Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مولانا ہمیں کیوں مروانا چاہتے ہیں !جے یو آئی کے اراکین کا استعفے نہ دینے کا فیصلہ

    مولانا ہمیں کیوں مروانا چاہتے ہیں !جے یو آئی کے اراکین کا استعفے نہ دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد: مولانا ہمیں کیوں مروانا چاہتے ہیں !جے یو آئی کے اراکین کا استعفے نہ دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق جمعیت علما اسلام پاکستان کے منتخب اراکین اسمبلی و سینیٹ‌ نے استعفے دینے سے انکار کردیا۔

    ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق جمعیت علما اسلام کے کچھ اراکین نے استعفے نہ دینے کا فیصلہ کیا جبکہ کچھ اس معاملے پر تذبذب کا شکار ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جے یو آئی کے اراکین نے ابھی تک استعفے نہیں دیے۔

    جمعیت علمائے اسلام ف کے ارکان اسمبلی کی طرف سے استعفے دینے سے انکار کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے انکشاف کیا کہ مولانا فضل رحمان کو اپنی جماعت کے استعفے ابھی تک موصول نہیں ہوئے۔

    پی ڈی ایم اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے مراد سعید کا کہنا تھا کہ ’فضل الرحمان کاچہرہ صاف بتارہاتھا کہ وہ ہارا ہواشخص ہے، وہ سیاست کے بارہویں کھلاڑی ہیں، اپنے جائیدادوں کے سوال پر اداروں کو نشانہ بناتے ہیں‘۔

    مراد سعید کا کہنا تھا کہ ’مولاناکہتے ہیں کہ تمام جماعتوں کے اراکین کے استعفے موصول ہوگئے ہیں مگر انہیں اپنی جماعت کے استعفے ابھی تک موصول نہیں ہوئے‘۔

    قبل ازیں پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین نے اپنی قیادت کے پاس استعفے جمع کرادیے ہیں۔

  • لڑائی نوازشریف کی ہے اوراستعفے ہم دیں :ایسا نہیں ہوسکتا:الٹا دھمکیاں دے رہے ہیں :لیگی ایم این اے

    لڑائی نوازشریف کی ہے اوراستعفے ہم دیں :ایسا نہیں ہوسکتا:الٹا دھمکیاں دے رہے ہیں :لیگی ایم این اے

    چینوٹ:لڑائی نوازشریف کی ہے اوراستعفے ہم دیں :ایسا نہیں ہوسکتا:الٹا دھمکیاں دے رہے ہیں :اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ قیادت کے سامنے ڈٹ گئے اور انہوں نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کردیا جس پر پارٹی کی ضلعی قیادت نے انہیں دھمکیاں دیں۔

    ذرائع کے مطابق رکن قومی اسمبلی کے ڈیرے پر عوامی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت نے بھی شرکت کی۔ قیصر شیخ نے استعفیٰ دینے کی مخالفت کی تو انہیں پارٹی عہدیداران کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں۔

    قیصرشیخ نے کہا کہ لڑائی نوازشریف کی ہے ، اوراستعفے ہم سے مانگے جارہے ہیں ، یہ تضاد کیوں ؟ ایسا نہیں ہوسکتا ، ان کہنا تھا کہ الٹا دھمکیاں دے رہے ہیں‌ شرم آنی چاہیے ان کو

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی قیصر شیخ نے پارٹی قیادت کو استعفی دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی کا سیکریٹری ہوں اور کسی کا ملازم نہیں ہوں‘۔مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت نے انہیں دھمکی دی کہ اگر قیصر شیخ نے استعفیٰ نہ دیا تو رکن قومی اسمبلی کے گھر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

    مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی قیصر شیخ کا کہنا تھا کہ ’میں خود کوشش کر کے پارٹی قیادت کے پاس جاکر بات کروں گا، جماعت کا کوئی ملازم مجھے استعفیٰ دینے کا حکم نہ دے‘۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ضلعی عہدیداران میری بے عزتی نہ کریں اور لیڈر کہہ کر ہی مخاطب کریں، پارٹی لیڈر میرے ووٹ کو عزت دے اور مجھے وہاں سے بیٹھ کر استعفیٰ دینے کی ہدایات نہ دے‘۔

