Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بلاول زرداری کا اراکین اسمبلی کے استعفوں پر "یوٹرن” مولانا نے سر پکڑ لیا

    بلاول زرداری کا اراکین اسمبلی کے استعفوں پر "یوٹرن” مولانا نے سر پکڑ لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے استعفوں پربلاول زرداری نے یوٹرن لے لیا

    بلاول زرداری نے قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو استعفے دینے سے روک دیا، نجی ٹی وی کے مطابق بلاول زرداری نے حکم دیا کہ پی پی اراکین فوری استعفے نہ دیں،

    بلاول زرداری نے یہ بھی ہدایت کی کہ استعفوں پر بات کرنے سے بھی گریز کیا جائے،ٹی وی چینلز پر بھی استعفوں پر بات نہ کی جائے

    پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے استعفے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پارٹی قیادت نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے ،پارٹی قیادت نے صوبائی اور قومی اسمبلی اراکین کواستعفیٰ دینے سے روک دیا .

    پارٹی قیادت نے ارکان اسمبلی کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہاکہ کس کے کہنے پر فوری استعفے دے رہے ہیں ،جذباتی نہ ہوں اور اگلے حکم کاانتظار کریں ،پارٹی قیادت نے سوشل میڈیا پر استعفے شیئر کرنے سے بھی روک دیا. چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ استعفوں کا حتمی فیصلہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں کیاجائے ،بلاول بھٹو نے سینئرپارٹی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ استعفوں کے معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا جائے.

    پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کی مرکزی قیادت کی جانب سے اراکین اسمبلی کو استعفیٰ پارٹی قیادت کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کے بعد بلوچستان میں3 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا ہے،استعفیٰ جمع کرانے والوں میں جمعیت علماءاسلام کے رکن صوبائی اسمبلی شام لال لاسی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو شامل ہیں۔

    نون لیگ کی ربیعہ نصرت، زیب النساء اعوان، طاہر جمیل، عرفان عقیل، چودھری منیب الحق اور دیگر ارکان نے بھی استعفے قیادت کو بھجوا دیئے۔سینئر پارلیمینٹرین تہمینہ دولتانہ کے صاحبزادے میاں عرفان عقیل مستعفی ہوگئے۔ میاں عرفان عقیل پی پی 231 وہاڑی سے منتخب ہوئے تھے۔ اوکاڑہ سے سینیر سیاستدان مرحوم چودھری اکرام الحق کے صاحبزادے چودھری منیب الحق بھی مستعفی ہوگئے، وہ پی پی 189 اوکاڑہ سے منتخب ہوئے تھے۔ مستعفی ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ اسمبلی سیٹ پارٹی امانت ہے، قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے ن لیگ اراکین کے استعفے منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کو 6 ماہ تک استعفے منظور نہ کرنے کا اختیار حاصل ہے ،6 ماہ کے دوران اسپیکر مستعفی ہونے والے رکن کو طلب کرسکتےہیں ،ارکان مستعفی ہونے کی وجوہات بیان کرنے کے پابند ہیں،پوچھا جائے گا کہ وہ استعفی ٰذاتی خواہش یا کسی کے دباوَ پر تو نہیں دے رہا

    اسپیکر جب تک استعفے الیکشن کمیشن کو نہیں بھجواتے رکن مستعفی تصور نہیں کیا جائے گا ،استعفے الیکشن کمیشن کو بھجوانے کے بعد نئے الیکشن کے شیڈول کا اعلان ہوگا،ترجمان سپیکر آفس کے مطابق ا سپیکر آفس کو ابھی تک کسی بھی رکن کی جانب سے استعفیٰ نہیں ملا،

    جب مریم نواز کو کارکن نے ہاتھ لگایا تو کیا ہوا…؟

    مریم نواز کو اندر کون ڈالے گا؟. اہم سوال اٹھ گیا

    پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ میں جلسے پر مقدمہ درج

    پی ڈی ایم جلسہ ،ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مقدمہ، عدالت کا بڑا حکم

    حکومت کوعوام نظرنہیں آتی، جلسہ کیا نظر آئے گا،مولانا فضل الرحمان

    لاہور جلسے سے قبل نیب متحرک، رانا ثناء اللہ کیخلاف بڑا فیصلہ کر لیا

    مینار پاکستان پر جلسہ نہ کرنے دیا گیا تو کیا کرنا ہے؟ پی ڈی ایم نے لائحہ عمل بنا لیا

    پی ڈی ایم کا جلسہ روکنے کیلئے درخواست دوبارہ دائر

    پی ڈی ایم لاہور جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے مریم نواز نے کس کو طلب کر لیا؟

