Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مینار پاکستان کوئی نہیں پہنچ سکے گا، حکومتی حکمت عملی سے پی ڈی ایم پریشان

    مینار پاکستان کوئی نہیں پہنچ سکے گا، حکومتی حکمت عملی سے پی ڈی ایم پریشان

    مینار پاکستان کوئی نہیں پہنچ سکے گا، حکومتی حکمت عملی سے پی ڈی ایم پریشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم جلسہ سے ایک روز قبل حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا

    پنجاب حکومت نے ہفتے کی دوپہرمینار پاکستان کے اطراف 13 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ان علاقوں کی گلیاں آج رات 12 بجے سے بند کردی جائیں گی۔ لاہورمیں رنگ محل،شیراں والا گیٹ،موچی گیٹ،بھاٹی گیٹ میں سمارٹ لاک ڈاون ہوگا

    لاہور کے علاقوں اسلامیہ پارک،المدد پاک کالونی،راوی روڈ کے علاقوں میں بھی سمارٹ لاک ڈاون نافذ ہوگا۔

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے واضح کیا ہے کہ لاک ڈاون والے علاقوں میں شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ اوردفاتربندرہیں گے ۔ علاقہ مکینوں کی نقل وحمل محدود ہوگی جبکہ انتہائی ضرورت کے پیش نظر ایک فرد کو نکلنے کی اجازت ہوگی۔ سمارٹ لاک ڈاون کے دوران ہر قسم کے اجتماعات پرمکمل پابندی ہوگی۔

    حکومت پنجاب نے پولیس کو لیگی رہنماوَں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کیلئے گرین سگنل دے دیا ،پولیس آج رات ن لیگی رہنماوَں کے خلاف کریک ڈاوَن کرے گی، لاہورکے داخلی و خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ن لیگ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سرگرم رہنماوَں و کارکنوں کی فہرستیں مرتب کر لی گئی ہیں

    دوسری جانب ن لیگی قیادت نے اہم پارٹی رہنماوں و کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ وہ آج کی رات اپنے گھروں کی بجائے کسی اور مقام پر رہیں اور کل کے جلسے میں پہنچ کر جلسے کو کامیاب بنائیں،

    پیپلز پارٹی کے کارکنان کو بھی یہی ہدایت کی گئی ہے، باخبر ذرائع کے مطابق جے یوآئی کے کارکنان کو بھی اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر حکومت کسی کو گرفتار کرتی ہے تو فوری اسکی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کریں

    جب مریم نواز کو کارکن نے ہاتھ لگایا تو کیا ہوا…؟

    عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کو سرپرائز دینگے ، فردوس عاشق اعوان

    پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

    مریم نواز نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

    استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں طلب،اہم فیصلے متوقع

    سیاسی جلسے جلسوں پر پابندی،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    13 دسمبر کو ہر ہاتھ میں جھنڈا اورہر جھنڈے میں ڈنڈا ہوگا، قمر زمان کائرہ

    مینار پاکستان، پی ڈی ایم جلسے کو اجازت دینی ہے یا نہیں؟ پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

    مریم نواز کے لیے استقبالیہ کیمپ لگانے پر مقدمہ درج

    پی ڈی ایم جلسہ سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

    بلاول کی آج ہو گی مریم سے ملاقات،ارکان سندھ اسمبلی کو استعفوں بارے بھی نیا حکم دے دیا

    مریم نواز کا لکشمی چوک میں کھانا ،ہوٹل مالک کو "مہنگا” پڑ گیا

    ن لیگ کی فیصلہ ساز کمیٹیوں کا ہنگامی مشترکہ اجلاس طلب

    پی ڈی ایم جلسہ سے قبل ن لیگی کارکنان کو "ہراساں” کیا جانے لگا

    مینار پاکستان، پی ڈی ایم جلسے کو اجازت دینی ہے یا نہیں؟ پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

