Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جنوبی وزیرستان ،دہشتگردوں کاچیک پوسٹ پرحملہ،4 جوان شہید، چار دہشت گرد جہنم واصل

    جنوبی وزیرستان ،دہشتگردوں کاچیک پوسٹ پرحملہ،4 جوان شہید، چار دہشت گرد جہنم واصل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پرحملہ کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 4 دہشت گرد مارے گئے، حملہ جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں کیا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں 4 اہلکار شہید ہوئے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے لانس نائک عمران علی ،سپاہی عاطف ، سپاہی انیس الرحمان، سپاہی عزیز شہید ہوئے، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے

    پاکستان کو غیر مستحکم کرنیکی سازشیں کرنیوالے ناکام رہیں گے، گورنر بلوچستان

    کراچی اسٹاک ایکسچینج حملہ،چینی سفارتخانہ بھی میدان میں آ گیا، مذمت کے ساتھ کیا بڑا اعلان

    کراچی ،دہشت گردانہ حملے میں شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ ادا

    دہشت گردی کا حملہ ناکام بنانے والے پولیس کے بہادر سپاہیوں اورمحافظوں کو وزیراعظم کا سلام

    آرمی چیف کا شمالی وزیرستان کا دورہ،دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کیلئے تیار رہنا ہوگا،آرمی چیف

    بھارتی میڈیا نے مودی حکومت کی اصلیت واضح کردی،وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان

    شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ،دو دہشت گرد جہنم واصل،ایک گرفتار

  • منفی رپورٹنگ : چین نے بی بی سی پرپابندی لگادی

    منفی رپورٹنگ : چین نے بی بی سی پرپابندی لگادی

    بیجنگ: منفی رپورٹنگ : چین نے بی بی سی پرپابندی لگادی ،اطلاعات کے مطابق چین نے اویغور مسلمانوں کے متعلق منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں برطانوی نشریاتی عالمی ادارے بی بی سی پر پابندی لگادی

    ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کی ریگولیٹری اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ چین نے بی بی سی ورلڈ نیوز کی نشریات پر پابندی لگادی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چینل نے اپنے مواد میں ملک میں رپورٹنگ کیلئے وضع کردہ رہنماء اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق چین کے نیشنل ریڈیو اور ٹیلی ویژن ایڈمنسٹریشن (این آر ٹی اے) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بی بی سی ورلڈ نیوز نے چین کے بارے میں نشریاتی قواعد و ضوابط کی ’’سنگین خلاف ورزی‘‘ کی ہے، جس میں’’خبروں کا سچا اور منصفانہ ہونا‘‘ اور ’’چین کے قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچنا‘‘ ضروری ہونا چاہئے۔

    یہ قدم بی بی سی کی 3 فروری کو نشر ہونیوالی اویغر مسلمان خواتین کے ساتھ چینی کیمپوں میں جنسی زیادتی اور تشدد سے متعلق رپورٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

    بیجنگ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ این ٹی آر اے چین میں بی بی سی کو نشریات جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیگا اور اس کی سالانہ نشریات کی درخواست کو بھی قبول نہیں کرے گا۔

    دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے چین کے اقدام پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بی بی سی دنیا کا سب سے زیادہ معتبر نشریاتی ادارہ ہے اور دنیا بھر سے ملنے والی خبروں کی منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور کسی خوب اور حمایت کے بغیر رپورٹنگ کرتا ہے

  • *اسلام آباد کے بعد کراچی میں بھی سرکاری ملازمین کے احتجاج کی تیاریاں*

    *اسلام آباد کے بعد کراچی میں بھی سرکاری ملازمین کے احتجاج کی تیاریاں*

    باغی ٹی وی کراچی: سندھ پولیس کے اہلکاروں کابھی تنخواہیں بڑھانے کیلئے احتجاج کا فیصلہ کا فیصلہ کرلیا۔

