کرونا کا مبینہ طور پر واحد علاج فائز کمپنی کی ویکسین کے سائیڈ افیکٹ سامنے آنے لگے، ماہرین نے سر پکڑ لیے
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کرونا کا علاج سمجھی جانے فائزرکمپنی کی ویکسین کا سائیڈ افیکٹ سامنے آگیا اس سلسلے میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) فائزر کورونا وائرس ویکسین کے بارے میں الرجی جیسے سائیڈ افیکٹ یا ردعمل کی تحقیقات کر رہی ہے ، یہ رد عمل فائزر ویکسین کے استعمال کے ایک ہفتے کے اندر امریکہ کی متعدد ریاستوں میں رپورٹ ہوا تھا .
ایف ڈی اے کے مرکز برائے تشخیص حیاتیات اور تحقیق کے ڈائریکٹر پیٹر مارکس نے جمعہ کے روز دیر گئے صحافیوں کو بتایا کہ الاسکا کے علاوہ ایک سے زیادہ ریاستوں میں بھی اس کے بارے میں ایسا رد عمل ظاہر ہوا ہے اور ایف ڈی اے پانچ رد عمل کی تحقیقات کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "ہم بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ، اور ہم واقعتا اپنے برطانیہ کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ، جنھوں نے یقینا الرجی کے رد عمل کی اطلاع دی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ان رد عمل میں سے ہر ایک سے حاصل ہونے والے تمام اعداد و شمار کو تلاش کرینگے جو واقعی ہوا تھا ، اور ہم یہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ویکسین کا کون سا جزو ان کی تیاری میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔اسی طرح شکاگو کے ہسپتال کرونا ویکسین کے رد عمل کی وجہ سے مریضوں کو لگانا ترک کردیا ہے جب اس کے چار افراد کو پر منفی رد عمل واضح ہونا شروع ہوا .
انہوں نے مزید کہا ، "مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس صحیح الرجک رد عمل کے علاج معالجے کی دستیابی کے ساتھ صحیح حکمت عملی موجود ہے ، اور ہم اس کی بہت قریب سے نگرانی کرتے رہیں گے.
مارکس نے کہا کہ ایف ڈی اے کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ ان کی وجہ سے کیا رد عمل ہوا ہے لیکن انہوں نے پولیٹین گلیکول نامی کیمیکل کا اشارہ کیا ، جو فائزر اور بائیو ٹیک کے ساتھ ساتھ موڈرنہ کے ذریعہ تیار کردہ ویکسینوں میں موجود ہے جو کہ اس سائیڈ افیکٹ کی وجہ بن سکتا ہے
کورونا کی دوسری لہر بے قابو، مزید اموات مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی : کورونا کی دوسری لہر بے قابو ہو گئی، مزید 80 افراد جاں بحق ہو گئے، مجموعی تعداد 9 ہزار 330 تک پہنچ گئی، 2 ہزار 615 نئے مریض سامنے آ گئے۔
این سی او سی کے مطابق مہلک وائرس سے اب تک چار لاکھ 57 ہزار 288 شہری متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ایکٹو کیسز کی تعداد 40 ہزار 553 ہو گئی۔ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 ہزار 206 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2615 مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں اب تک 63 لاکھ ایک ہزار 341 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
صوبہ سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں 2 لاکھ 4 ہزار 103 کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 31 ہزار 428، خیبر پختونخوا 54 ہزار 948، بلوچستان میں 17 ہزار 909 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ اسلام آباد میں 36 ہزار 117 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 822 کیسز سامنے آئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کورونا مریضوں کی تعداد 7 ہزار 961 تک پہنچ گئی.
