باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری احتجاج اور مطالبات کے حوالہ سے رات گئے حکومتی کمیٹی سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے
آل گورنمنٹ ایمپلائز الائنس کے رہنماؤں نے حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد کہا ہے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے، آج ڈھائی بجے تک نوٹیفکیشن جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ آئندہ بجٹ تک گریڈ ایک سے بائیس تک تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا گیا، باقاعدہ اعلان آج ہوگا۔
مزدور رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو آج دوبارہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کریں گے، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ساتھیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے، جس کا خیر مقدم کرتے ہیں، پی ڈی ایم سے گزارش ہے کہ معاملہ کو سیاسی نہ بنائیں۔
واضح رہے اسلام آباد کی شاہراہ دستور گزشتہ روز میدان جنگ بنی رہی، صبح سویرے ہی مطالبات کے حق میں احتجاج کے لیے وفاقی ملازمین نے کام چھوڑا اور ڈی چوک پہنچ گئے۔ پولیس نے ملازمین کو گرفتار کیا تو پتھراؤ شرو ع کر دیا گیا۔ پولیس کی جوابی شیلنگ سے ایک سرکاری ملازم زخمی جبکہ میڈیا ورکرز سمیت کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی۔
مشتعل ملازمین نے وزیر اطلاعات شبلی فراز کی گاڑی بھی روک لی، احتجاج کے باعث پاک سیکرٹریٹ کے دروازے بند کر دیئے گئے جو مغرب کے بعد کھولے گئے۔ احتجاج کے باعث اسلام آباد کی کئی شاہراوں پر دن بھر شدید ٹریفک جام رہا جس سے شہریوں سخت مشکلات کا سامنا رہا۔
وفاقی سرکاری ملازمین کا دھرنا ناکام بنانے کے لئے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے تھانہ سیکریٹریٹ پولیس نے دھرنے کے 7 قائدین حراست میں لے لیا گرفتار افراد میں چیف آرگنائزر آل پاکستان ایمپلائز گرینڈ الائنس رحمان باجوہ شامل ہیں
ملازمین کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے ہم ڈرنے والے نہیں ، ہم اپنا حق لے کر جاہیں گے ،تمام گرفتار ملازمین کو فوراً رہا کیا جائے اور ملازمین کا حق انکو دیا جائے۔ اگر ملازمین لیڈران کو فل فور کو رہا نہ کیا گیا تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہو گی ۔ ملازمین کی رہائی تک تما م صوبائی ملازمین اپنے اپنے علاقوں میں دھرنا دیں ۔ملازمین کا حق دینے کے بجاے انکو زدو گوپ کیا جا رہا ہے ۔
کراچی: اخباری ملازمین کے زیر سماعت مقدمات کا جلد فیصلہ کیا جائے اور اخبارات سمیت الیکٹرانک میڈیا سے جبری برطرفیوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ کراچی میں قائم آئی ٹی این ای کورٹ میں مستقل جج تعینات کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار جنگ گروپ سے وابستہ روزنامہ عوام، دی نیوز اور ڈیلی نیوز سے جبری برطرف کئے گئے کارکنوں کے احتجاجی کیمپ اور علامتی بھوک ہڑتال کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تمام صحافتی تنظیموں کے نمائندوں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عمائدین شہر نے کیا۔ احتجاجی کیمپ میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی،کراچی پریس کلب کے سابق صدر امتیاز خان فاران، احمد خان ملک، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر جاوید قریشی، کے یو جے کے صدر حسن عباس، جنرل سیکریٹری عاجز جمالی، کے یو جے دستور کے جنرل سیکریٹری محمد عارف خان، کے یو جے برنا کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی، پاکستان فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبدالوسیع قریشی، ایڈیٹر روزنامہ عوام نشید اللہ خان آفاقی، تحریک جانثاران پاکستان کے بانی وچیئرمین پیر قیصر شفیع اللہ، کراچی ڈویژن کے صدر نثار اعوان، سنی تحریک کے مرکزی رہنما فہیم الدین شیخ، طیب قادری، بوہری کمیونٹی کے رہنما ذوہیب طاہر، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ناصر رضوان، پیرنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ندیم منور، جے یو پی کے نوید نورانی، سماجی رہنما سعید صابری اور سینکڑوں افراد نے اظہار یکجہتی کیا۔ مقررین نے کہا کہ اخباری کارکنوں کا اتحاد تھا، اتحاد ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اخباری ومیڈیا مالکان غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرکے اخباری کارکنوں کے اتحاد کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ مقررین نے کہا کہ جب کارکنان مالکان کے لئے جدوجہد کرسکتے ہیں تو وہ اپنے حق کے حصول کے لئے کیسے پیچھے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق کے لئے ہر طرح ہر فورم پر ہر ہر اس جگہ احتجاج کریں گے جہاں سے ہمیں انصاف ملنے کی توقع ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ حکومت فوری طور پر ڈمی اخبارات کی ڈکلیریشن منسوخ کرے اور روزانہ عوام کا ڈکلیریشن کارکنوں کے حوالے کیا جائے تاکہ کارکن نئے سرے سے اخبارات کا اجراء کرکے برطرف کارکنوں کو روزگار فراہم کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاجی سلسلہ صرف عوام، دی نیوز اور ڈیلی نیوز کے برطرف کارکنوں کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آئی ٹی این ای کی کورٹ کراچی میں مستقل جج کی تعیناتی تک جاری رہے گا۔ مقررین نے کہا کہ ایک بیروزگار کارکن کس طرح اسلام آباد جائے، اخراجات برداشت کریگا۔ مقررین نے کہا کہ دیگر وفاقی عدالتوں کی طرح کراچی میں آئی ٹی این ای کا مستقل جج تعینات کیا جائے۔ عوام، دی نیوز اور ڈیلی نیوز کے کے کارکنوں کی احتجاجی تحریک کے رہنمائوں نے کہا کہ جنگ گروپ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بجائے عدالت میں اپنا مؤقف اور گواہی پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق جنگ، دی نیوز اور ڈیلی نیوز کے کارکنوں کے 7 ویں ویج ایوارڈ کے تحت واجبات فوری ادا کئے جائیں اور عدالتی کارروائی سے راہ فرار اختیار نہ کی جائے۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ 17 مارچ کو کراچی میں آئی ٹی این ای کی عدالت ان مقدمات کی سماعت کرے گی، اس وقت تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پہلا احتجاج آئی ٹی این ای کورٹ کے سامنے ہوا۔ دوسرا آج کراچی پریس کلب پر، تیسرا احتجاج گورنر ہائوس کے سامنے ہوگا، چوتھا احتجاج سندھ اسمبلی بلڈنگ کے سامنے اور پانچواں احتجاج 17 مارچ سے قبل آئی آئی چندریگر روڈ پر جنگ بلڈنگ کے سامنے ہوگا اور بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا جائے گا۔ اس موقع پر اخباری کارکنان کے مسائل کے حل اور جبری برطرفیوں کی روک تھام کے لئے ازسر نو ایکشن کمیٹی قائم کرکے اخباری کارکنوں کی ملازمت کا تحفظ اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرانے کے لئے جلد عدالتی کارروائی کی جائے گی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے ماطقب حکمران جماعت تحریک انصاف کو سینیٹ الیکشن سے پہلے بڑا جھٹکا لگا ہے کیونکہ مظفر گڑھ سے رکن پنجاب اسمبلی سردار خرم لغاری نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سردار خرم لغاری نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ آزاد حیثیت میں جیت کر پی ٹی آئی میں شامل ہوا تھا، جب عوام کے مسائل ہی حل نہیں ہونے تو اس کیساتھ رہنے کا کیا فائدہ؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں ہی نہیں میرے ساتھ پانچ اور ارکان اسمبلی بھی پارٹی چھوڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ متعدد بار حلقے کے ایشوز پر آواز اٹھائی، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ عمران خان نے یوتھ کا نعرہ لگایا مگر بعد میں اس کو چھوڑ دیا۔ عمران خان سے ایک ہی سوال ہے آج یوتھ کہاں ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج عمران خان کے ٹائیگرز کہاں ہیں؟ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
خیال رہے کہ سردار خرم لغاری پی پی 275 سے عام انتخابات میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ باضابطہ پریس کانفرنس میں پارٹی چھوڑنے کی وجوہات کا اعلان کریں گے۔
