کراچی: سیکورٹی ادارے ٹھیک کہہ رہے ہیں :سندھ اسمبلی دہشت گردوں کے نشانے پر، اسیپکر کا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی نے ایوانِ نمائندگان کو آگاہ کیا ہے کہ سندھ اسمبلی پر دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ ہے۔
ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والے اسمبلی اجلاس کے دوران اسیپکر اسمبلی آغا سراج درانی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ سندھ اسمبلی کو سیکیورٹی کے خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کے پاس سے سندھ اسمبلی کی تصاویر برآمد ہوئی ہیں۔ آغا سراج درانی نے ایوان کو بتایا کہ سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کردیا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے الرٹ جاری کیا تھا جس میں شہر قائد میں دہشت گردی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
اسلام آباد :وزیراعظم کے ساتھیوں کی اہم بریفنگ:وزیراعظم پرکیا گزری؟اہم رپورٹ آگئی،اطلاعات کےمطابق وزیر اعظم عمران خان کو پاکستان شماریات بیورو کی طرف سے افراطِ زر کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کے نظام اور کورونا وباء کے سماجی اور معاشی اثرات پر بریفنگ دی گئی
ذرائع کے مطابق بریفنگ میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر اطلاعات سنیٹر شبلی فراز، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر صنعت محمد حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، معاون خصوصی محصولات ڈاکٹر وقار مسعود اور سینئر افسران شریک ہوئے
اس اہم مجلس میں ممبر ادارہ شماریات نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ افراطِ زر کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومتی فیصلہ سازی کے لیے ڈیجیٹل نظام مرتب کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت شماریات بیورو اشیائے ضروریہ کا ڈیٹا ملک بھر کے اضلاع سے حاصل کرتا ہے اور اس کا تقابلی جائزہ مرتب کرتا ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ یہ نظام وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تحت بنایا گیا ہے جس کی بدولت بروقت فیصلہ سازی ممکن ہو سکے۔ اس نظام سے قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی، وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو بروقت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے اعداد وشمارمیسر آئیں گے جس سے بروقت فیصلہ سازی ممکن ہوسکے گی۔
وزیر اعظم نے ڈیجیٹل نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کرنے اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی جانچنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کے اس نظام سے فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کا عنصر نمایاں ہوگا۔وزیر اعظم کو کورونا وباء کے سماجی اور معاشی اثرات کے حوالے سے کیے گئے سروے پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس سروے میں روزگار، آمدن، ترسیلات، خوراک، صحت اور کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ اس سروے کے مطابق کورونا وباء کے آغاز میں زیادہ گھرانے معاشی طور پر متاثر ہوئے۔ تاہم حکومت کے بروقت اقدامات اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سے یہ شرح جولائی 2020 سے کمی کی طرف گئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے کورونا وباء کے دوران مسلسل توجہ غریب اور مزدور طبقے کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز رکھی۔وزیراعظم نے کہاکہ عالمی معیشت کرونا وباء سے متاثر ہوئی تاہم اللہ تعالیٰ کی مدد اور حکومت کے بروقت اقدامات سے پاکستان اس مشکل صورتحال سے نبردآزما ہوا اور پوری دنیا ہمارے اقدامات کی معترف ہے
واشنگٹن:ڈونلڈ ٹرمپ اورفیملی پارلیمنٹ پراپنے حامیوں کی طرف سے حملے پرخوشی سے ڈانس کرتی رہی ،اطلاعات کے مطابق ایسی ویڈیوزسامنے آرہی ہیں کہ امریکی پارلیمنٹ پرٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے حملے حادثاتی نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے کئے گئے ہیں
ادھر ذرائع کے مطابق اس حوالے سے سی سی ٹی وی کیمروں نے کچھ ایسے مناظرمحفوظ کیئے ہیں جن میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے گھروالوں کے ہمراہ یہ مناظردیکھ رہے ہیں
اس دوران ٹرمپ کے گھروں والوںمیں سے کچھ خوشی سے ڈانس بھی کررہے تھے جب مظاہرین سیکورٹی اہلکاروں پرحملے کررہے تھے
