Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • براڈ شیٹ کیس: نیب نے برطانوی کمپنی کو 28.7ملین پاؤنڈ ادا کر دیے:اصل کہانی باغی کی زبانی

    براڈ شیٹ کیس: نیب نے برطانوی کمپنی کو 28.7ملین پاؤنڈ ادا کر دیے:اصل کہانی باغی کی زبانی

    اسلام آباد / لندن : نیب نے لندن ہائیکورٹ سے مقدمہ ہارنے کے بعد برطانوی فرم براڈ شیٹ کو 28 اعشاریہ سات ملین پاؤنڈ ادا کر دیے۔

    برطانوی ہائیکورٹ نے براڈ شیٹ کی جانب سے حکومت پاکستان اور نیب کے خلاف مقدمے میں شریف فیملی کی ملکیت ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے 4 فلیٹس کی اٹیچمنٹ کے خلاف احکامات جاری کر دیے۔

    براڈ شیٹ نے درخواست میں 4 اپارٹمنٹس کی اٹیچمنٹ کی استدعا کی تھی جبکہ شریف فیملی کے وکلا نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

    سابق صدر پرویز مشرف نے نواز شریف، آصف علی زرداری، بینظیر بھٹو اور دیگر کی پراپرٹیز کا پتہ چلانے کے لیے 1999 میں براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں، یہ معاہدہ 2003 میں ختم ہو گیا تھا۔

    کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے !

    براڈ شیٹ ایل ایل سی ایک برطانوی کمپنی ہے جس نے انگلینڈ میں کرکٹ کھیلنے کے لیے گئی ہوئی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سامان اور اثاثہ جات کو ضبط کر نے دھمکی دی ہے۔ اس کمپنی کا دعوٰی ہےکہ اس کے پاس اس حوالے سے پہلے ہی عدالت کے احکامات موجود ہیں۔

    کمپنی نے یہ بات حکومت پاکستان اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ ایک پرانے قانونی تنازعے کے تناظر میں کہی ہے۔ یہ قانونی تنازعہ کیا ہے؟

    2000 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں 200 کے قریب پاکستانی سیاست دانوں، سرکاری اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے بیرون ممالک اثاثہ جات کی نشاندہی اور چھان بین کے لیے نیب نے براڈ شیٹ ایل ایل سی کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ان پاکستانی شخصیات میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور بینظیر بھٹو کے خاوند آصف علی زرداری اور سابقہ وزیر اعظم نواز شریف بھی شامل تھے۔

    کمپنی نے یہ کام اپنے خرچے پر کرنا تھا اور اس کے بدلے میں اسے مطلوبہ افراد سے بازیاب ہونے والی رقم کا 20 فیصد بطور معاوضہ ملنا تھا۔

    لیکن 2003 میں نیب نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم کر دیا۔

     

     

     

    عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کو حکم دیا کہ وہ کمپنی کو 21 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرے

    2008 میں نیب نے جیری جیمز نامی ایک شخص سے سمجھوتا کیا کہ اس کا براڈ شیٹ ایل ایل سی سے معاہدہ باقی نہیں رہا۔جیری جمیز مبینہ طور پر براڈ شیٹ ایل ایل سی کا مالک تھا۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں نیب نے اس کو پانچ ملین ڈالر ادا کئے۔ وہ براڈ شیٹ ایل ایل سی کے ابتدائی مالکان میں شامل تھا مگر بعد میں اس نے اسی نام سے امریکا میں ایک اور کمپنی بنا لی تھی۔ 2011 میں اس کا انتقال ہو گیا۔

    اسی دوران براڈ شیٹ ایل ایل سی نے ایک بین الاقوامی ثالثی عدالت میں نیب کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔

    اگست 2016 میں اس عدالت نے براڈ شیٹ ایل ایل سی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ جیری جیمز کو کمپنی کی طرف سے کوئی معاہدہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

    جولائی 2018 میں بین الاقوامی ثالثی عدالت نے نیب کی جانب سے کیس لڑنے والی لا فرم ایلن اینڈ اووری کے دفتر میں چار دن تک فریقین کے دلائل سنے۔