    مردوں سے دوقدم آگے بڑھ کریہ کام کرنا ہے، مریم نواز نے خواتین رہنماؤں کو دیئے مشورے

    سب سن لیں،مریم پارٹی کو لیڈ کررہی ہیں،رانا ثناء اللہ، نواز شریف کو بھی دیا مشورہ

    عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کو سرپرائز دینگے ، فردوس عاشق اعوان

    پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

    مریم نواز نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

    استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں طلب،اہم فیصلے متوقع

    سیاسی جلسے جلسوں پر پابندی،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    13 دسمبر کو ہر ہاتھ میں جھنڈا اورہر جھنڈے میں ڈنڈا ہوگا، قمر زمان کائرہ

    شاہدرہ جلسے میں حملہ کیسے ہوا اور کس نے کیا؟ مریم نواز نے خود بتا دیا

    پی ڈی ایم کے استعفے بڑھنا شروع، مزید کتنے اراکین نے استعفے جمع کروا دیئے؟

  • لاہور کو تباہی سے بچا لیا گیا،بھارتی معاونت سے لاہورپہنچائے جانیوالے دہشتگرد گرفتار

    لاہور کو تباہی سے بچا لیا گیا،بھارتی معاونت سے لاہورپہنچائے جانیوالے دہشتگرد گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی نے کاروائی کرتے ہوئے لاہور کو تباہی سے بچا لیا

    سیکورٹی ادارون نے بھارتی معاونت سے لاہورپہنچائے جانیوالے 5 دہشتگرد لاہور کے علاقے شاہدرہ سے گرفتار کر لئے، ملزمان سے بھاری مقدارمیں بارودی مواد،اسلحہ،گولیاں اور بھارتی کرنسی برآمد کی گئی ہے.

    تمام ملزمان کا تعلق افغانستان سے ہے،ملزمان کے موبائل فونزسے حساس عمارتوں کی تصاویربرآمد کی گئی ہیں، ملزمان نے سول سیکریٹریٹ اوردیگرحساس مقامات کونشانہ بنانا تھا،دہشت گردوں کی شناخت ثمرقند،عبدالرحمان ،وزیرگل،عصمت اللہ،عمران کے نام سے ہوئی ہے

    کوئٹہ، سی ٹی ڈی کا آپریشن مکمل، خاتون خودکش بمبار سمیت چھ دہشت گرد ہلاک

    سی ٹی ڈی نے راولپنڈی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا

    ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد تحقیقات کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے

    قبل ازین گزشتہ ماہ نومبر میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں دہشت گرد نے تھانے پر حملے کی کوشش کی، سی ٹی ڈی کے مطابق لاہور میں سی ٹی ڈی پولیس سٹیشن برکی روڈ پر خود کش حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، جوابی کارروائی میں دہشتگرد ہلاک ہو گیا۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق شناخت پوچھنے پر دہشتگرد نے فائرنگ کر دی، جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک ہوگیا، دہشتگرد سے خودکش جیکٹ، دو ہینڈ گرینیڈ برآمد کرلئے گئے،

    محرم الحرام کے موقع پر پولیس نے بنایا دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 3 دہشت گرد اسلحہ، بارود سمیت گرفتار

    پشاور میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام،داعش کے دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد کی شناخت نہیں ہو سکی، شناخت کا عمل جاری ہے،سی ٹی ڈی نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ے، بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی طلب کیا گیا جس نےخودکش جیکٹ کو ناکارہ بنا دیا۔

     

  • پاکستان عرب دنیا سے کٹ گیا، سابق سفیر عبد الباسط پھٹ پڑے

    پاکستان عرب دنیا سے کٹ گیا، سابق سفیر عبد الباسط پھٹ پڑے

    سینئر اینکر پرسن و صحافی مبشر لقمان نے تشویشناک خبر کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مشرق وسطی کے کئی ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو جاتے جا رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ کسی کی خوشنودی کیلیے ہمیشہ کام کیا ہے پاکستان کی بہتری کیلیے ہم نے کم ہی سوچا ہے لوگوں کو خوش کرنے کے چکر میں ہم نے پاکستان کا نقصان کیا ہے اور آخر میں خوش کوئی بھی نہیں ہوتا

    سینئر اینکر پرسن و صحافی مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے دو سال میں وزارت خارجہ جس طرح سے اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اس میں گہری دراڑ پڑ چکی ہے انہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 35 لاکھ پاکستانیوں کا مستقبل اس وقت خطرے میں پڑ چکا ہے

    پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور ایمبیسیڈر عبدالباسط نے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کے ساتھ گفتگو میں انکشاف کیا کہ یمن کی جنگ کے بعد سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد لہر چل رہی ہے پی ٹی آئی حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات کا آغاز کیا یہاں تک کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے دنیا میں سفیر بنیں گے مگر بد قسمتی سے یہ حکومت اس تعلق کو قائم نہیں رکھ پائی

