Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الحمدللہ ۔۔ پاکستان کا عظیم کارنامہ۔، صدیوں کا سفر لمحوں میں طے،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    الحمدللہ ۔۔ پاکستان کا عظیم کارنامہ۔، صدیوں کا سفر لمحوں میں طے،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    الحمدللہ ۔۔ پاکستان کا عظیم کارنامہ۔، صدیوں کا سفر لمحوں میں طے،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت اتنا سامان اسلحہ خرید رہا ہے اگر جنگ ہو تی ہے تو کیا پاکستان بھارت کا مقابلہ کر لے گا، ایک جنگ ہوتی ہے اور ایک نعرے بازے ہوتی ہے، میزائل اور ایئرپاور اہم ہیں، بھارت رافیل چھوڑ کر جو مرضی کر لے پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے آپ پاکستان اور چین کی ائیر فورسز کی ایکسر سائزز کے بارے میں سن رہے ہیں جو سات دسمبر کو شروع ہوئی اور لیٹ دسمبر تک جاری رہیں گی۔ کہنے کو تو یہ ایک روٹین لگتی ہے لیکن دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی اس شاہین سیریز ایکسر سائز نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ملٹری بیلنس کو upset کر کے رکھ دیا ہے۔ اور پاکستانی ائیر فورس بھارت کے مقابلے میں بہت ایڈوانس ہو گئی ہے اس کی تفصیل میں آپ کو آگے چل کر بتاوں گا۔ دسمبر دو ہزار بیس میں ہونے والی اس ایکسر سائز کو Shaheen ix(9) کا نام دیا گیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت اور امریکہ کے دفاعی ماہرین اسے بڑی گہری نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ یہ ایکسر سائز ہی ہیں جس کی مدد سے پاکستان نے ستائیس فروری کو بھارت کو سرپرائز دیا، اس کے ریڈار اورCommunication systemکو جام کر دیا تو غلط نہ ہو گا، ابھی نندن کو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ بھارت میں گرا ہے یا پاکستان میں۔ بھارت کے ایک جہاز نے اپنے ہی جہاز یا ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔ پاکستان نے بھارت کے communication & radar system کو ایسے مفلوج کر دیا کہ انہیں سمجھ ہی نہ آئی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان نے انتہائی ایڈوانس ٹیکنالوجیElectromegnatic warfare attack capability
    کا مظاہری کیا تھا اور اپنے جہازوں میں اسے integrated اورair manouver profile میں شامل کر لیا تھا۔ پاکستان ان ایکسر سائزز میں اس سے کہیں زیادہ قابلیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔چین کی ائیر فورس
    Electromegnatic warfare میں ایک لیڈینگ کردار رکھتی ہے۔ اور پاکستان کو اس کے ساتھ مل کر کام کرنا اور اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔چینی وزیر دفاع کے دورہ پاکستان کےدرمیان فوجی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ چینی وزیر دفاع کے دورے اور اس مشق کو خطے میں اہم پیشرفت سمجھا جارہا ہے اور اس دورے کے ایک ہفتہ بعدچینی فضائیہ کا دستہ مشترکہ فضائیہ کی مشقوں کے لیئےپاکستان میں ٹھٹہ کے قریب ائیر بیس پر پہنچا جو بھارتی گجرات اور سمندر کے بہت قریب ہے یہاں پر ایکسر سائز کرنے سے پاکستان نہ صرف بھارت بلکہ سمندر میں بھی آپریشن کرنے کی بہتر صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔اس مشق میں جنگی پائلٹ ، ایئر ڈیفنس کنٹرولرز اور تکنیکی زمینی عملہ پر مشتمل ایئر فورسPLA AF حصہ لے رہی ہے۔ جبکہ دنیا کہہ رہی ہے کہ کرونا کی وبا کے دوران ان مشقوں کا کرنا بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
    اور ظاہری سے بات ہے اس طرح کی مشقوں کا مقصد اپنے دشمن کی صلاحیتوں پر بر تری حاصل کرنا ہوتا ہے اور پاکستان اور چین کا مشترکہ دشمن کون ہے اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ بہت بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔
    پاکستان اور چین نے دو ہزار پندرہ میںStrategic Support Force بنائی اور اس کا کمانڈ اسٹیشن پاکستان اور چین میں موجود ہے۔جوcyber-warfare, high-tech reconnaissance, electronic warfare and psychological warfare سمیت بے تحاشا چیزوں کو ڈیل کرتا ہے اور دونوں فورسز کیcoordinationکو مثالی بناتا ہے، وہ بھی ان ایکسر سائز میں شامل ہوتے ہیں۔

    ان ایکسر سائزز کا مقصدelectronic warfare attack capabilitiesکو ایک نئے لیول تک لے کر جانا ہے۔پاکستان کوصرف tectical forceکی بجائے ایک ایسی فورس بنانا جوoperational fieldمیں لیڈ کرادار ادا کریں اور جہاں پر
    outcome matterکرتی ہو۔ اور پاکستان ائیر فورس فیصلہ کن کردار ادا کرے جیسے ہمیشہ ماضی میں بھارت کی پٹائی کرتی رہی ہے۔ کیو نکہ جدید دور میں زمینی فوج کی بجائے ائیر فورس فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں جیسے امریکہ نے دنیا بھر میں کیا کہ اس کے ایک بھی فوجی کے زمین پر قدم رکھنے سے پہلے فضائیہ دشمن پر ایسی بمباری کرتی ہے کہ دشمن کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ ان مشقوں میں جو جہاز استعمال ہو رہے ہیں ان میں
    China’s fourth-generation Shenyang J-11, Chengdu J-10 multirole fighter aircraft, Chengdu F-7 interceptor اورJF-17 Thunder multirole combat aircraft, شامل ہیں۔جبکہ دہائیوں تک پاکستان ائیر فورس کی backbone سمجھا جانے والا۔ ایف سولہ ان مشقوں میں استعمال نہیں کیا گیا تاکہ امریکہ کو کسی بھی قسم کی بات کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ امریکہ اس حوالے سے اکثر الزام لگاتا رہا ہے کہ چین اس کی ٹیکنالوجی چوری کر سکتا ہے۔اگر میں آپ کوelectromegnatic spectrumکے بارے میں آسان الفاظ میں سمجھاوں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سورج سات طرح کی شعاعیں پھینکتا ہے اور ہماری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے۔radio wave ،micro wave
    infrared wavev،isibile light wave .ultra light wavesیہ سب ایک جیسی ہیں لیکن ان کی wave length میں فرق ہے اور ان شعاوں کے مجموعہ کوہم air, land, sea domainمیںconnectivityکے لیئے استعمال کرتے ہیں۔
    چاہے رافیل ہو یا f35 اسconnectivityکے بغیر سب بیکار ہے اور اس فیلڈ میں قابلیت اور اسٹریٹجی ہی سب کچھ ہے۔یہ آپ کوwar fighting communication situation awarness میں مدد دیتی ہے۔

    یہ خطرے سے نکلنے والی انرجی کو کئی سو کلومیٹر دور سے locate کرتی ہےElectronic Support Electronic attackاورelectronic protection فراہم کرتی ہے یعنی دشمن کے اٹیک سے بچانا۔اگر بھارت کہ پاس یہ قابلیت ہوتی تو اسےپاکستان کے اٹیک سے کسی حد تک protectionمل سکتی تھی اور کمیونیکیشن جام نہ ہوتی اور ریڈار کام کرنا نہ چھوڑتے۔پاکستان center of artificial intellengence & computing پر کا م کر رہا ہے اور یہ
    information wave form signals from radar اور بہت سی چیزوں کو خودہی سمجھ کر خود اپلائی کر دیتا ہے،یہ سینسر فیوژن ٹکنالوجی تیار کرنے میں مدد دے گا ، جو ریڈار، کیمرہ اور دیگر کئی سینسرز کی معلومات کو یکجاکرتا ہے اور اس میں بیلینس کرتا ہے۔ اس میں بگ ڈیٹا ، مشین لرننگ ، ڈیپ لرننگ ، prediction analysisnatural language processingشامل ہیں۔ اصل گیم یہ ہے کہ اسے اپلائی کیسے کرناہے جو پاکستان اور چین مشقوں کے زریعے کر رہے ہیں۔یہ پاکستان کی ترقی میں ایک Quantam jumpہے۔ پاکستان اس ٹیکنالوجی کو اپنے ڈرونز، multi altitute UAV میں بھی استعمال کررہا ہے۔پاکستان نے کچھ عرصہ پہلے ہی EW & Radar lab
    کا افتتاع کیا ہے۔artificial intelligence پر کام جاری ہےایک وقت آئے گا جب پاکستانی ربوٹ انسانی مدد کے بغیر کام کریں گے۔

    چین اور پاکستان ۔ اسٹریٹجک شراکت داری میں1950 کی دہائی سے ترقی یافتہ دفاعی ، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون سے لطف اندوز ہو رہےہے۔ دفاعی تعاون ،اعلی سطحی فوجی تبادلے ، مشترکہ مشقوں ، اہلکاروں کی تربیت ، مشترکہ دفاعی پیداوار اور دفاعی تجارت پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ دونوں ہمسایہ ممالک دفاعی شراکت داری ، مشترکہ منصوبوں بالخصوص ہوائی جہاز ، سب میرینز ، ٹینکوں اور دیگر فوجی سازو سامان کی تیاری سمیت وسیع تر تعاون کر رہے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیئے امریکہ کا محتاج نہیں رہا اگر پاکستان ابھی تک امریکہ پر دفاعی انحصار کرتا رہتا تو موجودہ حالات میں پاکستان کو ناقابل تسخیر نقصان پہنچنا تھا۔کیونکہ امریکہ نے ہمیشہ اپنا مفاد دیکھا ہے اور اب اسے بھارت کے ساتھ ملنے میں مفاد نظر آ رہا ہے۔پاک چین تعاون کی خبریں امریکہ اور پاکستان کے مابین آہستہ آہستہ خراب ہوتے تعلقات پر حاوی رہتی ہیں۔
    اس مشق کا تازہ ترین ایڈیشن مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ جاری بھارت چین کشیدگی کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جس میں امریکہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہے۔الحمد اللہ اللہ پاک فضائیہ دنیا کی واحد فضائیہ ہے جو دشمنوں پر مکمل فضائی فوقیت رکھتی ہے۔لیکن اب جو کام پاکستان نے کر دیا ہے اس نے پاک فصائیہ کو اپنے دشمن کے مقابلے میں ناقابل تسخیر کر دیا ہے۔

  • افغانستان پھر لہو لہو، بھارت اپنی سازشوں سے باز نہ آیا، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    افغانستان پھر لہو لہو، بھارت اپنی سازشوں سے باز نہ آیا، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب سے ہمارے ہمسائے افغانستان میں امن معاہدہ کا اعلان ہوا ہے بہت سے طاقتیں اور قوتیں اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں جن میں بھارت پیش پیش ہے ۔ روز کوئی نہ کوئی دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات سامنے آرہے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج بھی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں دارالحکومت کے ڈپٹی گورنر ہلاک ہوگئے ہیں ۔ رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے بم ان کی کار کے ساتھ منسلک کردیا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کابل کے ڈپٹی گورنر محبوب اللہ محبی کے ساتھ ان کے سیکریٹری بھی مارے گئے ہیں ۔ ابھی تک کسی عسکری گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اب جہاں ایک جانب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بین الافغان مذاکرات کی کوششیں آگے بڑھ رہی ہیں وہیں افغانستان میں مسلسل شورش کے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔میں اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے جلدی جلدی آپکو چند دن پہلے واقعات بتا دیتا ہوں ۔ جیسےابھی گزشتہ ہفتے ہی کابل میں افغان حکومت کے ایک پراسیکیوٹر کو اس وقت گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا جب وہ اپنے کام پر جارہے تھے۔ جبکہ30 نومبر کو افغانستان میں فوجی اڈے پر ہونے والے ایک خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں 30 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔اس سے قبل 21 نومبر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے گنجان آباد علاقوں پر متعدد راکٹ حملے ہوئے تھے جن میں کم از کم 8
    افراد ہلاک ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ ۔۔۔ داعش ۔۔۔ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    گزشتہ ماہ کے آغاز میں بھی کابل یونیورسٹی میں ایرانی کتب میلے کے افتتاح کے موقع پر بھی دھماکہ ہوا تھا ۔ داعش نے ہی اس دہشت گردی واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جن میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جن میں بیشتر طلبا تھے۔دوسری جانب افغان حکومت نے جنوبی صوبہ قندھار میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مبینہ فضائی حملے میں بچوں سمیت ایک درجن کے قریب شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہیں۔اتوار کے روز طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ۔۔۔ ارغنداب ۔۔۔ میں سرکاری فوج نے فضائی حملے میں کم از کم 13 شہریوں کو ہلاک کردیا تھا جس کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے فوری طور پر انکار کردیا گیا ۔ اور اس کے نتیجے میں اصرار کیا گیا کہ اس علاقے میں جب طالبان نے بم دھماکہ کیا تو سات شہری ہلاک ہوئے۔امریکہ میں مقیم ایک انسٹی ٹیوٹ نے گذشتہ ہفتے انتباہ کیا تھا کہ رواں سال جولائی سے ستمبر تک افغان سرکاری افواج کے فضائی حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے ، ایسے حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اس انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ۔ سن 2019 میں ، فضائی حملوں میں 700 عام شہری ہلاک ہوئے ۔ جبکہ گزشتہ چند ماہ کے واقعات میں یہ تعداد ایک ہزار سے زائد ہوچکی ہے ۔ جب سے امن معاہدہ اعلان ہوا ہے شاید ہی کوئی ہفتہ ہو جب کوئی پرتشدد واقعہ رپورٹ نہ ہوا ہو ۔افغانستان میں گزشتہ چند ماہ میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان 12 ستمبر سے قطر میں جاری امن مذاکرات کے باوجود کابل میں کئی جان لیوا حملے ہوچکے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ افغانستان میں پرتشدد واقعات میں امریکی فوجیوں کے جاری انخلا کے باوجود کمی نہیں آئی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وجہ میں آپکو بتا دیتا ہوں کہ بھارت نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن ہو ۔ سب جاتنے ہیں کہ افغانستان میں داعش کے پیچھے بھارت ہے ۔ مودی ہے ۔۔ را۔۔ ہے ۔ اجیت ڈول ہے ۔ اب تو بین الاقوامی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹس آچکی ہیں جس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بھارت دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ سمیت ٹریننگ بھی مہیا کرتا ہے ۔ پاکستان اس حوالے سے اہم dosierدنیا کے سامنے لا چکا ہے ۔ indian chronicles والے نیٹ ورک بارے بھی بھارت بے نقاب ہوچکا ہے ۔ اس وقت بھی جو افغانستان میں کاروائیاں ہورہی ہیں ۔ وہ بھارت کے ایما پر ہورہی ہیں ۔ وہ چاہے اب افغان حکومت میں ہوں یا افغان آرمی میں یا پھر داعش یا ان جیسے کرائے کے قاتل ۔۔۔ جو بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ اور یہ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ یہ کسی نہ کسی طرح افغانستان کو ایک بار پھر خانہ جنگی میں جھونکنا چاہتے ہیں ۔ اور پاکستان کو افغانستان کے معاملے پر پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں ۔ دراصل عمران خان افغانستان کو انڈیا سے دور لے جا چکے ہیں ۔ جس کی بھارت کو بہت تکلیف ہے ۔ 19 نومبر کو جب عمران خان پہلی بار افغانستان کے دورے پر گئے تو افغان صدر اشرف غنی نے ان کے اس دورے کو تاریخی قرار دیا۔ عمران خان نے اس دورے کے دوران کہا تھا کہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے وہ ہرممکن مدد کریں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر افغانستان کو لگتا ہے کہ ہم کسی بھی محاذ پر امن کی بحالی میں اس کی مدد کر سکتے ہیں تو ہم بلا جھجک پوچھیں گے کیونکہ پاکستان بھی افغانستان میں ہونے والے تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔اور اسی وجہ سے بھارت کو افغانستان میں امن دکھتا ہے ۔ عمران خان کے اس دورے کو افغانستان اور پاکستان کی موجودہ حکومت کے درمیان بڑھتی قربت کے طور پر دیکھا گیا۔ اور یہ سوال کیا جانے لگا کہ عمران خان کی حکومت افغانستان کو انڈیا سے دور رکھنے میں کامیاب ہورہی ہے؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چین نے بھی اس ماہ کے آغاز میں سلامتی کونسل کے اعلی سطح غیر رسمی اجلاس میں کہا تھا کہ بیرونی عناصر اپنے ملکی ایجنڈے کی خاطر افغانستان کے مسئلے کو استعمال نہ کریں۔ چین کا واضح اشارہ بھارت کی جانب تھا ۔ چین نے مزید کہا تھا کہ افغان عوام کی خواہش کا احترام کرنا چاہئے اور یہ یقینی بنانا چاہئے کہ امن عمل افغان زیرقیادت اور افغان ملکیت میں ہو۔ افغانستان کو ایشیا کا دل قرار دیتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ افغان صورتحال کا خطے کے امن و استحکام پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔۔چینی سفیر نے کہا تھا کہ افغانستان کے ایک قریبی پڑوسی کی حیثیت سے ۔ چین کو پوری امید ہے کہ اس میں شامل فریقین امن مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو ختم اور جنگ ختم کرتے ہوئے ایک ایسا موثر سیاسی حل تلاش کر سکتے ہیں جو جلد ازجلد افغانستان میں امن ، استحکام اور ترقی لائے گا۔ابھی کل افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کا اگلا مرحلہ گھر پر ہی ہونا چاہئے۔ جبکہ ان کے ترجمان صدیق صدیقی نے ٹویٹ کیا۔ کہ ۔۔۔ افغان حکومت افغانستان کے اندر کہیں بھی مذاکرات کے لئے تیار ہے ۔۔۔ خیمے کے نیچے یا سردی میں ۔۔۔افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے عہدیداروں نے بھی مذاکرات کو گھر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔اب دونوں فریقوں افغان حکومت اور طالبان نے کہا ہے کہ قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات 5 جنوری تک موقوف ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ طالبان اور کابل کی جانب سے دونوں نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے ۔۔۔ بین الاقوامی سطح پر بات چیت کے لئے ایجنڈا آئٹموں کی ابتدائی فہرستوں کا تبادلہ کیا اور ملاقاتوں کے دوبارہ شروع ہونے پر ان کا احاطہ کیا جائے گا۔میں آپکو بتاوں افغانستان میں امن تو آکر رہے گا ۔ تھوڑی مشکلات ہوں گے ۔ کیا پتہ ابھی مزید شدت پسندی کے واقعات بھی ہوں ۔ مگر یہ بات یقینی ہے کہ بھارت کو یہاں ایک بار پھر منہ کی کھانی ہوگی ۔ کیونکہ اب تو طالبان کے ساتھ ساتھ افغان حکومت اور عام افغانی عوام کو بھی معلوم ہوچکا ہے کہ بھارت ان کے ساتھ کیا کررہا ہے اور انکو کس طرح استعمال کر رہا ہے ۔ افغانیوں کو پتہ چل گیا ہے کہ ان کا خیر خواہ کون ہے اور دشمن کون ہے ۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ کریڈٹ میں عمران خان کو دوں گا وہ جہاں بھی گئے اور شروع دن سے انھوں نے افغان مسئلے کا حل مذاکرات بتایا اور جب سے وہ وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے اس حوالے سے عملی اقدامات کیے ہیں اور پاکستان نے یہ کرکے دیکھا دیا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے اور بھارت خون کا پیاسا اور جارحیت پسند ہے ۔

  • بتا دو ان کو!سینیٹ انتخابات وقت سے پہلے ہونے جارہے ہیں : وزیراعظم عمران خان کے پیغام نے اپوزیشن کی چولیں ہلادیں‌

    بتا دو ان کو!سینیٹ انتخابات وقت سے پہلے ہونے جارہے ہیں : وزیراعظم عمران خان کے پیغام نے اپوزیشن کی چولیں ہلادیں‌

    پشاور:بتا دو ان کو!سینیٹ انتخابات وقت سے پہلے ہونے جارہے ہیں : وزیراعظم عمران خان کے پیغام نے اپوزیشن کی چولیں ہلادیں‌،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کروائیں گے، شو آف ہینڈز کے ذریعے الیکشن کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ آسان ہوتا ہے، ہم نے 20 ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالا، ہم شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، وزیراعظم نے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن سے اپوزیشن کو بھاگنے نہیں دیں گے ، اپوزیشن کوڈرہے کہ جو ان کے اراکین ان کوقانونی سازی میں رکاوٹ ڈال کربچانے کی کوشش کررہے ہیں وہ نکل گئے تو پھر کیا ہوگا ، انہوں‌نے ڈائیلاگ کی بات کی تو اپوزیشن نے 34 صفحات کا این آر او مانگ لیا، این آر او کسی صورت نہیں دوں گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے خلاف کیسز ہماری حکومت میں نہیں بنے، اپوزیشن جن کیسز کا سامنا کر رہی وہ ماضی میں قائم ہوئے، ہماری حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، پہلے دن کہا تھا یہ سارے چور ڈاکو اکھٹے ہو جائیں گے،

    وزیراعظم نے صحافیو ں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آج پی ڈی ایم کے نام پر یہ سارے ایک ہو چکے ہیں، یہ کہتے ہیں ہم نے کب این آر او مانگا، انہوں نے نیب ترامیم کے معاملے پر لکھ کر این آر او مانگا، انہوں نے جو ترامیم دیں اس کا مطلب نیب کو دفن کرنے کے مترادف تھا، پوری قوم نے دیکھا جب یہ جلسہ کر رہے تھے تو میں کتنا پریشان تھا۔

  • وزیراعظم عمران خان گئے تواے پی ایس سانحے کے سلسلے میں پشاورمگرسامنا جھگڑے کا ہوگیا

    وزیراعظم عمران خان گئے تواے پی ایس سانحے کے سلسلے میں پشاورمگرسامنا جھگڑے کا ہوگیا

    پشاور:وزیراعظم عمران خان گئے تواے پی ایس سانحے کے سلسلے میں پشاورمگرسامنا جھگڑے کا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم پشاور پہنچے ہیں اوروہاں وہ اے پی ایس سانحے کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرنا تھا مگرجب وزیراعظم پشاور پہنچے تو ان کا سامنا جھگڑے سے ہوگیا

    اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران کی حیات آباد سپورٹس کمپلیکس آمد سب سے پہلے وزیراعظم کے سامنے آنے والے صوبائی وزیرخزانہ تیمورسلیم جھگڑا تھے جنہوں نے استقبال کیا ، جھگڑے کے ساتھ استقبال کرنے والوں میں وزیرِ اعلی محمود خان، گورنر شاہ فرمان بھی شامل تھے

    تقریب شروع ہونے سے پہلے وزیرِ اعظم اور شرکاء نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی.

    حیات آباد کرکٹ سٹیڈیم کی بین الاقوامی کرکٹ کیلئے اپ گریڈیشن منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا.

    شائقین کیلئے بیٹھنے کی جگہ کو بڑھانے، ڈیجیٹل سکور بورڈ اور جنرل پبلک سٹینڈ کے علاوہ دیگر تمام ضروری توسیعحی کام سے سٹیڈیم میں آئی سی سی کے میچیز منعقد کرائے جا سکیں گے.

    حیات آباد کرکٹ سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن سے پشاور میں بین الاقوامی معیار کے کرکٹ سٹیدیمز کی تعداد دو ہو جائے گی جس سے مقامی نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع اور شائقین کو بین الاقوامی کرکٹ دیکھنا میسر ہوگا.

    اسکے علاوہ وزیرِ اعظم نے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں خواتین کیلئےجدید سہولیات سے آراستہ فٹنس جم، سوئمنگ پول کا بھی افتتاح کیا. وزیرِ عظم کو نہ صرف ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر پر پیش رفت سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا بلکہ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کالام میں کرکٹ سٹیڈیم اور گراسی کرکٹ گراؤنڈ سوات کا بھی سنگِ بنیاد رکھا.

    وزیرِ اعظم کو قومی کھیل ہاکی کی ترقی اور نوجوانوں کو اس میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کیلئے خیبر پختونخواہ کے 5 اضلاع میں ہاکی ٹرفز کی تعمیر پر پیش رفت اور ایٹھلیٹس کیلئے 4 اضلاع میں زیرِ تعمیر ٹارٹن ٹریکس پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئ.

    مزید شکواش کیلئے کئے گئے اقدامات اور ریگی سپورٹس سٹی کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئ.

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر مقامی کھیلوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کھیل جن کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں جانا جاتا ہے انکی ترقی کیلئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں. افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے کھیلوں کی طرف صحیح توجہ نہیں دی گئی. پاکستان دنیا بھر میں نوجوانوں کی آبادی کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے. ہمیں اپنے نوجوانوں کو اپنی توانائیوں کو مثبت سمت میں لگا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کیلئے بہتر اور عالمی معیار کے مطابق کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا ہیں.

  • وزیر اعظم نے سانحہ اے پی ایس پر اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے اہم پیغام دے دیا

    وزیر اعظم نے سانحہ اے پی ایس پر اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے اہم پیغام دے دیا

    وزیر اعظم نے سانحہ اے پی ایس پر اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے اہم پیغام دے دیا

    باغی ٹی وی :وزیراعظم نےسانحہ اے پی ایس کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا اس سانحہ کی وجہ سے دل آج بھی افسردہ، پوری قوم نے متحد ہوکر دہشت گردی کو شکست دی، محدود وسائل کے باوجود پی آئی سی پشاور کی تکمیل قابل تحسین ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے پی آئی سی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں ابھی تک امراض قلب کا کوئی ہسپتال نہیں تھا، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں امراض قلب وارڈ کے نتائج اچھے نہیں تھے، پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بہت ضرورت تھی، ہسپتالوں کی تعمیر میں تاخیر پر لاگت بڑھ جاتی ہے، افغانستان سے بھی مریض پشاور علاج کرانے آئیں گے، ہم نے کورونا کے دوران فنڈز ڈھونڈے اور ہسپتال مکمل کیا گیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا جتنا بھی ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے اس کا آدھا قرضوں کی مد میں چلا جاتا ہے، عوام کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہسپتال ریفارمز کا مقصد کارکردگی بہتر کرنا ہے، ریفارمز سے سرکاری ہسپتال بھی نجی ہسپتالوں کی طرح چلیں گے، سزا اور جزا کا قانون ختم ہونے سے گورنمنٹ ہسپتال نیچے آگئے۔

    انہوں نے کہا کہ ایلیٹ لوگ یا وزرا علاج کرانے بیرون ملک چلے جاتے ہیں، مدینہ کی ریاست میں کمزور طبقے کی ذمہ داری لی گئی تھی، خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے، ہیلتھ کارڈ سے پرائیویٹ یا گورنمنٹ ہسپتال میں علاج کرایا جاسکے گا، حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ پورے ملک میں ہسپتال بنائیں

    واضح‌رہے کہ 16دسمبر2014 کا سورج معمول کے مطابق طلوع ہوا۔ صبح دس بچ کر چالیس منٹ پر چھ دہشت گردوں نے اسکول پر حملہ کیا۔

    پشاور کی فضا دھماکوں اور گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھی، جدید اسحلے سے لیس امن دشمنوں نے نہتے بچوں اور اساتذہ کو نشانہ بنایا۔

    علم کی روشنی پھیلانے والے اساتذہ نے بھی اپنی جانیں قربان کیں اور پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کی فرض شناسی برسوں یاد رکھی جائے گی جو دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

    دہشتگردوں نے معصوم بچوں کے خواب توچھین لیے مگر اس سفاکیت سے قوم کا عزم کمزورنہیں ہوا۔

    سانحہ اے پی ایس کے بعد قوم اور سیکیورٹی اداروں نے نئے عزم کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اوران پر پاک دھرتی کی زمین تنگ کر دی۔
    معصوم بچوں پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کو افواج پاکستان نے اسی وقت آپریشن میں جہنم واصل کردیا اور ان کے سہولت کار بھی اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی 525 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشتگرد پاک فوج کو آپریشن ضرب عضب اور خیبرون سے روکنا چاہتے تھے

  • کرونا سے ہلاکتوں کا پچھلے پانچ ماہ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    کرونا سے ہلاکتوں کا پچھلے پانچ ماہ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    کرونا سے ہلاکتوں نے پچھلے پانچ ماہ کا ریکارڈ توڑ دیا

    باغی ٹی وی : عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں گزشتہ 5 ماہ کے دوران آج سب سے زیادہ اموات ریکارڈ ہوئیں۔ پاکستان میں آج مزید 105 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کی کل تعداد 9 ہزار 10 تک پہنچ چکی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 731 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 28 ہزار 673، سندھ میں ایک لاکھ 98 ہزار 482، خیبر پختونخوا میں 53 ہزار 253، بلوچستان میں 17 ہزار 796، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 799، اسلام آباد میں 35 ہزار 203 جبکہ آزاد کشمیر میں 7 ہزار 771 کیسز رپورٹ ہوئے.

    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 35 ہزار 203، خیبر پختونخوا میں 53 ہزار 253، سندھ میں ایک لاکھ 98 ہزار 482، پنجاب میں ایک لاکھ 28 ہزار 673، بلوچستان میں 17 ہزار 796، آزاد کشمیر میں 7 ہزار 771 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 799 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    ملک بھر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 7.12 فیصد ہو گئی۔ کراچی کورونا مثبت کیسز کی شرح 19.89 فیصد ہے۔

    این سی او سی کے مطابق حیدرآباد میں مثبت کیسز کی شرح 22.45 فیصد ہوگئی۔ آزاد کشمیر میں 9.4 فیصد، بلوچستان میں 14.2، گلگت بلتستان میں 0.5، اسلام آباد 4.3، خیبر پختونخوا 7.2 اور سندھ میں 14.9 فیصد تک ہوگئی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق پنجاب میں مثبت کیسز کی شرح 3.8 ہے۔ لاہور میں مثبت کیسز کی شرح 5.47، راولپنڈی میں 7.71 فیصد ہوگئی۔ پشاور میں مثبت کیسز کی شرح 19.04، کوئٹہ میں 5.06 اور میرپور میں کیسز کی شرح 22 فیصد تک آگئی۔

  • پاکستان سعودی عرب کے تعلقات میں‌ نیا موڑ:ذمہ دارکون ؟عمران خان یا سعودی شاہی خاندان

    پاکستان سعودی عرب کے تعلقات میں‌ نیا موڑ:ذمہ دارکون ؟عمران خان یا سعودی شاہی خاندان

    لاہور:پاکستان سعودی عرب کے تعلقات میں‌ نیا موڑ:ذمہ دارکون ؟عمران خان یا سعودی شاہی خاندان،اطلاعات کے مطابق سعودی شہزادے نے عمران خان کو فون کرتے ہوئے محمد بن سلمان اورسلمان بن عبدالعزیز کا سلام پہنچاتے ہوئے اس بات کی خواہش کا بھی اظہارکیا کہ جناب تشریف لائیں

    سعودی شہزادے کا عمران خان کو فون کرنا کوئی روایتی نہیں بلکہ ایک طئے شدہ منصوبے کا حصہ ہے ، یہ بات بھی یادرکھیں کہ عمران خان کو فون کرنے سے پہلے شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز کی شہزادہ محمد بن سلمان سے اورایسے ہی سلمان بن عبدالعزیز سے بات چیت ہوتی ہے، یہ ٹائمنگ بتاتی ہےکہ عمران خان کو فون کیا نہیں بلکہ کروا یا گیا اوراس بات کی خواہش کا اظہار کرنا کہ جناب ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں یہ ایک قریب ہونےکا اشارہ کرتا ہے

    اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو اس ٹیلی فون کال کا اسباب کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے، پاکستان جو کہ سعودی سرزمین ، سعودی حکمرانوں اورسعودی عوام کی دل کہ گہرائیوں‌سے نہ صرف عزت کرتا ہے بلکہ اسے اپنے اوپرفرض بھی گردانتا ہے

    ویسے تو پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان کےتعلقات کی ایک ناقابل فراموش تاریخ بھی موجود ہے ،

    اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے جہاں‌دنیا کے دیگرمسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرکے وہاں اخوت کا مظاہرہ کیا ہے وہ پاکستان میں بھی دیکھنے میں ملا ہے

    پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی جتنی سعودی عرب کی طرف سے ہے اس سے دگنی گرم جوشی اوروابستگی پاکستان کی طرف سے ہے جو ایک فطری اورایمان کا تقاضا بھی ہے

    اگرسعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ مشکل وقت میں تعاون کیا ہے تو یاد رکھیں کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ وہ عہد نبھائے ہیں کہ جن کی قیمت انسان نہیں دے سکتے بس اس کا اجراللہ ہی دے گا

    یہ بڑی راز کی باتیں ہیں کہ پاکستان نے اپنی سلامتی کوخطرے میں ڈالتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی کو ترجیح دی یہ کسی پراحسان نہیں بلکہ ایمانی فریضہ تھا

    یہ بات بھی یاد رکھین کہ عربوں خصوصا سعودی عرب کے دشمنوں کو اگرڈر ہے تو فقط پاکستان کا

    تفصیل میں نہیں جانا چاہتا صرف موجودہ حالات کے حوالے سے عرض گزار ہوں‌کہ پاکستان کی طرف سے اس قدر شدید محبت اوروابستگی کے باوجود ان عرب ممالک نے پاکستان کی خدمات ، قربانیوں کو فراموش کرتے ہوئے کشمیر کے معاملے پرکشمیری مسلمانوں پرہونے والے مظالم پرمسلمانوں کے دشمن ، کشمیریوں کے دشمن ، اسرائیل کے جانی دوست بھارت کا بھرپورساتھ دیا

    پاکستان نے کبھی اپنی حفاظت کے لیے ان ممالک سے درخواست نہیں کہ اور نہ ہی یہ ممالک اس لائق ہیں ،

    دوسرا اہم موڑ ابھی چند ماہ قبل آیا جب چند عرب ممالک جو کہ سعودی عرب کے بچونگڑے جانے جاتے ہیں نے اسرائیل کوتسلیم کرلیا ، پاکستان نے اس وقت عرب ممالک خصوصا سعودی عرب کو اس حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ یہودونصاریٰ مسلمانوں کے دشمن نہیں ہوسکتے اللہ اوراس کے رسول کا یہ فرمان ہے

    سعودی عرب نے پاکستان کے اس مخلصانہ مشورے کو نہ صرف کمتر سمجھا بلکہ اسے اپنے معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا ، ایسے ہی عرب امارات نے بھی وہ رویہ پیش کیا جوسعودی عرب نے پیش کیا

    اس موقع پرپاک فوج کے سربراہ نے بھی کوشش کی اور ان کو سمجھایا کہ پاکستان کا اسرائیل سے کوئی زمینی تنازعہ نہیں پاکستان عربوں خصوصا ارض فلسطین پرقبضے کی وجہ سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہا یہ موقع ہے اتفاق سے چلنے کا تاکہ فلسطینیوں کی جدوجہد اورقربانیوں کو حقیقت میں بدلا جاسکے لیکن سعودی عرب کی طرف سے اس حوالے سے "آپ کون ہوتے ہیں ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے والے ” جیسا رویہ اختیار کیا گیا

    اس کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے اپنا اوراہل پاکستان کا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ اگراسرائیل کو تسلیم کریں گے تو کل اللہ کو کیا جواب دیں گے

    وزیراعظم کے اس اصولی موقف نے ان لوگوں کی زبانیں بند کردیں جو وزیراعظم عمران خان کو یہودی ہونے کا الزام دھرتےرہے ،

    اس دوران سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں ووٹ ناں‌دیکر اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال کرپاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کو قوت بخشی

    پاکستان نے اس بربھی صبر کا مظاہرہ کیا

    پھر کیا ہوا جہاں سے یہ تنازعہ شدت اختیار کرتا ہے ؟

    اسرائیل ،،امریکہ ، بھارت اورایسے ہی اسرائیل کوتسلیم کرنے والے ممالک نے اس بات کے خطرات کو بھانپا کہ جب تک پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرتا ، عربوں‌ اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کو خطرات ہی رہیں‌گے

    دوسری طرف بھارت نے بھی اسی اصول کے تحت کہ پاکستان اسرائیل کوتسلیم کرے گا تو اس کے اندر حکومت کے خلاف اس عمل پر ایک خطرناک تحریک کھڑی ہوسکتی ہے اس کا لامحالا فائدہ بھی بھارت کوہوگا

    دوسرا بھارت اورامریکہ بھی یہی خیال کرتے ہیں‌کہ جب تک پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرتا اسرائیل کے لیے خطرات بدستور رہیں گے جو کہ نہ تو امریکہ اورنہ ہی بھارت کےلیے اچھے شگون ہیں

    اس دوران ہوتا یہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایک کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتا ہے وہ کارڈ پاکستان کو دوسال قبل دوارب ڈالرزقرض کے حوالے سے بلیک ملینگ تھی

    سعودی عرب کا خیال تھا کہ پاکستان معاشی طور پرکمزور ہے اوروہ ہمارا قرض ادا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا اس صورت میں پاکستان کو اسرائیل کوتسلیم کرنے پرمجبور کیا جاسکتا یا پھر یہ اسرائیل کوتسلیم کرنے والے ممالک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے روکا جاسکتا ہے

    اس حوالے سے پاکستان پردباو بڑھایا گیا ، یہ دباو جس کا ذکرپاکستان کے معروف صحافی مبشرلقمان بھی اس کا ذکرکرچکے ہیں ایک حقیقت تھی

    اسی دوران پاکستان کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے چین نے بڑی حکمت سے کام لیا اوریہ قرض اداکرنے کی ذمہ داری کچھ باہمی مشاورت سے لی چین پاکستان کو دیئے گئے قرض کی واپسی کے حوالے سے پاکستان کوریلیف دینے پرتیارہوگیا اورپاکستان سعودی عرب کو قرض واپس کرنے پر تیار ہوگیا اوریہ اگلے ہفتے ادا کردیا جائے گا

    ادھر اس دوران ایران نے پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اورایرانی وزیرخارجہ دودن پاکستان میں رہے اوریہ خلیج پرکرنے کی کوشش کرتے رہے

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے دلیرانہ موقف اوربرابری کی سطح کے رویے نے سعودی عرب کی آنکھیں کھول دیں‌ کہ یہ کیا ہوگیا ،
    سعودی عرب اس بات سے بھی پریشان ہے کہ پاکستان کو اب کیسے اعتماد دیں‌گے سعودی عرب شاید قرض کی اس مدت میں توسییع بھی کرنا چاہتا ہے لیکن اب حکومت ٕپاکستان کی طرف سے اس رقم کو ہرصورت جلد واپس کرنے کے فیصلے نے سعودی عرب کی اس پیش کش کو بھی کیش نہیں ہونے دیا

