Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سانحہ مچھ’’فساد پھیلانے والے 35، 40 لوگ ہیں، ہمیں سب معلوم ہے‘‘بڑے خطرناک عزائم تھے :وزیراعظم

    سانحہ مچھ’’فساد پھیلانے والے 35، 40 لوگ ہیں، ہمیں سب معلوم ہے‘‘بڑے خطرناک عزائم تھے :وزیراعظم

    کوئٹہ: سانحہ مچھ’’فساد پھیلانے والے 35، 40 لوگ ہیں، ہمیں سب معلوم ہے‘‘بڑے خطرناک عزائم تھے :وزیراعظم کی کوئٹہ میں گفتگو:اطلاعات کے مطابق کوئٹہ دورے کے دوران مچھ سانحہ کے لواحقین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جو وعدے کیے گئے حکومت انہیں پورا کرے گی۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، متاثرہ گھرانوں نے بلوچستان آمد اور داد رسی کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔لواحقین نے بتایا کہ سانحہ مچھ کوئی پہلا واقع نہیں بلکہ اس سے قبل بھی برادری کے ساتھ واقعات ہوچکے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ پورا ایک سال ہم نےکوشش کی آپ لوگوں کوتحفظ دیں، ہم آپ کولکھ کردیں گے جو وعدے کیے پورے کریں گے،ماضی میں بھی ہزارہ برادری کے پاس آیا تھا اب دوبارہ آیا ہوں’ْ

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہزارہ برادری کےتمام مسائل سمجھتاہوں،ماضی میں ایک کالعدم تنظیم کانام لیا تو انہوں نےمجھے دھمکیاں دیں، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے آگاہ کیا تھا بھارت پاکستان میں انتشار چاہتاہے،پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات ہوسکتے ہیں‘۔

    ’ مجھے بریفنگ دی گئی کہ شیعہ اور سنی علمائےکرام کونشانہ بنایاجائے گا، کراچی میں ایک سنی عالم کو شہیدکیا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی ایجنسیز نے بہترین کام کرکے اس سازش کو ناکام بنادیا، اس سازش کا مقصد شیعہ سنی کو لڑانا تھا، ہم نےمل کر ایس سازش کو ہمیشہ ناکام بناناہے‘۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ 35،40لوگ دہشت گردی کررہےہیں، یہ لوگ پہلے لشکرجھنگوی تھے اب داعش میں چلےگئے ہیں، ہمیں فساد پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کا علم ہے، جلد اُن کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا‘۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ ہزارہ برادری کویقین دہانی کراتے ہیں آپ کو تحفظ فراہم کیاجائے گا، ایک سیکیورٹی گروپ بنارہےہیں جو ہزارہ برادری کی سیکیورٹی دیکھےگا‘۔

    عمران خان نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’جب وزیراعظم نہیں تھا تو ہزارہ برادری سےملنےآیا تھا، میں نے اسی لیےکہاکہ پہلے تدفین کردیں پھر میں آؤں گا کیونکہ اگر کل کو کوئی اور وزیراعظم ہوگا تو آنے کا اصول بن جائے گا، مشکور ہوں کہ شہداکی تدفین کردی گئی‘۔

    وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ ’میں سیکیورٹی اداروں اور فورسز کے ساتھ رابطے بھی تھا اور صورت حال پر گہری نظر تھی، ہزارہ برادری کویقین دہانی کراتاہوں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہزارہ برادری سےجوبھی وعدےکیے وہ پورےکریں گے،

    پاکستان ہی نہیں دنیا میں مسلمانوں کو متحدکرنےکی کوشش کررہا ہوں کیونکہ ہمیں علم ہے کہ مسلمانوں کو تقسیم کر کے دنیا پر کون حکمرانی کررہا ہے، پاکستانی قوم کو بھی تقسیم کر کے مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں، میرا ایک ہی مقصد ہے کہ اپنی قوم کو متحدکروں، ہم متحدہوں گے تو مسائل نہیں ہوں گے اور ایسےواقعات کامقابلہ کرسکیں گے

  • فضاوں میں ہوائی جہازغائب ہونے لگے:انڈونیشیا کا مسافرطیارہ بھی لاپتہ:دنیا پرخوف طاری

    فضاوں میں ہوائی جہازغائب ہونے لگے:انڈونیشیا کا مسافرطیارہ بھی لاپتہ:دنیا پرخوف طاری

    جکارتہ :فضاوں میں ہوائی جہازغائب ہونے لگے:انڈونیشیا کا مسافرطیارہ بھی لاپتہ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک عجیب کیفیت طاری ہے کہ اب فضاوں میں دنیا کے مسافر طیارے لاپتہ ہونے لگے ، اس سلسلے کا تازہ واقعہ آج انڈونیشیا میں پیش آیا

     

     

    ذرائع کے مطابق انڈونیشیا میں نجی ایئرلائن کے طیارے کا دارالحکومت جکارتہ سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔

     

     

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق مقامی میڈیا نے کہا کہ جہاز میں 50 سے زائد افراد سوار تھے اور وہ مغربی کلیمنتان صوبے کے شہر پونٹیانَک جارہا تھا۔

     

    قابل اعتماد ٹریکنگ سروس ‘فلائٹ ریڈار 24’ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘سری وِجایا ایئر کی پرواز ‘ایس جے 182’ کی بلندی میں جکارتہ سے اڑان بھرنے کے بعد تقریباً 4 منٹ بعد ایک منٹ سے بھی کم وقت میں 10 ہزار فٹ کی کمی آئی۔

    ٹریکنگ ڈیٹا میں موجود رجسٹریشن تفصیلات کے مطابق لاپتہ ہونے والا بوئنگ 500-737 جہاز 27 سال پُرانا تھا۔انڈونیشین ایئرلائن سری وِجایا ایئر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے بیان سے قبل طیارے سے متعلق اب بھی تفصیلی معلومات جمع کر رہی ہے

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے ملائیشیا کا ہوائی جہازبھی لاپتہ ہوا تھا

  • چھ پاکستانی نوجوان غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں چلے گئے

    چھ پاکستانی نوجوان غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں چلے گئے

    بھارت کی بارڈرسیکیورٹی فورس (بی ایس ایف)نے جمعہ کی شام کو غلطی سے سرحدعبور کرنے والے جن 6 پاکستانی نوجوانوں کو گرفتارکیا تھا ہفتہ کو رات دیر گئےانہیں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان رینجرز کے حکام کے حوالے کردیا۔ ان تمام پاکستانی شہریوں کا تعلق صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہےاور یہ لاہورکے قریب بارڈرایریا میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ بی ایس ایف نے جمعہ کے روز لاہوراورامرتسرسے تقریبا ڈھائی کلومیٹر دور بھارتی بارڈر کے بالکل ساتھ واقع گاوں پلموراں سے جن 6 پاکستانی نوجوانوں کو گرفتارکیاتھا ان کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ ان کے نام محمدآصف ولد عاشق حسین، عمرفاروق ولد حاجی محمد ایوب، محمدعارف ولد ساجد خان، محمد ارسلان ولد محمد بلال، راجہ عباس ولد غلام شبیر اورشوکت ولدیاسین بتائے گئے ہیں۔بھارتی حکام نے ان نوجوانوں کے قبضے سے دو اسمارٹ فونز، تین فیچر فونز، 9 فون سمیں، تین میموری کارڈ، ایک ہیڈ فون، تین بٹوے اور چھ بجلی کے بل برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم ان کے قبضہ سے کوئی مشکوک چیزبرآمد نہیں ہوئی۔ ہفتہ کے روز ان نوجوان کی واپسی کے حوالے سے پاکستان اورانڈیا کی سرحدی فورسز کے مابین فلیگ میٹنگ بھی ہوئی۔ بی ایس ایف نے جمعہ کے روزان نوجوانوں کی گرفتاری سے متعلق پاکستانی حکام کو آگاہ کیا تھا، جس کے بعد ان کی شناخت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں سردی اوردھندکی وجہ سے پاکستان اورانڈیاکوتقسیم کرنیوالے زیرولائن کو دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے سے متعلق معلومات نہ رکھنے والے دونوں طرف کے افراد غلطی سے ایک دوسرے ملک کے علاقے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ بعض شہریوں کو بھارت کی طرف سے لگائے گئے لوہے کے جنگلے کی وجہ سے بھی زیرولائن کا دھوکا ہوجاتا ہے۔ عام شہری اس جنگلے کو سرحد سمجھتے ہیں جبکہ جنگلا انڈیا نے کئی میٹراندراپنی حدود میں لگایا ہے۔