    بٹ کڑاہی سے کھانا مریم نواز نے کھایا ، بد ہضمی حکومت کو ہوگئی مریم اورنگزیب

    مینار پاکستان گیٹ کے تالے ٹوٹ گئے، پی ڈی ایم کی جانب سے انتظامات جاری

    پی ڈی ایم والےعوام کی زندگیوں سے کھیلنا چھوڑ دیں ،قانونی کاروائی ہو گی، وزیراعلیٰ پنجاب

    پی ڈی ایم جلسے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    مینار پاکستان جلسہ، پی ڈی ایم رہنماؤں سے کس کو کیا جائے گا گرفتار؟

    دوسری جانب پی ڈی ایم  نے مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر حکمت عملی طے کر لی ،مینار پاکستان کی اجازت نہ ملنے کے بعد ٹیکسالی چوک میں جلسہ کرنے پر غورکیا گیا ہے،اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ اگر روکا گیا ،راستے بند کیے تو جلسہ ٹیکسالی چوک میں کریں گے،ٹیکسالی چوک میں کارکنان ہر طرف سے باآسانی پہنچ سکیں گے،مینار پاکستان جلسے کیلئے پہلی ترجیح ہے، ٹیکسالی چوک دوسری آپشن ہے،

    نواز شریف ، زرداری اور مولانا کے پیچھے یہودی لابی، اہم شخصیت کا دعویٰ

  • 22 مئی کو پی آئی اے کے طیارے کی رن وے پر بیلی لینڈنگ کی ویڈیو سامنے آگئی

    22 مئی کو پی آئی اے کے طیارے کی رن وے پر بیلی لینڈنگ کی ویڈیو سامنے آگئی

    رواں سال 22 مئی کوحادثہ کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کی رن وے پر بیلی لینڈنگ کی ویڈیو سامنے آگئی جس کے مطابق
    کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی دوسری کوشش کے دوران گر کر تباہ ہونے والے طیارے نے پہلی لینڈنگ پہیے کھولے بغیر کی۔ پیٹ کے بل رن وے پر گھسٹنے سے شعلے بھی بلند ہوئے۔

  • ٹانگیں ان کی کانپتی ہیں جو….وفاقی وزیر ہوا بازی نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

    ٹانگیں ان کی کانپتی ہیں جو….وفاقی وزیر ہوا بازی نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

    ٹانگیں ان کی کانپتی ہیں جو….وفاقی وزیر ہوا بازی نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ کورونا کیسز کا بڑھتا رجحان سب کے سامنے ہے،

    غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ این سی او سی میں تمام صوبوں کی طرف سے تجاویز پر غور کیا جاتا ہے ،اپوزیشن سے کرپشن کے کیسز پر بات نہیں ہوگی ,ہائی الرٹ سب کے علم میں ہے ،سرحدوں پر خطرہ ہوتا ہے ،ادھر بھارت ہمارے خلاف سرگرم ہے ،قومی معاملات پر اپوزیشن کیوں بات نہیں کرتی؟

    غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ نیب قوانین میں ترامیم ،نئے این آر او پر بات نہیں ہوگی ،ہم نے کبھی کسی سیاسی جماعت کو بات کرنے سے نہیں روکا،معاشی،انتخابی اصلاحات ،کشمیریوں کے ساتھ بھارتی ظلم اور دیگر مسائل پر بات کریں،وزیراعظم نے 3ماہ کیلئے جلسے منسوخ کرنے کی بات عوامی مفاد میں کی،ٹانگیں ان کی کانپتی ہیں جن کے دامن داغدار ہوتے ہیں،وزیراعظم کی بات چیت کی پیش کش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، استعفوں کی باتیں صرف باتیں ہی ہیں ،اپوزیشن کے اراکین قومی اسمبلی وفاقی حکومت سے رابطے میں ہیں،

    وفاقی وزیر غلام سرور خان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے حوالے سے کہتاہوں وہ استعفے نہیں دیں گے ،مسلم لیگ ن میں ایک دھڑا استعفے دینے کے خلاف ہے،اپوزیشن بیٹھنا چاہیے تو قومی معاملات پر بات چیت کو تیا رہیں،یہ صرف دکھاوا ہے کہ اتنے استعفے آرہے ہیں کہ سنبھالے نہیں جا رہے ،اسپیکر ہر وقت موجود ہیں اپوزیشن کو استعفے دینے ہیں تو انہیں دیں ،اپوزیشن جماعتوں کے کچھ لوگ اپنے لیڈر کے بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے ،ہم نے کسی کے خلاف کیسز نہیں بنائے،شیخ رشید وزیرداخلہ کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں گے،