    سندھ پولیس کے اہلکاروں و دیگر نے اسکیل ا پ گریڈ نہ کرنے کیخلاف اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے ملازمین کی طرز پر احتجاج کا فیصلہ کرلیا ہے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ سپاہی، ہیڈ کانسٹیبل اور اے ایس آئی پولیس اسٹاف کا احتجاج کے حوالے سے اتفاق اور رابطے تیز کردیئے گئے ہیں جبکہ احتجاج میں وفاقی ملازمین کے طرز پر احتجاجی حکمت عملی اپنانے کا قوی امکان ہے، مشترکہ حکمت عملی کے تحت وی آئی پی ڈیوٹی کابائیکاٹ اور دیگر آپشنز پر غور ہیں۔
    واضح رہےکہ دیگر تمام صوبوں کی طرح سندھ پولیس لوئر اسٹاف کے اسکیل اپ گریڈ نہ ہونے پر احساس محرومی پایا جاتا ہے جس بنا پر عدم اعتماد کی فضاء ہے اور غم و غصہ بڑھ رہا ہے ۔
    باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس کے اہلکار احتجاج سے قبل اسلام آباد میں وفاقی ملازمین کے احتجاج کے نتیجے کا انتظار کررہے ہیں اور اسلام آباد احتجاج کا حتمی فیصلہ ہونے کے بعد سندھ پولیس کا احتجاج شروع ہونے کا امکان ہے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ملازمین کےاحتجا ج کے اطلاعات پر اعلیٰ حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے وی آئی پی ڈیوٹی چھوڑنے اور ڈیوٹی کے بائیکاٹ سے شہر میں نقص امن کا خدشہ ہوسکتا ہے۔

  • قاضی فائزعیسیٰ صاحب  آپ عمران خان کےکیسزنہ ہی سنیں توبہترہے:آپ کےریمارکس سےانتقام کی بوآتی ہے:چیف جسٹس

    قاضی فائزعیسیٰ صاحب آپ عمران خان کےکیسزنہ ہی سنیں توبہترہے:آپ کےریمارکس سےانتقام کی بوآتی ہے:چیف جسٹس

    اسلام آباد:قاضی فائزعیسیٰ صاحب آپ عمران خان کےکیسزنہ ہی سنیں توبہترہے:آپ کےریمارکس سےانتقام کی بوآتی ہے:اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے متعلق مقدمات سننے سے روک دیا۔

    تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز فراہمی کیس کے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ 5صفحات پرمشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے تحریر کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے متعلق مقدمات سننے سے روک دیا گیا۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کیخلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے، انصاف کے تقاضوں اور غیر جانبداری کے پیش نظر وہ وزیراعظم سے متعلق مقدمات نہ سنیں۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو اراکین اسمبلی فنڈز کیس میں نامعلوم ذرائع سے وٹس ایپ پر کچھ دستاویزات ملیں، انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ آیا یہ دستاویزات درست ہیں یا غلط ۔ان بے بنیاد الزامات اوربے بنیاد معلومات کی بنیاد پرجس طرح ریمارکس دیئے گئے اس سے انتقام کی بومحسوس ہوتویہ ایک جج کے شان شایان نہیں ہے

    جسٹس فائزعیسیٰ نےوٹس ایپ پرملیں دستاویزکی کاپیاں ججز،اٹارنی جنرل کودیں۔ جسٹس فائزعیسیٰ کےبقول یہ دستاویزات انہیں نامعلوم ذرائع سےوٹس ایپ پرملیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نےکہادستاویزات اصل ہیں یانہیں ،یقین سے نہیں کہہ سکتا ۔ اٹارنی جنرل نے کہا دستاویزات کےمصدقہ ہونے پر سوالیہ نشان ہیں۔ اٹارنی جنرل نےکہاجج شکایت کنندہ ہیں اورمناسب نہیں کہ خودمعاملہ سنیں۔

    چیف جسٹس نےکہا ان حالات میں فاضل جج کیلئےمناسب نہیں کہ وہ یہ معاملہ سنیں۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے بارے لئے گئے نوٹس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران وزیراعظم کے دستخط شدہ محکمہ خزانہ کا جواب پیش کیا گیا جس میں اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی خبر کی تردید کی گئی۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے وزیراعظم سے جواب مانگنے پر اعتراض کیاجس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو اعتراض آج کر رہے ہیں وہ کل کیوں نہیں کیا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی سوال کسی بھی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے،

    ۔سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا وزیر اعظم ذاتی حیثیت میں جوابدہ تھے ،وزیراعظم کو آئینی تحفظ حاصل ہے، وزیراعظم اس وقت جوابدہ ہے جب معاملہ ان سے متعلق ہو، حکومت جوابدہ ہو تو وزیراعظم سے نہیں پوچھا جاسکتا۔

  • بھارت  نے کسان تحریک کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا  مگر  کیسے سینئے مبشر لقمان کی زبانی