    دسمبر 2018 میں عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستانی حکومت کو 21 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کے احکامات دیئے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کو کمپنی کو واجب الادا رقم پر سود کی مد میں روزانہ پانچ ہزار ڈالر سے زیادہ رقم بھی ادا کرنی ہو گی۔

     

     

    براڈ شیٹ ایل ایل سی لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کی عمارت بھی ضبط کرنا چاہتی ہے

    لا فرم ایلن اینڈ اووری نے یہ کیس لڑنے کے لیے حکومت پاکستان سے دو اقساط میں 13.5 ملین پاونڈ وصول کیے تھے۔

    ابھی تک اس مقدمے کی پیروی کے لیے حکومت پاکستان تقریبا تین ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔

    2017 میں پانامہ کیس میں نواز شریف کو ملنے والی سزا کے بعد براڈ شیٹ ایل ایل سی نے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان سے بازیاب کی جانے والی رقم کا 20 فیصد نیب کے ساتھ اس کے معاہدے کے تحت اس کو ادا کیا جائے۔

    کمپنی کی جانب سے جولائی 2020 میں پاکستانی حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم حقیقت میں حکومت پاکستان کی ملکیت ہے لہذا اس ٹیم کو ملنے والے پیسے اور اثاثہ جات کو ضبط کر لینا اب کمپنی کا قانونی حق ہے۔

    کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے اس کے خط کا مناسب جواب نہ دیا تو وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام اثاثوں کو اپنے قبضے میں لے لے گی ۔

    دیگر پاکستانی اثاثہ جات جن کو براڈ شیٹ ایل ایل سی ضبط کرنا چاہتی ہے ان میں لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کی عمارت، لندن میں ہائی کمشنر کا گھر اور نیویارک میں پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل بھی شامل ہیں۔

     

    نیویارک میں پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل بھی تحویل میں لینے کا پروگرام شامل تھا 

    یاد رہے کہ لندن کی مصالحتی عدالت نے 2018 میں نیب کے خلاف 2 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد کیا اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر دو سال میں 90 لاکھ ڈالر سود بھی شامل ہوگیا جبکہ مصالحتی عدالت نے 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر 30 دسمبر تک ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    نیب کی جانب سے رقم کی عدم ادائیگی پر گزشتہ روز پاکستان ہائی کمیشن کا اکاؤنٹ منجمد ہوا۔

    نیب یہ کیس ہاری نہیں بلکہ اس کیس سے کنارہ کشی نے یہ جرمانہ کروایا ہے اوراس رقم میں زیادہ ترسود کی مد میں شامل ہونے والی رقم بھی ہے

  • تعلیمی ادارے کب کھلیں گے ، فیصلہ ہوگیا

    تعلیمی ادارے کب کھلیں گے ، فیصلہ ہوگیا

    تعلیمی ادارے کب کھلیں گے ، فیصلہ ہوگیا

    باغی ٹی وی : بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں نویں سے بارہویں تک تعلیمی ادارے 11 جنوری سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پہلی سے 8 ویں تک تعلیمی ادارے 20 جنوری سے جبکہ یکم فروری سے یونیورسٹیز میں تدریس کا عمل شروع ہوگا۔

    یاد رہے تعلیمی ادارے کورونا کے باعث نومبر میں بند کئے گئے تھے، دسمبر کے آخری ہفتے سے 10 جنوری 2021 تک تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلا ت کا اعلان کیا گیا تھا

    گزشتہ ہفتے شفقت محمود سے نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں ملاقات11 جنوری سے تعلیمی ادارے کھولنے پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کی تجاویز کے بنا تعلیمی ادارے نہیں کھول سکتے۔ ہم نے بچوں، اساتذہ اور اسٹاف سمیت سب کی صحت کو دیکھنا ہے۔

    وزیرتعلیم نے کہا تھا کہ وزارت صحت کی بریفنگ پر تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ ہوگا، نجی تعلیمی اداروں کی مشکلات کا ادراک ہےاورانہیں پیکج دے رہے ہیں۔

  • عدم استحکام کے لیے بیرونی فنڈنگ کی گئی، فوج مخالف بیانات اسی سازش کا حصہ ہیں، اپوزیشن خوف خدا کرے:رحمان ملک

    عدم استحکام کے لیے بیرونی فنڈنگ کی گئی، فوج مخالف بیانات اسی سازش کا حصہ ہیں، اپوزیشن خوف خدا کرے:رحمان ملک

    اسلام آباد: عدم استحکام کے لیے بیرونی فنڈنگ کی گئی، فوج مخالف بیانات اسی سازش کا حصہ ہیں، اپوزیشن خوف خدا کرے،اطلاعات کے مطابق سابق وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بھارت اور افغانستان سے بھاری فنڈنگ کی گئی ہے۔

    سابق وفاقی وزیرداخلہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ کی گئی ہے، جس کے تحت ملک میں انتہا پسندی کےساتھ سیاسی دھڑے بندی کی کوشش کی جائے گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات کی سازشیں ہوں گی، ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش بھارت اور افغانستان کی جارہی ہے۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ غیرملکی فنڈنگ مختلف فاننشل سروسز کےذریعے پاکستان لائی گئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ میں ہمارے بھائیوں کوشہید کیاگیا، میں اس کی شدیدمذمت کرتاہوں‘۔

    رحمان ملک نے کہا کہ ’پاک فوج کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے وہ ٹھیک نہیں، فوج کے خلاف اس طرح کے بیانات اور تقاریر نہیں ہونی چاہیں کیونکہ یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے‘۔

    پیپلزپارٹی کے سینیٹر نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی بات پر طیش میں نہ آئیں کیونکہ ایسےواقعات کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان کےخلاف محاذکھلےگا۔

    انہوں نے کہا کہ ’بطور چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی داخلہ حکم دوں گا پاکستان مخالف تشہیرکو روکیں،سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف موادکو فوری بلاک کیا جائے، وزیراعظم بھی سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے ملک مخالف مواد پر فوری ایکشن لیں‘۔

  • قوم جانتی ہےمیں نے10سال کشمیریوں کی کتنی خدمت کی:عمران خان نےکشمیرپربھارت کا قبضہ کروا دیا:مولانا فضل الرحمن

    قوم جانتی ہےمیں نے10سال کشمیریوں کی کتنی خدمت کی:عمران خان نےکشمیرپربھارت کا قبضہ کروا دیا:مولانا فضل الرحمن

    بہاولپور: قوم جانتی ہے میں نے 10سال کشمیریوں کی کتنی خدمت کی:عمران خان نے کشمیرپربھارت کا قبضہ کروا دیا :مولانا فضل الرحمن کا بہاولپورمیں خطاب،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کبھی کارڈ چھپائیں گے، کبھی دکھائیں گے، دھاندلی کی پیداوار حکومت کو ہر صورت گھر بھجوائیں گے۔ پی ڈی ایم میں اختلافات کی کہانیاں سفید جھوٹ، تمام جماعتیں متحد اور ایک پیج پر ہیں۔ حقیقی جمہوریت اور تبدیلی کی جدوجہد جاری کامیابی تک جاری رہے گی۔

    مولانا فضل الرحمان نے بہاولپور میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 21 جنوری کو اسرائیل نامنظور ریلی نکالیں گے اور دنیا پر واضح کریں گے کہ پہلے فلسطین کو تسلیم کرو، یہ آواز پاکستان کی سرزمین سے اٹھے گی۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے پہلے ہی عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا تھا۔ عمران خان نے اسی لیے کہا تھا کہ الیکشن میں مودی کامیاب ہو۔

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ میں نے چیئرمین کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے جوکشمیریوں کا کام کیا ہے وہ کسی اور نے نہیں کیا ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مقبوضہ کشمیر پربھارت کا قبضہ کروادیا جوکہ ہمارے دور مین نہیں تھا،

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کشمیر فروش ہے۔ ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں کشمیریوں کو مودی کے جبر وستم پر چھوڑ دیا۔ ہم پانچ فروری کو قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں گے۔ پانچ فروری کو پی ڈی ایم کی سربراہی میں ہر بڑے شہر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔

    ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کی اس دنیا میں ریاستوں کی بقا کا دارومدار مستحکم معیشت ہوتی ہے۔ ناجائز حکومت نے ملکی معیشت کوتباہ وبرباد کردیا۔ آج ہمسایہ ممالک ہم سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔

    پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ ووٹ چوری کرکے حکومتیں نہیں چلا کرتیں، عوام کا نمائندہ بن کر آنا پڑے گا، عوام کے نمائندے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس کے بعد حکومت سوچ رہی تھی کہ شاید ہمارا اتحاد ٹوٹ جائے گا۔ ہم نے سربراہی اجلاس میں ایک آواز میں فیصلے کیے تو ان کے گھروں میں ماتم بچھ گیا۔ پی ڈی ایم کی ایک قومی تحریک ہے جس میں شامل تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔

  • واہ مریم نواز! نئہیں تیریاں ریساں‌:نیازی تیرا مقابلہ نہیں کرسکتا

    واہ مریم نواز! نئہیں تیریاں ریساں‌:نیازی تیرا مقابلہ نہیں کرسکتا

    لاہور:واہ مریم نواز! نئہیں تیریاں ریساں‌ ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کی نائب صدر کرپشن پربرطرف سابق وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی جانشین مریم نواز کی خوبیوں کوشاید ہی کم لوگ جانتے ہیں، جوخوبیاں مریم نوازمیں وہ عمران خان کے پاس بھی نہیں

    ویسے تو بہت سی خوبیاں ہیں مگرجوایک منفرد اور بڑی خوبی ہے وہ عوام کے سامنے مختلف چہروں سے آنا ہے ، اس کی تازہ مثآل اس سے بڑھ کراورکیاہوسکتی ہے کہ ‏مریم نواز جوگاڑی چلا رہی ہے وہ چوہدری شوگر ملز کے نام پر رجسٹرڈ ہے.

     

    یہ بات قابل ذکررہے کہ پاکستان میں چینی بحران میں اس چوہدری شوگرمل کا بڑا ہاتھ ہے، چوہدری شوگرمل نہ صرف شوگر سکینڈل میں شامل ہے بلکہ مریم نے اسکو منی لانڈرنگ کے لیے بھی استعمال کیا.

    یہ بھی یاد رہےکہ 2015 میں نوازشریف نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئےاسکوگوجرہ سے رحیم یارخان شفٹ کیاجس پرڈیڑھ ارب لاگت آئی

  • سینیٹ انتخابات:سپریم کورٹ کا ردعمل آگیا

    سینیٹ انتخابات:سپریم کورٹ کا ردعمل آگیا

    اسلام آباد :سینیٹ انتخابات:سپریم کورٹ کا ردعمل آگیا،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے صدارتی ریفرنس سماعت کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ 4 جنوری کو سماعت کرے گا۔

    چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی بینچ کا حصہ ہیں۔ حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رائے طلب کی ہے۔

    خیال رہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے لئے ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ ریفرنس میں سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے معاملے پر رائے طلب کی گئی ہے

  • سانحہ بلوچستان، جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کوحکومت تنہانہیں چھوڑے گی، وزیر اعظم کا دبنگ اعلان

    سانحہ بلوچستان، جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کوحکومت تنہانہیں چھوڑے گی، وزیر اعظم کا دبنگ اعلان

    سانحہ بلوچستان، جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کوحکومت تنہانہیں چھوڑے گی، وزیر اعظم کا دبنگ اعلان

    باغی ٹی وی رپورٹ‌کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ مچھ میں حملہ بزدلانہ اورغیرانسانی ہے، جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کوحکومت تنہانہیں چھوڑے گی۔

    وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بلوچستان کے علاقے مچھ میں 11کان کنوں کےقتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایف سی کوقاتلوں کوپکڑنے اورکٹہرے میں لانے کیلئےتمام وسائل بروئے کارلانے کی ہدایت کر دی۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں نامعلوم دہشت گردوں نے کان کنوں کو پہاڑوں پر لے جا کر ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 11 کان کن جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے۔

    حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی قائدین کی مچھ میں دہشتگردانہ حملے کی مذمت

  • بہاولپور: مولانا،مریم توپہنچ گئے مگرکارکن نہ‌آئے

    بہاولپور: مولانا،مریم توپہنچ گئے مگرکارکن نہ‌آئے

    بہاولپور: بہاولپور: مولانا،مریم توپہنچ گئے مگرکارکن نہ‌آئے ،اطلاعات کے مطابق جنوبی پنجاب کے اہم ضلع بہاولپور میں پی ڈی ایم کی جانب سے عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا جانا تھا تاہم کارکنان جمع نہ ہونےپر اب ریلی تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلی میں عوام اور کارکنان کی عدم شرکت پر ن لیگی میزبان اور مرکزی قائدین نےسرجوڑ لئے ہیں، لوگوں کی عدم شرکت کے باعث ریلی نکلنے میں مزید دو سےتین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

    دوسری جانب صدر مسلم لیگ (ن) پنجاب رانا ثنااللہ نے کارکنان جمع نہ ہونے پر مدعا ضلعی انتظامیہ پر ڈال دیا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کنٹینرز لگا کر راستے روک رہی ہے، انتظامیہ سے گزارش ہے کہ کنٹینرز کو ہٹایا جائے۔لیگی صدر کا کہنا تھا کہ ہرلیڈر سےدس میں سے پانچ افراد کی شرکت کی درخواست کی گئی ہے، حکومت کی غلامی میں انتظامیہ شہرکا امن خراب نہ کرے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز بہاولپور کے ڈپٹی کمشنر نے مسلم لیگ ن کو ریلی کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا، مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت نے بہاولپور ریلی کی اجازت کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی اور استدعا کی تھی کہ انہیں پروگرام کی اجازت دی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر بہاولپور نے ریلی کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ تھریٹ الرٹ کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

  • خبردار:کورونا ویکسین لگوانے والی میکسیکن ڈاکٹر کو دورے پڑنے لگے

    خبردار:کورونا ویکسین لگوانے والی میکسیکن ڈاکٹر کو دورے پڑنے لگے

    الاسکا:خبردار:کورونا ویکسین لگوانے والی میکسیکن ڈاکٹر کو دورے پڑنے لگے،اطلاعات کے مطابق ویکسین لگوانے کے بعد میکسیکو کی خاتون ڈاکٹر کو دورے پڑنے، سانس لینے میں تکلیف اور جلد پر سرخ نشانات ظاہر ہونے لگے۔

    برطانوی نشریاتی خبررساں ادارے کے مطابق میکسیکو کی 32 سالہ خاتون ڈاکٹر نے کورونا ویکسین لگوائی جس کے بعد ان دورے پڑنے لگے، جب کہ انہیں سانس لینے میں تکلیف اور جلد پر سرخ نشانات ظاہر ہوگئے، جس کے بعد فوری بعد ہی انہیں شمالی ریاست نیوو لیون کے ایک سرکاری اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کردیا گیا۔

    میکسیکن وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ابتدائی تشخیص کے مطابق خاتون ڈاکٹر کو (اینسیفیلومائلائٹس) دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی سوزش ہے،

    متاثرہ ڈاکٹر الرجی کی مریضہ بھی ہیں، اور ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ویکسینیشن کے بعد کسی اور شخص کے دماغ میں اس طرح کی سوزش پیدا ہوئی ہو، تاہم کیس کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی ویکسین کی خوراک لگانے کے بعد مریضہ کو اسپتال کیوں جانا پڑا۔

    واضح رہے کہ میکسیکو میں کورونا سے اب تک ایک لاکھ 26 ہزار 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جب کہ میکسیکو میں 24 دسمبر 2020 سے طبی عملے کو کورونا ویکسین لگانے کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا تھا۔

  • پاکستان کے خلاف دنیا بھرمیں مصروف بھارت کی پراکسی واربے نقاب؛مگرنوازشریف اورمولانا چپ کیوں؟ قوم کا سوال

    پاکستان کے خلاف دنیا بھرمیں مصروف بھارت کی پراکسی واربے نقاب؛مگرنوازشریف اورمولانا چپ کیوں؟ قوم کا سوال

    لاہور:پاکستان کے خلاف دنیا بھرمیں مصروف پراکسی واربے نقاب؛مگرنوازشریف اورمولانا چپ کیوں؟ قوم کا سوال ،اطلاعات کے مطابق چند دن پہلے جس طرح دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کا بھانڈہ پھوٹا ہے ، اس پر جہاں پاکستانی عوام غیض وغضب میں ہیں‌ وہاں دنیا کے دوسرے مہذب ممالک بھی بھارتی عزائم اوربھارتی پراپیگنڈے کی مذمت کررہے ہیں، لیکن پاکستان کی اپوزیشن جماعت ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز،مولانا فضل الرحمن ، محمود خاں اچکزئی ، علامہ ساجد میر اور ایسے ہی پی پی قیادت خاموش ہے

     

     

    پاکستانی یہ سوال کررہے ہیں کہ اتنا بڑا پاکستان پرحملہ پھران لیڈروں کی خاص کرمیاں نوازشریف اورمولنا فضل الرحمن کی خاموشی کا مطلب "دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے ”

    دنیا بار بار پاکستان کے خلاف اس پراکسی وار جسے ہائیبرڈ وار بھی کہا جاتا ہے بھارت کی مذمت کررہی ہے ، بڑے بڑے مفکرپاکستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پربھارت کو جہاں کوس رہے ہیں وہاں وہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی پرخاموش نہ رہ سکے اوراسے گھرکے بھیدی سے تشبیہ دی ہے

     

     

    اب چلتے ہیں کہ یہ کھیل کیا تھا !

    یورپ کے ایک غیر سرکاری ادارے نے بھارت کی ایک ایسی مہم کا پردہ چاک کیا ہے، جو وہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے سالہا سال سے چلا رہا ہے۔

    ‘ای یو ڈس انفو لیب’ نامی ادارہ برسلز میں قائم ہے، جس کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ بھارت کا شری واستَو گروپ پاکستان کی ساکھ کو خراب کرنے کے لیے ایک باضابطہ مہم چلا رہا ہے اور اس مہم میں ایک بھارتی خبر رساں ادارے ایشیا نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

     

     

    ڈس انولیب کے تحقیقاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ ان اداروں کا ہدف ہے ان ملکوں کو بدنام کرنا جو خطے میں بھارت کے مفادات کے خلاف ہیں، خاص طور پر پاکستان اور کسی حد تک چین۔ یہ مہم عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بہتر بنانے کا ہدف رکھتی ہے، تاکہ نئی دہلی یورپی یونین اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کر سکے۔

     

     

    ڈس انفو لیب کے محققین کا ماننا ہے کہ یہ کام کم از کم 15 سال سے جاری ہے اور اس میں 750 سے زیادہ جعلی میڈیا ادارے شامل ہیں اور 119 ملکوں سے 550 سے زیادہ ویب سائٹس چلائی جا رہی ہیں جو بھارت کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کا تاثر پروان چڑھاتی ہیں۔

    این جی او کے مطابق ’’انڈین کرونیکل‘‘ نے یورپی یونین کے لیے نئی ویب سائٹ بنائی ہے، یورپی قانون سازوں اور صحافیوں کے جعلی اکاؤنٹس بنا کر ان سے جعلی مضامین شیئر کرائے جاتے ہیں۔

     

     

    بھارتی نیوز ایجنسی ’’اے این آئی‘‘ ان جعلی خبروں کو بھارت میں پھیلاتی ہے، بھارت میں بزنس ورلڈ میگزین اور دیگر ادارے انہیں شائع کرتے ہیں، اس سے بھارت اور یورپی یونین میں پاکستان مخالف بیانیہ پھیلایا جاتا ہے۔