    سابق سفیر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ہم نے تین بنیادی غلطیاں کی ہیں انہوں نے اعتراف کیا کہ 2008 کے بعد وزارت خارجہ کو مضبوط قیادت نہیں ملی جو پاکستان کی نمائندگی بہتر انداز میں کر سکتی اس کی بڑی مثال 5 اگست 2018کے بعد ہمیں کشمیر کے مسئلے پر دنیا کی حمایت چاہیے تھی جو ہم حاصل کرنے میں ناکام رہے یہ ایسا وقت تھا کہ وزارت خارجہ نے اپنی مہارت دکھانی چاہیے تھی مگر بد قسمتی سے پہلا بیان شاہ محمود قریشی کی جانب سے یہ آیا کہ ہمیں او آئی سی کی حمایت حاصل نہیں ہے جو کہ غلط بیان تھا جس سے ہم نے اپنے دوستوں کو ناراض کیا

    دوسری غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ کولالمپور سمٹ کا حامی بھرنا بھی غلطی تھی جسے سنتے ہی سوچے سمجھے بغیر وزیر اعظم نے حامی بھر لی اور بعد میں جانے سے انکار کر دیا جس سے سعودی ممالک کو برا لگا جبکہ تیسری غلطی ایران کے ساتھ تعلقات ہم ہر چیز کا اظہار کھلے عام کر دیتے ہیں سفارتکاری کو اس حکومت نے واقعے کی صورت لیا ہے جبکہ سفارتکاری ایک عمل ہے جسے بنانے میں وقت لگتا ہے اور بگاڑنے میں لمحے لگتے ہیں اس حکومت نے آغاز بہت اچھا کیا تھا مگر بد قسمتی سے یہ حکومت ان تعلقات کو قائم نہیں رکھ سکی ،مگر ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ان تعلقات کو بہتر کر سکیں

    ڈاکٹر عبدالباسط نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ ہمارے سعودی عرب سے تعلقات بہتر ہو سکیں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں انہوں نے زلفی بخاری سمیت ڈاکٹر شہزاد اکبر،معید یوسف کا نام لیتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ خلیجی ممالک سے ہمارے تعلقات بہتر ہوں انہوں نے مزید کہا کہ وزارت خارجہ میں تبدیلیاں کرنے کی بھی ضرورت ہے ،بھارت کے آرمی چیف کا چھ دن کا دورہ وزارت خارجہ کی ناکامی ہے ڈپلومیٹک تعلقات فوری رد عمل دینے سے نہیں چلتے بلکہ ان معاملات کو سوچ سمجھ کے لے کے چلنا پڑتا ہے انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ کچھ لوگ چائنہ سے بھی ہمارے تعلقات کو بہتر نہیں دیکھنا چاہتے اور وہ سی پیک کے حق میں نہیں ہیں بلکہ وہ امریکہ کے ایجنٹ لگتے ہیں

  • مولانا فضل الرحمان نےعمران خان کیخلاف اپنی شکست تسلیم کرلی:  نوازشریف سخت غصے میں‌

    مولانا فضل الرحمان نےعمران خان کیخلاف اپنی شکست تسلیم کرلی: نوازشریف سخت غصے میں‌

    اسلام آباد :مولانا فضل الرحمان نےعمران خان کیخلاف اپنی شکست تسلیم کر لی :نوازشریف سخت غصے میں‌ آگئے،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کیخلاف اپنی شکست تسلیم کر لی۔

    تفصیلات کے مطابق پی ڈیم ایم اجلاس کے دوران اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کیخلاف اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے مشورہ دیا کہ استعفے دینے سے قبل عمران خان کیخلاف قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش کی جائے۔

    اس تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اعتراض اٹھایا اور اعتراف کیا اس کوشش میں اپوزیشن ناکام ہوگی۔ مولانا نے تجویز رد کرتے ہوئے کہا کہ ہم تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم کو نہیں ہٹا سکتے۔ قومی اسمبلی میں ہمارے نمبر کم ہیں اس لیے یہ اقدام ناکام ثابت ہوگا۔بعد ازاں پی ڈی ایم نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا۔

  • مولانا،مریم اوربلاول کی جم کربیٹنگ،کپتان کی حکمت عملی بھی کامیاب؛سخت سردی میں گرم گرم سیاست

    مولانا،مریم اوربلاول کی جم کربیٹنگ،کپتان کی حکمت عملی بھی کامیاب؛سخت سردی میں گرم گرم سیاست

