Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم کامون سون شجرکاری مہم کا آغاز پہلے ہفتے کا عنوان "ایک بیٹی ۔ ایک شجر”

    وزیراعظم کامون سون شجرکاری مہم کا آغاز پہلے ہفتے کا عنوان "ایک بیٹی ۔ ایک شجر”

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سالانہ مون سون شجرکاری مہم کے آغاز پر افتتاحی اجلاس ہوا

    وزیراعظم نے سالانہ مون سون شجرکاری مہم کا آغاز پہلے ہفتے کے عنوان "ایک بیٹی ۔ ایک شجر” سے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شجرکاری اہم قومی، ماحولیاتی و موسمیاتی فریضہ ہے تمام شہریوں میں اسکا احساس ذمہ داری پیدا کرنا نا گزیر ہے۔ تمام متعلقہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ شجرکاری مہم محض علامتی کاروائی نہ ہو اس پہ موثر عمل درآمد ہو۔ شجر کاری آنے والی نسلوں کے لیۓ صحت مند، قدرتی ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تغیر سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے اولین ترجیح ہے۔وفاقی حکومت شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔تمام صوبائی حکومتیں، سماجی و مذہبی رہنما اور تمام طبقات و شعبہ زندگی بالخصوص طلباء مربوط طریقے سے شجر کاری مہم میں اپنا تعمیری کردار ادا کریں۔ شجر کاری مہم میں لگائے گئے پودوں کی افزائش اور شرح نمو کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کی جائے۔ شجرکاری انسانی زندگی پر مثبت اثرات اور بیش بہا قیمتی قدرتی وسائل، حیوانات و نباتات کے تحفظ اور افزائش میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے بچاؤ کے لیے شجرکاری اور جنگلات کے تناسب میں اضافہ مربوط اور جامع حکمت عملی کے تحت ممکن ہے۔آزار کشمیر، گلگت بلتستان میں موسمی اور سیلابی تباہ کاریوں کے ازالہ کے لیۓ شجرکاری پر خصوصی توجہ دی جاۓ۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے بدترین متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے وزارت موسمیاتی تبدیلی عالمی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کے لیے مکمل تیاری کریں۔ حالیہ مون سون سیزن کی غیر معمولی بارشیں اور آبی ریلوں سے ہونے والی تباہی اور جانی و مالی نقصان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے لیے جنگلات ناگزیر ہیں ،مارگلہ کی پہاڑیوں میں جنگلات کے تخفظ کے لیۓ موزوں موسم اور زمین کی زرخیزی کو استعمال کرتے ہوۓ مون سون میں بیجوں کی دستیابی اور انکی بوائی کے لیۓ حکمت عملی ترتیب دی جاۓ۔

    اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ شجر کاری مہم میں اگلے تین ماہ اگست تا اکتوبر کے دوران پاکستان کے طول و عرض میں 41 ملین نئے پودے لگائے جائیں گے۔حکومت مون سون شجرکاری مہم کو اس سال مختلف ہفتہ وار عنوانات کے تحت منا رہی ہے تاکہ شجرکاری کی اہمیت اور مختلف طبقات میں اس کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ حکومت اس سال مختلف ہفتہ وار عنوانات کے تحت سالانہ مون سون شجرکاری منا رہی ہے، جن میں ایک بیٹی- ایک شجر، ہری چھتری، ایک پودا ہر شہید کے نام، اسلام اور شجرکاری شامل ہیں.ان عنوانات کا مقصد شجرکاری اور موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کی کاروائی میں خواتین, نوجوانوں, مختلف اداروں کی شمولیت کے ساتھ ہمارے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا شامل ہے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک, وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی شزرہ منصب، ممبر قومی اسمبلی و سینٹ اور دیگر اعلی سرکاری حکام اور عہدہ داران نے شرکت کی

  • سیلاب،600 سے زائد اموات،ہزار زخمی،سڑکیں تباہ،ریلیف آپریشن جاری،مشترکہ پریس کانفرنس

    سیلاب،600 سے زائد اموات،ہزار زخمی،سڑکیں تباہ،ریلیف آپریشن جاری،مشترکہ پریس کانفرنس

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک میں سیلاب اور مون سون بارشوں کے حوالے سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی این ڈی ایم اے میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں

    اسلام اباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ حالیہ مون سون بارشوں سے 670 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ایک ہزار کے قریب زخمی ہوئے، سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں سرچنگ کے عمل میں مصروف ہیں، سیلاب میں بہہ جانے والوں کی بھی تلاش کررہے ہیں،حالیہ مون سون میں زیادہ بارشیں ہوئیں، این جی اوز نے ہمارے ساتھ مل کو کام کیا، انفراسٹرکچر کی بحال کے لیے وزیراعظم کو باقاعدہ آگاہ کیا، پچھلے چند دنوں میں مشترکہ کاوشوں سے 25 ہزار افراد کو ریکسیو کیا ہے، زخمیوں کا علاج بہتر انداز میں جاری ہے، لاپتا کچھ افراد کی لاشیں ریکور کیں ہیں، گلگت میں کلاڈ برسٹ سے زیادہ تباہی ہوئی، شمالی علاقہ جات اور کے پی میں انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا

    سیلاب،670 اموات، بہہ جانے والوں کی تلاش جاری،سڑکیں تباہ،مشترکہ پریس کانفرنس
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کیلئے پاک فوج کو خصوصی طور پر متحرک کیا گیا، خیبرپختونخوا میں 90 سڑکیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے، متاثرین میں راشن بذریعہ روڈ اور بذریعہ ہیلی کاپٹر بھی پہنچایا جارہا ہے، آرمی چیف کی ہدایت پر پاک فوج نے ایک دن کا راشن مختص کیا تھا، اس وقت پاک فوج کی دو بٹالین متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں، میڈیکل بٹالین کے علاوہ سی ایم ایچ راولپنڈی سے بھی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں۔ متعدد پلوں کی تعمیر کی گئی، بند سڑکیں کھولی گئی ہیں،پاک فوج نے خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں 3 میڈیکل کی یونٹس قائم کی ہیں جن میں 6 ہزار 3 سو چار لوگوں کا علاج ہوا ہے، پاک فوج نے 6 ہزار 9 سو تین لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے، خیبرپختونخوا میں انفنٹری اور ایف سی کی 8 یونٹس کام کر رہی ہیں جبکہ روڈ انفراسٹرکچر کیلئے 2 انجنئیرنگ بٹالین اور 2 اربن سرچ ریسکیو ٹیمز خیبرپختونخوا میں سرگرم ہیں

    وزیر اعظم شہباز کی ہدایت کے مطابق این ڈی ایم اے کی خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری۔ آج صبح سوات اور شانگلہ کے لیے دو الگ الگ امدادی کھیپیں روانہ ہوئی ہیں،امدادی سامان میں خیمے، کمبل،7KVA جنریٹر، ڈی واٹرنگ پمپس، راشن بیگز اور ادویات شامل ہیں

  • سپریم کورٹ،نومئی کیس،عمران خان کی ضمانت اپیل پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،نومئی کیس،عمران خان کی ضمانت اپیل پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ نے عمران خان کی 9 مئی سے متعلق ضمانت کی اپیلوں پر آج ہی فریقین کو دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے عمران خان کی 9 مئی سے متعلق ضمانت کی اپیلوں پر سماعت کی جس سلسلے میں وکیل درخواستگزار سلمان صفدر اور اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی عدالت میں پیش ہوئے جب کہ علیمہ خان بھی عدالت میں موجود تھیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے سلمان صفدر سے مکالمہ کیا کہ آپ نےگزشتہ روز دستاویزات جمع کروائےتھے،کل ساڑھے 10 تک دستاویزات کو دیکھ لیتے ہیں، ہمیں بھی تو دستاویزات کو پڑھنا ہے ناں ،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ نے کچھ دستاویزات جمع کروائے ہیں، میں ان کو دیکھ نہیں سکا، ایسا کرتے ہیں کیس کی سماعت کل ساڑھے 11بجے تک ملتوی کردیتے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چند فیصلوں کے حوالے سے دستاویزات جمع کروائے ہیں۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا جس فریق نےکوئی بھی دستاویزات جمع کرانے ہیں آج کرادے، پراسیکیوشن بھی ملزم کی جمع دستاویزات کا جائزہ لے لیں،بعد ازاں عدالت نے اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • شانگلہ،بونیرو دیگر علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    شانگلہ،بونیرو دیگر علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں شانگلہ اور بونیر میں پاکستان آرمی کے انجینئرز کور کی امدادی کارروائیاں جاری ہے

    پیر بابا بائی پاس کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے،پیر بابا بازار میں عوام کی سہولت کیلئے ملبہ ہٹانے کا عمل رات بھر سےجاری ہے ، پاک فوج کی جانب سے گاؤں گوکند جانے والی سڑک کو تین مقامات سے لینڈ سلائیڈنگ ہٹا کرکھول دیا گیا ہے، آرمی انجینئرز کی بھاری مشینری نے لینڈ سلائیڈز کو ختم کرکے سڑک آلوچ پران کو کھول دیا گیا ہے،اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کے ساتھ مل کر بیسونی اور قادر نگر میں مسلسل سرچ آپریشن کر رہی ہے

    اب تک بیشونی کے قریب نالے سے پانچ افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں ،پاک فوج کا ریسکیو آپریشن متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی تک جاری رہے گا

    خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابی صورتحال میں پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری ہے،بونیر ، شانگلہ اور سوات کی سیلابی صورتحال کے بعد صوابی میں بھی بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا ،صوابی کی تحصیل ٹوپی کے علاقہ ڈلورائی میں ہونے والی طوفانی بارش اور لینڈ سلائیڈ کے بعد پاک فوج کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں،فوری رسپانس کے تحت پاک فوج کے دستوں نے فوری طور پر پہنچ کر سول انتظامیہ کی مدد کی،تحصیل ٹوپی کے متاثرہ علاقوں ڈلورائی ، سرکوئی اور بادہ میں پاک فوج کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر کاروائیاں کی گئیں ،پاک فوج مشکل کی اس گھڑی میں پختون عوام کیساتھ کھڑی ہے

  • موسمیاتی تبدیلیاں، بطور قوم غلطی کہاں ہوئی؟، پی ٹی آئی کو جواب؟

    موسمیاتی تبدیلیاں، بطور قوم غلطی کہاں ہوئی؟، پی ٹی آئی کو جواب؟

    معروف اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے تازہ پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایک خطرناک حملے کی تیاری میں مصروف ہے، جس کا عندیہ 14 اگست کے موقع پر دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایمرجنسی بنیادوں پر 700 رافیل طیاروں کی ڈیل سائن کی ہے، جو اسی ماہ سے ڈیلیور ہونا شروع ہو جائیں گے۔ مبصرین کے مطابق اس ہتھیاروں کی دوڑ کے پیچھے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم واضح نظر آتے ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ زمینی تجارتی راستوں کو کھولنے کی خواہش رکھتا ہے، لیکن پاکستان کے لیے یہ صورتحال منفی بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کسی بڑی اسٹرائیک کا منصوبہ بناتا ہے تو یہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہوگا۔

    پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیل کا امکان؟
    پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل پر بھی گفتگو کی گئی۔ مبشر لقمان نے صحافی سہیل وڑائچ کے انکشافات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیغام دیا گیا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی معافی مانگ لیں اور تعاون پر آمادہ ہوں تو ان کے لیے ملک میں دوبارہ جگہ بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، اگلے دس سال تک ان کے لیے کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سہیل وڑائچ بطور رپورٹر صرف وہی بات سامنے لائے ہیں جو فیلڈ مارشل کی جانب سے کہی گئی، اور یہ کوئی خفیہ پیغام نہیں بلکہ عوامی سطح پر ایک واضح اشارہ ہے کہ حقیقی آزادی کا نعرہ ناکام ہو چکا ہے اور اب ملک کی بہتری کے لیے عملی سیاست کی طرف واپس آنا ہوگا۔

    موسمیاتی تبدیلیاں، بطور قوم غلطی کہاں ہوئی
    پروگرام میں حالیہ سیلاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد اور وہ لوگ جنہوں نے برساتی نالوں یا پانی کے بہاؤ کے راستوں پر رہائش یا کمرشل تعمیرات کی ہیں، وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ حکام نے فوری طور پر ایسے رہائشیوں کو ری لوکیٹ (Relocate) یا ڈس لوکیٹ (Dislocate) کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انسانی جانوں کا نقصان روکا جا سکے۔

    انہوں نے اس صورتحال کو ماضی کی پالیسیوں اور سیاسی ترجیحات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں بڑے ڈیمز، خصوصاً کالا باغ ڈیم تعمیر کیا گیا ہوتا اور شجر کاری کو ترجیح دی جاتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ مگر بدقسمتی سے سیاست عوام کی زندگیوں پر حاوی رہی اور نتیجتاً آج لاکھوں لوگ براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں.

    صدر ٹرمپ کی زیلنسکی سے ملاقات، سہ فریقی مذاکرات کی پیشکش

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 48 ٹن امدادی سامان پشاور پہنچا دیا

    کراچی میں بارش کا امکان، وزیراعلیٰ سندھ کا ہنگامی اجلاس

  • خیبر پختونخوا سیلاب،پاک فوج کا ہنگامی ریسکیو اور امدادی کام جاری

    خیبر پختونخوا سیلاب،پاک فوج کا ہنگامی ریسکیو اور امدادی کام جاری

    پاک فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول بونیر، شانگلہ اور سوات میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوانوں نے ریسکیو آپریشنز تیزی سے انجام دے کر متاثرین کی جان بچانے کے لیے انتھک محنت جاری رکھی ہوئی ہے۔

    خیبر پختونخوا آرمی فلڈ ریلیف آپریشن کے تحت فوج کے دستے ٹوٹے ہوئے پلوں اور بند راستوں کو کھولنے میں مصروف ہیں تاکہ امدادی سامان اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک جلد از جلد پہنچ سکیں۔موسم کی خراب صورتحال کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن میں مصروف ہیں اور زخمیوں کو ہسپتالوں تک منتقل کرنے کے علاوہ ضروری اشیاء کی فراہمی بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے ڈاکٹرز کی ٹیمیں میڈیکل کیمپ لگا کر مفت ادویات فراہم کر رہی ہیں، تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد دی جا سکے۔

    پاک فوج ایک دن کے راشن کی اشیاء بھی ضرورت مند افراد تک پہنچا رہی ہے، جن میں خوراک، پانی، اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، متاثرہ خاندانوں کو بستر، ٹینٹ اور دیگر امدادی سامان بھی فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ عارضی طور پر محفوظ رہ سکیں۔ فوجی جوان ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں اور صورتحال کو قابو پانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔یہ امدادی کارروائیاں پاک فوج کی عوام کے لیے خدمت اور قربانی کے جذبے کی عکاس ہیں، جو مشکل وقت میں ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

  • خیبرپختونخوا،متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس،400 ریسکیو آپریشن ،وزیراعظم کو بریفنگ

    خیبرپختونخوا،متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس،400 ریسکیو آپریشن ،وزیراعظم کو بریفنگ

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ تباہ کن بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی مدد و بحالی پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس کو این ڈی ایم اے اور وزیرِ اعظم کی جانب سے مدد کیلئے مقرر کردہ وفاقی وزراء کی جاری امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی.اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، پاک فوج و دیگر اداروں کی جانب سے اب تک متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس کے قیام کے ساتھ ساتھ 400 ریسکیو آپریشن کئے جاچکے. بشمول آج، متاثرین کیلئے امدادی اشیاء پر مشتمل ٹرک پہنچائے جارہے ہیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹرکوں کے قافلوں کو ترجیحی بنیادوں پر پہلے بھیجا جائے. اب تک کے محتاط اندازے کے مطابق 126 ملین روپے سے زائد کے سرکاری و نجی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے. این ڈی ایم اے کی جانب سے راشن، خیموں، ادویات، میڈیکل ٹیموں و دیگر اشیاء کی فراہمی پر رپورٹ پیش کی گئی

