عوام کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ زلزلے کا مرکز پاک افغان سرحدی علاقے میں 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا ، جس کے جھٹکے آزاد کشمیر کے علاقوں مظفر آباد ، وادی نیل ، جہلم ویلی ، راولا کوٹ اور باغ میں بھی محسوس کیے گئے۔
چین مسلح افواج کے 13 جنگی طیاروں نے تائیوان کی طرف سے ‘ائیر ڈیفنس فیلڈ’ اعلان کی گئی فضائی حدود ADIZ کی خلاف ورزی کی ہے۔
تائیوان خبر رساں ایجنسی سی این اے کی خبر کے مطابق تائیوان وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین مسلح افواج کے 9 عدد Xian H-6 بمبار اور 4 عدد شینیانگ J-16 جنگی طیاروں نے جنوب مغربی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔
خلاف ورزی کے بعد تائیوان کے جنگی طیاروں کو علاقے کی طرف بھیج دیا گیا جنہوں نے چینی طیاروں کو وائرلیس وارننگ دی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک دن میں اس قدر کثیر تعداد میں چینی طیاروں کی طرف سے فضائی حدود کی خلاف ورزی معمول کی بات نہیں ہے۔
یاد رہے کہ دو دن پہلے بھی چینی طیارے تائیوان میںداخل ہوگئے تھے ، جس کے بعد تائیوان کا کہنا تھا کہ آٹھ چینی بمبار اور چار لڑاکا طیارے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تائیوان کی حدود میں آئے ہیں،تائیوانی حکام کے مطابق چینی جنگی طیارے مختلف دفاعی حدود میں آئے ہیں
واضح رہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، دو ماہ قبل بھی چین کے جنگی جہاز تائیوان کی حدود میں گئے تھے،چینی طیاروں کی تائیوان کی فضائی حدود میں دوسرے روز بھی پروازیں جاری رہیں جس پر تائیوان کی وزارت دفاع نے زور دیا ہے کہ چین اس طرح کی حرکات سے خطے کا امن تباہ کرنے سے باز رہے۔انہوں نے کہا کہ دوسرے روز بھی چینی طیارے آبنائے تائیوان پارکر کے ہماری حدود میں داخل ہوئے ، چین بار بار خطے کے امن اور استحکام کو تباہ نہ کرے۔
وزارت دفاع نے زور دیا کہ چین امن کے خلاف ایسی حرکات کو روکے ، ایسے اقدامات سے شہریوں میں چین کے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ چین،جو تائیوان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، نے اپنے ساحل اور تائیوان کے قریب حالیہ ہفتوں میں کئی جنگی مشقیں کی ہیں۔
تائیوان عوامی جمہوریہ چین کا ایک اہم صوبہ ہے ۔یہ ایک جزیرہ ہے اور دیگر اسی سے زائد چھوٹے بڑے جزائر پرمشتمل اس صوبے کا کل رقبہ تقریباً چھتیس ہزار مربع کلومیٹر بنتا ہے۔چینی صدر شی جن پنگ زور دے چکے ہیں کہ تائیوان کے شہری اس بات کو تسلیم کریں کہ وہ چین کا حصہ ہیں اور تائیوان چین میں ضم ہو کر رہے گا۔
چین اور تائیوان کے درمیان تعلقات کی بحالی کے 40 سال مکمل ہونے کے موقع پر کی گئی ایک تقریر میں چینی صدر نے تائیوان کو ’ایک ملک، دو نظام‘ کے نظریے کی بنیاد پر ضم ہونے کی پیشکش دہرائی تھی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ چین اس معاملے میں طاقت کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔
دوسری جانب بیجنگ کا کہنا ہے کہ ایسی مشقیں غیر معمولی نہیں اور ان کا مقصد اپنی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم رہنے کا اظہار ہے
تل ابیب :متحدہ عرب امارات نے اظہارمحبت کے بعد یہودیوں سے رشتہ داری بھی قائم کرلی ،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اسرائیل کے شہر تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔
خلیجی اخبار کے مطابق تل ابیب میں سفارت خانہ کھولنے کی منظوری وزیراعظم یو اے ای شیخ محمد بن راشد المکتوم کی زیر صدارت ہونے والے اماراتی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی ۔
خیال رہےکہ گزشتہ سال اگست میں امریکا کی مدد سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔
معاہدے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کئی شعبوں میں تعاون کے لیے مزید معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔متحدہ عرب امارات کے اعلان کے بعد بحرین، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی اطلاعات آرہی ہیں کہ جوبائیڈن انتظامیہ نے امریکی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید ملکوںکو اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے لابنگ شروع کردی ہے
راولپنڈی: شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک،اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں خفیہ معلومات پر کامیاب آپریشن کرکے 2 سرغنہ سمیت 5 دہشتگردوں ہلاک کو ہلاک کر دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہلاک ہونیوالوں میں دہشتگرد رحیم عرف عابد اور سیف اللہ نور شامل ہیں۔ دہشتگرد رحیم 2007ء سے سیکیورٹی فورسز کیخلاف 17 کارروائیوں میں ملوث تھا۔
دہشتگرد رحیم عرف عابد وانا اور میر علی میں خود کش حملہ آوروں کا سینٹر انچارج تھا۔ دشمن ایجنسیوں نے دہشتگردوں کی ٹارگٹ کلنگ کے ٹاسک دے رکھے تھے۔ جبکہ سیف اللہ سیکیورٹی فورسز پر بارودی سرنگوں کے حملوں میں ملوث تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگرد رحیم نومبر 2020ء سے جنوری 2021ء تک دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا۔ یہ دہشتگرد 4 قبائلی عمائدین اور 3 انجینئرز کے قتل میں بھی ملوث تھا۔
سینئیر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ کیس میں نئے نئے حقائق اور انکشافات سامنے آ رہے ہیں اور اس سے ایسا بھی لگتا ہے کہ اس کے تانے بانے پاکستان سے مل رہے ہیں میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جو مشرف کے ٹائم پر تھے آج وہی لوگ حکومت میں ہیں اور جو مشرف کے ساتھ بُرا حال ہوا اور جس طرح اس کو فیل کروایا گیا کیا آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے کہ نہیں لیکن براڈ شیٹ کے قانون میں ہم نے کہاں پر غلطی کی اور مزید غلطی کر رہے ہیں وہ کیا ہے-
باغی ٹی وی : گزشتہ روز مبشر لقمان نے اپنے یو ٹیوب چینل کے شو میں جنرل اٹارنی عرفان قادر کو مدعو کیا جس میں انہوں نے براڈ شیٹ کیس کے حوالے سے سوالات کئے-
پاکستان کے چیف لاء آفیسر اور سابق اٹارنی اٹارنی عرفان قادر جنرل مشرف کے ٹائم سےسب سے زیادہ ان چیزوں کو دیکھ چکے ہیں اور ابھی بھی دیکھ رہے ہیں نے براڈ شہٹ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا-
مبشر لقمان نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں ایسا قانون ہونا چاہیئے کہ جو شخص ایک بار کسی ایک حکومت میں کم سے کم ایک سال رہ چکا ہے وہ کسی دوسری پارٹی کی حکومت میں نہ ہو-کیونکہ سارے جاتے ہیں ادھر ادھر سے میل ملاپ کر کے تو ساروں کو فیل کروا دیتے ہیں اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ ایسا ہو نہیں سکتا اور فنڈا مینٹل رائٹس کو لے آئیں گے-
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اس بات پر کہا کہ انہیں ایسا کوئی قانون نہیں ہو سکتا اور فنڈا منٹل کی بات ہی نہیں یہ سیدھی سادھی سینس کی بات ہے کہ حکومت میں جو لوگ تجربہ رکھتے ہیں حکومت کی معاونت کرنے میں تو آپ اگر ان کو ہی نکال دیں گے اور کسی کو لے آئیں گے تو نظام کیسے چلے گا-
اس پر مبشر لقمان نے کہا کہ کسی اور ملک میں تو ایسا نہیں ہوتا یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی ایسا نہیں ہوتا وہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ اپنے دوست شہزاد اکبر کا دفاع کر ر ہے ہیں کہ مشرف کو بھی مروانے والا وہ اور ابھی عمران خان کو بھی مروائے وہ الگ بات ہے-
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ شہزاد اکبر کی مشرف کے ٹائم پر ایسی کوئی پوزیشن نہیں تھی وہ کنسلٹنٹ تھے اور بڑا وہ لوئر ٹئیر تھا –
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اتنی تو پاکستان یں کسی پارٹی کے ہیڈ نے پریس کانفرنسز نہیں کیں جتنی پچھلے ایک سال میں شہزاد اکبر نے کر دی ہیں-
سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہاں یہ بات ٹھیک ہے کیونکہ اس وقت وہ اس حکومت کا بہت ضروری حصہ بنے ہوئے ہیں-
سینئیر اینکر پرسن نے اس پر کہا کہ لیکن کیا فائدہ ایسی کانفرنسز کا کہ آپ کیسز ہار رہے ہیں آپ سے دفاع کیا نہیں جا تا آپ کا کوئی ثبوت ہے نہیں اور پاکستان حکومت کو اور ریاست کو باہر انہوں نے مذاق بنو دیا-
عرفان قادر نے مبشر لقمان کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہاں یہاں میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ شہزاد اکبر کو اپنے دائرے میں رہ کر بات کرنا چاہیئے اور اگر وہ صحیح لیگل ایکسپرٹ ہیں اور ان کے پاس جتنی مہارت ہے تو وہ اسی حد تک رہیں –
مبشر لقمان نے سوال پوچھا کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ بتائیں کہ کیا وہ سچ میں لیگل ایکسپرٹ ہیں؟
عرفان قادر کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کو ہمارے ٹائم پر کنسلٹنٹ رکھا تھا وکالت میں ان کے تجربے کے بارے میں مجھے زیادہ نہیں پتہ میرا نہیں خیال کہ انہوں نے کیسز زیادہ کئے ہوئے کوئی سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں انہوں نے کیسز نہیں کئے کوئی لانگ ٹرم کا ان کا میرا نہیں خیال کہ ایسا کوئی تجربہ ہے-
مبشر لقمان نے پوچھا کہ کیا جب مشرف کے دور میں براڈ شیٹ ہائر ہوئی ہے تب بھی اس میں شہزاد اکبر تھے؟
اس پرعرفان قادر کا کہنا تھا کہ نہیں تب اس میں نہیں تھے وہ بہت بیگ گراؤنڈ میں تھے کسی امپورٹنٹ پوزیشن میں نہیں تھے ان کا کوئی ایسا کردار نیب میں نہیں ہوتا تھا-
مبشر لقمان نے کہا کہ براڈ شیٹ کا کیس ہار گئے ہیں لینے کے دینے پڑ گئے ہیں برطانیہ کی عدالت نے آپ کو جھوٹا ثابت کر دیا-
عرفان قادر نے کہا بد قسمتی سے یہ بہت ہی دکھ کی بات ہے کہ ہم براڈ شیٹ کا کیس ہار گئے ہیں ریاست پاکستان کے لئے یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے اس کی اگر ساری ہسٹری دیکھیں تو سب سے پہلے میں سمجھتا ہوں کہ براڈ شیٹ کے ساتھ اثاثہ جات کو تلاشنے کے معاہدے ہونے ہی نہیں چاہیئے تھے اور اگر ہوئے بھی تھے تو پھر کم سے کم ان معاہدوں میں بہت ساری مبہم غلطیاں ہیں نہیں ہونی چاہیئں تھیں ان کو کلئیرٹی کے ساتھ وہاں پر بیان کرنا چایئے تھا سب سے بڑا ایشو وہاں سے اٹھا کہ جو اثاثہ جات کو وہ تلاشتے ہیں یا نہیں تلاشتے تو ان کو پھر بھی پاکستان کے اندر یا باہر سے ریکوریز ہوتی ہیں تو ان کو ان میں سے حصہ ملے گا تو اس طرح کا اس معاہدے سے جو امیریشن پیدا ہوا ہے یہ معاہدہ خود بے اعتدالی کا شکار ہے اور اس طرح کے معاہدے میں تو عمل درآمد ہونا ہی نہیں چاہیئے اور ایسا معاہدہ جو غیر مہذب ہو ایک چیز ہوتی ہے کمرشل کامن سینس اور کوئی بھی معاہدہ اگر کمرشل کامن سینس کی نفی کر رہا ہو اور کوئی بھی معاہدہ تیار کرنے والا یعنی ڈرافٹر آف دی ایگریمنٹ کوئی بھی معاہدہ آپ کے سامنے رکھے اور اس میں کوئی بھی متعصب بات نظر آئے تو ساری دنیا میں مسلمہ اصول ہے س کا وہ لاطینی زبان میں ڈاکٹرائن ہے اسے ہم کہتے ہیں ڈاکٹرائن آف کنٹرا پرفرینٹم اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے یہ ڈرافٹ کیا اگر کل وہ اس میں کوئی بھی ابہام آتا ہے تو اس کے خلاف یہ استعمال ہو گا لیکن یہاں پر یہ نہیں ہوا ہہاں پر ساری تشریح پاکستان کے خلاف ہو گئی ہے
اور یہ ڈرافٹر براڈ شیٹ والے تھے یہ پاکستان نے ڈرافٹ نہیں کیا تھا یہ جنرل امجد کے ٹائم پر جو نیب ہے اس وقت کی انہوں نے ڈرافٹ نہیں کیا تھا-
مبشر لقمان نے کہا کہ اس پر آرگیو کیوں نہیں کیا گیا؟-
عرفان قادر نے کہا کہ س پر آرگیو کرنا چاہیئے تھا جن لوگوں نے انگلش کورٹ میں یہ کیس ہینڈل کیا یا جن لوگوں نے یہ کمپرونائز کر لیا تھا جیری جیم کے ساتھ یہ سوال ان لوگوں سے کریں تو وہ بہتر طریقے سے جواب دے سکتے ہیں-