    لاہور:مولانا،مریم اوربلاول کی جم کربیٹنگ،کپتان کی حکمت عملی بھی کامیاب؛سخت سردی میں گرم گرم سیاست،اطلاعات کے مطابق آج پاکستان کے سنیئر صحافی معروف تجزیہ نگار مبشرلقمان نے پاکستان کی تازہ ترین سیاسی صورت حال پر زبردست تجزیہ کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں‌، وہ کہتے ہیں کہ آج عمران خان سے لے کر مولانا فضل الرحمان ، مریم اور بلاول نے سیاسی پچ پر خوب جم کر بیٹنگ کی ہے ۔ ملک میں اس وقت مینار پاکستان میں پانی ۔ ڈی جے بٹ کی گرفتاری اور استعفے سب سے بڑا ایشو بنے ہوئے ہیں ۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ پی ڈی ایم ماڈل ٹاؤن جیسا سانحہ کروانا چاہتی ہے تو کوئی حکومتی وزیر سوچے سمجھے بغیر اٹھ کر بیان داغ رہا ہے

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یاد ہوگا کہ 2018الیکشن میں آرٹی ایس سسٹم کے بیٹھ جانے سے ہم دسیوں سیٹیں ہار گئے تھے۔ اب پتہ نہیں فیاض الحسن نے جان بوجھ کر یہ بیان دیا ہے ۔ یا وہ کسی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یا پھر یہ ان کی نااہلی ہے جو خود حکومت ہی اس کام پر لگ گئی ہے کہ 2018الیکشن کو متنازعہ بنایا جائے ۔ پر ان سب چیزوں پر میں آپکو تفصیل سے بتاؤں گا ۔ مگر سب سے پہلے اس چیز پر روشنی ڈالوں گا اور آپکو سمجھاؤں گا کہ پی ڈی ایم کیوں چاہتی ہے کہ سینیٹ الیکشن سے پہلے ہی یہ حکومت گھر چلی جائے اور سسٹم کا بوریا بستر لپیٹ دیا جائے ۔ آپ دیکھیں اس وقت حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے اگر کوئی بھی legislationکرنی ہے تو حکومت مجبور ہے کہ اس کو اپر ہاوس میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حمایت درکار ہوتی ہے ۔

    سنیئر صحافی کہتےہیں کہ اب اگر سینیٹ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی اور اتحادیوں کی سینیٹ الیکشن میں اکثریت ہوجاتی ہے تو وہ کوئی بھی قانون آسانی سے پاس کرواسکتی ہے ۔ یہاں تک بھی بات سمجھ نہیں آتی کہ پی ڈی ایم کو قانون سازی سے کیا مسئلہ ہو سکتاہے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی جان سینیٹ کے طوطے میں اس لیے پھنسی ہوئی ہے کہ پی ڈی ایم کو یہ پتہ ہے کہ اگر عمران خان کی اکثریٹ سینیٹ میں آگئی تو پھر وہ وہ قانون سازی ہونی ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کی سیاست دور کی بات یہ سب اندر بھی جائیں گے اور سارا حساب کتاب اور حرام کا پیسہ بھی باہر نکالنا پڑ جانا ہے ۔ کیونکہ عمران خان کی کوئی بھی تقریر اٹھا لیں اس میں وہ دو چیز لازمی بتاتے ہیں ایک کرپشن کا خاتمہ اور دوسرا این آر او نہیں دوں گا ۔ تو جب عمران خان کے ہاتھ کھول جائیں گے تو گزشتہ تیس سال سے ان دو جماعتوں نے جو اپنے آپ کو سیف گارڈ کرنے کے قوانین بنا رکھے ہیں اور یہ جو بڑا سے بڑا ہاتھ مار کر بھی صاف بچ نکلتے ہیں وہ دراصل ان ہی قوانین میں ۔۔۔ لکونے ۔۔۔ اور چور راستے چھوڑے ہوئے ہیں جن کی مدد سے ان کو عدالتوں میں ریلیف مل جاتا ہے ۔ اب عمران خان اگر سینیٹ الیکشن جیت گئے تو پھر آپ یہ سمجھیں کہ ان کی سیاست اور دو نمبری کے تمام کاروبار بھی ختم ۔