  • چینی کی قیمت کم ہونے پر وزیراعظم کی معاشی ٹیم کو مبارکباد

    چینی کی قیمت کم ہونے پر وزیراعظم کی معاشی ٹیم کو مبارکباد

    چینی کی قیمت کم ہونے پر وزیراعظم کی معاشی ٹیم کو مبارکباد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماشااللہ قومی سطح پر چینی 81 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ پہلے چینی 102 روپے فی کلو فروخت ہورہی تھی،چینی کی قیمتوں کو نیچے لانے پراپنی معاشی ٹیم کومبارکباد پیش کرتا ہوں،ملک بھرمیں چینی اوسطاً81 روپےفی کلو میں فروخت ہورہی ہے،

    قبل ازیں وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ایک ماہ کے دوران چینی کی اوسط قیمت میں 31 روپے فی کلو کمی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ بگڑا نظام بدلنے کی کوشش پر مستفید ہونے والے مزاحمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر طاقتور لوگ ہوں تو مزاحمت زیادہ ہوتی ہے لیکن اگر حکومت نیک نیت اور باہمت ہو تو آخرکار کامیاب ہوتی ہے۔

    خیال رہے کہ ملک میں شوگر بحران کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہو گیا تھا جس پر وزیراعظم نے نوٹس بھی لیا تھا

    سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ چینی کی درآمد سے صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے اور پنجاب بھر میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے،کہیں کوئی قلت نہیں۔ اسی طرح چینی کی قیمت میں بھی استحکام پیدا ہوا ہے اور مارکیٹ میں چینی پہلے کی نسبت کم قیمت میں فروخت ہو رہی ہے

    سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کرشنگ کا آغا زہو چکا ہے اور پنجاب میں چینی کی مقامی پیداوار بھی شروع کر دی گئی ہے جس سے آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید بہتری آئے گی اور صورتحال معمول کے مطابق ہو جائے گی۔

  • پاکستان میں بھارتی ناظم الامورکو تبدیل کر دیا گیا

    پاکستان میں بھارتی ناظم الامورکو تبدیل کر دیا گیا

    بھارت نے پاکستان میں تعینات اپنے ناظم الامور گورو آہلو والیہ کو تبدیل کر کے الجزائر میں نیا ہائی کمشنر مقرر کر دیا ہے۔ گورو آہلووالیہ جلد ہی اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

  • بھارت مکاری سے دنیا کودھوکا نہیں دے سکتا،سیکولرازم کے نام پرہندوتوا کا پرچارسب جان چکے:مبشرلقمان

    بھارت مکاری سے دنیا کودھوکا نہیں دے سکتا،سیکولرازم کے نام پرہندوتوا کا پرچارسب جان چکے:مبشرلقمان

    لاہور :بھارت مکاری سے دنیا کودھوکا نہیں دے سکتا،سیکولرازم کے نام پرہندوتوا کا پرچارسب جان چکے:اطلاعات کے مطابق پاکسان کے سنیئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے بھارتی چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں ، وہ کہتے ہیں‌ کہ بھارت جتنا مرضی خود کوایک سیکولر ملک، دنیا کی سب سے جمہوریت اور اپنا ایکpositive imageدنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کر دے لیکن اس نے جتنی دو نمبریاں کی ہوئی ہیں وہ ہمیشہ کے لئے دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتیں۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھارت جتنی بھی کوشش کر لے اس کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آہی جاتا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے متنازعہ قانون کا مسئلہ تو حل ہوا نہیں تھا کہ کسانوں کا احتجاج شروع ہو گیا۔ لیکن بھارت کی عادت رہی ہے کہ وہ ہر کام کے پیچھے پاکستان کا نام لیتا ہے۔ جیسا کہ اب کسانوں کے احتجاج کو بھی چین اور پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ بھارت کے پاس کبھی کسی بات کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ لیکن اب وہ خود عالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ سازشیں کرتے ہوئے بے نقاب ہو گیا ہے اور وہ بھی تمام تر ثبوتوں کے ساتھ ۔۔ اور ثبوت بھی اب کی بار پاکستان کی طرف سے نہیں بلکہ یورپی یونین کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں۔

     

    جنوبی ایشیا کے امور کے ماہرجانے والی اہم شخصیت جسے دنیا مبشرلقمان کے نام سے جانتی ہے وہ کہتے ہیں‌ کہ یورپی یونین نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت پچھلے 15 سالوں سے جعلی خبروں پر مبنی ایک منظم مہم چلا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں بھارت کے مفادات کا تحفظ کرنا، پاکستان کو بدنام کرنا، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو گمراہ کر کے اپنے مفادات حاصل کرنا ہے۔جعلی خبروں سے متعلق تحقیقات کرنے والے یورپی یونین کے ادارےEU dis-info Labنے انڈین کرانیکل کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بھارت یہ سب جعلی خبریں پھیلانے اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی خاطرمیڈیا کے 750 اداروں، 10 غیر فعال اداروں اور انسانی حقوق کے ایک ایسے پروفیسر کے نام کو استعمال کرتے رہے ہیں جو 2006 میں انتقال کر گئے تھے۔ اس آپریشن میں ان 750 فیک میڈیا آؤٹ لیٹس کے ذریعے 119 ممالک میں غلط خبریں پھیلائی گئیں۔ اور 550 ویب سائٹس کی ڈومینز رجسٹر کروا کر مختلف نیوز ویب سائٹس بنا کر غلط معلومات پھیلائی گئیں ان ویب سائٹس پر بہت سے کالم یورپی قانون سازوں اور صحافیوں کے ناموں سے غلط طور پر منسوب کیے جاتے ہیں۔ ایسے صحافی جو بظاہر موجود نہیں ہیں ان کا نام استعمال کیا جاتا ہے اور پاکستان مخالف مواد کو دوسری ویب سائٹسں سے لے کر اسے بھارت میں دوبارہ شائع کیا جاتا ہے۔

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ اس کے علاوہ این جی اوز، تھنک ٹینکس، پورپی پارلیمنٹ کے مختلف گروپس، مذہبی گروپس، پبلشنگ کمپنیز اور عوامی شخصیات کے نام سے رجسٹر کروائے گئے تھے۔ اور بات صرف معلومات یا غلط خبریں پھیلانے تک نہیں رکتیں، بلکہ انڈین کرانیکل نے برسلز اور جنیوا میں کئی مظاہرے بھی کروائے۔ ان کی جانب سے جنیوا میں فری بلوچستان کے بینرز تک لگوائے گئے۔ جس سےصاف پتہ چلتا ہے کہ ان کا مقصد ایشیا میں بھارت کے مقابلے میں دیگر ممالک خاص طور پر پاکستان اور چین کو نیچا دکھانا تھا۔

    ان کا کہ بھی کہنا تھا کہ یہ مہم 2005 میں شروع ہوئی تھی اورسرواستو گروپ اس کو چلا رہا تھا۔ بھارت کی نیوز ایجنسی ایشین نیوز نیٹ ورک کے ذریعے اسے خوب پھیلایا گیا۔ جعلی اداروں پر شائع ہونے والی خبروں کو اے این آئی کے پلیٹ فارم سے شائع کیا جاتا تھا تاکہ اسے اصل خبر سمجھا جا سکے۔ یہ کام پچھلے پندرہ سال سے جاری ہے۔

    اوراس آپریشن میں پاکستان کے مخالف خبروں کو خاص طور پر مرچ مصالحہ لگا کر پھیلایا جاتا تھا۔ اور آپ بھارت کے سازشی ذہن کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس مہم میں یورپی پارلیمنٹ کے سابق صدر کو ایک جعلی این جی او کا سربراہ بنا کر پیش کیا گیا اور اس این جی او کی مدد سے ہیومن رائٹس کونسل میں پاکستان پر الزامات لگائے جاتے رہے۔