ملک بھرمیں مثبت کیسز کی شرح 6.61 فیصد ہو گئی ہے۔ حیدرآباد میں کورونا مثبت کیسزکی شرح سب سے زیادہ 24.59فیصد ہوگئی ہے۔
کراچی میں کورونا مثبت کیسزکی شرح 11.20 فیصد، راولپنڈی17.21، آزاد جموں کشمیر 7.47، بلوچستان 3.56، گلگت بلتستان 1.07، اسلام آباد 3.5 فیصد ہے۔
لاھور: بھارت خطرناک ترین ملک ۔۔۔ عالمی ادارے کی رپورٹ ۔۔۔!!مودی سرکارکی پالیسیاں جلد بھارت کوتوڑدیں گی:مبشرلقمان کے انکشافات نے بھارتی حکومت کے عزائم کو ننگا کردیا ہے وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں کسانوں کی تحریک شروع ہوئے اب تو کئی دن گزر چکے ہیں۔ لیکن مسئلہ ختم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ہر ایک گزرتے دن کے ساتھ موسم شدید سرد ہوتا جا رہا ہے لیکن غریب کسان سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ بہت سے کسان اپنی جان بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ پنجاب کے بائیس اور مجموعی طور38کسان اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ دہلی کے کنڈلی بارڈر پر جاری کسان تحریک میں شامل سکھ سنت یعنی سکھ مذہبی رہنما رام سنگھ نے بھی خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی ہے۔ اور انہوں نے اپنی خودکشی کے نوٹ میں لکھا ہے کہ حکومت انصاف نہیں کر رہی اور انھیں اپنے کسان بھائیوں کو اس حالت میں دیکھ کر شدید تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔۔ اس خودکشی کی وجہ سے کسانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لیکن مودی سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگھ رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے کسانوں کےمعاملے پر کمیٹی بنانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اور حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان قوانین کا نفاذ روک دے تاکہ کشیدگی نہ بڑھے لیکن حکومت پھر بھی بضد ہے کہ انہوں نے یہ قوانین نافذ کرنے ہیں اور وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اگر یہ نافذ نہ کئے گئے تو کسان مذاکرات کے لئے سامنے نہیں آئیں گے۔
دوسری جانب اتنے کسانوں کے جان سے چلے جانے کے بعد اگر ہوا ہے تو صرف اتنا کہ مودی نے بیان جاری کیا ہے کہ میں تمام سیاسی جماعتوں سے ہاتھ جوڑ کر منت کرتا ہوں، سہرہ اپنے سر باندھ لیں۔ میں آپ کے پرانے انتخابی منشوروں کو کریڈٹ دے رہا ہوں۔ میں صرف کسانوں کی زندگی آسان بنانا چاہتا ہوں، میں ان کی ترقی چاہتا ہوں اور زراعت میں جدیدیت لانا چاہتا ہوں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ قانون کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھارتی وزیر زراعت نے ایک آٹھ صفحات کا خط بھی جاری کر دیا ہے جس میں چن چن کر زرعی قوانین کی تعریف کی گئی ہے۔ کسانوں کو ان کے فائدہ کے بارے میں بتایا ہے۔ اور تو اور مودی نے بھی کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس خط کو پڑھیں۔
ان کا مزید کہناتھا کہ لیکن اصل میں اس خط کی آڑ میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ وزرا سے لے کر وزیر اعلی تک محاذ سنبھال رہے ہیں اور کسانوں کے مخالف حکومت ایک اپنی نئی تحریک شروع کرنے کے موڈ میں ہے۔ اس مہم کے تحت مودی نے پہلے اپنے گجرات دورے کے دوران کسانوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی ہے۔ آج وہ اپنے مدھیہ پردیش کے دورے کےدوران وہاں کے کسانوں سے ملاقات کرے گا۔ دوسری طرف کچھ وزراء آج اتر پردیش میں میرٹھ کےکسانوں سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اور تمام ملاقاتوں کا مقصد یہ ہے کہ کسانوں کے اتحاد کو توڑا جائے ان کو تقسیم کیا جائے تاکہ یہ تحریک دم توڑ دے۔ اس مقصد کے لئے بی جے پی کے سوشل میڈیا سیل کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے جس کے زریعے سوشل میڈیا پر کچھ کسانوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں جو کہ مودی کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔ تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ بہت سے کسان اس بل کی حمایت کر چکے ہیں۔ جوکہ بالکل جھوٹ اور فراڈ ہے کسان بالکل بھی اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں وہ اپنی جانیں دے رہے ہیں لیکن اپنے احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹ رہے اور حکومت جو بھی کرلے وہ ان کو نہیں ہٹا سکتی۔
بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی پہلے ہی اپنی رپورٹ پیش کر چکی ہے کہ اگر حکومت نے کسانوں کو دبانے کی یا ان کے خلاف گولی چلانے کی کوشش کی تومرکز کو توڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آپ کو بتا دوں کہ نریندر مودی جس ہندوتوا سوچ کا مالک ہے اور جس طرح سے جنگی جنون اس کے سر پر سوار رہتا ہے تو اس کے بعد اب جلد ہی وہ ان کسانوں کے خلاف آپریشن کرے گا۔ کیونکہ وہ اپنے بیان میں بھی کہہ چکا ہے کہ وہ یہ قانون کسی صورت واپس نہیں لے گا۔ اس لئے یہ جو اپیل اورملاقاتیں کی جا رہی ہیں یہ صرف اور صرف ایک ڈرامہ ہے۔ اور اس سے پہلے بھی مودی سرکار یہ سب کچھ کرچکی ہے کشمیر میں جاری مظالم کو آپ ایک منٹ کے لئے سائیڈ پر بھی کر دیں تو آپ یاد کریں کہ شہریت کے متنازعہ بل پر اس مودی سرکار نے اپنے ہی ملک کے مسلمانوں کے خلاف کیا کیا تھا کیسے شاہین باغ میں عورتوں اور بچوں تک کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا۔ سٹوڈنٹس تک کو مارا پیٹا جاتا تھا لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں لوٹ مار کے بعد آگ تک بھی لگا دی گئی تھی۔
اس وقت کچھ فنکار مسلمانوں کی مدد کو آئے تھے۔ اسی طرح ابھی کسانوں کے احتجاج میں بھی کچھ سکھ اداکار، کھلاڑی اور مختلف شعبہ زندگی کے افراد نے نہ صرف شرکت کر رہے ہیں بلکہ سکھوں کی عملی مدد بھی کر رہے ہیں۔ لنگر کے زریعے ان کو کھانا بھی پہنچایا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف اکشے کمار نے مودی کی حمایت کی ہےان سے ملاقات بھی کی ہے۔ کنگنا رناوت نے بھی اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ کے زریعے کسانوں کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ لیکن ہمارے مسلمان فنکار ہمیشہ کی طرح بے شرمی کے ساتھ چپ بیٹھے ہیں۔ نہ تو وہ مسلمانوں کے حق میں سامنے آئے تھے اور نہ ہی اب ان سکھ غریب کسانوں کے لئے کوئی آواز اٹھا رہے ہیں۔
اس لئے میں آپ کو آج ہی بتا رہا ہوں کہ اب چند روز میں کسانوں کے احتجاج کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہونے والا ہے۔ لیکن مودی سرکار کو ایک بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اگر انہوں نے کسانوں کے ساتھ یہ کیا جس میں کہ زیادہ تر سکھ ہیں اگر سکھوں کے خلاف انہوں نے آپریشن کرنے کی غلطی کی تو پھر خالصتان تحریک ایک بار پھر عروج پر ہوگی اور پھر خالصتان کی آواز صرف بھارت کے اندر سے نہیں بلکہ کئی دوسرے ممالک سے بھی اٹھے گی۔ یہ تحریک پہلے بھی سکھ کسانوں کے احتجاج سے ہی شروع ہوئی تھی۔ اور بعد میں اس کا مرکز کینیڈا بنا لیا گیا۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو میں تو یہ کہوں گا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے سکھ بھائیوں کی مدد کرے انھیں کرتارپور بارڈر کے زریعے پاکستان میں پناہ دیں اور بین الاقوامی لیول پر بھی ان کی جو مدد ہوسکتی ہے وہ کی جانی چاہیے۔