    انہوں‌نے کہا کہ اب بات کرتے ہیں تفصیل سے دوسرے ایشوز بارے ۔ آج مولانا فضل الرحمان نے بلاول اور مریم کو گھر پر بلایا ۔ اور بہت سے اہم ایشوز پر معاملات کو طے کیا گیا ۔ مولانا نے تو ایک بار پھر کہا کہ سٹیبلشمنٹ حکومت کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔ یعنی وہ اگر ہٹ جائے تو اس حکومت کو ایک دن نہ چلنے دیں ۔ ساتھ ہی انھوں نے وہ ہی اپنا پرانا بیانیہ دہرایا کہ ملک میں جمہوریت نہیں ، آمریت ہے۔ لاہور میں جلسہ ہر صورت ہوگا۔ حکومت نے ایک راستہ روکا تو ہم دوسرا بنا لیں گے۔ استعفے ان کے سر پر مارنے کا مرحلہ بھی جلد آئے گا۔ ایک طرف کہتے ہیں جلسہ نہیں روکنا تو دوسری جانب پنجاب حکومت مینار پاکستان کو ڈیم بنا رہی ہے۔ تاہم ہم نے طے کیا ہے کہ مینار پاکستان میں جلسہ ہو کر رہے گا۔ تیرہ دسمبر لاہور کا تاریخی دن ہوگا۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سب عمران خان اور ان کے سہولت کاروں کو گھر بھیجنے کے لیے نکلے ہیں۔ ہم سب ایک پیج اور ایک سٹیج پر ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سیاست سڑکوں پر ہی شروع ہوئی تھی۔ اسمبلیوں کے ذریعے اگر سینیٹ الیکشن ہوا تو وہ جعلی ہوگا۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ جلسے بھی کریں گے اور استعفوں کا بھی کہا تھا۔ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ہر ہتھیار استعمال کرنے کو تیار ہیں۔

    دوسری جانب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہمارے منصوبوں پر ہی یہ تختیاں لگا رہے ہیں۔ انہوں نے تو ابھی تک ایک اینٹ نہیں لگائی۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت کے پاس استعفے جمع کیے جائیں گے۔ انشاء اللہ مینار پاکستان میں بھرپور جلسہ ہوگا۔میرے خیال سے پی ڈی ایم نے جو کچھ کرنا تھا وہ طے ہوچکا ہے ۔ اب یہ روزانہ جو میڈیا ٹاک یا پریس کانفرنس ہوتی ہے اس کا مقصد صرف میڈیا اور عوام کو engageرکھنا ہے ۔ اور زیادہ سے زیادہ eye balls catchکرنا ہے ۔ یہ صاف نظر آرہا ہے کہ پی ڈی ایم کی تینوں بڑی جماعتیں ایک ہی پیج پر ہیں ۔ اور یہ جو استعفوں والی اور لانگ مارچ والی خبر چھوڑی گئی ہے ۔ یہ ایک تو اپنے ورکرز کا سیاسی مورال بلند رکھنا مقصد ہے دوسرا حکومت کی صفوں میں بھی بے چینی پیدا کرنا ہے ۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ آپ دیکھیں گزشتہ چار دنوں سے وزیر اعظم عمران خان صاحب روزانہ کسی انٹرویو ۔ کسی افتتاح کسی میٹنگ ۔ کسی ملاقات میں پی ڈی ایم کو ٹارگٹ کر رہے ہیں اور یہ ہی پی ڈی ایم چاہتی ہے کہ اسکو اہمیت ملتی رہی اور ان کی سیاسی تحریک کا قد کھاٹ بڑھتا رہا ۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت حکومت سکون میں ہے اور اسکو پی ڈی ایم کے جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے یہ بات بھی بھی بالکل غلط ہے۔ اگر کرونا نہ ہوتا تو شاید یہ ممکن تھا مگر کرونا جس تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ سیاسی کے ساتھ اس وقت حکومت کے ہیلتھ اور انتظامی حوالے سے بھی مسائل بڑھتے محسوس ہو رہے ہیں ۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس چیز کا اظہار عمران خان نے آج سیالکوٹ میں کیا بھی ہے جہاں ایک بار پھر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن مجھ پر تنقید کرتی تھی کہ مودی نے لاک ڈاؤن کیا پاکستان میں نہیں کیا جارہا۔ افسوس لاک ڈاؤن کے لیے تنقید کرنے والی اپوزیشن آج جلسےکر رہی ہے۔
    ۔ اسوقت پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی جانب سے استعفوں والے اعلان کے بعد اس میں تیزی آچکی ہے اور ہر ایم این اے اور ایم پی اے اپنیloyaltyپارٹی قیادت کوشو کروانا کے لیے دھڑا دھڑ استعفے جمع کروا رہا ہے ۔ تاکہ آنے والے جنرل الیکشن میں اپنی ٹکٹ پکی کی جاسکے