  • آپ کس کوخوش کرنے کے لیے قوم کوجھوٹی خبریں پہنچا رہے ہیں :وزیراعظم توایسی چیزوں کوپہلے ہی پسند نہیں کرتے

    آپ کس کوخوش کرنے کے لیے قوم کوجھوٹی خبریں پہنچا رہے ہیں :وزیراعظم توایسی چیزوں کوپہلے ہی پسند نہیں کرتے

    کوئٹہ :آپ کس کوخوش کرنے کے لیے قوم کوجھوٹی خبریں پہنچا رہے ہیں :وزیراعظم توایسی چیزوں کوپہلے ہی پسند نہیں کرتے،اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو کوئٹہ میں پولیس دستے کی سلامی کی خبر درست نہیں، سلامی دینے کی خبر درست نہیں، خبر دینے والے نمائندے کے خلاف ایکشن لیا جائے،

    اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل کہتے ہیں کہ ہرکسی کوعلم ہے کہ وزیراعظم انتہائی سادہ انسان ہیں وہ تو وزیراعظم عام دنوں میں بھی ایسی چیزیں پسند نہیں کرتے اب تو لواحقین کو ملنے گئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو سلامی دینے کی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹر پر خبر شیئر کی اور کہا کہ یہ خبر غلط ہے۔

    اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ خدا را سچ بولیں ، ان کا کہنا تھا کہ حیرانی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں یہ چینلز کس کوخوش کرنے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلارہے ہیں ، اگرہم آپ کا کچھ نہیں‌ کرسکتے توایک ذات ہے جوجھوٹ اورفریب کو بے نقاب بھی کرتی ہے اورسخت سزا بھی دیتی ہے ،

    ڈاکٹرشہبازگل کہتے ہیں‌ کہ چینلز جیو نیوز سے گزارش ہے کہ اپنے لوکل نمائندے کے خلاف ایکشن لیں، جس نے یہ غلط خبر فائل کی۔ پولیس کے دستے کی سلامی کی خبر جھوٹ پر مبنی ہے۔ وزیراعظم عام دنوں میں بھی ایسی چیزیں پسند نہیں کرتے اب تو لواحقین کو ملنے گئے ہوئے ہیں۔ براہ مہربانی جائز رپورٹنگ کی جائے۔

    واضح رہے وزیراعظم عمران خان آج سانحہ مچ کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیلئے کوئٹہ پہنچے ہیں، وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء بھی ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کا استقبال کیا، وزیراعظم عمران خان کی زیرصدات کوئٹہ میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں امن اوامان کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس کے بعد وزیراعظم نے سانحہ مچ کے لواحقین سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا۔

  • نعوذباللہ : ن لیگی رہنما احسن اقبال نے پھرپیغمبردوجہاں حضرت محمد ﷺ  کے نام مبارک کی توہین کردی

    نعوذباللہ : ن لیگی رہنما احسن اقبال نے پھرپیغمبردوجہاں حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک کی توہین کردی

    لاہور:نعوذباللہ : ن لیگی رہنما احسن اقبال نے پھرپیغمبردوجہاں حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک کی توہین کردی ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے پیغمبردوجہاں حضرت محمد ﷺ کے نام کی پھرتوہین کرکے مسلمانوں کے جذبات کومجروح کیا ہے ، ادھر دوسری طرف عوامی غیض وغضب میں بہت اضافہ ہوگیا ہے اوراطلاعات یہ ہیں کہ احسن اقبال کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ زورپکڑگیا ہے

     

     

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ دو دن قبل بنوں میں پی ڈی ایم کے جلسے میں احسن اقبال یہ گستاخیاں کرتے رہے ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ احسن اقبال نے کئی بارپیغمبردوجہاں کا مقدس نام مبارک بیگاڑ کے ساتھ پیش کرتے رہے

    اپنی گفتگو میں احسن اقبال عمران خان کو”جھوٹوں کا پیغمبر” کہہ کرتوہین کرتے رہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی احسن اقبال گستاخی کرچکے ہیں جس پرنارووال کے ایک نوجوان نے احسن اقبال پرحملہ بھی کردیا تھا

    احسن اقبال نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کوئی اللہ اوررسول کا ٹھیکیدار نہیں ،یہاں کوئی رسول ﷺ کی فرنچائز نہیں ، جس پرایک نوجوان نے احسن اقبال پرحملہ بھی کردیا تھا
    دوسری طرف احسن اقبال کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے

  • وزیراعظم کوئٹہ پہنچ گئے ، ساتھ کون سے وفاقی وزیر ؟

    وزیراعظم کوئٹہ پہنچ گئے ، ساتھ کون سے وفاقی وزیر ؟

    وزیراعظم کوئٹہ پہنچ گئے ، ساتھ کون سے وفاقی وزیر ؟

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان سانحہ مچھ کے لواحقین سے تعزیت کرنے کے لئے کوئٹہ پہنچ گئے۔ شیخ رشید بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ عمران خان سانحہ کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کے متعلق بھی آگاہ کریں گے۔

    دوسری جانب سانحہ مچھ میں جاں بحق افراد کے ورثا کے حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے پردھرنا ختم ہوگیا۔ شہدا کمیٹی کے رہنماؤں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی مذہب، مسلک یا زبان کے خلاف احتجاج نہیں کیا، شہیدوں کے لواحقین کے مطالبے پر دھرنا دیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے شہدا کمیٹی اور لواحقین کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کوشش رہی کہ ہزارہ برادری سے تعاون کریں۔

    وفاقی وزیرعلی زیدی کا کہنا ہے کہ ماضی میں حکومتیں وعدے کر کے چلی جاتی تھیں، پہلی بار ہزارہ برادری کے ساتھ حکومت نے تحریری معاہدہ کیا، واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنا دی۔

    شہدا کے لواحقین کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنے بھی ختم ہوگئے۔دوسری جانب سانحہ مچھ میں جاں بحق افراد کے ورثا کے حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے پردھرنا ختم ہوگیا۔ شہدا کمیٹی کے رہنماؤں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی مذہب، مسلک یا زبان کے خلاف احتجاج نہیں کیا، شہیدوں کے لواحقین کے مطالبے پر دھرنا دیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے شہدا کمیٹی اور لواحقین کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کوشش رہی کہ ہزارہ برادری سے تعاون کریں۔

    وفاقی وزیرعلی زیدی کا کہنا ہے کہ ماضی میں حکومتیں وعدے کر کے چلی جاتی تھیں، پہلی بار ہزارہ برادری کے ساتھ حکومت نے تحریری معاہدہ کیا، واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنا دی۔

    شہدا کے لواحقین کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنے بھی ختم ہوگئے۔

  • سانحہ مچھ کے شہدا کی  تدفین کر دی گئی ، کون کون سی بڑی شخصیات شامل ہوئیں

    سانحہ مچھ کے شہدا کی تدفین کر دی گئی ، کون کون سی بڑی شخصیات شامل ہوئیں

    سانحہ مچھ کے شہدا کی تدفین کر دی گئی ، کون کون سی بڑی شخصیات شامل ہوئیں

    باغی ٹی وی : سانحہ مچھ کے شہدا کی کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں تدفین کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں وفاقی، صوبائی وزرا، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وفاقی وزیر علی زیدی، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری نے دھرنے کے شرکا سے ایک بار پھر مذاکرات کیے جس کے بعد لواحقین نے حکومتی ٹیم کیساتھ تحریری معاہدہ کر کے 6 روز بعد دھرنا ختم کر دیا۔