    بھارت نے کسان تحریک کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا مگر کیسے سینئے مبشر لقمان کی زبانی

    بھارت نے کسان تحریک کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا مگر کیسے سینئے مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی : ۔سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہےکہ مودی نے اپنی پارلیمان کے ایوان بالا سے خطاب کیا ہے ۔ اگر آپ مودی کی یہ تقریر سنیں ۔ تو آپکو معلوم ہوگا کہ وہ کافی ڈھیٹ سیاست دان ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مودی نے ایوان بالا راجیہ سبھا سے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ کسانوں کو مشتعل کیا جارہا ہے اور وہ پیسے لیکر احتجاج کر رہے ہیں۔ یعنی اسکا صاف صاف اشارہ پاکستان اور پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسوں کی جانب تھا ۔ جس کے بعد سے بھارتی میڈیا خوب واویلا کررہا ہے۔ کسانوں نے وزیر اعظم مودی کے پارلیمنٹ میں کسان تحریک کے بارے میں دیئے گئے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے کسانوں کی توہین قرار دیا ہے۔ کسان رہنما راکیش ٹیکیٹ نے کہا ہے کہ مودی کے فاشزم کا مقابلہ کرینگے۔ تحریک کو تقسیم کرنے کی کوشش ناکام بنادی ہے۔ کالے قوانین واپس لیں تو پھر سرکار سے مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سنگھو بارڈر سمیت 88مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ پنجاب ہریانہ سے خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک ہو چکی ہیں ۔ کسانوں کی تحریک میں اب ہریانہ اور یوپی کے لاکھوں ہندوجاٹ بھی شامل ہوچکے ہیں۔ وہ انتہائی پرامن اور منظم ہیں۔مگر مودی سرکار ان کے دئیے
    ’’پیغام‘‘
    کو ہر صورت کچلنے کی ضد میں مبتلا ہوگئی ہے ۔ یہاں تک کہ کسان تحریک کی رپورٹنگ کرنے والے بھی
    ’’غدار اور تخریب کار‘‘
    ٹھہرائے گئے۔ ان کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمات بھی درج ہوئے۔ گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہائی ناممکن بنادی گئی۔ ان اقدامات نے بھارتی جمہوریت کی اصلیت اور کھوکھلے پن کو بے نقاب کردیا ہے۔ بھارت اپنے نام نہاد Soft Imageکی بہت ذہانت اور مہارت سے مارکیٹنگ کرتا رہا ہے۔ دراصل مودی سرکار کو اطمینان تھا کہ وباء کے تدارک کے لئے ویکسین کی وسیع پیمانے پر تیاری کے حوالے سے وہ بالآخر صف اوّل کا ملک قرار پائے گا۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کی بدولت تیار ہوئی ویکسین اس کے دواساز اداروں نے
    Testing
    کا عمل مکمل ہونے سے کئی ماہ قبل ہی لاکھوں کی تعداد میں بنانا شروع کردی تھی۔ اسے صحت کے عالمی اداروں نے مؤثر قرار دیا تو بھارت نے کئی ممالک کو یہ دوا
    ’’خیرات‘‘
    کے طورپر فراہم کرنا شروع کردی۔ ایسا کرتے ہوئے اسے گماں تھا کہ کرونا سے گھبرائی دُنیا میں اس کی واہ واہ ہوجائے گی۔ وہ اپنے
    Soft Image
    کے حوالے سے بلند تر مقام پر پہنچ جائے گا۔ پر ریحانہ سے لے کر میا خلیفہ تک سب نے لگاتار ٹویٹس کرکے بھارت کی ایسی منجی ٹھوکی ہوئی ہے کہ مودی کو نانی یاد آگئی ہے ۔ میا خلیفہ نے تو اب کسانوں کی حمایت میں نہ بولنے پر بولی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے ۔
    طنز کرتے ہوئے انھوں ٹویٹ کی ہے کہ کیا
    Mrs Jonas
    کچھ بولنے والی ہیں؟ اس حوالے سے میں بڑی متجسس ہوں، مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے کہ جیسے بیروت کی تباہی کے دوران شکیرا کو خاموش دیکھ کر لگ رہا تھا ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جھوٹ فریب اور مکاری اور تعصب تو بھارتی حکمرانوں کی گھٹی میں پڑی ہے۔ اسی بنیاد پر کسانوں کے احتجاج سے تنگ مودی حکومت نے ٹوئٹر کو
    12
    سو سے زائد اکاونٹس بند کرنے کا پھر نیا حکم دیدیا ہے ۔ مودی سرکار نے اس شبہ کا اظہار کیا ہے کہ اکاونٹس خالصتان کے حامیوں کے یا پاکستانی حمایت یافتہ ہیں، جو چند ماہ سے بھارتی کسانوں کی احتجاجی تحریک کو ہوا دے رہے ہیں۔

    پاکستان کو ظالم ثابت کرنے اور اس کے خلاف عالمی رائے عامہ کو گمراہ اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے بھارت کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔گھٹیا سے گھٹیاحرکت بھی کر سکتا ہے۔ بھارتی کسانوں کے احتجاج پر بھی بی جے پی سرکار نے ٹوئٹر سے کہہ کر
    257
    اکانٹس بند کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس ٹویٹر نے اس نوٹس پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے نئی دہلی حکومت ٹوئٹر سے پہلے سے ہی ناراض ہے۔

    نئے نوٹس کے جواب میں ٹوئٹر انتظامیہ نے اکانٹس کو بلاک کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ جو مبینہ طور پر خالصتان کے حامیوں کے ہیں یا جو بیرونی ملکوں سے پاکستان کی حمایت سے چلائے جارہے ہیں اور جن کا کسانوں کی احتجاجی تحریک کو ہوا دینے کے لیے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ میرے خیال سے ٹویٹر کو بھی اس حوالے سے پوری تصویر اور اسٹوری دیکھنی چاہیے ۔ پھر ہی کوئی کاروائی کرنی چاہیے ۔

    کیونکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت گلگت بلتستان میں مقبوضہ کشمیر جیسے حالات پیدا کرنے کیلئے سازشیں کررہا ہے۔ایک ٹولہ گلگت بلتستان لوگوں کو پاکستان کیخلاف اکسا رہاہے۔ بھارت کے تمام مہرے ایک ایک کر کے بے نقاب ہورہے ہیں اور پاکستان مخالف پراپیگنڈہ مہم کے کردار خود ہی سامنے آرہے ہیں ۔ اس سلسلے میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان مہدی شاہ کے انکشافات کو ٹویٹر کو پہلے دیکھ لینا چاہیے کہ کیسے مہدی شاہ کو بھارت کی پراکسیز پاکستان مخالف بیانیے کیلئے استعمال کر رہی تھیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے اور میرے جیسے بہت سے نوجوانوں کو پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف اکسایا اور مالی معاونت کے لالچ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ میں ہیومن رائٹس سیشن کے دوران مجھے پاکستانی فوج کے خلاف بولنے کا سکرپٹ دیا گیا۔ سید حیدر شاہ رضوی (مرحوم) کے بیٹے مہدی شاہ رضوی نے یہ بھی بتایا کہ انٹرنیشنل فورمز اور مافیاز نے ان کے والد کو گمراہ کر کے پاکستان مخالف بیانیے پر مجبور کیا۔ میری اٹلی سے جاری شدہ ویڈیوز میں فوج اور اداروں کے خلاف تمام سکرپٹ لکھ کر دیا گیا اور پھر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔ مجھے اقوامِ متحدہ میں نمائندگی کا لالچ دیا گیا اور کہا گیا کہ میری بھارت میں مودی سے ملاقات بھی کروائی جائے گی۔ مجھے پاکستان کے خلاف آن لائن کانفرنسیں بھی اٹینڈکرائی گئیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتے۔ اسی لئے بھارت کو یہاں غدار نہیں مل رہے۔

    ۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت کے جھوٹے اور بے بنیاد پراپیگنڈا کا سدباب کرنے کیلئے پاکستان کو پوری قوت اور سفارتکاری کو فعال کرکے دنیا کے سامنے حقائق رکھ کر کرنا ہوگا۔ بھارتی دعوئوں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرنا ہوگا۔ ایسے دعوے اور نعرے کسی صورت اسٹیبلش نہیں ہونے دینے چاہئیں۔

  • پی ڈی ایم کےدرمیان اختلافات شدید ہوگئے،مولاناسےہاتھ ہوگیا یہ مولاناہاتھ کرگئے:اہم خبرآگئی

    پی ڈی ایم کےدرمیان اختلافات شدید ہوگئے،مولاناسےہاتھ ہوگیا یہ مولاناہاتھ کرگئے:اہم خبرآگئی

    اسلام آباد: پی ڈی ایم کے درمیان اختلافات شدید ہوگئے،مولانا سے ہاتھ ہوگیا یہ مولانا ہاتھ کرگئے:اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد سینیٹ انتخابات کے لیے نشستوں کی تقسیم کا فارمولا طے کرنے میں ناکام ہوگیا۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق سینیٹ الیکشن میں مشترکہ امیدوار لانے کیلئے جمعیت علماء اسلام ف ، پاکستان پیپلزپارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مشترکہ امیدواروں کا فیصلہ تاحال نہ ہوسکا ، جس کے بعد جے یو آئی ف نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا سے سینیٹ الیکشن کے لیے 4 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جائیں گے۔

    بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم کے گزشتہ سربراہی اجلاس میں سینیٹ الیکشن میں مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ گیا تھا تاہم اب جب کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے تو پی ڈی ایم اب تک سینیٹ الیکشن کیلئے نشستوں کی تقسیم کا فارمولا طے کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے .

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کی زیادہ جماعتوں کے ممبران اسمبلی ہیں ، جے یو آئی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی سے اپنے امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے شکوہ بھی کیا ہے کہ انہوں نے اپنےدیگراپوزیشن ساتھیوں کے لیے بڑی قربانی دی ہے مگراب ان کے لیے کوئی قربانی دینے کے لیے تیارنہیں

    دوسری طرف ن لیگ کی طرف سے بھی مولانا کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا یہی کہا جارہا ہے کہ الیکشن کےبعد پی ڈی ایم کے ٹوٹ جانے کا بڑا قوی امکان ہے

  • "می ٹو”عرب دنیا میں جنسی ہراسگی:طاقتوروں کی ٹانگیں کانپنےلگیں‌،حکومتیں گرسکتی ہیں،نظام بدل سکتے ہیں

    "می ٹو”عرب دنیا میں جنسی ہراسگی:طاقتوروں کی ٹانگیں کانپنےلگیں‌،حکومتیں گرسکتی ہیں،نظام بدل سکتے ہیں

    "می ٹو”عرب ممالک میں جنسی ہراسگی :بڑوں بڑوں کی ٹانگیں کانپنے لگیں‌، کسی بھی وقت لاوا پھٹ سکتا ہےایک بڑے عرب ملک میں رواں ماہ فروری کے آغاز میں ایک فیشن بلاگر کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے متعلق ویڈیو منظرعام آنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں ایک طرز کا زلزلہ آنے والا ہے جس کی لپیٹ میں کون بڑے بڑے لوگ آتے ہیں یہ چند دنوں کے بعد معلوم ہوہی جائے گا ۔

    کویت میں بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی می ٹو مہم نے نہ صرف خلیجی ملک بلکہ دیگر عرب ممالک کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ دیگر مشرق وسطی ممالک میں بھی مہم شروع ہوگی۔

    یاد رہے کہ کویت میں می ٹو مہم اس وقت شروع ہوئی جب کہ گزشتہ ہفتے امریکی نژاد کویتی فیشن و بیوٹی بلاگر آسیا ال فرج نے انسٹاگرام پر ایک مختصر ویڈیو شیئر کی۔

    امریکی نژاد کویتی فیشن و بیوٹی بلاگر آسیا ال فرج نے 5 فروری کو دو سے زائد منٹس کے دورانیے کی ویڈیو میں کویت میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملے پر کھل کر بات کی۔

    امریکی نژاد کویتی فیشن و بیوٹی بلاگر آسیا ال فرج نے انگریزی میں شیئر کی گئی ویڈیو میں الزام عائد کیا کہ کویت کی ہر گلی میں ان سمیت دیگر خواتین کو جنسی طور پر زبانی و جسمانی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے پر خواتین کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بات کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ واقعات کو سامنے لایا جائے۔

    اکثرتجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ آسیا ال فجر نے اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی نامناسب واقعے کا ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے مجموعی طور پر بتایا کہ کویت میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا رواج موجود ہے۔

    ان کے مطابق کویت میں نہ صرف مقامی بلکہ یہاں پر روزگار کے لیے موجود دیگر ممالک کی خواتین کو بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ فیشن و بیوٹی بلاگر کے مطابق کویت میں موجود پاکستانی، بھارتی اور فلپائنی خواتین سمیت دیگر ممالک کو بھی جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ روزگار کی خاطر یہ سب برداشت کرتی ہیں۔