یاد رہے کہ امریکی پارلیمنٹ پر ٹرمپ کے حامیوں کے دھاوے اور پولیس کی شیلنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے جب کہ 52 کو گرفتار کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائب امریکی صدر مائیک پینس کی سربراہی میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں جیت کی باقاعدہ تصدیق کے لیے کانگریس اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا کہ ٹرمپ کے حامیوں کی ریلی کے بعد نیلے پرچم اٹھائے ایک ہجوم نے کیپٹل ہل کے باہر رکاوٹیں توڑ دیں اور عمارت کے اندر داخل ہوگئے۔
اس دوران ٹرمپ کا ایک حامی سینیٹ میں ڈائس پر چڑھ گیا اور ٹرمپ کی جیت کا دعویٰ کیا۔
واقعہ کے دوران سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا مشترکہ اجلاس کچھ وقت کے لیے معطل کیا گیا، پولیس نے ارکان کانگریس کو باہر نکالنے کے دوران مظاہرین پر شیلنگ کی۔ پرتشدد مظاہرے کے دوران 4 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے جب کہ 52 کو گرفتار کیا گیا ہے۔ زخمی ہونے والوں میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے۔
بدھ کے روز ہونے والے ہنگاموں کے بعد واشنگٹن اور دیگر ریاستوں میں نیشنل گارڈ کے دستے بلائے گئے ہیں، دارالحکومت میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جب کہ شہر میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع بھی کر دی گئی ہے۔
واشنگٹن میں ہونے والے ہنگاموں پر نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، مظاہرین نے ووٹ کا تقدس پامال کیا، دارالحکومت میں پرتشدد مظاہرہ ہماری جمہوریت پر حملہ ہے، آج کے واقعے سے دکھ ہوا، امریکی جمہوریت کونقصان پہنچا ہے، انتہا پسندوں کی ایک چھوٹی سی جماعت لاقانونیت پھیلا رہی ہے، کیپٹل ہل کے باہر پرتشدد مظاہرہ امریکی جمہوریت کاعکاس نہیں، پرامن رہیں اور قانون کا احترام کریں۔
اسلام آباد : خفیہ ایجنسیوں نے وزیراعظم کوکوئٹہ جانے سے کیوں روکا؟سرحد پارسے کس نے دہشت گردوں کوکال کی اورکیا احکامات دیئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے وزیراعظم کوکوئٹہ جانے سے روک رکھا ہے، ادھر ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بڑے خطرناک حقائق سامنے آئے ہیں
دوسری طرف سانحہ مچھ کے شہدا کے لواحقین کا دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے۔ مظاہرین نے لاشوں کی تدفین کو وزیراعظم عمران خان کی آمد سے مشروط کیا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان نے ہزارہ برادری کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جا سکتا، ہزارہ برادری آج ہی تدفین کرے میں گارنٹی دیتا ہوں آج ہی کوئٹہ جاؤں گا۔
آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر وزیراعظم عمران خان کوئٹہ نہیں جا رہے۔اسی متعلق بات کرتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو سیکیورٹی کلئیرنس نہیں ملی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی ایجنسیوں نے بھارت کی ایک کال ٹریس کی ہے کہ اگر عمران خان کوئٹہ آئے تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔
سنیئر تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ میری اطلاعات کے مطابق اس کال کو ٹریس کیے جانے کے بعد ہزارہ برادری کے مظاہرین کی سیکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے کہ خدانخواستہ ان پر دوبارہ حملہ نہ ہو جائے۔
عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کو مظاہرین کے لیے بلیک میل کا لفظ استعمال کرنا زیب نہیں دیتا،میرے خیال سے وزیراعظم کو یہ الفاظ واپس لینے چاہئیے۔ان کو کہنا چاہئیے تھا کہ شہدا کو دفنا دینا چاہئیے، میں جلد کوئٹہ آؤں گا۔وزیراعظم کے الفاظ کا چناؤ ٹھیک نہیں تھا۔
اس سے پہلے عارف حمید بھٹی نے کہا تھا کہ بڑی تکلیف دن بات ہے، شاید وہ بھول گئے ہیں کہ وہ ایک ملک کے وزیراعظم ہیں۔
لاہور:سکندر جب گیا دنیا سے، دونوں ہاتھ خالی تھے:سیٹھ عابد وفات پاگئے،اطلاعات کے مطابق معروف صنعت کاراورسماجی شخصیت سیٹھ عابد قضائے الہٰی سے وفات پاگئے ہیں
سیٹھ عابد کا تعلق قصورشہر سے ہے اوران کے والد کراچی کی صرافہ مارکیٹ کے بہت بڑے مشہورشخص تھے