     

    مبشرلقمان نے انکشاف کیا کہ دراصل انڈین کرانیکل کے تمام کردار ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ان کرداروں نے ساؤتھ ایشیا پیس فورم، بلوچ فورم اور فرینڈز آف گلگت بلتستان کے نام سے یورپی پارلیمنٹ میں تین گروپ بنا رکھے تھے۔ یہ گروپس یورپی پارلیمنٹ میں نیوز کانفرنسز اوراس سے باہر مظاہروں کا اہتمام کرتے رہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ برسلز میں موجود یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کو کشمیر، بنگلہ دیش اور مالدیپ کے دورے کروائے گئے۔ ان میں سے کچھ دورے متنازعہ بھی رہے کیونکہ ان دوروں کو یورپی یونین کے پارلیمنٹرین کا آفیشل دورہ ظاہر کیا جاتا تھا۔ جب کہ وہ پارلیمنٹ کی طرف سے یہ دورے نہیں کر رہے تھے۔اس کے علاوہ اس آپریشن کے ذریعے ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی فورم، احباب گلگت بلتستان تنظیم اور مختلف ناموں سے کام کرنے والے سماجی اداروں کو بھی منظم کیا جاتا رہا ہے، جو یورپی پارلیمنٹ میں بھارتی اثرورسوخ کو بڑھا کر کشمیر پر بھارتی موقف کو آگے بڑھاتا رہا ہے۔اس کیس پر پچھلے سال بھی کام ہوا تھا جس کی وجہ سے انڈین کرونیکلز کو بہت سی ای ملیز اور ڈومینز چھوڑنا پڑیں تھیں۔ لیکن بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور یہ نیٹ ورک اسی طرح چلتا رہا جیسے پہلے چل رہا تھا۔ اس لئے ابEU dis-info Lab نے اس بارے میں سفارشات دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس 15سالہ آپریشن سے یورپی ممالک کو الارم ہونا چاہیے۔ فیصلہ سازوں کو اس بارے میں پالیسی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔ تاکہ دوبارہ اس طرح کی حرکات نہ ہوں۔ کیونکہ اتنے طویل آپریشن کے باعث خدشہ ہے کہ مستقبل میں بھی مزید ایسے آپریشن کیے جا سکتے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ اب جب بھارت کی یہ گھناونی سازش سامنے آ گئی ہے تو بھارت کو سانپ سونگھ گیا ہے ان کا ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔جب کہ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس رپورٹ پر بھارت کی مذمت کی ہے کہ ایک ریاست Cyber Spaceانٹرنیٹ اور میڈیا کو اپنے ہمسائے ملک کے خلاف دشمنی کے فروغ میں استعمال کر رہی ہے۔لیکن یہ بھارت کا خاص وطیرہ ہے۔ اور یہ معاملات صرف دوسرے ممالک کے لئے نہیں ہیں بلکہ خود بھارت میں بھی جو صحافت اور آزادی رائے کا برا حال ہے اس کی مثال کسی جمہوری ملک میں نہیں ملتی ابھی ایک دن پہلے ہی ریاست اتر پردیش کے ایک صحافی کو مقامی سطح پر کرپشن کے خلاف لکھنے پر اپنے ہی گھر کے اندر ہینڈ سینیٹائزر کی مدد سے زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا ہے۔

    مبشرلقمان واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ صحافی ایک جن کی عمر 37 سال تھی اور ان کا نام راکیش سنگھ نیربھک تھا اور یہ ایک مقامی اخبار راشٹریہ سواروپ کے لیے کام کرتے تھے۔ تین حملہ آوروں نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے ایک دوست کو بھی ساتھ ہی جلا ڈالا۔نیربھک کا گناہ یہ تھا کہ اس نے سڑکوں، سیوریج کی نکاسی اور سولر سسٹم کے پینل سمیت مختلف تعمیراتی منصوبوں میں مقامی گاؤں کی سیاسی رہنما سشیلا دیوی اور ان کے بیٹے کی کرپشن کو exposeکیا تھا۔