ویسے مودی سرکار جو سب کچھ کر رہی ہے وہ خود ہی اپنے آپ کو بے نقاب کرتی جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں انسانی حقوق خصوصا اقلیتیوں کی شہری آزادی کیلئے کام کرنے والی بین الاقومی تنظیم نے بھارت کو مسلمانوں اور اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیدیا ہےsouth asia state of minoritiesکی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت پاکستان کیلئے شدید خطرناک اور پر تشدد ملک بن چکا ہے، بھارت کا شہریوں کا قومی رجسٹریشن کا قانون ممکنہ طور پر مسلمانوں کو شہری حقوق سے محروم کرسکتا ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھارت میں صحافتی آزادی پر بھی قدغن ہے اور ٹی وی چینلز بھی سخت حکومتی سینسر شپ کا شکار ہیں، حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے اداروں کو بندش بھی کرنا پڑا ہے۔ جبکہ فروری میں ہونے والے بھارتی مسلم مخالف فسادات اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دینے کیلئے منظم طور پر چلائی گئی مہم کو بھی اس رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
اور اب بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔ کسانوں کے احتجاج کو دبانے کے لئے ایک بار پھر بھارت پاکستان کے ساتھ کوئیsurgical strikesشروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جس کا اظہار آج شاہ محمود قریشی اور معید یوسف بھی اپنی پریس کانفرنس میں کر چکے ہیں۔ لیکن اب اگر بھارت نے کچھ ایسا کیا تو ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف بھارت کو اس کو منہ توڑ جواب دیں بلکہ اپنے سکھ بھائیوں کا ساتھ دیں۔ تاکہ مودی سرکار کو سبق حاصل ہو سکے کہ وہ جو سلوک مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ بھارت میں کر رہا ہے اب وہ نہیں چلے گا اس ظلم کو اب ختم ہونا چاہیے۔
لاہور:ایازصادق کا ن لیگ لاہورکا صدربننےسے انکار:بہت جلد پارٹی چھوڑجائیں گے:قیاس آرائیاں شروع ،اطلاعات کے مطابق سابق اسپکیر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مسلم لیگ لاہور کا صدر بننے سے معذرت کرلی۔ان کی طرف سے معذرت کے ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں زورپکڑ رہی ہیں کہ سردارایازصادق بہت جلد پارٹی چھوڑ جائیں گے
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صدر پرویز ملک صحت کے معاملات کے باعث عہدہ مزید سنبھالنا نہیں چاہتے۔مریم نواز کی طرف سے اصرار کو انہوں نے اس انداز سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے دوسرے امور اور حلقے پر زیادہ توجہ ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سرادار ایازصادق نے عہدہ قبول کرنے سے انکارکرتے ہوئے اپنی ذاتی مصروفیات اورطبیعت کی ناسازی کو بھی جواز بنایا
ایاز صادق نے ن لیگ لاہور کےصدرکی ذمہ داری کسی نوجوان کو دینےکا مشورہ دے دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ اب بوڑھے ہوگئے ہیں اس پارٹی کے لیے بہت قربانیاں دیں مگراب قربانی دینے کے لیے کچھ نہیں بچا
راولپنڈی: پاک چین فضائی مشترکہ مشقیں تعاون اور دوستی کے فروغ کا باعث بنیں گی: اطلاعات کے مطابق چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کا کہنا ہے کہ پاک چین فضائیہ کی مشترکہ مشقیں دوطرفہ تعاون اور دوستی کے فروغ کا باعث بنیں گی
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے پاک چین مشترکہ مشقوں شاہین 9 کے معائنہ کیلئے پاک فضائیہ کی آپریشنل ایئر بیس کا دورہ کیا۔
#COAS visited an Operational Base of Pakistan Air Force today to witness #Pakistan -China Joint Air Exercise “Shaheen-IX”. Shaheen-IX is 9th in the series of joint exercises between PAF & PLAAF which started in 2011 & are held in Pakistan & China on alternate basis. (1/4) pic.twitter.com/INvbCgXguh
پاک فوج کے ترجمان کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ایئر چیف مجاہد انور خان نے استقبال کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشقیں دونوں فضائی افواج کوایک دوسرے کےتجربات سے استفادہ کا شاندارموقع ہے۔
چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے فضائی مشقوں میں شریک دستوں کے پیشہ وارانہ معیار کو سراہا۔ جبکہ پی اے ایف اورپیپلزلبریشن ایئرفورس کی دوطرفہ مشقوں کے موثر انعقاد کی تعریف بھی کی۔
اس موقع پر جنرل ندیم رضا کا کہنا تھا کہ پاک چین فضائیہ کی مشترکہ مشقیں دوطرفہ تعاون اور دوستی کے فروغ کا باعث بنیں گی۔
…vital to increase combat readiness of both countries to face emerging geo-strategic challenges. While interacting with the base personnel, COAS lauded the professionalism and dedication of PAF and reiterated the importance of inter- services harmony & synergy (3/4) pic.twitter.com/ybQirw4lCA
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فضائیہ کی آپریشنل بیس کا دورہ کیا۔ ایئر بیس پہنچنے پر سربراہ پاک فضائیہ مجاہد انور خان نے استقبال کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دونوں ممالک کے افسران اور جوانوں سے ملاقات بھی کی اور پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور حربی صلاحیت کو سراہا۔
میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک چین ایئر فورس کی مشترکہ فوجیں مشقیں شاہین 9 کا مشاہدہ کیا، شاہین سیریز کی پاک چین مشترکہ مشقیں 2011ء میں شروع ہوئیں۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مشقوں سے باہمی اشتراک، آپریشنل ہم آہنگی میں بہتری آئے گی۔ انٹر سروسز ہم آہنگی سے آپریشنل کامیابی کو تقویت ملتی ہے۔
سپہ سالار کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی جنگی مشقوں سے دونوں ممالک کی ائیر فورس کی استعداد کار ، تجربہ سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ مشتر کہ تربیتی مشقوں سے دونوں ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت ملتی ہے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مشترکہ فضائی مشقوں سے دونوں ملکوں کی فضائیہ کی حربی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، پاک فضائیہ کے شاہینوں کا بلند عزم دوسروں سے منفرد کرتا ہے۔ فضائی مشقوں سے دونوں ملکوں کی فضائیہ کے درمیان پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ جیو سٹرٹیجک چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور چین کی مشترکہ فوجیں مشقیں اہم ہیں۔
…for operational success. “PAF’s cutting edge aside, what makes it Second to None is the high morale and thorough professionalism of its personnel.”COAS. (4/4)
اسلام آباد: اقوام متحدہ کے مبصرین کی گاڑی پرفائرنگ کیوں کی؟ بھارتی ناظم الامور دفترخارجہ طلب،اطلاعات کےمطابق خطے کے امن کو تباہ کرنے والی بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ملٹری مبصرین کی گاڑی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فوج نے گزشتہ روز پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کے ملٹری مبصر گروپ کی گاڑی کو ہدف بنایا تھا۔
اقوام متحدہ کے مبصرین لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چری کوٹ سیکٹر میں بھارتی سیز فائر کی خلاف ورزی سے متاثرہ افراد سے ملاقات کے لیے آزاد جموں و کشمیر کے گاؤں پولاس جارہے تھے۔
بلااشتعال فائرنگ کے اس واقعے میں گاڑی میں موجود دونوں مبصرین خوش قسمتی سے محفوظ رہے تھے اور انہیں پاک فوج نے بحفاظت راولاکوٹ پہنچا دیا تھا۔ تاہم بھارت کی اس اشتعال انگیزی سے اقوام متحدہ کی گاڑی کو نقصان پہنچا تھا۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ بھارتی فوج نے واضح طور پر جان بوجھ کر اقوام متحدہ کی گاڑی کو ہدف بنایا کیونکہ ان کی گاڑیاں اپنی علیحدہ مارکِنگ اور نیلے جھنڈے کی وجہ سے دور سے پہچانی جاتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی گاڑی کو قصداً نشانہ بنا کر اور سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کو ختم کرنے کی یہ کوشش کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت بھارت کی طرف سے سنگین خلاف ورزی ہے۔
ان قراردادوں اور منشور کے تحت ملٹری مبصرین کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا لازمی ہے، لیکن بھارت کی جانب سے یہ مبصرین کو کام سے روکنے کے بظاہر کوئی نئی چال لگتی ہے۔
بھارتی ناظم الامور پر واضح کیا گیا کہ ڈھٹائی پر مبنی یہ حرکت بین الاقوامی اقدار اور اقوام متحدہ کے منشور میں شامل اصولوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ قابل مذمت حرکت بھارتی قابض فورسز کے طرزعمل کی پستی کی نئی سطح کو بھی سامنے لاتی ہے جو نہ صرف کنٹرول کے اطراف آباد معصوم شہریوں کو بلکہ اقوام متحدہ کے مبصرین کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔
کوئٹہ:گوادرمیں باڑلگانےپربیرونی قوتوں کوبھی اعتراض اوران کے اندرونی دوستوں کوبھی اعتراض :جام کمال پھٹ پڑے،اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کو سیاسی رنگ دے کر ایشو بنایا جارہا ہے۔
جام کمال نے کمال گفتگو کرتے ہوئے کہ گوادرمیں باڑلگانے پرپاکستان کے دشمنوں کواعتراض بھی کوئی معمولی ایشو نہیں دکھ اس وقت بڑھتا ہے جب کچھ سیاستدان وہی زبان بول رہے ہیں جو دشمن کا کلام ہے تو دکھ ہوتا ہے
اپنے بیان میں جام کمال نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں ہر معاملے کو متنازع بنا رہی ہیں، سیندک، پی ایس ڈی پی اور باڈر پر باڑ لگانے کی بات کی جاتی ہے اور پھر ان کی جانب سے خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے، گوادر میں باڑ لگانے کے عمل کو سیاسی رنگ دے کر اسے سیاسی پلیٹ فارم پر ایک ایشو بنایا جارہا ہے۔
جام کمال نے کہا کہ باڑ لگانا گوادر سیف کیپنگ انکلوژر اور گوادر اسمارٹ سٹی کا ایک حصہ ہے، درحقیقت یہ انکلوژر شہر کی پشت پر پہاڑی سلسلے میں بنایا جارہا ہے، جب تک وہ مکمل نہیں ہوتا تب تک ایک عارضی طرز کا انکلوژر بنے گا، باڑ لگانے اور اس میں بہت بڑا فرق ہے۔
جام کمال نے کہا کہ کیا گوادر پورٹ فینس نہیں، کیا ایک پارک، بی آر سی ، کسی یونیورسٹی یا نیشنل پارک میں باڑ نہیں لگائی جاتی؟ ذاتی شکار گاہوں کی دیکھ بھال کے لئے فینس لگانا جائز تسلیم کیا جاتا ہے لیکن گوادر شہر کی نگرانی اور اس کی بہتری کے لیے کوئی بھی عمل کیا جائے تو اسے ایک ایشو کیوں بنا دیا جاتا ہے۔
کس کی ہدایت پر ایک جج صاحب سے باقاعدہ معافی مانگی ،چیف جسٹس پاکستان کا انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے پنجاب بار کونسل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر معاملے پر وکلا کو اعتماد میں لیتے ہیں،
چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ وکلا کے مسائل حل کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،ہر معاملے پر وکلا کو اعتماد میں لیتے ہیں، وکلااور ججز کے درمیان دیوار کو گرا د یا ہے،نئی جدتیں ہیں جو نئی نئی راہیں نکال رہی ہیں،ججز کی تعیناتی پر وکلا کو اعتماد میں لیا گیا ،ججز، وکلا باہمی مشارت کے ساتھ انصاف فراہم کر رہے ہیں ،
چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ وکلا حضرات کو جج صاحبان کے سامنے پرتشدد نہیں ہونا چاہیے ،انہی جمہوری اقدار سے ہم آگے بڑھیں گے ہم اپنے سسٹم میں جمہوری اقدار لے کر آئیں گے ،وکلا اور ججز میں کوئی تفریق نہیں ہے ، خواہش ہے کہ وکلا برادری سیکھنے کے عمل میں ثابت قدم رہے گی ایک کیس میں والد صاحب کی ہدایت پر ایک جج صاحب سے باقاعدہ معافی بھی مانگی مجھے خوشی ہوئی کہ وکلا برادری نے ہڑتال نہ کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا ،لاہور ہائیکورٹ کی خالی نشستوں پر بھی ججز کی تعیناتی جلد کرلیں گے ،عدالت اور وکلا کے مسائل میں وکلا کو اعتماد میں لیا جاتا ہے،
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں مختلف ادارے ہماری سرگرمیاں دیکھ رہے ہیں ،عدلیہ اور وکلا کو انصاف دلانے میں اپنی اپنی ذمے داریاں ادا کرنی چاہییں دادا کے مقدمے کا فیصلہ پوتے کے زمانے میں ہونے کا نظریہ ختم کیا جانا چاہیے بار کے ذمے داران کیلئے میرے دروازے ہمہ وقت کھلے ہیں ،
مشکوک قرار دیئے گئے 262 میں سے کتنے پائلٹ کے لائسنس کلیئر قرار؟عدالت میں رپورٹ جمع
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پائلٹ کی لائسنس منسوخی اور پی آئی اے سے برطرفی کیس میں وفاق کا تحریری جواب داخل کروا دیا گیا
پائلٹس کے جعلی لائسنسز کے کیس میں مشکوک قرار دیئے گئے 262 میں سے 172 پائلٹس کے لائسنس کلیئر قرار دے دیئے گئے،جعلی لائسنس کے حامل پائلٹس کیخلاف کارروائی ایف آئی اے کے سپرد کردی گئی،وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کرادیا۔
وفاق کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ 50 پائلٹس کے لائسنس تصدیق نہ ہونے کے باعث منسوخ کردیئے ، لائسنس منسوخ کرنے کی سمری وفاقی کابینہ سے بھی منظورکرلی گئی، ایف آئی اے جعلی پائلٹس کیخلاف کریمنل کارروائی کا آغاز کرے گی ،آرٹیکل 199 کے تحت جعلی لائسنس کے حامل پائلٹ کو ریلیف نہیں دیاجاسکتا،
جواب میں کہا گیا کہ یورپی ایوی ایشن کی پابندیاں ریموٹ آڈٹ کے بعد ہی ختم ہو سکتی ہے۔ حکومت کاکہناہے کہ آڈٹ جنوری 2020 سے شروع ہونا شیڈول میں ہے،
جواب میں سپریم کورٹ میں کیس کے فیصلے تک ہائیکورٹ میں کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں طیارہ حادثہ کے بعد وفاقی وزیر ہوا بازی نے ایوان میں کہا تھا کہ پائلٹ کے لائسنس جعلی ہیں اور اس کے بعد انکے خلاف ایکشن لیا گیا تھا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کل 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک تھے۔ جن میں سے 54 پائلٹس نے امتحان میں شرکت نہیں کی تھی۔28 پائلٹس کے لائسنس منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ 193 پائلٹس کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں اور38 پائلٹس نے ملتے جلتے ناموں سے لائسنس بنوارکھے ہیں جس کو چیک کیا جارہا ہے
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ انکوائری بورڈ نے مجھے جو نمبرز دیئے وہی میں نے ایوان اور کابینہ میں پیش کیے، 161 لوگوں کو شوکاز نوٹسز جاری ہوئے، 262 میں سے 28 پائلٹس کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا۔ جعلی ڈگریوں سے متعلق جو نمبر انکوائری رپورٹ میں تھے وہی سپریم کورٹ میں بھی دیئے ہیں۔
وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا مزید کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن کےلائسنس ٹھیک تھے ان کو حاصل کرنے کا طریقہ ٹھیک نہیں تھا، اگرجعلی لائسنس بنےہیں تواس کا ذمہ دار سول ایوی ایشن ہی ہے۔ ہم نے بیوروکریسی میں بھی موجود گندگی کی صفائی کا مینڈیٹ لیا ہوا ہے، افسر شاہی کو بھی اپنے اثاثے ڈیکلیئر کرنےچاہیے وہ مقدس گائے نہیں ہیں۔
کیماڑی میں ایک بار پھر پراسرار زہریلی گیس کا اخراج،15 افراد ہسپتال منتقل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی کے علاقے کیماڑی میں ایک بار پھر پراسرار زہریلی گیس کا اخراج ہوا ہے
پندرہ سے زائد افراد سانس لینے میں دشواری ہر اسپتال منتقل کر دئیے گئے،تمام افراد کو ضیاء الدین کیماڑی لایا گیا یے ،کیماڑی کی فضاء آلودہ دکھائی دے رہی ہے لوگوں کو۔سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے
عینی شاہدین کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ پر سویابین اور کرنکل کے جہاز لنگر انداز ہیں ،کراچی پورٹ کے برتھ نمبر دو۔تین پانچ پر کرنکل کے جہاز لنگر انداز ہیں ،کراچی پورٹ کے برتھ نمبر گیارہ اور بارہ پر سویابین۔کے جہاز لنگر انداز ہیں،سارے جہازوں کوایک ساتھ خالی کرنے پر فضاء گرد الود ہوگئی
رواں برس ماہ فروری میں کیماڑی میں ہی زہریلی پراسرا گیس سے 14 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے،
سیپا نے تحقیقات کے بعد ایک مقام پر ہائیڈروجن سلفائیڈ کا سراغ لگایا تاہم، ریسرچ آف کیمسٹری جامعہ کراچی نے ہلاک افراد کے خون کے نمونوں کی جانچ پڑتال کے بعد رپورٹ میں کہا کہ نمونوں میں سویابین ڈسٹ پایا گیا ہے، جو کہ انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