سردار خرم لغاری نے چند ماہ قبل چیئرمین ٹاسک فورس برائے پرائس کنٹرول کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔ سردارخرم لغاری اپنےحلقےمیں کام نہ ہونےکی وجہ سےناراض تھے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ 45 سالہ شیر دل پاکستانی، اپنی آنکھوں میں دنیا کی خوفناک اور دوسری بلند ترین چوٹی K2 کو سردیوں میں پہلی دفعہ سر کرنے کا خواب سجائے بیٹھا تھا۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود۔۔وہ دنیا کو کچھ مختلف کر کےدیکھانے کا عزم رکھتا تھا۔یہ مشن اتنا خطرناک تھا کہ دنیا میں آٹھ ہزار میٹر کی کل چودہ پہاڑیوں میں سے صرف یہی چوٹی سردیوں میں سر کرنے والی رہ گئی تھی اور کسی کی جرآت نہیں ہوتی تھی۔ جبکہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ 38 سال پہلے سردیوں میں سر ہو چکی تھی۔ یہ شخص جو سکردو کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور اپنے بزرگوں کو پہاڑوں پر چیتے کی طرح چڑھتے دیکھتا آ رہا تھا۔ اپنی غربت کو پس پشت ڈال کر ستاروں پر کمند ڈالنے کا ارادہ کر چکا تھا۔اس نے اپنے مالی حالات اور حکومتی بے حسی کو کبھی بھی اپنے عزم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ سر کر چکا تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس نے دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی ناگا پربت سب سے پہلے سردیوں میں سر کرنے کا ریکارڈ بنایا، وہ پہلا پاکستانی تھا جس نے ماونٹ ایورسٹ سردیوں میں سر کی۔ یہ پاکستانی جو دوہزار چار میں کے ٹو کو پہلی دفعہ سر کرنے کے بعد اسے اپنے کھیت کی مولی سمجھتا تھا اور بحثیت Porter کئی گنا زیادہ وزن کے ساتھ چلتا تھا کو اپنی مہم سے سات دن پہلے پتا چلا کہ اس کے گھر میں آکر نیپالی کوہ پیما سردیوں میں پہلی دفعہ K2 کو سر کرنے کا اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔ جس نے اس کے عزم کو اور مضبوط کر دیا اور اس پاکستانی شیر نے 23 جنوری کو بغیر آکسیجن کے سردیوں مین کے ٹو سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا۔ تاکہ ایک نیا عالمی ریکارڈ بنا سکے۔ لیکن دو دن بعد موسم نے اسے یہ کارنامہ سر انجام دینے کی اجازت نہ دی اور اسے چھ ہزار آٹھ سو میٹر کی بلندہ سے واپس آنا پڑا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کوہ پیمائی میں آٹھ ہزار میٹر پر آکسیجن کی کیا اہمیت ہے اس کے بارے میں حیران کن معلومات میں آگے جا کر دوں گا۔ اس شیر دل پاکستانی نے تہیہ کر رکھا تھا کہ ایک ماہ کے اندر اندر اس نے یہ عالمی ریکارڈ اپنے نام کرنا ہے اس لیئے دو فروری کو اس کی ٹویٹ آئی کے کل صبح یعنی تین جنوری کو صبح چار بجے ہم اپنی مہم کا آغاز کریں گے۔ اس کا نوجوان بیٹا اس کے ساتھ تھا جو آکسیجن کے ساتھ اس چوٹی کو سردیوں میں سر کرنے کا ریکارڈ بنانے جا رہا تھا۔ کیونکہ وہ نوجوان ترین کوہ پیما تھا کسی نے اس عمر میں یہ کارنامہ سر انجام نہیں دیا ۔ لیکن سات ہزار چار سو میٹر کی بلندی پر اس کا Oxygen regulater خراب ہو گیا اور اسے واپس آنا پرا۔پانچ فروری بروز جمعہ رات بارہ بجے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا جو چودہ گھنٹے میں تقریبا دو بجے اس نے K2
کی چوٹی پر پہنچنا تھا۔ لیکن 7823 میٹر کی بلندی پر جا کر سوا سات بجے اس کی Tracking device بند ہو گئی۔ اور اس کے بعد قوم کے اس سپوٹ کا کچھ پتا نہیں ۔ اپنی لوکیشن بتانے کے لیئے وہ ہر گھنٹے بعد Tracking device کو آن کر کے اپنی لوکیشن سیٹلائٹ کو دے دیتے تھے لیکن اس کے بعد ان کی لوکیشن کا کوئی ٹریک نہیں ملا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری اس تمہید سے آپ جان گئے ہوں گے کہ میں قوم کے کس سپوت کی بات کر رہا ہوں۔ جی ہاں محمد علی سدپارہ ہر کوئی محمد علی سدپارہ کا ذکر کر رہا ہے، ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ برفانی پہاڑوں کا چیتا،K2 کی خوفناک چٹانوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ہے؟ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے کانوں کو سننے کو ملے کہ محمد علی سدپارہ نے ایک اور عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے اور کے ٹو کے ڈیتھ زون کہلائے جانے والے بوٹل نیک کے علاقے میں اسی گھنٹے سے زیادہ survive کر گیا ہے جہاں کسی کا بیس گھنٹے سے زیادہ سروائیو کرنا مشکل ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد علی سد پارہ کا بیٹا جو اس مہم میں ساتھ تھا اور اکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے کے بعد واپس آگیا تھا اس کا کہنا ہے کہ اب ڈیڈ باڈی ڈھونڈنے کے لیئے ریسکیوں آپریشن جاری رکھنا چاہیے Sot ایک بیٹا جو خود کے ٹو سر کر چکا ہے اپنے باپ کی لاش ملے بغیر ایسا کیوں کہا رہا ہے اگر آپ انتہائی بلندی اور سرد برفانی طوفان سے خوفزدہ نہیں ہوتےتو آپ نے ہالی وڈ کی مشہور فلم Everest ضرور دیکھی ہو گی۔