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے اراکین تو اس سلسلے میں بازی لیے ہوئے ہیں مگر اب تو پیپلز پارٹی کے علی گیلانی نے بھی اپنا استعفی پارٹی لیڈرشپ کو بجھوا دیا ہے ۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ استعفی تو اکٹھے ہو ہی جائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ ان استعفوں کا استعمال کب ہوگا اور اس کی ٹائمنگ کیا ہوگی ۔ یہ بڑا اہم ہے ۔ کیونکہ استعفی کو قبول کرنا سپیکر کی صوبدید ہوتی ہے ۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ یکمشت تمام استعفوں کوقبول کرلے ۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میرے خیال سے عمران خان جو بار بار کہتے ہیں جس نے استعفی دینا ہے دے دے ۔ ہم ضمنی الیکشن کروالیں گے تو اس حوالے سے جو چیز سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت اگر پانچ پانچ کرکے بھی استعفی مان لیتی ہے اور ساتھ ساتھ ضمنی الیکشن کرواتی جاتی ہے تو پھر اپوزیشن کی یہ والی اسٹریٹجی فیل ہوسکتی ہے اور شاید پیپلز پارٹی تو سندھ میں اپنی حکومت بھی گنوا سکتی ہے ۔ تو یہ تمام چیزیں اپوزیشن کے ذہن میں بھی ہوں گی ۔ اسی لیے وہ خبر تو نکال رہے ہیں مگر حتمی بات کوئی نہیں کررہے ہیں یعنی وہ پلان تو بتا رہے ہیں کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے تاکہ حکومت پریشانی کا شکار ہو ۔ اور اس پریشانی میں کوئی غلطی کرے ۔ اور پھر وہ اس غلطی کو کیش کروائیں ۔

    وہ مزید کہتے ہیں‌کہ مثال کے طور پر جو حکومت ملتان میں طاقت کا استعمال کرکے غلطی کرنے جا رہی تھی ۔ خدانخواستہ کوئی تصادم ہوتا تو نقصان سب سے زیادہ حکومت کا ہی ہونا تھا ۔ اسی طرح ایک اور خبر بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے اب پتہ نہیں یہ پی ڈی ایم نے خود پھیلائی ہے یا اس میں کوئی حقیقت ہے وہ یہ ہے حکومت مریم نواز کو دوبارہ جیل میں ڈال سکتی ہے ۔ اگر اس موقع پر ایسا ہوا ۔ تو پی ڈی ایم نے جیل بھرو تحریک بھی اپنے کارڈ ز میں رکھی ہے ۔ اور اگر ایسا ہو گیا تو حکومت کے لیے بڑی مشکل ہوسکتی ہے ۔

    سنیئر صحافی کا مزید کہنا تھاکہ فی الحال یہ محسوس ہوتا ہے کہ لاہور کا جلسہ ہر حال میں ہو کر ہی رہے گا ۔ چاہے ڈی جے بٹ پکڑا جائے یا کوئی اور ۔۔۔ مینار پاکستان میں پانی چھوڑا جائے آندھی چلے یا طوفان آئے ۔ ن لیگ نے یہ جلسہ کرہی دینا ہے ۔ کیونکہ لاہور ن لیگ کی سیاست کا گڑھ ہے ۔ یہاں تک کہ آپ دیکھیں یہ بات بھی لاہور سے ہی نکلی تھی کہ کھاتا ہے تو لگتا بھی ہے ۔ اس لیے اب یہ پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کا اصل امتحان ہے کہ وہ اس جلسے کو کس طرحtackle کرتی ہے ۔ اگر کوئی بدمزگی پیدا ہوئی تو اس کی سیاسی قیمت حکومت کو ہی اداکرنی پڑی گی ۔ کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم خود چاہتی ہے کہ کچھ بڑا ہو یا کچھ خراب ہو ۔ جس کو بنیاد بنا کر وہ حکومت کو مزید under pressureلے کرآئیں ۔

  • بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پرشدید فائرنگ ، دو جوان شہید

    بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پرشدید فائرنگ ، دو جوان شہید

    راولپنڈی:بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پرشدید فائرنگ ، پاک افواج کا بھرپورجواب ،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی طرف سے آج پھرکنٹرول لائن کے پارپاکستانی علاقوں میں شدید فائرنگ کی گئی ، پاکستان کی بہادرافواج نے بھارت کو سخت جواب دیا

    پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بھارتی فورسز کی لائن آف کنٹرول پر پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ آج پھرشروع ہوگیا ، جس کے جواب میں‌پاک فوج کے جوانوں نے سخت جواب دیتے ہوئے بھارتی فوج کی پوسٹوں کونشانہ بنایا

    پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بھارتی فوج کو بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ،

    آئی ایس پی آر کی طرف سے بیان میں کہاگیا ہے کہ کنٹرول لائن پرپاکستانی علاقوں میں بھارتی افواج کی فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو جوان شہید ہوگئے ہیں ، شہید ہونے والوں میں 38 سالہ لانس نائیک طارق اور 31 سالہ سپاہی ضروف شامل ہیں‌