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مون سون جاری رہے گا. 6 بڑے اسپیل گزر چکے جبکہ مزید 2 متوقع ہیں جن کے اثرات ستمبر کے آخری ہفتے تک رہیں گے. اجلاس میں وفاقی وزیر امور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان انجینئیر امیر مقام نے سوات، وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری نے خیبرپختونخوا، معاون خصوصی مبارک زیب نے باجوڑ، چئیرمین این ایچ اے نے مالاکنڈ جبکہ سیکریٹری موصلات نے گلگت سے صورتحال پر جائزہ پیش کیا. وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، ڈاکٹر مصدق ملک اور دیگر حکام نے وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق امدادی سرگرمیوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، انجینئیر امیر مقام، سردار اویس خان لغاری، سردار محمد یوسف، میاں محمد معین وٹو، معاون خصوصی مبارک زیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، وزیرِ اعظم کے چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیرِ اعظم نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں و سیلاب سے متاثرین کی مدد میں وفاقی اداروں کو مزید متحرک ہونے کی ہدایت کر دی،کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں کوئی وفاقی، کوئی صوبائی حکومت نہیں، ہمیں متاثرہ لوگوں کی مدد و بحالی یقینی بنانی ہے. مصیبت زدہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد ہماری قومی ذمہ داری ہے. یہ سیاست کا نہیں، خدمت کا اور لوگوں کے دکھوں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے.وفاقی حکومت جاں بحق ہونے والے افراد کے ساتھ ساتھ متاثرین کو وزیرِ اعظم پیکیج کے تحت بھی امدادی رقوم فراہم کریں گے. متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم و بحالی کے آپریشن کی نگرانی وزیرِ امور کشمیر و گلگت بلتستان کریں گے.متاثرہ علاقوں میں بجلی، پانی، سڑکوں و دیگر سہولیات کی بحالی کی نگرانی متعلقہ وفاقی وزراء خود کریں گے.تمام متعلقہ وزراء خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان خود جائیں،این ایچ اے شاہراہوں کی بحالی میں صوبائی یا قومی شاہراہوں میں تخصیص نہ کرے، امداد کیلئے راستے کھولنا پہلی ترجیح رکھا جائے.وزارت مواصلات، این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او متاثرہ علاقوں میں شاہراہوں و پُلّوں کی مرمت یقینی بنائے، وزیرِ موصلات ان علاقوں میں خود جاکر بحالی آپریشن کی نگرانی کریں. وزیرِ اعظم نے وزیر بجلی کو متاثرہ علاقوں میں خود جا کر معائنہ کرنے اور بجلی کا نظام ترجیحی بنیادوں پر بحال کروانے کی ہدایت کر دی،این ڈی ایم اے فوری طور پر نقصانات کا حتمی جائزہ پیش کرے.این ڈی ایم اے امدادی اشیاء کی خیبر پختونخوا کے متاثرین میں امدادی اشیاء کی تقسیم کا جامع لائحہ عمل پیش کرے.جب تک متاثرہ علاقوں میں آخری شخص تک مدد اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی نہیں ہوجاتی، متعلقہ وفاقی وزراء وہیں رہیں گے. وزرات صحت ادویات و ڈاکٹرز کی ٹیموں کو خیبر پختونخوا بھیجے اور طبی کیمپس قائم کئے جائیں.بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی متاثرین کی مدد کیلئے متحرک کیا جائے

  • جشن آزادی پر حملے کا منصوبہ ناکام ،یونیورسٹی پروفیسر سمیت 3 دہشت گرد گرفتار

    جشن آزادی پر حملے کا منصوبہ ناکام ،یونیورسٹی پروفیسر سمیت 3 دہشت گرد گرفتار

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن خود کش حملے کے سہولت کار کی نشاندہی پر کارروائی کرتے ہوئے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی پروفیسر سمیت فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔

    گرفتار ملزمان نے جشن آزادی کی تقریبات میں خود کش حملے اور بم دھماکے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جولائی کے آخری ہفتے میں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس پر حکمت عملی بنا کر کارروائیاں شروع کی گئیں۔11 اگست کو کوئٹہ سے گرفتار ہونے والے ایک خود کش بمبار نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا تھا۔ اس کی نشاندہی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے افنان ٹاؤن سے پروفیسر کو گرفتار کر لیا، جبکہ مزید ایک اور بمبار بھی حراست میں لے لیا گیا۔

    تفتیش کے دوران گرفتار بمبار نے اعتراف کیا کہ وہ فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے لیے کام کرتا ہے اور نوجوانوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق ماسٹر مائنڈ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس نے 9 نومبر 2024 کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے خود کش حملے میں سہولت کاری کی تھی اور یوم آزادی کی تقریبات سمیت کوئٹہ و دیگر شہروں پر مزید حملوں کے لیے بمبار تیار کر رکھے تھے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں سے مزید تحقیقات جاری ہیں جن سے مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔

    حماس نے اسرائیلی منصوبے کو مسترد ، خیمہ بستیوں کو "نسلی کشی کی مہم” قرار دے دیا

    روس سے مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    بھارت بدمعاش ریاست، عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہے،حنا ربانی کھر

    اسحاق ڈار اور ازبک ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

  • پاکستان میں سیلاب پر روس، ترکیہ اور مصر کا اظہارِ افسوس

    پاکستان میں سیلاب پر روس، ترکیہ اور مصر کا اظہارِ افسوس

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے نام تعزیتی خط میں خیبرپختونخوا سمیت پاکستان میں سیلاب سے جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    پیوٹن نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔دوسری جانب ترکیہ نے بھی پاکستان میں سیلابی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ ترک وزارتِ خارجہ نے کہا کہ جانی نقصان پر گہرے رنج میں ہیں، جاں بحق افراد کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں۔

    اسی طرح مصر کی وزارتِ خارجہ نے بھی پاکستان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    غزہ میں شہادتوں کی تعداد 61 ہزار 897 تک پہنچ گئی

    آسٹریلیا نے سنسنی خیز میچ میں جنوبی افریقہ کو ہرا دیا

    ایران کی پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کی پیشکش

    ٹک ٹاک کا اے آئی ماڈریٹرز تعینات کرنے کا فیصلہ، ملازمین کی ہڑتالیں شروع

  • معافی مانگنے والے فرشتے رہے،معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر

    معافی مانگنے والے فرشتے رہے،معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر

    آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہےکہ سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے جب کہ معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا۔

    برسلز میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے دی گئی تقریب کے موقع پر سینیئر صحافی سہیل وڑائچ سے گفتگو میں آرمی چیف نے کہا کہ تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں، یہ افواہیں پھیلانے والے حکومت اور مقتدرہ دونوں کے مخالف ہیں۔انہوں نےکہا کہ خدا نے انہیں اس ملک کا محافظ بنایا ہے، اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے۔ایک سوال پر آرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے۔

    آرمی چیف نے سیاسی مصالحت پر گفتگو کے دوران تخلیق آدم سے متعلق قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تخلیق آدم کے بعد ابلیس کے سوا سب نے آدم کو خدا کا حکم سمجھ کر قبول کیا، معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا۔خارجہ پالیسی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چین اور امریکا سے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کا طویل تجربہ ہے، ایک دوست کے لیے دوسرے دوست کو قربان نہیں کریں گے۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ صدرٹرمپ کی امن کی خواہش جینوئن ہے اسی لیے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے میں پہل کی ہے، باقی دنیا صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے میں پاکستان کی پیروی کر رہی ہے ۔ فیلڈمارشل عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا کہ بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے امن کو تباہ نہ کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت طالبان کو پاکستان میں دھکیلنے کی پالیسی بند کرے، ایک ایک پاکستانی کے خون کا بدلہ لینا ہم پر واجب ہے۔

    علاوہ ازیں آرمی چیف نے وزیراعظم شہبازشریف کے خلوص کے ساتھ 18، 18گھنٹے کام کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے جنگ کے دوران جس عزم کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے ۔

    دریں اثنا آرمی چیف کے اعزاز میں برسلز میں اوور سیز پاکستانیوں کی جانب سے دی گئی تقریب میں فیلڈمارشل عاصم منیر کا جنگ کے فاتح کے طور پر استقبال کیا گیا۔آرمی چیف برسلز کے ایونٹ میں کئی گھنٹے کھڑے ہوکر دور دور سے آنے والے پاکستانیوں سے ملتے رہے جب کہ اس موقع پر آرمی چیف کو مشورہ بھی دیا گیا کہ ایک ساتھ اتنے لوگوں سے ملنا بدانتظامی پیدا کرے گا جس پر انہوں نے کہا کہ لوگ دور دور سے آئے ہیں ان کا دل کیسے توڑا جاسکتا ہے جب تک آخری پاکستانی آرمی چیف سے ہاتھ ملا کر رخصت نہیں ہوا وہ کھڑے رہے ۔