جو انیس سو چھیانوے میں ماونٹ ایورسٹ پر ہونے والے ایک خوفناک تباہی کے بارے میں ہے۔ Andy heris جو اس مہم کا گائیڈ تھا جس میں کوہ پیماوں کا ایک گروپ دنیا کی سب سے بڑی چوٹی ماونٹ ایورسٹ کو سر کرنے جا رہا تھا۔ کوہ پیماوں کی وہ ٹیم کئی ہزار میٹر کی بلندی پر ایک برفانی طوفان میں پھنس گئی ایسی صورت میں دو قسم کے چیلنچز کا سامنا ہوتا ہے ایک انسان کئی سو کلو میٹر کی سپیڈ سے ہوا میں برف باری کا سامنا کر رہا ہوتا ہے دوسری طرف وہ Hypoxia کا شکار ہو جاتا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہائی پوکسیا وہ کیفیت ہے جس میں انسان کا دماغ کافی دیرکم آکسیجن ملنےکی وجہ سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، یا یوں کہہ لیں وقتی طور پر دماغی توازن یعنی بیلنس کھو دیتا ہے۔ اسے چیزیں بھولنا شروع ہو جاتی ہیں اس کے پاس آکسیجن ہونے کے باوجود اسے لگتا ہے کہ آکسیجن ختم ہو گئی ہے۔ مائنس پچاس سینٹی گریڈ میں اسے لگتا ہے کہ بہت گرمی ہے اور وہ اپنے کپڑے اتار دیتا ہے ۔ اتنے کرٹیکل حالات میں جبکہ ایک سو بیس میل کی رفتار سے Snow آپ کو تھپیڑے مار رہی ہوتی ہے۔
ایسی کیفیت اس کی موت کی بڑی وجہ بن جاتی ہے۔اور یہی اینڈی ہیرس کے ساتھ ہوا جس نے اتنی سردی میں اپنی جیکٹ اتار دی اور موت کے منع میں چلا گیا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد علی سد پارہ جو دنیا میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند کل چودہ میں سے آٹھ چوٹیا سر کر چکا تھا، جس نے پہلی دفعہ سردیوں میں ماونٹ ایورسٹ سر کر کے عالمی ریکارڈ بنایا تھا کیا کبھی Hypoxia کا شکار ہوا تھا۔؟ اور جب وہ اس کیفیت میں مبتلا ہوتا تھا تو اس کا دماغ اسے کیا کرنے کے لیئے کہتا تھا۔ محمد علی سدپارہ نے Taimoor Salahuddin aka Mooroo کو ان کی ڈاکومینٹری Unsung Heroes میں کیا کہا سنیں انہی کی زبانی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ آکسیجن کی مدد سے کوہ پیمائی کرنا بے ایمانی کرنا ہے۔ آٹھ ہزار میٹر آکسیجن کے ساتھ ایسا ہے جیسے 3500 میٹر آکسیجن کے بغیر۔اس چوٹی پر سردیوں میں چلنے والی شدید ہوا کی رفتار بعض اوقات دو سو کلو میٹر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔2008 میں کے ٹو سر کرنے والے گیارہ کوہ پیما جان بحق ہو گئے تھے یہ حادثہ بوٹک نیک کے پاس پیش آیا تھا۔ جس کی وجہ برفانی تودے تھے 2018 تک کے ٹو کو 367 مرتبہ سر کیا جا چکا تھا اور اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش میں 86 کوہ پیماوں کی موت واقع ہو چکی تھی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ماونٹ ایورسٹ پر اموات کی ریشو چار فیصد جبکہ کے ٹو پر اموات کی ریشو اونتیس فیصد ہے۔ یہ بوٹل نیک کا ہی علاقہ ہے جسے ڈیٹھ زون بھی کہا جاتا ہے یہاں راستے انتہائی دشوار گزار ہیں اور ہر وقت برفانی تودے گرتے رہتے ہیں۔ موت کی اس گھاٹی کی اونچائی آٹھ ہزار میٹر سے شروع ہو جاتی ہے جہاں پر آکسیجن کی کمی انسانی جسم کو مفلوج کر دیتی ہے۔اسی وجہ سے اسے خونخوار چوٹی بھی کہا جاتا ہے۔ محمد علی سد پارا کی آخری لوکیشن سات ہزار آٹھ سو تئیس آئی ہے جو کے ٹو کے ڈیٹھ زون کہلائے جانے والے بوٹل نیک کے قریب ہے اگر آپ اپنی سکرین پر تصویر کو دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ کے ٹو کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
Base camp 5000 meter
Camp 1… 6000 meter
Camp 2.. 6760 meter
درمیان میں
Black pyramid
کہلائے جانے والا علاقہ ہے جبکہ
Camp 3.. 7350 meter
Camp 4 shoulder.. 8000 meter
یہاں سے کے ٹو کا ڈیتھ زون
Death zone
شروع ہوتا ہے اور ٹاپ تک خطرہ ہی خطرہ ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد علی سدپارا کا آخری ٹریس کیمپ فور کے پاس موصول ہوا ہے اس کے بعد ان کے واکی ٹاکی، سیٹلائٹ فون اور ٹریکر خاموش ہیں۔میڈیکل سائنس کے مطابق انسانی جسم اکیس سو سے پچیس سو میٹر تک رہنے کے لیئے بنا ہے اس سے زیادہ کے لیئے جسم کو بہت زیادہ محنت کر کے Survive کے قابل بنایا جاتا ہے۔اس سے زیادہ بلندہ پر انسانی جسم کی اکسیجن Saturation
کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور چھ ہزار میٹر پر اکسیجن کی کمی کی وجہ سے جسم پر منفی اثرات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔پیپھڑوں سے خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔نبض تیز جاتی ہے، خون جمنا شروع ہو جاتا ہے اور فالج کا خطرہ ہوتا ہے۔ زیادہ خراب حالت میں کوہ پیماوں کے پھیپڑوں میں پانی بھر جاتا ہے۔اور انسان کا نضام تنفس بگڑ جاتا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیتھ زون میں جہاں ایک غلط قدم کا مطلب سیدھا ہزاروں فٹ گہری کھائی یا گلیشیر میں گر کر موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے وہیں اس اونچائی پر آکسیجن کی مزید کمی سے سنگین اثرات رونما ہوتے ہیں اور انسانی دماغ کا جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے اور جسم مفلوج ہو جاتا ہے انتہائی کم درجہ حرارت بھی جسم کے کسی بھی حصے میں فراسٹ بائٹ کا باعث بن سکتا ہے
اتنی اونچائی پر کوہ پیما دماغی توازن کی خرابی، انکھ کا خراب ہونا ، شدید سر درد، متلی، بد نظمی، helucination یا نظر کا دھوکا وغیرہ جیسے طبی حالات سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس علاقے میں بیس کھنٹے سے زاہد گزارنا انسانی جسم کے لیئے ناممکن ہے لیکن دوہزار آٹھ میں ایک نیپالی کوہ پیما اکسیجن کی مدد سے وہاں نوے گھنٹے گزار چکا ہے۔ اس لیئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔
اگر آپ نے ابھی تک ہمارا چینل سبسکرائب نہیں کیا ہے تو کر لیں اور بیل آئی کون کو پریس کر لیں تاکہ تازہ تریں معلومات آپ تک پہنچتی رہیں۔
سعودی ایئر پورٹ پر حملہ،جہاز میں آگ لگ گئی، افرا تفری کا عالم، تہلکہ خیز بریکنگ نیوزمبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک بریکنگ اہم نیوز آئی ہے، سعودی عرب کے ایئر پورٹ پر زبردست حملہ ہوا ہے جس میں جہازوں کو بھی آگ لگ گئی ہے، یمن کے باغیوں نے ڈرون سے حملہ کیا پھر میزائل سے، ایئر پورٹ پر افرا تفری مچ گئی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سعودی حکام نے مان لیا ہے کہ ائئر پورٹ پر حملہ ہوا ہے،اور کہا کہ ایرانی نژاد یمنی باغی ہیں جنہوں نے حملہ کیا، ایک سال میں دوسرا بڑا حملہ اس ایئر پورٹ پر ہوا ہے، سعودی کہہ رہے ہیں کہ ایک جہاز کو نقصان پہنچا، یہ اطلاع نہیں کہ جہاز میں مسافر تھے یا نہیں، لگتا ہے کہ بڑی سیریس صورتحال ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب میں تواتر سے حملے ہو رہے ہیں، ریاض میں بھی حملے ہوئے تھے، آج سعودی عرب نے مان لیا کہ دوسری بار حملہ ہوا اور یہ ایرانین میزائل تھے، ابھا کا ایئر پورٹ ہے یہ یمن سے 120 کلومیٹر دور ہے، اس پر مزید تفصیلات آتی ہیں تو بتاؤں گا، سعودی میڈیا اس پر خاموش ہے سوائے اس بیان کے جو آفیشیل بیان دیا گیا، اب یہ کہہ دیا کہ ہم کوشش کر ہے ہیں کہ سولین کو محفوظ کر لیں، اسکا مطلب ہے کہ باغی وہاں داخل ہو گئے تھے ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ باغیوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے لوگ اندر داخل ہو گئے تھے اسلحہ لے کر، اب سعودی حکومت سویلین کو بچا کر املاک کو بچانا چاہتی ہے، یہ بڑی بریکنگ نیوز ہے کہ سعودی عرب اس وقت میجر کرائسز سے گزر رہا ہے اور یمن کے باغی اس سے کنٹرول نہیں ہو رہے اور جب سے جو بائیڈن آیا اور اس نے بیان دیا تو باغیوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں اور حملوں میں شدت آ گئی ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے بھارت میں کسان تنظیموں کے مظاہرے 72