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ جو مطالبات ہمارے سامنے رکھے گئے وہ مشکل تھے، تاہم جن افسران کو ہٹانا تھا ان کا فیصلہ ہوچکا، شہدا ایکشن کمیٹی سے ہمارا تحریری معاہدہ ہوچکا، کبھی کسی حکومت نے ماضی میں تحریری معاہدہ نہیں کیا تھا، ہم ملکر کام کرینگے تو مسائل حل ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا جے آئی ٹی کا اعلان ہو گیا ہے، ایک اعلیٰ سطح کا کمیشن بنے گا۔ وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ اس کی سربراہی کریں گے، پولیس افسر سمیت دو اعلیٰ افسر اس کے ممبر ہونگے اور شہدا کمیٹی سے بھی 2 ممبران لئے جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے سکیورٹی ادارے مل کر حکمت عملی بنائیں گے ، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مانیٹرنگ ضروری ہے، سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا، اسی طرح نادرا، پاسپورٹ آفس، امیگریشن کے حکام پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے۔

    علی زیدی نے کہا کہ شہدا کے ورثا کو بلوچستان حکومت ملازمت دے گی، شہدا کے لواحقین میں سے طالب علموں کو سکالرشپس دی جائیں گی، شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، قوم کو ان دہشتگردوں سے بچانا ہے، بلوچستان کی زمین اور سمندر میں اتنی طاقت ہے کہ ہمارے معاشی مسائل ختم کرسکتا ہے لیکن بلوچستان کے لوگ بیڈ گورننس کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ، اب سب ٹھیک کرینگے۔

  • سانحہ مچھ ، ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرلی گئی:اہم شخصیت کادعویٰ

    سانحہ مچھ ، ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرلی گئی:اہم شخصیت کادعویٰ

    کوئٹہ :سانحہ مچھ ، ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرلی گئی:اہم شخصیت کادعویٰ ،اطلاعات کے مطابق ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث عناصر کی نشاندہی کردی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا ہے کہ ہزارہ برادی کے خلاف ہونے واقعات میں ملوث ملزمان کی نشاندہی پہلے سے ہوگئی ہوئی ہے ، تحقیقات میں یہ واضح تھا کہ جتنے بھی را یا این ڈی ایس مل کر بلوچستان میں یہاں تک کارروائیوں میں ملوث ہے کہ ٹارگٹ بھی وہ ہی سلیکٹ کرتے ہیں ،

    سابق وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کہتے ہیں‌ کہ وہ تنظیمیں‌ پاکستان میں اپنی پراکسی کی وجہ سے آپریٹ کرتے ہیں جن میں ٹی ٹی پی ، لشکر جھنگوی العالمی ، جیش الاسلام شامل ہیں ، جس سے بہت زیادہ نقصان تو ہوا لیکن ان دہشت گرد تنظیموں کے لوگ بھی مارے گئے ، مجھے لگتا ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں نے افغانستان میں خود کو کہیں ایک بار پھر سے خود کو منظم کرلیا ہے۔

    نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعے کو بھی پہلے والے تسلسل کے ساتھ جوڑیں تو جس میں تقریباً 80 ہزار پاکستانیوں نے جانیں دی ہیں ، دہشت گردی کی جو بنیاد ہے وہ نائن الیون کے بعد جو اس ملک میں شروع ہوئی ہے وہ دہشت گردی پاکستان میں آئی اور اس دہشت گردی نے جہاں ہمیں اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا جب کہ انسانی جانوں کی صورت میں 80ہزار پاکستانیوں نے نذرانہ دیا ، جس مین سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

  • واہ شیر دی بچی اے:نہئیں‌ اوتیری آں‌ ریساں،مریم نوازنے ہزارہ کمیونٹی کی میتوں پرجوکام کیا،وہ 73 سال میں کوئی نہ کرسکا

    واہ شیر دی بچی اے:نہئیں‌ اوتیری آں‌ ریساں،مریم نوازنے ہزارہ کمیونٹی کی میتوں پرجوکام کیا،وہ 73 سال میں کوئی نہ کرسکا