  • 2021 اور پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، پاکستان پر حملہ بھارت کی اوقات نہیں‌،بھارتی فوج بے نقاب صف ماتم بچھ گئی، مبشر لقمان کا وی لاگ

    2021 اور پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، پاکستان پر حملہ بھارت کی اوقات نہیں‌،بھارتی فوج بے نقاب صف ماتم بچھ گئی، مبشر لقمان کا وی لاگ

    2021 اور پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، پاکستان پر حملہ بھارت کی اوقات نہیں‌،بھارتی فوج بے نقاب صف ماتم بچھ گئی، مبشر لقمان کا وی لاگ
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق . سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی نئی ویڈیو میں‌ کہا ہے کہ نیا سال سب کو مبارک ہو ، دعا ہے کہ یہ سال پاکستان کے لیے مزید بہتری اور کامیابی لے کر آئے. ان کاکہنا تھا کہ نئے سال کی پہلی ویڈیو کے لیے میرے پاس بہت سے ٹاپک تھے لیکن میں نے جان بوجھ کر یہ ٹاپک چنا ہے . ان کا کہنا تھا کہ چند کچھ دیر پہلے انڈیا میں‌ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے "نیشنل سیکیورٹی اینڈ کنوینشنل آمز ریس” ہے

    اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر این سی استھانہ ہیں.یہ کتاب جب سے شائع ہوئی ہے تو بھارت کے تمام تجزیہ کار اس کو یہ کہہ رہے ہیں یہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے. ان کا کہنا تھا کہ آخر کیا ایسی بات ہے اس کتاب میں‌کہ سب ہی بھارتی تجزیہ کار پریشان ہیں. اس کتاب کی ون لائنر یہ ہےکہ اس میں‌آستھانہ نے کہا ہےکہ بھارت کی اتنی اوقات نہیں‌ ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ کر کے اس پر کاری ضرب لگا سکے .

    اس کے مصنف نے یہ کہا ہے کہ بھارت کا چین اور پاکستان کے ساتھ موازنہ بہت مشکل ہے لیکن میں‌یہاں‌صرف آستھا نہ کی پاکستان کے متعلق کہی ہوئی بات کہوں گا. جس میں‌ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی فوج کی حیثیت اس طرح جیسے کوئی اچھی ملیشیا ہو. پروفیشنل ازم میں پاکستان کے ساتھ اس کو کوئی جوڑ نہیں‌ہے.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کتاب کے مصنف نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت رافیل لے رہا ہے . ایس 400 لے رہا ہے. دفاعی بجٹ میں‌ بہت زیادہ پیسہ خرچ کر رہا ہے. لیکن پاکستان کے پاس اس سب کا توڑ موجود ہے . بھارت کے اخبارات اور میڈیا میں‌اس کتاب پر کہرام مچا ہوا ہے عین اس وقت جب بھارت ایل اے سی میں چین کے ساتھ جنگ کے ماحول میں ہے بھارت کی فوج کا موارال کم کرنے کی شازش ہے .

    پھر اس میں بتایا گیا پاکستان کی فوج نے بارہ سال سے وار آن ٹیرر لڑی ہے . اور اس دشمن کے خلاف لڑی ہے جس کا علم بھی نہیں‌ہوتا اور وہ دکھائی بھی نہیں‌ دیتا ایسی جنگ جیتنا بہت بڑی کامیابی ہے. پاکستان آرمی نے روس جیسی طاقت کو شکست دی جب وہ سوویت یونین تھا .جس نے امریکا کو ناکوں‌ چنے چبو دیے اور اٹھائیس ملکوں کو شکست دی . پاکستان کی آرمی بیٹل ہارڈ آرمی ہے. پاکستان نے سوات آپریشن کیا ، جنوبی اور شمالی وزیرستان میں کامیابی سے آپریشن کیا ملک بھر میں انکے سلپرز سلز کو ختم کیا . دنیا میں‌ نہ صرف کوتسلیم کیا جاا ہے بلکہ اس کو ہائی لی ریٹ کیا جاتا ہے.