  • تدبیراں دے چارے نئہیں‌ چلدے جدوں‌ تیروجے تقدیراں دا:پی ڈی ایم حواس باختہ ہوگئی:دھمکیاں فلاپ

    تدبیراں دے چارے نئہیں‌ چلدے جدوں‌ تیروجے تقدیراں دا:پی ڈی ایم حواس باختہ ہوگئی:دھمکیاں فلاپ

    اسلام آباد: تدبیراں دے چارے نئہیں‌ چلدے جدوں‌ تیروجے تقدیراں دا:پی ڈی ایم حواس باختہ ہوگئی:دھمکیاں فلاپ ،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کی تمام تدبیریں ناکام دکھائی دیتی ہیں اورحکومت کامیاب دکھائی دیتی ہے ،

    ذرائع کے مطابق آج پی ڈی ایم اپنے کل والے موقف اوردھمکی سے پسپا ہوتے ہوئے نظرآتی ہے ، کل استعفوں کی دھمکیاں دی جارہی تھیں تو آج حکومت کے خلاف بننے والے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی طرف سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ جنوری کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کیا جائے گا۔ 13 دسمبر کو مینار پاکستان پر ہر حال میں جلسہ ہو گا۔

    وفاقی دارالحکومت میں پاکستان ڈیمو کریٹک موممنٹ (پی ڈی ایم) کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے بعد ترجمان میاں افتخار نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے ساتھ پریس کانفرنس میں فیصلوں سے آگاہ کیا۔

    میاں افتخار نے کہا کہ جنوری کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ ہوگا، جنوری کے آخری ہفتے تاجر، ڈاکٹرز، وکلا، اساتذہ، کسانوں سے رابطے کریں گے۔ مینار پاکستان کو ڈیم بنا دیا گیا ہے ، پانی میں کھڑے ہوکربھی 13 دسمبر کو ہر حال میں جلسہ ہو گا، پوری دنیا کی نظریں لاہورجلسے پرلگی ہیں،

    اے این پی رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت جومرضی کرلے فیل ہوگی، ڈی جے بٹ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

    جلسے کو تھریٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ تھیریٹ الرٹ تو پشاور،کوئٹہ میں بھی تھا، یہ اپنی مرضی کے الرٹ جاری کرتے ہیں، رانا ثنا کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت نہیں ، آمریت ہے۔ لاہور میں جلسہ ہر صورت ہوگا۔ حکومت نے ایک راستہ روکا تو ہم دوسرا بنا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چہ میگوئیاں ہوتی رہتی ہیں، تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ کوشش کررہے ہیں کہ تمام جماعتیں اختلافات بھلا کرحکومت کے خلاف تحریک میں حصہ لیں

    فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ لوگ آمریت کا ایک مہرہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سٹرینگ کمیٹی میں جلسوں، پہیہ جام اور اسلام آباد مارچ کا شیڈول طے کریں گے۔ ان تمام مراحل میں استعفوں کا ذکر ہوتا رہے گا۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سب عمران خان اور ان کے سہولت کاروں کو گھر بھیجنے کے لیے نکلے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلیوں کے ذریعے اگر سینیٹ الیکشن ہوا تو وہ جعلی ہوگا۔ ہم آئینی ماہرین سے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے بھی اس موقع پر میڈیا سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے ابو کے منصوبوں پر تختیاں لگا رہے ہیں،

  • پاک، چین مشترکہ فضائی مشق”شاہین نہم” کا آغاز:چنی فوج شاہینوں کی پروازسے متاثر

    پاک، چین مشترکہ فضائی مشق”شاہین نہم” کا آغاز:چنی فوج شاہینوں کی پروازسے متاثر

    اسلام آباد:پاک، چین مشترکہ فضائی مشق”شاہین نہم” کا آغاز:چنی فوج شاہینوں کی پروازسے متاثر،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ فضائی مشق”شاہین نہم” کا آغاز ہو گیا ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق مشق کا انعقاد پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئربیس پر ہو رہا ہے۔ چینی فضائیہ کا دستہ ہوا بازوں، ایئرڈیفنس کنٹرولرز اور تکنیکی عملے پر مشتمل ہے۔

     

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق ڈپٹی چیف آف ایئراسٹاف آپریشنزایئروائس مارشل وقاص احمد سلہری نے مشقوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ چینی فضائیہ کےاسسٹنٹ چیف آف اسٹاف میجرجنرل سن ہانگ بھی تقریب کاحصہ تھے۔

    یاد رہے کہ چینی اور پاکستانی فضائیہ کے درمیان مشترکہ طور پر ہونے والی فوجی مشقوں "شاہین – IX” میں شرکت کے لئے چین فوجی 7 دسمبر کو پاکستان پہنچ چکے تھے ۔