    کوئٹہ:واہ شیر دی بچی اے:نہئیں‌ اوتیری آں‌ ریساں،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہونہاربیٹی مریم نواز نے تو کمال ہی کردیا ہے ، اس کی اس خوبی پرتو ہرکوئی حیران ہی رہ گیا ہے

    ذرائع کے مطابق مریم نواز جو کہ ایک طرف ہزارہ کمیونٹی سے ہمدردی کی خاطر کوئٹہ میں موجود ہیں‌وہاں‌ وہ ایک طرف میتوں پرسیاست تو دوسری طرف وہ کام کررہی ہیں کہ جس کی پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی

    مریم نواز جہاں ایک طرف میتیں پڑی ہیں‌وہاں ہی تھوڑے ہی فاصلے پربلوچستان کے مشہور ڈھول والوں سے ڈھول ڈھمکے سن کرنہ صرف آپ خوش ہورہی ہیں بلکہ وہ اپنے چاہنے والوں کے بتارہی ہیں کہ میں‌کیسی عظیم خاتون ہوں‌جو میتوں کی روح کوبھی تسکین دیتی ہوں‌

     

    https://twitter.com/SHABAZGIL/status/1347600431862706181

    اسی حوالے سے ڈاکٹرشہبازگل نے ایک ویڈیوبھیجی ہے جس میں‌مریم نواز ایک کھلی جگہ پربیٹھ کر وہاں سیرسپٹے کررہی ہیں ، ساتھ ہی مغل حکمرانوں کی طرح‌شاہانہ انداز سے سردی سے بچاو کی خاطر آگ چلانے کے لیے شاہی چولہے استعمال کرکے یہ ثابت کررہی ہیں کہ وہ ایک عظیم خاتون ہیں

    اس ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ مریم نوازمشہور فنکاروں کے دوہڑوں اور سازوں والے ڈھول ڈھمکے سے بڑی خوش نظرآرہی ہیں ساتھ ہی تھوڑے ہی فاصلے پرہزارہ کمیونٹی کے لوگ اپنے مرنے والوں کی میتوں کے ساتھ بیٹھے ہیں

    یہاں مریم نواز ڈانس دیکھ کر بہت ہی زیادہ خوش ہورہی ہیں ، جس میں وہ مریم نواز کومخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ "بی بی ہے جمالو”

    مریم نواز کی اس شریفانہ حرکت کودیکھ کراپوزیشن تو شاید مذمت نہ کرے لیکن پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ بہت ہی غمزدہ ہے اوروہ احتجاج کرتے ہوئےنوحہ کناں ہےکہ یہ ہیں‌وہ خاندان جواپنے مفاد کے لیے اس قدر گھٹیا سوچ اپنا رہے ہیں

  • چند مذہبی عناصر کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کیلئے میتوں کو استعمال کررہے تھے : تدفین ہوگئی بہترہوگیا: عبدالخالق ہزارہ

    چند مذہبی عناصر کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کیلئے میتوں کو استعمال کررہے تھے : تدفین ہوگئی بہترہوگیا: عبدالخالق ہزارہ

    کوئٹہ:چند مذہبی عناصر کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کیلئے میتوں کو استعمال کررہے تھے : تدفین ہوگئی بہترہوگیا:،اطلاعات کے مطابق ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین وصوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہاہے کہ خدا کا فضل ہوا تدفین ہوگئی ،

    عبدالخالق ہزارہ کہتے ہیں کہ عمران خان کو آنے پر مجبورکرنے والے کسی بڑی سازش کےلیے سیاست کررہے تھے ان کا کہنا تھا کہ دھرنا میں لواحقین اور منتظمین کے مطابق الگ الگ،کچھ مطالبات آئین سے ٹکراؤ اور کچھ عدالتوں میں جاری کیسز سے تھا ،چند مذہبی عناصر کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کیلئے میتوں کو استعمال کر رہے تھے،

    ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین وصوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہاہے کہ ماضی کی بنسبت موجودہ حالات قدرے بہتر ہے، احتجاج سب کا حق ہے مگر میتوں کے ہمراہ احتجاج نامناسب ہے،مجلس وحدت المسلمین نے اس دھرنے کی ذمہ داری لی جبکہ نام لواحقین کا لیا جارہاتھا ۔

    عبدالخالق ہزارہ نے مچھ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ مچھ واقعہ دہشت گردی کے حوالے سے اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے،

    ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین وصوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہا ہےکہ واقعہ کے روز ہی ہزارہ برادری کے نمائندہ قادر نائل اور احمد علی کوہزاد موقع پر پہنچ گئے تھے بعدازاں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس معاملے پر مشاورت کی،جس میں یہ طے پایا تھا کہ اگلے روز ایک بجے میتوں کی تدفین کی جائے گی،اسٹیک ہولڈرز کیا جلاس میں کچھ پارٹیوں کا یہ فیصلہ تھا کہ ہمیں دھرنا دینا چاہیئے،

    ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین وصوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا کہ تدفین کے بعد ہم دھرنا دینگے جبکہ اراکین اسمبلی بلوچستان اسمبلی میں تحاریک پیش کرینگے، اگلے روز کچھ لوگوں نے زبردستی جنازوں کو اٹھا کر سڑک پر دھرنا دے دیا، دھرنے میں کہا جارہا ہے کہ لواحقین کی یہ خواہش تھی مگر بیچارے لواحقین اس بارے میں نہیں جانتے، دھرنے میں جو مطالبات کئے جارہے ہیں لواحقین کا ان سے کوئی سروکار نہیں،

    ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین وصوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ نےکہا ہےکہ ہم اس واقعہ کا سفاکیت کی ایک بڑی مثال سمجھتے ہیں، میتوں کے غم زدہ لواحقین کے ہر دکھ درد میں ہم انکے ساتھ ہیں، ہزارہ برادری پر دہشت گردی کے سینکڑوں واقعات ہوئے، انہوں نے کہاکہ آج جو پارٹیاں ہمارے غم میں شریک ہورہی ہیں کل انہی پارٹیوں کے دور میں بھی ہم پر حملے ہوتے رہے،

    ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین وصوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ نےکہتے ہیں کہ سال 2013 میں ایک ہزار کلوگرام دھماکہ خیز مواد میں C4 بارودی مواد شامل کیا گیا، دہشت گردی کا یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، ہماری حکومت میں ہم نے امن و امان کے قیام میں بڑی کامیابی حاصل کی، آج امن و امان میں واضح بہتری نظر آرہی تھی، دشمن کبھی نہیں چاہے گا

    ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین وصوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہا ہے کہ یہاں قومیں ایک دوسرے کے ساتھ برابری سے چلیں، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے پے درپے واقعات کے بعد بھی مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی بات کی، دشمن یہی چاہتا ہے کہ یہاں بدامنی کو فروغ ملے، ہزارہ برادری کے دو ہزارمیتوں میں ہمارے دور حکومت میں محض 20 لوگ شہید ہوئے،

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی نسبت اب صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے، احتجاج سب کا حق ہے مگر میتوں کے ہمراہ احتجاج نامناسب ہے، اس بار کے دھرنے میں لواحقین اور منتظمین کے مطالبات الگ الگ ہیں، کچھ مطالبات آئین سے ٹکراؤ کا باعث ہیں، ہم لواحقین کے مطالبات کو مانتے ہیں منتظمین کے مطالبات کو نہیں، مذہبی عناصر کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کے لئے شہدا کو استعمال کر رہے ہیں،

    انہوں نے کہاکہ مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، کچھ مطالبات کا تعلق عدالتوں میں جاری سماعتوں سے ہے، دھرنے کا فائدہ کچھ اور قوتیں اٹھانا چاہ رہی ہیں دوسری جانب متحدہ اپوزیشن بھی اس دھرنے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہ رہی ہیں، مجلس وحدت المسلمین نے اس دھرنے کی ذمہ داری لی جبکہ نام لواحقین کا لیا جارہا ہے.