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نے وہ کام کیا ہے جس کو اب دشمن بھی سراہنے پر مجبور ہے .پاک آرمی نے بارہ سال ایسی جنگ لڑی اور میں کامیابی حاصل کی جس کو اپنے ملک میں‌لڑنا بہت مشکل ہے اور اس میں کولیٹرل ڈیمج سے پچنا ہوتا ہے. دشمن ملک میں لڑنا تو بہت اسان ہے جہاں آپ کو پتا ہے کہ وہ سب دشمن ہیں لیکن اپنے ملک میں لڑنا بہت مشکل ہے جب آپ کو کولیٹرل ڈیمج سے بھی اپنے شہریوں کو محفظ رکھنا ہوتا ہے. آج یہ ٹی ٹی پی داعش اکا دکا ورداتیں تو کرسکتی ہیں‌لیکن فل سکیل کاروائیاں کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے .
    مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ ڈاکٹر آستھانہ نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چین اور بھارت کے ساتھ آرمڈ جنگ سے باز رہے اور وہ کرے جو وہ کرسکتا ہے. بھارت کو ہائبرڈ وار کرنا چاہیے . میڈیا پر سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف اس کے عوام کو بڑھکایا جائے . پراپیگنڈہ کر کے جھوٹ پھیلا کر پاکستان کو کمزور کیا جائے. ورنہ ووکیشنل وار میں بھارت پاکستان کو شکست نہیں‌دے سکتا .

  • پی ڈی ایم اجلاس میں کیا باتیں ہوئیں :نوازشریف سخت پریشان کیوں؟مولانا فضل الرحمن نے بتادیا

    پی ڈی ایم اجلاس میں کیا باتیں ہوئیں :نوازشریف سخت پریشان کیوں؟مولانا فضل الرحمن نے بتادیا

    لاہور: پی ڈی ایم اجلاس میں کیا باتیں ہوئیں :نوازشریف سخت پریشان کیوں؟مولانا فضل الرحمن نے بتادیا ،اطلاعات کے مطابق جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ (پی ڈی ایم) نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے، سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

    نوازشریف کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے صدارتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام جماعتیں ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گی‘۔

    اُن کا کہنا تھا کہ’سینیٹ الیکشن میں حصہ لینےکاابھی فیصلہ ابھی نہیں ہوا، اُس کو بعد میں دیکھیں گے، حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں اگر مستعفی نہ ہوئی تو لانگ مارچ ہوگا، اکتیس جنوری کے بعد لانگ مارچ کے رخ اور تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا‘۔

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نوازشریف بھی یہی چاہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف سب مل کرلڑیں ، مگروہ اتحادی جماعت کے کردار پرسخت پریشان ہیں

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم کا اجلاس نہایت خوشگوار ماحول میں ہوا، جس میں متخلف معاملات پر گفتگو کی گئی، تمام جماعتوں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا‘۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم میں اختلافات کی خبریں دم توڑ چکی ہیں،آج پیپلزپارٹی والے بھی آئے ہیں مگربلاول نہیں آئے ،

    مولانا فضل الرحمن نے مزید کہاکہ آج پی ڈی ایم مضبوط ہے، تمام استعفے پارٹی قیادت کے پاس پہنچ چکے ہیں‘۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’19 جنوری کو الیکشن کمیشن اور نیب اسلام آباد کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا جائے گا، انتقام کے سلسلے کو بند ہونا چاہیے کیونکہ اسے مہرے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے‘۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’نیب کا ادارہ صرف اپوزیشن کےخلاف بنایاگیاہے، کل محمد علی درانی بغیر کسی پروگرام کے ملاقات کے لیے آئے، انہیں واضح کردیا کہ قومی ڈائیلاگ خارج از امکان ہیں‘۔