ویں روز بھی جاری رہے۔ ہریانہ میں کسان تنظیموں کی بڑی پنچایت ہوئی جس میں 50ہزار کسانوں نے شرکت کی۔ پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کسان رہنما درشن پال نے کہا کہ ہریانہ میں بی جے پی کی حکومت ختم کرکے مرکزی اتحاد کو ایک جھٹکا دینا چاہیے ۔ کیونکہ ان کے مطابق وقت آگیا ہے کہ ہریانہ کی کسان مخالف حکومت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ تو کسان رہنما بلبیر سنگھ کا بھی کہنا ہے کہ ہریانہ کی ریاستی سرکار پر دباؤ بڑھایاجائے ۔ جبکہ راکیش تیکیٹ نے کہا کہ مطالبات پورے ہونے تک گھر واپس نہیں جائیں گے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال یہ ہے کہ کسانوں نے مودی سرکار کو متنازعہ قوانین واپس لینے کے لیے 2 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دے دی ہے ۔ اسکے بعد یہ سکھ کسان بہت بڑا کرنے والے ہیں ۔ جس کے بارے 2اکتوبر کو ہی پتہ چلے گا ۔ جبکہ دو روز قبل کسانوں کی جانب سے کامیاب پہیہ جام ہڑتال پر کئی علاقوں میں ٹریفک مکمل بند رہی۔ ۔ میں آپکو بتاوں پنجاب جو کہ بھارت کی کُل گندم کا 20
فیصد اور چاول کا 9 فیصد اکیلے پیدا کرتا ہے اسی طرح وہ دنیا کا 2 فیصد کپاس پیدا کرتا ہے یوں یہاں کے سکھ کسانوں کا ملکی زرعی ترقی میں بہت بڑا حصہ ہے۔ دراصل یہ قوانین مودی کی جانب سے بہت بڑی سازش ہیں۔ کیونکہ بالکل ایسا ہی کھیل ۔۔۔ کھیل کر مودی نے
۔۔۔ گاؤ رکشا ۔۔۔ کے نام پر مسلمانوں کو leagther industryسے آوٹ کروا دیا ہے اور اب یہ ہی بڑے بڑے ہندو کاروباری گروپ اس کام کو سنبھالتے ہیں ۔ مگر سکھ بروقت مودی کے عزائم کو بھانپ گئے اور انھوں نے بی جے پی کی ایک نہ چلنے دی ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسان تحریک پر بھارتی حکومت اور ٹوئٹر انتظامیہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں ۔ بھارت میں ٹوئٹر کی اعلیٰ عہدیدار تک مستعفی ہوگئی ہیں ۔ تو ٹویٹر نے مزید 250 اکاؤنٹس بند کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے ۔ جبکہ بھارتی حکومت کی خواہش ہے کہ ٹو یٹر ان اکاؤنٹس کو بھارتی سائبر کرائم قوانین کے تحت معطل کرے ۔ ۔ دوسری جانب مودی سرکار تو دھمکیاں دے ہی رہی تھی اب کنگنا رناوت نے بھی ٹوئٹر کو دھمکی دی ہے کہ اگر ان کا اکاؤنٹ معطل کیا گیا تو انڈیا میں ٹوئٹر بند کردیا جائے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کنگنا نے ٹوئٹر کے مالک کو mention کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ چین کی کٹھ پتلی ٹوئٹر ان کا اکاؤنٹ معطل کرنے کی دھمکی دے رہا ہے حالانکہ انہوں نے کسی اصول کی خلاف ورزی نہیں کی۔ جس دن میں جاؤں گی تم کو ساتھ لے کر جاؤں گی۔ چینی ٹک ٹاک کی طرح تم بھی بین ہوجاؤ گے۔۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے اس سے پہلے کنگنا نے کسانوں کی حمایت پر بھارتی کرکٹرز کو کہا کہ یہ کرکٹر بھی دھوبی کے کتے کی طرح نہ گھر کے ہیں اور نہ گھاٹ کے۔ ان کے اس ٹویٹ پر انھیں شائقین کرکٹ کی جانب سے برا بھلا کہا جا رہا ہے، ٹویٹر نے بھی یہ ٹویٹ ہٹا دی تھی۔ ۔ جبکہ اس سے بھی پہلے کنگنا نے دعویٰ کیا کہ امریکی گلوکارہ ریانہ نے بھارتی احتجاجی کسانوں کے حق میں ٹوئٹ کرنے کے لیے 100 کروڑ بھارتی روپے لیے ہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ۔ مزے کی بات میں آپکو بتاوں کہ فوربز کے مطابق پاپ اسٹار ریانہ کی دولت 600 ملین ڈالرز تقریباً 4 ہزار 300 کروڑ بھارتی روپے ہے۔ ریانہ کہ فاؤنڈیشن کووڈ 19 ریلیف فنڈ میں 5 ملین ڈالرز تقریباً 36 کروڑ بھارتی روپے عطیہ کیے تھے۔ جب کہ ریانہ نے اپنی جیب سے 2 ملین ڈالرز عطیہ کیے تھے۔ ۔ اس لیے میں صرف گنگنا کو اتنا کہوں گا کہ کوئی اچھا نشہ کر لیا کریں ۔ تاکہ کچھ ہوش تو رہے آپ کو ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت وہ ملک ہے جوخود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے لیکن اب یہاں پرعوام کی حکومت کی بجائے کارپوریٹ سرمایہ کاروں کے چندے پر پلنے والے ایک ایسے چھوٹے آدمی کی حکومت ہے جو عوام کو کچھ دینے سے قاصر ہے یا اِس کی انا آڑے آر ہی ہے ۔ ۔ مودی حکومت کی جانب سے کل جماعتی اجلاس کا ڈھونگ بھی رچایا گیا جس کے اختتام پر یہ بات سامنے آئی کہ بھارتی وزیر اعظم کا رپوریٹ مافیا کی حمایت سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کی مشکل یہ ہے کہ وہ کارپوریٹ مافیا سے چندہ لے کر وزیرا عظم بنے ہیں ۔ بڑی کمپنیوں کے مفادات کا دفاع ان کی مجبوری بن چکا ہے ۔ اب ہندوستان کا میڈیا چیخ اور واویلا کررہا ہے کہ کسانوں اور سکھوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے ۔ کیونکہ اب سکھ کمیونٹی اقوام عالم کو بتا رہی ہے کہ بھارت میں سیکولر ازم کا پردہ چاک ہو چکا ہے یہ صرف ہندو اسٹیٹ ہے جہاں مسلمانوں ،عیسائی ،سکھ اور خود نچلی ذات کے ہندو پریشان اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سکھوں نے انکو دنیا میں ذلیل کروادیا ہے ۔ کیونکہ اب صورتحال یہ بن چکی ہے کہ پوری دنیا میں ہر بھارتی سے کشمیریوں سمیت سکھوں کے متعلق بھی سوال ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ صرف اس چیز سے اندازہ لگا لیں کہ اس تحریک کی حمایت میں اب تک 200 سے زیادہ گیت آچکے ہیں۔ اب یوں لگتا ہے کہ پوری پنجابی میوزک انڈسٹری میں کسانوں کے مظاہروں کے علاوہ کسی اور موضوع پر کوئی ریکارڈنگ نہیں ہو رہی۔ ان گیتوں کی ریکارڈ تعداد یہ بتاتی ہے کہ کسانوں کا غصہ پورے سماج میں پھیل چکا ہے اور ثقافتی گہرائی پا چکا ہے۔ صرف فنکار ہی اس تحریک کا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ سابق فوجی، اہم سیاستدان اور کھلاڑی بھی اس تحریک کے ساتھ ہیں جنہوں نے بھارت سرکار کی طرف سے ملنے والے اعزازات لوٹا دیے ہیں۔ اعزازات واپس کرنے والوں میں پنجاب کے موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ تک شامل ہیں۔ تو یہ صرف کسانوں کے تحریک نہیں ہے ۔ یہ پورے پنجاب کی تحریک بن چکی ہے ۔ بھارت کو کسانوں کے خلاف اگرچہ ہر محاذ پر ناکامی ہورہی ہے لیکن وہ پھر بھی اپنا منہ کالا کرنے سے باز نہیں آرہا ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے دنیا کو جنجھوڑنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ دنیا نے مجموعی طور پر بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ سب کو صرف اتنا یاد ہے کہ بھارت بڑی منڈی ہے۔ حالانکہ مودی ایک طرف تو اپنے ملک کو برباد کرنے پر بضد ہیں اور دوسری طرف خطے میں جنگ کا الاؤ روشن کرنے پر بھی تُلا ہوا ہے ۔ آپ دیکھیں مودی سرکار کے لیے سکھ گلے کی ہڈّی بن چکے ہیں ۔ نئی دہلی کے آرام دہ کمروں میں بیٹھے ہوئے حکام نے سوچا تھا کہ تھوڑی بہت دھونس دھمکی اور طاقت کے کچھ استعمال سے بات بن جائے گی مگر ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ جو کچھ ہوا وہ اس کے برعکس رہا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے جو آنکھیں دکھانا شروع کی ہیں اس سے مودی اور اُن کا ٹولہ شدید الجھن سے دوچار ہیں۔ طاقت کے استعمال سے بھی دال نہیں گلی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ناراض کسانوں کو مزید ناراض کرکے مودی سرکار نے ایک نیا کھیت تیار کیا ہے۔ اس نئے کھیت میں اُگنے والی فصل بھارت کا امن و استحکام داؤ پر لگائے گی۔ نریندر مودی اور اُن کے بے دماغ ساتھی نفرت کی آگ میں ایسے جل رہے ہیں کہ کچھ بھی سمجھنے اور معقولیت کے دائرے میں رہتے ہوئے موزوں ترین اقدامات کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ اُن کا گمان ہے کہ کسان تھک ہار کر اپنے اپنے گھروں کو چلے ہی جائیں گے۔ اگر آپ یہ فرض کر بھی لیں کہ کسان گھروں کو واپس چلے بھی جائیں مگر تب تک اُن کا احتجاج اتنا بگاڑ پیدا کرچکا ہوگا ۔ جس کا مودی سرکار اور اسکے مشیروں کو بالکل اندازہ نہیں ہے ۔ جتنی تیزی سے وقت نکلا جارہا ہے اُس سے کہیں زیادہ تیزی سے بھارت کا معاشی و معاشرتی تانا بانا ہاتھوں سے نکلتا جارہا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ قدرت کا ایک اپنا قانون بھی ہے، جب زیادتیاں حد سے بڑھ جاتی ہیں تو قانون قدرت حرکت میں آجاتا ہے۔ لگتا یوں ہے جیسے ہٹلر کے ساتھ ہوا ۔ جلد ہی وہی کچھ دہشت گرد مودی کے ساتھ بھی ہونے والا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے فیض آباد میں دھرنا دیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پایا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالا جائے گا
علامہ خادم رضوی وفات پا گئے، انکے بیٹے تحریک لبیک کے امیر بن گئے، حکومت نے ابھی تک فرانس کے سفیر کو نہیں نکالا، اور نہ ہی فرانس سے تعلقات ختم کئے ہیں، اب تحریک لبیک کے موجودہ سربراہ نے علامہ حکومت کو 16 فروری کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، اسی حوالہ سے ٹویٹر پر ٹرینڈ چلایا گیا #سفیرتونکالناہی_ہوگا .جس میں بڑی تعداد میںصارفین نے حصہ لیا.
دوسری جانب ٹی ایل پی کی فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے حوالے سے ڈیڈ لائن کا معاملہ پولیس کی بھاری نفری نے سمن آباد میں ٹی ایل پی کے چئیرمین کے گھر کا گھیرائو کر لیا پولیس کی گاڑیاں اور پرزن وینز سعد حسین رضوی کے گھر کے باہر پہنچا دی گئیں
تحریک لبیک کے کارکنا ن کی بڑی تعداد بھی یتیم خانہ چوک پہنچ چکی ہے، اطلاعات ہیں کہ پولیس حافظ سعد رضوی کو تحویل میں لینا چاہتی ہے
راولپنڈی:پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا راولپنڈی میں لاجسٹک تنصیبات کا دورہ ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاجسٹک تنصیبات کا دورہ کیا، جہاں چیف آف لاجسٹک سٹاف اور کوارٹر ماسٹر جنرل نے ان کا استقبال کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔
آرمی چین نے افسران جوانان پاک افواج کی خدمات پران کوسلام پیش کیا
آرمی چیف نے اعلیٰ معیار کی سہولیات، خدمات دینے کے عزم اور مختلف اقسام کے اسلحہ کی مقامی طور پر تیاری کو سراہا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مینٹی نینس پروگرام کی بھی تعریف کی۔
باغی ٹی وی : سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میںنے آپ کو اسی وی لاگ میں کہا تھا کہ دس فروری کو چیز بہت مشکل ہونا شروع ہو جائیں گی . حکومت کے لیے مشکلات شروع ہو جائیں گی . اپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ مشکلات شروع ہوگئی ہیں. حکومت کے لیے جہاں دیگر مسائل ہیںوہاں وکلا نے توڑ پھوڑ کی یہ بھی ایک بہت سیریس ایشو ہے .
حکومت کو دیگر محاذوں پر بھی سبکی کا سامنا ہے . جیسے کہ سپریم کورٹ میں دو پیٹیشن دائر ہیںجن میں صدارتی الیکشن ہے . اس بارے میں سپریم نے کہنا ہے کہ دو تہائی اکثریت لے آئیں اور صدارتی نظام لے آئیں . لیکن ایسا حکومت کے لے ممکن نہیں ہے .
ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہی اگر سینٹ الیکشن میں شو آف ہینڈ کا مقدمے کی بات ہے تو اس پر آئین خاموش ہے . الیکشن کمیشن اس بارے اپنی رائے دے چکا ہے کہ ہمارے پاس ایسی گنجائش ہی نہیں کہ جس پر شو آف ہینڈ ہو جائے . اگر تو سپیرم کورٹ الیکشن کمیشن کی بات کو لیتی ہے تو پھر حکومت کو اس معاملے میں بھی سبکی ہوگی .
لیکن حکومت کو اگر سپریم کورٹ میں کوئی شکست کا سامنا ہوتا ہے تو پھر وہ آرڈی نیناس سے اس کو رائج کر دے گی. اس لیے اس سلسل میں عجیب سا ماحول پیدا رہا ہے .
مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ عمران خان کا یہ کہنا کہ اگر شو آف ہینڈ نہ ہوا تو اپوزیشن کے پسینے چھوٹ جائیں گے . اس کا مطلب ہے کہ ہارس تریڈنگ اپنے عروج پر ہے . اس کا مبطلب ہے کہ جہاں اپوزیشن ووٹ خرید رہی ہے وہاں حکومت بھی لوٹےبنانےمیں تیاری کیے ہوئے .
مبشر لقمان نے بڑے افسوس سے کہا کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ ہمارے سب سے بڑے عوان میں یہ بڑے بڑے لوگ بک رہیں اور ان کی بولیاں لگ رہی ہیں.
کیا ان سیاستدانوں کو کوئی شرم و حیا نہیں ہے کہ اس ملک میں کیسے یہ پیسے اور لالچ کے لیے اپنے ضمیر کا سودہ کرتے ہیں. ہماری آنے والی نسلوں کے لیے کیا آگے بھیج رہے ہیں.
لاہور:اگرسینیٹربنوانےمیں مدد کرسکتےہیں تونوازشریف اورزرداری کوطلاق دے دوں گا:مولانا فضل الرحمن کاخفیہ پیغآم،اطلاعات کے مطابق یہ خبریں بڑی تیزی سے گردش کررہی ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے کسی خاص دوست کے ذریعے پی ٹی آئی کی قیادت کو پیغام بھیجا ہے کہ اگروہ سینیٹ بننے میں مدد دے سکتے ہیں تو وہ نوازشریف اورزرداری سے راہیں جدا کرلیں گے
ادھر اس حوالے سے غیرمصدقہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ یہ پیغام مولانا فضل الرحمن نے کے پی سے پی ٹی آئی کی کسی بڑی شخیصت تک پہنچایا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولانا نے سینیٹربننے کےلیے 5 ووٹوں کی درخواست کی ہے
ادھر ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن یہ سمجھتے ہیں کہ اگرانہوںنے نوازشریف اورزرداری کوبچانے کی خاطرپی ٹی آئی سے مخالف کو طول دیا توپھرکے پی میں مولانا کو پارٹی بچانا مشکل ہوجائے گا
یہ بھی معلوم ہو اہے کہ اس شخصیت نے یہ پیغام پہنچا دیا ہے لیکن کے پی سے یہ شخصیت کپتان کو یہ پیغام دینے کی ہمیت نہیں رکھتی کیوں عمران خان مولانا فضل الرحمن کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کرتے
یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ مولانا فضل الرحمن کو سینیٹربننے کے حوالے سے ن لیگ اورپی پی سے کوئی خاطرمثبت جواب نہیں ملا ، ن لیگ میں نوازشریف نے حامی بھری تھی لیکن پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت نے نوازشریف کو مولانا کو یہ امداد دینے کی مخالف کردی ہے اوراپنے سینیٹرہی منتخب کرنے کا مشورہ دیا ہے