    بھارتی ادارہ Srivastava اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان اور چین کے خلاف منفی مواد کی تشہیر میں ملوث ہے، جعلی خبروں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف مہم کو غلط رنگ دیا جاتا ہے۔

     

     

     

    رپورٹ میں محققین نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین کی نئی ویب سائٹ پر MEPsکےذریعے پاکستان کے خلاف مواد کی تشہیر EU Chronicle website بھارت کی بین الاقوامی اثر و رسوخ کی مہم میں نیااضافہ ہے ۔

     

     

    گو کہ ان ویب سائٹس کا بھارتی حکومت سے براہِ راست کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن محققین کے مطابق ان سب کے تانے بانے نئی دہلی میں قائم شری واستو گروپ سے ملتے ہیں۔ انہوں نے برسلز، جنیوا اور دنیا بھر میں ایسے جعلی میڈیا ادارے بنائے ہیں جو نہ صرف جعلی خبریں بناتے ہیں بلکہ انہیں بھارت کی مشہور نیوز ایجنسی اے این آئی کے ذریعے پھیلا کر مین اسٹریم میڈیا اداروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ یوں ان کی جھوٹی خبروں کو توثیق ملتی ہے۔

    ان اداروں کا بنایا گیا زیادہ تر مواد پاکستان کے خلاف ہی ہوتا ہے، جو علاقے میں بھارت کے عزائم کے خلاف کھڑی ہونے والی واحد ریاست ہے۔

     

     

    ای یو ڈس انفو لیب نے گزشتہ سال اس مہم کے بارے میں اپنی ابتدائی تحقیقات جاری کی تھیں، لیکن اب انہیں "انڈین کرونیکلز” کے نام سے ایک جامع رپورٹ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ جس میں حیران کن انکشافات موجود ہیں جیسا کہ کس طرح اس مہم میں مختلف ناموں سے میڈیا ویب سائٹس بنائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ ان کا تعلق اسی ملک سے ہے اور پھر اس کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈا الٹا جاتا ہے۔

     

    جعلی ویب سائٹس کی اس طویل فہرست میں ایک نام ‘ای یو کرونیکل’ کا بھی ہے، جو پاکستان مخالف مواد شائع کرنے میں پیش پیش ہے اور بھارتی مفادات کے لیے لابنگ کر رہی ہے۔ ڈس انفو لیب کے مطابق یہ ویب سائٹ "جعلی میڈیا اور جعلی صحافیوں کے ساتھ یورپی امور کی خبروں کا احاطہ کرتی ہے، اور یورپی اراکین پارلیمنٹ کو بھارت کی حمایت میں تحاریر لکھنے کے لیے پلیٹ فارم دیتی ہے۔ اب تک اس پر یورپی پارلیمنٹ کے مختلف پارلیمانی گروپوں سے تعلق رکھنے والے 11 اراکین اپنی آراء کا اظہار کر چکے ہیں۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق یہ جعلی ویب سائٹس اور ان کے سوشل میڈیا ہینڈلز پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وڈیوز اور تحاریر کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھارت کے حوالے سے مثبت خبریں بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔ تحقیقات نے ظاہر کیا ہے کہ ان ویب سائٹس پر کام کرنے والے عملے کے اراکین کے نام تک اصلی نہیں بلکہ چند تحاریر تو بغیر کسی نام کے لگائی جاتی ہیں۔ ان کی تمام تر کوششوں کا محور ایک ہی ہے، پاکستان کو ولن کے روپ میں اور بھارت کو بین الاقوامی اقدار کا محافظ بنا کر دکھایا جائے۔

     

     

    تحقیقات میں انہیں ‘زومبی سائٹس’ کا نام دیا گیا ہے، جو پاکستان کے خلاف مواد کی ترویج کرتی ہیں اور کئی ویب سائٹس کے نام تو موجودہ اداروں اور ختم ہو جانے والے پرانے خبری اداروں سے بھی ملتے جلتے ہیں تاکہ لوگوں کو نقل سے اصل کا دھوکا ہو۔