    بات شروع ہوئی تھی کہ ذمہ دارکون ؟اس ساری صورت حال کا ذمہ دارسعودی عرب ہے سعودی عرب کے بچونگڑے سعودی عرب کی ہدایت پراسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں ،، سعودی عرب ان تعلقات پرمہرثبت کرنے کے لیے پاکستان کواستعمال کرنا چاہتا تھا ناکام ہوگیا ، وزیراعظم عمران خان کے دلیرانہ موقف نے پاکستانی قوم کو بھی تقسیم ہونے سے بچایا اوراپنے بنیادی مطالبے کو بھی زندہ رکھا

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جن پرامریکی اثرورسوخ ہے وہ پاکستان کے حوالے سے وہ موقف اورہمدردی نہیں رکھتے جو پاکستان اورپاکستانیوں کا حق تھا

    اب حکومت کی طرف سے اپنے موقف پرقائم رہنے کے عمل نے سعودی عرب کو احساس دلایا ہے کہ اگراس نے پاکستان کی فطری مدد اورمحبت کو کھودیا توپھراس کے لیے ایسی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں جوبہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں

    آج شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیزکا عمران خان کو فون کرنے کا مقصد بھی یہی تھا اوراس سے پہلے محمد بن سلمان اورسلمان بن عبدالعزیز سے شہزادہ سلطان کا ر ابطہ کرنا اس بات کے واضح اشارے ہیں‌ کہ سعودی حکمران یہ جان چکے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی گرم جوشی اس کی داخلی اورخارجی سلامتی کے لیے ضروری ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنے والےلمحوں‌ میں ملاقاتوں کا یہ سلسلہ شروع ہوجائے جس کے ذریعےپاکستان اورسعودی عرب کے درمیان حالات کو نارمل کرنے کے حوالے سے کوششیں کی جائیں ،یہ ملاقاتیں عسکری قیادت سے بھی ہوسکتی ہیں ، مختلف اندازسے سفارتی کوششیں بھی بروئے کار لائی جاسکتی ہیں

  • پاکستان میں‌ سری لنکا کے ہائی کمشنرکی آرمی چیف سے اہم ملاقات

    پاکستان میں‌ سری لنکا کے ہائی کمشنرکی آرمی چیف سے اہم ملاقات

    راولپنڈی :پاکستان میں‌ سری لنکا کے ہائی کمشنرکی آرمی چیف سے اہم ملاقات،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں آج آرمی چیف سے دواہم ملاقاتیں ہوئی ہیں ، ان میں پہلی ملاقات سعودی سفیر کی آرمی چیف سے جبکہ دوسری ملاقات پاکستان میں‌ تعینات سری لنکن سفیر نے کی ہے

    ادھر پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر وائس ایڈمرل موہن وجیوکرامہ (ریٹائرڈ) نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    ترجمان کے مطابق اس اہم ملاقات میں پاکستان اورسری لنکا کےدرمیان مضبوط باہمی رشتوں‌ پرکھل کربات ہوئی ، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان میں سری لنکن سفیر کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور،علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعاون میں اضافے پر بات ہوئی

    پاکستان میں موجود سری لنکن ہائی کمشنر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علاقائی استحکام اور ترقی میں پاکستان کے کردار کو سراہا

  • پاکستان میں سعودی سفیرنواف سعید المالکی کی آرمی چیف سے اہم ملاقات

    پاکستان میں سعودی سفیرنواف سعید المالکی کی آرمی چیف سے اہم ملاقات

    اسلام آباد : پاکستان میں سعودی سفیرنواف سعید المالکی کی آرمی چیف سے اہم ملاقات ،ذرائع کے مطابق پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان پھر بڑی تیزی سے سفارتی تعلقات میں گرم جوشی دیکھنے میں ملی ہے ، سعودی سفیر کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے اچانک ملاقات اس سلسلے کی کڑی ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق آج ابھی تھوڑی دیر پہلے پاکستان میں‌ تعینات سعودی سفیر نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کرکے ایک بارپھرخطے کے حالات میں گرم جوشی پیدا کردی ہے ،

    اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف کی سعودی سفیر سے ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے پاک سعودی دفاعی تعلقات پر بھی غور کیا گیا۔

    دونوں رہنماوں کےدرمیان خطے کےبدلتے ہوئے تیزی سے حالات پر بھی گفتگو ہوئی سعودی سفیر نے اس موقع پر خطے اورخصوصا عالم اسلام کے لیے پاکستان کی خدمات کوسراہا

  • لائن آف کنٹرول پرپھربھارتی فوج کی دراندازی،دشمن سےلڑتے پاک فوج کے2جوان شہید

    لائن آف کنٹرول پرپھربھارتی فوج کی دراندازی،دشمن سےلڑتے پاک فوج کے2جوان شہید

    راولپنڈی: لائن آف کنٹرول پرپھربھارت کی دراندازی، پاک فوج کے دوجوان شہید، جوابی وار،بھارتی فوج کوبھارتی نقصان ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے آج پھر پاکستانی سرحدوں پردراندازی کی گئی ہے ، ادھر ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے لائن آف کنٹرول پر دو فوجی جوان شہید ہوگئے،

    بھارتی فوج کی مکاری کا پاک فوج کے جوانوں‌ نے بڑی دلیری سے جواب دیا ، پاک فوج نے اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جس میں بھارت کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پرجنگ بندی معاہدےکی خلاف ورزیاں جاری ہیں، آج بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کے باگسر سیکٹر پر اشتعال فائرنگ کی۔

    ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، شہید ہونے والوں میں نائیک شاہ جہان اور سپاہی حمید شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل دس دسمبر کو بھارتی فوج کی فائرنگ سے لائن آف کنٹرول پر تعینات دو فوجی جوان شہید ہوگئے تھے جبکہ پاک فوج نے بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کیے، شہید ہونے والوں میں لانس نائیک طارق اور سپاہی ضروف شامل ہیں۔