  • پھرکہہ رہا ہوں :این آر او نہیں دوں گا :قوم کے لیے لڑرہا ہوں : اللہ بہترکارسازہیں :عمران خان

    پھرکہہ رہا ہوں :این آر او نہیں دوں گا :قوم کے لیے لڑرہا ہوں : اللہ بہترکارسازہیں :عمران خان

    اسلام آباد:پھرکہہ رہا ہوں :این آر او نہیں دوں گا :قوم کے لیے لڑرہا ہوں : اللہ بہترکارسازہیں :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تو واضح کردیا تھا کہ پاکستان میں مسائل کا حل آسان نہیں ہے، میرے تیاری نہیں ہے سے متعلق بیان کو توڑ مرروڑ کے پیش کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ یہ سب کچھ اپنی عوام ، ملک اورقوم کے لیے کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ابھرنا دنیا کوگوارا نہیں ، اندورونی اوربیرونی دشمن یہ جان چکے کہ عمران خان رہا تو ان کے مقاصد کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں‌گے ، اس لیے سارے مل کرسازشیں کررہے ہیں ، ان کہنا تھا کہ میں اپنے رب پربھروسہ کرتا ہوں اوروہی میرا کارسازہے

    نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’تیاری نہیں تھی بیان کو غلط انداز میں لے کر اُسے توڑ مروڑ کے پیش کیا گیا، جب وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو واضح کردیا تھا کہ پاکستان کے مسائل کا حل کوئی آسان نہیں ہے‘۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر جوبائیڈن ابھی اقتدارمیں نہیں آئے مگر انہیں گزشتہ ڈھائی ماہ سے ادارے بریفنگ دے رہے ہیں، جب امریکی صدراقتدارسنبھالےگاتو اسےاداروں کی مکمل معلومات ہوں گی، میں نےاس قسم کی بریفنگ کےبارے میں بات کی تھی جسےکوئی اور مطلب دیا گیا اور تیاری نہ ہونے کو بنیاد بنا کر اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، اب جوبائیڈن جب صدارت سنبھالے گا تو اُس کی پوری تیاری ہوگی‘۔

    اُن کا کہنا تھاکہ ’مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم پاکستان اور جی ڈی اے کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، وہ ہمارے اتحادی ہیں اور مستقبل میں بھی رہیں گے، وہ ہمارے منشور کے ساتھ چل رہے ہیں‘۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں اشرافیہ کا نہیں عوام کا وزیراعظم ہوں،میری زندگی کے یہ دو سال بہت مشکل گزرے مگر امید ہے انشاء اللہ پاکستان کا بہت اچھا وقت آئے گا‘۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ ’میں نےکبھی بہانہ نہیں بنایاکہ میری تیاری نہیں تھی، گفتگو کے دوران میں نےتوامریکاکی مثال دی تھی جس کا غلط مطلب نکا لاگیا جبکہ مقصد یہ تھا کہ نظام کی اصلاحات کے لیے ضروری ہے کہ ادارے حکومت کو بریفنگ دیں‘۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میراہدف پاکستان کے لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا ہے، مجھے یقین ہے کہ نیا سال پاکستان کے لیے خوشیاں لائے گا‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’پانچ سال بعد عوام میری کارکردگی سے متعلق خود ہی فیصلہ سنا دیں گے،میں اقدامات کو بہتر کرنے کے لیے اپنی ٹیم میں تبدیلیاں لاتا رہتا ہوں‘۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’منزل حاصل کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں سمجھوتہ ضروری ہے مگر این آر او پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، میرےکسی وزیرپرکرپشن کا الزام لگے تو کارروائی کروں گا، ملکی تاریخ میں پہلی بار شوگر مافیا کے خلاف کارروائی کی گئی، جہانگیر ترین کے خلاف میرٹ پر فیصلے ہوں گے، میں کرپشن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرسکتا‘۔

  • ان ظالموں نے جوقرض لیا اسے اتارنے کے لیے قرض لینا پڑا:ان کی غلطیوں کا کفارہ قوم اداکررہی ہے :وزیراعظم عمران خان

    ان ظالموں نے جوقرض لیا اسے اتارنے کے لیے قرض لینا پڑا:ان کی غلطیوں کا کفارہ قوم اداکررہی ہے :وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد :ان ظالموں نے جوقرض لیا اسے اتارنے کے لیے قرض لینا پڑا:وزیراعظم عمران خان نے قوم کے سامنے سابقہ حکمرانوں کی غلطیوں کا کفارہ کس ادا کیا ساری صورت حال سامنے رکھی دی،وزیراعظم نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے قرض لے کراپنا بنایا مگرمجھے اس لیے قرض لینا پڑا کہ قرض لینے والے مطالبات کررہے تھے ،

    وزیراعظم نے کہا کہ اتنا بڑا قرض کیسے ادا کرتا عوام تو پہلے ہی بڑا بوجھ برداشت کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جب یہ معلوم ہوا کہ قرض واپس کرنے کے لیے پیسے نہیں تومجبورا عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لے کران ظالم حکمرانوں کی طرف سے لیے گئے قرض کی اقساط ادا کیں

    اُن کا کہنا تھا کہ ’جب اقتدارسنبھالا تو مالیاتی خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا، گزشتہ 60 سالوں میں پاکستان کا کُل قرضہ 6 ہزار ارب تھا، دس سالوں میں اسے 30 ہزار ارب سے زیادہ کردیا گیا‘۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اگر میں نےان پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرلیتا تو پھر ان کا اتحاد کون کرتا؟ ‘۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’گھر پر قرض چڑھتا ہےتو اس کو چلانا مشکل ہوجاتا ہے، ہماری آدھی ٹیکس آمدن قرضوں کی قسط اتارنے میں چلی گئی، کوئی ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہو تو اُس کے باسیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ماضی کے حکمرانوں نے تمام اداروں کو دیوالیہ کیا، جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، اسٹیل مل پر ساڑھے 300 ارب روپے کا قرضہ تھا‘۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’خرچےکم کرتےہیں توگھرمیں تکلیف ہوتی ہے، کوئی بےوقوف ہی ہوگاجسے پتہ نہ ہوملک کےکیامسائل ہیں مگر ملک سے باہر بیٹھ کر اداروں کی کارکردگی کو نہیں دیکھا جاسکتا‘

    وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنی قوم سے جھوٹ نہیں بولوں گا

  • کرونا نے دنیا کوتباہ کردیا:پاکستان پراللہ رب العزت نے مہربانی فرمائی:وزیراعظم عمران خان

    کرونا نے دنیا کوتباہ کردیا:پاکستان پراللہ رب العزت نے مہربانی فرمائی:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد :کرونا نے دنیا کوتباہ کردیا:پاکستان پراللہ رب العزت نے مہربانی فرمائی:اطلاعات کے مطابق ایک نجی ٹی وی کوانٹریودیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سب سے پہلے اللہ رب العزت کا شکرادا کرنا چاہیے کہ جس نے کرونا وباکی تباہ کاریوں کے باوجود پاکستان پراپنی رحمت فرمائی اورہم بہت جلد اس مشکل سے نکل جائیں گے

    اس سے پہلے وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ہمارے اور دنیا کیلئے کورونا کی وجہ سے سال 2020 بہت مشکل رہا، اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہم نے کورونا کے خلاف جنگ کا ڈٹ کر موثر مقابلہ کیا، ہم نے نہ صرف اپنے لوگوں کی زندگیاں بچائیں بلکہ انہیں بھوک سے بھی محفوظ رکھا۔

    عمران خان نے کہا ہے ہم پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں، احساس پروگرام سے غریب عوام کو سماجی تحفظ اور صحت کارڈ کی سہولت میسر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں دو منصوبے مکمل کرنا ان کا عزم ہے، پہلا منصوبہ ملک بھر کے عوام کو صحت کی سہولیات دینا ہے جبکہ دوسرا منصوبہ ہر شہری کو دو وقت کے کھانے کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