سیٹھ عابد کے بارے میں بہت سی کہانیاں رقم ہیں ماضی میں ان کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں واقع ایک بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان میں سے ہیں اور کچھ خیراتی ادارے بھی چلاتے ہیں۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کو دیکھا جائے تو سیٹھ عابد کے بارے میں کچھ اور کہانیاں بھی گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’جب امریکی حکومت نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے پر پابندی عائد کی تو یہ سیٹھ عابد ہی تھے جنھوں نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا تھا۔‘
اس کے علاوہ سیٹھ عابد پر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ان سے تنازع کے بعد ’پاکستان کی سابق وزیراعظم اور اس وقت لندن میں زیرِ تعلیم بےنظیر بھٹو کو ابڈکٹ کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔‘سیٹھ عابد کا نام نومبر 2006 میں اس وقت بھی خبروں میں آیا تھا جب ان کے بیٹے حافظ ایاز کو ان کے محافظ نے لاہور میں شوٹ کر دیا تھا۔
اس کے بعد گذشتہ کئی برس میں سیٹھ عابد کا نام زیادہ نہیں سنا گیا تاہم کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ تقریب میں سیٹھ عابد کا ذکر شارجہ میں پاکستان انڈیا کے کرکٹ میچ کے تناظر میں کیا تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سیٹھ عابد نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بہت مدد کی تھی۔‘سیٹھ عابد کے بارے میں موجود تمام کہانیوں اور قیاس آرائیوں میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا جھوٹ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ حقیقت ہے کہ سیٹھ عابد کی شخصیت آج بھی کسی راز سے کم نہیں۔
لاہور : ذکی الرحمان لکھوی کو 15 سال کےلیے جیل بھیج دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم تنظیم کے اہم رہنما ذکی الرحمن لکھوی کو مجموعی طور پر 15 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں کالعدم تنظیم کے اہم رہنما ذکی الرحمن لکھوی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت میں سی ٹی ڈی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ذکی الرحمن لکھوی ڈسپنسری چلاتے ہیں اور اس کی آڑ میں غیر قانونی طور پر فنذنگ اکٹھا کرتے ہیں ، جس سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے ۔
اے ٹی سی کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت مکمل کرنے پر فیصلہ سنایا ۔ جس میں عدالت نے ذکی الرحمان لکھوی کو مختلف شقوں کے تحت مجموعی طور پر پندرہ سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ۔ملزم کے وکلا نے دلائل دیے کہ دہشت گردوں کی معاونت کے الزامات غلط ہیں، بے بنیاد پروپیگنڈہ کی وجہ سے مقدمہ درج کیا گیا ۔
عدالت نے کہا جرمانے کی عدم ادائیگی پر ذکی لرحمان لکھوی کو چھ ماہ مزید قید کاٹنی پڑے گی، جیل سپرنٹنڈنٹ ذکی الرحمان لکھوی کو جیل کی تحویل میں لے ، سپرنٹنڈنٹ جیل مجرم کو اپنی حفاظت میں رکھنے کا پابند ہو گا ، ملزم سے متعلق نئے احکامات تک موجودہ فیصلے کے مطابق قید رکھا جائے گا۔
خیال رہے ذکی الرحمان لکھوی کو سی ٹی ڈی کی طرف سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس پرمبینہ طور پرغیر قانونی فنڈنگ کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔
راولپنڈی :خطے میں پاکستان کی اہمیت واضح:امریکی وفد جی ایچ کیوپہنچ گیا،اطلاعات کےمطابق امریکا کے نائب وزیر دفاع کی زیر قیادت میں وفد نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب وزیر دفاع ڈیوڈ ہیلوی نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد نے پاک امریکا دفاعی مذاکرات کے تحت مشاورتی دورہ کیا، مشاورتی اجلاس میں خطے کے سیکیورٹی امور اور دو طرفہ دفاعی تعلقات کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔
شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اجلاس میں پاک امریکا فوجی تعاون میں اضافے اور مضبوطی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک، امریکا وفود نے خوشگوار اور تعمیری انداز میں بات چیت کی۔
یاد رہے کہ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظراس وقت عالمی قوتوں کا مرکز پاکستان ہے اوروہ پاکستان کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں ، امریکی وفد کی آمد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے
آپ میتوں کی تدفین کریں ، وزیر اعظم نے ہزارہ کمیونٹی کو اہم پیغام دے دیا
باغی ٹی وی : وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے تمام مطالبات تسلیم کرچکے، آپ شہدا کی تدفین کریں، آج ہی کوئٹہ آجاؤں گا، وزیراعظم کے آنے سے مشروط کر کے بلیک میل نہیں کیا جاسکتا، ڈھائی سال سے ڈاکوؤں کا ٹولہ حکومت کو بلیک میل کر رہا ہے۔
سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے، جتنا ظلم ہزارہ کمیونٹی پر ہوا پاکستان میں کسی پر نہیں ہوا، ہمارے ملک میں ہزارہ کمیونٹی پر سب سے زیادہ ظلم ہوا، نائن الیون کے بعد ہزارہ کمیونٹی کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، بھارت پاکستان کیخلاف سازش کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مچھ واقعہ افسوسنا ک ہے ، مزدوروں کو بےدردی سے قتل کیا گیا۔ بھارت پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کے درپے ہے۔
فرقہ واریت پھیلانے کےلیے دشمن سازش کر رہا ہے۔ مچھ سانحہ ہوا تو وزیرداخلہ کو کوئٹہ جانے کے کی ہدایت کی۔ خفیہ اداروں نےحالیہ دنوں میں دشمن کی سازش کو ناکام بنا دیا۔
دوسری جانب متاثرین نے وزیراعظم کے آنے تک دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ شہدا کے لواحقین کے ساتھ مذاکرات کے پانچ دور ہوچکے ہیں جس میں حکومت کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے آنے تک اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے بھی درخواست کی تھی کہ میتوں کو دفنا دیں میں ہزارہ برادری سے ملنے ضرور آؤں گا۔
وزریراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی ہزارہ برادری سے اپیل کی ہے کہ ہ جاں بحق افراد کی تدفین کریں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام ایک اور ایوارڈ
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بحرین کے اعلی فوجی اعزاز ‘آرڈر آف بحرین ایوارڈ’ سے نوازا گیا، آرمی چیف کو ایوارڈ شاہ حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ کی جانب سے دیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کو بحرین کے دورے کے موقع پر بحرین کا اعلی فوجی ایوارڈ عطا کیا گیا ، بحرین کے ولی عہدشہزادہ سلمان نے آرمی چیف کو ایوارڈ دیا۔
آرمی چیف کو ‘آرڈر آف بحرین ایوارڈ’ دینے کیلئے شاہ حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ، جس میں دونوں ممالک کے سینئر عہدیدار شریک ہوئے۔
خیال رہے پاکستان اور بحرین کے درمیان قریبی سفارتی تعلقات ہیں اور ماضی میں ان کے اعلی قائدین اکثر ایک دوسرے ممالک کے دورے کر چکے ہیں۔
دونوں ممالک نے تجارت ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون پر بڑے پیمانے پر اپنے تعلقات استوار کیے ہیں۔
بحرین پاکستانی مزدوروں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جو اپنے وطن کو ترسیلات بھیج کر اپنی قوم کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی کیریئر کا آغاز 16 بلوچ ریجمنٹ سے اکتوبر 1980ء میں کیا تھا۔ وہ کینیڈا اور امریکا کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں۔ وہ کوئٹہ میں انفرینٹری اسکول میں انسٹریکٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں۔
کراچی:عمران خان نے سندھ کی اہم شخصیت سے استعفیٰ مانگ لیا،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اورسندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سے مرکزی قیادت نے استعفیٰ مانگ لیا۔
ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی سے مرکزی قیادت نے استعفیٰ طلب کرلیا، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیراعظم عمران خان کا پیغام فردوس شمیم نقوی کو پہنچایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فردوس شمیم نقوی کی رہائش گاہ پر پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کی اہم بیٹھک جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کی جگہ حلیم عادل شیخ کو سندھ کا اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بھی فردوس شمیم نقوی سےاستعفیٰ طلب کیاگیا تھا، ذرائع کا کہنا تھا کہ فردوس شمیم نقوی کی بہ طور اپوزیشن لیڈر کارکردگی بہتر نہیں تھی جس پر ان سے استعفیٰ طلب کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ جس دن سوئی گیس پر بیان دیا اسی وقت معافی کے ساتھ استعفیٰ پیش کیا تھا، پارٹی ورکر ہوں، میرا استعفیٰ چیئرمین کے پاس ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی مرضی ہے وہ منظور کریں یا نہ کریں۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا ہے کہ فردوس شمیم نقوی نے اخلاقی گراونڈ پر استعفی مجھے دیا ہے، تاہم ان کے استعفی کے حوالے سے ابھی وزیر اعظم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