     

    مرنے سے پہلے اس صحافی کی ہسپتال کے بستر پر جو ویڈیو بنائی گئی اس میں اس نے اپنا جو آخری پیغام دیا وہ یہ تھا کہ یہ سچائی بیان کرنے کی قیمت ہے۔

     

     

    تو یہ ہے بھارت کا اصل چہرہ کہ خود بھارت کے اندر اور باہر مختلف levelsپر جب رپورٹنگ کی بات کی جاتی ہے تو وہاں اصل میں کیا گھناونا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ کس طرح پاکستان کے خلاف Hybrid warجاری ہے اور پاکستان بھرپور طریقے سے اس کا مقابلہ بھی کررہا ہے۔ لیکن اب ذمہ داری آتی ہے اقوام متحدہ پر کہ جب تمام سازش کھل کر ان کے سامنے آ گئی ہے تو وہ اب اس پر بھارت کے خلاف ایکشن لیں تاکہ وہ دوبارہ یہ سب کرنے کو کوشش نہ کر سکے۔

  • ناموس رسالتﷺکی حساسیت اجاگر کرنا دین اسلام کی اصل خدمت ہے:اسلام اورمسلمانوں کا دفاع دینی فریضہ ہے : وزیراعظم

    ناموس رسالتﷺکی حساسیت اجاگر کرنا دین اسلام کی اصل خدمت ہے:اسلام اورمسلمانوں کا دفاع دینی فریضہ ہے : وزیراعظم

    اسلام آباد: ناموس رسالتﷺکی حساسیت اجاگر کرنا دین اسلام کی اصل خدمت ہے:اسلام اورمسلمانوں کا دفاع دینی فریضہ ہے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر اسلامو فوبیا اور ناموس رسالت ﷺکی حساسیت کو اجاگر کرنا ہی دین اسلام کی اصل خدمت ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر محمود اشرفی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران علماءاور مشائخ کے ذریعے کورونا وباءسے تحفظ کے لیے ترغیبی مہم پر گفتگو کی گئی۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر اسلاموفوبیا اور ناموس رسالتﷺ کی حساسیت کو اجاگر کرنا ہی دین اسلام کی اصل خدمت ہے۔ پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔

  • مولانا: اجیت ڈوول اوربرطانوی خفیہ ایجنسی سےچھپ چھپ کرملاقاتیں کیوں:قوم پوچھ رہی ہے ؟اہم شخصیت کا مطالبہ

    مولانا: اجیت ڈوول اوربرطانوی خفیہ ایجنسی سےچھپ چھپ کرملاقاتیں کیوں:قوم پوچھ رہی ہے ؟اہم شخصیت کا مطالبہ

    اسلا م آباد :مولانا: اجیت ڈوول اوربرطانوی خفیہ ایجنسی سےچھپ چھپ کرملاقاتیں کیوں:قوم پوچھ رہی ہے ؟اہم شخصیت کا مطالبہ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ایک اہم شخصیت نے مولانا فضل الرحمن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قوم کوبتائیں کہ وہ پاکستان کے دشمنوں سے چھپ چھپ کرملاقاتیں کیوں کرتے ہیں‌،

    ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور نے ٹی وی پرآکرمولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جناب آپ ذرا سچ تو بتادیں کہ آپ پاکستان کولہولہان کرنے والے اجیت ڈوول سے چھپ چھپ کرملاقاتیں کیوں کرتے ہیں‌


    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ فضل الرحمان لاہور کے جلسے میں یہ بھی بتادیں کہ ایم آئی سِکس سے رابطے کیوں کیے ؟انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے کیوں ملاقات کی؟

    علی امین گنڈا پور نے فضل الرحمان پر فرقہ وارانہ فسادات کے لیے فنڈز ینے کا بھی الزام لگایا۔اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  • ن لیگ کے بعد پیپلزپارٹی میں ٹوٹ پھوٹ شروع:حکومت سے رابطے

    ن لیگ کے بعد پیپلزپارٹی میں ٹوٹ پھوٹ شروع:حکومت سے رابطے

    لاہور:ن لیگ کے بعد پیپلزپارٹی میں ٹوٹ پھوٹ شروع: اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے بعد اب پیپلزپارٹی میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی ہے اوریہ بھی خبریں ہیں کہ سندھ کے چند وزرا بھی ان باغیوں میں شامل ہیں

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بعض حلقے تازہ ہوا کے جھونکے کے طورپرمصطفیٰ نوازکھوکھرکے استعفے کو لے رہے ہیں‌لیکن ساتھ ہی بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک انفرادی معاملہ ہے اس کے برعکس پیپلزپارٹی میں بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی اب پیپلزپارٹی کے مستقبل سے مایوس ہیں اورحفظ ماتقدم کے اصول کے تحت انہوں نے بھی چڑھتے سورج کوسلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سندھ میں بڑی تعداد میں پی پی ارکان کے پی ٹی آئی حکومت سے رابطے ہیں لیکن وہ فی الحال سامنے نہیں آنا چاہتے

    ادھر معروف ماہر قانون چوہدری اعتزاز احسن کی گفتگو نے بھی جہاں پی پی میں استعفوں کے حوالے سے مایوسی کی لہر پیدا کردی ہے وہاں دوسری پارٹیوں کے پاس بھی اب حکومت کے خلاف کچھ کرنے کے لیے کچھ نہیں انہیں حالات کا تدارک کرتے ہوئے بڑی تعداد مین ارکان اسمبلی نے حکومت سے رابطہ کیا ہے جس کا اظہار آج حکومتی اہم شخصیت نے کیا ہے

  • مولانا فضل الرحمن بیٹوں، بھائیوں میں سب سے غریب :سب کچھ خاندان پرقربان

    مولانا فضل الرحمن بیٹوں، بھائیوں میں سب سے غریب :سب کچھ خاندان پرقربان

    پشاور : مولانا فضل الرحمن بیٹوں، بھائیوں میں سب سے غریب :سب کچھ خاندان پرقربان ،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جائیداد کے کچھ پہلو سامنے آئے ہیں جن کے مطابق مولانا اپنے بیٹوں ، بھائیوں میں سب سے غریب دکھائی دیتے ہیں ، ادھر علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کی پراپرٹی تفصیلات شیئر کر دیں۔

    مولانا فضل الرحمن کی جائیداداملاک کے حوالے سے علی امین گنڈاپور کی جانب سے دی گئی دستاویزات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے 2 گھر اور ایک پلاٹ ڈی آئی خان میں ہیں، ایک بنگلہ ایف8اسلام آباد اور ایک فلیٹ دبئی میں ہے۔

    پشاور،کراچی اورکوئٹہ میں فضل الرحمان کی دکانیں موجودہیں جب کہ مولانا کا ایک گھر، 5ایکڑ زرعی زمین عبدالخیل ڈی آئی خان میں ہے۔ایک گھر، مدرسہ اور 5ایکڑ زمین شورکوٹ میں بھی ہے۔

    دستاویز کے مطابق حال ہی میں مولانانے3ارب کی زمین چک شہزادمیں خریدی اورفروخت کی، فضل الرحمان کی47لاکھ روپےمالیت کی کمرشل اراضی بھی ہے، 15لاکھ روپےمالیت کی کمرشل اراضی عبدالخیل ڈی آئی خان میں ہے جب کہ شورکوٹ میں25لاکھ مالیت کی کمرشل اراضی بھی فضل الرحمان کی ہے۔

    علی امین نےفضل الرحمان کےفرنٹ مین کے نام پرپراپرٹیز کی تفصیلات بھی شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ فضل الرحمان کے فرنٹ مین گل وزیر اور اس کے بیٹوں کےنام پر3777کنال اراضی ہے، موسیٰ خان سابق ڈی ایف اوڈی آئی خان کے نام پر192کنال اراضی ہے، حاجی جلال خان وزیرکےنام پر714کنال اراضی ہے۔2005میں مولاناکےفرنٹ مین اشرف علی کو200کنال ارضی حکومت نے الاٹ کی تھی۔