  • دنیا کوبتادیا : اسرائیل کوتسلیم نہیں کریں گے :وزیراعظم عمران خان

    دنیا کوبتادیا : اسرائیل کوتسلیم نہیں کریں گے :وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:دنیا کوبتادیا : اسرائیل کوتسلیم نہیں کریں گے :وزیراعظم عمران خان نےآج پھراپنے اہل پاکستان اورپاکستان کے موقف کوپھرسے دہرا دیا ، اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم پاکستان نے نجی ٹی وی کوانٹریودیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تو پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اسرائیل کوتسلیم نہیں‌کریں‌گے

    وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں‌ نے اپنا دلی اورایمانی موقف بھی قوم کے توسط سے دنیا تک پہنچا دیا تھا کہ اگراسرائیل کوتسلیم کیا تو میں اپنے رب کوکیاجواب دوں‌ گا

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح اورحقیقی ہے کہ جب تک فلسطینیوں کوان کی سرزمین واپس نہیں مل جاتی ان کوان کے بنیادی حقوق نہیں مل جاتے پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    وزیراعظم نے اس حوالے سے مزید کہا کہ پاکستان میں بار بار یہ پراپیگنڈہ وہ قوتیں کررہی ہیں جن کے پاس کوئی ایشو نہیں سیاست چمکانے کےلیے اس لیے وہ اس قسم کا پراپگنڈہ کرکے عوام کو تاثردینا چاہتے ہیں‌یہ عوام کوبتایا جائے کہ حکومت اسرائیل کوتسلیم کررہی ہے ، تاکہ عوام کو سڑکوں پرلایا جاسکے

    عمران خان نے کہا کہ وہ پہلے وزرائے اعظم کی طرح نہیں کہ معاملات کچھ اورہوں اوربتائے کچھ اور جارہے ہوں ، وہ کبھی اپنی قوم سے جھوٹ نہیں بولیں گے

    انہوں نے کہہ دیا کہ جب پہلے دن کہہ دیا تھا کہ عمران خان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا توقوم کوبھی یقین ہے کہ ان کا وزیراعظم اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا

    ’اسرائیل کوتسلیم کرنا پاکستان کےنظریے پر سمجھوتہ ہے،اُسے تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ نظریہ پاکستان کے خلاف ہوگا‘۔

  • میں وزیراعظم ، تسیں صدرپاکستان تے پھرکراں گے موجاں:نوازشریف اورمولانا کے درمیان معاہدے کا انکشاف

    میں وزیراعظم ، تسیں صدرپاکستان تے پھرکراں گے موجاں:نوازشریف اورمولانا کے درمیان معاہدے کا انکشاف

    اسلام آباد :میں وزیراعظم ، تسیں صدرپاکستان تے پھرکراں گے موجاں:نوازشریف اورمولانا کے درمیان معاہدے کا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما اور مولانا فضل الرحمن کے رازدان حافظ حسین احمد نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کو پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کے لیے صدر ملکت بنانے کی پیشکش کر رکھی ہے جس کی بنا پر وہ ن لیگ کے لیے کھل کر کام کر رہے ہیں۔

    حافظ حسین احمد نے انکشاف کیا کہ شاطر نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت گرائیں، الیکشن کے بعد میں وزیراعظم اور آپ صدر مملکت ہوں گے۔

    جے یو آئی ف میں فرد واحد کے اختیار کی وجہ سے ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے پارٹی میں اقرباپروری کی انتہا کر رکھی ہے۔کسی کو مجال نہیں کہ ان کی حکم عدولی کر سکے جب کہ وہ خود جماعت کے فیصلوں کے خلاف چلتے ہیں۔

    حافظ حسین احمد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آدھے گھنٹے کے اندر اندر نواز شریف کی کال آنے پر جماعتی فیصلوں کو نظر انداز کر کے صدارت الیکشن لڑا تو ہم حیران تھے کہ اب ہم کس طرح اس اسمبلی کو غلط کہیں گے جس سے ہمارے امیر ووٹ لے رہے ہیں،اب بھی بہت ساری پارٹیاں رابطے اور منتیں کر رہی ہیں کہ میں ان کے ساتھ شامل ہو جاؤں۔

    انہوں نے کہا کہ مولانا کو جے یو ائی سے زیادہ نواز شریف کے فیصلوں پر عملدرآمد کی فکر ہے۔قبل ازیں جے یو آئی پاکستان کے سینئر سیاستدان حافظ حسین احمد کو دوسری سیاسی جماعتوں کی طرف سے شمولیت کے ساتھ اہم عہدوں اورجلد ہونیوالے انتخابات میں سینیٹر بنانے کی پیشکش کر دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق حافظ حسین احمد نے اپنے ایک انٹرویو میں ان آفرز پر کہا ہی کہ ہم اپنی جماعت میں ہی رہیں گے،ہمارا جنازہ بھی ہماری جماعت کے پرچم میں ہی لپیٹا جائیگا، پارٹی دستور کی خلاف ورزی ہم نے نہیں فضل الرحمان نے کی، ہمارا تعلق جے یوآئی (ف)سے نہیں جمعیت علما اسلام پاکستان سے ہے،

  • اہل وطن نئے سال کی آمد پرایک اورمبارک قبول کریں :تم پرسلام بھی ہو: مشیرتجارت

    اہل وطن نئے سال کی آمد پرایک اورمبارک قبول کریں :تم پرسلام بھی ہو: مشیرتجارت

    اسلام آباد :اہل وطن نئے سال کی آمد پرایک اورمبارک قبول کریں : وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری جناب عبدالرزاق دائود نے قوم کوخوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کونئے سال کی آمد پرایک اورمبارکباد دیتا ہوں

    وزیراعظم کے مشیرتجارت عبدالرزاق داود نے اس سلسلے میں ایک ٹویٹ بھی کیا ہے ، جس میں وہ کہتے ہیں کہ !

    مجھے بتاتے انتہائی مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ الحمد للہ دسمبر 2020 میں پاکستان کی برآمدات 18.3 فیصد بڑھی ہیں –

    وزیراعظم کے مشیرتجارت نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2020 میں یہ برآمدات 2.357 ارب ڈالر رہیں – دسمبر 2019 میں یہ برآمدات 1.993 ارب ڈالر تھیں

    مشیرتجارت کہتے ہیں کہ پچھلے سال کی نسبت دسمبر میں برآمدات میں 364 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے – عبدالرزاق دائود نے مزید کہا کہ دسمبر کے مہینے میں یہ تاریخ کی بلند ترین برآمدات ہیں

    مشیرتجارت عبدالرزاق داود نے مزید کہا ک اس مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ہماری برآمدات 4.9 فیصد بڑھیں- اس مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں برآمدات 12.1 ارب ڈالر رہیں -گذشتہ سال کے پہلے 6 ماہ میں یہ برآمدات 11.5 ارب ڈالر تھیں

    ان کا کہاہے کہ برآمدات میں یہ اضافہ پاکستان کی معیشت کی پائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے -یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کرونا وبا کے دوران حکومت پاکستان کی معیشت کا پہیہ چلاتے رہنے کی پالیسی ٹھیک تھی

    وزیراعظم کے مشیر تجارت کہتے ہیں کہ مشکل حالات میں برآمدات بڑھانے کے لئے ہمارے برآمد کنندگان تعریف کے مستحق ہیں -میری برآمد کنندگان سے درخواست ہے کہ وہ بین الاقوامی برآمدات کا زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں –

    عبدالرزاق دائود نے قوم کے ساتھ ساتھ ان سرمایہ کاروں کوبھی مبارک باد دی اور کہا کہ ہمارے برآمد کنندگان ہمارا ایک بہت بڑا سرمایہ ہیں اور میں ان سب کو سلام کرتا ہوں