    یہ مشترکہ تربیتی مشقیں 2020 کے چین پاکستان فوجی تعاون کے ایک منصوبے کے تحت منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان کا مقصد دونوں ممالک کے فوجیوں کے مابین تعلقات کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کی فضائیہ کے مابین عملی تعاون کو وسعت دینا ہے۔

    ان مشقوں سے دونوں اطراف کی افواج کی حقیقی جنگی تربیت اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ مشقیں دسمبر کے آخر میں اختتام پذیر ہوں گی۔

  • جب تک ہم یہ کام نہیں کرینگے  ملک کو غربت سے نہیں نکال سکتے،وزیراعظم

    جب تک ہم یہ کام نہیں کرینگے ملک کو غربت سے نہیں نکال سکتے،وزیراعظم

    جب تک ہم یہ کام نہیں کرینگے ملک کو غربت سے نہیں نکال سکتے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں بزنس کمیونٹی سے ملنے آیا ہوں ،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں سیالکوٹ ایکسپورٹرز کا سینٹر بن جائیگا،سیالکوٹ نے خود پیسے جمع کرکے شاندار ایئر پورٹ بنایا،ایئر سیال سے سیالکوٹ اور پاکستان کو فائدہ ہوگا،کورونا کے دوران مشکلات کا سامنا تھا،کورونا کی پہلی لہر کے دوران عوام نے تعاون کیا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن تنقید کررہی تھی کہ میں مکمل لاک ڈاوَن نہیں کررہا،آج وہی اپوزیشن کورورنا کی دوسری لہر کے دوران جلسے کررہی ہے،امریکہ میں بہت تیزی سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے،اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کیا تو اپنی انڈسٹری اور لوگوں کو بچاسکتے ہیں،ماسک کے استعمال سے کورونا وبا سے بچا جاسکتا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 60 کی دہائی میں پاکستانی تیزی سے ترقی کررہا تھا،ہم نے بزنس کمیونٹی کی رکاوٹیں دور کرنی ہیں،جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان پر خاص توجہ دی جائے،گلگت بلتستان،فاٹا اور بلوچستان پیچھے رہ گیا ہے،ڈی جی خان کے قبائلی علاقے سب سے پیچھے رہ گئے ہیں ،وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا جہاں چھوٹا سا طبقہ امیر اور باقی غریب ہوں ،چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا،چین سی پیک کے ذریعے اپنے مغربی چین کو اوپر اٹھانا چاہتا ہے،پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ زرمبادلہ ذخائر نہیں ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے،جب تک ہمارے ملک کی دولت نہیں بڑھے گی ملک کو غربت سے نہیں نکال سکتے،انڈسٹریلائزیشن کے ذریعے ملک کو اوپر اٹھائیں گے،ہم نے اپنی ایکسپورٹس میں اضافہ کرنا ہے،سیالکوٹ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بنا رہے ہیں،

    قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان سیالکوٹ پہنچ گئے ہیں،معاون خصوصی عثمان ڈارسمیت وفاقی وزراکی ٹیم بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے،وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر غلام سرور خان اور حماد اظہر بھی ہیں ،وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ میں ائیر سیال کا افتتاح کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی سیالکوٹ پہنچ چکے ہیں اور تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ہیں

  • سپریم کورٹ نے کیں چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب

    سپریم کورٹ نے کیں چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب

    سپریم کورٹ نے کیں چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاوَنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب کر لیں.عدالت نے کہا کہ پراسیکوٹر جنرل نیب چیئرمین نیب سے وجوہات پتہ کر کے عدالت کو آگاہ کریں نیب وضاحت کرے کہ ملزمان کی گرفتاری میں تفریق کیوں کی جاتی ہے؟

    رشید اے رضوی وکیل ڈاکٹر ڈنشا نے کہا کہ میرا موکل 20 ماہ سے جیل میں ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آج بھی احتساب کا موسم ہے،کچھ ملزمان کو پکڑنے اور کچھ کو نہ پکڑنے کی کیا منطق ہے؟

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ چیئرمین نیب کس اتھارٹی سے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ کرتے ہیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ 25ملزمان میں سےصرف 4 کو پکڑا گیا،جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب آنکھیں اور کان بند کر لے تو کچھ نہیں نظر آتا،کچھ جگہوں پر نیب کے پر جلتے ہیں،سب کو پتا ہے کہ عمارت کس کی ہے،ڈاکٹر ڈنشا 20 ماہ سے جیل میں ہے ابھی تک چارج بھی فریم نہیں ہوا،

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم نیب تحقیقات کی شفافیت پر بات کر رہے ہیں،عدالت نے نیب سے ملزمان کی گرفتاری کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی