Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مسئلہ کشمیراوراسلاموفوبیا کیخلاف قراردادوں پرسعودی حمایت پرشکرگزارہیں  ‌:  وزیرخارجہ

    مسئلہ کشمیراوراسلاموفوبیا کیخلاف قراردادوں پرسعودی حمایت پرشکرگزارہیں ‌: وزیرخارجہ

    اسلام آباد: مسئلہ کشمیراوراسلاموفوبیا کیخلاف قراردادوں پر سعودی حمایت پرشکرگزارہیں‌:اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر اور اسلاموفوبیا کے رجحان کے خلاف قراردادوں پر سعودی عرب حمایت پر اس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔

    تفصیل کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر اور اسلاموفوبیا کے رجحان کے خلاف قراردادوں پر سعودی حمایت پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی سطح پر دو طرفہ تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر مشاورت کی

    وزیر خارجہ نے نیامے میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے سنتالیسویں اجلاس کے موقع پر مسئلہ کشمیر اور اسلاموفوبیا فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف قراردادوں پر سعودی عرب کی حمایت پر سعودی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا

    اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کی کی پاکستان آمد کے منتظر ہیں۔ وزیر خارجہ نے قطر اور خلیجی ممالک کے مابین تنازعات کے حل کیلئے سعودی مثبت کردار کو سراہا۔ وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب کو کورونا کے باوجود جی سی سی سمٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔

  • مریم ،بلاول مبارک ہو:آپ کے وزیراعظم کی کوششوں سے پاکستان کی برآمدات بھارت اوربنگلہ دیش سے بڑھ گئیں:عمران خان

    مریم ،بلاول مبارک ہو:آپ کے وزیراعظم کی کوششوں سے پاکستان کی برآمدات بھارت اوربنگلہ دیش سے بڑھ گئیں:عمران خان

    اسلام آباد :مریم اوربلاول تمہیں مبارک ہو:پاکستان کی برآمدات بھارت اوربنگلہ دیش سے بڑھ گئیں:اطلاعات کے مطابق بھارت اور بنگلادیش کی برآمدات پاکستان سے کم رہنے پر وزیراعظم نے اظہار مسرت کیا ہے اورپاکستانیوں کومبارک باد دی ہے

     

    ادھر ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نومبر، دسمبر 2020 میں ہماری برآمدات کے مقابلے میں بھارت اوربنگلادیش کی برآمدات منفی رہیں۔

    اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کامیابی پر وزارت تجارت اور برآمد کنندگان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دسمبر میں پاکستان کی ایکسپورٹس 18 اعشاریہ 3 فیصد جبکہ بھارت کی منفی اعشاریہ آٹھ اور بنگلادیش کی منفی 6 فیصد رہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان باپ کی حیثیت رکھتے ہیں:مریم نواز

    وزیراعظم عمران خان باپ کی حیثیت رکھتے ہیں:مریم نواز

    کوئٹہ:وزیراعظم عمران خان باپ کی حیثیت رکھتے ہیں:مریم نوازکے بیان پرہرکوئی حیران،اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم قوم کے باپ کی مانند ہوتا ہے انہیں وہاں ضرور جانا چاہیے تھا۔

    جاتی عمرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ سانحہ مچھ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، بیگناہ مزدروں کا بہیمانہ قتل کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری سے ساتھ یہ ظلم بہت عرصے سے ہورہا ہے، لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں سڑک پررکھ کر بیٹھے ہیں، ان کے دکھوں اور زخموں کا مداوا نہیں ہوسکتا۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی انا چھوڑ کر کوئٹہ جائیں اور لواحقین کا غم بانٹیں۔

    دوسری طرف سانحہ مچھ کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس پر دلی تعزیت کرتی ہوں، 5 دن سے دیکھ رہی ہوں اور آپ کی تکلیف کا احساس بھی ہے،

    ان میتوں میں سے ایک میت اس کی بھی ہے جس کے خاندان کا کوئی فرد نہیں تاہم میرے پاس تعزیت کے لیے الفاظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچی کسی بے حس کو پکاررہی تھی کہ آپ نہیں آئے تو والد کو نہیں دفناؤں گی لہذا وزیراعظم اپنی انا چھوڑ کر کوئٹہ جائیں اور لواحقین کا غم بانٹیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ ریاست کاکام عوام کو تحفظ دینا ہے لیکن افسوس ہے ریاست نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، یہ کہتے ہیں جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے ہم لاشیں رکھ کر بیٹھے رہیں گے، ہم لاشوں پر سیاست نہیں کررہے تاہم وزیراعظم عمران خان کو یہاں آکر ان کے سروں پر ہاتھ رکھنا پڑے گا۔

    رہنما (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ اقتدار پر بیٹھے شخص کی بے حسی پر افسوس ہے، مظاہرین کوئی بڑا مطالبہ نہیں کررہے، اگر حکمران نہیں آتے تو سن لیں یہ قوم انہیں اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دے گی۔

    کوئٹہ روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سانحہ مچھ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، بے گناہ مزدروں کا بہیمانہ قتل کیا گیا۔ لواحقین کے دکھوں اور زخموں کا مداوا نہیں ہوسکتا۔

  • پاکستان کا فتح ون راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ، بھارت کی نیندیں حرام

    پاکستان کا فتح ون راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ، بھارت کی نیندیں حرام

    پاکستان کا فتح ون راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ

    باغی ٹی وی : پاکستان نے فتح ون میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ فتح ون میزائل 140 کلو میٹر تک ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فتح ون میزائل نے کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا، میزائل سسٹم سے دشمن کے علاقے میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا، فتح ون میزائل روایتی وار ہیڈلے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، صدر، وزیراعظم، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف نے مبارکباد دی ہے۔

  • امریکی کانگریس نے جو بائیڈن کی جیت کی توثیق کر دی، آتے ہی ٹرمپ پر برس پڑے

    امریکی کانگریس نے جو بائیڈن کی جیت کی توثیق کر دی، آتے ہی ٹرمپ پر برس پڑے

    امریکی کانگریس کی توثیق، جوئیڈن امریکا کے 46 ویں آئینی صدر بن گئے
    امریکی کانگریس نے جو بائیڈن کی جیت کی توثیق کر دی جس کے بعد جوئیڈن امریکا کے 46 ویں آئینی صدربن گئے۔

    کانگریس نے کمیلا ہریس کی بطور نائب صدر کےعہدے کیلئے بھی توثیق کی، جوبائیڈن اور کمیلا ہیرس 20 جنوری کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔کانگریس اجلاس سے قبل ٹرمپ کے حامی آپے سے باہر ہو گئے تھے، انہوں نے کیپٹل ہل کی عمارت میں حملہ کر دیا تھا۔

    جبکہ دوسری جانب امریکا کے نو منتخب صدر جوبائیڈن نے ٹرمپ کو بغاوت کا ذمہ دار قرار دیدیا، اپنے خطاب میں امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ آج امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، مظاہروں کا ڈرامہ امریکی عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں۔ انہوں نے کہا نمائندگان کو ہراساں کیا گیا، ووٹ کاتقدس پامال کیا گیا، یہ اختلاف نہیں لاقانونیت ہے، اسے ختم ہونا چاہئیے۔

    انہوں نے اپیل کی کہ مظاہرین گھروں کو واپس چلے جائیں۔ جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ سے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے کرادار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
    دوسری جانب واشنگٹن میں ٹرمپ کے حامی آپے سے باہر ہوگئے، مشتعل افراد کیپٹل ہل کی عمارت میں جا گھسے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہوگئی جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل کی عمارت کا گھیراؤ کرلیا۔ انتطامیہ نے نائب صدر مائیک پنس کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، پولیس نے امریکی کانگریس کے دفاتر خالی کرالئے۔ جوبائیڈن کی صدارت کی تصدیق کا عمل بھی روک دیا گیا۔

    ادھر واشنگٹن میں صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد امریکی دارالحکومت میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ کرفیو صبح 6 بجے تک نافذ رہے گا۔ پولیس نے کپیٹل ہل کی عمارت پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ کرفیو کے دوران کسی بھی شخص کو گھر سے باہر نکلے کی اجازت نہیں۔ مظاہرین پر امن طور پر گھروں کو لوٹنے لگے۔ مظاہرین کو شام 6 بجے سے پہلے شہر سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی اسٹیبلشمنٹ نے صدر ٹرمپ سے رابطے منقطع کر دئیے۔ مائیک پنس کو 14 روز کیلئے صدر کی ذمہ داریاں سونپنے کیلئے مشاورت جاری ہے۔ وزرائے دفاع و خارجہ اور ری پیبلکن قیادت مشاورت میں شامل ہیں۔ سپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ صدارتی تصدیق کا عمل آج ہی مکمل کریں گے۔

  • ٹرمپ کے متوالے  وائٹ ہاؤس پر چڑھ دوڑے ، واشنگٹن میدان جنگ بن گیا

    ٹرمپ کے متوالے وائٹ ہاؤس پر چڑھ دوڑے ، واشنگٹن میدان جنگ بن گیا

    ٹرمپ کے متوالے وائٹ ہاؤس پر چڑھ دوڑے ، واشنگٹن میدان جنگ بن گیا

    باغی ٹی وی رپورٹ : : صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین نےکیپٹل ہل(پارلیمنٹ کی عمارت) پر اس وقت دھاوا بولا جب وہاں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔

    اجلاس کا مقصد جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں فتح کی باقاعدہ تصدیق کرنا تھا۔ بی بی سی نیوز کےمطابق ہنگامہ آرائی میں ایک خاتون ہلاک ہوئی اور متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔رکاوٹوں کو توڑنے پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز میں ہاتھاپائی بھی ہوئی۔

    ٹرمپ کے حامیوں کاموقف تھا کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی سے جوبائیڈن کو جتوایا گیا۔ ہنگامہ آرائی کے وقت امریکی ایوان نمائندگان میں سیکیورٹی سخت اور امریکی نائب صدرمائیک پنس کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا۔مظاہرین کو منتشر کرنےکے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور بعد ازاں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں12 گھنٹے کیلئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق کرفیو مقامی وقت کے مطابق شام6بجے سےصبح6بجے تک نافذ رہے گا۔ امریکی حکام نے مظاہرین کو6بجے سے پہلے واشنگٹن ڈی سی سے نکل جانے کا حکم دیا ہے.دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق امریکی اسٹیبلشمنٹ نے صدر ٹرمپ سے رابطے منقطع کر دئیے۔ مائیک پنس کو 14 روز کیلئے صدر کی ذمہ داریاں سونپنے کیلئے مشاورت جاری ہے۔ وزرائے دفاع و خارجہ اور ری پیبلکن قیادت مشاورت میں شامل ہیں۔ سپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ صدارتی تصدیق کا عمل آج ہی مکمل کریں گے۔
    https://twitter.com/TeamMLucman/status/1346939867910037505?s=20

  • مریم کے بعد بلاول مگرمولانا یہ کام کبھی بھی  نہیں کریں‌گے

    مریم کے بعد بلاول مگرمولانا یہ کام کبھی بھی نہیں کریں‌گے

    کوئٹہ:مریم کے بعد بلاول مگرمولانا یہ کام نہیں کریں‌گے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہزارہ برادری کے دھرنے میں کل کوئٹہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔

    دوسری طرف معتبر ذرائع کا کہنا ہےکہ مولانا فضل الرحمن مریم اوربلاول کا اس موقع پرساتھ نہیں دیں گے ، اس کی وجہ فرقہ وارانہ تفریق بتایا جارہا ہے

    ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی کوئٹہ جائیں گے اور سانحہ مچھ کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کریں گے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نے ہزارہ برادری کے دھرنے میں شرکت کیلئے کل کوئٹہ جانے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ سانحہ مچھ کے خلاف مظاہرین کا کوئٹہ مغربی بائی پاس پردھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پہنچنے والی حکومتی ٹیم کے بھی مظاہرین سے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور دھرنے کے شرکا نے وزیراعظم عمران خان کی کوئٹہ آمد تک دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

  • مہمند: افغانستان سے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ: ایک جوان  شہید

    مہمند: افغانستان سے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ: ایک جوان شہید

    راولپنڈی:مہمند: افغانستان سے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ: ایک جوان شہید ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کا ایک اور جوان فرض پر قربان ہو گیا، افغانستان سے ہونے والے حملے کے دوران 25 سالہ سپاہی فضل واحد شہید ہو گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق افعانستان کی سر زمین سے ضلع مہمند میں پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔ حملے کے دوران دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے کے دوران پاک فوج کا 25 سالہ سپاہی فضل واحد شہید ہو گیا۔ شہید فضل واحد کا تعلق شانگلہ سے ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے حملے کے بعد پاک فوج نے دہشتگرد حملے کا بھر پور جواب دیا۔

  • مودی کا نہیں جوعمران خان کا یارہے وہ غدّار ہے ،غدّار ہے :مولانا فضل الرحمن

    مودی کا نہیں جوعمران خان کا یارہے وہ غدّار ہے ،غدّار ہے :مولانا فضل الرحمن

    بنوں‌ :مودی کا نہیں جوعمران خان کا یارہے وہ غدّار ہے ،غدّار ہے :اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم نے قوم کو آزادی اور جمہوریت کا راستہ دکھایا

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ سن لو ‘جو عمران خان کا وفادار ہے، میں اسے غدار کہتا ہوں’۔اس دوران مولانا فضل الرحمن کے پیچھے سے کسی نے یہ کہہ دیا کہ "مودی کا نہیں جو عمران خان کا یارہے وہ غدّار ہے وہ غدار ہے

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ بھی سن لیں کہ بنوں کے لوگوں نے آج حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘مجھے نیب کے سامنے سرینڈر کرنے کا مشورہ دیا لیکن میں نے کہا وہ جنرل نیازی تھا جو سرینڈر ہو گیا’۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ میرے آبا واجداد نے کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا’۔پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ ہماری جہدوجہد ملک میں جمہوریت اور قانون کی عملداری کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آج معیشت کو جس بحران کا سامنا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور آج کہتا ہوں جو عمران خان کا وفادار ہے، میں اسے غدار کہتا ہوں۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کا قتل عام کیا گیا اور میں واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برداری کے مظلوموں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد آزاد ہیں اور جب چاہے کسی کو قتل کردیتے ہیں جبکہ ڈکیتیوں کی سب سے زیادہ شرح اسلام آباد میں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف فوج کے ساتھ عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائیلی علاقوں اور بلوچستان سے فوج کو واپس بلا لیا جائے۔

    سربراہ جے یو آئی نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ‘کہتا ہے میرے پاس ٹیم نہیں، مجھے حکومت نہیں آتی لیکن اصل بات یہ ہے کہ کام کرنے والے لوگ ہیں لیکن آپ کو کسی سے کام لینا نہیں آتا’۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کا جنازے نکالنے کے لیے ایک جگہ جمع ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 21 جنوری کو کراچی میں اسرائیل نامنظور ملین مارچ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اور اب کسی طاقتور ملک کی کالونی بن کر نہیں رہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد کا نصب العین رہا ہے کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار ملک چاہتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر میں فوج کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا، تو فوج بھی سیاسیت میں مداخلت نہ کریں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط تھی تو لوگ ہم سے تجارت کرنا چاہتے تھے لیکن اس حکومت نے پاکستان دوستوں کا اعتماد ختم کردیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اب کوئی یہاں آنے کو تیار نہیں ہے۔

  • حرمت رسولﷺ پرجان بھی قربان ہے:ناموس رسالتﷺ کے لیے مسلمان حکمران میدان میں نکلیں:وزیراعظم عمران خان

    حرمت رسولﷺ پرجان بھی قربان ہے:ناموس رسالتﷺ کے لیے مسلمان حکمران میدان میں نکلیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: حرمت رسولﷺ پرجان بھی قربان ہے:ناموس رسالتﷺ کے لیے مسلمان حکمران میدان میں نکلیں:وزیراعظم عمران خان کاترک ٹی وی کوانٹریو،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ترک ٹی وی کوانٹریو دیتے ہوئے پھرایک ذمہ دارمسلمان سربراہ مملکت کا کردار ادا کیا ہے ،

    وزیراعظم عمران خان نے ترک ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، دہشتگردوں نےبلوچستان میں ہزارہ برادری کونقصان پہنچایا۔ ہزارہ برادری کےتمام تحفظات دورکریں گے۔

    ترک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قائداعظمؒ نےپاکستان کیلئے مدینہ کی ریاست کو بنیاد بنایا تھا۔ قائدؒ ریسرچ اور تعلیم کوعام کرنا چاہتے تھے۔ ریاست مدینہ میں اقلیتوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل تھے۔ کرک میں مندر پر حملےکےبعدذمےدارعناصر کیخلاف سخت کارروائی کی گئی۔ یہ دہشت گرد زیادہ تر داعش کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کاتحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دہشتگردوں نےبلوچستان میں ہزارہ برادری کونقصان پہنچایا۔ ہزارہ برادری کےتمام تحفظات دورکریں گے۔ پاکستان میں اقلیتوں کویکساں حقوق حاصل ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مغرب میں اسلاموفوبیا سے بخوبی واقف ہوں۔ مغرب آزادی اظہاررائےاوردل آزاری کےدرمیان فرق نہیں کرپایا۔ مغرب اورمسلمانوں کےدرمیان غلط فہمیاں دورکرنےکی کوشش نہیں ہوئی۔ اسلاموفوبیابھی ان غلط فہمیوں کےنتیجےمیں شروع ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مغرب سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ سےکتنی محبت کرتےہیں۔ ناموس رسالت ﷺ کیلئے اسلامی ریاستوں کے سربراہان کو یک زبان ہونا پڑے گا۔ اسلامی رہنماؤں کو مغربی ملکوں کے لوگوں کو اسلام کے بارے میں بتاناچاہیےتھا۔

    بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہودیوں نے یورپ کو ہولو کاسٹ سے متعلق اپنے جذبات سے آگاہ کیا ہے۔ یورپ میں ہولوکاسٹ پر بات کرناقابل سزا جرم ہے، کیونکہ اس سے یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یورپ میں مذہب کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ہمارے معاشرے میں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فرانس میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی، مساجد میں چھاپے مارے گئے۔ زیادہ تر مسلم رہنما مغربی معاشرے کو اندر سے نہیں جانتے جبکہ میں مغرب میں بہت وقت گزار چکا ہوں۔ مغرب میں رہ چکا ہوں،اسلیےمغربی معاشرےمیں اسلامو فوبیاسےاچھی طرح واقف ہوں۔ فرانس میں اسلامو فوبیا کامسئلہ درست طریقے سے نہیں نمٹایا جا رہا۔

    امریکی صدر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ بائیڈن انتظامیہ مقبوضہ کشمیر پر کیا کرتی ہے، میں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی تھی، میں بائیڈن انتظامیہ سے بات کروں گا۔

    پاک امریکا سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سے متعلق میں کوئی پریڈکیشن نہیں کر سکتا۔ چین سے نمٹنے کے لیے بھارت کو آگے لایا جا رہا ہے، پاکستان نے امریکا کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف لڑے، تاہم اس کے بعد امریکا نے ہم پر پابندی لگا دی۔ جس کے بعد ہم نے اس گروپوں کو چھوڑ دیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 2001ء میں یہی گروپ (افغان طالبان) کیخلاف امریکا افغانستان میں لڑنے آیا، انہوں نے وہاں لڑائی، جس کے باعث پاکستان میں بھی دہشتگردی کو دیکھنے کو ملی جس کے باعث ہماری 70 ہزار سے زائد افراد ہلاکتیں ہوئیں۔ ہم نے اس کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ ہماری قربانیوں کو دیکھے۔

    اسرائیل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، اگر ہم انہیں تسلیم کر لیتے ہیں، تو اس طرح بھارت بھی جواز کرے مل جائے گا کہ وہ کشمیر کو اپنا حصہ بنا لے۔ میں قائدؒ کے ویژن کا قائل ہوں جو انہوں نے اسرائیل سے متعلق دی تھی۔ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ مجھ پر کوئی دباؤ نہیں اور نہ ہی ڈال سکتا ہے، ہم جمہوری ملک ہیں۔

    پاک بھارت تعلقات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نریندرمودی کو اس کے ماضی کے حوالے سے دیکھنا چاہیے۔ آرایس ایس کے بانی ہٹلر کے نظریات سے براہ راست متاثر تھے۔ مودی کی حکومت آرایس ایس کےنظریات کوعملی جامہ پہنارہی ہے۔ آرایس ایس کی وردی بھی نازیوں سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت پر 700سال مسلمانوں اور 200 سال انگریزوں نےحکومت کی۔ شدت پسند ہندو اب غصہ مسلمانوں اور مسیحی برادری پرنکال رہےہیں۔ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کےبعدمودی سےتعلقات بہترکرنےکی کوشش کی، نریندرمودی کی جانب سےکوئی مثبت ردعمل نہیں ملا۔ انہوں نے پاکستان دشمنی کی بنیاد پر الیکشن لڑا۔ مودی گجرات کا وزیراعلیٰ تھا تو ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ بھارت میں نسل پرستی کےماحول کاذمہ دارنریندرمودی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیریوں کوحق خودارادیت دیتی ہیں۔ کشمیری قیادت کو جیلوں میں قیداورگھروں میں نظربندکیاجارہاہے۔ 2 ایٹمی ریاستوں کےدرمیان جنگ نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کشمیرکامقدمہ بین الاقوامی پلیٹ فارمزپرلڑ رہا ہے۔

    کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم چین سے رابطے میں ہیں، ہم سب سے پہلے فرنٹ لائن ورکرز کو دینگے، اور اس کے بعد 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

    پاکستان او ترکی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، ہمارے قومی زبان اُردو کے زیادہ تر الفاظ ترک زبان سے ہیں۔ کشمیر سے متعلق ترکی کی حمایت کو ہم نہیں کبھی بھول سکتے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد ملائیشیا اور ترکی نے ہماری بہت حمایت کی۔

    اردگان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنے ملک کے لیے بہت کام کیا ، اسی طرح ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی اسی طرح اپنے ملک کے لیے بہت کام کیا۔ اس وقت ترکی ترقی کر رہا ہے۔ دونوں میرے لیے بہت اہم ہیں۔ کئی معاملات میں میرے اور ترک صدر کے خیالات ملتے ہیں، ترکی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنا چاہتے ہیں۔