     

    https://www.facebook.com/nadine.mazloum.3/posts/10155943074528313

     

     

    معاملہ صرف یہاں ہی نہیں رکا بلکہ آسیا ال فجر کی کی جانب سے جنسی ہراساں کے معاملے پر بات کیے جانے کے بعد بیرو ممالک سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرکے حال ہی میں وطن لوٹنے والی 27 سالہ شائمہ شیمو نے لن اسکت (Lan Asket) نامی ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا اور انہوں نے کویت بھر کی خواتین کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی داستان سنانے کی اپیل کی۔

    اس انسٹآ گرام اکاونٹ کے نام نے ہی عرب دنیا میں ہلچل مچارکھی ہے ، دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عرب شہزادے اس آوازکودبانے کے لیے گہری سازشوں میں مصروف ہیں‌

    شائمہ شیمو کی جانب سے بنائے گئے اکاؤنٹ میں ایک گوگل فارم بھی دیا گیا، جس میں ہراسانی کا شکار ہونے والے مرد و خواتین کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی تفصیلات بھجوانے کی اپیل کی گئی۔ عربی لفظ لن اسکت (Lan Asket) کا مطلب اب میں خاموش نہیں رہوں گی ہے اور اسی نام سے انسٹاگرام اکاؤنٹ بنائے جانے کے بعد کئی اہم شخصیات اور عام کویتی صارفین نے بھی اسی ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے ہراسانی کے واقعات پر بات کی۔

    سوشل میڈیا اورانسٹاگرام کی دنیا میں جہاں عام افراد نے بھی ’لن اسکت‘ (Lan Asket) کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کیے جانے کے مسائل پر بات کی، وہیں اس پر کویت میں موجود امریکا سمیت دیگر غیر ملکی سفارت خانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی اس مسئلے پر بات کی گئی۔

    کویت میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے حوالے سے انسٹاگرام پر لن اسکت (Lan Asket) اکاؤنٹ بنانے والی شائمہ شیمو کا کہنا تھا کہ عام طور پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کو ان کے لباس اور طرز زندگی سے جوڑا جاتا ہے۔ ان کے مطابق جب بھی کسی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے تو ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو ڈھانپے اور اپنا طرز زندگی تبدیل کرے تو ہراسانی سے بچ سکیں گی۔

    شائمہ شیمو کا کہنا تھا کہ کویت میں جنسی ہراسانی کا شکار بننے والی خواتین کے لیے شرم کا مسئلہ بھی ہے، انہیں لگتا ہے کہ جب وہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو بیان کریں گی تو نہ صرف ان کی عزت بلکہ ان کے خاندان کی عزت بھی خراب ہوگی۔

    شائمہ شیمو کہتی ہیں کہ شرمندگی اور معاشرے میں شرمسار کیے جانے والے رویوں کی وجہ سے ہی کئی خواتین اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو بیان نہیں کرتیں اور نہ ہی شرم کے مارے پولیس تھانے جاکر رپورٹ کرتی ہیں۔

    عرب ممالک میں می ٹو کے حوالے سے پائے جانے والے حقائق کس قدرخطرناک ہیں کہ ہیومن رائٹس واچ کی سینیئر ریسرچ روتھنا بیگم کا کہنا تھا کہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا منظم سلسلہ نہ صرف کویت بلکہ دیگر مشرق وسطی ممالک میں جاری ہے۔

    روتھنا ییگم کہتی ہیں کہ خواتین کو ان کے لباس اور طرز زندگی سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے ہراسانی کا نشانہ بنانے والے افراد کو سخت سزائیں دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ فیشن بلاگر کی جانب سے جنسی ہراسانی کے واقعات پر بات کیے جانے اور ایک ڈاکٹر کی جانب سے ایسے واقعات کو سامنے لانے کے لیے سوشل میڈیا اکاوٌنٹ بنائے جانے کے بعد عام نوجوان کویتی خواتین بھی اسی معاملے پر بات کرتی دکھائی دیں۔

    یہ نہیں کہ می ٹو کا شکارعام خواتین ہیں بلکہ طالبات کو بھی معاف نہیں کیا گیا یہی منظرایک طالبہ بیان کرتی ہیں اس طالبہ نے سلسلہ وار ویڈیوز میں بھی کویت میں خواتین کو زبانی، ذہنی و جسمانی ہراسانی کا نشانہ بانئے جانے کے واقعات پر بات کی اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایسے واقعات پر خاموشی ختم کی جائے۔

    صرف یہ ہی نہیں کہ یہ چند خواتین کا معاملہ ہے یا کسی دوسرے کو ان جرائم کا علم نہیں بلکہ اگردیکھا جائے تو یہ جان کرحیرانی ہوتی ہے کہ دنیا ساری جانتی ہے کہ عرب دنیا میں می ٹوکی شکارہونے والی خواتین کی تعداد سیکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے ، اس حوالے سے مختف ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز، ٹی وی چینلز، اخبارات و ویب سائٹس سمیت سوشل میڈیا پر متحرک افراد کی جانب سے بھی جنسی ہراسانی کے معاملات پر بات کی گئی۔

    خیال رہے کہ می ٹو مہم کا سب سے پہلے آغاز اکتوبر 2017 میں امریکا سے ہوا تھا، جس کے تحت ہولی وڈ انڈسٹری کی درجنوں خواتین نے فلم ساز ہاروی وائنسٹن پر جنسی ہراسانی اور ریپ کے الزامات عائد کیے تھے۔

    می ٹو مہم کا مقصد خواتین کی جانب سے خود کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سمیت اپنے ساتھ ہونے والے نسلی و صنفی تعصب کے واقعات کو سامنے لانا ہے۔ امریکا کے بعد می ٹو مہم 2017 کے اختتام تک یورپ اور دیگر امریکی ممالک میں بھی شروع ہوئی تھی اور 2018 کے آغاز میں ہی اس مہم کا آغاز متعدد ایشیائی ممالک میں ہوا۔

    پاکستان اور بھارت میں بھی 2018 میں ہی می ٹو مہم کا آغاز ہوا جب کہ مصر و ترکی سمیت دیگر مشرق وسطی ممالک کی خواتین بھی اسی مہم کے تحت اپنے ساتھ ہونے والے واقعات سامنے لائیں، تاہم اب کویت میں بھی اس مہم کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔

    پاکستان اورایسے دیگرملکوں میں تومیڈیا اورسماجی ادارے ایسے جرائم کا نوٹس لیتے ہیں اورکچھ نہ کچھ اس مہم کے مثبت اثرات ضرور نکلتے ہیں لیکن عرب دنیا جہاں میڈیا کو لگام ڈالی گئی ہے اورعرب دنیا کے مالدار اورطاقتورافراد می ٹو کی شکارہونے والی خواتین کی آوازکوبلند ہونے سے پہلے دبا دیتے ہیں اوراگردنیا نے اس بات کا نوٹس لے لیا تو پھرسمجھ لیئجیے کہ عرب دنیا میں ایسا انقلاب آسکتا ہے کہ جوبڑے بڑے طاقتوروں کوبہا کرلے جاسکتا ہے اوراس بات کا امکان بھی ہے

  • بھارتی جھوٹے اورمکار:ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ؛ نیپال نے بھارتی کوہ پیماؤں پر پابندی لگادی

    بھارتی جھوٹے اورمکار:ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ؛ نیپال نے بھارتی کوہ پیماؤں پر پابندی لگادی

    کھٹمنڈو:بھارتی جھوٹے اورمکار:ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ؛ نیپال نے بھارتی کوہ پیماؤں پر پابندی لگادی ،اطلاعات کے مطابق دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر نیپال نے 3 بھارتی کوہ پیماؤں پر 6 سال کےلیے پابندی عائد کردی۔

     

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیپال کے محکمہ سیاحت نے 3 بھارتی کوہ پیماؤں پر 6 سال کے لیے پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں 2016 میں دیے گئے سرٹیفیکٹ بھی واپس لے لیے ہیں۔

    خیال رہے بھارتی کوہ پیما نریندر سنگھ یادیو اور سیما رانی گوسوامی نے 2016 میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس حوالے سے نیپال کے محکمہ صحت نے اس وقت انہیں باقائدہ سرٹیفیکٹ بھی جاری کیے تھے۔

     

     

    ان کوہ پیماؤں کی حقیقت اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ سال بھارتی حکومت کی جانب سے نریند سنگھ یادیو کو کھیلوں کے سب سے بڑے بھارتی اعزاز ’’نیشنل ایڈونچر ایوارڈ‘‘ دینے کا فیصلہ کیا گیا جس پر ان کے اپنے ہم وطن کوہ پیما اور بھارتی چینل نے یادیو کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے دعویٰ کو غلط قرار دیا اور بعد ازاں انکوائری میں معلوم ہوا کہ وہ تصاویر جعلی ہیں جس پر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

     

     

     

    نیپال کے محکمہ سیاحت کے ترجمان تارہ نات ادیکاری نے ایک انٹریو میں کہا کہ ان کوہ پیماؤں کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی انکوائری سے معلوم ہوا کہ ان دونوں نے کبھی چوٹی سر نہیں کی اور وہ اس کا کوئی واضح ثبوت بھی پیش نہیں کرسکے لہذا ان دونوں کوہ پیما اور ان کے ٹیم کے سربراہ نباکمار پھوکون پر نیپال میں 6 سال کے لیے پابندی عائد کردی ہے اور دونوں کوہ پیماؤں کو دیے گئے سرٹیفیکٹ بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے 2016 میں بھی نیپال نے بھارتیوں کی طرف سے چوٹی سرکرنے کے جھوٹے دعوں کومسترد کردیا تھا ، جس کے بعد بھارتی پولیس نے دواعلیٰ افسران کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا

  • حکومت اور تحریک لبیک کے مابین معاہدہ،احتجاج ملتوی

    حکومت اور تحریک لبیک کے مابین معاہدہ،احتجاج ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کاتحریک لبیک کےساتھ معاہدہ طے پاگیا

    حکومتی ٹیم کی تحریک لبیک کے ساتھ بات چیت جاری ہے،تحریک لبیک نے رواں ماہ احتجاج کوملتوی کردیا،تحریک لبیک نےاحتجاج 20 اپریل تک ملتوی کیا،

    https://twitter.com/team_Nshah_2/status/1359803587694628865

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک سےمعاہدہ ہوا،ان کےمطالبات کوپارلیمنٹ میں رکھیں گے،فورتھ شیڈول میں شامل تحریک لبیک کےافرادکےنام نکال دیئےجائیں گے،معاہدے کی شقوں کو 20 اپریل 2021 تک پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا.

    معاہدے پر وزیرداخلہ شیخ رشید احمد،وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کے دستخط ہیں جبکہ لبیک کی جانب سے ڈاکٹر محمد شفیق امینی کے دستخط ہیں

    فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے فیض آباد میں دھرنا دیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پایا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالا جائے گا

    علامہ خادم رضوی وفات پا گئے، انکے بیٹے تحریک لبیک کے امیر بن گئے، حکومت نے ابھی تک فرانس کے سفیر کو نہیں نکالا، اور نہ ہی فرانس سے تعلقات ختم کئے ہیں، اب تحریک لبیک کے موجودہ سربراہ نے علامہ حکومت کو 16 فروری کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے

    علامہ خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت کے عنوان پر مسلمان قوم میں بیداری پیدا کی،مولانا معاویہ اعظم طارق

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

    فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

    علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    تحریک لبیک کے نومتنخب امیر،خادم رضوی کے بیٹے کا کارکنان کے نام اہم پیغام آ‌گیا

    ہماری جان سعد رضوی، ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ،تحریک لبیک کارکنان کا سیاسی جماعتوں کو چیلنج

    #اقتدارچھوڑو_یا_سفیرنکالو…ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

  • پاکستان کا کروز میزائل بابر ون اے کا کامیاب تجربہ:بھارت پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    پاکستان کا کروز میزائل بابر ون اے کا کامیاب تجربہ:بھارت پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    راولپنڈی:پاکستان کا کروز میزائل بابر ون اے کا کامیاب تجربہ:بس ایک میزائل سے سارا بھارت نشانے پر،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کروز میزائل بابر ون اے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو زمین اور سمندر میں اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، کروز میزائل کی رینج 450 کلومیٹر ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کروز میزائل ملٹی ٹیوب لانچ وہیکل سے فائر کیا گیا۔اس میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد بھارت پرخوف کے سائے منڈلانے لگے ہیں اوراس وقت بھارتی میڈیا پرکہرام مچا ہوا ہے

    بابرون اے میزائل کی زد میں آدھے سے زائد بھارت نشانے پرہے ، یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارت اپنی افواج کو پاکستانی میزائل کے خوف سے نکالنے کے لیے اگلے چند گھنٹوں میں کوئی میزائل تجربہ کرسکتا ہے کہ تاکہ اس کی افواج سکتے سے باہر آسکیں