    ڈس انفو لیب نے اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ شدہ این جی اوز کے ایک نیٹ ورک کا بھی پتہ چلایا ہے جو بھارت کے مفادات کی ترویج کرتا ہے اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے کم از کم دس این جی اوز کا تعلق شری واستو گروپ سے ہے جبکہ کئی دوسری مشکوک این جی اوز بھی ہیں جو یہی راگ الاپتی رہتی ہیں۔

     

     

    ڈس انولیب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سب سے دلچسپ انکشاف امریکا میں قائم ایک این جی او ESOSOC کے حوالے سے ہے جو 1970ء کی دہائی ہی غیر متحرک ہو گئی تھی البتہ 2005ء میں وہ ایک مرتبہ پھر اچانک سامنے آ گئی۔

    اس خصوصی رپورٹ‌ کے مطابق اس انجمن کے سابق چیئرمین لوئس سوہن نے 2007ء میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ایک اجلاس میں "شرکت” بھی کی اور 2011ء میں واشنگٹن ڈی سی میں "فرینڈز آف گلگت بلتستان” کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں بھی۔

     

     

    ڈس انفولیب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب تقاریب اور ان میں ہونے والی گفتگو کی خبریں محض ان ویب سائٹس پر ہی تھیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ لوئس سوہن تو 2006ء ہی میں انتقال کر گئے تھے۔

     

     

    پھر کچھ ایسے ادارے بھی ہیں جو اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ این جی اوز کے ساتھ کام کرتے ہیں ان میں یورپین آرگنائزیشن فار پاکستانی مائنارٹیز، بلوچستان ہاؤس اور ساؤتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم بھی شامل ہیں، اور رپورٹ کے مطابق یہ شری واستو گروپ نے بنائے ہیں۔

     

    ایسی بہت سی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ این جی اوز دراصل پرانے اور ختم ہو جانے والے اداروں کی خاک سے ابھری ہیں۔ ڈس انفو لیب کے مطابق شری واستو گروپ نے اپنے ایجنڈے کو پھیلانے کے لیے ایسی انجمنوں کا ریکارڈ حاصل کیا اور اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا یک نکاتی ایجنڈا پھیلایا کہ پاکستان کو بدنام کرنا ہے اور بھارت کے مفادات کو فروغ دینا ہے۔

    یعنی یہ پورا سیٹ اپ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو دھوکا دینے کے لیے کام کر رہا ہے اور میدانِ عمل میں شکست نہ دے پانے کے بعد ایسے اوچھے ہتھکنڈے آزما رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز امریکا نے مذہبی آزادی کے حوالے سے پاکستان کو تو ‘بلیک لسٹ ممالک’ کی فہرست میں شامل کیا ہے لیکن بھارت اپنے پچھلے چند سالوں کے بدترین ریکارڈ کے باوجود اس فہرست کا حصہ نہیں بن پایا۔

     

     

    پاکستان کے خلاف اس قدر وسیع جنگ اورپھراس کے بڑے بڑے ثبوتو‌ں کا سامنے آنے پرپوری قوم سخت غصے میں ہے اور وہ اتنے دن گزرنے کے باوجود میاں نوازشریف اورمولانا فضل الرحمن کی طرف بھارت کےخلاف اعلان جنگ کی توقع کررہے تھے مگران دونوں شخصیات نے بھارت کے خلاف اعلان جنگ کرنے کی بجائے پاکستانی عوام کومشکلات میں ڈالنے کا منصب سنبھال رکھا ہے

    دوسری طرف یوریین ممالک کے سنیئر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ یہ ایسا معاملہ تھا کہ پوری پاکستانی قوم کواکٹھا ہونا چاہیے تھا مگرکچھاپوزیشن لیڈروں اورجماعتوں کا خاموش رہنا یہ ثآبت کرتا ہےکہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے جس کے نوازشریف اورمولانا فضل الرحمن کوطعنے دیئے جاتے ہیں‌